Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الممتحنۃ (The Examined One, She That Is To Be Examined, Examining Her)

    13 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    پچھلی سورتوں میں منافقین کا اہل کتاب، بالخصوص یہود، سے قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے اور یہ منافقین تھے بھی، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، بیشتر اہل کتاب ہی میں سے۔ اس سورہ میں مشرکین مکہ سے قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے اور خطاب خاص طور پر ان لوگوں سے ہے جو اسلام میں داخل بھی تھے اور دین کی خاطر انھوں نے ہجرت بھی کی تھی لیکن اہل مکہ سے رشتہ و برادری کے جو تعلقات تھے اس کی زنجیریں ابھی انھوں نے نہیں توڑی تھیں اس وجہ سے امتحان کے مواقع پر ان سے ایسی کمزوریاں صادر ہو جاتیں جو ایمان و اخلاص کے منافی ہوتیں۔ گویا نفاق کی بیخ کنی یا تطہیر مومنین جو تمام مسبحات کا مشترک مضمون ہے وہی مضمون اس سورہ کا بھی ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ اس میں روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف ہے جنھوں نے ہجرت تو کی لیکن ہجرت کی اصل ابراہیمی حقیقت ابھی ان پر اچھی طرح واضح نہیں ہوئی تھی۔ ان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوۂ حسنہ کی یاددہانی فرمائی گئی ہے کہ اگر ہجرت کی برکات سے متمتع ہونا چاہتے ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے سابق ماحول سے ہر قسم کا تعلق منقطع کر کے کلیۃً اللہ اور رسول سے وابستہ ہو جاؤ۔

  • الممتحنۃ (The Examined One, She That Is To Be Examined, Examining Her)

    13 آیات | مدنی
    الحشر - الممتحنۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں منافقین کو اُن یہودیوں کے انجام سے سبق لینے کی تلقین فرمائی ہے جن کو وہ شہ دے رہے تھے، اور دوسری سورہ میں کمزور مسلمانوں کو اُن مشرکین کے ساتھ رشتہ و پیوند کے نتائج سے خبردار کیا ہے جو اللہ و رسول کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ دونوں میں خطاب ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الحشر—- کا موضوع منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ وہ اگر آنکھیں رکھتے ہوں تو اُن لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں جن کو وہ ناقابل تسخیر سمجھے بیٹھے تھے، قرآن کی دعوت پر لبیک کہیں اور اللہ کی پاداش سے ڈریں۔

    دوسری سورہ—- الممتحنۃ—- کا موضوع اُن مسلمانوں کو ایمان و اسلام کے تقاضے سمجھانا ہے جو ہجرت کرکے آ تو گئے تھے، مگر ہجرت کی حقیقت ابھی اُن پر واضح نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ امتحان کے موقعوں پر اُن سے ایسی کمزوریاں صادر ہو جاتی تھیں جو اُنھیں منافقین کے قریب لے جاتی تھیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 060 Verse 001 Chapter 060 Verse 002 Chapter 060 Verse 003 Chapter 060 Verse 004 Chapter 060 Verse 005 Chapter 060 Verse 006 Chapter 060 Verse 007
    Click translation to show/hide Commentary
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم ان سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اس حق کا انکار کیا جو تمہارے پاس آیا، وہ رسول کو اور تم کو اس بنا پر جلاوطن کرتے ہیں کہ تم اللہ، اپنے خداوند پر، ایمان لائے! ۔۔۔ اگر تم میری راہ میں جہاد اور میری رضا جوئی کو نکلتے ہو، ان سے رازدارانہ نامہ و پیام کرتے ہوئے، درآں حالیکہ میں جانتا ہوں جو تم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہو، اور جو تم میں سے ایسا کرتے ہیں وہ راہ راست سے بھٹک گئے۔
