Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الرحمان (The Most Gracious, The Beneficent, The Mercy Giving)

    78 آیات | مدنی

    سورہ کا مزاج، عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس سورہ کو بعض لوگوں نے مدنی قرار دیا ہے لیکن پوری سورہ کا مدنی ہونا تو الگ رہا اس کی ایک آیت بھی مدنی نہیں معلوم ہوتی۔ پوری سورہ بالکل ہم آہنگ و ہم رنگ ہے اور پڑھنے والا صاف محسوس کرتا ہے کہ یہ بیک دفعہ نازل ہوئی ہے۔

    اپنے مزاج اور مطالب کے اعتبار سے یہ سورتوں کے اس زمرے سے تعلق رکھتی ہے جو مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کے جوش میں مخالفین اس مطالبہ پر اڑ گئے ہیں کہ جب تک ان کو کوئی نشانئ عذاب نہ دکھا دی جائے گی اس وقت تک نہ وہ یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ اس نئی دعوت کی تکذیب کے نتیجہ میں ان پر کوئی عذاب آ جائے گا اور نہ یہ تسلیم کرنے والے ہیں کہ فی الواقع آگے کوئی دن آنے والا ہے جس میں ان کو دائمی عذاب اور ابدی رسوائی سے دوچار ہونا پڑے۔

    ضد اور ہٹ دھرمی کی اس ذہنیت کے سبب سے سابق سورہ میں بھی آپ نے دیکھا ہے کہ ’فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۵ وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ‘ کی تذکیر بار بار دہرائی گئی ہے اور اس سورہ میں ’فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ‘ کی تنبیہ بار بار آئی ہے۔ کسی ایک ہی بات کی طرف باربار توجہ دلانے کا یہ اسلوب ظاہر ہے کہ اسی صورت میں اختیار کیا جاتا ہے جب مخاطب یا تو اتنا ضدی ہو کہ اپنی خواہش کے خلاف کوئی بات ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہو یا اتنا غبی ہو کہ جب تک اس کو کان پکڑ پکڑ کر ایک ایک چیز کی طرف توجہ نہ دلائی جائے اس سے کسی معقول بات کے سمجھنے کی توقع ہی نہ کی جا سکتی ہو۔

    کلام میں مخاطب کی ذہنیت اور اس کے مزاج کی رعایت ایک ناگزیر شے ہے۔ اگر متکلم یہ چیز ملحوظ نہ رکھ سکے تو اس کا کلام نہ مطابق حال ہو گا، نہ بلیغ۔ جو لوگ کلام کے ان تقاضوں سے نابلد ہوتے ہیں وہ اس نوعیت کے کلام کی خوبیوں اور نزاکتوں کے پرکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ ایک آیت کے باربار اعادے کو تکرار پر محمول کرتے اور اس تکرار کو ایک عیب قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ اس سورہ پر بھی بعض کم سوادوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس میں ایک ہی آیت کا بار بار اعادہ ہے۔ حالانکہ اگر وہ یہ سمجھ جائیں کہ اس میں مخاطب کس ذہنیت کے لوگ ہیں تو وہ پکار اٹھیں کہ اس سورہ کی ایک ایک ترجیع اپنے محل میں اس طرح جڑی ہوئی ہے جس طرح انگشتری میں نگینہ ہوتا ہے۔

    سورۂ قمر میں قریش کے ہٹ دھرموں کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ سے آخر کیوں سبق نہیں لیتے؟ کیوں اڑے ہوئے ہو کہ جب عذاب کا تازیانہ دیکھ لو گے تب ہی مانو گے؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے ایک کتاب اتاری جو ہر پہلو سے اس مقصد کے لیے نہایت موزوں ہے! اس سورہ میں اسی مضمون کو ایک نئے اسلوب اور نہایت اچھوتے انداز سے لیا ہے اور انھیں یہ سمجھایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم کے لیے قرآن اتارا۔ تمہاری فطرت کا تقاضا یہی تھا کہ اس مقصد کے لیے قرآن ہی اتارا جائے۔ جب اللہ نے تم کو نطق و بیان کی صلاحیت سے نوازا ہے تو تم بات سمجھ بھی سکتے ہو اور سمجھا بھی سکتے ہو۔ اس اعلیٰ صلاحیت کا حق یہی ہے کہ اسی کو تمہاری تعلیم کا ذریعہ بنایا جائے نہ کہ عذاب کے ڈنڈے کو، لیکن تمہاری یہ بدبختی ہے کہ تم اس نعمت و رحمت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کوئی نئی نشانی دیکھنے کے لیے مچلے ہوئے ہو۔ اگر کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو آسمان و زمین اور آفاق و انفس کی نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے جو ہر روز تمہارے مشاہدے میں آتی ہیں اور تمہیں انہی حقائق کے درس دیتی ہیں جن کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔ ان نشانیوں کے ہوتے کسی نئی نشانی کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے بعد زمین و آسمان کی ایک ایک نشانی پر انگلی رکھ کر اور گویا ان ضدیوں کے کان پکڑ پکڑ کر توجہ دلائی ہے کہ یہ نشانیاں نہیں ہیں تو کیا ہیں! آخر اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاتے رہو گے!

  • الرحمان (The Most Gracious, The Beneficent, The Mercy Giving)

    78 آیات | مدنی
    القمر ——- الرحمٰن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں ترجیع ہے، چنانچہ یہظاہری مناسبت بھی بالکل واضح ہے۔ دونوں سورتوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں خدا کی دینونت کے ظہور اور دوسری سورہ میں انفس و آفاق کے اندر اُس کی رحمت، قدرت اور حکمت و ربوبیت کی نشانیوں سے استدلال کیا گیا ہے۔

    دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو عذاب کے لیے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اُنھیں ایک ایک واقعے اور ایک ایک نشانی کی طرف توجہ دلاکر متنبہ کیا گیا ہے کہ اِن نشانیوں کو کیوں نہیں دیکھتے اور اِن واقعات سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ترجیع کی آیتیں دونوں سورتوں میں اِنھی ہٹ دھرم اور ضدی مخاطبین کو جھنجھوڑنے کے لیے آئی ہیں۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 055 Verse 001 Chapter 055 Verse 002 Chapter 055 Verse 003 Chapter 055 Verse 004 Chapter 055 Verse 005 Chapter 055 Verse 006 Chapter 055 Verse 007 Chapter 055 Verse 008 Chapter 055 Verse 009 Chapter 055 Verse 010 Chapter 055 Verse 011 Chapter 055 Verse 012 Chapter 055 Verse 013 Chapter 055 Verse 014 Chapter 055 Verse 015 Chapter 055 Verse 016 Chapter 055 Verse 017 Chapter 055 Verse 018 Chapter 055 Verse 019 Chapter 055 Verse 020 Chapter 055 Verse 021 Chapter 055 Verse 022 Chapter 055 Verse 023 Chapter 055 Verse 024 Chapter 055 Verse 025 Chapter 055 Verse 026 Chapter 055 Verse 027 Chapter 055 Verse 028 Chapter 055 Verse 029 Chapter 055 Verse 030
    Click translation to show/hide Commentary
    خدائے رحمان (نے قرآن کی تعلیم دی)۔
    قرآن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت ہے: یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ خاص مہربانی ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے قرآن کریم جیسی رحمت و برکت نازل فرمائی۔ وہ چاہتا تو تمہاری طلب کے مطابق تم پر عذاب بھی بھیج سکتا تھا، لیکن اس نے غایت رحمت کے سبب سے تم کو اپنے صحیفۂ رحمت سے نوازا کہ تم اس کو پڑھو، سمجھو اور اس کی روشنی میں اپنی عقلی و عملی کج رویوں کی اصلاح کر کے اس دنیا میں بھی پھلو پھولو اور آخرت میں بھی فلاح پاؤ ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے رب رحمان نے تمہیں اپنی رحمت سے نوازا تو تم رحمت کی جگہ اس کی نقمت کے طالب کیوں بنتے ہو!
