Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الطور (The Mount)

    49 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ اس گروپ کی تیسری سورہ ہے۔ پچھلی دونوں سورتوں ۔۔۔ قٓ اور الذّٰریٰت ۔۔۔ میں زندگی بعد موت، حشر و نشر اور جزاء و سزا کے عقلی و انفسی اور آفاقی و تاریخی دلائل بیان ہوئے ہیں اور انداز بیان عمومیت یعنی جزا اور سزا دونوں کے پہلو لیے ہوئے ہے چنانچہ الذّٰریٰت میں عمود کی حیثیت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے، ’اِنَّمَا تُوعَدُوْنَ لَصَادِقٌ ۵ وَإِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ (بے شک جس چیز کی تم کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ سچی ہے اور جزاء و سزا واقع ہو کے رہے گی) کو حاصل ہے اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ جزا و سزا کے دونوں پہلوؤں پر حاوی ہے، خواہ اس کا تعلق رحمت سے ہو یا عذاب سے۔ اس سورہ میں عذاب کے پہلو کو زیادہ نمایاں فرمایا ہے چنانچہ چند تاریخی اور آفاقی شواہد کا حوالہ دینے کے بعد قریش کو نہایت واضح الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ ’إِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۵ مَا لَہٗ مِنۡ دَافِعٍ‘ (۷-۸) (بے شک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کے رہے گا اور کوئی بھی اس کو دفع کرنے والا نہ بن سکے گا) یہی دھمکی اس سورہ میں مقسم علیہ کی حیثیت بھی رکھتی ہے اور یہی اس سورہ کا عمود بھی ہے۔

  • الطور (The Mount)

    49 آیات | مکی
    الطور——- النجم

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں انذار عذاب اور سرداران قریش کے رویے پر تنقید، اور دوسری سورہ میں خدا اور آخرت کے بارے میں اُن کے جاہلانہ عقائد کی تردید کا پہلو نمایاں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا مضمون دونوں سورتوں میں ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 052 Verse 001 Chapter 052 Verse 002 Chapter 052 Verse 003 Chapter 052 Verse 004 Chapter 052 Verse 005 Chapter 052 Verse 006 Chapter 052 Verse 007 Chapter 052 Verse 008 Chapter 052 Verse 009 Chapter 052 Verse 010 Chapter 052 Verse 011 Chapter 052 Verse 012 Chapter 052 Verse 013 Chapter 052 Verse 014 Chapter 052 Verse 015 Chapter 052 Verse 016 Chapter 052 Verse 017 Chapter 052 Verse 018 Chapter 052 Verse 019 Chapter 052 Verse 020 Chapter 052 Verse 021 Chapter 052 Verse 022 Chapter 052 Verse 023 Chapter 052 Verse 024 Chapter 052 Verse 025 Chapter 052 Verse 026 Chapter 052 Verse 027 Chapter 052 Verse 028
    Click translation to show/hide Commentary
    شاہد ہے طور۔
    قسم اور مقسم علیہ: ’وَ‘ یہاں قسم کے لیے ہے اور یہ وضاحت اس کے محل میں تفصیل سے ہو چکی ہے؂۱ کہ قرآن میں جو قسمیں کھائی گئی ہیں بیشتر اس دعوے کی شہادت کے لیے کھائی گئی ہیں جو اس قسم کے بعد بطور مقسم علیہ مذکور ہوا ہے۔ یہاں مقسم علیہ، جیسا کہ ہم نے تمہید میں اشارہ کیا، ’إِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ‘ (بے شک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کے رہے گا) ہے۔ اس وجہ سے طور کی قسم لازماً اس دعوے پر شہادت کے لیے کھائی گئی ہے۔ چنانچہ قسم کے اسی مفہوم کو پیش نظر رکھ کر ہم نے اس کا ترجمہ ’شاہد ہے طور‘ کیا ہے اور یہ ترجمہ ہمارے نزدیک زیادہ معنی خیز ہے۔ ’طُور‘ سے مراد وہی جبل طور ہے جس کا ذکر مختلف پہلوؤں سے قرآن مجید میں بار بار ہوا ہے۔ اسی طور کی ایک مقدس وادی ’طویٰ‘ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین سے واپس ہوتے ہوئے، پہلی بار خدا کی تجلّی کا مشاہدہ ہوا۔ یہیں وہ شرف رسالت سے مشرف ہوئے اور حکم ہوا کہ وہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس منذر بن کر جائیں اور اس کو آگاہ کر دیں کہ اگر وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آیا تو اپنی قوم سمیت اللہ کے عذاب کی زد میں آ جائے گا۔ پھر فرعون کی ہلاکت کے بعد اسی طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات دینے کے لیے بلایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غَیبت کے دوران میں جب بنی اسرائیل گوسالہ پرستی کے فتنہ میں مبتلا ہوئے تو اسی طور کے دامن میں اپنی قوم کے سرداروں کو لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اجتماعی توبہ کے لیے حاضر ہوئے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سارے طور کو ہلا دیا اور بنی اسرائیل کو متنبہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب ۔۔۔ تورات ۔۔۔ دے کر تم سے جو عہد لے رہا ہے، اگر اس عہد پر تم استوار نہ رہے تو یاد رکھو کہ اس کی قدرت یہ بھی ہے کہ اسی پہاڑ سے تمہیں کچل کر رکھ دے گا۔ اپنی ان گوناگوں خصوصیات کے سبب سے جبل طور اس دعوے کی صداقت و شہادت کا ایک عظیم تاریخی نشان ہے جو اس قسم کے بعد مذکور ہوا ہے۔ چنانچہ اسی خصوص کی بنا پر اس کی قسم سورۂ تین میں بھی کھائی گئی ہے اور وہاں بھی، جیسا کہ سورۂ تین کی تفسیر میں ان شاء اللہ ہم واضح کریں گے، اسی جزا و سزا ہی کے پہلو سے اس کی قسم کھائی گئی ہے۔ ایک غلط فہمی: بعض لوگوں نے لفظ ’طور‘ کو یہاں عام پہاڑ کے معنی میں لیا ہے۔ لیکن یہ قول مختلف وجوہ سے کمزور ہے۔ اول تو قرآن کی تاویل معروف معنی کے لحاظ سے کرنی چاہیے۔ لفظ ’طور‘ عبرانی یا سریانی میں پہاڑ کے معنی میں ممکن ہے آتا ہو لیکن عربی میں یہ اس معنی میں معروف نہیں۔ قرآن میں یہ لفظ باربار آیا ہے اور ہر جگہ عَلم ہی کی حیثیت سے آیا ہے۔ دوسرے یہ کہ پہاڑ کے معنی لینے کی صورت میں مقسم علیہ کے ساتھ اس کی مطابقت باقی نہیں رہتی درآنحالیکہ یہ چیز ضروری ہے ورنہ قَسم بے محل ہو جائے گی۔ _____ ؂۱ ملاحطہ ہو اقسام القرآن مؤلّفہ امام حمید الدین فراہیؒ۔
    اور کتاب لکھی ہوئی۔
