Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • النجم (The Star)

    62 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الطّور ۔۔۔ کی توام سورہ ہے۔ مرکزی مضمون دونوں کا ایک ہی ہے، یعنی جزا اور سزا کا اثبات۔ بس یہ فرق ہے کہ سابق سورہ میں عذاب کے پہلو کو نمایاں فرمایا ہے اور اس میں اس شفاعت باطل کی تردید ہے جس میں مشرکین عرب مبتلا تھے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ پچھلی سورتوں میں ہم واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ اس عقیدۂ باطل کے باقی رہتے ہوئے مشرکین کے لیے بڑے سے بڑے عذاب کی دھمکی بھی بالکل بے اثر تھی۔ قرآن نے اسی وجہ سے قیامت اور توحید دونوں کا ذکر ہمیشہ ساتھ ساتھ کیا ہے تاکہ مشرکین کے لیے کوئی راہ فرار باقی نہ رہے۔ اس حقیقت کی طرف اشارہ پچھلی سورہ میں بھی ہے، اس سورہ میں اس اشارہ کی پوری وضاحت ہو گئی ہے۔ گویا ان دونوں سورتوں کا مشترک مضمون یہ ہے کہ منکرین و مکذبین کے لیے اللہ کا عذاب لازمی ہے، اپنے جن معبودوں کی شفاعت پر یہ تکیہ کیے بیٹھے ہیں اول تو ان کی کوئی حقیقت نہیں، محض فرضی نام ہیں جو انھوں نے رکھ چھوڑے ہیں اور اگر کچھ حقیقت ہے تو اللہ تعالیٰ کا معاملہ لوگوں کے ساتھ کامل علم اور کامل عدل پر مبنی ہو گا۔ اس بات کا وہاں کوئی امکان نہیں ہے کہ کسی کی شفاعت اس کے علم میں کوئی اضافہ کر سکے، یا اس کے فیصلہ کو تبدیل کر سکے یا باطل کو حق بنا سکے۔

    عمود اور مضمون کے علاوہ سابق سورہ کے خاتمہ اور اس سورہ کے آغاز پر بھی ایک نظر ڈالیے تو دونوں میں بڑی واضح مناسبت نظر آئے گی۔ سورۂ طور کی آخری آیت ’وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَإِدْبَارَ النُّجُوۡمِ‘ ہے اور اس سورہ کی پہلی آیت ’وَالنَّجْمِ إِذَا ہَوٰی‘ ہے۔ گویا سابق سورہ کی آخری اور اس سورہ کی پہلی آیت نے دونوں میں ایک نہایت خوب صورت حلقۂ اتصال کی شکل پیدا کر دی ہے۔ اس قسم کا اتصال اکثر مقامات میں موجود ہے۔ بعض جگہ لفظی، بعض جگہ معنوی، اور بعض مقامات میں لفظی اور معنوی دونوں قسم کا۔ اس قسم کی بعض چیزوں کی طرف ہم نے پچھلی سورتوں میں اشارے کیے ہیں۔

  • النجم (The Star)

    62 آیات | مکی
    الطور—— النجم

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں انذار عذاب اور سرداران قریش کے رویے پر تنقید، اور دوسری سورہ میں خدا اور آخرت کے بارے میں اُن کے جاہلانہ عقائد کی تردید کا پہلو نمایاں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا مضمون دونوں سورتوں میں ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 053 Verse 001 Chapter 053 Verse 002 Chapter 053 Verse 003 Chapter 053 Verse 004 Chapter 053 Verse 005 Chapter 053 Verse 006 Chapter 053 Verse 007 Chapter 053 Verse 008 Chapter 053 Verse 009 Chapter 053 Verse 010 Chapter 053 Verse 011 Chapter 053 Verse 012 Chapter 053 Verse 013 Chapter 053 Verse 014 Chapter 053 Verse 015 Chapter 053 Verse 016 Chapter 053 Verse 017 Chapter 053 Verse 018
    Click translation to show/hide Commentary
    شاہد ہیں ستارے جب کہ وہ گرتے ہیں۔
    ’النّجم‘ سے مراد: ’النّجم‘ سے عام طور پر مفسرین نے ثریا کو مراد لیا ہے، لیکن اس کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔ اس سے زیادہ واضح قرینہ تو شعریٰ کا ہو سکتا ہے جس کا ذکر اسی سورہ میں آگے آیا ہے لیکن اس کو مراد لینے کا بھی، جیسا کہ وضاحت آئے گی، یہاں کوئی محل نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اسم جنس کے مفہوم میں ہے جس طرح’وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوۡنَ‘ (النحل ۱۶) (اور ستاروں سے وہ رہنمائی حاصل کرتے ہیں) یا’وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدَانِ‘ (الرحمٰن ۶) (اور ستارے اور درخت سجدہ کرتے ہیں) اور اس نوع کی دوسری آیات میں جگہ جگہ قرآن میں آیا ہے۔ ’ہَوٰی یَھْوی‘ کا صحیح مفہوم: ’ہَوٰی یَھْوی‘ کے اصل معنی کسی چیز کے اوپر سے گرنے کے ہیں۔ یہ لفظ ستاروں کے افق سے غائب ہونے اور ڈوبنے کی تعبیر کے لیے بھی موزوں ہے اور اس آتش باری کے لیے بھی موزوں ہے جو غیب کی ٹوہ لگانے والے شیاطین پر ستاروں سے ہوتی ہے اور جس کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ ’وَالنَّجْمِ‘ میں ’و‘ قسم کے لیے ہے اور قسم سے متعلق ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں یہ بیشتر شہادت کے لیے آئی ہے۔
    کہ تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے اور نہ گمراہ ہوا ہے۔
    آنحضرت صلعم پر کہانت کے الزام کی تردید: یہ پوری بات مقسم علیہ کی حیثیت رکھتی ہے یعنی ستاروں کے غروب یا سقوط کی قسم کھا کر قریش کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہارے ساتھی (پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) نہ تو بھٹکے ہیں نہ گمراہ ہوئے ہیں۔ جو کلام وہ تمہیں سنا رہے ہیں اپنے جی سے گھڑ کے نہیں سنا رہے ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر وحی کیا جاتا ہے کہ وہ اس کو تمہیں سنائیں تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔ موقع کلام دلیل ہے کہ قریش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کہانت کا جو الزام لگاتے تھے یہ اس کی تردید ہے۔ قریش کے لیڈروں کو جب آپ قرآن سناتے اور وحی اور اس کے لانے والے فرشتہ سے متعلق اپنے تجربات و مشاہدات بیان فرماتے تو وہ اپنے عوام کو یہ باور کراتے کہ یہ بھی ہمارے کاہنوں اور منجموں کے قسم کے ایک کاہن و منجم ہیں۔ جس طرح ستاروں کے قِران، نکھتروں کے مشاہدات اور جنات کے القاء کی مدد سے وہ مسجّع و مقفّٰی کلام پیش کرتے اور غیب کی باتیں بتاتے ہیں اسی طرح یہ بھی مسجّع کلام سناتے اور مستقبل کی باتیں جاننے کے مدعی ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ وحی لے کر آتا ہے محض دھونس ہے۔ جس طرح ہمارے کاہنوں پر جنات القاء کرتے ہیں اسی طرح کوئی جن ان پر بھی القاء کرتا ہے جس کو یہ فرشتہ سمجھتے ہیں۔ قریش کے اس الزام کی تردید قرآن میں جگہ جگہ ہوئی ہے۔ خاص طور پر سورۂ شعراء کے آخر میں اس کے بعض نہایت اہم پہلو زیربحث آئے ہیں۔ یہاں اسی الزام کی تردید ایک مختلف نہج سے کی جا رہی ہے جس کا آغاز ستاروں کے غروب اور سقوط کی قسم سے ہوا ہے۔ ستاروں کے غروب اور سقوط کی شہادت: ستاروں کے غروب یا ان کے سقوط سے قرآن نے دو پہلوؤں سے عربوں کے اس تصور پر ضرب لگائی ہے جو وہ کاہنوں اور منجموں سے متعلق رکھتے تھے۔ ایک تو اس پہلو سے کہ یہ سورج اور چاند اور یہ تمام نجوم و کواکب نہ خود اپنے اختیار سے کوئی تصرف کرتے ہیں نہ بذات خود مؤثر یا نافع و ضار ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں مسخر اور اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ ان کا پوری پابندی کے ساتھ، ایک مقررہ نظام الاوقات کے مطابق، طلوع و غروب خود اس بات کی شہادت ہے کہ یہ بذات خود کسی اقتدار و اختیار کے مالک نہیں ہیں اس وجہ سے نہ تو یہ عبادت کے حق دار ہیں نہ اس بات کے کہ ان کو وحی و الہام کا مصدر سمجھ کر ان سے رجوع کیا جائے یا ان کو آفات کا منبع خیال کر کے ان کی دہائی دی جائے یا ان کو خیر و برکت کا مرکز مان کر ان سے دعا و التجا کی جائے؛ بلکہ یہ خود اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے اور اپنے عمل سے اللہ کے بندوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی انہی کی طرح اللہ ہی کی بندگی اور اسی کو سجدہ کریں۔ یہ مضمون قرآن میں یوں تو گوناگوں شکلوں میں بیان ہوا ہے لیکن خاص طور پر حضرت ابراہیمؑ کی وہ حجت جو انھوں نے اپنی قوم پر تمام کی اس باب میں حرف آخر ہے۔ یہ امر یہاں پیش نظر رہے کہ کہانت کی گرم بازاری جس طرح جنات و شیاطین کے تعلق سے تھی اسی طرح ستاروں کی گردش اوراس کے اثرات سے بھی اس کا نہایت گہرا ربط تھا۔ قرآن نے یہاں ’وَالنَّجْمِ إِذَا ہَوٰی‘ کہہ کر اس کے اسی پہلو پر ضرب لگائی ہے کہ ستارے تو خود اپنے عمل سے شہادت دیتے ہیں کہ وہ خالق کائنات کے حکم کے تابع ہیں۔ اسی کے حکم سے وہ طلوع ہوتے اور اسی کے حکم سے ڈوبتے ہیں، تو احمق ہیں وہ لوگ جو ان سے الہام حاصل کرنے یا لوگوں کی تقدیر معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سے بھی زیادہ احمق ہیں وہ جو اللہ کے رسول کو نجومی یا کاہن بتاتے ہیں درآنحالیکہ ان کی ساری تعلیم ان خرافات پر ایک ضرب کاری ہے۔ دوسرے اس پہلو سے کہ کاہنوں کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹ ہے کہ ان کا ربط ایسے جنوں سے ہے جو آسمان کی خبریں معلوم کر کے ان کو بتاتے ہیں۔ غیب تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہے۔ جو جنات و شیاطین غیب کی خبریں معلوم کرنے کے لیے آسمانوں میں گھات میں بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو کھدیڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کر رکھا ہے کہ ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ سورۂ صافات میں اس کا ذکر یوں آیا ہے: إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ ثَاقِبٌ (الصافات ۱۰) ’’مگر جو کوئی کچھ اچک لینے کی کوشش کرے تو اس کا تعاقب کرتا ہے ایک شہاب ثاقب۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس انتظام کا اعتراف خود جنات نے ان الفاظ میں کیا ہے: وَأَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن یَسْتَمِعِ الْآنَ یَجِدْ لَہُ شِہَاباً رَّصَدًا (الجن ۹) ’’اور یہ کہ ہم آسمان کے ٹھکانوں میں غیب کی باتیں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے لیکن اب جو سننے کی کوشش کرے گا تو وہ اپنے لیے ایک شہاب کو گھات میں پائے گا۔‘‘ انہی ٹوٹنے والے ستاروں یا آسمانی راکٹوں کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ نے سورۂ واقعہ: ۷۵-۸۰ ، سورۂ حاقہ: ۳۸-۴۳ اور سورۂ تکویر: ۱۵-۲۵ میں قرآن کریم کو شیطانی چھوت سے بالکل پاک اور بالاتر قرار دیا ہے اور یہ واضح فرمایا ہے کہ قرآن کی حریم قدس تک کسی جن و شیطان کو رسائی نہیں ہے۔ اگر کوئی وہاں پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ شیاطین نہ اس لوح محفوظ تک پہنچ سکتے ہیں جس میں قرآن محفوظ ہے، نہ اس جلیل القدر فرشتہ کو متاثر کر سکتے جو اس کو لے کر اترتا ہے اور نہ رسول ہی کو گمراہ کر سکتے جس پر یہ نازل ہوتا ہے۔ شیاطین ان کاہنوں پر اترتے ہیں جو بالکل جھوٹے اور نابکار ہوتے ہیں اور محض لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے بَھگَل بناتے اور غیب دانی کے دعوے کرتے ہیں۔ بعض الفاظ کی وضاحت: قسم اور مقسم بہٖ کا تعلق سمجھ لینے کے بعد ان آیتوں کے الفاظ اور ان کے مفہوم کو بھی اچھی طرح سمجھ لیجیے تاکہ بات پوری طرح ذہن نشین ہو جائے۔ ’مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی‘۔ ’ضَلَّ‘ عام طور پر انسان کی اس گمراہی کے لیے آتا ہے جس کا تعلق بھول چوک یا فکر و اجتہاد کی غلطی سے ہو اور ’غَوٰی‘ کا تعلق اس گمراہی سے ہوتا ہے جس میں نفس کی اکساہٹ اور آدمی کے قصد و تعمد کو بھی دخل ہو۔ لفظ ’صَاحِبْ‘ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال ہوا ہے اور ضمیر خطاب کے مخاطب قریش ہیں۔ ان کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ یہ پیغمبرؐ جو تمہارے اپنے دن رات کے ساتھی ہیں تمہارے لیے کوئی اجنبی نہیں ہیں۔ تم ان کے ماضی و حاضر، ان کے اخلاق و کردار اور ان کے رجحان و ذوق سے اچھی طرح واقف ہو۔ تم نے کب ان کے اندر کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے یہ شبہ بھی ہو سکے کہ ان میں کہانت یا نجوم کا کوئی میلان پایا جاتا ہے۔ اس طرح کا ذوق کسی کے اندر ہوتا ہے تو دن رات کے ساتھیوں سے وہ عمر بھر چھپا نہیں رہتا لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جو چیز اتنی مدت تک تم نے ان کے اندر کبھی محسوس نہیں کی اب جب انھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور تم کو اللہ کا کلام سنایا تو تم نے ان کو کاہن اور نجومی کہنا شروع کر دیا۔ حالانکہ ان کی زندگی اور ان کا کلام شاہد ہے کہ ان کے اندر کسی ضلالت یا غوایت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔  
    اور وہ اپنے جی سے نہیں بولتا۔
    ’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی‘۔ ’عَنْ‘ یہاں منبع و منشا کا سراغ دینے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی جو کلام وہ تمہارے سامنے پیش کر رہے ہیں اس کا کوئی تعلق نفس اور اس کی خواہشوں سے نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر وحی ہے جو ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری ہدایت کے لیے اتاری جا رہی ہے۔ اس ٹکڑے میں کاہنوں اور نجومیوں پر تعریض ہے کہ ان کا کلام تو تمام تر ان کے نفس کی تحریک سے پیدا ہوتا ہے لیکن اس کلام کا منبع و مصدر اور ہے۔ جوہر جام جم از کان جہان دِگر است اس آیت میں اصلاً تو بیان قرآن کا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی وحی کی حیثیت سے پیش کر رہے تھے۔  
    یہ تو بس وحی ہے جو اس کو کی جاتی ہے۔
    پچھلی آیت میں اصلاً تو بیان قرآن کا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی وحی کی حیثیت سے پیش کر رہے تھے چنانچہ آگے کی آیت ’إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحٰی‘ سے اس کی وضاحت بھی ہو گئی ہے؛ لیکن نبی چونکہ معصوم اور اس کا ہر قول و فعل لوگوں کے لیے نمونہ ہوتا ہے اس وجہ سے عام زندگی میں بھی اس کی کوئی بات حق و عدل سے ہٹی ہوئی نہیں ہوتی اور اگر کبھی اس سے کوئی فروگزاشت صادر ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح فرما دیتا ہے۔
    اس کو ایک مضبوط قوتوں والے، عقل و کردار کے توانا نے تعلیم دی ہے۔
    حضرت جبریلؑ کی صفات: کلام اور صاحب کلام کی صفات بیان کرنے کے بعد یہ اس فرشتہ (حضرت جبریلؑ) کی صفت بیان ہو رہی ہے جس نے اس کلام کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی۔ فرمایا کہ وہ ’شَدِیْدُ الْقُوٰی‘ یعنی تمام اعلیٰ صفات اور صلاحیتوں سے بھرپور اور اس کی ہر صفت و صلاحیت نہایت محکم و مضبوط ہے۔ اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی دوسری روح اس کو متاثر یا مرعوب کر سکے، اس سے خیانت کا ارتکاب کرا سکے یا اس کی تعلیم میں کوئی خلط مبحث کر سکے یا اس سے کوئی فروگذاشت ہو سکے یا اس کو کوئی وسوسہ لاحق ہو سکے۔ اس طرح کی تمام کمزوریوں سے اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ رکھا ہے تاکہ جو فرض اس کے سپرد فرمایا ہے اس کو وہ بغیر کسی خلل و فساد کے پوری دیانت و امانت کے ساتھ ادا کر سکے۔ سورۂ تکویر میں اس فرشتہ کی تعریف یوں آئی ہے: ’اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ‘(۱۹-۲۱) (یہ ایک باعزت فرستادہ کی وحی ہے، وہ بڑی قوت والا اور عرش والے کے نزدیک بارسوخ ہے۔ اس کی اطاعت کی جاتی ہے، مزید برآں وہ نہایت امین ہے)۔ ’ذُوْمِرَّۃٍ‘۔ یعنی وہ اپنی عقل اور اپنے کردار میں نہایت محکم ہے۔ اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ کوئی دھوکا کھا سکے یا کوئی اس کو دھوکا دے سکے یا وہ کسی کے ہاتھ بک سکے اور کوئی اس کو خرید سکے۔ یہ لفظ اخلاقی و عقلی برتری کے لیے آتا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت جبریلؑ کی یہ صفات کاہنوں اور نجومیوں کے مصدر الہام کی تحقیر ہی کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں بلکہ یہود اور ان کے ہم مشرب روافض نے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں ہم اشارہ کر آئے ہیں، آپ پر نعوذ باللہ خیانت، جانب داری اور بے بصیرتی کا الزام لگایا ہے اور اسی بنا پر ان کو حضرت جبریل علیہ السلام سے ہمیشہ عداوت بھی رہی ہے جس کا حوالہ قرآن مجید میں موجود ہے۔
    (عقل و کردار کے توانا نے تعلیم دی ہے۔) وہ نمودار ہوا۔
    جبریلؑ کا طریقۂ تعلیم: ’ذُوْمِرَّۃٍ‘ کا تعلق ’شَدِیْدُ الْقُوٰی‘ سے ہے اس وجہ سے اس کی وضاحت ہم نے ’شَدِیْدُ الْقُوٰی‘ کے ساتھ ہی کر دی ہے۔ ’ذُوْمِرَّۃٍ‘۔ یعنی وہ اپنی عقل اور اپنے کردار میں نہایت محکم ہے۔ اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ کوئی دھوکا کھا سکے یا کوئی اس کو دھوکا دے سکے یا وہ کسی کے ہاتھ بک سکے اور کوئی اس کو خرید سکے۔ یہ لفظ اخلاقی و عقلی برتری کے لیے آتا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت جبریلؑ کی یہ صفات کاہنوں اور نجومیوں کے مصدر الہام کی تحقیر ہی کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں بلکہ یہود اور ان کے ہم مشرب روافض نے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں ہم اشارہ کر آئے ہیں، آپ پر نعوذ باللہ خیانت، جانب داری اور بے بصیرتی کا الزام لگایا ہے اور اسی بنا پر ان کو حضرت جبریل علیہ السلام سے ہمیشہ عداوت بھی رہی ہے جس کا حوالہ قرآن مجید میں موجود ہے۔
    اور وہ افق اعلیٰ میں تھا۔
    اب ’فَاسْتَوٰی‘ سے آگے اس تعلیم کے طریقہ کی وضاحت ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر ’عَلَّمَہٗ‘ کے لفظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس مقرب فرشتے نے نبی کو نہایت اہتمام، توجہ اور شفقت سے اس وحی کی تعلیم دی جو اللہ نے اس پر نازل کرنی چاہی۔ ’فَاسْتَوٰی‘ میں ’فَ‘ تفصیل کے لیے ہے، یعنی پہلے وہ اپنی اصل صورت میں، مستوی القامت ہو کر، نمودار ہوا۔ اس کے نمودار ہونے کی جگہ آسمان کی افق اعلیٰ میں تھی۔ ’اُفُق اَعْلٰی‘ سے مراد وہ افق ہے جو سمت راس میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی چیز سمت راس کے افق سے نمایاں ہو گی تو چودھویں کے چاند اور دوپہر کے سورج کی طرح وہ بالکل صاف و شفاف، جلی اور غیرمشتبہ صورت میں نظر آئے گی۔ اس کے برعکس مشرق یا مغرب یا شمال یا جنوب کے افق سے اگر کوئی چیز نمودار ہو گی تو وہ خفی صورت میں نمودار ہو گی جس طرح پہلی کا چاند نکلتا ہے۔ مقصود اس وضاحت سے یہ ہے کہ حضرت جبریلؑ اپنی اصلی ہیئت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے افق اعلیٰ کے اسٹیج پر نمودار ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلی آنکھوں سے ان کا اچھی طرح مشاہدہ کیا۔
    پھر قریب ہو گیا اور جھک پڑا۔
