Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • القمر (The Moon)

    55 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس سورہ کا آغاز اسی مضمون سے ہوا ہے جس پر سابق سورہ ختم ہوئی ہے۔ سابق سورہ ’أَزِفَتْ الْاٰزِفَۃُ‘ (۵۷) (قریب آ پہنچی قریب آنے والی) کی تنبیہ پر تمام ہوئی۔ اس سورہ کا آغاز ’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ‘ (۱) (عذاب کی گھڑی قریب آ پہنچی اور چاند شق ہو گیا) سے ہوا ہے۔ گویا ’أَزِفَتْ الْاٰزِفَۃُ‘ کے اجمال کی اس میں تفصیل فرما دی گئی ہے۔ اس مناسبت کے علاوہ ایک اور ظاہری مناسبت بھی دونوں میں واضح ہے۔ پہلی سورہ میں ستاروں کے ہبوط و سقوط سے دعوے پر شہادت پیش کی گئی ہے اور اس میں چاند کے پھٹنے سے۔ اس میں آیت ’وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ‘ باربار دہرائی گئی ہے۔ جس سورہ میں کسی آیت کی ترجیع ہو اس کو سورہ میں خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ گویا متکلم تھوڑے تھوڑے وقفہ سے اپنے دعوے پر دلائل بیان کرتے ہوئے ضدی مخاطب کو باربار توجہ دلاتا ہے کہ اپنی ضد ہی پر کیوں اڑے ہوئے ہو، اس واضح حقیقت پر کیوں نہیں غور کرتے جو تمہارے سامنے دلائل کی روشنی میں پیش کی جا رہی ہے۔

    مخاطب اس میں وہ مکذبین ہیں جو قرآن کے انذار کی تصدیق کے لیے کسی ایسی نشانئ عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے جو انھیں قائل کر دے کہ فی الواقع قرآن کی یہ دھمکی سچی ہو کے رہے گی اگر وہ اس کو جھٹلاتے رہے۔ ان کو پچھلی قوموں کی تاریخ، جس کی طرف پچھلی سورہ میں بھی اشارہ ہے، نسبتاً تفصیل کے ساتھ سنا کر متنبہ فرمایا ہے کہ آخر ان قوموں کے انجام سے کیوں عبرت نہیں حاصل کرتے؟ کیوں مچلے ہوئے ہو کہ جب یہی کچھ تمہارے سروں پر بھی گزر جائے گا تب مانو گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے تمہیں عذاب کی نشانی دکھانے کی جگہ ایک ایسی کتاب تم پر اتاری ہے جو تمہاری تعلیم و تذکیر اور تمہارے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے ہر پہلو سے جامع و کامل اور تمام ضروری اوصاف و محاسن سے آراستہ ہے۔ لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت کی جگہ تم اس کے عذاب کے طالب بنے ہوئے ہو۔

  • القمر (The Moon)

    55 آیات | مکی
    القمر ——- الرحمٰن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں ترجیع ہے، چنانچہ یہظاہری مناسبت بھی بالکل واضح ہے۔ دونوں سورتوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں خدا کی دینونت کے ظہور اور دوسری سورہ میں انفس و آفاق کے اندر اُس کی رحمت، قدرت اور حکمت و ربوبیت کی نشانیوں سے استدلال کیا گیا ہے۔

    دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو عذاب کے لیے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اُنھیں ایک ایک واقعے اور ایک ایک نشانی کی طرف توجہ دلاکر متنبہ کیا گیا ہے کہ اِن نشانیوں کو کیوں نہیں دیکھتے اور اِن واقعات سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ترجیع کی آیتیں دونوں سورتوں میں اِنھی ہٹ دھرم اور ضدی مخاطبین کو جھنجھوڑنے کے لیے آئی ہیں۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 054 Verse 001 Chapter 054 Verse 002 Chapter 054 Verse 003 Chapter 054 Verse 004 Chapter 054 Verse 005 Chapter 054 Verse 006 Chapter 054 Verse 007 Chapter 054 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    عذاب کی گھڑی سر پر آ گئی اور چاند شق ہو گیا۔
