Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الواقعۃ (The Inevitable, The Event)

    96 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورتوں سے تعلق

    یہ اس گروپ کی ساتویں سورہ ہے جس پر گروپ کی مکی سورتیں تمام ہوئیں۔ اس میں اس ساری بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے، جو جزاء و سزا سے متعلق، سورۂ قٓ سے لے کر سورۂ رحمٰن تک ہوئی ہے۔ پچھلی سورتوں میں اس موضوع کے تمام اطراف، آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے دلائل کی روشنی میں، زیربحث آئے ہیں، اس سورہ میں دلائل کی وضاحت کے بجائے اصل نتیجہ سے قریش کے مستکبرین کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت ایک امرشدنی ہے جس میں ذرا شبہے کی گنجائش نہیں ہے۔ تمہیں لازماً ایک ایسے جہان سے سابقہ پیش آنے والا ہے جس میں عزت و ذلت کے اقدار اور پیمانے ان اقدار اور پیمانوں سے بالکل مختلف ہوں گے جو اس جہان میں معروف ہیں۔ وہاں عزت و سرفرازی ان کے لیے ہو گی جنھوں نے اس دنیا میں ایمان اور عمل صالح کی کمائی کی ہو گی، وہ مقربین اور اصحاب الیمین کے درجے پائیں گے۔ جنت کی تمام کامرانیاں انہی کا حصہ ہوں گی۔ رہے وہ جو اسی دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اور اسی کے عشق میں مگن ہیں وہ اصحاب الشمال میں ہوں گے اور ان کو دوزخ کے ابدی عذاب سے سابقہ پیش آئے گا۔

  • الواقعۃ (The Inevitable, The Event)

    96 آیات | مکی
    الواقعۃ

    یہ ایک منفرد سورہ ہے جس پر اِس باب کی مکی سورتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اِس میں اُس تمام بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے جو سورۂ ق سے سورۂ رحمن تک جزا و سزا سے متعلق ہوئی ہے۔ ق سے رحمن تک عقل و فطرت، انفس و آفاق اور انسانی تاریخ میں خدا کی دینونت کے ظہور سے ایک روز جزا کے واقع ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔اِس سلسلے کی آخری سورہ سورۂ رحمن ہے، جس میں اِس کے ساتھ انذار و بشارت کا مضمون بھی پوری طرح نمایاں ہو گیا ہے۔ یہی مضمون اِس سورہ میں اِس کی تمام تفصیلات کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچا ہے۔ اِس لحاظ سے یہ پچھلی
    سورتوں کا تکملہ و تتمہ ہے۔

    اِس کے مخاطب قریش کے متکبرین ہیں جنھیں خبردار کیا گیا ہے کہ قیامت ایک شدنی امر ہے۔ یہ ہر حال میں واقع ہو جائے گی۔ تمھیں لازماًایک ایسی دنیا میں جینے کے لیے اٹھنا ہے، جہاں عزت و ذلت کے پیمانے بدل چکے ہوں گے۔ عزت اور سرفرازی وہاں سابقین اور اصحاب الیمین کے لیے ہوگی اور متکبرین اصحاب الشمال ہوں گے جن کے لیے دوزخ کا ابدی عذاب ہے۔

    اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 056 Verse 001 Chapter 056 Verse 002 Chapter 056 Verse 003 Chapter 056 Verse 004 Chapter 056 Verse 005 Chapter 056 Verse 006 Chapter 056 Verse 007 Chapter 056 Verse 008 Chapter 056 Verse 009 Chapter 056 Verse 010 Chapter 056 Verse 011 Chapter 056 Verse 012 Chapter 056 Verse 013 Chapter 056 Verse 014 Chapter 056 Verse 015 Chapter 056 Verse 016 Chapter 056 Verse 017 Chapter 056 Verse 018 Chapter 056 Verse 019 Chapter 056 Verse 020 Chapter 056 Verse 021 Chapter 056 Verse 022 Chapter 056 Verse 023 Chapter 056 Verse 024 Chapter 056 Verse 025 Chapter 056 Verse 026 Chapter 056 Verse 027 Chapter 056 Verse 028 Chapter 056 Verse 029 Chapter 056 Verse 030 Chapter 056 Verse 031 Chapter 056 Verse 032 Chapter 056 Verse 033 Chapter 056 Verse 034 Chapter 056 Verse 035 Chapter 056 Verse 036 Chapter 056 Verse 037 Chapter 056 Verse 038 Chapter 056 Verse 039 Chapter 056 Verse 040 Chapter 056 Verse 041 Chapter 056 Verse 042 Chapter 056 Verse 043 Chapter 056 Verse 044 Chapter 056 Verse 045 Chapter 056 Verse 046 Chapter 056 Verse 047 Chapter 056 Verse 048 Chapter 056 Verse 049 Chapter 056 Verse 050
    Click translation to show/hide Commentary
    یاد رکھو، جب کہ واقع ہو پڑے گی واقع ہونے والی۔
    قیامت شدنی ہے: ’وَاقِعَۃُ‘ سے مراد قیامت ہے۔ اس لفظ سے تعبیر اس کے ایک امرشدنی ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے دلائل، پوری تفصیل کے ساتھ، گروپ کی پچھلی سورتوں میں، بیان ہو چکے ہیں اور ان شبہات و سوالات کا بھی ایک ایک کر کے جواب دیا جا چکا ہے جو منکرین نے اس کے امکان اور اس کے وقوع کے باب میں اٹھائے ہیں۔ اب یہ فرمایا کہ اس وقت کو یاد رکھو جب کہ وہ واقع ہونے والی، تمہارے ان تمام لایعنی شبہات و اعتراضات کے علی الرغم، واقع ہو کے رہے گی اور تم کسی طرح بھی اس سے بھاگ نہ سکو گے۔
    اس کے واقعہ ہونے میں کسی جھوٹ کا شائبہ نہیں۔
    ’لَیْْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ‘۔ یہاں ’کَاذِبَۃٌ‘ میرے نزدیک ’عاقبۃ‘ اور ’عافیۃ‘ کی طرح مصدر ہے یعنی اس کے واقع ہونے میں ذرا کسی شک و شبہ اور جھوٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر تم اس وہم میں مبتلا ہو کہ تم کو جھوٹ موٹ ایک ہوّے سے ڈرایا جا رہا ہے تو اس میں جھوٹ کا ادنیٰ شائبہ بھی نہیں۔ یہ ایک امر واقعہ ہے جس سے تمہیں لازماً دوچار ہونا ہے تو عاقبت کی بہبود چاہتے ہو تو اس کے مواجہہ کے لیے تیاری کرو۔
    وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہو گی۔
    قیامت میں عزت کا معیار ایمان ہو گا: یعنی اس وہم میں نہ رہو کہ تم کو جو سربلندی آج حاصل ہے وہ ہمیشہ رہے گی اور جن کو حقیر و متبذل گمان کر رہے ہو وہ اسی طرح حقیر و پست حال رہیں گے بلکہ جب وہ واقع ہونے والی واقع ہو گی تو یہ آسمان و زمین نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ نمودار ہوں گے۔ آج عزت و شرف کے جو معیارات ہیں وہ یک قلم تبدیل ہو جائیں گے۔ اس دن تمام عزت و سرفرازی ایمان و عمل صالح کو حاصل ہو گی۔ وہ لوگ سربلند و سرفراز ہوں گے جن کے پاس ایمان و عمل صالح کا سرمایہ ہو گا اور وہ پست و ذلیل ہوں گے جو اس دولت سے محروم اٹھیں گے۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ فرمائی ہے۔ آگے آیت ۷ سے اس خفض و رفع کی تفصیل آ رہی ہے۔ اس سے واضح ہو جائے گا کہ اس کے لیے کسوٹی کیا ہو گی۔
    جب کہ زمین بالکل جھنجھوڑ دی جائے گی۔
    قیامت کے دل کی ہلچل: یہ اس قیامت کی تصویر ہے کہ اس دن زمین بالکل ہلا دی جائے گی اور یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کو نادان لوگ غیر فانی اور غیر متزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں، غبار کی طرح پراگندہ ہو جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دن اس زمین کی ساری ہی بلندیاں پست کر دی جائیں گی۔ ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے تمام ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کر دے گا یہاں تک کہ یہ فلک بوس پہاڑ بھی غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورۂ حاقہ میں یوں بیان ہوا ہے: ’وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَاحِدَۃً ۵ فَیَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ‘ (الحاقہ ۶۹: ۱۴-۱۵) (اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک دفعہ پاش پاش کر دیے جائیں گے، پس اس دن واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی)۔  
    اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہو (کر منتشر غبار بن) جائیں گے۔
    قیامت کے دل کی ہلچل: یہ اس قیامت کی تصویر ہے کہ اس دن زمین بالکل ہلا دی جائے گی اور یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کو نادان لوگ غیر فانی اور غیر متزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں، غبار کی طرح پراگندہ ہو جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دن اس زمین کی ساری ہی بلندیاں پست کر دی جائیں گی۔ ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے تمام ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کر دے گا یہاں تک کہ یہ فلک بوس پہاڑ بھی غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورۂ حاقہ میں یوں بیان ہوا ہے: ’وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَاحِدَۃً ۵ فَیَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ‘ (الحاقہ ۶۹: ۱۴-۱۵) (اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک دفعہ پاش پاش کر دیے جائیں گے، پس اس دن واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی)۔  
    (اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہو کر) منتشر غبار بن جائیں گے۔
    قیامت کے دل کی ہلچل: یہ اس قیامت کی تصویر ہے کہ اس دن زمین بالکل ہلا دی جائے گی اور یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کو نادان لوگ غیر فانی اور غیر متزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں، غبار کی طرح پراگندہ ہو جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دن اس زمین کی ساری ہی بلندیاں پست کر دی جائیں گی۔ ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے تمام ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کر دے گا یہاں تک کہ یہ فلک بوس پہاڑ بھی غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورۂ حاقہ میں یوں بیان ہوا ہے: ’وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَاحِدَۃً ۵ فَیَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ‘ (الحاقہ ۶۹: ۱۴-۱۵) (اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک دفعہ پاش پاش کر دیے جائیں گے، پس اس دن واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی)۔  
    اور تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔
    لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں: یہ اس خفض و رفع کی تفصیل ہے جس کا ذکر اوپر آیت ۳ میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس دن تم تین گروہوں میں تقسیم کیے جاؤ گے۔ ایک گروہ اصحاب المیمنہ کا ہو گا، دوسرا گروہ اصحاب المشئمہ کا ہو گا اور تیسرا سابقون پر مشتمل ہو گا۔
    ایک گروہ داہنے والوں کا ہو گا، تو کیا کہنے ہیں داہنے والوں کے!