    ’ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی‘۔ ’تَدَلَّی‘ کے معنی جھک پڑنے یا لٹک آنے کے ہیں۔ یہ بیان ہے اس بات کا کہ اس کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دینے کے قصد سے آپ کے قریب آئے اور جس طرح شفیق اور بزرگ استاد اپنے عزیز و محبوب شاگرد پر غایت شفقت سے جھک پڑتا ہے اسی طرح وہ آپ کے اوپر جھک پڑے۔ یعنی یہ نہیں ہوا کہ دور سے اپنی بات پھینک ماری ہو اور اس امر کی پروا نہ کی ہو کہ آپ نے بات اچھی طرح سنی یا نہیں اور سنی تو سمجھی یا نہیں بلکہ پورے التفات و اہتمام سے اس طرح آپ کے کان میں بات ڈالی کہ آپ اچھی طرح سن اور سمجھ لیں۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ کاہنوں کے شیاطین کا جو علم ہوتا ہے اس کو قرآن نے ’خَطِفَ الْخَطْفَۃَ‘ (الصافات: ۱۰) سے تعبیر کیا ہے یعنی اچکی ہوئی بات، جس طرح چور اور اچکے کوئی چیز اچک لیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب استاد اچکے ہیں توو ہ اپنے شاگردوں کو تعلیم بھی اچکوں ہی کی طرح دیتے ہوں گے۔ قرآن نے یہاں حضرت جبریل علیہ السلام کے طریقۂ تعلیم کو اس لیے نمایاں فرمایا ہے کہ دونوں کا فرق اچھی طرح واضح ہو سکے۔
    پس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔
    ’فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی‘۔ ’قاب‘ کے معنی ’بقدر‘ کے ہیں یہ غایت قرب و اتصال کی تعبیر ہے۔ یعنی حضرت جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنے قریب ہو گئے کہ بس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ اس تشبیہ میں اہل عرب کے ذوق کا بھی لحاظ ہے۔ اہل عرب تیر و کمان والے لوگ تھے اس وجہ سے غایت قرب کی تعبیر کے لیے ایک کمان یا دو کمانوں کے بقدر کی تشبیہ استعمال کرتے تھے، جس طرح ہم ایک گز یا دو گز کے الفاظ بولتے ہیں۔ ’اَوْ‘ یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ تشبیہ محض قرب کی تعبیر کے لیے ہے۔ یہ فاصلہ اس سے بھی کم ہو سکتا ہے۔
    پس اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔
    ’فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰی‘۔ ’اَوْحٰی‘ کا فاعل اللہ تعالیٰ بھی ہو سکتا ہے اور حضرت جبریلؑ بھی۔ پہلی صورت میں مطلب بالکل واضح ہے کہ اس اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو وحی کرنی تھی وہ کی۔ دوسری صورت میں مضاف الیہ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہو گا، یعنی اس توجہ اور اہتمام کے ساتھ جبریل علیہ السلام نے اللہ کے بندے کی طرف جو وحی کرنی تھی وہ کی یا وہ وحی کی جو اللہ تعالیٰ نے جبریلؑ کو کرنے کے لیے ہدایت فرمائی۔ میرا رجحان پہلے قول کی طرف ہے، ویسے دوسرے قول میں بھی کوئی خاص قباحت نہیں ہے۔ بعض صوفیوں نے اس سے یہ بالکل غلط نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریلؑ کا بندہ قرار دیا ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ، مثالوں کی روشنی میں، واضح کرتے آ رہے ہیں کہ ضمیروں کے مرجع کا تعین قرینہ سے ہوتا ہے۔ انتشار ضمیر ہر صورت میں عیب نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں اس سے ایجاز کا فائدہ ہوتا ہے جو کلام عرب میں داخل بلاغت ہے۔
    جو کچھ اس نے دیکھا یہ دل کی خیال آرائی نہیں ہے۔
    نبی صلعم کے مشاہدے کی تصدیق: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مشاہدے کی تصدیق و تصویب ہے کہ کوئی اس مشاہدے کو دل کی خیال آرائی اور نفس کے فریب پر محمول نہ کرے، یہ فریب نفس اور دھوکا نہیں بلکہ فی الحقیقت نبی کو یہ مشاہدہ ہوا ہے۔ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے ان مشاہدات کا ذکر کیا تو مخالفین نے آپ کا مذاق اڑایا کہ جس قسم کے ارمان اس شخص کے دل میں بسے ہوئے ہیں اسی قسم کے خواب اس کو نظر آتے ہیں اور یہ خواب کو حقیقت گمان کر کے لوگوں کو مرعوب کرنے کے لیے ان کو سناتا پھرتا ہے، حالانکہ یہ تمام تر فریب نفس اور ذہن کی خیال آرائی ہے۔ قرآن نے اس الزام کی تردید مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ کی ہے۔ سورۂ تکویر کی تفسیر میں ان شاء اللہ اس پر مفصل بحث آئے گی۔
    تو کیا تم اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جس کا وہ مشاہدہ کر رہا ہے!