    مصلحت پرست مسلمان کو تنبیہ: خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن انہی مسلمانوں کی طرف ہے جو ہجرت کے مرحلہ سے گزرنے کے بعد بھی مشرکین مکہ کے ساتھ اپنے سابق خاندانی اور عزیزانہ تعلقات کا لحاظ باقی رکھے ہوئے تھے۔ جب تک مشرکین سے عام جنگ کا حکم نہیں ہوا اس وقت تک تو ان کی اس کمزوری پر پردہ پڑا رہا لیکن جب ان کے عام تعاقب کا حکم ہو گیا تو ان کی یہ کمزوری ظاہر ہونے لگی۔ یہ لوگ اپنے خاندان اور قبیلہ والوں کے خلاف تلوار اٹھانے سے بھی جھجکتے تھے اور قریش کے لیڈروں کو خوش رکھنے کے بھی خواہش مند تھے کہ وہ ان کے عزیزوں کے درپے آزار نہ ہو جائیں۔ اگرچہ ان کی یہ روش نفاق سے زیادہ مصلحت پرستی پر مبنی تھی۔ ان کا گمان تھا کہ اگر انھوں نے اپنے ان مشرک عزیزوں سے اچھے تعلقات باقی رکھے تو ان کے رویے سے متاثر ہو کر وہ ایک دن سچے مسلمان بن جائیں گے۔ لیکن قرآن نے اس مصلحت کو ایمان کے منافی قرار دیا اوران پر واضح فرمایا کہ جس ایمان کے تم مدعی ہو اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں سے رشتۂ موالات نہ رکھو جو اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ لفظ ’عدوّ‘ واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ’فَعُوْل‘ کے وزن پر ہے اور عربی میں یہ وزن دونوں کے لیے یکساں ہے بلکہ اس میں مذکر و مؤنث کا بھی امتیاز نہیں ہے۔ ’تُلْقُوْنَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَاء کُم مِّنَ الْحَقِّ یُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِیَّاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللہِ رَبِّکُمْ‘۔ یہ اوپر والی بات ہی کی وضاحت ہے کہ تم تو ان سے موالات و محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ ان کی یہ دشمنی اس سے واضح ہے کہ جو دین تمہارے پاس آیا اس کا بھی انھوں نے انکار کیا اور رسول کو اور تم کو اس جرم میں جلاوطن کرنے کے درپے ہیں کہ تم اللہ پر جو تمہارا رب ہے، ایمان کیوں لائے۔ ’تُلْقُوْنَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ‘ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جس طرح ’وَلاَ تُلْقُوْا بِأَیْْدِیْکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ‘ (البقرہ ۲: ۱۹۵) ہے۔ اس طرح کے کام نامہ و پیام اور وسائل و وسائط سے انجام پاتے ہیں اس وجہ سے تعبیر مطلب کے لیے یہ اسلوب نہایت موزوں ہے۔ ہم نے اسلوب کی معنویت ملحوظ رکھنے کے لیے ترجمہ ’محبت کی پینگیں بڑھانا‘ کیا ہے۔ ’یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَإِیَّاکُمْ‘ میں حال کا صیغہ صورت حال کو نگاہوں کے سامنے کر دینے کے لیے ہے تا کہ ان لوگوں کو غیرت دلائی جائے جو ایسے بے درد لوگوں سے موالات کے خواہش مند تھے جنھوں نے رسول اور ان کے ساتھیوں کو ان کے وطن سے جلاوطن کیا۔ فرمایا کہ اگر اس کے باوجود تم ان سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہو تو اپنے ایمان و اسلام کا جائزہ لو اس لیے کہ ان کا سارا غصہ تو اسی بات پر ہے کہ تم اللہ پر، جو تمہارا رب ہے، ایمان لائے! ’رَبِّکُمْ‘ یہاں دلیل کے محل میں ہے کہ اللہ ہی جب رب ہے تو وہی ایمان کا حق دار ہوا۔ اگر تم اس پر ایمان لائے تو تم نے اصل حق دار کا حق پہچانا لیکن تمہاری یہی حق شناسی ان کے غضب کا سبب بن گئی ہے۔ ’اَنْ تُؤْمِنُوْا‘ کے اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ ’اَنْ‘ سے پہلے بعض اوقات مضاف محذوف ہو جایا کرتا ہے۔ اگر اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہو گا کہ اس الزام یا اس گناہ پر تمہیں نکال رہے ہیں کہ تم اللہ پر، جو تمہارا پروردگار ہے، ایمان کیوں لائے؟ گویا تمہاری سب سے بڑی نیکی اور سب سے بڑی حق شناسی ان کے نزدیک تمہارا سب سے بڑا گناہ بن گئی ہے۔ ایک اسلوب کی وضاحت: ’اِنْ کُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَاداً فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَاء مَرْضَاتِیْ تُسِرُّوْنَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَاَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَیْْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْ وَمَنْ یَفْعَلْہُ مِنکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ‘۔ اس ٹکڑے کی نحوی تالیف مفسرین پر اچھی طرح واضح نہیں ہوئی اس وجہ سے وہ اس کا مطلب واضح نہ کر سکے۔ پہلے اس کی تالیف نحوی سمجھ لیجیے، پھر ہم اس کا مطلب واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ مفسرین نے عام طور پر ’شرط‘ کا جواب محذوف مانا ہے اور قرینہ سے اس کو معین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میرے نزدیک یہاں ’اِنْ کُنتُمْ‘ اور ’مَنْ یَفْعَلْہُ‘ دونوں شرطوں کا جواب ایک ہی یعنی ’فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ‘ ہے۔ ’تُسِرُّوْنَ‘ ضمیر خطاب سے حال واقع ہوا ہے اور ’اَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَیْْتُمْ وَمَآ أَعْلَنتُمْ‘ جملہ معترضہ کے محل میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم میری راہ میں جہاد اور رضا طلبی کے لیے اس حال میں نکلے کہ تم اپنے دلوں میں اللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ موالات کی خواہش چھپائے ہوئے ہو، درآنحالیکہ میں تمہارے باطن اور ظاہر دونوں کو جانتا ہوں، تو یاد رکھو کہ جو تم میں سے ایسا کریں گے وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔ اللہ کی رضا طلبی اور اس کے دشمنوں سے موالات ایک جگہ نہیں جمع ہو سکتیں: سیدھی راہ سے بھٹک جانے کی وجہ ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کی رضا طلبی اور اللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ دوستی، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ یہ دونوں بیک وقت کسی کے دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اگر اللہ ظاہر و باطن دونوں سے آگاہ نہ ہوتا تب تو اس کو دھوکا دیا جا سکتا تھا لیکن جب وہ ہر ایک کے ظاہر و باطن سے اچھی طرح آگاہ ہے تو اس کو کس طرح دھوکا دیا جا سکتا ہے! جو لوگ اس طرح کی دو متضاد خواہشیں اپنے دلوں میں رکھ کے نکل رہے ہیں انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ شیطان کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ع ایں رہ کہ تو میردی بہ ترکستان است شان نزول سے متعلق ایک نکتہ: اس آیت کے تحت مفسرین نے حضرت حاطب بن بلتعہؓ کا ایک واقعہ، بطور شان نزول، نقل کیا ہے۔ شان نزول سے متعلق ہم مقدمۂ کتاب میں استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی رائے نقل کر چکے ہیں کہ سلف جب کسی آیت کے تعلق سے کوئی واقعہ بطور شان نزول نقل کرتے ہیں تو اس کا مطلب لازماً یہی نہیں ہوا کرتا کہ بعینہٖ وہی واقعہ آیت کے نزول کا سبب ہے بلکہ اس سے ان کا مقصود صرف یہ رہنمائی دینا ہوتا ہے کہ اس آیت میں اس طرح کے واقعات کے لیے بھی حکم موجود ہے۔ اس آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ ایک خاص قسم کی صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔ جس کمزوری کی طرف آیت میں اشارہ ہے بعض لوگوں کے اندر اس کا پایا جانا کچھ عجیب بھی نہیں ہے بلکہ یہ عام بشری کمزوری کا نتیجہ یا، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مصلحت خیر پر بھی مبنی ہو سکتی ہے اور یہاں یہی پہلو، جیسا کہ آگے آیات سے واضح ہو گا، قرین عقل ہے۔ لیکن مصالح کا اصل جاننے والا خدائے علیم و حکیم ہی ہے۔ بسا اوقات آدمی نیک نیتی سے ایک رائے قائم کرتا ہے لیکن اس میں اس کے نفس کی کوئی کمزوری بھی چھپی ہو سکتی ہے جس تک اس کی نظر نہیں پہنچتی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اسی طرح کی کمزوریوں پر متنبہ فرمایا ہے تاکہ اس امت کے ہراول دستہ کا ہر عمل بعد والوں کے لیے نمونہ ہو۔  
    اگر وہ تم کو پا جائیں تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اور تم پر دست درازی بھی کریں گے اور زبان درازی بھی اور چاہیں گے کہ تم کافر ہو جاؤ۔