    ’اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ‘ سے مراد، خود قرآن کی تصریح کے مطابق، وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ چنانچہ سورۂ حاقہ میں فرمایا ہے: ’فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُوْلُ ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَہْ‘ (الحاقہ ۶۹: ۱۹-۲۰) (تو اس دن جس کا اعمال نامہ اس کے دہنے ہاتھ میں پکڑایا جائے گا وہ لوگوں سے خوش ہو کر کہے گا کہ یہ لو میرا اعمال نامہ پڑھو۔ میں دنیا میں برابر اندیشہ ناک رہا کہ بالآخر مجھے اپنے اعمال کے حساب سے دوچار ہونا ہے)۔ ’مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ‘ میں جو استفہام ہے یہ اظہار شان و عظمت کے لیے بھی آتا ہے اور اظہار نفرت و کراہت کے لیے بھی۔ یہاں یہ اظہار شان و عظمت کے لیے ہے یعنی دہنے والوں کی شان و عظمت، ان کے عیش جاوداں، ان کی رفاہیت و خوش حالی اور ان کی عالی مقامی کا کیا پوچھنا ہے! بھلا اس کی تفصیل کس طرح بتائی جا سکتی ہے اور اس کا صحیح اندازہ کون کرسکتا ہے! یہ اسلوب کلام اس صورت میں اختیار کیا جاتا ہے جب صورت واقعہ الفاظ کے احاطہ اور قیاس و گمان کی رسائی سے مافوق ہو۔ قرآن میں اس کی مثالیں بہت ہیں۔ ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب معروف ہے۔ اس تفصیل سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے جنھوں نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ دربار الٰہی میں جگہیں پانے والوں کی ترتیب بیان ہوئی ہے۔ اللہ جل شانہٗ کے دربار سے متعلق اول تو دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا تصور ہی ایک بے معنی تصور ہے اور اگر اس تصور کی گنجائش تسلیم بھی کر لی جائے تو یہ امر اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ اس دربار میں اصحاب الشمال کے لیے کوئی جگہ بھی نہیں ہو گی نہ بائیں نہ پیچھے بلکہ ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا جس کی وضاحت آگے اس سورہ میں بھی آ رہی ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی آئی ہے۔ دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ عام مسلمانوں کے مفہوم میں نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے بطور اعزاز داہنے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور وہ اپنے شان دار کارناموں پر نہایت شاداں و فرحاں بھی ہوں گے۔ عام مسلمانوں میں تو بے شمار ایسے لوگ بھی ہیں جن کی نسبت یہ گمان کرنا بڑا ہی فیاضانہ حسن ظن ہو گا کہ ان کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور وہ جوش مسرت میں ’ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ‘ کا نعرہ بھی لگانے کے لائق ہوں گے۔ رہا یہ سوال کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ اور ’سَابِقُوْنَ‘ میں کس نوعیت کا فرق ہے تو اس کی طرف اوپر بھی ہم اشارہ کر چکے ہیں اور آگے بھی اس کی وضاحت آ رہی ہے۔  
    دوسرا گروہ بائیں والوں کا ہو گا، تو کیا حال ہو گا بائیں والوں کا!
    ’اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ سورۂ حاقہ میں ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے: ’وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰبِیَہْ وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَہْ یٰلَیْتَھَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ مَآ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ ھَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ‘ (الحاقہ ۶۹: ۲۵-۲۹) (رہا وہ جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا کہ کاش! میرا اعمال نامہ مجھ کو ملتا ہی نہ! اور مجھ کو یہ خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے! اے کاش! پہلی موت ہی فیصلہ کن بن گئی ہوتی! میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا! میرا اقتدار ہوا ہو گیا!) ’مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ‘ میں وہی اسلوب اس کے برعکس یعنی اظہار نفرت و کراہت کے مفہفوم میں ہے یعنی جس طرح ’اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ‘ کی خوش حالی و بلند اقبالی کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا اسی طرح ’اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ‘ کی بدبختی، ان کی ذلت و مصیبت اور ان کی بدانجامی کا حال بھی کچھ نہ پوچھو! اس کی تصویر بھی الفاظ میں نہیں کھینچی جا سکتی۔ اس کا اندازہ انہی کو ہو گا جن کو اس سے سابقہ پیش آئے گا۔ اس تفصیل سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے جنھوں نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ دربار الٰہی میں جگہیں پانے والوں کی ترتیب بیان ہوئی ہے۔ اللہ جل شانہٗ کے دربار سے متعلق اول تو دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا تصور ہی ایک بے معنی تصور ہے اور اگر اس تصور کی گنجائش تسلیم بھی کر لی جائے تو یہ امر اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ اس دربار میں اصحاب الشمال کے لیے کوئی جگہ بھی نہیں ہو گی نہ بائیں نہ پیچھے بلکہ ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا جس کی وضاحت آگے اس سورہ میں بھی آ رہی ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی آئی ہے۔ دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ عام مسلمانوں کے مفہوم میں نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے بطور اعزاز داہنے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور وہ اپنے شان دار کارناموں پر نہایت شاداں و فرحاں بھی ہوں گے۔ عام مسلمانوں میں تو بے شمار ایسے لوگ بھی ہیں جن کی نسبت یہ گمان کرنا بڑا ہی فیاضانہ حسن ظن ہو گا کہ ان کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور وہ جوش مسرت میں ’ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ‘ کا نعرہ بھی لگانے کے لائق ہوں گے۔ رہا یہ سوال کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ اور ’سَابِقُوْنَ‘ میں کس نوعیت کا فرق ہے تو اس کی طرف اوپر بھی ہم اشارہ کر چکے ہیں اور آگے بھی اس کی وضاحت آ رہی ہے۔  
    رہے سابقون، تو وہ تو سبقت کرنے والے ہی ہیں!
