Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الجمعۃ (The Congregation, Friday)

    11 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سورۂ صف اور سورۂ جمعہ کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال دونوں کے الگ الگ ہیں۔ سابق سورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشین گوئی کا حوالہ ہے۔ اس میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی طرف اشارہ ہے۔ بنی اسمٰعیل کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ان کو جس عظیم نعمت سے نوازا ہے اس کی قدر کریں، یہودیوں کی حاسدانہ سازشوں کا شکار ہو کر اپنے کو اس فضل عظیم سے محروم نہ کر بیٹھیں۔ اسی ذیل میں مسلمانوں کے ایک گروہ کو ملامت فرمائی ہے کہ اس نے دنیوی کاروبار کے طمع میں جمعہ اور رسول کا احترام ملحوظ نہیں رکھا۔ اگر تجارت کی طمع لوگوں کو جمعہ کے احترام اور رسول کی موعظت سے زیادہ عزیز ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے اس بیع و شراء کی حقیقت نہیں سمجھی جو وہ اپنے رب سے کر چکے ہیں (جس کا ذکر سابق سورہ میں ہو چکا ہے) ، ساتھ ہی اس ناقدری کے انجام سے بھی آگاہ فرمایا ہے کہ یہ روش اختیار کر کے یہود اللہ کی شریعت سے محروم ہو گئے۔ مسلمان فلاح چاہتے ہیں تو ان کی تقلید سے بچیں۔

  • الجمعۃ (The Congregation, Friday)

    11 آیات | مدنی
    الصف - الجمعۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں رسول پر ایمان کے بعد اُس کی نصرت کے لیے جہاد سے گریز کرنے والوں اور دوسری میں اُس کی قدرشناسی اور اتباع و اطاعت میں کوتاہی کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیۂ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الصف—- کا موضوع کمزور مسلمانوں کو اِس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ رسول پر ایمان کے بعد اُس کی نصرت کے لیے جہاد سے گریز کرو گے تو تمھارا حال بھی وہی ہو گا جو یہود کا ہوا ہے۔ اِس معاملے میں صحیح رویہ یہود کا نہیں، سیدنا مسیح کے حواریوں کا تھا، اِس لیے پیروی کرنی ہے تو اُن کی کرو، یہ تو ہمیشہ کے لیے خدا کی ہدایت سے محروم ہو چکے ہیں۔

    دوسری سورہ—- الجمعۃ—- کا موضوع اِنھی مسلمانوں کو توجہ دلانا ہے کہ رسول کی حیثیت اُن کے لیے ایک نعمت عظمیٰ کی ہے۔ وہ اُس کی قدر پہچانیں اور یہود کے حاسدانہ پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو اِس نعمت سے محروم نہ کر بیٹھیں۔ رسول کی موعظت اور اُس کی لائی ہوئی شریعت کا احترام اُنھیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہونا چاہیے۔ وہ متنبہ رہیں کہ اِس میں
    کوتاہی ہوئی تو اُن کا انجام بھی وہی ہو گا جو اِس سے پہلے یہود کا ہو چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 062 Verse 001 Chapter 062 Verse 002 Chapter 062 Verse 003 Chapter 062 Verse 004 Chapter 062 Verse 005 Chapter 062 Verse 006 Chapter 062 Verse 007 Chapter 062 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    تسبیح کرتی ہیں آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اس اللہ ہی کی جو بادشاہ، قدوس، عزیز اور حکیم ہے۔
    تمہید: یہ تمہیدی آیت، معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے۔ سابق سورہ میں صیغۂ ماضی ’سَبَّحَ‘ آیا ہے اس میں ’یُسَبِّحُ‘ ہے جو تصویر حال کا فائدہ دے رہا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں۔ ’اَلْمَلِک‘ جس کے معنی بادشاہ کے ہیں۔ ’اَلْقُدُّوۡسِ‘ جس کے معنی ہر نقص و عیب سے پاک کے ہیں۔ ’اَلْعَزِیْزِ‘ جس کے معنی، جیسا کہ بار بار واضح کیا جا چکا ہے، غالب و مقتدر کے ہیں۔ ’اَلْحَکِیْمِ‘ وہ ذات جس کے ہر قول و فعل میں حکمت ہے۔ یہ چاروں صفات آگے والی آیت کی تمہید کے طور پر یہاں آئی ہیں۔ ان کی وضاحت آیت کی تفسیر کے تحت ہی مناسب رہے گی۔