    (خدائے رحمان نے) قرآن کی تعلیم دی۔
    قرآن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت ہے: یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ خاص مہربانی ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے قرآن کریم جیسی رحمت و برکت نازل فرمائی۔ وہ چاہتا تو تمہاری طلب کے مطابق تم پر عذاب بھی بھیج سکتا تھا، لیکن اس نے غایت رحمت کے سبب سے تم کو اپنے صحیفۂ رحمت سے نوازا کہ تم اس کو پڑھو، سمجھو اور اس کی روشنی میں اپنی عقلی و عملی کج رویوں کی اصلاح کر کے اس دنیا میں بھی پھلو پھولو اور آخرت میں بھی فلاح پاؤ ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے رب رحمان نے تمہیں اپنی رحمت سے نوازا تو تم رحمت کی جگہ اس کی نقمت کے طالب کیوں بنتے ہو!
    اس نے انسان کو پیدا کیا۔
    انسان کی فطرت مقتضی تھی کہ اس کی ہدایت کے لیے قرآن نازل ہو: یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے تقاضے کے ساتھ ساتھ انسان کی خلقت اور اس کی صفات کا تقاضا بھی یہی ہوا کہ اس کی رہنمائی کے لیے صحیفۂ ہدایت اترے نہ کہ تازیانۂ عذاب۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو نطق و گویائی کی تعلیم دی۔ یہ گویائی اس بات کی شہادت ہے کہ خالق نے اس کو ایک عاقل و مدرک ہستی بنایا ہے۔ وہ بات سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے خیر و شر میں امتیاز کر سکتا ہے اور دوسروں تک بھی اس کو پہنچا اور ان کو سمجھا سکتا ہے۔ جب ان گوناگوں صلاحیتوں سے وہ آراستہ ہے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ قدرت نے یہ چاہا ہے کہ اس کو کلام کے ذریعہ سے تعلیم دی جائے نہ کہ جانوروں کی طرح ڈنڈے کے ذریعے سے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان میں نطق کی صلاحیت اس کے اندر دوسری گوناگوں صلاحیتوں کی شاہد ہے۔ یہ نطق مستلزم ہے کہ انسان عاقل و مدرک ہے۔ وہ کلیات سے جزئیات اور جزئیات سے کلیات بنا سکتا ہے، وہ استدلال، استنباط اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ارسطو نے اسی وجہ سے انسان کی اسی صفت کو اس کے لیے حیوانات سے ممتاز کرنے والی صفت قرار دیا ہے۔ یہ صفت اس کے اندر نہ پائی جائے تو پھر وہ انسان نہیں بلکہ دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہے۔ اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو لوگ کسی حقیقت کو دلائل کی روشنی میں سمجھنے کی جگہ اس کو آنکھوں سے دیکھ کر ماننے کے منتظر ہیں وہ بھی جانوروں ہی کے گلے میں شامل ہیں، اگرچہ وہ رہتے شان دار بنگلوں میں ہوں۔
    اس کو گویائی سکھائی۔
    انسان کی فطرت مقتضی تھی کہ اس کی ہدایت کے لیے قرآن نازل ہو: یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے تقاضے کے ساتھ ساتھ انسان کی خلقت اور اس کی صفات کا تقاضا بھی یہی ہوا کہ اس کی رہنمائی کے لیے صحیفۂ ہدایت اترے نہ کہ تازیانۂ عذاب۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو نطق و گویائی کی تعلیم دی۔ یہ گویائی اس بات کی شہادت ہے کہ خالق نے اس کو ایک عاقل و مدرک ہستی بنایا ہے۔ وہ بات سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے خیر و شر میں امتیاز کر سکتا ہے اور دوسروں تک بھی اس کو پہنچا اور ان کو سمجھا سکتا ہے۔ جب ان گوناگوں صلاحیتوں سے وہ آراستہ ہے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ قدرت نے یہ چاہا ہے کہ اس کو کلام کے ذریعہ سے تعلیم دی جائے نہ کہ جانوروں کی طرح ڈنڈے کے ذریعے سے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان میں نطق کی صلاحیت اس کے اندر دوسری گوناگوں صلاحیتوں کی شاہد ہے۔ یہ نطق مستلزم ہے کہ انسان عاقل و مدرک ہے۔ وہ کلیات سے جزئیات اور جزئیات سے کلیات بنا سکتا ہے، وہ استدلال، استنباط اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ارسطو نے اسی وجہ سے انسان کی اسی صفت کو اس کے لیے حیوانات سے ممتاز کرنے والی صفت قرار دیا ہے۔ یہ صفت اس کے اندر نہ پائی جائے تو پھر وہ انسان نہیں بلکہ دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہے۔ اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو لوگ کسی حقیقت کو دلائل کی روشنی میں سمجھنے کی جگہ اس کو آنکھوں سے دیکھ کر ماننے کے منتظر ہیں وہ بھی جانوروں ہی کے گلے میں شامل ہیں، اگرچہ وہ رہتے شان دار بنگلوں میں ہوں۔
    سورج اور چاند ایک حساب سے گردش کرتے ہیں۔
    کائنات کی نشانیوں کی طرف ایک اشارہ: یہ اس کائنات کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ اگر قرآن کے انذار کی تصدیق کے لیے نشانیوں ہی کی ضرورت ہے تو کسی نئی نشانی کے منتظر کیوں ہو؟ اپنے سروں کے اوپر آسمان کی نشانیوں کو دیکھو، یہ سورج اور چاند کس پابندئ اوقات اور کس نظم و ضبط کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ کبھی منٹ اور سیکنڈ کا بھی کوئی فرق واقع ہونے پائے۔ پھر یہ دیکھو کہ یہ کس طرح ان حدود و قیود کی پابندی کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ٹھہرا دیے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ سورج اپنی سرحد میں لانگ کر چاند کے مدار میں گھس جائے یا چاند سورج کے حدود میں دراندازی کر دے:’لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ‘ (یٰس: ۴۰) (نہ سورج کے لیے یہ روا کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات کو یہ حق کہ وہ دن سے سبقت کر جائے۔ ہر ایک اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے)۔ کیا یہ نشانی ہر روز انسان کو یہ درس نہیں دیتی کہ جب اس کائنات کے خالق نے سورج اور چاند جیسی عظیم مخلوقات کو اپنے حدود و قیود کا پابند کر رکھا ہے تو انسان کو وہ کیوں اپنے امر و نہی کی پابندی سے آزاد رکھے گا؟ اور اگر انسان اس کے حدود و قیود کو توڑ کر دنیا میں اودھم مچانے کی جسارت کرے گا تو وہ آخر اس کو کیوں سزا نہیں دے گا؟ جو قانون اس نے اس کائنات کے ہر گوشے میں نافذ کر رکھا ہے اس کی پابندی کا سب سے زیادہ سزاوار تو انسان ہے۔
