Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الصف (The Ranks, Battle Array)

    14 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور اس کا خطاب

    اس سورہ میں خطاب ان مسلمانوں سے ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت کا عہد کر چکنے کے بعد اللہ کی راہ میں جہاد سے جی چرا رہے تھے، ان کو متنبہ فرمایا ہے کہ اگر عہد اطاعت میں داخل ہو چکنے کے بعد تمہاری روش یہی رہی تو یاد رکھو کہ تمہارا بھی وہی حال ہو گا جو یہود کا ہوا۔ انھوں نے اطاعت کا عہد کر چکنے کے بعد قدم قدم پر اپنے پیغمبر، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کی۔ اس کج روی کی سزا ان کو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل اس طرح کج کر دیے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہو گئے۔ چنانچہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پاس آخری نبی کی بشارت لے کر آئے اور نہایت کھلے ہوئے معجزات دکھائے تو انھوں نے سارے معجزات کو جادو قرار دیا اور ان کو جھٹلا دیا اور اب وہ اسلام کی مخالفت کے درپے ہیں حالانکہ اسلام، ان کے اور مشرکین دونوں کے علی الرغم، اس سرزمین کے تمام ادیان پر غالب آ کے رہے گا۔ اس کے بعد اس صحیح روش کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جو مسلمانوں کو اختیار کرنی چاہیے اور جو اس عہد کا لازمی تقاضا ہے جو اللہ کے رسول سے انھوں نے کیا ہے۔ ساتھ ہی ان کو اس فتح عظیم کی بشارت دی ہے جو مستقبل قریب میں حاصل ہونے والی ہے اگر وہ اس عہد پر مضبوطی سے قائم رہے۔ آخر میں ان کے سامنے ان لوگوں کا نمونہ رکھا ہے جنھوں نے حق کی طرف سبقت اور اس کی تائید و رفاقت کی نہایت اعلیٰ مثال قائم کی اور دعوت دی ہے کہ پیروی کے قابل نمونہ ان کا ہے نہ کہ یہود کا جو ہمیشہ کے لیے اللہ کی ہدایت سے محروم ہوئے۔

    ب۔ سابق سورتوں سے تعلق

    غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ جس طرح پچھلی مدنی سورتوں میں منافقین کا کردار زیربحث رہا ہے اس طرح اس سورہ میں بھی انہی کے ایک گروہ کا کردار زیربحث ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ پچھلی سورتوں میں جن منافقین سے بحث ہے وہ اپنے نفس کی داخلی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ خارجی بندھنوں میں گرفتار تھے لیکن اس سورہ اور اس کے بعد کی مدنی سورتوں میں منافقین سے بحث ہے جن کی کمزوریاں بیشتر داخلی ہیں۔ مثلاً اس سورہ میں اور اس کے بعد سورۂ جمعہ میں، جو اس کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے، حبِّ مال و جان کی بیماری کی نشان دہی کی گئی ہے اور اس کو ان کے نفاق کا سبب بتایا گیا ہے۔ ساتھ ہی ان کے علاج کی تدابیر کی نشان دہی بھی فرمائی گئی ہے۔

  • الصف (The Ranks, Battle Array)

    14 آیات | مدنی
    الصف - الجمعۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں رسول پر ایمان کے بعد اُس کی نصرت کے لیے جہاد سے گریز کرنے والوں اور دوسری میں اُس کی قدرشناسی اور اتباع و اطاعت میں کوتاہی کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیۂ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الصف—- کا موضوع کمزور مسلمانوں کو اِس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ رسول پر ایمان کے بعد اُس کی نصرت کے لیے جہاد سے گریز کرو گے تو تمھارا حال بھی وہی ہو گا جو یہود کا ہوا ہے۔ اِس معاملے میں صحیح رویہ یہود کا نہیں، سیدنا مسیح کے حواریوں کا تھا، اِس لیے پیروی کرنی ہے تو اُن کی کرو، یہ تو ہمیشہ کے لیے خدا کی ہدایت سے محروم ہو چکے ہیں۔

    دوسری سورہ—- الجمعۃ—- کا موضوع اِنھی مسلمانوں کو توجہ دلانا ہے کہ رسول کی حیثیت اُن کے لیے ایک نعمت عظمیٰ کی ہے۔ وہ اُس کی قدر پہچانیں اور یہود کے حاسدانہ پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو اِس نعمت سے محروم نہ کر بیٹھیں۔ رسول کی موعظت اور اُس کی لائی ہوئی شریعت کا احترام اُنھیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہونا چاہیے۔ وہ متنبہ رہیں کہ اِس میں کوتاہی ہوئی تو اُن کا انجام بھی وہی ہو گا جو اِس سے پہلے یہود کا ہو چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 061 Verse 001 Chapter 061 Verse 002 Chapter 061 Verse 003 Chapter 061 Verse 004 Chapter 061 Verse 005 Chapter 061 Verse 006 Chapter 061 Verse 007 Chapter 061 Verse 008 Chapter 061 Verse 009
    Click translation to show/hide Commentary
    اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور وہی غالب و حکیم ہے۔
    آیت تسبیح کا آگے کے مضمون سے ربط: یہ آیت تشویق و تحریض کے محل میں بھی ہو سکتی ہے اور اظہار بے نیازی کے محل میں بھی۔ آگے جہاد سے جان چرانے والے منافقین کو ان کی بدعہدی و بزدلی پر ملامت کی گئی ہے۔ اس مضمون سے یہ آیت اپنے مذکورہ دونوں پہلوؤں سے ربط رکھتی ہے۔ اگر تشویق و ترغیب کے پہلو سے نگاہ ڈالیے تو مطلب یہ ہو گا کہ جس خدا کی تسبیح و بندگی میں اس کائنات کی ہر چیز سرگرم ہے، جو ہر چیز پر غالب اور جس کے ہر کام میں حکمت ہے اس کی راہ میں جہاد سے اگر کوئی جان چرائے تو اس پر حیف ہے! بے نیازی کے پہلو سے نگاہ ڈالیے تو مطلب یہ ہو گا کہ جب اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح و بندگی میں لگی ہوئی ہے اور حقیقی غالب و حکیم وہی ہے تو اس کو اس بات کی کیا پروا ہو سکتی ہے کہ کچھ بزدل اس کی راہ میں جہاد سے جان چراتے پھرتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس سورہ میں ’سَبَّحَ‘ آیا ہے اور اگلی سورہ میں ’یُسَبِّحُ‘ ہے۔ ان دونوں اسلوبوں میں یہ فرق ہے کہ ماضی بیان واقعہ اور بیان حقیقت کے لیے آتا ہے اور مضارع تصویر حال اور استمرار کا فائدہ بھی دیتا ہے۔ ’اَلْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘ کی دو صفتوں کا بغیر حرف عطف کے بیان اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں صفتیں موصوف میں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔ یعنی وہ بیک وقت ہر چیز پر غالب و قادر بھی ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت و مصلحت بھی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو ذات ان صفات سے موصوف ہے اس سے بڑھ کر بھروسہ کے قابل اور کس کی ذات ہو سکتی ہے! بدقسمت ہیں وہ جو ایسی ذات پر بھی بھروسہ نہ کریں۔
    اے ایمان والو! تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں!