    ’سَابِقُوْنَ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی اور اس دور میں اپنے جان و مال سے اس کی خدمت کی توفیق پائی جب اس کی خدمت کرنے والے تھوڑے تھے اور اس کی مدد کے لیے حوصلہ کرنا اپنے آپ کو جوکھوں میں ڈالنا تھا۔ چنانچہ سورۂ حدید میں، جو اس کی مثنیٰ سورہ ہے، اس حقیقت پر یوں روشنی ڈالی ہے: ’لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ م بَعْدُ وَقٰتَلُوْا وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی‘ (الحدید ۵۷: ۱۰) (تم میں سے جو لوگ فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں انفاق اور جہاد کریں گے اور دوسرے جو اس سعادت سے محروم رہیں گے، یکساں نہیں ہوں گے۔ پہلے انفاق و جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا ہے ان لوگوں سے جنھوں نے بعد میں انفاق و جہاد کیا اگرچہ اللہ کا وعدہ دونوں سے اچھا ہی ہے)۔ ’وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ‘ میں دوسرا ’سَابِقُوْنَ‘ خبر کے محل میں ہے اور اس ایجاز میں غایت درجہ بلاغت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ’سَابِقُوْنَ‘ کی عالی مقامی کا کیا پوچھنا ہے، وہ تو ’سَابِقُوْنَ‘ ہی ہوئے! جب وہ سابقون ہیں تو ان کے درجہ و مرتبہ کو کون پہنچ سکتا ہے! وہ لازماً وہاں تک پہنچیں گے جو انسانی شرف و مزیّت کا آخری نقطہ ہے اور اس نقطۂ کمال کا اندازہ بھلا اس عالم ناسوت میں کون کر سکتا ہے! اس تفصیل سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے جنھوں نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ دربار الٰہی میں جگہیں پانے والوں کی ترتیب بیان ہوئی ہے۔ اللہ جل شانہٗ کے دربار سے متعلق اول تو دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا تصور ہی ایک بے معنی تصور ہے اور اگر اس تصور کی گنجائش تسلیم بھی کر لی جائے تو یہ امر اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ اس دربار میں اصحاب الشمال کے لیے کوئی جگہ بھی نہیں ہو گی نہ بائیں نہ پیچھے بلکہ ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا جس کی وضاحت آگے اس سورہ میں بھی آ رہی ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی آئی ہے۔ دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ عام مسلمانوں کے مفہوم میں نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے بطور اعزاز داہنے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور وہ اپنے شان دار کارناموں پر نہایت شاداں و فرحاں بھی ہوں گے۔ عام مسلمانوں میں تو بے شمار ایسے لوگ بھی ہیں جن کی نسبت یہ گمان کرنا بڑا ہی فیاضانہ حسن ظن ہو گا کہ ان کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور وہ جوش مسرت میں ’ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ‘ کا نعرہ بھی لگانے کے لائق ہوں گے۔ رہا یہ سوال کہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ اور ’سَابِقُوْنَ‘ میں کس نوعیت کا فرق ہے تو اس کی طرف اوپر بھی ہم اشارہ کر چکے ہیں اور آگے بھی اس کی وضاحت آ رہی ہے۔  
    وہی لوگ مقرب ہوں گے۔
    ’سَابِقُوْنَ‘ کا صلہ: چونکہ گل سرسبد اور سرخیل قافلہ کی حیثیت انہی ’سَابِقُوْنَ‘ کو حاصل ہو گی اس وجہ سے انہی کا مرتبہ اور صلہ سب سے پہلے بیان فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ انہی لوگوں کو مقربین کا درجہ حاصل ہو گا۔ ’مقربین‘ سے مراد ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقربین ہیں لیکن ان مقربین کا ٹھکانا ’جَنّٰتِ النَّعِیْمِ‘ ہی بتایا ہے، دربار الٰہی کے قسم کی کسی چیز کا کوئی تصور نہیں دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقربین الٰہی کے لیے خاص ان کے درجے و مرتبے کے لحاظ سے جنتیں ہوں گی جن میں وہ رکھے جائیں گے۔ آگے ان کی جنت سے متعلق بعض اشارات آ رہے ہیں۔
    نعمت کے باغوں میں۔
    ’سَابِقُوْنَ‘ کا صلہ: چونکہ گل سرسبد اور سرخیل قافلہ کی حیثیت انہی ’سَابِقُوْنَ‘ کو حاصل ہو گی اس وجہ سے انہی کا مرتبہ اور صلہ سب سے پہلے بیان فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ انہی لوگوں کو مقربین کا درجہ حاصل ہو گا۔ ’مقربین‘ سے مراد ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقربین ہیں لیکن ان مقربین کا ٹھکانا ’جَنّٰتِ النَّعِیْمِ‘ ہی بتایا ہے، دربار الٰہی کے قسم کی کسی چیز کا کوئی تصور نہیں دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقربین الٰہی کے لیے خاص ان کے درجے و مرتبے کے لحاظ سے جنتیں ہوں گی جن میں وہ رکھے جائیں گے۔ آگے ان کی جنت سے متعلق بعض اشارات آ رہے ہیں۔
    ان میں بڑی تعداد اگلوں کی ہو گی۔
    اب یہ واضح فرمایا کہ اس مبارک گروہ میں شامل ہونے کی سعادت کن لوگوں کو حاصل ہو گی۔ فرمایا کہ ان میں زیادہ تعداد تو اگلوں کی ہو گی اور ایک قلیل تعداد پچھلوں کی بھی ہو گی۔ ’ثُلَّۃٌ‘ کے اصل معنی تو گروہ اور جماعت کے ہیں لیکن اس کے مقابل میں چونکہ لفظ ’قَلِیْلٌ‘ استعمال ہوا ہے اس وجہ سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس کو گروہ کثیر کے مفہوم میں لیا جائے۔ ’اوّلین‘ اور آخرین سے مراد: ’اوّلین‘ اور ’آخرین‘ سے مراد ہمارے نزدیک اسی امت کے اولین و آخرین ہیں۔ اوپر ہم نے سورۂ حدید کا حوالہ دیا ہے جس سے واضح ہوا کہ ان لوگوں کے انفاق اور جہاد کا درجہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اونچا ہے جنھوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد و انفاق کی سعادت حاصل کی۔ بعد والوں کے جہاد و انفاق کا درجہ وہ نہیں ہو گا تاہم اللہ تعالیٰ کا وعدہ دونوں ہی سے اچھا ہے۔ یعنی بعد والے اگرچہ من حیث العموم اگلوں کے مرتبہ کو تو نہ پہنچ سکیں گے تاہم اپنے اخلاص و حسن عمل سے ان کے لیے ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ میں جگہ حاصل کرنے کی راہ کھلی ہو گی۔ ’ثُلَّۃٌ مِّنَ الْأَوَّلِیْنَ‘ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلی کہ اگلوں میں سے لازماً سب ہی مقربین کا درجہ حاصل نہیں کر لیں گے بلکہ ان کی اکثریت کو یہ مقام حاصل ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس درجے کا تعلق مجرد زمانے ہی سے نہیں ہے بلکہ اس میں اصلی دخل اوصاف و اعمال کو ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اسلام قبول کرنے کے اعتبار سے تو اولین میں ہو لیکن اپنی عزیمت، رسوخ اور قربانیوں کے اعتبار سے مقربین کا درجہ نہ حاصل کر سکا بلکہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ ہی کے درجے تک رہ گیا۔ ایک خاص نکتہ: اسی طرح ’قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس امت کے پچھلوں میں سے بھی ایسے لوگ نکلیں گے جو سابقون الاولون کے زمرے میں شامل ہونے کا شرف حاصل کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو فتنوں کے زمانے میں بھی حق پر قائم رہیں گے، حق ہی کی دعوت دیں گے، اور حالات خواہ کتنے ہی صبر آزما ہو جائیں اور ان کی تعداد خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو لیکن وہ ہمت نہیں ہاریں گے۔ اس قسم کا ایک گروہ اس امت میں، جیسا کہ احادیث میں بشارت ہے، ہر دور میں پیدا ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ زمانے کے اعتبار سے تو آخرین میں ہوں گے لیکن اپنی خدمات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں اولین کے زمرے میں جگہ پائیں گے۔ اسی حقیقت کی طرف سیدنا مسیح علیہ السلام نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ ’’کتنے پیچھے آنے والے ہیں جو آگے ہو جائیں گے‘‘۔ یہاں یہ حقیقت پیش نظر رکھنے کی ہے کہ ہر چند ان آیات کا تعلق اسی امت سے ہے لیکن اصولی طور پر یہ بات ہر نبی و رسول کی امت پر منطبق ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہی بات ایک عام کلیہ کی حیثیت سے ارشاد ہوئی ہے۔ فرمایا ہے: ’ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہِ وَمِنْہُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْْرَاتِ بِإِذْنِ اللہِ‘ (فاطر ۳۲) (پھر ہم نے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جن کو اپنے بندوں میں سے اس کار خاص کے لیے منتخب کیا تو ان میں سے کچھ تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نکلے، کچھ میانہ رو ہوئے اور کچھ اللہ کی توفیق سے بھلائیوں کی راہ میں سبقت کرنے والے ہوئے)۔ اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ الفاظ بدلے ہوئے ہیں لیکن اس میں بھی انہی تین گروہوں کا ذکر ہے جن کا ذکر اوپر ’اصحب المیمنۃ‘، ’اصحب المشئمۃ‘ اور ’سابقون‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔  