    اسی نے اٹھایا ہے امیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور بے شک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
    فرمایا کہ اسی خدا نے جو اس کائنات کا حقیقی بادشا ہے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ وہ ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ تدبر کیجیے تو معلوم ہو گا کہ تمہید کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جو صفات گنائی ہیں انہی کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے اس رسول کی بعثت ہوئی ہے جس کا یہاں ذکر ہے۔ رسول اللہ صلعم کی بعثت اللہ تعالیٰ کی صفات کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہوئی: وہی خلق کا بادشاہ حقیقی ہے۔ اس کی اس صفت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس نے اپنی رعیت کو اپنے احکام و ہدایات سے آگاہ کرنے کے لیے اس کی طرف اپنا رسول بھیجا جس کی صفت یہ ہے کہ ’یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ‘ وہ لوگوں کو اس کی تعلیمات و ہدایات پڑھ کر سنا رہا ہے۔ وہ پاک اور قدوس ہے اس وجہ سے اس نے یہ چاہا کہ وہ اپنے رسول اور اپنی تعلیمات کے ذریعہ سے لوگوں کو پاکیزہ بنائے چنانچہ اس کا رسول لوگوں کو عقائد و اعمال اور اخلاق کی خرابیوں سے پاک کر رہا ہے۔ (یُزَکِّیْھِمْ)۔ پھر وہ ’عزیز‘ اور ’حکیم‘ ہے اس وجہ سے اس نے ایسا رسول بھیجا ہے جو اس کے بندوں کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دے رہا ہے۔ یہاں لفظ ’کتاب‘ شریعت اور قانون کے مفہوم میں ہے۔ شریعت اور قانون کا مؤثر نفاذ اسی کی طرف سے ہوتا ہے جو غالب و مقتدر ہو لیکن اللہ تعالیٰ صرف غالب و مقتدر ہی نہیں بلکہ ’حَکِیْم‘ بھی ہے اس وجہ سے وہ اپنے رسول کے ذریعہ سے جس قانون کی تعلیم دے رہا ہے وہ مجرد اس کے زور و اقتدار کا مظہر نہیں بلکہ اس کی حکمت اور بندوں کی دنیوی و اخروی مصلحت کا بھی مظہر ہے۔ یہ آیت بنی اسمٰعیل پر امتنان اور اظہار فضل و احسان کے محل میں ہے اس وجہ سے یہاں ان کے لیے لفظ ’اُمِّیّٖنَ‘ بطور ایک وصف امتیازی کے استعمال ہوا ہے۔ اس لفظ پر اس کے محل میں بحث ہو چکی ہے لیکن اتنی بات کی یاددہانی یہاں بھی ضروری ہے کہ یہ اصطلاح اگرچہ اہل کتاب بالخصوص یہود کی وضع کردہ تھی جس میں ان کے اندر مذہبی پندار کی جھلک بھی تھی اور اہل عرب کے لیے ان کا جذبۂ تحقیر بھی نمایاں تھا، لیکن بنی اسمٰعیل چونکہ کتاب و شریعت سے ناآشنا تھے اس وجہ سے بغیر کسی احساس کہتری کے انھوں نے اس لقب کو اپنے لیے خود بھی اختیار کر لیا۔ پھر جب قرآن نے ان کے لیے اور ان کی طرف مبعوث ہونے والے رسول کے لیے اس لفظ کو بطور ایک وصف امتیازی کے ذکر فرمایا تو اس کا رتبہ اتنا بلند ہو گیا کہ اہل عرب کے لیے اس نے گویا ایک تشریف آسمانی کی حیثیت حاصل کر لی جس سے قدرت کی یہ شان ظاہر ہوئی کہ جن کو ان پڑھ اور گنوار کہہ کر حقیر ٹھہرایا گیا وہ تمام عالم کی تعلیم و تہذیب پر مامور ہوئے اور جن کو اپنے حامل کتاب و شریعت ہونے پر ناز تھا وہ ’کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا‘ ’چار پائے بروکتا بے چند‘ کے مصداق قرار پائے۔ یہاں یہ لفظ عربوں کے جذبۂ شکرگزاری کو ابھارنے کے لیے استعمال ہوا ہے کہ انھیں اپنے رب کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اس نے ان پر نظر کرم فرمائی۔ ان کی اصلاح و تربیت اور ان کو کتاب و حکمت سے بہرہ مند کرنے کے لیے انہی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرمایا اور جاہلیت کی اس تاریکی سے ان کو نکالا جس میں وہ اپنی امیت کے سبب سے اب تک گھرے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو یہ نعمت مل گئی ہے وہ اس کو حرز جاں بنائیں اور کوشش کریں کہ دوسرے بھی اس کی قدر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ناقدری کے سبب سے وہ اس سے محروم ہو کر رہ جائیں اور حاسدوں کا مقصد پورا ہو جائے۔ یہاں نبئ امی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفات مذکور ہوئی ہیں ان پر سورۂ بقرہ کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کر چکے ہیں۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے تاکہ آپ کی بعثت کے مقاصد سے متعلق جو غلط فہمیاں منکرین حدیث نے پھیلائی ہیں وہ دور ہو جائیں۔ بنی اسمٰعیل کے اندر، بعینہٖ انہی صفات کے پیغمبر اٹھائے جانے کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی۔ سورۂ بقرہ میں یہ دعا یوں مذکور ہے: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ ط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (البقرہ ۲: ۱۲۹) ’’اے ہمارے رب! اور تو بھیجیو ان کے اندر سے ایک رسول انہی میں سے جو تیری آیتیں ان کو پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔ بے شک تو غالب و حکیم ہے۔‘‘ آنحضرتؐ دعائے ابراہیمی کے مظہر ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح یہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کے بھی مظہر ہیں جو آپ نے اولاد اسمٰعیل سے متعلق فرمائی تھی۔ گویا گوناگون صفتیں آپ کے اندر جمع ہیں۔ یہ نوید مسیح ہیں اور دعائے ابراہیم ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں، اور پھر یہ کہ وہ تمہارے ہی اندر سے ایک فرد ہیں۔ تمہارے اور ان کے درمیان اجنبیت و غیریت کا کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ تمہیں حقیر ٹھہرانے والے تمہیں یہ طعنہ نہیں دے سکتے کہ تمہیں ان کے یا کسی اور کے واسطہ سے روشنی ملی بلکہ اللہ نے تمام خلق پر تم کو سربلند کیا کہ تمہارے ذریعہ سے سارے جہان میں اجالا کرنے کا سامان کیا۔ آنحضرتؐ کی بعثت تمام خلق کی طرف ہے: یہ امر یہاں واضح رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اگرچہ امیوں کے اندر ہوئی لیکن آپ کی دعوت تمام خلق کے لیے ہے۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث ہوئے: ایک بعثت خاص، دوسری بعثت عام۔ آپ کی بعثت خاص بنی اسمٰعیل کی طرف ہوئی اور اس بعثت کے فرائض کی تکمیل حضورؐ نے بذات خود فرمائی۔ آپ کی بعثت عام، جو تمام خلق کی طرف ہوئی، اس کے فرائض انجام دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو ’شہدآء اللّٰہ فی الارض‘ کے منصب پر سرفراز فرمایا جو اب قیامت تک کے لیے اس فرض کی انجام دہی پر مامور ہے ’شہدآء اللّٰہ فی الارض‘ کے ہراول دستہ کی حیثیت چونکہ امیوں ہی کو حاصل ہوئی اس وجہ سے یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ جو امی تھے اللہ تعالیٰ نے انہی کے واسطہ سے تمام خلق کو روشنی دکھائی۔ ’وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ‘۔ یہ امیوں کے جذبۂ شکر و سپاس کو ابھارنے کے لیے اس تاریکی کی طرف توجہ دلائی ہے جو ماضی میں ان پر چھائی رہی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ جاہلیت کی اس گھٹا ٹوپ تاریکی کا خیال کریں جس میں وہ گرفتار رہ چکے ہیں تب انھیں اپنے رب کے فضل و احسان کا کچھ اندازہ ہو گا کہ اس نے ان کو کس چاہ ظلمت سے نکالا اور کس آسمان رفعت و عزت پر پہنچایا!  