    اور ستارے اور درخت بھی سجدہ کرتے ہیں۔
    ’وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ‘۔ شمس و قمر کی پابندئ حدود، جس کو شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ سے تعبیر کرتے ہیں، کا حوالہ دینے کے بعد یہ آسمان کے ستاروں اور زمین کے درختوں کے سجدے کا ذکر فرمایا کہ یہ بھی اپنے خالق و مالک کو سجدہ کرتے اوراپنے عمل سے انسان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی اپنے رب سے سرکشی نہ کرے بلکہ نہایت فرماں بردارانہ اس کو سجدہ اور اس کی بندگی کرے۔ ستاروں اور درختوں کے سجدے کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے۔ اس بحث کو اس کے محل میں دیکھیے۔ یہاں اعادے میں طوالت ہو گی۔ ’اَلنَّجْمُ‘ کا صحیح مفہوم: ’اَلنَّجْمُ‘ سے بعض لوگوں نے زمین پر پیدا ہونے والے چھوٹے پودے، جھاڑ اور بیلوں وغیرہ کے قسم کی چیزیں مراد لی ہیں۔ غالباً ’شجر‘ کے ساتھ ستاروں کی مناسبت ان حضرات کی سمجھ میں نہیں آئی اس وجہ سے انھیں یہ تکلف کرنا پڑا حالانکہ ان دونوں کے درمیان نہایت واضح وصفی اشتراک موجود ہے۔ قرآن میں دونوں کے سجدہ کا ذکر مختلف اسلوبوں سے بار بار آیا ہے۔ اسی اشتراک کی بنا پر یہاں بھی دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ ہوا۔ اس سے آسمان و زمین دونوں کی ہم آہنگی واضح ہوتی ہے کہ ان کا رب ایک ہی ہے جس کو آسمان کے ستارے بھی سجدہ کرتے ہیں اور زمین کے درخت بھی۔ یہ امر واضح رہے کہ مجاہدؒ، قتادہؒ اور حسنؒ وغیرہ ’نجوم‘ کو اس کے معروف معنی ہی میں لیتے ہیں۔ ابن کثیرؒ نے بھی انہی لوگوں کی تائید کی ہے اور آیت’اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ‘ (الحج: ۱۸) (نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج، چاند اور ستارے بھی) کا حوالہ دیا ہے۔
    اور اس نے آسمان کو اونچا کیا اور اس میں میزان رکھی۔
    آسمان کی بعض روشن نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد خود آسمان کی طرف توجہ دلائی کہ اس کو دیکھو، ستونوں کے بغیر کس طرح تمہارے رب نے ایسی ناپیدا کنار چھت بلند کر دی جس کی وسعتوں کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ پھر دیکھو کہ اس بے پایاں عظمت و وسعت کے باوصف اس میں اس نے ایسا توازن رکھا ہے کہ اس کے کسی کونے گوشے میں نہ کوئی جھول کا پتہ دے سکتا ہے نہ کسی رخنے اور دراڑ کا۔ دوسرے مقام میں اسی حقیقت کی طرف یوں توجہ دلائی ہے: خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ. (لقمان: ۱۰) (اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت کسی سمت کو لڑھک جائے)۔ سورۂ ملک میں فرمایا ہے: الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ہ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ. (الملک: ۳-۴) (وہی ہے جس نے تہ بہ تہ سات آسمان بنائے اور تم خدائے رحمان کی اس کاریگری میں کوئی نقص نہیں پا سکتے۔ نگاہ دوڑاؤ، کیا دیکھتے ہو کہیں کوئی خلل! پھر نگاہ دوڑاؤ بار بار، نگاہ ناکام اور تھک کر واپس آ جائے گی)۔ ’بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ آسمان کی چھت میں توازن (میزان) قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جذب و کشش کے ایسے ستون استعمال کیے ہیں جو دوسروں کو نظر نہیں آتے۔  
    کہ تم بھی میزان میں تجاوز نہ کرو۔
    آسمان کے خالق کی پسند کا اظہار اس کی صفت سے: یعنی جب خالق نے اس کے اندر میزان رکھی جس پر یہ قائم ہے، یہ نہ ہو تو آسمان درہم برہم ہو جائے تو اس سے خالق کا مزاج اور اس کا ذوق معلوم ہوا کہ وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنے دائرۂ اختیار کے اندر اسی طرح توازن، عدل اور قسط کو ملحوظ رکھے۔ اس میزان میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے ورنہ سارے نظام معاش و معیشت میں فساد پھیل جائے گا۔ مطلب یہ نکلا کہ اسی عدل و قسط کی دعوت تمہیں قرآن دے رہا ہے جس کی شہادت تمہارے سروں پر پھیلے ہوئے آسمان کے ہر گوشے سے مل رہی ہے اور اسی کی خلاف ورزی کے نتائج سے تمہیں وہ ڈرا رہا ہے کہ اگر تم نے اپنے طغیان سے اندھے ہو کر یہ میزان درہم برہم کر ڈالی تو اس کی سزا اس دنیا میں بھی بھگتو گے اور آخرت میں بھی اس کا وبال تم پر آئے گا تو آخر یہ واضح بات جس کی شہادت آسمان و زمین کے گوشے گوشے سے مل رہی ہے، تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی! آفاق کی ان سبق آموز نشانیوں کو نظر انداز کر کے کسی صاعقۂ عذاب کے درپے کیوں ہو!