    ’کتاب مسطور‘ سے مراد تورات ہے: ’کِتَابٍ مَّسْطُورٍ‘ سے مراد یہاں تورات ہے۔ اس کا ایک واضح قرینہ تو یہ ہے کہ اس کا عطف ’طور‘ پر ہے اور یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طور ہی پر عطا فرمائی۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ اس کی صفت ’فِیْ رَقٍّ مَّنشُورٍ‘ آتی ہے۔ ’رَقّ‘ باریک کھال کو کہتے ہیں جو زمانۂ قدیم میں لکھنے کے مصرف میں آتی تھی اور تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات شروع شروع میں صاف کی ہوئی باریک کھالوں ہی پر لکھی جاتی جو طومار کی شکل میں لپیٹ کر رکھی جاتیں اور تلاوت کے وقت ان کو پھیلا لیا جاتا۔ ان قرائن کی موجودگی میں تورات کے سوا کسی اور کتاب کو مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے دفتر اعمال کو مراد لیا ہے، لیکن یہ اس کا محل نہیں ہے۔ اس کی شہادت اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں مؤثر ہو سکتی ہے۔ مقسم علیہ کے ساتھ بھی اس کا تعلق بالکل واضح ہے۔ جس طرح ’طور‘ اللہ تعالیٰ کے قانون مجازات کا ایک تاریخی نشان ہے اسی طرح تورات بھی ایک عظیم تحریری ریکارڈ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا قانون مجازات بھی نوشتہ ہے اور اس قانون کے تحت اس نے دنیا میں قوموں کے ساتھ جو معاملات کیے ہیں ان کی تاریخ بھی محفوظ ہے۔ اس تاریخ کو پڑھیے تو معلوم ہو گا کہ مکافات عمل کا قانون حضرت آدمؑ کے وقت سے برابر جاری ہے اور اس کا یہ تسلسل اس امر کی دلیل ہے کہ یہ برابر جاری رہے گا، یہاں تک کہ ایک ایسا دن بھی آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ کے عدل کامل کا ظہور ہو گا۔ اس دن جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہو گی وہ اس برائی کی سزا بھگتے گا اور جس نے رائی کے برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ اس کا صلہ پائے گا۔ لفظ ’کِتَابٍ‘ کی تنکیر اس کی شان کے اظہار کے لیے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن سے پہلے یہی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے خلق کی ہدایت اور آخرت کے عذاب سے ڈرانے کے لیے اتاری اور جس کے بنیادی احکام تحریری شکل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عنایت فرمائے۔ اس سے پہلے حضرات انبیاء علیہم السلام نے جو تعلیم دی وہ تمام تر زبانی دی۔ ان کی تعلیمات کو تحریر کی شکل میں لانے کا آغاز اسی کتاب سے ہوا اس وجہ سے اس کا ذکر خاص اہمیت کے ساتھ ہوا۔ اس تعلیم بالقلم سے خلق پر اتمام حجت کے جو پہلو ظہور میں آئے ان پر ان شاء اللہ سورۂ رحمٰن اور سورۂ علق کی تفسیر میں ہم روشنی ڈالیں گے۔
    جھلّی کے کھلے ہوئے اوراق میں۔
    ایک کھلا صحیفہ: لفظ ’رَقّ‘ کی تحقیق اوپر یبان ہو چکی ہے۔ اس کتاب کے پھیلے ہوئے اوراق میں ہونے کا حوالہ یہاں خلق پر اتمام حجت کے پہلو سے ہے۔ یعنی یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ ایک آشکارا حقیقت ہے جو بالکل کھلے اور پھیلے ہوئے اوراق میں بیان ہوئی ہے۔ جو شخص چاہے، اس کو پڑھ سکتا ہے اور اگر پڑھ نہیں سکتا تو اس کو پڑھوا سکتا ہے۔ بلکہ اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کتاب کے حاملین سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کو بتائیں اور سنائیں کہ اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے کیا بیان فرمایا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اہل عرب دینی معاملات میں اہل کتاب کی برتری تسلیم کرتے رہے ہیں، چنانچہ جگہ جگہ قرآن نے ان کو توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لیں۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ تورات میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی تاریخ بھی بیان ہوئی ہے اور اہل عرب اس بات کے مدعی تھے کہ وہ جس دین پر ہیں وہ ان کو اپنے انہی اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ گویا ان کے لیے یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ اس کتاب سے معلوم کر سکتے ہیں کہ ان کے اجداد نے ان کو جزا و سزا سے ڈرایا ہے یا نہیں۔ وقت کے یہود پر ایک لطیف تعریض: لفظ ’منشور‘ میں وقت کے یہود پر نہایت لطیف تعریض بھی ہے۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ یہود اپنے صحیفوں کی بہت سی باتیں چھپاتے ہیں۔ کتمان حق کی یہ بیماری یہود کے اندر ان کے دور زوال میں پیدا ہوئی اور اس کے پیدا ہونے کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ ان پیشین گوئیوں سے واقف ہوں جو تورات کے صحیفوں میں نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وسلم) سے متعلق وارد ہیں اور جن میں ان کو یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر انھوں نے اس نبی کی تکذیب کی تو وہ خدا کے مغضوب اور امامت سے محروم ہو جائیں گے۔ اس لفظ سے یہود کو تورات کی اصل نوعیت کی یاددہانی فرمائی گئی کہ یہ پھیلے ہوئے، صاف و شفاف اوراق میں تھی کہ لوگ اس کو پڑھیں اور سمجھیں اور اس کے اوراق ہر وقت لوگوں کے سامنے کھلے رہیں، لیکن وہ اپنی بدبختی سے ان کو چھپاتے ہیں۔ یہی حقیقت حضرت مسیحؑ نے یہود کو خطاب کر کے یوں واضح فرمائی ہے کہ ’تم کو چراغ دیا گیا تھا کہ گھر میں اس کو بلند جگہ پر رکھو کہ سارے گھر میں روشنی پھیلے، لیکن تم نے اس کو پیمانے کے نیچے ڈھانک کر رکھا ہے۔
    اور شاہد ہے آباد گھر۔
    ’بیت معمور‘ سے مراد: ’بَیْْتِ مَعْمُور‘ سے عام طور پر مفسرین نے جنت کے اندر ایک گھر کو مراد لیا ہے جو فرشتوں کے لیے آسمان میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو زمین میں انسانوں کے لیے بیت اللہ الحرام کی ہے۔ لیکن یہ قول، ہمارے نزدیک، یہاں غیرمتعلق ہے۔ اس طرح کا کوئی گھر جنت میں ہے تو اس کی شہادت اس دعوے کے حق میں کیا وزن رکھتی ہے جو اس قسم کے بعد پیش کی گئی ہے؟ ہمارے مفسرین کو چونکہ یہ غلط فہمی ہے کہ قسم جس چیز کی کھائی جائے وہ کوئی مقدس چیز ہونی چاہیے، اس وجہ سے وہ صرف مقسم بہ کے تقدس کو دیکھتے ہیں حالانکہ اصل دیکھنے کی چیز مقسم بہ کا تقدس نہیں بلکہ پیش کردہ دعوے پر اس کی شہادت کا پہلو ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو دعوے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق سمجھ میں نہیں آتا۔ بعض لوگوں نے اس سے بیت اللہ کو مراد لیا ہے۔ یہ قول اس پہلو سے تو وزن دار ہے کہ ’بلدِ امین‘ کی قسم سورۂ تین میں جزا اور سزا کے حق ہونے پر کھائی گئی ہے۔ بیت اللہ چونکہ اسی بلد امین میں واقع ہے اس وجہ سے اس کی شہادت بھی اپنے اندر ایک معنویت رکھتی ہے لیکن سیاق و سباق اس قول کے خلاف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بعد ’سقف مرفوع‘ کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس ’سقف مرفوع‘ سے بیت اللہ کی چھت ظاہر ہے کہ مراد نہیں ہو سکتی۔ اس سے آسمان ہی مراد ہو سکتا ہے اور مفسرین نے آسمان ہی کو مراد لیا بھی ہے۔ اگر اس سے آسمان ہی مراد ہے تو بیت اللہ کی قسم کے بعد آسمان کی قسم اور اس کے بعد دریا کی قسم یہ کچھ بے جوڑ سی قسمیں ہو جاتی ہیں۔ ان کے اندر وہ ہم رنگی وہ ہم آہنگی باقی نہیں رہتی جو طور اور کتاب مسطور والی قسم میں پائی جاتی ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ ’بیت معمور‘ سے مراد یہ زمین ہے جس پر آسمان کی چھت پھیلی ہوئی ہے۔ اس خیال کی تائید میں کئی باتیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ زمین کے لیے بیت کا استعارہ نہایت موزوں ہے۔ قرآن نے جگہ جگہ اس کو ’مھاد‘ اور ’قرار‘ وغیرہ الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ نیز زمین کو فرش اور آسمان کو اس کی چھت سے مثال دے کر اس کے گھر ہونے کو نہایت خوبصورت طریقہ پر ممثل بھی کر دیا ہے۔ دوسری یہ کہ اس کے بعد آسمان کا ذکر اس بات کا نہایت واضح قرینہ ہے کہ اس سے زمین ہی مراد لی جائے۔ قرآن میں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے زمین اور آسمان دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ ہوا ہے۔ تیسری یہ کہ قرآن میں جگہ جگہ اس حقیقت کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی پرورش کے لیے جو گوناگوں اسباب و وسائل مہیا فرمائے ہیں وہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہیں کہ انسان اس دنیا میں شتر بے مہار نہیں ہے بلکہ وہ اپنے رب کے آگے جواب دہ ہے۔ لفظ ’معمور‘ یہاں زمین کے انہی اسباب و وسائل اور اس کے لازمی نتیجہ یعنی مسؤلیت اور جواب دہی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ چوتھی یہ کہ سابق سورہ ۔۔۔ الذّٰریٰت ۔۔۔ میں فرمایا ہے کہ’وَفِی الْأَرْضِ آیَاتٌ لِّلْمُوۡقِنِیْنَ‘ (۲۰) (اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے) نیز فرمایا ہے کہ’وَفِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ‘ (۲۲) (اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے) ان آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے ہم زمین و آسمان کی ان نشانیوں کی طرف اشارہ کر چکے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قانون مجازات اور اس کے عذاب پر گواہ ہیں۔ بعینہٖ اسی چیز پر زمین و آسمان کی گواہی یہاں بھی پیش کی گئی ہے، صرف اسلوب بیان کا فرق ہے۔ ان مختلف وجوہ سے ہمارے نزدیک اس سے مراد زمین ہے اور لفظ ’معمور‘ سے اس کا موصوف ہونا خدا کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی ان شانوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس سے قرآن نے جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کے عدل اور جزا و سزا پر استدلال فرمایا ہے اور جس کی وضاحت اس کتاب میں ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔
    اور (شاہد ہے) بلند چھت۔
    آسمان کی شہادت: زمین کے بعد یہ آسمان کی شہادت پیش کی گئی ہے۔ قرآن نے اپنے دعاوی کی تائید میں بالعموم زمین کی نشانیوں کے ساتھ آسمان کی نشانیوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ سورۂ ذاریات کی آیت’وَفِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوعَدُوۡنَ‘ (۲۲) (اور آسمان میں تمہاری روزی بھی ہے اور وہ چیز بھی جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے) نیز اس میں’وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُکِ‘ (۷) (دھاریوں والے آسمان کی قسم) بھی ہے۔ اس کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس سے معلوم ہو جائے گا کہ معتوب قوموں کی تباہی میں آسمان اور ابر و ہوا کے تصرفات کو کتنا دخل رہا ہے۔ آسمان کا ذکر قرآن میں موقع و محل کی رعایت سے مختلف صفات کے ساتھ ہوا ہے۔ یہاں اس کو ’سقف مرفوع‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ لفظ ’سقف‘ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، عنایت اور رحمت پر دلیل ہے کہ یہ محض اس کی کرم گستری کا کرشمہ ہے کہ اس نے یہ عظیم شامیانہ ہمارے سروں پر تان رکھا ہے اور لفظ ’مرفوع‘ اس کی قدرت، عظمت اور کبریائی کو ظاہر کر رہا ہے کہ جو ذات اس عظیم اور ناپیدا کنار چھت کے بلند کر دینے پر قادر ہے کون سا کام ہے جو اس کے دائرۂ قدرت سے باہر ہو سکتا ہے! اللہ تعالیٰ کی صفات کے یہ دونوں پہلو (یعنی اس کی عنایت اور قدرت) جن مختلف اعتبارات سے آخرت اور جزا و سزا پر دلیل ہیں ان کی تفصیل اس کتاب میں ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔
    اور لبریز سمندر۔
    ’سجر‘ کے معنی بھرنے کے ہیں۔ ’سجر الرجل التنّور‘ تنّور کو ایندھن سے بھر دیا۔ ’سجر الماء النھر‘ پانی نے نہر کو لبریز کر دیا۔ سمندر کی شہادت: زمین اور آسمان کی شہادت کے بعد یہ زمین کی ایک سب سے بڑی نشانی سمندر کی قسم کھائی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی زمین اور آسمان کی نشانیوں کا حوالہ دینے کے بعد سمندر کی نشانیوں کا ذکر آیا ہے، ملاحظہ ہوں سورۂ رحمٰن کی آیات ۱۰-۲۴۔ ان آیات پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ زمین و آسمان کی نشانیوں میں سے سمندر اپنے اندر خدا کی توحید، اس کی قدرت، اس کی ربوبیت اور اس کی جزا و سزا کے اتنے شواہد رکھتا ہے کہ انسان ان کو شمار نہیں کر سکتا۔ ان شواہد کی تفصیل اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں۔ ان بحثوں کو ان کے محل میں دیکھیے۔ بعض اہم امور سورۂ رحمٰن کی تفسیر میں بھی ان شاء اللہ زیربحث آئیں گے۔ یہاں سورہ کے عمود اور مقسم علیہ کے تعلق سے اتنی بات یاد رکھیے کہ ان قسموں کے بعد جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے اس کی تاریخی شہادت قوم نوح کے واقعہ میں بھی موجود ہے اور قوم فرعون کے واقعہ میں بھی۔ یہ دونوں قومیں سمندر ہی کے عذاب میں گرفتار ہوئیں جس کی تفصیلات تورات میں بھی موجود ہیں اور قرآن میں بھی۔
    کہ تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔
    اصل دعویٰ جو سورہ کا عمود ہے: یہ ہے وہ اصل دعویٰ جو اوپر کی قسموں کے بعد پیش کیا گیا ہے اور یہی اس سورہ کا عمود بھی ہے۔ یہی بات معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، سابق سورہ میں ہواؤں کی قسم کے بعد یوں ارشاد ہوئی ہے:’اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۵ وَإِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ (۵-۶) (بے شک جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ سچی ہے اور بے شک جزا اور سزا ہو کے رہے گی) بس اتنا فرق ہے کہ اس میں عذاب کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ ہم سابق سورہ میں ’اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ‘ کی شرح کرتے ہوئے اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سے مراد درحقیقت وہ عذاب ہے جس سے اللہ کے رسولوں نے دنیا اور آخرت میں ڈرایا ہے۔ اس سورہ میں گویا وہی بات واضح فرما دی گئی ہے جو سابق سورہ میں مضمر تھی۔ اجمال کے بعد تفصیل اور اضمار کے بعد توضیح قرآن مجید کا معروف اسلوب ہے جس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اوپر قسموں کی وضاحت کرتے ہوئے ہم ان شواہد کی طرف اشارہ کر چکے ہیں جو اس دعوے پر دلیل ہیں۔ ان کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہی کا حوالہ دے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم قریش کو جس عذاب سے ڈرا رہے ہو اور جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں وہ واقع ہو کے رہے گا، کوئی اس کو دفع کرنے والا نہ بن سکے گا۔ یعنی نہ تو ان کی اپنی قوت و جمعیت اس کے مقابل میں کچھ کام آئے گی اور نہ ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء ان کو اس سے چھڑا سکیں گے۔ نہ دنیا میں اس سے کوئی بچا سکے گا اور نہ آخرت میں کوئی سہارا دے سکے گا۔ طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو جو خبر دی گئی، تورات کے صحیفوں میں جو ریکارڈ مرقوم ہے، یہ زمین جن آثار و شواہد سے معمور ہے، یہ سقف نیلگوں جن عجائب تصرفات قدرت کی گواہی دے رہی ہے اور یہ سمندر جن آیات الٰہی کے امین ہیں ان کو دیکھو اور ان پر غور کرو، وہ اس وعید کی تصدیق کے لیے کافی ہیں۔ ان کے علاوہ کسی اور نشانی کی ضرورت نہیں ہے۔ ان نشانیوں سے جن لوگوں کی آنکھیں نہیں کھلیں گی وہ اگر آسمان کا کوئی ٹکڑا اپنے اوپر گرتا ہوا بھی دیکھیں گے تو اس کو بھی عذاب کے بجائے ابرباراں سمجھ کر خوشی سے ناچیں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو تباہ کر کے رکھ د ے گا لیکن وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
    کوئی اس کو ٹالنے والا نہیں بن سکے گا۔
    اصل دعویٰ جو سورہ کا عمود ہے: یہ ہے وہ اصل دعویٰ جو اوپر کی قسموں کے بعد پیش کیا گیا ہے اور یہی اس سورہ کا عمود بھی ہے۔ یہی بات معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، سابق سورہ میں ہواؤں کی قسم کے بعد یوں ارشاد ہوئی ہے:’اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۵ وَإِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ (۵-۶) (بے شک جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ سچی ہے اور بے شک جزا اور سزا ہو کے رہے گی) بس اتنا فرق ہے کہ اس میں عذاب کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ ہم سابق سورہ میں ’اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ‘ کی شرح کرتے ہوئے اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سے مراد درحقیقت وہ عذاب ہے جس سے اللہ کے رسولوں نے دنیا اور آخرت میں ڈرایا ہے۔ اس سورہ میں گویا وہی بات واضح فرما دی گئی ہے جو سابق سورہ میں مضمر تھی۔ اجمال کے بعد تفصیل اور اضمار کے بعد توضیح قرآن مجید کا معروف اسلوب ہے جس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اوپر قسموں کی وضاحت کرتے ہوئے ہم ان شواہد کی طرف اشارہ کر چکے ہیں جو اس دعوے پر دلیل ہیں۔ ان کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہی کا حوالہ دے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم قریش کو جس عذاب سے ڈرا رہے ہو اور جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں وہ واقع ہو کے رہے گا، کوئی اس کو دفع کرنے والا نہ بن سکے گا۔ یعنی نہ تو ان کی اپنی قوت و جمعیت اس کے مقابل میں کچھ کام آئے گی اور نہ ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء ان کو اس سے چھڑا سکیں گے۔ نہ دنیا میں اس سے کوئی بچا سکے گا اور نہ آخرت میں کوئی سہارا دے سکے گا۔ طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو جو خبر دی گئی، تورات کے صحیفوں میں جو ریکارڈ مرقوم ہے، یہ زمین جن آثار و شواہد سے معمور ہے، یہ سقف نیلگوں جن عجائب تصرفات قدرت کی گواہی دے رہی ہے اور یہ سمندر جن آیات الٰہی کے امین ہیں ان کو دیکھو اور ان پر غور کرو، وہ اس وعید کی تصدیق کے لیے کافی ہیں۔ ان کے علاوہ کسی اور نشانی کی ضرورت نہیں ہے۔ ان نشانیوں سے جن لوگوں کی آنکھیں نہیں کھلیں گی وہ اگر آسمان کا کوئی ٹکڑا اپنے اوپر گرتا ہوا بھی دیکھیں گے تو اس کو بھی عذاب کے بجائے ابرباراں سمجھ کر خوشی سے ناچیں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو تباہ کر کے رکھ د ے گا لیکن وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
    اس دن کو یاد رکھو جس دن آسمان ڈانواں ڈول ہو جائے گا۔
    یوم عذاب کی تصویر: یہ اس عذاب کی تصویر ہے کہ اس دنیا میں یہ آسمان جو نہایت ہی محکم اور اپنے مقام پر ٹکا ہوا نظر آتا ہے ڈانواں ڈول ہو جائے گا۔ ’مَوْر‘ کے معنی مضطرب اور متردد ہو کر ادھر ادھر حرکت کرنے کے ہیں۔ یعنی اس کا کوئی ٹکڑا کسی سمت کو جاتا ہوا نظر آئے گا، کوئی کسی جانب کو، اسی طرح یہ پہاڑ جو اپنی جگہ گڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اکھڑ کر بالکل بگ ٹٹ چلنے لگیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب آسمان اور پہاڑوں کا یہ حال ہو گا تو انسانوں پر کیا گزرے گی؟ اس دن کسی کی قوت و جمعیت اور کسی کے قلعے اور مورچے کیا کام آنے والے بن سکیں گے! یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ جب قریش کے سرکشوں کو قیامت کے دن کسی ہلچل کی خبر دی جاتی تو وہ بانداز استہزاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا بنے گا، کیا یہ بھی ٹوٹ پھوٹ جائیں گے! قرآن نے دوسرے مقام میں انہی لوگوں کے جواب میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ میرا رب ان کو بھی ریزہ ریزہ کر دے گا۔ ’فَوَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ‘۔ فرمایا کہ اس دن ان لوگوں کے لیے ہلاکی ہی ہلاکی ہے جو اس کو آج جھٹلا رہے ہیں۔ ’اَلَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ خَوْضٍ یَلْعَبُوْنَ‘۔ یہ انہی جھٹلانے والوں کی صفت ہے جس سے کلام بالکل مطابق حال ہو گیا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آ گئی کہ اس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو مختلف قسم کی سخن سازیوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے اور آپ کے انذار کو ہوا میں اڑا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان سخن سازیوں کی تفصیل اسی سورہ میں آگے آیات ۲۹-۴۶ میں آئے گی۔ مخالفین کی خاک بازی: ’خوض‘ کے معنی کسی چیز کے اندر گھسنے کے ہیں۔ ’خَاض الماءَ‘ وہ پانی کے اندر گھس گیا۔ اسی سے ’خاض القوم فی الحدیث‘ کا محاورہ نکلا جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ بات سے بات پیدا کرتے ہوئے کہیں سے کہیں جا نکلے۔ عام طور پر یہ محاورہ کسی باطل کی حمایت اور حق کی مخالفت میں سخن سازی اور دلیل بازی کے لیے آتا ہے۔ قرآن میں یہ اسی معنی میں جگہ جگہ آیا ہے۔ مثلاً’وَخُضْتُمْ کَالَّذِیْ خَاضُوۡا‘ (التوبہ ۶۹) (اور تم نے بھی اسی طرح کی دلیل بازیاں کیں جس طرح کی دلیل بازیاں انھوں نے کیں)؛ ’فَذَرْہُمْ یَخُوۡضُوۡا وَیَلْعَبُوۡا حَتّٰی یُلَاقُوا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوۡعَدُوۡنَ‘ (الزخرف ۸۳) (پس ان کو چھوڑو وہ دلیل بازیاں اور سخن سازیاں کرتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے)۔ کسی بات کو حق سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت میں دلیلیں گھڑنے کی کوشش کرنا اپنی اور اپنے پیروؤں کی عقل کے ساتھ ایک قسم کی دل لگی ہے اس وجہ سے قرآن نے اس کو ’لعب‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ خاک بازی کا یہ کھیل یوں تو ہر حال میں نہایت خطرناک ہے لیکن اس صورت میں آخری حد تک خطرناک ہو جاتا ہے جب اس کے نتیجے میں ایک ابدی خسران سے سابقہ پیش آنے والا ہو۔ اس ’خوض‘ کی پوری تفصیل آگے آ رہی ہے۔ اس سے اشارہ مخالفین کی اس طرح کی باتوں کی طرف ہے جو وہ اپنے ضمیر کے خلاف محض اس لیے کہتے کہ کسی طرح اس اثر کو مٹائیں جو قرآن کی دعوت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے لوگوں کے دلوں پر پڑ رہا تھا۔ مثلاً یہ کہ کوئی آپ کو کاہن کہتا، کوئی شاعر، کوئی آپ کو مفتری قرار دیتا اور کوئی شیخی باز۔ اسی طرح بعض یہ دعویٰ بھی کرتے کہ جس طرح کا کلام یہ پیش کر رہے ہیں اس طرح کا کلام ہم بھی پیش کر سکتے ہیں۔ غرض آپ کو زچ کرنے کے لیے جس کو جو بات بھی سوجھ پاتی وہ بے دھڑک کہہ گزرتا۔ حق کی مخالفت میں یہ نکتہ آفرینیاں ان کے لیے محض دل لگی تھی۔ یہ سوچنے کی توفیق کسی کو نہ ہوتی کہ اس دل لگی سے اپنے اور اپنی قوم کے لیے وہ ابدی جہنم کا سامان کر رہے ہیں۔  
    اور پہاڑ چلنے لگ جائیں گے۔
    یوم عذاب کی تصویر: یہ اس عذاب کی تصویر ہے کہ اس دنیا میں یہ آسمان جو نہایت ہی محکم اور اپنے مقام پر ٹکا ہوا نظر آتا ہے ڈانواں ڈول ہو جائے گا۔ ’مَوْر‘ کے معنی مضطرب اور متردد ہو کر ادھر ادھر حرکت کرنے کے ہیں۔ یعنی اس کا کوئی ٹکڑا کسی سمت کو جاتا ہوا نظر آئے گا، کوئی کسی جانب کو، اسی طرح یہ پہاڑ جو اپنی جگہ گڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اکھڑ کر بالکل بگ ٹٹ چلنے لگیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب آسمان اور پہاڑوں کا یہ حال ہو گا تو انسانوں پر کیا گزرے گی؟ اس دن کسی کی قوت و جمعیت اور کسی کے قلعے اور مورچے کیا کام آنے والے بن سکیں گے! یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ جب قریش کے سرکشوں کو قیامت کے دن کسی ہلچل کی خبر دی جاتی تو وہ بانداز استہزاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا بنے گا، کیا یہ بھی ٹوٹ پھوٹ جائیں گے! قرآن نے دوسرے مقام میں انہی لوگوں کے جواب میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ میرا رب ان کو بھی ریزہ ریزہ کر دے گا۔ ’فَوَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ‘۔ فرمایا کہ اس دن ان لوگوں کے لیے ہلاکی ہی ہلاکی ہے جو اس کو آج جھٹلا رہے ہیں۔ ’اَلَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ خَوْضٍ یَلْعَبُوْنَ‘۔ یہ انہی جھٹلانے والوں کی صفت ہے جس سے کلام بالکل مطابق حال ہو گیا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آ گئی کہ اس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو مختلف قسم کی سخن سازیوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے اور آپ کے انذار کو ہوا میں اڑا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان سخن سازیوں کی تفصیل اسی سورہ میں آگے آیات ۲۹-۴۶ میں آئے گی۔ مخالفین کی خاک بازی: ’خوض‘ کے معنی کسی چیز کے اندر گھسنے کے ہیں۔ ’خَاض الماءَ‘ وہ پانی کے اندر گھس گیا۔ اسی سے ’خاض القوم فی الحدیث‘ کا محاورہ نکلا جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ بات سے بات پیدا کرتے ہوئے کہیں سے کہیں جا نکلے۔ عام طور پر یہ محاورہ کسی باطل کی حمایت اور حق کی مخالفت میں سخن سازی اور دلیل بازی کے لیے آتا ہے۔ قرآن میں یہ اسی معنی میں جگہ جگہ آیا ہے۔ مثلاً’وَخُضْتُمْ کَالَّذِیْ خَاضُوۡا‘ (التوبہ ۶۹) (اور تم نے بھی اسی طرح کی دلیل بازیاں کیں جس طرح کی دلیل بازیاں انھوں نے کیں)؛ ’فَذَرْہُمْ یَخُوۡضُوۡا وَیَلْعَبُوۡا حَتّٰی یُلَاقُوا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوۡعَدُوۡنَ‘ (الزخرف ۸۳) (پس ان کو چھوڑو وہ دلیل بازیاں اور سخن سازیاں کرتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے)۔ کسی بات کو حق سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت میں دلیلیں گھڑنے کی کوشش کرنا اپنی اور اپنے پیروؤں کی عقل کے ساتھ ایک قسم کی دل لگی ہے اس وجہ سے قرآن نے اس کو ’لعب‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ خاک بازی کا یہ کھیل یوں تو ہر حال میں نہایت خطرناک ہے لیکن اس صورت میں آخری حد تک خطرناک ہو جاتا ہے جب اس کے نتیجے میں ایک ابدی خسران سے سابقہ پیش آنے والا ہو۔ اس ’خوض‘ کی پوری تفصیل آگے آ رہی ہے۔ اس سے اشارہ مخالفین کی اس طرح کی باتوں کی طرف ہے جو وہ اپنے ضمیر کے خلاف محض اس لیے کہتے کہ کسی طرح اس اثر کو مٹائیں جو قرآن کی دعوت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے لوگوں کے دلوں پر پڑ رہا تھا۔ مثلاً یہ کہ کوئی آپ کو کاہن کہتا، کوئی شاعر، کوئی آپ کو مفتری قرار دیتا اور کوئی شیخی باز۔ اسی طرح بعض یہ دعویٰ بھی کرتے کہ جس طرح کا کلام یہ پیش کر رہے ہیں اس طرح کا کلام ہم بھی پیش کر سکتے ہیں۔ غرض آپ کو زچ کرنے کے لیے جس کو جو بات بھی سوجھ پاتی وہ بے دھڑک کہہ گزرتا۔ حق کی مخالفت میں یہ نکتہ آفرینیاں ان کے لیے محض دل لگی تھی۔ یہ سوچنے کی توفیق کسی کو نہ ہوتی کہ اس دل لگی سے اپنے اور اپنی قوم کے لیے وہ ابدی جہنم کا سامان کر رہے ہیں۔  
    پس بدبختی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی!