    اور تھوڑے پچھلوں میں سے ہوں گے۔
    اب یہ واضح فرمایا کہ اس مبارک گروہ میں شامل ہونے کی سعادت کن لوگوں کو حاصل ہو گی۔ فرمایا کہ ان میں زیادہ تعداد تو اگلوں کی ہو گی اور ایک قلیل تعداد پچھلوں کی بھی ہو گی۔ ’ثُلَّۃٌ‘ کے اصل معنی تو گروہ اور جماعت کے ہیں لیکن اس کے مقابل میں چونکہ لفظ ’قَلِیْلٌ‘ استعمال ہوا ہے اس وجہ سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس کو گروہ کثیر کے مفہوم میں لیا جائے۔ ’اوّلین‘ اور آخرین سے مراد: ’اوّلین‘ اور ’آخرین‘ سے مراد ہمارے نزدیک اسی امت کے اولین و آخرین ہیں۔ اوپر ہم نے سورۂ حدید کا حوالہ دیا ہے جس سے واضح ہوا کہ ان لوگوں کے انفاق اور جہاد کا درجہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اونچا ہے جنھوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد و انفاق کی سعادت حاصل کی۔ بعد والوں کے جہاد و انفاق کا درجہ وہ نہیں ہو گا تاہم اللہ تعالیٰ کا وعدہ دونوں ہی سے اچھا ہے۔ یعنی بعد والے اگرچہ من حیث العموم اگلوں کے مرتبہ کو تو نہ پہنچ سکیں گے تاہم اپنے اخلاص و حسن عمل سے ان کے لیے ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ میں جگہ حاصل کرنے کی راہ کھلی ہو گی۔ ’ثُلَّۃٌ مِّنَ الْأَوَّلِیْنَ‘ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلی کہ اگلوں میں سے لازماً سب ہی مقربین کا درجہ حاصل نہیں کر لیں گے بلکہ ان کی اکثریت کو یہ مقام حاصل ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس درجے کا تعلق مجرد زمانے ہی سے نہیں ہے بلکہ اس میں اصلی دخل اوصاف و اعمال کو ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اسلام قبول کرنے کے اعتبار سے تو اولین میں ہو لیکن اپنی عزیمت، رسوخ اور قربانیوں کے اعتبار سے مقربین کا درجہ نہ حاصل کر سکا بلکہ ’اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ‘ ہی کے درجے تک رہ گیا۔ ایک خاص نکتہ: اسی طرح ’قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس امت کے پچھلوں میں سے بھی ایسے لوگ نکلیں گے جو سابقون الاولون کے زمرے میں شامل ہونے کا شرف حاصل کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو فتنوں کے زمانے میں بھی حق پر قائم رہیں گے، حق ہی کی دعوت دیں گے، اور حالات خواہ کتنے ہی صبر آزما ہو جائیں اور ان کی تعداد خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو لیکن وہ ہمت نہیں ہاریں گے۔ اس قسم کا ایک گروہ اس امت میں، جیسا کہ احادیث میں بشارت ہے، ہر دور میں پیدا ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ زمانے کے اعتبار سے تو آخرین میں ہوں گے لیکن اپنی خدمات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں اولین کے زمرے میں جگہ پائیں گے۔ اسی حقیقت کی طرف سیدنا مسیح علیہ السلام نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ ’’کتنے پیچھے آنے والے ہیں جو آگے ہو جائیں گے‘‘۔ یہاں یہ حقیقت پیش نظر رکھنے کی ہے کہ ہر چند ان آیات کا تعلق اسی امت سے ہے لیکن اصولی طور پر یہ بات ہر نبی و رسول کی امت پر منطبق ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہی بات ایک عام کلیہ کی حیثیت سے ارشاد ہوئی ہے۔ فرمایا ہے: ’ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہِ وَمِنْہُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْْرَاتِ بِإِذْنِ اللہِ‘ (فاطر ۳۲) (پھر ہم نے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جن کو اپنے بندوں میں سے اس کار خاص کے لیے منتخب کیا تو ان میں سے کچھ تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نکلے، کچھ میانہ رو ہوئے اور کچھ اللہ کی توفیق سے بھلائیوں کی راہ میں سبقت کرنے والے ہوئے)۔ اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ الفاظ بدلے ہوئے ہیں لیکن اس میں بھی انہی تین گروہوں کا ذکر ہے جن کا ذکر اوپر ’اصحب المیمنۃ‘، ’اصحب المشئمۃ‘ اور ’سابقون‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔  
    جڑاؤ تختوں پر، ٹیک لگائے، (آمنے سامنے بیٹھے) ہوں گے۔
    مقربین کی جنت کی تمثیل: یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑاؤ اور زرنگار تختوں پر گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ’مَوْضُوْنَۃ‘ کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ ’جڑاؤ‘ سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زرنگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ افروز ہوا کرتے تھے۔
    (جڑاؤ تختوں پر، ٹیک لگائے)، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
    ’مُتَّکِئِیْنَ‘ کے لفظ کے اندر گاؤ تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گاؤ تکیے ضروری ہیں اور زمانۂ قدیم میں تخت شاہی کے لوازم میں یہ شامل بھی رہے ہیں۔ ’آمنے سامنے‘ بیٹھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے دل باہمی رنج و رقابت اور کینہ و حسد سے بالکل پاک ہوں گے۔ جن کے دلوں کے اندر کدورت ہوتی ہے وہ ایک دوسرے سے منہ پھیر کے بیٹھتے ہیں لیکن اہل جنت کے دل کینہ و حسد سے، جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، بالکل پاک ہوں گے اس وجہ سے وہ مخلص اور محبت کرنے والے عزیزوں اور ساتھیوں کی طرح ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے بیٹھیں گے۔
    ان کی خدمت میں غلمان، جو ہمیشہ غلمان ہی رہیں گے۔
    یہ اس سامان ضیافت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے لیے وہاں مہیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کی خدمت میں غلمان پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت حاضر باش ہوں گے۔ ’مُخَلَّدُوۡنَ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے۔ ان کی حیثیت دائمی خدام کی ہو گی۔ مجلسی خدمات کے لیے ایک خاص سِن کے لڑکے ہی زیادہ موزوں، خوش آداب اور مستعد و سرگرم خیال کیے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ایک ہی سِن کا رکھے گا اور چونکہ مزاج شناس خادم ہی اپنے آقا کی سب سے زیادہ بہتر طریقہ پر خدمت کرسکتا ہے اس وجہ سے جو لڑکے جن کے ساتھ لگا دیے جائیں گے وہ برابر انہی کی خدمت میں رہیں گے۔ قرآن کے الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان لڑکوں کو اللہ تعالیٰ خاص اسی مقصد کے لیے بنائے گا۔ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ کفار کے بچے، جو نابالغی میں وفات پا جائیں گے، ان کو اللہ تعالیٰ اہل جنت کی خدمت میں لگا دے گا۔ اس رائے کے حق میں اگرچہ قرآن میں کوئی اشارہ نہیں ہے لیکن کوئی ایسی چیز بھی نہیں ہے جو اس کے خلاف جاتی ہو۔ اس لیے کہ کفار کے بچوں کے دوزخ میں جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ اس خدمت ہی میں لگائے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی جنت بہت وسیع اور وہ بڑا کریم ہے۔ وہ ان کو ان کی بے گناہی کے صلہ میں بھی جنت دے سکتا ہے۔
    پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے گردش کر رہے ہوں گے۔
    یہ اس سامان ضیافت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے لیے وہاں مہیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کی خدمت میں غلمان پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت حاضر باش ہوں گے۔ ’اَکْوَابٌ‘ ’کَوْبٌ‘ کی جمع ہے اور ’کوب‘ اور کپ (CUP) ایک ہی چیز ہے۔ ’اَبَارِیْقَ‘ جمع ہے ’اِبْرِیْقٌ‘ کی۔ ’ابریق‘ فارسی کے آب ریز سے معرب معلوم ہوتا ہے اور یہ چیز اپنی جگہ پر ثابت ہے کہ عربوں نے بہت سے تمدنی الفاظ عجمیوں سے لیے ہیں۔
    جس سے نہ تو ان کو درد سر لاحق ہو گا اور نہ وہ فتور عقل میں مبتلا ہوں گے۔
    یہ اس سامان ضیافت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے لیے وہاں مہیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کی خدمت میں غلمان پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت حاضر باش ہوں گے۔ لفظ ’کَاْسٌ‘ ظرف اور مظروف یعنی شراب اور جام شراب دونوں کے لیے آتا ہے۔ ’مَعِیْنٌ‘ خالص پانی اور خالص پانی کے چشمہ کے لیے بھی قرآن میں آیا ہے اور شراب خالص کے ایک چشمہ کے لیے بھی جو جنت میں ہے۔ یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔
    اور میوے ان کی پسند کے۔
    یہ اس سامان ضیافت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے لیے وہاں مہیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کی خدمت میں غلمان پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت حاضر باش ہوں گے۔ ’لَا یُصَدَّعُونَ عَنْہَا وَلَا یُنۡزِفُوۡنَ‘۔ یہ شراب ایسی ہو گی کہ اس سے شراب کا جو اصل فائدہ ہے یعنی سرور، وہ تو حاصل ہو گا لیکن اس دنیا کی شراب کے تمام مضر اثرات سے وہ بالکل پاک ہو گی۔ یہاں کی شراب سے اعضاء شکنی، خمار اور درد سر بھی لاحق ہوتا ہے، جنت کی شراب میں یہ مفاسد نہیں ہوں گے۔ اسی طرح اس دنیا کی شراب کا سب سے بڑا مفسدہ یہ ہے کہ اس سے عقل جاتی رہتی ہے درآنحالیکہ عقل ہی انسان کا اصل جوہر ہے اور ایک منٹ کے لیے بھی اس کا فتور نہ جانے کن کن ہلاکتوں میں اس کو ڈال سکتا ہے۔ جنت کی شراب اس زہر سے محفوظ ہو گی۔ ’نُزِف الرجل‘ کے معنی ہیں ’ذھب عقلہ‘ آدمی کی عقل جاتی رہی۔
    اور پرندوں کے گوشت ان کی رغبت کے۔
    یہ اس سامان ضیافت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے لیے وہاں مہیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کی خدمت میں غلمان پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت حاضر باش ہوں گے۔ ’وَفَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوۡنَ ۵ وَلَحْمِ طَیْْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوۡنَ‘۔ شراب کے ساتھ ساتھ یہ دوسرے لوازم کا ذکر ہے کہ غلمان ان کے سامنے ان کے انتخاب کے پھل اور ان کی پسند کے پرندوں کے گوشت بھی لیے پھریں گے۔ کھانے کی چیزوں میں سرفہرست یہی دو چیزیں ہیں۔ ان کا ذکر آ گیا تو گویا سب ہی کا آ گیا۔ ان کے ساتھ ’مِمَّا یَتَخَیَّرُوۡنَ‘ اور ’مِمَّا یَشْتَہُوۡنَ‘ کی قید اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ ہر شخص کے ذوق اور انتخاب کا پورا پورا لحاظ ہو گا۔ پھل ان کے سامنے وہ پیش کیے جائیں گے جن کا وہ انتخاب کریں گے اور گوشت ان پرندوں کے ان کے سامنے حاضر کیے جائیں گے جن کی وہ خواہش کریں گے۔
    اور ان کے لیے غزال چشم حوریں ہوں گی۔
    ’وَحُوْرٌ عِیْنٌ ۵ کَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ‘۔ کھانے اور پینے کی ساری لذتیں انسان کے لیے ادھوری ہیں اگر ان میں بیوی شریک نہ ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے سرمایۂ راحت و سکینت بنایا ہے۔ جس طرح اس دنیا میں آدمی اس شریک رنج و راحت کا محتاج ہے، جس کے بغیر اس کی بزم سونی رہتی ہے، اسی طرح جنت میں بھی اس کی لذت ادھوری رہ جاتی اگر یہ اس میں شریک نہ ہوتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ وہاں اس کو غزال چشم اور دُرّمکنون کی طرح اچھوتی اور پاک حوریں دے گا۔ ان دو صفتوں کے اندر ان حوروں کے حسن ظاہر اور حسن باطن کے سارے پہلو جمع ہو گئے۔
    محفوظ کیے ہوئے موتیوں کے مانند۔
    ’وَحُوْرٌ عِیْنٌ ۵ کَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ‘۔ کھانے اور پینے کی ساری لذتیں انسان کے لیے ادھوری ہیں اگر ان میں بیوی شریک نہ ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے سرمایۂ راحت و سکینت بنایا ہے۔ جس طرح اس دنیا میں آدمی اس شریک رنج و راحت کا محتاج ہے، جس کے بغیر اس کی بزم سونی رہتی ہے، اسی طرح جنت میں بھی اس کی لذت ادھوری رہ جاتی اگر یہ اس میں شریک نہ ہوتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ وہاں اس کو غزال چشم اور دُرّمکنون کی طرح اچھوتی اور پاک حوریں دے گا۔ ان دو صفتوں کے اندر ان حوروں کے حسن ظاہر اور حسن باطن کے سارے پہلو جمع ہو گئے۔
    صلہ ان کے ان اعمال کا جو وہ کرتے رہے۔
    یہ وہ اصل سرفرازی ہے جو ان جانبازوں کو حاصل ہو گی۔ فرمایا کہ یہ جو کچھ ان کو ملے گا ان کے اعمال کے بدلے میں ملے گا۔ اس کے وہ حق دار ہوں گے اور رب کریم لازماً ان کا یہ حق ادا کرے گا۔ انسان کی فطرت کے اس پہلو پر یہاں نظر رہے کہ اس کی نگاہوں میں جو قدر و قیمت اس چیز کی ہوتی ہے جو اس نے اپنے حق کے طور پر حاصل کی ہو وہ قدر و قیمت اس چیز کی نہیں ہوتی جو اس کو اتفاقاً حاصل ہو گئی ہو یا بطور صدقہ ملی ہو، خواہ یہ پہلی کے مقابل میں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
    اس میں وہ کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔
    یہ ان کے بےغل وغیش عیش کی طرف اشارہ ہے کہ دشمنوں، معترضوں اور نکتہ چینوں کی جتنی ژاژ خائیاں اور بکواسیں سننی ہیں وہ دنیا میں سن چکے ہوں گے اور جتنے چرکے سہنے ہیں وہ سہ چکے ہوں گے۔ وہاں نہ کسی بکواس کرنے والے کی بکواس ہو گی اور نہ کوئی گناہ کی بات ان کے کانوں میں پڑے گی۔
    صرف مبارک سلامت کے چرچے ہوں گے۔
    وہاں ان کے لیے رحمت ہی رحمت اور سلام ہی سلام ہے۔ رب رحیم و غفور کی طرف سے بھی سلام، فرشتوں کی طرف سے بھی سلام اور ساتھیوں کی طرف سے بھی سلام!! صبح بھی سلام اور شام بھی سلام!!
    اور رہے دہنے والے تو کیا کہنے ہیں داہنے والوں کے!
    ’اصحب الیمین‘ کی جنت: یہ اصحاب الیمین کی جنت کا بیان آ رہا ہے۔ اوپر ان کا ذکر ’اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے جس سے یہ بات متعین ہو گئی کہ قرآن میں ’اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ‘ اور ’أَصْحَابُ الْیَمِیْنِ‘ کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی وہ لوگ جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ ’مَآ أَصْحَابُ الْیَمِیْنِ‘ کا مفہوم بھی وہی ہے جو اوپر ’مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ‘ کا بیان ہوا۔ یعنی کیا کہنے ہیں ان کے مرتبہ کے! کیا پوچھنا ہے ان کی عظمت و شان کا! کیا بیان ہو ان کے عیش و آرام کا!
    بے خار بیریوں، (تہ بہ تہ کیلوں اور پھیلے ہوئے سایوں) میں۔
    یہ ان کی جنت کے پھلوں، اس کے سایہ اور اس کی طراوت کا ذکر ہے۔ ’فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوۡدٍ‘ ۔ ’سِدْرٌ‘ بیری کو کہتے ہیں۔ ہمارے علاقوں میں بیری کی کچھ زیادہ وقعت نہیں ہے اس وجہ سے ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ یہ کیا ایسا پھل ہے جس کا قرآن نے ذکر فرمایا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی، بعض علاقوں میں اس کے پھل نہایت لذیذ، خوشبودار اور خوش رنگ ہوتے ہیں۔ ثانیاً یہ جنت کی بیری ہے، جس کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل ہی کے پیرایہ میں ہو سکتا ہے۔ اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں ہے، صرف وہی لوگ اس حقیقت سے آشنا ہوں گے جن کو اصحاب الیمین میں شمولیت کا شرف حاصل ہو گا۔ ویسے قرآن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس درخت کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے۔ سورۂ نجم میں فرمایا ہے: ’وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرٰی ۵ عِنۡدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہَی ۵ عِندَہَا جَنَّۃُ الْمَأْوٰی ۵ إِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی‘ (النجم ۵۳: ۱۳-۱۶) (اور پیغمبر نے جبریل کو دوبارہ بھی اترتے دیکھا آخری سرے کی بیری کے پاس، اسی کے پاس جنت ماویٰ بھی ہے، جب کہ بیری کو چھائے ہوئے تھی جو چیز چھائے ہوئے تھی!) سورۂ نجم کی ان آیات کے تحت، اشارات قرآن کی رہنمائی میں، ہم نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ اس بیری کا ذکر ہے جو عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے نقطۂ اتصال پر ہے، اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے جہاں سے عالم لاہوت کی حدود شروع ہوتے ہیں۔ اس بیری پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انوار و تجلیات کا مشاہدہ فرمایا جس کا ذکر ’إِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی ۵ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی‘ (النجم ۵۳: ۱۶-۱۷) کے شان دار الفاظ میں ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ابتدائی مشاہدات نبوت، جو تورات اور قرآن میں بیان ہوئے ہیں، میں بھی ذکر آتا ہے کہ انھوں نے ایک درخت سے اللہ تعالیٰ کی آواز سنی اور اس پر انوار و تجلیات الٰہی کا مشاہدہ کیا۔ اگرچہ قرآن میں کوئی اشارہ اس طرح کا نہیں ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ وہ درخت کس چیز کا تھا لیکن دونوں واقعات میں یکسانی واضح ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ درخت بھی بیری ہی کا ہو۔ ’سِدْرٍ‘ کے ساتھ ’مَخْضُوۡدٍ‘ کی صفت اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ یہ بیری دنیا کی بیریوں کی طرح آزار پہنچانے والی نہیں ہو گی کہ کوئی ایک بیر لینے کی کوشش کرے تو اپنے ہاتھوں کو اس کے کانٹوں سے زخمی بھی کرائے؛ یہ بے خار اور بالکل بے آزار ہوں گی۔ اہل جنت جب چاہیں اور جہاں سے چاہیں گے ان کے پھل توڑ لیں گے۔ لفظ ’خضد‘ کسی کانٹوں والی چیز کے کانٹوں کو کاٹ دینے کے لیے آتا ہے۔ یہاں مقصود یہ بتانا ہے کہ ان کے پھلوں کی طرح ان کے درخت بھی دنیا کی بیریوں سے مختلف مزاج کے ہوں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس دنیا میں بھی بیریوں کی جو قسمیں جتنی ہی اچھی ہوتی ہیں اتنے ہی ان میں کانٹے کم ہوتے ہیں۔ کانٹے زیادہ جھڑ بیریوں میں ہوتے ہیں۔ قرآن میں اہل سبا کے جس جنت نشان باغ کی تباہی کا ذکر ہے اس میں بیریوں کی تباہی کا بھی ذکر ہے کہ وہ جھاڑ بن کے رہ گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پھل ان کے پسندیدہ پھلوں میں تھا اور اس کے درخت ان کے باغوں کی زینت بنتے تھے۔ اپنے خاندان کے اعتبار سے بھی بیر سیب کے خانوادہ سے نسبت رکھنے والا پھل ہے۔  
    (بے خار بیریوں)، تہ بہ تہ کیلوں (اور پھیلے ہوئے سایوں) میں۔
    ’وَطَلْحٍ مَّنۡضُوۡدٍ‘۔ ’طلح‘ کیلے کو کہتے ہیں۔ ’منضود‘ اس کے پھلوں کی تصویر ہے کہ وہ تہ بہ تہ ایک دوسرے سے پیوستہ ہوں گے۔ ان کی ترتیب اور ان کے چناؤ کا حسن گواہی دے گا کہ خالق نے خاص اہتمام سے اپنے بندوں کی ضیافت کے لیے ان کو چنا ہے۔
    (بے خار بیریوں، تہ بہ تہ کیلوں) اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔
    ’وَظِلٍّ مَّمْدُوۡدٍ ۵ وَمَآءٍ مَّسْکُوۡبٍ‘۔ یہ اس باغ کی شادابی اور اس کی طراوت کا بیان ہے کہ اس کے درخت اپنے زور اور شادابی کے سبب سے اس طرح ایک دوسرے کے متصل ہوں گے کہ ان کے اندر دھوپ کا گزر نہیں ہونے پائے گا اس وجہ سے ہر طرف سایہ ہی سایہ ہو گا اور اس میں دواماً پانی بھی بہایا جاتا رہے گا تاکہ اس کی رونق میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔
    اور پانی بہایا ہوا۔
    ’وَظِلٍّ مَّمْدُوۡدٍ ۵ وَمَآءٍ مَّسْکُوۡبٍ‘۔ یہ اس باغ کی شادابی اور اس کی طراوت کا بیان ہے کہ اس کے درخت اپنے زور اور شادابی کے سبب سے اس طرح ایک دوسرے کے متصل ہوں گے کہ ان کے اندر دھوپ کا گزر نہیں ہونے پائے گا اس وجہ سے ہر طرف سایہ ہی سایہ ہو گا اور اس میں دواماً پانی بھی بہایا جاتا رہے گا تاکہ اس کی رونق میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔
    میوے فراواں۔
    ’وَفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۵ لَّا مَقْطُوۡعَۃٍ وَلَا مَمْنُوۡعَۃٍ‘۔ یعنی اوپر جن پھلوں کا ذکر ہوا ہے محض مثال کے طور پر ہوا ہے۔ دوسرے بہت سے پھل بھی ہوں گے اور ان کا حال بھی اس دنیا کے پھلوں سے بالکل مختلف ہو گا۔ اس دنیا کا حال تو یہ ہے کہ ایک خاص وقت پر درخت کے پھل توڑ لیے جاتے ہیں یا ازخود ختم ہو جاتے ہیں لیکن وہاں کے درخت سدا بہار ہوں گے، ان کے پھل کبھی منقطع نہیں ہوں گے۔ اسی طرح اس دنیا کے باغوں کو یہ افتاد بھی پیش آتی ہے کہ ایک سال پھل آئے، دوسرے سال نہیں آئے یا بہت کم آئے۔ وہاں کے درختوں کو یہ آفت بھی کبھی پیش نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو بارآوری سے کبھی محروم نہیں فرمائے گا۔
    نہ کبھی منقطع ہونے والے نہ کبھی ممنوع۔
    ’وَفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۵ لَّا مَقْطُوۡعَۃٍ وَلَا مَمْنُوۡعَۃٍ‘۔ یعنی اوپر جن پھلوں کا ذکر ہوا ہے محض مثال کے طور پر ہوا ہے۔ دوسرے بہت سے پھل بھی ہوں گے اور ان کا حال بھی اس دنیا کے پھلوں سے بالکل مختلف ہو گا۔ اس دنیا کا حال تو یہ ہے کہ ایک خاص وقت پر درخت کے پھل توڑ لیے جاتے ہیں یا ازخود ختم ہو جاتے ہیں لیکن وہاں کے درخت سدا بہار ہوں گے، ان کے پھل کبھی منقطع نہیں ہوں گے۔ اسی طرح اس دنیا کے باغوں کو یہ افتاد بھی پیش آتی ہے کہ ایک سال پھل آئے، دوسرے سال نہیں آئے یا بہت کم آئے۔ وہاں کے درختوں کو یہ آفت بھی کبھی پیش نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو بارآوری سے کبھی محروم نہیں فرمائے گا۔
    اور اونچے بستر ہوں گے (اور ان کی بیویاں ہوں گی).