    یہ مخالفین کو مخاطب کر کے ان کو ملامت فرمائی ہے کہ کیا تم پیغمبرؐ سے اس کے مشاہدات پر جھگڑتے ہو؟ وہ جو کچھ آنکھوں سے دیکھتا ہے اور کانوں سے سنتا ہے اس سے تم کو آگاہ کر رہا ہے۔ اگر یہ چیز تم کو نظر نہیں آتی تو اس سے نفس حقیقت باطل نہیں ہو جائے گی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ مخالفین اپنے کاہنوں کی تو ساری خرافات بے دریغ تسلیم کر لیتے تھے اس لیے کہ ان کی باتیں ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی تھیں لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ان کی خواہشوں کے خلاف تھی اس وجہ سے آپ کی مخالفت کے لیے طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے تھے۔
    اور اس نے ایک بار اس کو اور بھی (سِدرۃ المنتہیٰ کے پاس اترتے) دیکھا۔
    دوسرا مشاہدہ: یعنی یہ بات نہیں ہے کہ پیغمبرؐ کو یہ مشاہدہ صرف ایک ہی بار ہوا ہو اس وجہ سے اس کو کوئی واہمہ یا مغالطہ قرار دیا جا سکے بلکہ اسی طرح انھوں نے دوبارہ بھی جبریلؑ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا جس کے پاس ہی جنت الماویٰ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنا جو مشاہدہ تمہارے سامنے وہ بیان کر رہے ہیں وہ مذاق اڑانے کی چیز نہیں بلکہ سنجیدگی سے غور کرنے کی چیز ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں صرف دو ابتدائی مشاہدوں کا حوالہ ان لوگوں کے جواب میں دیا گیا ہے جنھوں نے شروع شروع میں آپ کے ان مشاہدات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دو ہی بار دیکھا۔ ان دو ابتدائی مشاہدات کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام کا ظہور مختلف شکلوں اور مختلف اوقات میں تواتر کے ساتھ ہونے لگا، یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت جبریلؑ کی آمد سے زیادہ نہ کسی کی آمد معلوم و معروف تھی نہ محبوب و مطلوب۔
    سِدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔
    ’سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی‘: ’سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی‘ وہ مقام ہے جہاں اس عالم ناسوت کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں۔ ’سِدْرَۃ‘ بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے یہ بیری کا درخت عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے درمیان ایک حد فاصل ہے۔ ہمارے لیے یہ سارہ عالم نادیدہ ہے۔ نہ ہم عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے حدود کو جانتے اور نہ ان دونوں کے درمیان کے اس نشان فاصل کی حقیقت سے واقف ہیں جس کو یہاں ’سِدْرَۃ‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ چیزیں متشابہات میں داخل ہیں اس وجہ سے، قرآن کی ہدایت کے مطابق، ان پر ایمان لانا چاہیے، ان کی حقیقت کے درپے ہونا جائز نہیں ہے۔ ان کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ جن کا علم راسخ ہوتا ہے ان کے علم میں ان چیزوں سے اضافہ ہوتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو ان کی حقیقت جاننے کے درپے ہوتے ہیں وہ ٹھوکر کھاتے اور گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں۔
    اسی کے پاس جنت الماویٰ بھی ہے۔
    ’عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی‘۔ یہ ’سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی‘ کے مقام کی نشان دہی فرمادی کہ اس کے پاس ’جَنَّۃُ الْمَاْوٰی‘ بھی ہے۔ ’جَنَّۃُ الْمَاْوٰی‘ پر سورۂ سجدہ کی آیت ۱۹ کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ’سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی‘ عالم ناسوت کی آخری حد پر ہے اسی طرح ’جَنَّۃُ الْمَاْوٰی‘ عالم لاہوت کے نقطۂ آغاز پر ہے۔ اس نشان دہی سے یہ بات واضح ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریلؑ کا دوبارہ مشاہدہ دونوں عالموں کے نقطۂ اتصال پر ہوا۔
    جب کہ چھائے ہوئے تھی سدرہ کو جو چیز چھائے ہوئے تھی۔
    مشاہدے کی کیفیت حیطۂ بیان سے باہر ہے: یہ اس مشاہدے کی کیفیت بیان ہوئی ہے کہ ’سِدْرَۃ‘ کو ’چھائے ہوئے تھی جو چیز چھائے ہوئے تھی‘۔ یہ اسلوب بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس وقت اس ’سِدْرَۃ‘ پر انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ ان کی تعبیر الفاظ کی گرفت میں نہیں آ سکتی۔