    یوم عذاب کی تصویر: یہ اس عذاب کی تصویر ہے کہ اس دنیا میں یہ آسمان جو نہایت ہی محکم اور اپنے مقام پر ٹکا ہوا نظر آتا ہے ڈانواں ڈول ہو جائے گا۔ ’مَوْر‘ کے معنی مضطرب اور متردد ہو کر ادھر ادھر حرکت کرنے کے ہیں۔ یعنی اس کا کوئی ٹکڑا کسی سمت کو جاتا ہوا نظر آئے گا، کوئی کسی جانب کو، اسی طرح یہ پہاڑ جو اپنی جگہ گڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اکھڑ کر بالکل بگ ٹٹ چلنے لگیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب آسمان اور پہاڑوں کا یہ حال ہو گا تو انسانوں پر کیا گزرے گی؟ اس دن کسی کی قوت و جمعیت اور کسی کے قلعے اور مورچے کیا کام آنے والے بن سکیں گے! یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ جب قریش کے سرکشوں کو قیامت کے دن کسی ہلچل کی خبر دی جاتی تو وہ بانداز استہزاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا بنے گا، کیا یہ بھی ٹوٹ پھوٹ جائیں گے! قرآن نے دوسرے مقام میں انہی لوگوں کے جواب میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ میرا رب ان کو بھی ریزہ ریزہ کر دے گا۔ ’فَوَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ‘۔ فرمایا کہ اس دن ان لوگوں کے لیے ہلاکی ہی ہلاکی ہے جو اس کو آج جھٹلا رہے ہیں۔ ’اَلَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ خَوْضٍ یَلْعَبُوْنَ‘۔ یہ انہی جھٹلانے والوں کی صفت ہے جس سے کلام بالکل مطابق حال ہو گیا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آ گئی کہ اس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو مختلف قسم کی سخن سازیوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے اور آپ کے انذار کو ہوا میں اڑا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان سخن سازیوں کی تفصیل اسی سورہ میں آگے آیات ۲۹-۴۶ میں آئے گی۔ مخالفین کی خاک بازی: ’خوض‘ کے معنی کسی چیز کے اندر گھسنے کے ہیں۔ ’خَاض الماءَ‘ وہ پانی کے اندر گھس گیا۔ اسی سے ’خاض القوم فی الحدیث‘ کا محاورہ نکلا جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ بات سے بات پیدا کرتے ہوئے کہیں سے کہیں جا نکلے۔ عام طور پر یہ محاورہ کسی باطل کی حمایت اور حق کی مخالفت میں سخن سازی اور دلیل بازی کے لیے آتا ہے۔ قرآن میں یہ اسی معنی میں جگہ جگہ آیا ہے۔ مثلاً’وَخُضْتُمْ کَالَّذِیْ خَاضُوۡا‘ (التوبہ ۶۹) (اور تم نے بھی اسی طرح کی دلیل بازیاں کیں جس طرح کی دلیل بازیاں انھوں نے کیں)؛ ’فَذَرْہُمْ یَخُوۡضُوۡا وَیَلْعَبُوۡا حَتّٰی یُلَاقُوا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوۡعَدُوۡنَ‘ (الزخرف ۸۳) (پس ان کو چھوڑو وہ دلیل بازیاں اور سخن سازیاں کرتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے)۔ کسی بات کو حق سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت میں دلیلیں گھڑنے کی کوشش کرنا اپنی اور اپنے پیروؤں کی عقل کے ساتھ ایک قسم کی دل لگی ہے اس وجہ سے قرآن نے اس کو ’لعب‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ خاک بازی کا یہ کھیل یوں تو ہر حال میں نہایت خطرناک ہے لیکن اس صورت میں آخری حد تک خطرناک ہو جاتا ہے جب اس کے نتیجے میں ایک ابدی خسران سے سابقہ پیش آنے والا ہو۔ اس ’خوض‘ کی پوری تفصیل آگے آ رہی ہے۔ اس سے اشارہ مخالفین کی اس طرح کی باتوں کی طرف ہے جو وہ اپنے ضمیر کے خلاف محض اس لیے کہتے کہ کسی طرح اس اثر کو مٹائیں جو قرآن کی دعوت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے لوگوں کے دلوں پر پڑ رہا تھا۔ مثلاً یہ کہ کوئی آپ کو کاہن کہتا، کوئی شاعر، کوئی آپ کو مفتری قرار دیتا اور کوئی شیخی باز۔ اسی طرح بعض یہ دعویٰ بھی کرتے کہ جس طرح کا کلام یہ پیش کر رہے ہیں اس طرح کا کلام ہم بھی پیش کر سکتے ہیں۔ غرض آپ کو زچ کرنے کے لیے جس کو جو بات بھی سوجھ پاتی وہ بے دھڑک کہہ گزرتا۔ حق کی مخالفت میں یہ نکتہ آفرینیاں ان کے لیے محض دل لگی تھی۔ یہ سوچنے کی توفیق کسی کو نہ ہوتی کہ اس دل لگی سے اپنے اور اپنی قوم کے لیے وہ ابدی جہنم کا سامان کر رہے ہیں۔  
    اُن کی جو سخن گستری میں لگے ہوئے کھیل رہے ہیں۔
    یوم عذاب کی تصویر: یہ اس عذاب کی تصویر ہے کہ اس دنیا میں یہ آسمان جو نہایت ہی محکم اور اپنے مقام پر ٹکا ہوا نظر آتا ہے ڈانواں ڈول ہو جائے گا۔ ’مَوْر‘ کے معنی مضطرب اور متردد ہو کر ادھر ادھر حرکت کرنے کے ہیں۔ یعنی اس کا کوئی ٹکڑا کسی سمت کو جاتا ہوا نظر آئے گا، کوئی کسی جانب کو، اسی طرح یہ پہاڑ جو اپنی جگہ گڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اکھڑ کر بالکل بگ ٹٹ چلنے لگیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب آسمان اور پہاڑوں کا یہ حال ہو گا تو انسانوں پر کیا گزرے گی؟ اس دن کسی کی قوت و جمعیت اور کسی کے قلعے اور مورچے کیا کام آنے والے بن سکیں گے! یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ جب قریش کے سرکشوں کو قیامت کے دن کسی ہلچل کی خبر دی جاتی تو وہ بانداز استہزاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا بنے گا، کیا یہ بھی ٹوٹ پھوٹ جائیں گے! قرآن نے دوسرے مقام میں انہی لوگوں کے جواب میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ میرا رب ان کو بھی ریزہ ریزہ کر دے گا۔ ’فَوَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ‘۔ فرمایا کہ اس دن ان لوگوں کے لیے ہلاکی ہی ہلاکی ہے جو اس کو آج جھٹلا رہے ہیں۔ ’اَلَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ خَوْضٍ یَلْعَبُوْنَ‘۔ یہ انہی جھٹلانے والوں کی صفت ہے جس سے کلام بالکل مطابق حال ہو گیا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آ گئی کہ اس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو مختلف قسم کی سخن سازیوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے اور آپ کے انذار کو ہوا میں اڑا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان سخن سازیوں کی تفصیل اسی سورہ میں آگے آیات ۲۹-۴۶ میں آئے گی۔ مخالفین کی خاک بازی: ’خوض‘ کے معنی کسی چیز کے اندر گھسنے کے ہیں۔ ’خَاض الماءَ‘ وہ پانی کے اندر گھس گیا۔ اسی سے ’خاض القوم فی الحدیث‘ کا محاورہ نکلا جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ بات سے بات پیدا کرتے ہوئے کہیں سے کہیں جا نکلے۔ عام طور پر یہ محاورہ کسی باطل کی حمایت اور حق کی مخالفت میں سخن سازی اور دلیل بازی کے لیے آتا ہے۔ قرآن میں یہ اسی معنی میں جگہ جگہ آیا ہے۔ مثلاً’وَخُضْتُمْ کَالَّذِیْ خَاضُوۡا‘ (التوبہ ۶۹) (اور تم نے بھی اسی طرح کی دلیل بازیاں کیں جس طرح کی دلیل بازیاں انھوں نے کیں)؛ ’فَذَرْہُمْ یَخُوۡضُوۡا وَیَلْعَبُوۡا حَتّٰی یُلَاقُوا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوۡعَدُوۡنَ‘ (الزخرف ۸۳) (پس ان کو چھوڑو وہ دلیل بازیاں اور سخن سازیاں کرتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے)۔ کسی بات کو حق سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت میں دلیلیں گھڑنے کی کوشش کرنا اپنی اور اپنے پیروؤں کی عقل کے ساتھ ایک قسم کی دل لگی ہے اس وجہ سے قرآن نے اس کو ’لعب‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ خاک بازی کا یہ کھیل یوں تو ہر حال میں نہایت خطرناک ہے لیکن اس صورت میں آخری حد تک خطرناک ہو جاتا ہے جب اس کے نتیجے میں ایک ابدی خسران سے سابقہ پیش آنے والا ہو۔ اس ’خوض‘ کی پوری تفصیل آگے آ رہی ہے۔ اس سے اشارہ مخالفین کی اس طرح کی باتوں کی طرف ہے جو وہ اپنے ضمیر کے خلاف محض اس لیے کہتے کہ کسی طرح اس اثر کو مٹائیں جو قرآن کی دعوت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے لوگوں کے دلوں پر پڑ رہا تھا۔ مثلاً یہ کہ کوئی آپ کو کاہن کہتا، کوئی شاعر، کوئی آپ کو مفتری قرار دیتا اور کوئی شیخی باز۔ اسی طرح بعض یہ دعویٰ بھی کرتے کہ جس طرح کا کلام یہ پیش کر رہے ہیں اس طرح کا کلام ہم بھی پیش کر سکتے ہیں۔ غرض آپ کو زچ کرنے کے لیے جس کو جو بات بھی سوجھ پاتی وہ بے دھڑک کہہ گزرتا۔ حق کی مخالفت میں یہ نکتہ آفرینیاں ان کے لیے محض دل لگی تھی۔ یہ سوچنے کی توفیق کسی کو نہ ہوتی کہ اس دل لگی سے اپنے اور اپنی قوم کے لیے وہ ابدی جہنم کا سامان کر رہے ہیں۔  
    جس دن کہ وہ آتش دوزخ کی طرف دھکے دے دے کر لے جائے جائیں گے۔
    آخرت کا مذاق اڑانے والوں کا انجام: اس دن ان دل لگی بازوں پر جو آفتیں نازل ہوں گی، یہ ان کی تفصیل ہے۔ ’دَعّ‘ کے معنی پوری شدت و نفرت کے ساتھ دھکا دینے کے ہیں اور اس کے بعد ’دَعًّا‘ اس کی مزید تاکید کے لیے ہے۔ یعنی آج یہ دل لگی میں مصروف ہیں لیکن اس دن یہ جہنم کی طرف دھکے دے دے کر ہانکے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ دوزخ جس کا دنیا میں تم مذاق اڑاتے اور جس کو جھٹلاتے تھے۔
    کہ یہ ہے وہ دوزخ جس کو تم جھٹلاتے رہے تھے۔
    آخرت کا مذاق اڑانے والوں کا انجام: اس دن ان دل لگی بازوں پر جو آفتیں نازل ہوں گی، یہ ان کی تفصیل ہے۔ ’دَعّ‘ کے معنی پوری شدت و نفرت کے ساتھ دھکا دینے کے ہیں اور اس کے بعد ’دَعًّا‘ اس کی مزید تاکید کے لیے ہے۔ یعنی آج یہ دل لگی میں مصروف ہیں لیکن اس دن یہ جہنم کی طرف دھکے دے دے کر ہانکے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ دوزخ جس کا دنیا میں تم مذاق اڑاتے اور جس کو جھٹلاتے تھے۔
    کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سجھائی نہیں دے رہا ہے!
    یعنی دنیا میں جب اللہ کا رسول تم کو اس سے ڈرا رہا تھا تو تم اپنے آپ کو اور اپنے عوام کو اس سے نچنت رکھنے کے لیے قرآن کے انذار کو الفاظ کی جادوگری قرار دیتے تھے۔ اب بتاؤ، یہ الفاظ کی جادوگری ہے یا ایک حقیقت ہے لیکن جس طرح تم دنیا میں اس سے اندھے بنے رہے اسی طرح اب بھی تمہیں یہ دکھائی نہیں دے رہی ہے!
    اس میں داخل ہو جاؤ، اب صبر کرو یا نہ کرو۔ تمہارے لیے یکساں ہے۔ تم وہی بدلے میں پا رہے ہو جو کرتے رہے تھے۔
    حکم ہو گا کہ جاؤ اس میں پڑو۔ تمہارے لیے اب کوئی مفر نہیں۔ خواہ صبر کرو یا رؤو چلاؤ، دونوں تمہارے لیے یکساں ہے۔ نہ صبر کی داد ملنی ہے اور نہ آہ و فریاد کی شنوائی ہونی ہے۔ ’اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُوْنَ‘۔ یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے تمہارے اپنے ہی اعمال ہیں۔ اگر تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی ہوتی اور تم فریاد کرتے تو شنوائی اور فریاد رسی کی توقع کر سکتے تھے لیکن جب تمہاری اپنی ہی کمائی تمہارے سامنے آ رہی ہے تو فریاد کس کے خلاف کرو گے اور شنوائی کی توقع کس سے کرو گے! ’اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُوْنَ‘ سے مراد یہ نہیں ہے کہ بعینہٖ وہ اعمال ان کے سامنے آئیں گے جو انھوں نے دنیا میں کیے ہوں گے بلکہ مراد ان اعمال کی حقیقتیں ہیں۔ دنیا میں انسان جو عمل بھی کرتا ہے، خواہ نیکی کا عمل ہو یا بدی کا، وہ اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک خاص شکل اختیار کرتا ہے اور اسی شکل میں وہ عمل کرنے والے کے سامنے آئے گا۔ اگرچہ اس کی شکل اس سے مختلف ہو گی جس شکل میں وہ اس دنیا میں انجام پایا لیکن چونکہ وہ اسی کی بوئی ہوئی فصل کا حاصل ہو گا اس وجہ سے فرمایا کہ تم وہی بدلے میں پا رہے ہو جو تم دنیا میں کر کے آئے ہو۔
    بے شک متقی بندے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔
    متقین کا صلہ: ’مکذبین‘ کے انجام کی سنگینی کو واضح تر کرنے کے لیے ان کے مقابل میں ’متقین‘ کا صلہ و انعام بھی بیان فرما دیا۔ تقابل کا اصول دلیل ہے کہ ’متّقین‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے پیغمبر کے انذار کا مذاق اڑانے کی جگہ اس کی باتیں گوش دل سے سنیں، ان پر غور کیا اور ان کو حرز جاں بنایا۔ فرمایا کہ یہ لوگ بے شک باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔
    وہ محظوظ ہو رہے ہوں گے ان نعمتوں سے جو ان کے رب نے ان کو دے رکھی ہوں گی اور اس بات سے کہ ان کے رب نے ان کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔
    یہ اب باغوں اور نعمتوں سے ان کو بہرہ مند اور محظوظ ہونے کی تفصیل آ رہی ہے۔ فرمایا کہ ان کے رب نے ان کو جو کچھ بخش رکھا ہو گا اس سے وہ پوری آزادی کے ساتھ محظوظ ہو رہے ہوں گے۔ ’بِمَآ آتَاہُمْ رَبُّہُمْ‘ میں جو ابہام ہے وہ تفخیم شان پر دلیل ہے کہ آج کوئی اندازہ نہیں کر سکتا کہ ان کا رب ان کو کیا بخش دے گا۔ ان کی حقیقت اس دن کھلے گی جس دن یہ عطا ہوں گی اور انھی پر کھلیں گی جن کو عطا ہوں گی۔ ’وَوَقَاہُمْ رَبُّہُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ‘ کا عطف میرے نزدیک ’بِمَا آتَاہُمْ رَبُّہُمْ‘ پر ہے۔ یعنی وہ اپنے رب کی بخشی ہوئی بے پایاں نعمتوں سے محظوظ اور خاص طور پر اس کے اس فضل پر خوش ہو رہے ہوں گے کہ اس نے ان کو اپنی توفیق بخشی سے دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔ لفظ ’فَاکِہِیْنَ‘ میں مسرت و ممنونیت کا مضمون خود مضمر ہے اس وجہ سے اس مفہوم کے لیے کوئی الگ لفظ لانے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جس دوزخ کو اس کے مکذبین آج اپنے مذاق کو موضوع بنائے ہوئے ہیں اہل جنت قیامت کے دن اس سے نجات پانے کو اپنے رب کا سب سے بڑا فضل و احسان سمجھیں گے اور اس پر ان کا رواں رواں شکرگزار ہو رہا گا۔ یہ مضمون آگے اسی سورہ میں یوں آیا ہے: ’قَالُوْا إِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْ أَہْلِنَا مُشْفِقِیْنَ ۵ فَمَنَّ اللہُ عَلَیْْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُوْمِ‘ (۲۶-۲۷) (وہ کہیں گے ہم پہلے اپنے اہل و عیال میں بڑے چوکنے رہے ہیں تو اللہ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہم کو عذاب سموم سے محفوظ رکھا)۔  
    کھاؤ اور پیو بے غِل و غش اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے تھے۔
    یعنی ان لوگوں کو رب کریم کی طرف سے بشارت دی جائے گی کہ اب اپنے اعمال کے صلے میں بے غل و غش کھاؤ پیو۔ نہ اس سے کوئی ضرر لاحق ہو گا، نہ اس میں کمی واقع ہو گی اور نہ اس کے لیے تمہیں دکھ جھیلنا پڑے گا۔ ’ہَنِی‘ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ اس کے معنی ہیں راس آنے والی چیز۔ یہاں یہ درحقیقت مصدر محذوف کی صفت واقع ہے۔ پورا جملہ یوں ہے: ’کُلُوْا وَاشْرَبُوْا اَکْلًا وَّشَرْبًا ہَنِیْئًا‘۔ بعض لوگوں نے اس کو حال کے مفہوم میں لیا ہے۔ لیکن یہ رائے عربیت کے خلاف ہے۔
    ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے صف بہ صف، تختوں کے اوپر اور ہم ان کو بیاہ دیں گے غزال چشم حوریں۔