    اور ٹھیک تولو پورے انصاف کے ساتھ۔ اور وزن میں کمی نہ کرو۔
    اوپر والی بات ایک کلیہ کی حیثیت سے بیان ہوئی تھی۔ اسی کلیہ پر مبنی ایک دوسری حقیقت کی طرف توجہ دلائی جس کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ فرمایا کہ جس خدا کے بنائے ہوئے آسمان کی چھت کے نیچے رہتے ہو جب وہ میزان رکھنے والا اور عدل پسند ہے تو اس کی دنیا میں ڈنڈی ماری کی زندگی نہ بسر کرو بلکہ ناپ تول میں پورے انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور ہرگز تول میں کوئی کمی نہ کرو۔ قوم شعیب کی سرگزشت کے سلسلہ میں ہم اس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ ناپ تول میں کمی کوئی منفرد برائی نہیں ہے بلکہ یہ پورے نظام تمدن میں فساد کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہاں ایک مزید حقیقت واضح ہوئی کہ یہ برائی درحقیقت اس میزان کے منافی ہے جس ہر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین قائم فرمائے ہیں۔ اگر کوئی قوم اس فساد کو قبول کر لیتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اس بنیاد ہی کے ڈھا دینے کے درپے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کی تعمیر فرمائی ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی بنائی ہوئی زمین پر ایسے لوگوں کو کبھی گوارا نہیں کر سکتا۔ یہاں یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ ایک ہی بات مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے فرمائی گئی ہے۔ قرآن مجید پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلوب ان مواقع پر اختیار فرمایا گیا ہے جہاں اصل حکم کی خلاف ورزی نہایت خطرناک نتائج پر منتہی ہو سکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس میزان عدل کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو قوم اس میں فساد برپا کر دیتی ہے وہ سارے نظام تمدن میں فساد برپا کر دیتی ہے۔
    اور زمین کو اس نے بچھایا خلق کے لیے۔
    زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف اشارہ: آسمان کے عجائب قدرت کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف توجہ دلائی۔ آسمان کے لیے ’رفع‘ کا لفظ استعمال فرمایا تھا اس کے مقابل میں زمین کے لیے ’وضع‘ کا لفظ نہایت موزوں اور معنی خیز استعمال فرمایا کہ آسمان کو شامیانے کی طرح تان اور زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ اس کی مخلوقات کے لیے یہ ایک آرام دہ مکان بن جائے۔ پھر جس طرح آسمان پر سورج، چاند اور ستاروں کے چراغ اور قمقمے لگا دیے کہ اس گھر کو روشنی اور حرارت حاصل ہوتی رہے اسی طرح اس گھر میں مختلف قسم کے پھلوں، غلوں اور پھولوں کے انبار بھی لگا دیے کہ اس کے مکینوں کو غذا بھی حاصل ہو، اس کے پھلوں سے وہ لذت اندوز اور خوش کام ہوں اور اس کے پھول ان کے لیے باصرہ نوازی اور معطر شامی کا سامان بھی مہیا کریں۔ یہاں غلے کے ساتھ پھلوں اور خاص طور پر پھولوں کا ذکر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے صرف پیٹ بھرنے ہی کا سامان نہیں کیا ہے بلکہ ان کے ذوق جمال، لذت کام و دہن اور شوق آرائش کا بھی سامان کیا ہے جو اس کی ربوبیت ہی کی دلیل نہیں بلکہ خاص اہتمام ربوبیت کی دلیل ہے۔ اسی طرح ’حبّ‘ کے ساتھ ’ذوالعصف‘ کی صفت اور ’نخل‘ کے ساتھ ’ذات الاکمام‘ کی صفت اس خاص عنایت پر دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرمائی ہے کہ اس نے غلے اور پھل جو دیے تو اس طرح نہیں کہ گویا پھینک مارے ہوں بلکہ ایک ایک دانے اور ایک ایک پھل کی پیکنگ کا ایسا اعلیٰ انتظام فرمایا ہے کہ انسان اس کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اہتمام اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ انسان اپنے رب کی اس پروردگاری کا حق پہچانے، اس کا شکرگزار رہے، اور یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہوئے زندگی گزارے کہ جس نے اس کے لیے یہ سارا اہتمام کسی استحقاق کے بغیر کیا ہے وہ اس کو یوں ہی شتر بے مہار کی طرح چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ حساب کتاب کا بھی ایک دن وہ لائے گا۔ اس آیت میں لفظ ’ریحان‘ سے متعلق ایک تنبیہ بھی ضروری ہے بعض لوگوں نے اس کے معنی ’پتوں‘ کے لیے ہیں لیکن اس معنی میں یہ لفظ نہ عربی زبان میں استعمال ہوا ہے اور نہ یہاں پتوں کے ذکر کا کوئی محل ہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے غلہ کے ذکر کے ساتھ پھول کا ذکر ان حضرات کو بے جوڑ سا معلوم ہوا اس وجہ سے انھیں یہ انوکھی تاویل کرنی پڑی حالانکہ اس کے ذکر کا ایک محل ہے جس کی وضاحت ہم نے اوپر کر دی۔
    اس میں میوے اور کھجور ہیں جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔
    زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف اشارہ: آسمان کے عجائب قدرت کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف توجہ دلائی۔ آسمان کے لیے ’رفع‘ کا لفظ استعمال فرمایا تھا اس کے مقابل میں زمین کے لیے ’وضع‘ کا لفظ نہایت موزوں اور معنی خیز استعمال فرمایا کہ آسمان کو شامیانے کی طرح تان اور زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ اس کی مخلوقات کے لیے یہ ایک آرام دہ مکان بن جائے۔ پھر جس طرح آسمان پر سورج، چاند اور ستاروں کے چراغ اور قمقمے لگا دیے کہ اس گھر کو روشنی اور حرارت حاصل ہوتی رہے اسی طرح اس گھر میں مختلف قسم کے پھلوں، غلوں اور پھولوں کے انبار بھی لگا دیے کہ اس کے مکینوں کو غذا بھی حاصل ہو، اس کے پھلوں سے وہ لذت اندوز اور خوش کام ہوں اور اس کے پھول ان کے لیے باصرہ نوازی اور معطر شامی کا سامان بھی مہیا کریں۔ یہاں غلے کے ساتھ پھلوں اور خاص طور پر پھولوں کا ذکر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے صرف پیٹ بھرنے ہی کا سامان نہیں کیا ہے بلکہ ان کے ذوق جمال، لذت کام و دہن اور شوق آرائش کا بھی سامان کیا ہے جو اس کی ربوبیت ہی کی دلیل نہیں بلکہ خاص اہتمام ربوبیت کی دلیل ہے۔ اسی طرح ’حبّ‘ کے ساتھ ’ذوالعصف‘ کی صفت اور ’نخل‘ کے ساتھ ’ذات الاکمام‘ کی صفت اس خاص عنایت پر دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرمائی ہے کہ اس نے غلے اور پھل جو دیے تو اس طرح نہیں کہ گویا پھینک مارے ہوں بلکہ ایک ایک دانے اور ایک ایک پھل کی پیکنگ کا ایسا اعلیٰ انتظام فرمایا ہے کہ انسان اس کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اہتمام اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ انسان اپنے رب کی اس پروردگاری کا حق پہچانے، اس کا شکرگزار رہے، اور یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہوئے زندگی گزارے کہ جس نے اس کے لیے یہ سارا اہتمام کسی استحقاق کے بغیر کیا ہے وہ اس کو یوں ہی شتر بے مہار کی طرح چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ حساب کتاب کا بھی ایک دن وہ لائے گا۔ اس آیت میں لفظ ’ریحان‘ سے متعلق ایک تنبیہ بھی ضروری ہے بعض لوگوں نے اس کے معنی ’پتوں‘ کے لیے ہیں لیکن اس معنی میں یہ لفظ نہ عربی زبان میں استعمال ہوا ہے اور نہ یہاں پتوں کے ذکر کا کوئی محل ہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے غلہ کے ذکر کے ساتھ پھول کا ذکر ان حضرات کو بے جوڑ سا معلوم ہوا اس وجہ سے انھیں یہ انوکھی تاویل کرنی پڑی حالانکہ اس کے ذکر کا ایک محل ہے جس کی وضاحت ہم نے اوپر کر دی۔
    اور بُھس والے اناج بھی ہیں اور خوشبو دار پھول بھی۔
    زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف اشارہ: آسمان کے عجائب قدرت کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف توجہ دلائی۔ آسمان کے لیے ’رفع‘ کا لفظ استعمال فرمایا تھا اس کے مقابل میں زمین کے لیے ’وضع‘ کا لفظ نہایت موزوں اور معنی خیز استعمال فرمایا کہ آسمان کو شامیانے کی طرح تان اور زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ اس کی مخلوقات کے لیے یہ ایک آرام دہ مکان بن جائے۔ پھر جس طرح آسمان پر سورج، چاند اور ستاروں کے چراغ اور قمقمے لگا دیے کہ اس گھر کو روشنی اور حرارت حاصل ہوتی رہے اسی طرح اس گھر میں مختلف قسم کے پھلوں، غلوں اور پھولوں کے انبار بھی لگا دیے کہ اس کے مکینوں کو غذا بھی حاصل ہو، اس کے پھلوں سے وہ لذت اندوز اور خوش کام ہوں اور اس کے پھول ان کے لیے باصرہ نوازی اور معطر شامی کا سامان بھی مہیا کریں۔ یہاں غلے کے ساتھ پھلوں اور خاص طور پر پھولوں کا ذکر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے صرف پیٹ بھرنے ہی کا سامان نہیں کیا ہے بلکہ ان کے ذوق جمال، لذت کام و دہن اور شوق آرائش کا بھی سامان کیا ہے جو اس کی ربوبیت ہی کی دلیل نہیں بلکہ خاص اہتمام ربوبیت کی دلیل ہے۔ اسی طرح ’حبّ‘ کے ساتھ ’ذوالعصف‘ کی صفت اور ’نخل‘ کے ساتھ ’ذات الاکمام‘ کی صفت اس خاص عنایت پر دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرمائی ہے کہ اس نے غلے اور پھل جو دیے تو اس طرح نہیں کہ گویا پھینک مارے ہوں بلکہ ایک ایک دانے اور ایک ایک پھل کی پیکنگ کا ایسا اعلیٰ انتظام فرمایا ہے کہ انسان اس کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اہتمام اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ انسان اپنے رب کی اس پروردگاری کا حق پہچانے، اس کا شکرگزار رہے، اور یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہوئے زندگی گزارے کہ جس نے اس کے لیے یہ سارا اہتمام کسی استحقاق کے بغیر کیا ہے وہ اس کو یوں ہی شتر بے مہار کی طرح چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ حساب کتاب کا بھی ایک دن وہ لائے گا۔ اس آیت میں لفظ ’ریحان‘ سے متعلق ایک تنبیہ بھی ضروری ہے بعض لوگوں نے اس کے معنی ’پتوں‘ کے لیے ہیں لیکن اس معنی میں یہ لفظ نہ عربی زبان میں استعمال ہوا ہے اور نہ یہاں پتوں کے ذکر کا کوئی محل ہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے غلہ کے ذکر کے ساتھ پھول کا ذکر ان حضرات کو بے جوڑ سا معلوم ہوا اس وجہ سے انھیں یہ انوکھی تاویل کرنی پڑی حالانکہ اس کے ذکر کا ایک محل ہے جس کی وضاحت ہم نے اوپر کر دی۔
    تو اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کن کن عنایتوں کو جھٹلاؤ گے!
    جنوں کو خطاب کرنے کی ایک خاص وجہ: یہ آیت آگے بار بار آئے گی اور یہ اس سورہ کی اہم ترین آیت ہے اس وجہ سے ہم نے تمہید ہی میں لفظ ’اٰلَآء‘ کی تحقیق بھی بیان کر دی ہے اور اس میں جنوں اور انسانوں سے جو خطاب ہے اس کی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ البتہ ایک بات ہم یہاں واضح کریں گے وہ یہ کہ قریش کے مکذبین کے ساتھ جنات کے مکذبین کو بھی یہاں جو شامل کر لیا ہے تو اس کی ایک خاص وجہ ہے کہ تکذیب کی یہ مہم اس دور میں پوری شدت اختیار کر گئی تھی اور شیاطین انس و جن، دونوں گٹھ جوڑ کر کے اپنا پورا زور صرف کر رہے تھے کہ دعوت حق کے قدم اکھاڑ دیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو براہ راست خطاب کر کے ان کو سرزنش بھی فرمائی اور آگے کی آیات سے معلوم ہو گا کہ ان کو چیلنج بھی کیا ہے کہ وہ اپنا سارا زور لگا کر دیکھ لیں، کلمۂ حق ان کے علی الرغم بلند ہو کر رہے گا۔ تمہید میں یہ بات ہم واضح کر چکے ہیں کہ یہ سورہ مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب قریش پر ضد اور مخاصمت کا بخار پوری شدت کے ساتھ چڑھا ہوا تھا۔ اس دور میں ظاہر ہے کہ ان کو شیاطین جن کی کمک بھی سب سے زیادہ حاصل ہوئی ہو گی۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ دونوں مخاطب کیے جائیں۔ منعم کی شکرگزاری فطرت کا تقاضا ہے: نعمت کے ساتھ منعم کی شکرگزاری اور ربوبیت کے ساتھ مسؤلیت کا احساس انسانی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں سے ایک شخص متمتع تو ہو رہا ہے لیکن وہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ ان کے عوض میں اس کے اوپر نعمتوں کے بخشنے والے کا کوئی حق بھی قائم ہوتا ہے یا ان کے باب میں اس سے کوئی پرسش بھی ہونی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ان تمام نعمتوں کا مکذب ہے۔ قرآن نے یہاں اسی تکذیب پر قریش اور ان کے ہم مشرب جنوں کو سرزنش فرمائی ہے کہ ہر قوم پر تمہارے سامنے تمہارے رب کی وہ نعمتیں موجود ہیں جو تمہیں روز باز پرس کی یاددہانی کر رہی ہیں لیکن تم اس کا انکار کیے جا رہے ہو تو اس کی کن کن نعمتوں اور عنایتوں کی تکذیب کرو گے!