    یہ ان کی نشست گاہوں اور ان کی بیویوں کا ذکر ہے۔ اوپر سابقین مقربین کے ذکر میں، یاد ہو گا، ترتیب بیان اس سے مختلف ہے۔ اس فرق کے بعض نفسیاتی وجوہ ہیں لیکن اس طرح کی تفصیلات میں یہاں جانے کا موقع نہیں ہے۔ فرمایا کہ ان کے بیٹھنے کے لیے اونچے بچھونے ہوں گے اور ان کے لیے بیویاں ہوں گی جن کو ہم نے ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہو گا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیویوں کے لیے ضمیر بغیر کسی مرجع کے آ گئی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ضمیر کے لیے لفظوں میں کوئی مرجع نہیں ہے لیکن قرینہ نہایت واضح موجود ہے۔ عربی میں مثل ہے کہ ’الشئ بالشئ یذکر‘ بات سے بات یاد آتی ہے۔ یہاں بچھونوں کے ذکر کے بعد بیویوں کا ذکر اسی نوع کی چیز ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں تختوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ بیویوں کا ذکر آیا ہے۔ اسی تعلق کی بنا پر یہاں ان کا ذکر محض ضمیر سے کر دیا جس میں ایجاز کی بلاغت بھی ہے اور خواتین کے ذکر میں پردہ داری کے لحاظ کی تعلیم بھی۔ یہ بات کہ تختوں اور بچھونوں کے ساتھ قرآن میں بیویوں کا ذکر آیا ہے محتاج حوالہ نہیں ہے۔ لیکن محض اطمینان خاطر کے لیے ہم بعض شواہد نقل کیے دیتے ہیں۔ سورۂ طور میں ہے: مُتَّکِئِیْنَ عَلَی سُرُرٍ مَّصْفُوۡفَۃٍ وَزَوَّجْنَاہُم بِحُوۡرٍ عِیْنٍ (الطور ۵۲: ۲۰) ’’وہ ٹیک لگائے ہوں گے صف بہ صف بچھے ہوئے تختوں پر اور ہم ان کی شادیاں کر دیں گے غزال چشم حوروں کے ساتھ۔‘‘ اسی طرح سورۂ یٰسٓ میں ہے: ہُمْ وَأَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلَالٍ عَلَی الْأَرَائِکِ مُتَّکِئُؤۡنَ (یٰسٓ ۳۶: ۵۶) ’’وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔‘‘  
    اور (ان کی بیویاں ہوں گی) جن کو ہم نے ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہو گا۔
    ’اِنَّآ أَنشَأْنَاہُنَّ إِنشَآءً‘۔ ان حوروں کی تعریف میں فرمایا کہ ہم نے ان کو ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہے اس وجہ سے ان کی خصوصیات و صفات اس دنیا کی عورتوں کی خصوصیات و صفات سے بالکل مختلف ہوں گی۔ اس دنیا کی عورت کا کنوار پن اور اس کی جوانی و دل ربائی ہر چیز وقتی اور فانی ہے۔ اگر ماند شبے ماند شبِ دیگر نمی ماند لیکن حوران جنت کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بالکل مختلف ساخت پر نشوونما بخشی ہے اس وجہ سے ان کے کنوار پن اور حسن و جوانی پر کبھی خزاں نہیں آئے گی۔  
    پس ہم ان کو رکھیں گے کنواریاں۔
    ’فَجَعَلْنٰہُنَّ أَبْکَارًا‘۔ ’ف‘ یہاں اس خاص اٹھان کی وضاحت کے لیے ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کنواریاں رہیں گی۔ ان کے مرد جب بھی ان سے ملاقات کریں گے ان کی ملاقات اس اعتبار سے گویا پہلی ملاقات ہو گی۔
    (پس ہم ان کو رکھیں گے کنواریاں)، دل ربا اور ہم سِنیں۔
    ’عُرُبًا أَتْرَابًا‘۔ ’ف‘ یہاں اس خاص اٹھان کی وضاحت کے لیے ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کنواریاں رہیں گی۔ ان کے مرد جب بھی ان سے ملاقات کریں گے ان کی ملاقات اس اعتبار سے گویا پہلی ملاقات ہو گی۔ ’عُرب‘ جمع ہے ’عروب‘ کی۔ اس کے معنی ہیں محبوب اور دل ربا بیوی۔ ظاہر ہے کہ جب ان کے حسن، جوانی اور کنوار پن کسی چیز میں بھی فرق نہیں آئے گا تو شوہروں کی نظر سے ان کے گرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہو گی بلکہ وہ گل تر کی طرح ہمیشہ مطلوب و محبوب بنی رہیں گی۔ ’اتراب‘ جمع ہے ’تِرب‘ کی۔ یہ لفظ ہم سِن و ہم عمر کے معنی میں آتا ہے لیکن عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس کا غالب استعمال عورتوں کے لیے ہے اس وجہ سے میرے نزدیک یہاں یہ ہم جولیوں کے معنی میں ہے۔ سورۂ نبا میں ’کَوَاعِبَ اَتْرَابًا‘ (کنواری ہم جولیاں) کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کو جتنی حوریں بھی ملیں گی سب ہم جولیاں اور ہم سِنیں ہوں گی اس وجہ سے نہ ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کا سوال پیدا ہو گا اور نہ ان حوروں کے اندر رشک و رقابت کے جذبات ابھریں گے۔ جس طرح وہ ہمیشہ جوان اور کنواریاں رہیں گی اسی طرح ان کے شوہر بھی جوان رعنا رہیں گے۔
    یہ نعمتیں داہنے والوں کے لیے ہوں گی۔
    اس کو ’اِنَّآ أَنشَأْنٰہُنَّ إِنشَآءً‘ سے متعلق بھی مان سکتے ہیں اور مبتدائے محذوف کی خبر بھی قرار دے سکتے ہیں۔ اگر پہلی صورت مانیں تو معنی یہ ہوں گے کہ اس خاص اٹھان اور ان خاص اوصاف کی حوریں ہم نے اصحاب الیمین کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ دوسری صورت میں مفہوم یہ ہو گا کہ یہ ساری نعمتیں جو اوپر بیان ہوئیں، ہمارے ہاں اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔ میرا رجحان پہلی صورت کی طرف ہے۔ لیکن دونوں صورتوں میں سے جو بھی اختیار کی جائے باعتبار مدعا کوئی خاص فرق نہیں ہو گا، صرف بلاغت بیان کے اعتبار سے نازک سا فرق واقع ہو گا جس کا اندازہ اہل ذوق خود کر سکتے ہیں اس وجہ سے وجوہ ترجیح کی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
    ان میں اگلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ ہو گا۔
    اوپر ’سَابِقُوْنَ‘ کے ذکر میں بتایا ہے کہ اس گروہ میں بڑی تعداد اگلوں ہی میں سے ہو گی، پچھلوں میں سے اس میں شامل ہونے کی سعادت کم ہی خوش بختوں کو حاصل ہو گی۔ یہاں بتایا کہ ’اصحاب الیمین‘ میں اگلوں اور پچھلوں دونوں میں سے ایک ایک گروہ ہو گا۔ اوپر یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ اگلوں اور پچھلوں سے اسی امت کے اگلے اور پچھلے مراد ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قیام قیامت تک جتنے مسلمان اس دنیا میں آئیں گے ان میں سے ایسے لوگ برابر نکلتے رہیں گے جن کا شمار ’اصحاب الیمین‘ کے طبقہ میں ہو گا اور قیامت کے دن وہ ایک ہی گروہ کی حیثیت حاصل کر لیں گے۔
    اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔
    اوپر ’سَابِقُوْنَ‘ کے ذکر میں بتایا ہے کہ اس گروہ میں بڑی تعداد اگلوں ہی میں سے ہو گی، پچھلوں میں سے اس میں شامل ہونے کی سعادت کم ہی خوش بختوں کو حاصل ہو گی۔ یہاں بتایا کہ ’اصحاب الیمین‘ میں اگلوں اور پچھلوں دونوں میں سے ایک ایک گروہ ہو گا۔ اوپر یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ اگلوں اور پچھلوں سے اسی امت کے اگلے اور پچھلے مراد ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قیام قیامت تک جتنے مسلمان اس دنیا میں آئیں گے ان میں سے ایسے لوگ برابر نکلتے رہیں گے جن کا شمار ’اصحاب الیمین‘ کے طبقہ میں ہو گا اور قیامت کے دن وہ ایک ہی گروہ کی حیثیت حاصل کر لیں گے۔
    اور بائیں والے تو کیا ہی برا حال ہو گا بائیں والوں کا!
