Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المجادلۃ (The Pleading, She That Disputeth, The Pleading Woman)

    22 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ کا خاتمہ اہل کتاب کے اس اعتراض کے جواب پر ہوا ہے جو انھوں نے جہاد کے خلاف اٹھایا۔ اس اعتراض سے تعرض کی ضرورت ظاہر ہے کہ اس وجہ سے پیش آئی کہ مخالفین کے یہ اعتراضات منافقین اٹھا لیتے اور پھر ان کو چپکے چپکے مسلمانوں کے اندر پھیلانا شروع کر دیتے کہ ان کے عقیدہ کو متزلزل اور ان کے جوش جہاد کو سرد کریں۔ اس سورہ کے زمانۂ نزول میں معلوم ہوتا ہے کہ منافقین کی یہ سرگرمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ یہ صورت حال داعی ہوئی کہ اس خفیہ پراپیگنڈہ کا سدباب کیا جائے چنانچہ اس سورہ میں منافقین کی اس طرح کی حرکتوں پر نہایت شدت کے ساتھ گرفت بھی کی گئی اور اس کے سدباب کے لیے بعض ضروری تدبیریں اختیار کرنے کی بھی مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی۔ ساتھ ہی ایک نہایت مؤثر عملی مثال سے یہ سبق بھی لوگوں کو دیا گیا کہ اگر کسی کو اسلام کے سبب سے زندگی میں کوئی مشکل پیش آئے تو اس کو نہایت خلوص کے ساتھ اللہ و رسول کے سامنے عرض کرے۔ امید ہے کہ اس کی مشکل حل ہونے کی کوئی راہ اللہ تعالیٰ کھول دے گا۔ رہے وہ لوگ جو کسی فرضی یا واقعی مشکل کو بہانہ بنا کر اسلام کے خلاف پراپیگنڈے کی مہم شروع کر دیتے ہیں وہ درحقیقت اللہ اور رسول کے خلاف محاذ جنگ کھولنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ یاد رکھیں کہ وہ ذلیل ہو کے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ غلبہ اور سرفرازی صرف اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے ہے۔

  • المجادلۃ (The Pleading, She That Disputeth, The Pleading Woman)

    22 آیات | مدنی
    الحدید ——- المجادلۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس جہاد و انفاق کے لیے ابھارا ہے، دوسری میں اُسی کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے منافقین کو اُن کے رویے پر سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الحدید—- کا موضوع مسلمانوں کو سابقین اولین کے مرتبے تک پہنچنے کے لیے جہاد و انفاق کی ترغیب اور اُن لوگوں کو تنبیہ و تلقین ہے جو ایمان کے تقاضوں سے پوری طرح آشنا نہ ہونے کی وجہ سے اسلام کے اِن مطالبات کو پورا کرنے سے گریزاں تھے۔

    دوسری سورہ—- المجادلۃ—- کا موضوع ایمان و اسلام کے تقاضوں کی وضاحت، منافقین کو تہدیدووعید اور اُن کے اُس پروپیگنڈے کا سدباب ہے جو وہ مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل اور اُن کے جوش جہاد کو سرد کرنے کے لیے کر رہے تھے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 058 Verse 001 Chapter 058 Verse 002 Chapter 058 Verse 003 Chapter 058 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو تم سے جھگڑتی تھی اپنے شوہر کے بارے میں اور شکوہ کر رہی تھی اللہ سے اور اللہ سن رہا تھا تم دونوں کی گفتگو۔ اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