    اور اِنہی میں سے اُن دوسروں میں بھی جو ابھی اِن میں شامل نہیں اور اللہ غالب و حکیم ہے۔
    اُن امیوں کو بانداز لطیف دعوت جو ابھی اسلام سے محروم تھے: اس کا عطف ’اُمِّیّٖن‘ پر ہے۔ یعنی جن امیوں کے اندر اس رسول کی بعثت ہوئی ہے انہی میں سے وہ دوسرے بھی ہیں جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ یہ اشارہ ان بنی اسمٰعیل کی طرف ہے جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اس سے یہ بات نکلی کہ اوپر اگرچہ لفظ ’اُمِّیّٖنَ‘ عام استعمال ہوا ہے لیکن اس سے مراد صرف وہ بنی اسمٰعیل ہیں جو مشرف باسلام ہو چکے تھے۔ چنانچہ آیت کا ٹکڑا ’وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ‘ اس پر دلیل بھی ہے۔ اب اس آیت میں نہایت خوب صورت اور بلیغ اسلوب سے بنی اسمٰعیل کے ان لوگوں کو بھی دعوت دے دی جو ابھی اسلام سے بیگانہ تھے۔ لفظ ’مِنْہُمْ‘ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ انہی امیوں میں سے جن کے لیے یہ آسمان نعمت اتری ہے، کچھ دوسرے بھی ہیں لیکن ابھی وہ اس سے بدکے ہوئے ہیں۔ گویا نہایت لطیف اسلوب سے ان کو دعوت دی گئی کہ جن کے لیے یہ خوان نعمت بچھایا گیا ہے اور جو سب سے پہلے موعود ہیں، حیف ہے اگر وہ اس سے محروم رہیں۔ ’لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ‘ (ابھی وہ ان سے ملے نہیں ہیں) کے الفاظ کے اندر یہ بشارت بھی مضمر ہے کہ گو ابھی وہ ملے نہیں لیکن عنقریب مل جائیں گے۔ گویا یہ مستقبل قریب میں ان کے قبول اسلام کی اسی طرح کی بشارت ہے جس طرح کی بشارت سورۂ ممتحنہ کی آیت ۷ میں گزر چکی ہے۔ ہدایت کے باب میں سنت الٰہی: ’وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ایمان و ہدایت کے باب میں اس نے اختیار فرمائی ہے۔ وہ چاہے تو ساری خلق کو ہدایت بخش دے، وہ عزیز و غالب ہے، لیکن وہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے وہ ہدایت انہی کو سرفراز فرماتا ہے جو اس کی حکمت کے تحت سزاوار ہوتے ہیں۔ سورۂ دہر میں اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے: ’وَمَا تَشَاءُوۡنَ إِلَّا أَنۡ یَشَآءَ اللہُ إِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا ۵ یُدْخِلُ مَنۡ یَشَآءُ فِیْ رَحْمَتِہٖ‘ (الدہر ۷۶: ۳۰-۳۱) (اور تمہارا چاہنا کچھ نہیں مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ بے شک اللہ ہی علم و حکمت والا ہے۔ وہی اپنی رحمت میں جس کو چاہے گا داخل کرے گا)۔  
    یہ اللہ کا فضل ہے وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
    یہود کے حسد پر تعریض: یہ اسی فضل عظیم کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے امّیوں پر فرمایا اور جس کا اوپر ذکر ہوا۔ ارشاد ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس پر کسی کا اجارہ نہیں ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے اس کے لیے انتخاب فرماتا ہے اور اس کا ہر چاہنا اس کی اپنی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ کسی دوسرے کو اس میں ذرا بھی دخل نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہود کو اس پر حسد ہے تو وہ جتنا حسد کرنا چاہیں کر لیں۔ اس سے وہ اپنا ہی نقصان کریں گے، کسی دوسرے کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ خدا نے امیوں کو اپنی چیز دی، کسی دوسرے کی نہیں دی ہے کہ وہ اس پر غصہ کا اظہار کرے۔