    کفار کے عناد کا حال: یعنی تم تو ان سے دوستی کے خواہش مند ہو لیکن ان کے دلوں میں تمہارے خلاف ایسا عناد بھرا ہوا ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں قابو پا گئے تو نہ دست درازی سے باز رہیں گے نہ زبان درازی سے بلکہ ان کی پوری کوشش یہ ہو گی کہ تمہیں مرتد کر کے چھوڑیں۔ یہی بات سورۂ توبہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے: ’وَإِنْ یَظْہَرُوْا عَلَیْْکُمْ لاَ یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّۃً‘ (التوبہ ۹: ۸) (اگر وہ تم پر قابو پا گئے تو پھر تمہارے معاملہ میں نہ وہ قرابت کا پاس کریں گے نہ کسی عہد کا)۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ان کی دشمنی من حیث الجماعت ہے اور اس میں وہ اتنے سخت ہیں کہ کسی رشتہ و قرابت یا کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے نہیں ہیں تو ان سے کسی نیکی کی توقع نہ رکھو بلکہ تمہارے لیے بھی صحیح رویہ یہی ہے کہ ان سے موالات کی ہر خواہش سے دست بردار ہو جاؤ۔  
    تمہارے رشتے ناتے اور تمہارے آل و اولاد قیامت کے دن تمہارے کچھ بھی کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ اس دن اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔
    قیامت میں رشتے کام نہیں آئیں گے: ’ارحام‘ یہاں ’قرابات‘ یعنی رشتے ناتے کے مفہوم میں ہے۔ یہ تنبیہ ہے کہ جو لوگ دینی تقاضوں کے مقابل میں اپنے رشتوں ناتوں کو زیادہ اہمیت دیں گے وہ یاد رکھیں کہ یہ چیزیں قیامت میں کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس دن اللہ تعالیٰ اس طرح کے تمام رشتہ داروں کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اس دن کی تصویر یوں کھینچی گئی ہے: وَلَا یَسْأَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا ۵ یُبَصَّرُوْنَہُمْ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤْویْہِ ۵ وَمَن فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنجِیْہِ (المعارج ۷۰: ۱۰-۱۴) ’’اور اس دن کوئی دوست کسی دوست کا پرسان حال نہیں ہو گا۔ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم کی تمنا یہ ہو گی کاش! اس دن کے عذاب سے وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس خاندان کو جو اس کی پناہ گاہ رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے۔‘‘ یہی حقیقت سورۂ عبس میں یوں واضح فرمائی گئی ہے: یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِیْہِ ۵ وَأُمِّہِ وَأَبِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَبَنِیْہِ (عبس ۸۰: ۳۴-۳۶) ’’اس دن کو یاد رکھو جس دن آدمی اپنے بھائی، اپنے ماں باپ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔‘‘ اسی قسم کے مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہی تنبیہ سورۂ توبہ میں یوں فرمائی گئی ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا آبَآءَ کُمْ وَإِخْوَانَکُمْ أَوْلِیَآءَ إَنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الإِیْمَانِ وَمَن یَتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَأُولٰٓئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ ۵ قُلْ إِنۡ کَانَ آبَاؤُکُمْ وَأَبْنَآؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَأَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا أَحَبَّ إِلَیْْکُم مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہِ فَتَرَبَّصُوْا حَتَٰی یَأْتِیَ اللّٰہُ بِأَمْرِہِ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ (التوبہ ۹: ۲۳-۲۴) ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے ہیں اور جو تم میں سے ان کو دوست بنائیں گے تو وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔ کہہ دو، اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا خاندان، تمہارا وہ مال جو تم نے کمایا، وہ کاروبار جس کی کساد بازاری کا تمہیں اندیشہ اور اور وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں۔ تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ اور اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرے گا۔‘‘ آیت زیربحث میں ’یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ اس خوب صورتی سے بیچ میں آیا ہے کہ وہ آگے اور پیچھے آنے والے دونوں فعلوں کا ظرف بن گیا ہے۔ ’وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ‘۔ یہ ایک دوسری تنبیہ ہے کہ اس مغالطہ میں نہ رہو کہ جو کچھ تم چھپا کر کرنے کی کوشش کر رہے ہو یہ اللہ سے بھی چھپا رہے گا۔ اللہ سے کوئی چیز بھی چھپی نہیں رہتی۔ تمہارا ہر عمل اس کی نگاہوں میں ہے۔  
    تمہارے لیے بہترین نمونہ تو ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ہے جب کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان سے، جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، بالکل بری ہیں۔ ہم نے تمہارا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے مابین ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بیزاری آشکارا ہو گئی تاآنکہ تم اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ پر ایمان لاؤ۔ مگر ابراہیم کی اپنے باپ سے اتنی بات کہ میں آپ کے لیے مغفرت مانگوں گا اگرچہ میں آپ کے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔۔۔ اے ہمارے رب، ہم نے تیرے اوپر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔
    اسوۂ ابراہیمی کی پیروی کی تلقین: فرمایا کہ اس معاملے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے تمہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے جدّ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین قابل تقلید نمونہ پہلے سے موجود ہے۔ ’قَدْ کَانَتْ‘ کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ پہلے سے تمہارے سامنے ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ اہل عرب کو اس بات پر ناز تھا کہ وہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی اولاد ہیں۔ انھیں ان کی ہجرت اور قربانی کی روایات کا بھی علم تھا۔ اگرچہ امتداد زمانہ سے ان پر گرد و غبار کی تہیں بھی جم گئی تھیں اور بدعات نے ان کے بعض پہلوؤں کو مسخ بھی کر دیا تھا تاہم یہ بات نہیں تھی کہ وہ ان سے بالکل ہی ناآشنا ہوں، جیسا کہ بعض مورخین نے گمان کیا ہے۔ ’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ہجرت فرمائی ہے تو تنہا نہیں ہجرت فرمائی ہے بلکہ ان کی قوم کے کچھ لوگ جو ان پر ایمان لائے تھے، اس ہجرت میں ان کے ہم رکاب تھے۔ حضرت ابراہیمؑ کا اعلان براء ت: ’اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ ..... الاٰیۃ‘۔ یہ اس اعلان براء ت کا حوالہ ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قوم کے سامنے کیا۔ انھوں نے ڈنکے کی چوٹ ان کو سنایا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے، جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو، بالکل بری ہوئے۔ تمہارے مسلک و مذہب کا ہم نے انکار کیا اور اس اعلان براء ت کے بعد ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت اس وقت تک کے لیے آشکارا ہو گئی جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔ ’وَبَدَا بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ‘۔ یعنی اب تک تو ہم نے تمہارے ساتھ اس لیے رعایت برتی کہ تمہیں دین کی دعوت پہنچا دیں لیکن اب جب کہ تم پر حجت قائم ہو چکی ہے اور تم اپنی ضلالت پر اڑے ہوئے ہو، ہم تم سے اعلان براء ت کر کے الگ ہو رہے ہیں۔ اب تمہارے ساتھ ہمارا تعلق کھلم کھلا عداوت ہی کا رہے گا الاّآنکہ تم اپنے شرک سے تائب ہو کر توحید کی دعوت قبول کر لو۔ ’اِلَّا قَوْلَ إِبْرَاہِیْمَ لِأَبِیْہِ‘۔ عام طور پر ہمارے مفسرین نے سمجھا ہے کہ یہ ’اسوۂ حسنہ‘ سے استثناء ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ اعلان براء ت سے استثناء ہے۔ یعنی اس کھلم کھلا اعلان براء ت میں اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے ساتھ کوئی رعایت برتی تو صرف یہ کہ اپنے باپ سے انھوں نے یہ وعدہ کر لیا کہ میں آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا اگرچہ میں خدا کی طرف سے آپ کے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یعنی ہو گا تو وہی جو اللہ تعالیٰ چاہے گا تاہم میں دعا کروں گا۔ اس رعایت کی وجہ، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، یہ تھی کہ وہ نہایت درد مند اور بردبار تھے، انھوں نے خیال فرمایا کہ اگر وہ اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں تو یہ چیز اس اعلان براء ت کے منافی نہیں ہو گی جو وہ اپنی قوم سے کر رہے ہیں بلکہ یہ اس برّ و احسان کا مقتضیٰ ہے جو ہر بیٹے پر اس کے والدین کا ایک واجبی حق ہے۔ اس وقت تک ان کو یہ اندازہ بھی پورا پورا نہیں تھا کہ دین کے ساتھ باپ کی دشمنی کس درجے کی ہے۔ انھوں نے خیال فرمایا کہ باپ کا سارا غصہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنے زعم کے مطابق اپنے بیٹے کو ایک گمراہی سے بچانا چاہتا ہے لیکن جب ان پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ ان کا باپ اللہ کے دین کا کٹر دشمن ہے تو انھوں نے اس سے کلیۃً اعلان براء ت کر دیا۔ ’وَمَا أَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللہِ مِنۡ شَیْءٍ‘۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے وعدۂ مغفرت کے ساتھ ہی توحید کی اصل حقیقت بھی واضح فرما دی کہ مجھے جو اختیار حاصل ہے صرف اتنا ہی ہے کہ میں تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں۔ رہا تمہارا بخشا جانا یا نہ بخشا جانا تو یہ کلیۃً اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس معاملے میں مجھے کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ کسی کے لیے استغفار اس کے حق میں ایک قسم کی سفارش ہے۔ اس سفارش کے معاملے میں جب حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ جیسے جلیل القدر پیغمبر اپنی اس بے اختیاری کا اظہار فرماتے ہیں تو تابہ دیگراں چہ رسد! مرحلۂ ہجرت کی دعا: ’رَبَّنَا عَلَیْْکَ تَوَکَّلْنَا وَإِلَیْْکَ أَنَبْنَا وَإِلَیْْکَ الْمَصِیْرُ‘۔ اس دعا کا تعلق اعلان براء ت سے ہے۔ بیچ میں ’اِلَّا قَوْلَ إِبْرَاہِیْمَ‘ کا ٹکڑا جملہ معترضہ کے طور پر آ گیا تھا۔ اس کے ختم ہوتے ہی وہ دعا نقل ہوئی ہے جو اس نازک موقع پر حضرت ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ دوسرے مقامات میں ہم اس حقیقت کی وضاحت کر چکے ہیں کہ اعلان براء ت کے بعد لازماً پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کے لیے ہجرت کا مرحلہ آ جاتا ہے۔ یہ مرحلہ نہایت کٹھن ہوتا ہے۔ اپنی پوری قوم سے ابدی دشمنی اور بیزاری کا اعلان کر کے الگ ہو جانا کوئی سہل بازی نہیں ہے اس وجہ سے ہر رسول نے اپنی ہجرت کے وقت اپنا اور اپنے ساتھیوں کا معاملہ اپنے رب کے حوالے کیا ہے۔ ہجرت کے وقت اسی طرح کی دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمائی اور اسی طرح کی دعا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی منقول ہے۔ یہ دعا اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ بندے کا نیک سے نیک ارادہ بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے انجام پاتا ہے اس وجہ سے ہر قدم اسی کی مدد کے بھروسے پر اٹھانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں وہی سرخ رو ہوتے ہیں جن کے دل ہر وقت اس کی طرف جھکے رہتے ہیں اور جن کے اندر یہ یقین راسخ ہوتا ہے کہ بالآخر ان کو ایک دن اپنے رب ہی کی طرف پلٹنا ہے۔