    اس نے پیدا کی انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے۔
    انسانی خِلقت کے مختلف مراحل سے قیامت پر استدلال: یہ جنوں اور انسانوں دونوں کو ان کی خِلقت یاد دلا کر ان کی دوسری خِلقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب ایک مرتبہ پیدا کرنے کے بعد تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں رہا اس وجہ سے اب کسی روز حساب کا معاملہ خارج از امکان ہو گیا۔ یاد رکھو کہ جس میٹیریل سے اس نے تم کو پیدا کیا ہے وہ میٹیریل بھی پوری مقدار میں موجود ہے اور خدا کی قدرت تخلیق بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح تمہاری خلقت اول کے وقت موجود تھی تو اگر تم اپنی خلقت کا انکار نہیں کر سکتے تو اپنی دوبارہ پیدائش سے انکار کی بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ ’صلصال‘ خالص مٹی کو کہتے ہیں اور ’فَخَّار‘ اس مٹی کو کہتے ہیں جو ٹھیکرے کی طرف خشک ہو جائے۔ زندگی جن مراحل سے گزرتی ہوئی انسانیت کے مرحلے تک پہنچتی ہے قرآن نے جگہ جگہ ان تمام مراحل کا حوالہ دیا ہے۔ کہیں فرمایا ہے، انسان کو پانی سے پیدا کیا، کہیں مٹی کا حوالہ دیا ہے، کہیں سڑے ہوئے گارے کا ذکر کیا ہے۔ یہاں خشک مٹی کا ذکر ہے۔ اسی طرح سب سے آخری مرحلہ یہ بیان ہوا ہے کہ نطفہ سے اس کی نسل جاری کی۔ یہ انسانی زندگی کے ارتقائی مراحل ہیں جن کی وضاحت سورۂ حجر آیت ۲۶ کے تحت ہو چکی ہے۔ ان مراحل کے بیان سے مقصود انسان کو خود اس کے وجود کے اندر خدا کی شانوں، قدرتوں اور حکمتوں کا مشاہدہ کرانا ہے تاکہ انسان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جائے کہ یہ خدا ہی کی شان ہے کہ اس نے اس کو پانی اور کیچڑ سے نکالا، پھر میدانی علاقوں کی خشک و معتدل آب و ہوا میں اس کی پرورش کی، پھر درجہ بدرجہ اس کو ایک نیا ہیولیٰ بخشا اور اس کی نسل چلانے کے لیے ایک نیا نظام قائم فرمایا۔ ان باتوں کے بیان سے ظاہر ہے کہ مقصود یہ ثابت کرنا ہے کہ جس انسان کو اللہ تعالیٰ ان طویل راستوں سے گزار کر اس اہتمام سے یہاں تک لایا ہے اس کا وجود بے غایت و بے مقصد نہیں ہو سکتا اور ساتھ ہی یہ دکھانا بھی ہے کہ جو خدائے علیم و حکیم کیچڑ کے اندر پیدا ہونے والے ایک خلیہ کو انسان بنا دے سکتا ہے اس کی قدرت سے کوئی بات بھی بعید نہیں ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    اور پیدا کیا جنات کو شعلۂ آتش سے۔
    جنات کی خلقت آگ کے شعلہ سے ہوئی: ’وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ‘۔ ’مارج‘ کے معنی شعلہ کے ہیں۔ شعلہ آگ کا خلاصہ ہوتا ہے۔ جس طرح انسان مٹی کے خلاصہ اور جوہر سے پیدا ہوا ہے اسی طرح جنات کی پیدائش آگ کے جوہر سے ہوئی ہے ان کے مدارج حیات کی زیادہ تفصیل قرآن نے نہیں کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ے کہ ایک بالکل مختلف نوع کے تمام مدارج خلقت کو سمجھنا ہمارے لیے نہایت مشکل تھا۔
    تو تم دونوں اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے!
    اس کے بعد وہی آیت ترجیع ہے جس کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب یہاں ہو گا کہ جب اپنے رب کی یہ شانیں اور یہ قدرتیں و حکمتیں خود اپنے وجود کے اندر مشاہدہ کرتے ہو تو اس بات کو کیوں بعید از امکان سمجھتے ہو کہ خدا تمہیں دوبارہ حساب کتاب کے لیے اٹھا کھڑا کرے، آخر اپنے رب کی کتنی نشانیوں کو جھٹلاتے اور نئی نشانیوں کا مطالبہ کرتے رہو گے!
    وہی مشرق کے دونوں اطراف کا خداوند ہے اور وہی مغرب کے دونوں اطراف کا بھی خداوند ہے۔
    مشرق اور مغرب کے مثنیٰ لانے کی وجہ: یعنی مشرق و مغرب، سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ نہ کوئی اس کے حدود مملکت سے باہر ہے اور نہ کوئی اس کی خدائی میں حصہ دار ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مشرق و مغرب کا بلا شرکت غیرے مالک ہے۔ اس کے آسمانوں اور زمین میں بالشت بھر علاقہ بھی کسی اور کے قبضہ میں نہیں ہے کہ وہ اس علاقہ والوں کو خدا کی پکڑ سے بچا لے۔ سورۂ معارج میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے: ’فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ ۵ عَلَی أَن نُّبَدِّلَ خَیْْراً مِّنْہُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْنَ‘ (۴۰-۴۱) (پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے خداوند کی، ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان سے بہتر صورت میں بدل کر ان کو اٹھا کھڑا کریں اور ہم اس کام میں عاجز ہونے والے نہیں ہیں)۔ ’مشرقین‘ اور ’مغربین‘ کے مثنیٰ لانے کی توجیہ عام طور پر ہمارے مفسرین نے یہ کی ہے کہ اس سے سردی اور گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں لیکن یہ محض تکلف ہے۔ قرآن میں یہ الفاظ واحد، مثنیٰ، جمع تینوں صورتوں میں استعمال ہوئے ہیں اور ان تینوں ہی صورتوں میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ مثنیٰ کی صورت میں مقصود ان کے دونوں اطراف کا احاطہ ہوتا ہے اور جمع کی شکل میں ان کے اطراف و اکناف کی بے نہایت وسعت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ مثنیٰ اور جمع کے اس نوع کے استعمال کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔  
    تو تم اپنے رب کی کن کن عظمتوں کو جھٹلاؤ گے!
    اس کے بعد وہی ترجیع ہے جو اوپر گزر چکی ہے یعنی جس خدا کی عظمت و شان کا حال یہ ہے کہ مشرق و مغرب سب اس کے زیرنگیں ہیں، اگر اس کے انذار کو سمجھتے ہو کہ یہ ڈراوے محض ہوائی ہیں تو آخر اس کی کن کن عظمتوں کی تکذیب کرو گے!
    اس نے چھوڑے دو دریا، دونوں ٹکراتے ہیں۔
    توحید کی دلیل اضداد کے توافق کے پہلو سے: یہ اوپر کے دعوائے توحید کی دلیل اس کائنات کے اضداد میں توافق کے پہلو سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کے ہر گوشے میں بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے، طلوع کے ساتھ غروب، دن کے ساتھ رات، اور سردی کے مقابل میں گرمی سے تو اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے اندر مختلف ارادے اور مشیتیں کارفرما ہیں۔ انسان اگر اس کی تہ میں جھانک کر دیکھے تو معلوم ہو گا کہ اس کے ہر تضاد کے اندر نہایت گہرا توافق اور نہایت عمیق سازگاری ہے۔ ہر چیز اپنے مقابل کے ساتھ مل کر ایک بالاتر مقصد کی خدمت میں لگی ہوئی ہے جو اس بات کی شہادت ہے کہ درحقیقت ایک ہی ارادہ اس تمام کائنات پر حکمران ہے جو اس کے تمام اضداد کو اپنی حکمت کے تحت کائنات کے مجموعی مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ فرمایا کہ دیکھو، وہ دو دریاؤں کو چھوڑتا ہے، ایک کھاری ہوتا ہے، دوسرا شیریں، دونوں آپس میں ٹکراتے ہیں لیکن خدائے قادر و حکیم دونوں کے درمیان ایک ایسا غیر مرئی پردہ ڈال دیتا ہے کہ وہ دونوں ملتے بھی ہیں اور الگ الگ اپنے مزاج پر قائم بھی رہتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ کھاری دریا شیریں یا شیریں دریا کھاری بن جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ظاہری تضاد کو دیکھ کر اس مغالطہ میں پڑ گئے کہ اس کے اندر متضاد ارادے کارفرما ہیں اور پھر انھوں نے اپنے اپنے تصور کے مطابق اپنے الگ الگ دیوتا بنا لیے ان کی نظر اس توافق پر نہیں پڑی جو ہر تضاد کے اندر موجود ہے اور جو توحید کی سب سے بڑی حجت ہے۔