    رسول قوم کے لیے خدا کی عدالت ہوتا ہے: ’اَلسَّاعَۃُ‘ سے مراد فیصلہ اور عذاب کی گھڑی ہے جس سے قریش کو، یوں تو اس گروپ کی تمام ہی سورتوں میں، آگاہ کیا گیا ہے لیکن سابق سورہ میں خاص اہتمام کے ساتھ ان کو جھنجھوڑا گیا ہے کہ ’أَزِفَتْ الْاٰزِفَۃُ‘ (۵۷) یہ قریب آنے والی قریب آ لگی ہے۔ اس کو بہت دور نہ سمجھو، جاگو اور اٹھو اور اس سے بچنے کی واحد تدبیر پر، جو تمہیں سمجھائی جا رہی ہے، عمل کر کے اپنے کو اس کی آفتوں سے بچانے کی کوشش کرو۔ یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک تو اس عذاب سے جو اس دنیا میں لازماً قوم پر آ کے رہتا ہے اگر وہ رسول کے انذار کو خاطر میں نہیں لاتی بلکہ اس کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جو آخرت میں پیش آئے گا۔ ان دونوں عذابوں میں فرق صرف آغاز و تکمیل یا تمہید اور خاتمہ کا ہے۔ رسول کی تکذیب کے عذاب میں جو قوم پکڑی جاتی ہے وہ درحقیقت آخرت کے عذاب ہی کے لیے پکڑی جاتی ہے اس وجہ سے لفظ ’اَلسَّاعَۃُ‘ بسا اوقات ان دونوں ہی عذابوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ہر قوم جس کے اندر رسول آ گیا اس کے فیصلہ کی گھڑی سر پر آ گئی۔ گویا ’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ‘ کا اسلوب بیان مبالغہ کا اسلوب نہیں بلکہ یکسر بیان حقیقت ہے۔ ظہور عذاب کی ایک نشانی: ’وَانْشَقَّ الْقَمَرُ‘۔ یہ علامت بیان ہوئی ہے عذاب کی گھڑی کے قریب آنے کی۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کا حوالہ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ دے چکے ہیں کہ یوں تو اس زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر اس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں موجود ہیں اور آئے دن نئی نئی نشانیاں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں لیکن رسولوں کی بعثت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر ایسی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے جس سے رسول کے انذار اور اس کے دعوائے رسالت کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن میں اس سنت الٰہی کا ذکر جگہ جگہ ہوا ہے۔ ہم ایک آیت بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ فرمایا ہے:’سَنُرِیْہِمْ آیَاتِنَا فِیْ الْآفَاقِ وَفِیْ أَنفُسِہِمْ‘ (حٰمٓ السجدہ ۵۳) (ہم عنقریب ان کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں اس کائنات میں بھی اور خود ان کے اندر بھی)۔ ان نشانیوں کا مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، رسول کے انذار کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے۔ رسول جن باتوں کی منادی زبان سے کرتا ہے اس کی تائید کے آثار و شواہد اس کائنات میں بھی، مختلف شکلوں میں، ظاہر ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت اچھی طرح پوری ہو جائے۔ اسی طرح کی ایک نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تائید کے لیے چاند کے پھٹنے کی صورت میں ظاہر ہوئی تاکہ منکرین عذاب و قیامت پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن ان کو جو ڈرا رہا ہے کہ زمین اس دن ہلا دی جائے گی، پہاڑ پاش پاش ہو کر فضا میں اڑنے لگیں گے، سمندر ابل پڑیں گے، سورج تاریک ہو جائے گا؛ یہ باتیں ان کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں بلکہ یہ حقائق ہیں جو ایک دن پیش آ کے رہیں گے اور یہ بعید از امکان بھی نہیں ہیں، ان کے