    اے ہمارے رب، ہم کو ان لوگوں کا تختۂ مشق نہ بننے دینا جنھوں نے کفر کیا ہے اور اے ہمارے رب، ہم کو بخش، بے شک تو عزیز و حکیم ہے۔
    یہ بھی اسی دعا کا حصہ ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ ’فِتْنَۃ‘ یہاں ہدف فتنہ کے معنی میں ہے اور اس سے مراد کفار کی وہ اذیتیں ہیں جو مسلمانوں کو وہ پہنچا سکتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو تیری توحید کی غیرت و حمیت میں ان مشرکوں سے اعلان براء ت و عداوت کر دیا۔ اب ان کی طرف سے جو کچھ پیش آئے ہم اس کے لیے سینہ سپر ہیں۔ لیکن ہمارا بھروسہ تیری مدد پر ہے۔ ان کو اتنی ڈھیل نہ دینا کہ وہ ہم کو اپنے مظالم کا تختۂ مشق بنا لیں۔ ’وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا‘۔ اے ہمارے رب ہماری کمزوریوں اور ہمارے گناہوں کو بخش۔ ہمارے گناہ اس بات کا سبب نہ بن جائیں کہ ہمارے دشمن ہمیں کمزور پا کر اپنی ستم رانیوں کا ہدف بنا لیں۔ اس فقرے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی آزمائش پیش آئی تو وہ ہمارے اپنے ہی اعمال کی پاداش میں پیش آئے گی اور تیرے اختیار میں سب کچھ ہے۔ تو ہمارے گناہوں کو بخش دے تو ہم ان کے وبال سے بچ جائیں گے۔ ’إِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ کامل تفویض کا کلمہ ہے۔ تو ہر چیز پر غالب ہے۔ جو چاہے کر سکتا ہے۔ کوئی تیرا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ ساتھ ہی تو حکیم بھی ہے۔ تیرا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے ہم اپنا معاملہ کلیۃً تیرے حوالے کرتے ہیں۔ تو جو کرے گا اسی میں خیر اور اسی میں حکمت و مصلحت ہے۔
    بے شک تمہارے لیے ان لوگوں کے اندر بہترین نمونہ ہے۔ ان کے واسطے جو خدا اور آخرت کے متوقع ہیں۔ اور جو اعراض کریں گے تو یاد رکھیں کہ اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔
    ایک برمحل تنبیہ: یہ ’قَدْ کَانَتْ لَکُمْ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘ سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے اس اعلان براء ت و عداوت میں نمونہ تو بے شک نہایت بہترین ہے لیکن ان کے اس اسوہ کی پیروی کرنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اس کا حوصلہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اللہ کی نصرت کی امید بھی رکھتے ہوں اور آخرت کے ظہور کے بھی متوقع ہوں۔ جن کے اندر یہ دونوں باتیں راسخ نہ ہوں وہ یہ بازی نہیں کھیل سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے گھر در، اموال و املاک، وطن اور قوم ہر چیز سے دست بردار ہو کر اٹھ کھڑے ہونا صرف انہی کے لیے ممکن ہے جو اپنے اس اقدام میں ہر قدم پر خدا کی نصرت کے متوقع ہوں اور جن کا اصل بھروسہ اس دنیا کے مال و متاع پر نہیں بلکہ آخرت کے فضل و انعام پر ہو۔ اس آیت سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو کر سامنے آ گئی کہ ہجرت کی راہ میں اصل زاد راہ کیا ہے اور یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ جن لوگوں سے اس مرحلے میں کمزوریاں صادر ہو رہی تھیں ان کی کمزوریوں کی تہ میں کیا چیز چھپی ہوئی تھی۔ ’وَمَنْ یَتَوَلَّ فَإِنَّ اللہَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ‘۔ یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ فلاح کا راستہ یہی ہے کہ تم ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے اسوہ کی پیروی کرو ورنہ یاد رکھو کہ جو اس سے اعراض کریں گے اللہ کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ سب سے مستغنی اور خود اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ اس کی خدائی دوسروں کے بل پر نہیں بلکہ خود اس کے اپنے بل پر قائم و دائم ہے۔
    توقع ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم نے دشمنی کی، دوستی پیدا کر دے۔ اللہ قدرت والا اور غفور رّحیم ہے۔