    زبان کے غازیوں کو تنبیہ: خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن انہی کی طرف ہے جو ایمان و اسلام اور انفاق و جہاد کے دعوے تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے لیکن جب آزمائش کا وقت آتا تو بالکل بزدل ثابت ہوتے۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم اس بات کا دعویٰ ہی کیوں کرتے ہو جو پورا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے! اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ اس زبانی جہاد سے تم کوئی سعادت کی کمائی کر رہے ہو تو یہ خیال بالکل غلط ہے۔ تمہارا یہ رویہ اللہ کے نزدیک تمہارے لیے موجب سعادت نہیں بلکہ غضب کا باعث ہے کہ تم زبان سے تو بڑے غازی ہو لیکن عمل کے اعتبار سے بالکل صفر۔ آدمی کے قول و قرار کی ساری قدر و قیمت اس کی وفاداری و راست بازی میں ہے۔ ایک شخص ایک طالب مدد کو پہلے ہی مرحلے میں اگر صاف جواب دے دیتا ہے کہ وہ اس کی مدد نہیں کرے گا تو گو اس کا انکار، اگر وہ مدد کی اہلیت رکھتا ہے، فتوت، ہمدردی اور اسلامی اخوت کے منافی اور اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ فعل ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اللہ کے نزدیک مبغوض وہ ہو گا جس نے ایک ضرورت مند کو مدد کا اطمینان تو بڑی فراخ دلی سے دلایا لیکن جب وعدہ پورا کرنے کا وقت آیا تو اس کو دھوکا دیا۔ یہ رویہ یوں تو ہر شکل میں مکروہ و مبغوض ہے لیکن معاملہ ایک نبی اور اس پر ایمان کے مدعیوں کا ہو تو اس کی سنگینی اور بڑھ جائے گی۔ جو لوگ ایک نبی کی دعوت قبول نہیں کرتے وہ اللہ کے غضب کے سزاوار ہوتے ہیں اور ان کو سزاوار ہونا چاہیے لیکن ان سے بھی زیادہ اللہ کے غضب کے سزاوار وہ ہیں جو ماننے کو تو اس کی ہر بات مان لیں لیکن عمل کسی بات پر بھی نہ کریں یا صرف ان باتوں پر کریں جو ان کے نفس کی خواہشوں کے موافق ہوں اور جب کوئی اہم مرحلہ پیش آئے تو اس وقت چھپتے پھریں۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کا رویہ کھلے ہوئے دشمنوں کے مقابل میں دین کے لیے زیادہ خطر ناک ہے اس لیے کہ انھوں نے اپنے کو دوست ظاہر کر کے دین کی دشمنی کی اور اس کی فوج میں بھرتی ہو کر اس کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے۔ ان کے نزدیک معتوب الٰہی ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ جب ایک مرتبہ انھوں نے دین کو مان لیا تو گویا انھوں نے اس امر کا اعتراف کر لیا کہ یہ چیز ان کے دل کو اپیل کرنے والی اور ان کی سمجھ میں آنے والی ہے۔ اس پہلو سے ان کا معاملہ ان لوگوں سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے جو اس کے مخالف اس بنا پر ہوں کہ ابھی بات ان کی سمجھ میں سرے سے آئی ہی نہ ہو۔ کسی بات کا سمجھ میں نہ آنا بہرحال ایک عذر ہے جس کی بنا پر ایک شخص رعایت کا مستحق قرار پاتا ہے لیکن جو لوگ سمجھ چکنے کا اعتراف کر چکے ہوں اگر وہ اس کے عملی تقاضوں سے گریز اختیار کریں تو اس کا سبب صرف ان کی اخلاقی کمزوری ہی ہو سکتی ہے جو کسی کے لیے بھی کوئی عذر نہیں بن سکتی بلکہ یہ بہر شکل ایک برائی ہے جو اللہ کے غضب اور اس کی نفرت ہی کی موجب ہو گی۔
    اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ غصہ کی ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔
    زبان کے غازیوں کو تنبیہ: خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن انہی کی طرف ہے جو ایمان و اسلام اور انفاق و جہاد کے دعوے تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے لیکن جب آزمائش کا وقت آتا تو بالکل بزدل ثابت ہوتے۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم اس بات کا دعویٰ ہی کیوں کرتے ہو جو پورا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے! اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ اس زبانی جہاد سے تم کوئی سعادت کی کمائی کر رہے ہو تو یہ خیال بالکل غلط ہے۔ تمہارا یہ رویہ اللہ کے نزدیک تمہارے لیے موجب سعادت نہیں بلکہ غضب کا باعث ہے کہ تم زبان سے تو بڑے غازی ہو لیکن عمل کے اعتبار سے بالکل صفر۔ آدمی کے قول و قرار کی ساری قدر و قیمت اس کی وفاداری و راست بازی میں ہے۔ ایک شخص ایک طالب مدد کو پہلے ہی مرحلے میں اگر صاف جواب دے دیتا ہے کہ وہ اس کی مدد نہیں کرے گا تو گو اس کا انکار، اگر وہ مدد کی اہلیت رکھتا ہے، فتوت، ہمدردی اور اسلامی اخوت کے منافی اور اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ فعل ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اللہ کے نزدیک مبغوض وہ ہو گا جس نے ایک ضرورت مند کو مدد کا اطمینان تو بڑی فراخ دلی سے دلایا لیکن جب وعدہ پورا کرنے کا وقت آیا تو اس کو دھوکا دیا۔ یہ رویہ یوں تو ہر شکل میں مکروہ و مبغوض ہے لیکن معاملہ ایک نبی اور اس پر ایمان کے مدعیوں کا ہو تو اس کی سنگینی اور بڑھ جائے گی۔ جو لوگ ایک نبی کی دعوت قبول نہیں کرتے وہ اللہ کے غضب کے سزاوار ہوتے ہیں اور ان کو سزاوار ہونا چاہیے لیکن ان سے بھی زیادہ اللہ کے غضب کے سزاوار وہ ہیں جو ماننے کو تو اس کی ہر بات مان لیں لیکن عمل کسی بات پر بھی نہ کریں یا صرف ان باتوں پر کریں جو ان کے نفس کی خواہشوں کے موافق ہوں اور جب کوئی اہم مرحلہ پیش آئے تو اس وقت چھپتے پھریں۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کا رویہ کھلے ہوئے دشمنوں کے مقابل میں دین کے لیے زیادہ خطر ناک ہے اس لیے کہ انھوں نے اپنے کو دوست ظاہر کر کے دین کی دشمنی کی اور اس کی فوج میں بھرتی ہو کر اس کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے۔ ان کے نزدیک معتوب الٰہی ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ جب ایک مرتبہ انھوں نے دین کو مان لیا تو گویا انھوں نے اس امر کا اعتراف کر لیا کہ یہ چیز ان کے دل کو اپیل کرنے والی اور ان کی سمجھ میں آنے والی ہے۔ اس پہلو سے ان کا معاملہ ان لوگوں سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے جو اس کے مخالف اس بنا پر ہوں کہ ابھی بات ان کی سمجھ میں سرے سے آئی ہی نہ ہو۔ کسی بات کا سمجھ میں نہ آنا بہرحال ایک عذر ہے جس کی بنا پر ایک شخص رعایت کا مستحق قرار پاتا ہے لیکن جو لوگ سمجھ چکنے کا اعتراف کر چکے ہوں اگر وہ اس کے عملی تقاضوں سے گریز اختیار کریں تو اس کا سبب صرف ان کی اخلاقی کمزوری ہی ہو سکتی ہے جو کسی کے لیے بھی کوئی عذر نہیں بن سکتی بلکہ یہ بہر شکل ایک برائی ہے جو اللہ کے غضب اور اس کی نفرت ہی کی موجب ہو گی۔
    اللہ تو محبوب ان لوگوں کو رکھتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔
    منافقین کی اصل کمزوری: یہ ان منافقین کی اس کمزوری سے پردہ اٹھایا ہے جس پر یہ نکیر فرمائی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ ان کی خاص کمزوری یہ تھی کہ اپنی وفاداری و جان نثاری کی دھونس جمانے کے لیے وہ جہاد کے ولولہ کا اظہار تو بہت کرتے لیکن جب جہاد کا حکم دے دیا گیا تو چھپتے پھرتے تھے۔ سورۂ نساء میں ان کی کمزوری کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے: اَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْا أَیْْدِیَکُمْ وَأَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ أَوْ أَشَدَّ خَشْیَۃً (النساء ۴: ۷۷) ’’تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا جاتا تھا کہ ابھی اپنے ہاتھ روکو اور نماز کا اہتمام کرو اور زکوٰۃ دو (تو وہ جنگ کے لیے جلدی مچاتے تھے) لیکن جب جنگ ان کے اوپر فرض کر دی گئی تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہا ہے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔‘‘ سورۂ توبہ میں انہی لوگوں کو ان الفاظ میں ملامت فرمائی ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا مَا لَکُمْ إِذَا قِیْلَ لَکُمُ انفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الأَرْضِ (التوبہ ۹: ۳۸) ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اٹھو تو تم زمین پر ڈھے پڑتے ہو۔‘‘ ان لوگوں کی بزدلی کا حال یہ تھا کہ اگر مارے باندھے جنگ کے لیے نکلتے بھی تو صف بستہ اور سینہ سپر ہو کر لڑنے کا حوصلہ نہ کرتے بلکہ ان کی کوشش برابر یہ ہوتی کہ کسی طرح جنگ کے خطرہ سے اپنے کو محفوظ رکھیں۔ سورۂ توبہ میں ان کی اس بزدلی کی تصویر اس طرح کھینچی گئی ہے: لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَأً أَوْ مَغَارَاتٍ أَوْ مُدَّخَلاً لَّوَلَّوْا إِلَیْْہِ وَہُمْ یَجْمَحُوْنَ (التوبہ ۹: ۵۷) ’’اگر وہ پا جائیں کوئی پناہ گاہ، یا غار یا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ تو وہ رسی تڑا کر اس کی طرف بھاگیں گے۔‘‘ ان لوگوں کی انہی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ تم نے محض زبانی جمع خرچ سے اللہ کو خوش کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے یہ اس کو خوش کرنے کے بجائے اس کے قہر و غضب میں مزید اضافے کا موجب ہو گا۔ اللہ ان لوگوں کو کبھی پسند کرنے والا نہیں ہے جو ڈینگیں تو بہت ماریں لیکن قربانی کا کوئی حوصلہ اپنے اندر نہ رکھتے ہوں۔ وہ محبوب انہی لوگوں کو رکھتا ہے جو میدان جنگ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوتے ہیں اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ’بُنیَانٌ‘ عمارت کو کہتے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد دیوار ہے۔ دیوار کی ایک اینٹ بھی اگر اپنی جگہ سے کھسک جائے تو پھر پوری دیوار کو اکھاڑ پھینکنا آسان ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے سورۂ انفال میں تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص منظم فوج کشی کی صورت میں صف سے اپنی جگہ چھوڑ کر بھاگتا ہے تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹتا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے: ’فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَأْوَاہُ جَہَنَّمُ وَبِئۡسَ الْمَصِیْرُ‘ (النفال ۸: ۱۶) (تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا، اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت ہی برا ٹھکانا ہے)۔  
    اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میرے ہم قومو! تم مجھے کیوں دکھ پہنچاتے ہو حالانکہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں تو جب وہ کج ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل کج کر دیے اور اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کیا کرتا۔