    اب لوگوں کی تمثیل جن پر تورات لادی گئی پھر انھوں نے اس کو نہ اٹھایا اس گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ کیا ہی بری تمثیل ہے اس قوم کی جس نے اللہ کی آیتوں کی تکذیب کی!! اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
    یہود کے پندار پر ضرب: یہ یہود کے پندار پر ضرب لگائی ہے کہ اگر وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ کتاب و شریعت کے حامل وہی ہو سکتے ہیں، کوئی دوسرا اس شرف میں ان کا حریف نہیں ہو سکتا، تو یہ گھمنڈ اب وہ اپنے دماغ سے نکال دیں۔ اب ان کی مثال اس گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجھ تو اٹھائے ہوئے ہے لیکن اسے کچھ خبر نہیں کہ ان کتابوں میں کیا ہے۔ ’حُمِّلُوا التَّوْرَاۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا‘۔ یعنی اس میں تو شبہ نہیں کہ ایک زمانے میں ان کے اوپر تورات کا بوجھ لادا گیا لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ہے کہ انھوں نے اس بارگراں کو اٹھایا نہیں۔ اس نہ اٹھانے کی وضاحت ’کَذَّبُوْا بِآیَاتِ اللَّہِ‘ کے الفاظ سے فرما دی گئی کہ تورات کی تعلیمات اور اس کے احکام پر ان کا ایمان باقی نہیں رہا، عملاً انھوں نے ان کی تکذیب کر دی۔ ظاہر ہے کہ جب ان کتابوں کے احکام کی انھوں نے تکذیب کر دی تو ان کے اجر سے تو وہ محروم ہو گئے، صرف ان کا وِزر اور گناہ ان کے سر باقی رہا اور وہ اس مثل کے مصداق ہیں کہ چارپائے بروکتا بے چند۔ ’حُمِّلُوا التَّوْرَاۃَ‘ میں لفظ ’حُمِّلُوْا‘ نہایت بلیغ ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس تورات کے حامل ہونے پر آج ان کو ناز ہے وہ انہوں نے اس وقت بھی شوق و رغبت سے نہیں قبول کی تھی جس وقت انھیں عطا ہوئی تھی بلکہ وہ گویا ان پر زبردستی لادی گئی تھی۔ اس زبردستی لادنے کی پوری تفصیل سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے کہ تورات کے ایک ایک حکم کو قبول کرنے میں یہود نے کس کس طرح اپنی ضد و مکابرت کا مظاہرہ کیا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کس سوز و غم کے ساتھ ان کی اس حالت پر ماتم کیا ہے۔ اس کی طرف سرسری اشارہ سورۂ صف کی آیت ۵ میں بھی ہے۔ ’بِئۡسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِآیَاتِ اللہِ‘۔ فرمایا کہ جن کی مثال اتنی مکروہ ہے ان کے لیے زیبا نہیں ہے کہ وہ اپنے تقدس و تقرب الٰہی کے زعم میں مبتلا ہوں اور یہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کے ہوتے خدا کسی دوسرے کو کتاب و شریعت کا حامل نہیں بنا سکتا! جو کتاب پر عامل نہیں وہ اس کا حامل بھی نہیں: ’کَذَّبُوْا بِآیَاتِ اللہِ‘ کے الفاظ سے اوپر کے الفاظ ’ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا‘ کی وضاحت ہو گئی کہ تورات کے نہ اٹھانے کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے اس کے احکام کی اپنے عمل سے تکذیب کر دی۔ زبان سے تو دعویٰ ہے کہ وہ اس کے حامل ہیں لیکن جب اس پر عامل نہیں تو اس کے حامل کیسے ہوئے؟ ’وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ‘۔ یہ ٹکڑا بعینہٖ سورۂ صف کی آیت ۷ میں بھی گزر چکا ہے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان کی بداعمالیوں کے سبب سے ان پر لعنت ہو چکی ہے اور اللہ نے ان کے دلوں پر، جیسا کہ سورۂ بقرہ میں تفصیل گزر چکی ہے، مہر کر دی ہے، اس وجہ سے اب ان کو ہدایت نصیب ہونے والی نہیں ہے۔ یہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے ہیں۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ان کو تورات دی گئی تو اس کی انھوں نے تکذیب کر دی اور اب اسی تورات کے حامل ہونے کے زعم میں اللہ کے آخری رسول کی تکذیب کر رہے ہیں کہ بھلا ان کے ہوتے کسی اور قوم کے اندر کوئی رسول کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ فرمایا کہ ایسے بدبختوں کو خدا ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اس طرح کے لوگ ہمیشہ اسی طرح ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔
    ان سے کہو کہ اے وہ لوگو! جو یہودی ہوئے، اگر تمہارا گمان ہے کہ دوسروں کے مقابل میں تم اللہ کے محبوب ہو تو موت کے طالب بنو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔
    یہود کے پندار پر ایک اور ضرب: یہ ان کے اسی پندار پر ایک اور ضرب لگائی کہ اگر تمہارا زعم یہ ہے کہ تم خدا کے محبوب ہو تو اس محبت و محبوبیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ تمہارے اندر خدا کی راہ میں جان دینے کا شوق و ولولہ ہو۔ محب کو سب سے زیادہ آرزو محبوب کی ملاقات کی ہوتی ہے۔ وہ اس چیز سے جان نہیں چراتا جو محبوب سے ملاقات کی راہ کھولے، لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ موت کا مقابلہ کرنے میں تم سے زیادہ بزدل کوئی نہیں۔ سورۂ صف کی آیات ۴-۵ میں ان کے حال پر جو تبصرہ فرمایا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ سورۂ حشر میں بنو قریظہ اور ان کے حلیفوں کی بزدلی کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے: لَأَنتُمْ أَشَدُّ رَہْبَۃً فِیْ صُدُوْرِہِم مِّنَ اللہِ ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ ۵ لَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا إِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ أَوْ مِنۡ وَرَآءِ جُدُرٍ بَأْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌ تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَقُلُوْبُہُمْ شَتَٰی ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ (الحشر ۵۹: ۱۳-۱۴) ’’ان کے سینوں میں تمہارا ڈر اللہ کے خوف سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سمجھ رکھنے والے لوگ نہیں۔ یہ کبھی تم سے کھلے میدان میں لڑنے کا حوصلہ نہیں کر سکتے۔ لڑیں گے تو قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کی اوٹ سے۔ ان کے اپنے اندر شدید مخاصمت ہے۔ تم ان کو متحد گمان کر رہے ہو، حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عقل سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔‘‘ سورۂ بقرہ میں یہی مضمون نسبۃً تفصیل سے اس طرح بیان ہوا ہے: قُلْ إِن کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الآَخِرَۃُ عِنۡدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنۡ کُنۡتُمْ صَادِقِیْنَ ۵ وَلَنۡ یَتَمَنَّوْہُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَیْْدِیْہِمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظَّالِمیْنَ ۵ وَلَتَجِدَنَّہُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیَاۃٍ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُوْا یَوَدُّ أَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَۃٍ (البقرہ ۲: ۹۵-۹۶) ’’کہہ دو، اگر دار آخرت کی تمام نعمتیں اللہ کے پاس، دوسروں کے مقابل میں، تمہارا ہی حق ہیں تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔ اور یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اپنی ان کرتوتوں کے سبب سے جو انھوں نے کی ہیں اور اللہ ان ظالموں سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اور تم ان کو زندگی کا سب سے زیادہ حریص پاؤ گے۔ یہاں تک کہ یہ مشرکوں سے بھی زیادہ زندگی کے حریص ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی تمنا ہے کہ ہزار سال جیے۔‘‘ ’مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ‘ سے بنی اسمٰعیل کی طرف اشارہ ہے: آیت زیر بحث میں ’مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ‘ کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن یہاں اشارہ خاص طور پر بنی اسمٰعیل ہی کی طرف ہے۔ تورات کی پیشین گوئیوں اور نسلی رقابت کی بنا پر یہود کو سب سے زیادہ پرخاش انہی سے تھی۔ اس پرخاش کی پوری سرگزشت سورۂ بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہ پرخاش تھی تو شروع ہی سے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد، جب انھوں نے تاڑ لیا کہ وہ خطرہ سر پر آ گیا جس سے وہ اندیشہ ناک تھے تو یہ آگ پوری طرح بھڑک اٹھی۔ یہود کی بزدلی پر ان کی پوری تاریخ گواہ ہے: قرآن نے یہاں یہود کی جس بزدلی پر طنز کیا ہے اگرچہ وہ اس کے جواب میں بے حیائی سے کہہ سکتے تھے کہ ہم موت سے ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں لیکن آدمی سے اپنا باطن مخفی نہیں ہوتا۔ انھیں محسوس ہوا کہ قرآن نے ان کی نہایت دکھتی رگ پکڑی ہے۔ چنانچہ انھوں نے خاموشی ہی میں سلامتی دیکھی۔ وہ ایک ایسی بات کی تردید کس طرح کر سکتے تھے جس کی شہادت ان کی ماضی کی تاریخ بھی دے رہی تھی اور حاضر کے واقعات بھی جس کے گواہ تھے۔  
    اور یہ ہرگز اس کے طالب نہ بنیں گے، بوجہ اپنی ان کرتوتوں کے جو وہ کر چکے ہیں۔ اور اللہ اِن ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
    یہ ان کی بزدلی کے سبب کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس چیز نے ان کو موت سے اتنا خائف کر رکھا ہے یہ ان کے اعمال ہیں۔ یہ نبیوں کے قاتل ہیں، یہ تورات کے محرّف ہیں، اللہ کی امانتوں میں خیانت کرنے والے ہیں اور انھوں نے ان تمام نشانات ہدایت کو مٹایا ہے جن کو خلق کے سامنے اجاگر کرنے پر یہ مامور ہوئے تھے تو اب یہ کیا منہ لے کر اپنے رب کے سامنے جائیں گے! لیکن ان کو بہرحال اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے اور وہ ان ظالموں سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ ہر ایک کو اس کے کیے کی بھرپور سزا دے گا۔
    ان کو بتا دو کہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ تم سے دوچار ہو کر رہے گی پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے پس وہ تم کو ان سارے اعمال سے آگاہ کرے گا جو تم کرتے رہے ہو۔
    اوپر ’وَاللہُ عَلِیْمٌ بِالظَّالِمِیْنَ‘ میں جو تہدید مضمر تھی وہ اس آیت میں اچھی طرح کھل گئی ہے۔ فرمایا کہ موت سے بھاگتے ہو تو بھاگو، لیکن تم اس سے بھاگ کے کہاں جاؤ گے؟ وہ تمہیں پکڑ ہی لے گی۔ پھر تم اپنی تمام بداعمالیوں کے ساتھ اپنے اس خدا کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو تمام غائب و حاضر کا جاننے والا ہے۔ نہ اس سے تمہارا کوئی فعل مخفی ہے، نہ کوئی چیز تم اس سے چھپا سکو گے۔ وہ تمہارا سارا کچا چٹھا تمہارے سامنے رکھ دے گا اور تمہیں اپنے ہر جرم کی سزا بھگتنی پڑے گی۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List