    نہ نگاہ کج ہوئی اور نہ بے قابو۔
    تجلیات کے ہجوم میں پیغمبرؐ کا قرار و سکون: جس طرح اوپر ارشاد ہوا ہے: ’مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی‘ (۱۱) ( جو کچھ اس نے دیکھا وہ دل کی خیال آرائی نہیں تھی) اسی طرح یہاں فرمایا کہ اس مشاہدے کے موقع پر بھی نہ تو نگاہ بہکی اور نہ بے قابو ہوئی، بلکہ پیغمبرؐ نے جو کچھ مشاہدہ کیا پورے قرار و سکون اور پوری دل جمعی کے ساتھ مشاہدہ کیا۔ ’زیغ‘ کے معنی کج ہونے کے ہیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کسی جلوے کے مشاہدے میں اس کے صحیح زاویے سے کج نہیں ہوئی بلکہ آپ نے ہر چیز کا مشاہدہ اس کے بالکل صحیح زاویے سے کیا۔ ’طَغٰی‘ کے معنی بے قابو ہونے کے ہیں۔ یعنی اگرچہ انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ الفاظ اس کی تعبیر و تصویر سے قاصر ہیں لیکن آپ کی نگاہ ذرا بھی بے قابو نہیں ہوئی بلکہ آپ نے ہر چیز کا مشاہدہ اچھی طرح جم کر کیا۔  
    اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کے مشاہدے کیے۔
    اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ: یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئے۔ فرمایا کہ اس نے اپنے رب کی بعض بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہو سکتے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آ سکتیں تاہم لفظ ’کُبْرٰی‘ دلیل ہے کہ یہ نشانیاں ان نشانیوں سے بالاتر تھیں جن کا مشاہدہ، آفاق و انفس میں، ہر قدم پر، ہر صاحب نظر کو ہوتا رہتا ہے۔ مفسرین نے ان سے وہ مشاہدات مراد لیے ہیں جو حضورؐ کو معراج کے موقع پر ہوئے۔ ان کی اس رائے کے حق میں یہ قرینہ موجود ہے کہ سورۂ اسراء میں ذکر ہے کہ اس موقع پر آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کے مشاہدے کیے۔ تاہم یہ امر ملحوظ رہے کہ آپؐ کو مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا، خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔ اب اس تمہیدی بحث کا خلاصہ بھی سامنے رکھ لیجیے تاکہ آگے کے مباحث کے سمجھنے میں آسانی ہو۔ جو لوگ قرآن کریم کو نجوم و کہانت کے قسم کی چیز قرار دے کر اس کی وقعت گھٹانی چاہتے تھے ان کو خطاب کر کے مندرجہ ذیل حقائق ان کے سامنے رکھے گئے ہیں: ۱۔ یہ قرآن جس روز جزا و سزا سے تم کو آگاہ کر رہا ہے اس کو کوئی معمولی بات نہ سمجھو۔ یہ تمہارے کاہنوں اور نجومیوں کی ہفوات کی قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کے پیش کرنے والے نے خود اپنے جی سے گھڑ لی ہو۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو اس نے سب سے زیادہ مقرب فرشتے کے ذریعہ سے اپنے اس خاص بندے پر اس لیے نازل کی ہے تاکہ وہ تمہیں اس آنے والے دن سے، اس کے ظہور سے پہلے، اچھی طرح آگاہ کر دے۔ ۲۔ جس فرشتہ کے ذریعہ سے یہ وحی آئی ہے وہ خدا کا نہایت مقرب فرشتہ ہے اس وجہ سے اس اہم ذمہ داری کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا انتخاب فرمایا۔ وہ نہایت امین ہے، خدا کی امانت میں وہ کوئی خیانت نہیں کر سکتا۔ وہ نہایت قوی ہے، مجال نہیں ہے کہ کوئی دوسری طاقت اس کو مرعوب یا مغلوب کر سکے۔ وہ تمام اعلیٰ علمی و اخلاقی صفات سے متصف ہے، اس وجہ سے اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ وہ کسی مغالطہ میں مبتلا ہو سکے یا کوئی اسے دھوکا دے سکے یا وہ کسی کی جانب داری یا کسی کی ناحق مخالفت کرے۔ ۳۔ اس فرشتہ کو پیغمبرؐ نے دو بار نہایت وضاحت سے دیکھا ہے۔ پہلی بار اس کا مشاہدہ افق اعلیٰ میں ہوا اور دوسری بار سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ اس شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ محض کوئی وہم تھا جو اس کو لاحق ہوا اور اس نے اس کو تمہارے سامنے بیان کر دیا۔ ۴۔ فرشتہ نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جو تعلیم دی وہ ایک شفیق استاد کی طرح نہایت قریب سے، اس کے اوپر جھک کر دی جس کو پیغمبرؐ نے اچھی طرح سنا اور سمجھا۔ یہ نہیں ہوا کہ دور سے اس کے کانوں میں کوئی آواز آ پڑی ہو جس کے سننے یا سمجھنے میں کوئی شبہ یا تردد لاحق ہوا ہو۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List