    منافقین کی روش کی مثال: منافقین کی اس روش کے انجام کو مثال سے واضح فرمایا ہے کہ یہی روش یہود کی رہی ہے۔ وہ جہاد کے لیے جوش و جذبہ کا اظہار تو بہت کرتے لیکن جب امتحان کا وقت آتا تو ڈگ ڈال دیتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب انھیں فلسطینیوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا تو وہ یہ جواب دے کر بیٹھ رہے کہ یہ بڑے زور آور لوگ ہیں، ہم ان کی تلواروں کا لقمہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں، آپ اپنے رب کے ساتھ جا کر ان سے لڑو، ہم تو جب تک وہ اس شہر کو خالی نہیں کریں گے اس میں داخل ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ ان کی یہی روش اس جنگ کے معاملے میں بھی رہی جس کا ذکر سورۂ بقرہ میں ہوا ہے کہ جہاد کے لیے قائد کا انتخاب تو انھوں نے حضرت سموئیلؑ سے بڑے جوش و خروش سے کرایا لیکن جب قائد کا انتخاب ہو گیا تو اس کی قیادت میں جنگ سے انھوں نے انکار کر دیا۔ تورات کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ایک موقع بھی ایسا نہیں گزرا ہے جب انھوں نے پوری خوش دلی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اطاعت کی ہو۔ ان کی اس روش پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے باربار نہایت دل سوزی کے ساتھ اپنے غم و غصہ کا اظہار بھی فرمایا ہے اور نہایت سخت الفاظ میں ان کو ملامت بھی کی ہے لیکن آخر وقت تک ان کی روش میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، بلکہ ان کے دل کی سختی بڑھتی ہی گئی۔ ’یَا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِیْ وَقَد تَّعْلَمُوْنَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ إِلَیْْکُمْ‘۔ یہ حضرت موسیٰؑ کے انہی شکووں کا حوالہ ہے جو اپنی قوم کی بدعہدیوں اور نافرمانیوں پر انھوں نے باربار کیے ہیں اور جن سے تورات بھری پڑی ہے۔ یہود کو حضرت موسیٰؑ کی نبوت میں کوئی شبہ نہیں تھا۔ انھیں اچھی طرح علم تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن اس کے باوجود محض اپنی پست ہمتی، دنیا طلبی اور دناء ت کے سبب سے، یہ جانتے ہوئے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں، ان کی برابر نافرمانی کرتے رہے۔ ’فَلَمَّا زَاغُوْا أَزَاغَ اللہُ قُلُوْبَہُمْ‘۔ یہ وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ نے، اپنی سنت کے مطابق، ان کو دی کہ باربار کی تنبیہ و تذکیر کے بعد بھی انھوں نے اپنے دل کے رخ کو سیدھا نہیں کیا تو اللہ نے ان کے دل کو اسی رخ پر کج کر دیا جس کو انھوں نے اپنے لیے پسند کیا۔ انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ آدمی اسے جس رخ پر لگائے اسی رخ پر لگ جاتی ہے۔ اگر اس کو آپ عقل و فطرت کے خلاف کسی غلط رخ پر موڑیں گے تو وہ شروع شروع میں اس پر مڑنے سے اِباء کرے گی لیکن آپ اسے موڑنے پر بضد رہیں گے تو بالآخر اسی سانچہ پر وہ ڈھل جائے گی۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی: ہدایت و ضلالت کے معاملے میں انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس کی طبیعت کے اسی اصول کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ کسی کو ہدایت پر مجبور کرتا نہ ضلالت پر۔ اس نے انسان کے اندر نیکی اور بدی کا شعور دے کر اسے آزادی بخشی ہے کہ چاہے وہ نیکی کی راہ اختیار کرے یا بدی کی۔ اگر وہ نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس کو اس کی توفیق ارزانی فرماتا ہے اور اگر وہ بدی کی راہ پر جانا چاہتا ہے تو وہ اس کو اس کی ڈھیل بھی دے دیتا ہے، اگر چاہتا ہے۔ ’وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ نہیں ہے کہ کوئی پسند تو کرے ضلالت لیکن وہ اس کے اندر زبردستی ہدایت ٹھونسے۔ ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اس کی قدر کرتا اور اس کا طالب بنتا ہے۔ یہ ان منافقین کو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تم بھی یہود کی اسی روش کی پیروی کرو گے تو تمہارے دل بھی اسی طرح کج کر دیے جائیں گے جس طرح ان کے دل کج کر دیے گئے۔ پھر تم ہمیشہ غلط رخ ہی پر چلو گے، صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاؤ گے۔
    اور یاد کرو جب کہ کہا عیسیٰ بن مریم نے، اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، مصداق ہوں تورات کی ان پیشین گوئیوں کا جو مجھ سے پہلے سے موجود ہیں اور خوش خبری دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہو گا؛ تو جب وہ آیا ان کے پاس کھلی نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
    دل کی کجی کے اثرات جو بعد میں ظاہر ہوئے: اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ان کے دل کی ہی کجی کا اثر ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے سے بھی محروم رہے اور جس آخری رسول کی بشارت آنجنابؑ نے دی اس کی تکذیب کے لیے بھی آج رات دن خاک بازی میں مصروف ہیں حالانکہ ان کی تمام مخالفتوں کے علی الرغم اللہ کا یہ نور کامل ہو کر رہے گا، نہ یہ اس کا کچھ بگاڑ سکیں گے نہ مشرکین قریش۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں۔ ان کے ذکر سے مقصود یہ دکھانا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل نے جو سلوک کیا اور اس کی پاداش میں ان پر جو لعنت ہوئی، اس کا اثر بد ان پر آخر تک مسلط رہا یہاں تک کہ اسی کے نتیجہ میں انھوں نے حضرت مسیحؑ کی بھی تکذیب کی اور اب اسلام کی جو مخالفت کر رہے ہیں یہ بھی اسی کا اثر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بیماری ایسی جان لیوا ہے کہ ایک مرتبہ لگ گئی تو پھر اس سے جان چھڑانا ناممکن ہے۔ سلامتی اسی میں ہے کہ اس کی چھوت نہ لگنے دی جائے۔ ’مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ‘۔ یہ بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی رسالت کی دلیل کے طور پر فرمائی کہ میرے ظہور سے ان پیشین گوئیوں کی تصدیق ہوئی ہے جو میرے باب میں تورات کے صحیفوں میں موجود ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سب سے زیادہ واضح بشارت تو ان کے پیش رو حضرت یحییٰؑ نے دی۔ انھوں نے اپنا خاص مشن ہی یہ بتایا کہ وہ اپنے بعد آنے والے کی خوش خبری دینے آئے ہیں۔ اپنی اسی بشارت کے ضمن میں انھوں نے ان پیشین گوئیوں کا بھی حوالہ دیا جو حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں پہلے سے موجود تھیں اور جن کی بنا پر لوگوں کو ایک نبی کی بعثت کا انتظار تھا۔ یہ ساری چیزیں اپنے محل میں بیان ہو چکی ہیں۔ یہاں اعادے کی گنجائش نہیں ہے۔ ’مُصَدِّقًا لِّمَا‘ کا صحیح مفہوم: ’مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْْنَ یَدَیَّ‘ کے لغوی مفہوم پر اس کے محل میں مفصل بحث ہو چکی ہے۔ جو لوگ اس کے معنی یہ لیتے ہیں کہ ’میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں‘ انھوں نے نہ تو اس کلام کا موقع و محل سمجھا ہے نہ ’مُصَدِّقًا‘ کا صحیح مفہوم وہ متعین کر سکے ہیں۔ حضرت مسیحؑ نے یہ بات اپنے کو مومن بالتوراۃ ظاہر کرنے کے لیے نہیں فرمائی ہے بلکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اپنی نبوت و رسالت کی دلیل کے طور پر فرمائی ہے، اور قرآن میں جہاں بھی یہ لفظ آیا ہے اسی سیاق میں آیا ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ بات بالکل لا حاصل ہے کہ میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اگر انھوں نے تورات کی تصدیق فرمائی تو اس سے جو بات ثابت ہوئی وہ صرف یہ ہے کہ وہ تورات پر ایمان رکھتے تھے لیکن اس سے ان کی نبوت و رسالت کس طرح ثابت ہو جائے گی؟ پھر یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ تورات کے ہر حصہ کی تصدیق نہ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمائی ہے نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی اس کی تحریفات سے پردہ اٹھایا ہے اور قرآن نے بھی۔ بلکہ قرآن نے تو اس کے اچھی طرح بخیے ادھیڑے ہیں۔ آنحضرتؐ کے باب میں حضرت مسیحؑ کی پیشین گوئیوں کی اہمیت: ’وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَأْتِیْ مِنۡ بَعْدِی اسْمُہٗٓ أَحْمَدُ‘۔ یعنی ساتھ ہی حضرت مسیحؑ نے اپنا مشن بھی بتایا کہ میں ایک رسول کی خوش خبری دینے آیا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہو گا۔ جہاں تک اس رسول کی پیشین گوئی کا تعلق ہے وہ تو سیدنا ابراہیمؑ کے زمانے سے چلی آ رہی ہے جس کا ذکر اگلی سورہ میں بھی آ رہا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے بعد حضرت موسیٰؑ نے بھی اس رسول کی خوش خبری دی۔ بعض دوسرے انبیاء سے بھی تورات کے مختلف صحیفوں میں پیشین گوئیاں موجود ہیں اور اہل کتاب ان کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مانیں یا نہ مانیں لیکن ایک غیرجانب دار ذہن یہ ماننے پر مجبور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور پر وہ منطبق نہیں ہو سکتیں۔ الغرض جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا تعلق ہے اس میں حضرت مسیح علیہ السلام منفرد نہیں ہیں لیکن آنجنابؐ کی بشارت تین پہلوؤں سے دوسری سابق بشارتوں سے بالکل مختلف ہے۔ ایک یہ کہ آپ نے اس بشارت کو اپنا ایک ضمنی کام نہیں بلکہ اپنی بعثت کا خاص مقصد اور مشن بتایا ہے۔ دوسرا یہ کہ آپ نے اس کے ظہور کا زمانہ بھی بالکل قطعی طور پر متعین کر دیا ہے۔ تیسرا یہ کہ آپ نے یہ بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کی تصریح کے ساتھ دی ہے۔ یہ تینوں پہلو خاصے اہم ہیں، اس وجہ سے ہم بالاختصار ان پر یہاں گفتگو کریں گے۔ انجیل کے انجیل سے موسوم ہونے کی حکمت: پہلی بات یعنی حضرت مسیحؑ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت پر مامور ہونا ان کے الفاظ ’مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ‘ سے بھی واضح ہے لیکن اس سے بڑی دلیل خود اس صحیفہ کا نام ہے جو ان پر نازل ہوا۔ لفظ ’انجیل‘ بلااختلاف یونانی ہے جس کے معنی مسلم طور پر ’بشارت‘ کے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ تمام آسمانی صحیفوں میں یہی صحیفہ خاص طور پر اس لفظ سے کیوں موسوم ہوا؟ عیسائی ممکن ہے نجات سے متعلق اپنے من گھڑت عقیدے کی بنا پر اس کی توجیہ یہ کریں کہ یہ بنی آدم کے لیے نجات کی بشارت ہے، لیکن یہ توجیہ بالکل طفلانہ ہے۔ نجات سے متعلق جو عقیدہ پال نے گھڑا ہے اس کی کوئی الٹی سیدھی دلیل پال کے لایعنی علم کلام میں ہو تو ہو لیکن ان انجیلوں میں اس کی کوئی کمزور سے کمزور دلیل بھی نہیں ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا مشن جس طرح بشارت رہا ہے اسی طرح، بلکہ کسرے زائد، انذار بھی رہا ہے اور یہ دونوں فرض جس طرح ہر نبی نے انجام دیے اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجام دیے۔ انھوں نے ایمان لانے والوں کو فوز و فلاح کی بشارت بھی دی اور کفر کرنے والوں کو دوزخ سے ڈرایا بھی، پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ ان کے صحیفہ کا نام مخصوص طور پر بشارت (انجیل) ہی ہوتا۔ البتہ اس نام سے موسوم ہونے کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا امتیازی وصف اور خاص مشن تھا ہی یہ کہ وہ اپنے بعد آنے والے آخری رسول کی بشارت دیں۔ اس مشن پر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کر کے بھیجے گئے تھے۔ اس وجہ سے ان کے صحیفہ کا نام ہی بشارت (انجیل) ہوا کہ نام ہی سے آپ کے مشن کا اظہار ہو اور یہ نام قیامت کے دن عیسائیوں پر حجت بنے کہ جس کی بشارت دینے پر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوئے اس پر ایمان لانے سے خود محروم رہے اور سیدنا مسیح علیہ السلام کی کنواریوں والی تمثیل ان پر صادق آئی کہ رات بھر تو وہ شمعیں جلائے دولہا کا انتظار کرتی رہیں لیکن جب دولہا کے آنے کا وقت ہوا تو ان کی کپیوں کا تیل ختم ہو گیا اور وہ سو رہیں۔ انجیلوں کا تدبر سے مطالعہ کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کا خاص مضمون آسمانی بادشاہت کی بشارت ہے۔ مختلف اسلوبوں، پیرایوں اور گوناگوں تمثیلوں سے یہی مضمون ان میں باربار آتا ہے۔ اس آسمانی بادشاہی کی جو خصوصیات بیان ہوئی ہیں، اس کے تدریجی نشوونما کا جو تصور دیا گیا ہے، اس میں داخل ہونے والوں اور اس سے محروم رہنے والوں کے جو اوصاف مذکور ہوئے ہیں اگر ان پر اچھی طرح غور کیجیے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ یہ درحقیقت اس نبوت کی بشارت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی شکل میں ظاہر ہوئی اور اس نظام صالح کی خوش خبری ہے جس کی برکتیں صحابہؓ کے ہاتھوں زمین پر پھیلیں۔ یہاں اس مسئلہ کی وضاحت کا موقع نہیں ہے ورنہ میں مثالیں دے کر اپنا نقطۂ نظر اچھی طرح واضح کر دیتا۔ تاہم مجھے امید ہے کہ جو لوگ انجیلوں پر اس پہلو سے غور کریں گے وہ میری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ ان کا اصل مضمون اس آسمانی بادشاہی کی بشارت ہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے قائم ہوئی۔ یہ پیشین گوئی تعین زمانہ کے ساتھ ہے: اس پیشین گوئی میں زمانے کے تعین کی بات بھی اس کی اہمیت کو بہت بڑھا دیتی ہے۔ اس سے پہلے جتنی پیشین گوئیاں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے انبیاء علیہم السلام کے باب میں وارد ہوئیں ان میں سے کسی میں بھی اس تصریح کے ساتھ زمانے کا تعین نہیں ہے بلکہ سب ایک غیر معین مستقبل سے تعلق رکھنے والی ہیں۔ لیکن اس پیشن گوئی میں یہ تصریح ہے کہ وہ رسول آپ کے بعد آئے گا اور آپ اس کی بشارت دینے اور اس آنے والے کی راہ صاف کرنے آئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ سیدنا مسیحؑ کے بعد وہ کون شخصیت اس پوری دنیا میں ظاہر ہوئی ہے جس پر وہ صفات یا وہ تمثیلات منطبق ہو سکیں جو آنجنابؑ نے اس کے باب میں یا اس کے ہاتھوں قائم ہونے والے نظام سے متعلق فرمائی ہیں؟ ضد اور ہٹ دھرمی کی بات اور ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کے جواب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کا نام نہیں لیا جا سکتا۔ اگر عیسائی یہ نام نہیں لینا چاہتے تو پھر انھیں انجیلوں سے بھی دست بردار ہو جانا چاہیے۔ آخر وہ کب تک ایک ایسی بشارت دیتے رہیں گے جس کا کوئی مصداق دو ہزار سال میں ظاہر نہیں ہوا۔ نام کی تصریح کے ساتھ بشارت: مسئلہ کا تیسرا پہلو بھی نہایت اہم بلکہ سب سے زیادہ اہم ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت نام کی تصریح کے ساتھ دی ہے۔ نام کی صراحت کے ساتھ اس پیشین گوئی کا ظہور میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس میں کسی قسم کا خِفا نہ رہے بلکہ ہر چیز اس طرح کھل کر سامنے آ جائے کہ جو لوگ اس کا انکار کریں ان کی ہٹ دھرمی بالکل بے نقاب اور ان پر اللہ کی حجت اچھی طرح قائم ہو جائے۔ ناموں کی تحریف میں اہل کتاب کی جسارت: لیکن ناموں کے اوپر تحریف کرنے والوں نے جو قیامت ڈھائی ہے وہ سب سے زیادہ دردناک ہے۔ انھوں نے یا تو ان ناموں کا حلیہ اس طرح بگاڑا کہ ان کی اصل صورت معلوم کرنے کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہ جائے یا ان کا ترجمہ اور پھر ترجمہ در ترجمہ کر کے ان کو حقیقت سے اتنا دور کر دیا کہ ان کی تحقیق کی کاوش جوئے شیر لانے کے مترادف بن گئی۔ اس کی مثال کے لیے ہم ’’مروہ‘‘ اور ’’بکہ‘‘ کو پیش کرتے ہیں۔ یہ دونوں نام تورات میں آئے ہیں۔ مروہ وہ قربان گاہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کی اور بکہ (مکہ) وہ مقام ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بسایا اور جن کی ذریت سے ایک رسول کی بعثت کی دعا فرمائی۔ چونکہ یہود یہ بات کسی قیمت پر گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ حضرت ابراہیمؑ کا کوئی تعلق مکہ سے ثابت ہو سکے یا یہ کہ قربان ہونے والا فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو قرار دیا جا سکے اس وجہ سے انھوں نے نہایت سفاکی کے ساتھ ہر اس نشان کو تورات سے کھرچ کھرچ کر مٹایا جس کو انھوں نے اپنی خواہش کے خلاف پایا۔ چنانچہ ’’مروہ‘‘ کو ان کے علماء اور قاریوں نے زبان کے توڑ مروڑ سے مُورہ، مُوریا، مُریا اور نہ جانے کیا کیا بنایا۔ اسی طرح ’بکہ‘ کو ’بکاء‘ بنایا اور پھر اس کو ’وادئ بکار‘ کا نام دے کر مترجموں نے اس کا ترجمہ ’وادئ گریہ‘ کر دیا حالانکہ بکہ اور مکہ دونوں ایک ہی چیز ہے۔ اس کی تحقیق اس کتاب میں اس کے محل میں گزر چکی ہے۔؂۱ ان دو مثالوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تورات اور انجیل میں ان ناموں پر کیا گزری ہے جن کو یہودیوں یا عیسائیوں نے اپنے مقصد کے خلاف پایا ہے۔ خاص طور پر ’احمد‘ یا ’محمد‘ تو ایسے نام ہیں کہ ان کا کوئی حرف بھی وہ گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتے تھے۔ چنانچہ انجیلوں سے یہ بات تو صاف معلوم ہوتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے نام کی تصریح کے ساتھ حضورؐ کی بعثت کی بشارت دی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ عیسائی علماء نے اس نام پر پردہ ڈالنے میں وہ کمال فن دکھایا ہے کہ یہود کے سوا کوئی اور اس کمال میں ان کا حریف نہیں ہو سکتا۔ پہلے ہم انجیل یوحنا سے وہ حوالے نقل کرتے ہیں جن میں حضورؐ کی بشارت دی گئی ہے، اس کے بعد ان کے خاص خاص پہلوؤں کی طرف توجہ دلائیں گے۔ سیدنا مسیحؑ فرماتے ہیں:’’اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ یعنی سچائی کا روح۔‘‘ (یوحنا۔ باب ۱۴: ۱۶-۱۷) ’’لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔‘‘ (یوحنا۔ باب ۱۴: ۲۶) ’’اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔‘‘ (یوحنا۔ باب ۱۴: ۳۰) ’’لیکن جب وہ مددگار آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا۔‘‘ (یوحنا۔ باب ۱۵: ۲۶) ’’لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں گا تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا۔‘‘ (یوحنا۔ باب ۱۶: ۷) ’’مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔‘‘ (یوحنا۔ باب ۱۶: ۱۲-۱۳) یہ حوالے ہم نے انجیل یوحنا سے لیے ہیں جو عیسائیوں کے تمام فرقوں کے نزدیک مسلم ہے۔ انجیل برناباس میں حضورؐ کی بشارت آپ کے نام نامی ’محمد‘ کی تصریح کے ساتھ باربار وارد ہوئی ہے لیکن اس کے حوالے ہم اس لیے نہیں دے رہے ہیں کہ موجودہ عیسائی، جو پال کے پیرو ہیں، اس کو مستند نہیں مانتے۔ مذکورہ بالا حوالوں پر غور کیجیے تو چند باتیں بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ایسی واضح صفات کے ساتھ دی ہے کہ وہ حضورؐ کے سوا کسی دوسرے پر منطبق نہیں ہو سکتیں۔ مثلاً’’وہ تمہیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔‘‘ ’’وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا۔‘‘ ’’دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔‘‘ غور کیجیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کون ہے جس کو ان صفات کا مصداق قرار دیا جا سکے؟ دوسری یہ کہ ان پیشین گوئیوں کے پیش و عقب میں اگرچہ ایسے بے جوڑ فقرے اور الفاظ گھسانے کی کوشش کی گئی ہے جن سے ان کے مطلب کو خبط کیا جا سکے لیکن اس کوشش میں تحریف کرنے والوں کو کامیابی نہیں ہوئی ہے بلکہ ان فقروں کا بے ربط ہونا بالکل نمایاں ہے۔ تیسری یہ کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کوئی معین لفظ فرمایا جس کو بعد کے مترجموں اور شارحوں نے اپنی تحریف کا خاص طور پر ہدف بنایا اور اپنا پورا زور لگایا ہے کہ اس کو جس حد تک اس کے صحیح مفہوم سے دور کر سکیں کر دیں۔ کسی نے اس کا ترجمہ ’مددگار‘ کیا ہے۔ کسی نے ’وکیل‘ کسی نے شفیع، کسی نے ’سچائی کی روح‘۔ رہا یہ کہ وہ لفظ کیا ہے تو یوحنا میں جو یونانی لفظ استعمال ہوا ہے وہ (PARACLETUS) بتایا جاتا ہے، جس کے معنی بیان کرنے میں وہ موشگافیاں کی گئی ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔ یہ یونانی لفظ ظاہر ہے کہ کسی سریانی لفظ کا ترجمہ ہو گا اس لیے کہ انجیل کی اصل زبان سریانی تھی تو اب اس کی تحقیق کون کرے کہ وہ کیا تھی۔ جب ایک لفظ کو گم کرنے کی جدوجہد میں صدیوں سے ایک پوری قوم کی قوم لگی ہو تو اس کا سراغ لگانا کس کے امکان میں ہے! یہ تو قرآن کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس کا کچھ سراغ دیا۔ بعض مسلمان مورخین کی تحقیق یہ ہے کہ اصل سریانی لفظ ’منحمنا‘ ہے جس کے معنی سریانی میں وہی ہیں جو ’محمّد‘ اور ’احمد‘ کے ہیں۔ یہود کی شقاوت: ’فَلَمَّا جَآءَ ہُم بِالْبَیِّنَاتِ قَالُوْا ہَذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ‘۔ ’جَآءَ‘ کے فاعل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ یعنی وہ سابق پیشین گوئیوں کے مصداق اور اپنے بعد آنے والے رسول خاتم کے مبشر بن کر، نہایت کھلے ہوئے معجزات کے ساتھ، جب آئے تو یہود کے دل اس طرح کج ہو چکے تھے کہ انھوں نے آپ کے تمام معجزات کو جادو قرار دیا اور آپ کی تکذیب کر دی۔ انجیل میں تصریح ہے کہ یہود نے آپ کے معجزات کو جادو کا کرشمہ بھی قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ یہ جو کچھ دکھاتے ہیں اس میں روح القدس کی تائید کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ ان کو ایک بھوت، بعلزبول کی مدد حاصل ہے۔ بعض لوگوں نے ’جَآءَ‘ کا فاعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دیا ہے لیکن یہ سیاق و سباق کے بالکل خلاف ہے۔ ایک دقیق پہلو: یہاں اس فرق کو بھی ملحوظ رکھیے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام کے انداز خطاب میں نمایاں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو بنی اسرائیل کو ’یٰقَوْمِ‘ سے مخاطب کیا لیکن حضرت مسیحؑ نے ان کو ’یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ‘ سے مخاطب کیا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ قومی تعلق نہ آپ کا بنی اسرائیل سے تھا نہ کسی اور قوم سے، بلکہ آپ عیسیٰ بن مریم تھے۔ قرآن نے خطاب کے ان باریک پہلوؤں کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ _____ ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد اول، صفحات ۷۴۷-۷۴۸۔
    اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ تہمت باندھے درآنحالیکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو! اور اللہ ظالموں کو راہ یاب نہیں کرتا۔
    یہ یہود کی بدقسمتی پر اظہار افسوس ہے کہ اپنی جس کجی کے سبب سے انھوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تکذیب کی اسی کجی نے اب ان کو اسلام کی مخالفت پر ابھارا ہے۔ فرمایا کہ ان سے بڑھ کر اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا کون ہو سکتا ہے جن کو اسلام کی دعوت دی جا رہی ہو اور وہ اسلام کی مخالفت کے بہانے پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر طرح طرح کے جھوٹ گھڑ رہے ہوں۔ یہود کے من گھڑت دعوے: ’اِفْتَرٰی عَلَی اللہِ الْکَذِبَ‘ سے ان باتوں کی طرف اشارہ ہے جو انھوں نے اپنی بزرگی و برتری ثابت کرنے کے لیے اپنی شان میں گھڑ رکھی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ہم ایک برگزیدہ اور خدا کی منظور نظر امت ہیں، ہم کسی ایسے نبی کی ہدایت کے محتاج کس طرح ہو سکتے ہیں جو امیوں کے اندر پیدا ہوا ہو؟ نبوت و رسالت کے لیے تو ہمیشہ سے اسرائیل کا گھرانا مخصوص رہا ہے، اس سے باہر کوئی نبی کس طرح پیدا ہو سکتا ہے؟ اسی ضمن میں یہ بات بھی انھوں نے گھڑ رکھی تھی کہ ہمیں تو یہ ہدایت ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کے دعوائے نبوت کی تصدیق ہی نہ کریں جس کی پیش کی ہوئی قربانی کو کھانے کے لیے آسمان سے آگ نہ اترے۔ قرآن نے سورۂ بقرہ میں ان تمام من گھڑت باتوں کی تردید فرمائی کہ یہ سب افتراء ہے، اللہ نے کہیں بھی اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی ہے۔ انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں فرمایا کہ کتنے محروم القسمت ہیں وہ لوگ جن کو اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے اور وہ خود اپنی آنکھوں میں اپنی ہی گھڑی ہوئی خرافات کی دھول جھونک رہے ہیں۔ ’وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ‘۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف پھر اشارہ فرما دیا جو آیت ۵ میں بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا جو خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو ان پر یہ احسان فرمایا کہ آنے والے نبی کے باب میں جان کو پہلے سے رہنمائی دی کہ یہ اسے خود بھی پہچانیں اور دوسروں کو بھی پہچنوائیں لیکن جب انھوں نے اس احسان کی یہ قدر کی کہ اللہ کے بتائے ہوئے نشانات خود مٹا رہے ہیں تو ایسے شامت زدوں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔
    وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کامل کر کے رہے گا ان کافروں کے علی الرغم۔
    یہود کی سعئ لاحاصل کی تمثیل: یہ اس سعئ لاحاصل کی تمثیل ہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی ہدایت کو اپنی من گھڑت باتوں اور اپنی ایجاد کردہ بدعات سے دبانے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے کہ سورج یا چاند کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھانے کی کوشش کی جائے۔ فرمایا کہ ان کی یہ کوشش لاحاصل رہے گی۔ اللہ اپنے اس نور کو کامل کر کے رہے گا۔ یہ بہت جلد ہلال سے بدر بنے گا، اگرچہ یہ چیز کفار پر کتنی گراں گزرے۔
    وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کرے تمام دینوں پر اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔
    غلبۂ اسلام کا واضح اعلان: یہ ’وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ‘ کی وضاحت ہے کہ اسی خدا نے جس نے اپنے نور کو کامل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، اپنی ہدایت اور اپنے دین حق کے ساتھ اپنے رسول کو بھیجا ہے کہ اس دین کو اس سرزمین کے تمام ادیان پر غالب کرے، اور یہ بات لازماً ہو کے رہے گی اگرچہ مشرکین کو یہ کتنی ہی ناگوار گزرے، اور وہ اس کے خلاف کتنا ہی زور لگائیں۔ اوپر والی آیت میں ’وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ‘ فرمایا ہے کہ جو فی الجملہ عام ہے۔ جس میں وہ سب شامل ہیں جو اس دین حق اور اس رسول برحق کے انکار کرنے والے تھے۔ اس آیت میں ’وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ‘ کے الفاظ ہیں جو خاص مشرکین قریش کے لیے ہیں۔ ان دونوں لفظوں نے مل کر ان تمام مخالف طاقتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے جو اس وقت عرب میں اسلام کی مخالفت کر رہی تھیں۔ گویا ان سب کو چیلنج کیا ہے کہ تمہیں جتنا زور لگانا ہے لگا لو لیکن تم اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے۔ اللہ کا قطعی فیصلہ یہی ہے کہ اس رسول کے ذریعہ سے اس کا دین حق اس سرزمین کے تمام ادیان پر غالب آ کے رہے گا۔ چنانچہ یہ بات پوری ہو کر رہی۔ بہت جلد وہ وقت آ گیا کہ پورے عرب کے متعلق یہ اعلان ہو گیا کہ اس سرزمین میں دو دین جمع نہیں ہوں گے بلکہ صرف اللہ کے دین ہی کی حکمرانی ہو گی۔ یہی مضمون سورۂ توبہ میں ان الفاظ میں گزر چکا ہے: یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ہ ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ. (التوبہ ۹: ۳۲-۳۳) ’’وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو کامل کر کے رہے گا، ان کافروں کے علی الرغم۔ وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو سارے دین پر غالب کرے، اگرچہ یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی بری لگے۔‘‘  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List