    ’اَصْحَابُ الشِّمَالِ‘ کا حشر: یہ ’اَصْحَابُ الشِّمَالِ‘ یعنی ان لوگوں کا حشر بیان ہو رہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔
    وہ لُو کی لپٹ، کھولتے پانی (اور دھوئیں کے سایہ) میں ہوں گے۔
    فرمایا کہ وہ لوؤں اور شعلوں کی لپٹ اور گرم پانی کے بیچ میں ہوں گے۔ جب گرمی کی ایذا سے گھبرا کر وہ پانی کی طرف بھاگیں گے تو انھیں کھولتا پانی پینے کو ملے گا۔ اسی بھاگ دوڑ میں ان کی زندگی گزرے گی۔ یہی مضمون ’یَطُوۡفُوۡنَ بَیْْنَہَا وَبَیْْنَ حَمِیْمٍ آنٍ‘ (الرحمٰن ۵۵: ۴۴) کے الفاظ سے بھی بیان ہوا ہے۔
    (وہ لُو کی لپٹ، کھولتے پانی) اور دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے۔
    ’وَظِلٍّ مِّنۡ یَّحْمُوۡمٍ‘۔ یعنی ان کو کوئی سایہ نصیب نہیں ہو گا۔ صرف سیاہ دھوئیں کا سایہ وہاں ان کے لیے ہو گا۔ اور یہ ان تمام خوبیوں سے محروم ہو گا جو سایہ میں ہوتی ہیں۔ سایہ میں اصل چیز ٹھنڈک ہوتی ہے لیکن اس دھوئیں کے سایہ میں اذیتیں تو وہ ساری ہوں گی جو دھوئیں کے اندر ہوتی ہیں لیکن کوئی ٹھنڈک نہیں ہو گی۔ اسی طرح بعض دوسرے فوائد کا امکان بھی اس میں ہو سکتا ہے، مثلاً شعلوں ہی کی لپٹ سے ذرا اس کے سایہ میں امان نصیب ہو جائے لیکن یہ چیز بھی اس سے حاصل نہیں ہو گی۔
    جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہو گی اور نہ کسی طرح کی کوئی افادیت۔
    ’کریم‘ کے معنی فیض بخش کے ہیں یعنی اس سایہ میں نہ ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اور فائدہ۔ سورۂ مرسلات میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے: ’لَا ظَلِیْلٍ وَلَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّہَبِ‘ (المرسلات ۷۷: ۳۱) (نہ سایہ دار اور نہ شعلوں سے بچانے والا)۔  
    یہ لوگ اس سے پہلے خوش حالوں میں تھے۔
    یہ ان کے بڑے جرائم کی طرف اشارہ ہے جن کے سبب سے وہ اس انجام بد کو پہنچے۔ اسلوب بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ دن لوگوں کے سامنے حاضر کر دیا گیا ہے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بدقسمت لوگ اس انجام کو پہنچے تو کیوں پہنچے! ’إِنَّہُمْ کَانُوۡا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ‘۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس سے پہلے یعنی دنیا میں بڑے مال دار اور عیش و رفاہیت والے رہے ہیں۔ یہ بات ان کے جرم کی حیثیت سے نہیں بیان ہوئی ہے بلکہ اس سے ان کے ان جرائم کی سنگینی واضح ہو رہی ہے جو آگے بیان ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو عیش و آرام اور دولت و ثروت سے نوازا جس کا حق یہ تھا کہ وہ اس کے شکر گزار و فرماں بردار بندے بنتے لیکن یہ اس سے استکبار میں مبتلا ہوئے اور سب سے بڑے گناہ پر برابر اصرار کرتے رہے۔ دوسرا مقصد اس سے اس پستی و بلندی کو نمایاں کرنا ہے جس کا ذکر قیامت کی صفت کی حیثیت سے ابتدائے سورہ میں ’خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ یعنی دیکھ لو، دنیا میں جو لوگ سب سے اونچے اور سربلند رہے وہ یہاں آ کر عذاب الٰہی کے کس کھڈ میں گرے!
    اور سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے رہے۔
    ’وَکَانُوۡا یُصِرُّوۡنَ عَلَی الْحِنثِ الْعَظِیْمِ‘۔ ’حنث‘ کے معنی گناہ کے ہیں۔ اس کی صفت یہاں عظیم آئی ہے جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس سے مراد شرک ہے۔ ’شرک‘ فلسفۂ دین کے نقطۂ نظر سے بھی سب سے بڑا گناہ ہے اور قرآن نے بھی اس کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا ہے۔
    اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ازسرنو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے!
    یہ ان کے دوسرے بڑے جرم کا ذکر ہے کہ وہ آخرت اور جزاء و سزا کے اس بنا پر منکر تھے کہ ان کے نزدیک مر کر سڑ گل جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ایک بالکل ناممکن بات تھی چنانچہ جب ان کو آخرت کے حساب کتاب سے آگاہ کیا جاتا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے کہ کیا جب ہم مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو ازسرنو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے اور ہمارے اگلے آباء و اجداد بھی، جو مدتوں پہلے خاک میں مل چکے ہیں، ازسرنو زندہ کیے جائیں گے؛ یعنی یہ بات انہونی ہے اور جو لوگ اس سے ڈرا رہے ہیں وہ محض ہم کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور وہ خود بھی عقل سے بالکل عاری ہیں۔
    اور کیا ہمارے اگلے آباء و اجداد بھی!
    یہ ان کے دوسرے بڑے جرم کا ذکر ہے کہ وہ آخرت اور جزاء و سزا کے اس بنا پر منکر تھے کہ ان کے نزدیک مر کر سڑ گل جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ایک بالکل ناممکن بات تھی چنانچہ جب ان کو آخرت کے حساب کتاب سے آگاہ کیا جاتا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے کہ کیا جب ہم مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو ازسرنو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے اور ہمارے اگلے آباء و اجداد بھی، جو مدتوں پہلے خاک میں مل چکے ہیں، ازسرنو زندہ کیے جائیں گے؛ یعنی یہ بات انہونی ہے اور جو لوگ اس سے ڈرا رہے ہیں وہ محض ہم کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور وہ خود بھی عقل سے بالکل عاری ہیں۔
    کہہ دو! اگلے اور پچھلے۔
    قریش کو تنبیہ:’اَصْحٰبُ الْشِّمَالِ‘ کے جرائم بیان کرتے ہوئے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قریش کو جواب دلوایا کہ یہی استبعاد آج تم میری تذکیر آخرت کے جواب میں پیش کرتے ہو تو اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ جتنے بھی اگلے اور پچھلے ہیں سب ایک معین دن کی مقررہ میقات تک جمع کیے جاتے رہیں گے اور جب وہ میقات آ جائے گی تو وہ جزاء و سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مر جاتے ہیں یہ نہ سمجھو کہ جس طرح تمہارے اندر سے وہ ختم ہو گئے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں سے بھی وہ ختم ہو گئے۔ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ذخیرہ میں جمع کیے جا رہے ہیں اور جب جزاء و سزا کا یوم موعود آ جائے گا تو وہ سب اٹھائے جائیں گے ۔۔۔ خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے۔
    سب جمع کیے جائیں گے، ایک معین دن کی مقررہ مدت تک۔
    ’لَمَجْمُوْعُوْنَ‘ کے بعد ’اِلٰی‘ اسی طرح استعمال ہوا ہے جس طرح دوسری جگہ فرمایا ہے: ’کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘ (الانعام ۶: ۱۲) (اللہ نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے، وہ تم کو روز قیامت تک لازماً جمع کرتا رہے گا)۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List