شواہد کسی نہ کسی شکل میں اس دنیا میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس طرح کی نشانیوں کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ رسول نے ان کو اپنے معجزے کے طور پر پیش کیا ہو بلکہ ان کا ظہور کسی اعلان و تحدی کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کفار نے بعینہٖ اسی نشانی کا مطالبہ کیا ہو جو ظاہر ہوئی بلکہ ان کی طرف سے کسی مطالبہ کے بغیر محض اس لیے بھی ان کا ظہور ہوتا ہے کہ کفار کے پیش کردہ شبہات کا ان کو جواب مل جائے۔ کفار قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے اس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہو جائے۔ پہاڑوں سے متعلق ان کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیرمتزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر ان کو بتایا کہ اس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خود مختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیر متزلزل، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا ان سب کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا۔ ایک سوال کا جواب: رہا یہ سوال کہ اس طرح کا کوئی واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیش آیا بھی ہے تو اس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ سے، یہی بات نکلتی ہے کہ یہ پیش آیا اور حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ صورت واقعہ کے بارے میں تو حدیثیں ضرور مختلف ہیں لیکن نفس واقعہ کے بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ قیامت کے دن پیش آنے والے واقعہ کی خبر ہے۔ جس کو ماضی کے صیغہ سے اس کی قطعیت کے اظہار کے لیے بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ یہ قول اگرچہ اگلوں میں سے بھی بعض لوگوں سے نقل ہوا ہے اور اس زمانے میں بھی اس کو ایک گروہ کے اندر حسن قبول حاصل ہے لیکن سیاق کلام اس سے اِباء کرتا ہے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ قیامت میں پیش آنے والے واقعات قرآن میں ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئے ہیں لیکن یہاں یہ معنی لیے جائیں تو کلام آگے والی بات سے بے جوڑ ہو جاتا ہے۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ یہ کوئی سی نشانی بھی دیکھیں گے تو اس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ اس میں کوئی خاص ندرت نہیں، یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ غور کیجیے کہ چاند کے پھٹنے کا تعلق قیامت سے ہوتا تو اس کے بعد یہ بات کہنے کا کیا محل تھا؟ قیامت کے دن تو کٹر سے کٹر منکر بھی کسی چیز کو جادو نہ کہہ سکے گا بلکہ سب اعتراف کریں گے کہ رسولوں نے جو خبر دی وہ حرف حرف سچی نکلی۔ چنانچہ آگے بیان بھی ہوا ہے کہ’یَقُوْلُ الْکَافِرُونَ ہٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ‘ (۸) (اس دن کافر کہیں گے کہ یہ تو بڑا ہی کٹھن دن آ گیا)۔ یہ شبہ صحیح نہیں ہے کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا ہوتا تو دوسری قوموں کی تاریخ میں بھی اس کا ذکر ہوتا۔ ہماری زمین اور دوسرے کُرّوں میں اس طرح کی شکست و ریخت اور ان کے ٹکڑوں کے درمیان انفصال و اتصال کے کتنے واقعات ہیں جو آئے دن ہوتے رہتے ہیں لیکن پہلے زمانہ میں ان کا مشاہدہ ایک خاص دائرہ ہی کے اندر محدود رہتا تھا۔ ہمارے زمانے میں اس طرح کے تغیرات کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی ادارے اور رصد گاہیں وجود میں آ گئی ہیں اس وجہ سے کوئی واقعہ ظہور میں آتا ہے تو اس کی تحقیق کے لیے فوراً ساری دنیا کے تحقیقاتی ادارے بھاگ دوڑ شروع کر دیتے ہیں اور برق کی رفتار سے اس کی اطلاع دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ جاتی ہے۔ پہلے تحقیق و اطلاع کے یہ وسائل موجود نہیں تھے اس وجہ سے اس کی خبر ایک خاص دائرے ہی میں محدود رہ گئی۔ لیکن یہ دائرہ نہایت ثقہ لوگوں کا ہے اس وجہ سے نفس واقعہ کی تکذیب کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کل کو سائنس دانوں کے لیے چاند کی تحقیق کی وسیع راہیں کھل جائیں اور علمی تحقیقات سے ثابت ہو جائے کہ چاند کا فلاں حصہ فلاں حصہ سے مربوط تھا لیکن اتنے سو سال پہلے وہ الگ ہو کر فلاں حصے سے جا ملا۔ اس طرح کے کتنے انکشافات ہیں جو ہمارے کرۂ ارض سے متعلق آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور لوگ ان کو باور کر رہے ہیں تو آخر چاند سے متعلق قرآن کی اس خبر پر تعجب کی کیا وجہ ہے؟ سائنس نے اگر ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے تو یہ اس کی نارسائی کی دلیل ہے۔ انتظار اور صبر کیجیے، شاید مستقبل میں وہ بھی اس کے اعتراف پر مجبور ہو جائے۔  
    اور یہ کوئی سی بھی نشانی دیکھیں گے تو اس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔
    پیغمبر صلعم کو تسلی: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور مکذبین کو ملامت ہے کہ ان لوگوں کی تکذیب کی اصل علت یہ نہیں ہے کہ ان کو کوئی نشانی نہیں دکھائی جا رہی ہے۔ نشانیاں تو قدم قدم پر موجود ہیں اور آئے دن ان کو نئی نئی نشانیاں بھی دکھائی جا رہی ہیں لیکن یہ ہٹ دھرم لوگ جزاء و سزا کو ماننا نہیں چاہتے اس وجہ سے کسی بڑی سے بڑی نشانی سے بھی سبق نہیں لیتے۔ اگر پیغمبرؐ نے ان کو شق قمر سے بھی بڑی کوئی نشانی دکھا دی تو اس کو بھی یہ جادو کا کرشمہ قرار دے کر نظرانداز کر دیں گے۔ ’مستمرّ‘ کا مفہوم: ’سحر‘ کے ساتھ ’مستمرّ‘ کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ وہ اس نشانی کو صرف جادو ہی نہیں کہیں گے بلکہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے یہ بھی کہیں گے کہ جادو ہونے کے اعتبار سے بھی اس میں کوئی ایسی ندرت و جدت نہیں ہے کہ اس کو کوئی خاص اہمیت دی جائے بلکہ یہ اسی قسم کا جادو ہے جس قسم کے جادو پچھلے جادوگروں نے دکھائے اور سکھائے اور جو برابر منتقل ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ اس نشانی کی وجہ سے ان کو خدا کا نذیر ماننا تو درکنار کوئی غیر معمولی جادوگر سمجھنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے ’مستمرّ‘ کے معنی فانی کے لیے ہیں لیکن اس معنی میں اس کا استعمال میرے علم میں نہیں ہے۔
    اور انھوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔
    کفار کو ڈھیل دینے کی حکمت: یہ ان کی تکذیب، سبب تکذیب اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ انھوں نے (یعنی قریش نے) خدا کے نذیر اور اس کے انذار کی تکذیب کر دی اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے سبب سے وہ سنت الٰہی کے مطابق عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر کام ایک معین پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ جب ان کی اجل معین پوری ہو جائے گی تو پکڑ لیے جائیں گے۔ یعنی ان کو جو ڈھیل مل رہی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ پیغمبرؐ کا انذار محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کررکھا ہے تاہم وہ بالکل قریب آ گیا ہے۔ تکذیب کی علت: ’کَذَّبُوْا‘ کے بعد ’وَاتَّبَعُوْا أَہْوَآءَ ہُمْ‘ کے الفاظ سے ان کی تکذیب کی علت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ انھوں نے رسول کے انذار کی جو تکذیب کی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس اس تکذیب کی کچھ دلیلیں ہیں یا فی الواقع کچھ شبہات ہیں جو ابھی صاف نہیں ہوئے ہیں یا ان کو کوئی ایسی نشانی نہیں دکھائی گئی ہے جو ان کو مطمئن کر دے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ اگر وہ جزاء و سزا کو مان لیں تو اپنی ان خواہشوں سے انھیں دست بردار ہونا پڑتا ہے جس کا حوصلہ ان کے اندر نہیں ہے اس وجہ سے وہ مختلف قسم کی باتیں بنا رہے ہیں۔ یہ مضمون سورۂ نجم کی آیت ۲۹ کے تحت وضاحت سے گزر چکا ہے۔
    اور ان کو ماضی کی سرگزشتیں پہنچ چکی ہیں جن میں کافی سامان عبرت موجود ہے۔
    عاقل وہ ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے: یہ اسی اوپر والی بات ہی کی وضاحت ہے کہ اگر ان پر ابھی عذاب نہیں آیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی ہو گئی ہے۔ ان کو پچھلی قوموں کی جو سرگزشتیں سنائی گئی ہیں اگر وہ غور کریں تو ان کے اندر کافی سامان عبرت موجود ہے۔ ان سرگزشتوں سے انھیں معلوم ہو جائے گا کہ جس قوم نے بھی رسول کے انذار کی تکذیب کی بالآخر وہ عذاب الٰہی کی گرفت میں آ گئی۔ تاخیر عذاب سے وہ قومیں بھی انہی کی طرح اس مغالطے میں مبتلا ہوئیں کہ پیغمبر کی دھمکی محض خالی خولی دھمکی ہے لیکن وہ بالکل سچی ثابت ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے حق میں بہتر ہے کہ تاریخ سے سبق لیں۔ اس انتظار میں نہ رہیں کہ جب سب کچھ ان کے اپنے سروں پر سے گزر جائے گا تب مانیں گے۔ اس وقت کا اعتراف نہ پہلوں کے لیے مفید ہوا ہے نہ ان کے لیے مفید ہو گا۔ قوموں کی یہ سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں بھی اجمالاً و تفصیلاً گزر چکی ہیں اور اس سورہ میں بھی آیت ۹ سے وہ آ رہی ہیں۔ وہاں آپ دیکھیں گے کہ ہر سرگزشت کے بعد ’فَکَیْْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ‘ کی آیت باربار آئی ہے تاکہ مخاطب پر واضح کر دیا جائے کہ رسول کے انذار کی صداقت یوں ثابت ہو کے رہتی ہے اور اس کو جھٹلانے والے یوں عذاب میں پکڑے جاتے ہیں۔
    نہایت دل نشین حکمت۔ لیکن تنبیہات کیا کام دے رہی ہیں!
    یعنی ان سرگزشتوں کے اندر نہایت دل نشین حکمت موجود ہے، مگر دیکھ لو یہ تنبیہات کیا نفع دے رہی ہیں! ’ما‘ نافیہ بھی ہو سکتا ہے اور استفہامیہ بھی؛ لیکن استفہامیہ میں زیادہ زور بھی ہے اور موقع کلام سے زیادہ مناسبت بھی۔
    تو ان سے اعراض کرو اور اس دن کا انتظار کرو جس دن پکارنے والا ان کو ایک نہایت ہی نامطلوب چیز کی طرف پکارے گا۔
    نبی صلعم کو تسلی آمیز ہدایت: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی آمیز ہدایت ہے کہ ایسے اندھوں کی آنکھوں کی پٹی کھولنا اور ان کو راہ دکھانا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ اب تم ان سے اعراض کرو اور اس دن کا انتظار کرو جس دن اسرافیل صور پھونکیں گے اور یہ قیامت کے عذاب کی طرف پکارے جائیں گے۔ ’تَوَلَّ‘ یہاں ’اِنْتَظِرْ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ یہی مضمون دوسری آیت میں یوں آیا ہے:’وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّکَانٍ قَرِیْبٍ‘ (قٓ ۴۱) (اور کان لگاؤ اس دن کی پکار کے لیے جس دن پکارنے والا نہایت قریب کی جگہ سے پکارے گا)۔ ’نکر‘ سے اشارہ ہول قیامت کی طرف ہے۔ اس کی ہولناکی کی شدت ظاہر کرنے کے لیے ابہام کا اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ یعنی آج تو ان کو اس دن کے لیے تیاری کی جو دعوت دی جا رہی ہے اس کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں، لیکن جلد وہ وقت آ رہا ہے کہ ایک داعی اسی ہولناک چیز کی طرف پکارے گا اور سب اس کی طرف نہایت فرماں برداری و خشیت کے ساتھ بھاگیں گے۔
    ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور یہ نکلیں گے قبروں سے جس طرح منتشر ٹڈیاں نکلتی ہیں۔
    نفخ صور کے بعد قبروں سے نکلنے کی تصویر: یعنی آج تو اللہ کا رسول ان کو اس دن کے ہول سے بچنے کے لیے تیاری کی دعوت دے رہا ہے تو یہ اس سے اکڑتے ہوئے اعراض کر رہے ہیں لیکن جب روز قیامت کا داعی پکارے گا تو یہ اس طرح قبروں سے نکلیں گے کہ جس طرح ٹڈی دَل نکلتا ہے اور ان کا حال یہ ہو گا کہ ان کی نگاہیں ذلت سے جھکی ہوئی ہوں گی اور داعی کی طرف نہایت تیزی سے بھاگ رہے ہوں گے۔ ’خُشَّعاً‘ اور ’مُہْطِعِیْنَ‘ دونوں حال ہیں۔ ’کَأَنَّہُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ‘ تفخ صور کے بعد لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی تمثیل ہے۔ برسات میں کبھی سرشام پتنگوں کو زمین سے ابھرتے دیکھا ہو گا۔ معلوم ہوتا ہے زمین سے پتنگوں کا طوفان ابل پڑا ہے۔ یہی صورت ٹڈیوں کے ابھرنے کی بھی ہوتی ہے اور یہی شکل لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی بھی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ شانیں دکھائی ہی اس لیے ہیں کہ انسان کو قیامت کی یاددہانی زمین و آسمان کے گوشے گوشے سے برابر ہوتی رہے۔
    بھاگتے ہوئے پکارنے والے کی طرف۔ اس وقت کافر کہیں گے، یہ تو بڑا کٹھن دن آ گیا!
    نفخ صور کے بعد قبروں سے نکلنے کی تصویر: یعنی آج تو اللہ کا رسول ان کو اس دن کے ہول سے بچنے کے لیے تیاری کی دعوت دے رہا ہے تو یہ اس سے اکڑتے ہوئے اعراض کر رہے ہیں لیکن جب روز قیامت کا داعی پکارے گا تو یہ اس طرح قبروں سے نکلیں گے کہ جس طرح ٹڈی دَل نکلتا ہے اور ان کا حال یہ ہو گا کہ ان کی نگاہیں ذلت سے جھکی ہوئی ہوں گی اور داعی کی طرف نہایت تیزی سے بھاگ رہے ہوں گے۔ ’خُشَّعاً‘ اور ’مُہْطِعِیْنَ‘ دونوں حال ہیں۔ ’کَأَنَّہُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ‘ تفخ صور کے بعد لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی تمثیل ہے۔ برسات میں کبھی سرشام پتنگوں کو زمین سے ابھرتے دیکھا ہو گا۔ معلوم ہوتا ہے زمین سے پتنگوں کا طوفان ابل پڑا ہے۔ یہی صورت ٹڈیوں کے ابھرنے کی بھی ہوتی ہے اور یہی شکل لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی بھی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ شانیں دکھائی ہی اس لیے ہیں کہ انسان کو قیامت کی یاددہانی زمین و آسمان کے گوشے گوشے سے برابر ہوتی رہے۔ ’یَقُوْلُ الْکَافِرُوْنَ ہٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ‘۔ یعنی آج تو جب اللہ کا رسول ان لوگوں کو اس دن کے ہول سے ڈراتا ہے تو ان کو ہر چیز انہونی اور ناممکن نظر آتی ہے اور نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن جب وہ دن سامنے آ جائے گا تو نہایت حسرت و یاس کے ساتھ پکار اٹھیں گے کہ لاریب وہ کٹھن دن آ گیا جس سے نبیوں اور رسولوں نے آگاہ کیا تھا!


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List