    ایک عظیم بشارت: یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے کہ آج اگر تم جی کڑا کر کے اپنے ان اقرباء سے اپنی دشمنی کا اعلان کر دو گے تو یہ نہ خیال کرو کہ یہ دشمنی ہمیشہ ہی رہے گی بلکہ امکان اس کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دشمنی کو محبت سے بدل دے اور جن سے آج تمہیں عداوت کرنی پڑ رہی ہے وہ ایمان و اسلام کی توفیق سے بہرہ مندہ ہو کر تم سے گلے ملیں۔ ’وَاللہُ قَدِیْرٌ وَاللہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ‘۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو جانی دشمنوں کو جگری دوست بنا دے۔ اور اللہ غفور رّحیم ہے۔ وہ لوگوں کو عذاب میں ڈالنے کے بہانے نہیں ڈھونڈتا بلکہ مغفرت و رحمت سے نوازنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ اس کے کٹر سے کٹر دشمنوں سے متعلق بھی یہ گمان نہیں رکھنا چاہیے کہ وہ ہمیشہ دشمن ہی رہیں گے، کیا عجیب اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے لیے بھی توفیق خیر کی راہ کھول دے۔ یہاں ’غَفُورٌ رَّحِیْمٌ‘ کی صفت کے حوالے سے بشارت کا یہ پہلو بھی ہے کہ اب تک جو لوگ اللہ کے ان دشمنوں سے خفیہ روابط رکھتے ہیں اس تنبیہ کے بعد اگر وہ چوکنّے ہو گئے اور اپنی روش کی انھوں نے اصلاح کر لی تو اللہ تعالیٰ غفور رّحیم ہے، وہ ان کی ان کمزوریوں کو معاف کر دے گا۔ ہجرت کا ایک نفسیاتی پہلو: اس آیت میں اہل مکہ کے قبول ایمان کی جو بشارت ہے اس کی ایک خاص نفسیاتی وجہ بھی ہے جو یہاں ملحوظ رکھنے کی ہے۔ وہ یہ کہ جب انھوں نے دیکھا کہ ان کے بہت سے بھائی بہن، عزیز قریب محض دین کی خاطر اپنے گھر در، اپنے اہل و عیال اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر ان سے جدا ہو رہے ہیں درآنحالیکہ یہ لوگ ہر اعتبار سے ان کے اندر کے بہترین اشخاص تھے تو وہ سونچنے لگ گئے کہ اس دعوت کا مقابلہ ظلم و تعدی سے کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ ہمیں خود اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ شاید اسی کتاب میں یا اپنے کسی اور مضمون میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عمرؓ جیسے عظیم شخص کو جس چیز نے سب سے پہلے اسلام کی طرف مائل کیا وہ کچھ مظلوم مردوں اور عورتوں کی حبشہ کی طرف ہجرت ہے۔ ہجرت کا یہ اثر ہر حساس مرد اور عورت پر پڑنا لازمی تھا چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد قبول اسلام کی رفتار بہت تیز ہو گئی۔ اس عمل کو اپنی فطری رفتار پر قائم رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ مہاجرین میں سے کوئی گروہ اہل مکہ کے آگے اپنی کمزوری کا اظہار نہ کرتا۔ اگر ان کی طرف سے کسی کمزوری کا اظہار ہوتا تو اہل مکہ یہ خیال کرتے کہ مسلمان ہجرت تو کر گئے لیکن اب وہ اپنے اقدام پر پچھتا رہے ہیں اور ہم سے دوستانہ و نیاز مندانہ روابط قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ چیز ان کے اندر بھی اسلام کے احساس کو دبا دیتی اور مکہ میں گھرے ہوئے دوسرے مظلوم مسلمانوں کے حوصلے بھی پست کر دیتی۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کمزوری پر شدت سے گرفت کی اور لوگوں کو متنبہ کیا کہ دین کے دشمنوں کے ساتھ روابط نہ بڑھاؤ۔ آج اگر کفر میں لتھڑے ہوئے لوگوں کو سینے سے لگاؤ گے تو یہ تمہارے لیے موجب ہلاکت ہوں گے۔ البتہ اگر ان سے دشمنی پر جمے رہے تو توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو مسلمان بنا کر تمہارا دوست بنائے۔ چنانچہ یہ بشارت اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی اور فتح مکہ کے وقت خلق نے ’یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللَّہِ أَفْوَاجًا‘ (النصر ۱۱۰: ۲) کا منظر اپنی آنکھوں دیکھ لیا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List