    ’سننا‘ قبول کرنے کے معنی میں: ’قَدْ سَمِعَ اللہُ‘ کے معنی، موقع کلام دلیل ہے کہ یہاں، صرف سن لینے کے نہیں بلکہ قبول کر لینے کے ہیں۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے اور عربی زبان میں بھی معروف ہے۔ بلکہ ہماری زبان میں بھی ’سننا‘ قبول کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ’تُجَادِلُکَ‘ سے پہلے عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جن خاتون کا واقعہ یہاں مذکور ہے ان کو اپنا معاملہ پیش کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باربار حاضر ہونا پڑا۔ ’مُجَادلۃ‘ کا مفہوم: ’مُجَادلۃ‘ قرآن میں اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ برے معنی اس کے کٹ حجتی کرنے اور جھگڑنے کے ہیں اور اچھے معنی اس کے کسی سے اپنی بات محبت، اعتماد، حسن گزارش، تدلل اور اصرار کے ساتھ منوانے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اس میں جھگڑنا تو بظاہر ہوتا ہے لیکن یہ جھگڑنا محبت اور اعتماد کے ساتھ ہوتا ہے جس طرح چھوٹے اپنی کوئی بات اپنے کسی بڑے سے، اس کی شفقت پر اعتماد کر کے منوانے کے لیے جھگڑتے ہیں۔ اس مجادلۂ محبت کی بہترین مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وہ مجادلہ ہے جو انھوں نے قوم لوط کے باب میں اپنے رب سے کیا ہے اور جس کی اللہ تعالیٰ نے نہایت تعریف فرمائی ہے۔ اس کی تفصیل ہم اس کے محل میں پیش کر چکے ہیں۔ یہاں ان خاتون کے جس مجادلہ کی طرف اشارہ ہے اس کی نوعیت بالکل یہی ہے۔ اردو میں اس کا مفہوم ادا کرنے کے لیے کوئی موزوں لفظ سمجھ میں نہیں آیا اس وجہ سے میں نے ترجمہ جھگڑنا ہی کیا ہے لیکن یہ جھگڑنا خاص مفہوم میں ہے اور اس مفہوم میں یہ لفظ اردو میں بھی مستعمل ہے بشرطیکہ آدمی موقع و محل کو ملحوظ رکھ سکے۔ جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس کی نوعیت: آیت میں جن خاتون کی طرف اشارہ ہے روایات میں ان کا نام خولہ بنت ثعلبہ آیا ہے۔ ان کے شوہر اوس بن صامت انصاری تھے۔ ایک مرتبہ غصہ میں آ کر وہ بیوی کو کہہ بیٹھے کہ ’اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ امّی‘ (اب تجھ کو کبھی ہاتھ لگایا تو گویا اپنی ماں کی پیٹھ کو ہاتھ لگایا)۔ زمانۂ جاہلیت میں بیوی کو اس طرح کی بات کہہ دینے سے ایسی طلاق پڑ جاتی جس کے بعد بیوی لازماً شوہر سے جدا ہو جاتی۔ اس وجہ سے حضرت خولہ کو سخت پریشانی آئی کہ اس عمر میں شوہر اور بچوں سے جدا ہو کر کہاں جائیں! بالآخر انھوں نے معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا اور باصرار و بالحاح آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کی اس پریشانی کا کوئی حل بتائیں۔ آپ کے سامنے وحئ الٰہی کی کوئی واضح رہنمائی اس بارے میں موجود نہیں تھی اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جواب میں کچھ توقف فرمایا جس کے سبب سے ان کو باربار اپنے معاملے کی طرف حضور کو توجہ دلانی پڑی۔ الفاظ قرآن سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ انھوں نے اس معاملے میں اپنے شوہر کی بھی کچھ مدافعت کی۔ حضرت اوسؓ کے مزاج میں، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے، کچھ تیزی تھی جس کے سبب سے غصہ میں ان کی زبان سے ایک ناروا فقرہ نکل گیا۔ مقصد ہرگز بیوی کو طلاق دینا نہیں تھا اس وجہ سے میاں بیوی دونوں کو سخت پریشانی پیش آئی۔ حضرت خولہؓ نے یہ صورت حال بھی حضورؐ کے سامنے رکھی ہو گی تا کہ یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ یہ فقرہ کہتے ہوئے ان کے شوہر کے ذہن میں طلاق کا کوئی خیال موجود نہ تھا محض اشتعال میں ایک فقرہ بلاقصد ان کی زبان سے نکل گیا۔ ایک سوال کا جواب: ظِہار کا ذکر سورۂ احزاب میں بھی آیا ہے، لیکن بالکل ضمناً، صرف اتنا آیا ہے کہ ’وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَکُمُ اللَّاءِیْ تُظَاہِرُونَ مِنْہُنَّ أُمَّہَاتِکُمْ‘ (الاحزاب ۳۳: ۴) (اور تمہاری وہ بیویاں جن سے تم ظہار کرتے ہو خدا نے ان کو تمہاری مائیں نہیں بنایا ہے) لیکن اول تو یہ ضروری نہیں کہ سورۂ احزاب سورۂ مجادلہ سے پہلے نازل ہوئی ہو۔ دوسرے نازل ہوئی بھی ہو تو اس سے صرف اتنی ہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ظہار سے کسی کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ یہ نہیں واضح ہوتا کہ کوئی شخص یہ حرکت کر بیٹھے تو اس سے اس کے اوپر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس کی تلافی کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس وجہ سے حضورؐ کے سامنے سورۂ احزاب والی آیت رہی بھی ہو جب بھی آپ حضرت خولہؓ کے معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ اسی صورت میں فرما سکتے تھے جب وحئ الٰہی آپ کی رہنمائی فرمائے۔ چنانچہ آپ نے وحئ الٰہی کے انتظار میں توقف فرمایا یہاں تک کہ ان خاتون کے اس شکوہ و مجادلہ کی برکت سے نہ صرف ان کے لیے بلکہ اللہ کے بے شمار بندوں اور بندیوں کے لیے جاہلیت کی ایک بے ہودہ رسم کے عواقب سے چھوٹنے کی ایک نہایت مبارک راہ کھل گئی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرما کر ان کو اور ان کے اس مجادلہ کو زندۂ جاوید بنا دیا اور لوگوں کو سبق دیا کہ جن کو دین کے معاملے میں کوئی مشکل پیش آئے انھیں اس مومنہ خاتون کی طرح اپنی مشکل اپنے رب کے آگے پیش کرنی چاہیے، منافقون کی طرح اس کو نکتہ چینی، سرگوشی اور اللہ و رسول کے خلاف محاذ آرائی (محادّہ) کا بہانہ نہیں بنا لینا چاہیے۔ ہر مشکل کی کلید اللہ تعالیٰ سے استعانت ہے: ’وَاللہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا‘۔ یعنی یہ شکوہ و مجادلہ خاص اللہ تعالیٰ ہی سے تھا اس وجہ سے وہ خاص توجہ و مہربانی سے اس کو سنتا رہا۔ چنانچہ اس نے اپنی اس بندی کی مشکل حل کرنے کی راہ کھول دی۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جو لوگ اپنی کوئی مشکل اپنے رب سے عرض کرتے ہیں وہ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو نہایت توجہ و شفقت سے سنتا ہے۔ وہ سمیع و بصیر ہے اور جب وہ سنتا ہے اور ہر چیز کی قدرت بھی رکھتا ہے تو بندہ اس سے مایوس و بدگمان کیوں ہو! یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ دنیوی و مادی مشکلات کی طرح روحانی و عقلی الجھنوں سے نکلنے کی بھی سب سے زیادہ کامیاب راہ یہی ہے کہ آدمی اس کو اپنے رب کے آگے پیش کرے۔ بسا اوقات کوئی ایسی علمی و عقلی مشکل پیش آ جاتی ہے جس کا حل کچھ سمجھ میں نہیں آتا اور اس سے دین کے معاملے میں شکوک پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں آدمی اگر اپنی مشکل اپنے رب کے آگے پیش کرے اور اس سے ہدایت کا طالب ہو تو ان شاء اللہ اس کو شرح صدر حاصل ہو جائے گا بشرطیکہ آدمی صبر کے ساتھ اپنے رب سے استعانت کرے۔ طالبین حق کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے لیکن جو لوگ سفلہ اور جلد باز ہوتے ہیں وہ یہ راہ اختیار کرنے کے بجائے یا تو اپنے اوہام و شکوک ہی کو دین بنا لیتے ہیں یا ان کو دین پر نکتہ چینی کا ذریعہ بنا کر اس کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جس کا ذکر اسی سورہ میں آگے تفصیل سے آئے گا۔  
    تم میں سے جو اپنی بیویوں سے، ظہار کر بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہوں گی جنھوں نے ان کو جنا ہے۔ البتہ اس طرح کے لوگ ایک نہایت ناگوار اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ اور اللہ درگزر فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔
    ظہار اور اس کا شرعی حکم: اس سلسلہ میں پہلی اصولی بات یہ فرمائی کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو اس طرح کی کوئی بات کہہ بیٹھتے ہیں اس سے ان کی بیویاں ان کی ماؤں کے حکم میں نہیں داخل ہو جاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنا ہے۔ ان کو جو حرمت حاصل ہوئی ہے وہ جننے کے تعلق سے حاصل ہوئی ہے جو ایک فطری اور ابدی حرمت ہے۔ یہ چیز کسی دوسری عورت کو مجرد اس بنیاد پر نہیں حاصل ہو جائے گی کہ ایک شخص نے اس کو یا اس کے کسی عضو کو اپنی ماں یا اس کے کسی عضو سے تشبیہ دے دی۔ اس طرح کی بات کسی نے کہی ہے تواس کی بات بھونڈی اور جھوٹی ہے جس پر وہ تنبیہ و تادیب کا مستحق ضرور ہے لیکن اس سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہو جائے گی۔ ’وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ‘۔ یعنی اس طرح کی منکر اور خلاف حقیقت بات اشتعال میں آ کر کوئی مسلمان اپنے منہ سے نکال بیٹھا پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تو اللہ تعالیٰ درگزر فرمانے والا اور معاف کرنے والا ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں بھی چونکہ غلطی کے مرتکب کو اپنی غلطی کا پورا پورا احساس ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرمایا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جاہلیت میں عربوں نے جس طرح منہ بولے بیٹوں کو بالکل صلبی بیٹوں کا درجہ دے رکھا تھا اسی طرح ظہار کے معاملے میں بھی ان کا رویہ نہایت متشددانہ تھا۔ کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح کی بات کہہ گزرتا جس کا حوالہ اوپر گزرا تو رواج عام اس کی بیوی کو فی الواقع اس کی ماں ہی کی طرح حرام بنا دیتا۔ مجال نہیں تھی کہ کوئی شخص ظہار کے بعد بیوی سے زن و شو کا تعلق قائم کر سکے۔ کوئی اس طرح کی جسارت کرتا تو لوگ اس کو بالکل اسی نگاہ سے دیکھتے گویا اس نے اپنی ماں کو نکاح میں رکھ چھوڑا ہے۔ اس وجہ سے اسلام نے اس طرح کی خلاف فطرت باتوں کی اصلاح کرتے ہوئے ہر جگہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ فطرت کے قانون میں جس چیز کے لیے جو جگہ ہے اس کو اسی جگہ رکھو۔ اس میں رد و بدل کر کے دین فطرت کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کرو۔ سورۂ احزاب کی تفسیر میں یہ بحث تفصیل سے گزر چکی ہے۔ یہاں بھی اس رسم بد کی اصلاح کرتے ہوئے معترضین کا منہ بند کرنے کے لیے پہلے ہی یہ بات واضح فرما دی کہ اس طرح کی ناروا باتوں سے فطرت کے قوانین نہیں بدل جاتے۔ بیوی محض کسی شخص کی ایک جھوٹ بات کی وجہ سے اس کی ماں نہیں بن جائے گی۔ ایک نحوی سوال: ’مَّا ھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ‘ میں ایک سوال ’اُمَّھٰتِھِمْ‘ کے اعراب سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس کو نصب کیوں ہے؟ میرے نزدیک یہاں ’مَا‘، معنی میں ’لَیْسَ‘ کے ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً سورۂ حاقہ میں فرمایا ہے: ’فَمَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حٰجِزِیْنَ‘ (۴۷) (تو کوئی بھی تم میں سے اس کو بچانے والا نہیں بنے گا)۔  
    اور جو لوگ ظہار کر بیٹھیں اپنی بیویوں سے پھر لوٹیں اسی چیز کی طرف جس کو حرام ٹھہرایا تو ایک گردن کو آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ یہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جا رہی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔
    ’ظہار‘ کا کفارہ: یہ اس کا حل بتایا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے ظہار کر بیٹھے پھر وہ اس چیزکی طرف لوٹنا چاہے جس کو اس نے حرام ٹھہرایا تواس کو اس سے پہلے کفارہ کے طور پر ایک غلام آزاد کرنا ہو گا۔ یعنی اس کی بیوی اس کے ظہار کے سبب سے اس کی ماں کی طرح حرام تو نہیں ہوجائے گی لیکن چونکہ نکاح و طلاق کے اثرات معاشرتی زندگی پر نہایت دور رس ہوتے ہیں اس وجہ سے اس معاملے میں جدّ و ہزل دونوں ہی کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ چیز مقتضی ہے کہ ایسے شخص کو کچھ تنبیہ و تادیب کی جائے تاکہ وہ بھی آئندہ احتیاط کی روش اختیار کرے اور دوسروں کو بھی اس سے سبق حاصل ہو۔ چنانچہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرے۔ یہاں لفظ ’رقبۃ‘ آیا ہے جس کے معنی گردن کے ہیں۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ غلام یا لونڈی کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ بعض فقہاء نے تو مسلم اور غیر مسلم کی کوئی قید بھی ضروری نہیں سمجھی ہے۔ دونوں میں سے جو بھی میسر ہو اس سے کفارہ ادا ہو جائے گا بس اتنی بات ہے کہ مسلم غلام میسر ہو تو اس کو ترجیح حاصل ہو گی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ غلام کی آزادی کو مقدم رکھا ہے۔ اگر غلام میسر نہ آئے تو دوسری متبادل شکلیں، جو آگے مذکور ہیں، اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ اس سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے جس کا اظہار ہم نے سورۂ نور کی تفسیر میں کیا ہے کہ اسلام نے اپنے نظام میں غلاموں کی آزادی کی نہایت وسیع راہیں کھول دی تھیں یہاں تک کہ بہت سے چھوٹے بڑے گناہوں کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا قرار دے دیا تاکہ اس مہم کو ہر پہلو سے تقویت حاصل ہو۔ منکر بات کا ذکر ابہام کے ساتھ: ’ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا‘ میں تھوڑا سا ابہام ہے۔ اس ابہام کی وجہ یہ ہے کہ جس بات کی طرف اشارہ ہے وہ بالبداہت بھی منکر ہے اور قرآن نے بھی اس کو ’مُنْکر‘ اور ’زُور‘ قرار دیا ہے۔ ایک منکر بات کا ذکر صراحت کے ساتھ موزوں نہیں تھا اس وجہ سے قرآن نے مبہم الفاظ میں اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ مطلب یہی ہے کہ ظہار کے بعد وہ پھر وہی کام کرنا چاہیں جس کو انھوں نے اپنی ماں کی حرمت کی طرح حرام ٹھہرایا تو ان کے لیے ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنے کا حکم ہے۔ اس ابہام کی وضاحت اول تو ’مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا‘ کے الفاظ سے بھی ہو جاتی ہے پھر بعینہٖ یہی اسلوب کلام اسی سورہ کی آیت ۸ میں بھی استعمال ہوا ہے۔ فرمایا ہے: ’ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُھُوْا عَنْہُ‘ (پھر وہ کرتے ہیں وہی کام جس سے وہ روکے گئے)۔ اسی طرح یہاں بھی اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پھر وہ کریں وہی کام جس سے رکنے کا انھوں نے عہد کیا یا جس کو اپنے اوپر حرام ٹھہرایا۔ ’قَالُوْا‘ اور ’یَقُوْلُ‘ وغیرہ کے الفاظ میں بتقاضائے بلاغت و ایجاز جو ابہام ہوا کرتا ہے اس کی ایک عمدہ مثال سورۂ مریم کی آیت ۸ میں بھی ہے مزید وضاحت مطلوب ہو تو اس کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ ’مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا‘ میں زور اس بات پر ہے کہ یہ کفارہ ہاتھ لگانے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے۔ آگے والی آیت میں بھی اس قید کا اعادہ ہے جس سے اس کا مؤکد ہونا ظاہر ہوتا ہے اس وجہ سے یہ جائز نہیں ہے کہ غلبۂ نفس سے بے بس ہو کر کفارہ ادا کرنے سے پہلے تعلق قائم کر لیا جائے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ حدود اللہ سے، جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے، تجاوز ہو گا۔ ’ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ‘۔ یہ تنبیہ ہے کہ ان باتوں کی نصیحت تمہیں تمہارے رب کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ اگر تم نے درپردہ یاعلانیہ ان کی خلاف ورزی کی تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سارے اعمال کی خبر رکھتا ہے، مطلب یہ ہے کہ جب وہ خبر رکھتا ہے تو اس کی گرفت سے نہ بچ سکو گے۔ ’ذٰلِکُمْ‘ میں اشارہ ان تمام باتوں کی طرف ہے جو اوپر بیان ہوئیں۔ یعنی نہ تو ظہار کے معاملے میں جاہلیت کے رسوم پر اصرار کرو اور نہ کفارہ سے متعلق جو ہدایت کی جارہی ہے اس سے فرار کے لیے چور دروازے اور فقہی حیلے ایجاد کرو بلکہ ہر حکم کی تعمیل اس کی صحیح سپرٹ میں کرو۔ اسی میں دین و دنیا دونوں کی فلاح ہے۔
    پس جس کو غلام میسر نہ آئے تو اس کے اوپر لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں، ہاتھ لگانے سے پہلے اور جو اس کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے اس کے ذمہ۔ یہ اس لیے کہ اللہ اور اس کے رسول پر تمہارا ایمان راسخ ہو۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔
    یعنی غلام میسر نہ آئے تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے اور اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس زمانے میں عملاً یہی دو شکلیں باقی رہیں گی اس لیے کہ غلامی ختم ہو چکی ہے اور یہ بات عین منشائے اسلام کے مطابق ہوئی ہے۔ لفظ ’مُتَتَابِعَیْنِ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر دو ماہ کے روزے تمام ہونے سے پہلے پہلے اختلاط کر لیا تو ازسرنو پورے روزے رکھنے پڑیں گے۔ یہاں اگرچہ ’اِطْعَامُ سِتِّیْنَ‘ کے ساتھ ’مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا‘ کی قید نہیں ہے لیکن اس صورت میں بھی یہ قید مفہوم ہے۔ اس کے ذکر نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ شکل اصل نہیں بلکہ اصل کی فرع ہے تو جب اصل کے ساتھ اس کا ذکر ہے تو فرع کے ساتھ اس کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔ ’ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ‘۔ یہ ان ہدایات کا فائدہ بتایا ہے کہ یہ اس لیے دی گئی ہیں کہ اللہ اور رسول پر تمہارا ایمان مستحکم ہو۔ ’لِتُؤْمِنُوْا‘ یہاں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق اپنے کامل معنی میں ہے جس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔ انسان اگر اپنی کسی غلطی یا کمزوری کی تلافی کے لیے کوئی مسقت اٹھاتا ہے تو اس سے اس کی غلطی کی تلافی بھی ہوتی ہے اور اصل مقصد میں اس کے قدم راسخ بھی ہوتے ہیں۔ ’وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ‘۔ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ ’ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ‘ کے الفاظ سے اوپر گزر چکی ہے۔ یعنی یہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود ہیں۔ ان کو توڑنے کی جسارت نہ کرنا ورنہ اس کا انجام نہایت برا ہو گا۔ ’وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ‘۔ یعنی اللہ کے حدود توڑنے والے کافر ہیں اور ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے تو بدقسمت ہوں گے وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ رکھتے ہوئے اپنے کو کافروں میں شامل کر لیں۔ ظہار سے متعلق بعض اور سوالات بھی ہیں لیکن ان کا تعلق تفسیر سے نہیں بلکہ فقہ سے ہے اس وجہ سے ہم ان سے تعرض نہیں کریں گے۔ تفصیل کے طالب فقہی جزئیات کے لیے فقہ کی کتابوں کی مراجعت کریں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List