    لیکن ان کے درمیان ایک پردہ حائل رہتا ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔
    توحید کی دلیل اضداد کے توافق کے پہلو سے: یہ اوپر کے دعوائے توحید کی دلیل اس کائنات کے اضداد میں توافق کے پہلو سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کے ہر گوشے میں بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے، طلوع کے ساتھ غروب، دن کے ساتھ رات، اور سردی کے مقابل میں گرمی سے تو اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے اندر مختلف ارادے اور مشیتیں کارفرما ہیں۔ انسان اگر اس کی تہ میں جھانک کر دیکھے تو معلوم ہو گا کہ اس کے ہر تضاد کے اندر نہایت گہرا توافق اور نہایت عمیق سازگاری ہے۔ ہر چیز اپنے مقابل کے ساتھ مل کر ایک بالاتر مقصد کی خدمت میں لگی ہوئی ہے جو اس بات کی شہادت ہے کہ درحقیقت ایک ہی ارادہ اس تمام کائنات پر حکمران ہے جو اس کے تمام اضداد کو اپنی حکمت کے تحت کائنات کے مجموعی مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ فرمایا کہ دیکھو، وہ دو دریاؤں کو چھوڑتا ہے، ایک کھاری ہوتا ہے، دوسرا شیریں، دونوں آپس میں ٹکراتے ہیں لیکن خدائے قادر و حکیم دونوں کے درمیان ایک ایسا غیر مرئی پردہ ڈال دیتا ہے کہ وہ دونوں ملتے بھی ہیں اور الگ الگ اپنے مزاج پر قائم بھی رہتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ کھاری دریا شیریں یا شیریں دریا کھاری بن جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ظاہری تضاد کو دیکھ کر اس مغالطہ میں پڑ گئے کہ اس کے اندر متضاد ارادے کارفرما ہیں اور پھر انھوں نے اپنے اپنے تصور کے مطابق اپنے الگ الگ دیوتا بنا لیے ان کی نظر اس توافق پر نہیں پڑی جو ہر تضاد کے اندر موجود ہے اور جو توحید کی سب سے بڑی حجت ہے۔
    تو تم اپنے رب کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے۔
    آخر میں وہی ترجیع ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔ یعنی ان روشن شواہد کے بعد بھی اگر اس مغالطہ میں مبتلا ہو کہ خدا نے تم کو پکڑا تو تمہارے دیوی دیوتا تم کو بچا لیں گے، تو آخر اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاؤ گے۔
    ان دونوں ہی سے نکلتے ہیں موتی اور مونگے۔
    یہ ایک مشترک مجموعی فائدہ کی طرف اشارہ ہے جو باوصف تضاد ان سے حاصل ہوتا ہے کہ ان دونوں ہی سے موتی اور مونگے حاصل ہوتے ہیں جو انسان کے لیے دولت بھی ہیں اور زینت بھی۔ بعض مفسرین کا ایک غلط دعویٰ: بعض مفسرین نے یہاں یہ سوال اٹھایا ہے کہ مونگے اور موتی تو صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں اور قرآن کا بیان یہ ہے کہ دونوں سے نکلتے ہیں تو اس کا جواب کیا ہے؟ ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ موتی صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹیانیکا (ENCYCLOPAEDIA BRITANICA) میں موتی پر جو مضمون ہے اس کا ایک ضروری اقتباس ہم یہاں درج کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مونگے اور موتی میٹھے پانی سے بھی نکلتے ہیں۔ مضمون نگار لکھتا ہے: ’’نصف کرۂ شمالی کے منطقہ معتدلہ میں میٹھے پانی کے سیپ کے کیڑے (FRESH WATERS MUSSELS) بہت قیمتی موتی پیدا کرتے رہے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے میٹھے پانی کے موتی زیادہ تر دریائے مس سس پی (MISSISSIPPI RIVER) سے نکلتے ہیں۔ برطانیہ میں موتی نکالنے کی صنعت اب زوال پر ہے، لیکن سکاٹ لینڈ کے دریاؤں، سفے (SPEY) اور طے (TAY) اور شمالی ویلز کے دریا کان وے (CONWAY) سے نکلنے والے موتیوں کی ایک زمانے میں بہت مانگ رہی ہے۔ چین میں میٹھے پانی سے موتی نکالنے کی صنعت ہزار برس قبل مسیح سے معروف ہے۔‘‘ (انسائیکلو پیڈیا برٹیانیکا مضمون: PEARL) اور بالفرض کھاری پانی ہی سے نکلتے ہوں جب بھی اس سے قرآن کے بیان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ قانون قدرت یہ ہے کہ اشیاء تضادات کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ بچہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ پرورش اگرچہ ماں کے پیٹ میں پاتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ عورت اور مرد، دونوں سے وجود میں آتا ہے۔ اسی طرح موتی شیریں اور کھاری، دونوں ہی پانیوں کے ملاپ سے پیدا ہوتے ہیں اگرچہ وہ پرورش کھاری پانی ہی کے اندر پاتے ہوں۔  
    تو تم اپنے رب کی کن کن نیرنگیوں کو جھٹلاؤ گے!
    اس کے بعد وہی ترجیع ہے جو اوپر گزر چکی ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
    اسی کے اختیار میں ہیں سمندروں میں پہاڑوں کی طرح اٹھے ہوئے جہاز۔
    تضاد کے اندر توافق کی ایک اور نشانی: تضاد کے باوصف توافق کی ایک اور نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی خدا ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں کی طرح اونچے اور بھاری بھاری جہاز سمندروں کے سینے پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ کوئی وزن رکھنے والی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پانی کے اندر ڈالیے تو ڈوب جاتی ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی کارسازی ہے کہ جہاز جیسی چیز، ہزاروں ٹن سامان اپنے اوپر لادے ہوئے، پانی کو چیرتی ہوئی چلتی اور ڈوبنے سے محفوظ رہتی ہے۔ ’لَہٗ‘ سے مطلب یہاں یہ ہے کہ تضادات کے اندر اس قسم کی موافقت و سازگاری پیدا کرنا صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہی کے اختیار میں ہے۔ صرف اسی کی قدرت و حکمت سے ایسے کرشمے ظہور میں آتے ہیں اور تم ہر جگہ یہ دیکھ رہے ہو تو اپنے رب کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے! یہ مضمون سورۂ فاطر میں اس طرح بیان ہوا ہے: وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرَانِ ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہُ وَہَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنۡ کُلٍّ تَأْکُلُوۡنَ لَحْماً طَرِیّاً وَتَسْتَخْرِجُوۡنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوۡنَہَا وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوۡا مِنۡ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ (فاطر: ۱۲) ’’اور دونوں دریا یکساں نہیں ہوتے۔ ایک شیریں اور خالص، جس کا پانی پینے کے لیے خوش گوار ہوتا ہے اور دوسرا کھاری تلخ۔ اور ان دونوں ہی سے تم تازہ گوشت بھی کھاتے ہو اور آرائش کے سامان بھی نکالتے ہو جن کو پہنتے ہو۔ اور کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ ان میں پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم اس کا فضل چاہو اور تاکہ اس کے شکرگزار بنو۔‘‘ سورۂ شوریٰ کی آیات کے تحت بھی یہ مضمون بیان ہو چکا ہے۔ مزید تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔  
    تو تم اپنے رب کے کن کن عجائب کو جھٹلاؤ گے!
    تضاد کے اندر توافق کی ایک اور نشانی: تضاد کے باوصف توافق کی ایک اور نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی خدا ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں کی طرح اونچے اور بھاری بھاری جہاز سمندروں کے سینے پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ کوئی وزن رکھنے والی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پانی کے اندر ڈالیے تو ڈوب جاتی ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی کارسازی ہے کہ جہاز جیسی چیز، ہزاروں ٹن سامان اپنے اوپر لادے ہوئے، پانی کو چیرتی ہوئی چلتی اور ڈوبنے سے محفوظ رہتی ہے۔ ’لَہٗ‘ سے مطلب یہاں یہ ہے کہ تضادات کے اندر اس قسم کی موافقت و سازگاری پیدا کرنا صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہی کے اختیار میں ہے۔ صرف اسی کی قدرت و حکمت سے ایسے کرشمے ظہور میں آتے ہیں اور تم ہر جگہ یہ دیکھ رہے ہو تو اپنے رب کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے! یہ مضمون سورۂ فاطر میں اس طرح بیان ہوا ہے: وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرَانِ ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہُ وَہَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنۡ کُلٍّ تَأْکُلُوۡنَ لَحْماً طَرِیّاً وَتَسْتَخْرِجُوۡنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوۡنَہَا وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوۡا مِنۡ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ (فاطر: ۱۲) ’’اور دونوں دریا یکساں نہیں ہوتے۔ ایک شیریں اور خالص، جس کا پانی پینے کے لیے خوش گوار ہوتا ہے اور دوسرا کھاری تلخ۔ اور ان دونوں ہی سے تم تازہ گوشت بھی کھاتے ہو اور آرائش کے سامان بھی نکالتے ہو جن کو پہنتے ہو۔ اور کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ ان میں پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم اس کا فضل چاہو اور تاکہ اس کے شکرگزار بنو۔‘‘ سورۂ شوریٰ کی آیات کے تحت بھی یہ مضمون بیان ہو چکا ہے۔ مزید تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔  
    روئے زمین پر جو بھی ہیں سب فانی ہیں۔
    مذکورہ بالا دلائل کا لازمی نتیجہ: ضمیر مجرور کا مرجع ’الارض‘ (زمین) ہے۔ اس کا ذکر اوپر آیت ۱۰ سے چلا آ رہا ہے۔ زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے انسان کی پرورش کا جو سامان کیا ہے، اس کی خلقت میں اپنی جو شانیں اور حکمتیں دکھائی ہیں، اس کے ہر گوشے پر جس طرح اس کا اقتدار محیط ہے اور اس کے اضداد کے باہمی توافق سے جس طرح اس کے خالق کی یکتائی نمایاں ہو رہی ہے، یہ باتیں مستلزم ہیں کہ ایک دن یہ ساری چیزیں فنا ہو جائیں گی، صرف اللہ تعالیٰ کی باعظمت اور سزاوارا تعظیم ذات ہی باقی رہ جائے گی، جس کے حضور سب کی پیشی ہونی ہے اور وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ سزاوار ہو گا، کسی کی مجال نہیں ہو گی کہ اس کے آگے دم مار سکے یا اس کے اذن کے بغیر کسی کی سفارش کے لیے زبان کھول سکے۔
    اور تیرے رب کی عظمت و عزت والی ذات باقی رہنے والی ہے۔
    ’ذِی الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ‘ کے الفاظ اس سورہ کی آخری آیت میں بھی آئے ہیں۔ مقصود ان دونوں لفظوں کے لانے سے یہ ہے کہ درحقیقت وہی اپنی ذات میں باعظمت ہے اس وجہ سے وہی سب کی تعظیم و تکریم کا حقیقی سزاوار ہے۔ کوئی اور ان اوصاف میں اس کا شریک نہیں ہے۔ لفظ ’وجہ‘ یہاں اس کی ذات کی تعبیر کے لیے آیا ہے۔ چہرہ ذات کا سب سے اشرف حصہ ہے اس وجہ سے بعض اوقات اس سے پوری ذات کو تعبیر کر دیتے ہیں۔
    تو اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلاؤ گے!
    آخر میں آیت ترجیع ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تم پیغمبر کے انذار کو سنو یا نہ سنو لیکن بالآخر یہ بات ہو کے رہے گی کہ ایک دن سب فنا ہو جائیں گے، صرف اللہ جل شانہٗ کی ذات ہی باقی رہے گی تو تم اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاؤ گے!
    اسی سے مانگتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ وہ ہر وقت ایک نئی شان میں ہے۔
    حقیقی مرجع اللہ ہی ہے: یعنی سب کا مرجع حقیقی وہی ہے۔ جو بھی پاتا ہے اسی کا دیا ہوا پاتا ہے۔ لفظ ’سوال‘ یہاں اپنے ثمر اور نتیجہ کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ یعنی ہر مانگنے والا چونکہ پاتا اسی سے ہے اس وجہ سے خواہ کسی سے مانگے لیکن حقیقت کے اعتبار سے اسی سے مانگتا ہے۔ دوسروں سے اس کا مانگنا بالکل بے سود اور لاحاصل ہے۔ کوئی دوسرا نہ کچھ دے سکتا نہ کچھ لے سکتا۔ اس وجہ سے کسی اور کو مولیٰ و مرجع سمجھ کر اس کے آگے اپنی التجا و درخواست پیش کرنا محض سفاہت ہے۔ دنیا میں انسان کو جو کچھ ملتا ہے خدا ہی کا دیا ہوا ملتا ہے اور آخرت میں بھی جو کچھ ملے گا اسی کا دیا ہوا ملے گا۔ یہ لفظ احتیاج کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مثلاً سورۂ حٰمٓ السجدہ میں ہے: ’سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ‘ (۱۰) (تمام ضرورت مندوں کے لیے یکساں)۔ یہ معنی لیے جائیں تو آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کے محتاج ہیں۔ کائنات کا سارا انتظام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے: ’کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَأْنٍ‘۔ یعنی اس مغالطہ میں نہ رہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو پیدا کر کے اس کا انتظام و انصرام تمہارے فرضی دیویوں دیوتاؤں کے سپرد کر دیا ہے اور خود بالکل معطل ہو کر کسی گوشۂ تنہائی میں جا بیٹھا ہے۔ جو لوگ اس مغالطہ میں ہیں وہ خدا کی شانوں سے بالکل بے خبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی اس کائنات کا سارا انتظام خود سنبھالے ہوئے ہے۔ وہی آسمانوں میں سورج اور چاند کو حرکت دیتا ہے اور وہی زمین میں اپنے بندوں کی ضروریات پوری کرتا ہے اس وجہ سے اس کا ہر لمحہ کسی نہ کسی کام میں ہے۔ ’یوم‘ یہاں وقت کے مفہوم میں ہے اور قرآن میں یہ لفظ اس مفہوم میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس دنیا کا انتظام خود سنبھالے ہوئے ہے تو کسی اور وسیلہ و واسطہ کی ضرورت کہاں باقی رہی؟ پھر تو جس کو جو کچھ مانگنا ہو اسی سے مانگے۔  
    تو تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلاؤ گے!
    اس کے بعد آیت ترجیع ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی گوشۂ خلوت میں نہیں بیٹھا ہوا ہے بلکہ وہ ہر وقت اپنی دنیا کے انتظام و انصرام میں لگا ہوا ہے اور اس کی شانیں اس کائنات کے گوشہ گوشہ سے نمایاں ہیں تو اس کی کن کن شانوں کو جھٹلاؤ گے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List