    ’مُتَّکِئِیْنَ‘ دراصل ’فَاکِہِیْنَ‘ کی وضاحت اور بیچ کا جملہ ’کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ... الاٰیۃ‘ بطور جملہ معترضہ آ گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی نعمتوں سے محظوظ ہو رہے ہوں گے صف بہ صف تختوں پر بیٹھے ہوئے۔ صف بہ صف ہونا ان کی نشست گاہوں کے کمال درجہ آراستہ ہونے کی بھی تعبیر ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ ان میں باہم کامل محبت اور بے تکلفی ہو گی اس وجہ سے رو در رو ہو کر بیٹھیں گے۔ بعض جگہ یہ مفہوم ’مُتَقٰبِلِیْنَ‘ کے لفظ سے بھی ادا کیا گیا ہے۔ ’وَزَوَّجْنٰہُم بِحُوْرٍ عِیْنٍ‘۔ انسان کا کوئی لطف و سرور بھی بیوی بچوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ جنت میں یہ نعمت بھی اہل ایمان کے لیے مہیا فرمائے گا۔ اس کی تعبیر کے لیے الفاظ وہ استعمال فرمائے ہیں جن سے ہم اس کا فی الجملہ تصور کر سکیں۔ رہی اس کی اصل حقیقت تو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ یہ آخرت ہی میں واضح ہو گی۔
    اور جو لوگ ایمان لائے، اور ان کی اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ان کے ساتھ ہم ان کی اولاد کو بھی جمع کر دیں گے اور ان کے عمل میں سے ذرا بھی کمی نہیں کریں گے۔
    اہل ایمان کی مسرت کی تکمیل کے لیے ایک بشارت: جنت میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مسرت کی تکمیل کے لیے جو اہتمام فرمائے گا اسی سلسلہ میں یہ بشارت بھی دی گئی ہے کہ ان کی اولاد میں سے جس نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہو گی اللہ تعالیٰ ان کو بھی ان کے ساتھ ملا دے گا اگرچہ وہ ایمان و عمل کے اعتبار سے ان کے درجے کے مستحق نہ ہوں۔ اس یکجائی کے لیے ضابطہ یہ بیان فرمایا کہ ’وَمَآ اَلَتْنٰہُم مِّنْ عَمَلِہِم مِّنْ شَیْءٍ‘ اولاد کے ایمان کے کسر کا جبر ان کے والدین کے عمل میں کمی کر کے نہیں کیا جائے گا۔ وہ اپنے اسی مرتبہ پر سرفراز رہیں گے جس کے وہ اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے مستحق قرار پائے ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے ان کی اولاد کے درجے کو اونچا کر دے گا۔ ’وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُم بِإِیْمَانٍ‘ میں لفظ ایمان کی قید سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ رعایت صرف اسی اولاد کے لیے خاص ہے جس نے ایمان کے ساتھ اپنے بزرگ کی اتباع کی ہو، اگر وہ ایمان سے محروم ہو تو اس رعایت کی مستحق نہیں ہو گی اگرچہ وہ ان کے اتباع کی کتنی ہی بلند آہنگی کے ساتھ مدعی ہو۔ لفظ ’ایمان‘ کی تنکیر سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کے مدارج ہیں۔ اگر اولاد کو ایمان کا وہ ادنیٰ درجہ بھی حاصل ہوا جو اس کو جنت کے کسی ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا بھی مستحق ٹھہراتا ہے تو وہ اس رعایت کی مستحق قرار پائے گی۔ نجات سے متعلق اصل ضابطہ: ’کُلُّ امْرِئٍ بِمَا کَسَبَ رَہِیْنٌ‘۔ نجات سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اصل ضابطہ بیان فرما دیا ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کے عوض گرو ہے۔ عمل ہی چھڑائے گا، عمل ہی ہلاک کرے گا۔ یہ نہیں ہو گا کہ ایمان و عمل کے بغیر محض نیکوں سے ظاہری نسبت رکھنے کے سبب سے کوئی جنت میں ان کے پاس پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل انہی پر فرمائے گا جو اپنے ایمان و عمل سے اس کا استحقاق پیدا کریں گے۔ اس میں یہود اور مشرکین عرب دونوں کو تنبیہ ہے کہ انھوں نے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیلؑ کے دین کو تو بالکل مسخ کر کے رکھ دیا لیکن محض ان سے نسبی رشتہ کے بل پر جنت کے اعلیٰ مقامات پانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایک شبہ کا ازالہ: یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ جب نجات کے باب میں اصل ضابطہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کے عوض میں گرو ہے تو اولاد کا اپنے سے برتر درجے کے بزرگوں کی صف میں جا پہنچنا کس بنیاد پر ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعلق رکھنے والا ہے جو اس نے اپنے باایمان بندوں کے لیے خاص رکھا ہے۔ اس سے اس ضابطہ کی نفی نہیں ہوتی جو ’کُلُّ امْرِئٍ بِمَا کَسَبَ رَہِیْنٌ‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ نجات تو بے شک کسی کو ایمان و عمل کے بغیر حاصل ہونے والی نہیں ہے لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کے مراتب و مدارج میں اپنے فضل سے اضافہ بھی نہیں فرمائے گا۔ ان دونوں چیزوں کے دائرے الگ الگ ہیں۔ ان میں باہمدگر کوئی تناقض نہیں ہے۔ ایک اور استنباط اس آیت سے یہ بات بھی مستنبط ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح والدین کی خوشی کی تکمیل کے لیے ان کی اولاد کو ان کے ساتھ جمع کر دے گا اگرچہ اولاد اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے ان کے مرتبہ کی سزاوار نہ ہو۔ اسی طرح بلند مرتبہ اولاد کی مسرت کی تکمیل کے لیے ان کے ساتھ ان کے باایمان والدین کو بھی جمع کر دے گا اگرچہ والدین اپنے ایمان و عمل کے لحاظ سے ان کے درجے کے حق دار نہ ہوں۔ اس استنباط کی دلیل یہ ہے کہ جو تعلق خاطر والدین اور ان کی اولاد کے درمیان پایا جاتا ہے وہی تعلق خاطر اس دوسری صورت میں بھی موجود ہے۔ اس بشارت کا موقع و محل: یہاں اس بشارت کا موقع و محل بھی قابل توجہ ہے۔ اگر کسی شخص کے اندر سچا ایمان ہے تو وہ اپنی اولاد سے متعلق سب سے زیادہ فکرمند اس بات کے لیے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو آخرت کے ہول اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ یہ ارمان کہ اولاد کو دنیوی کامیابیاں حاصل ہوں اگر ہوتا بھی ہے تو اس کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرات انبیاء اور صالحین نے اپنی اولاد کے لیے جو دعائیں فرمائی ہیں ان میں آخرت کی کامیابی کو مقدم رکھا ہے بلکہ اسی چیز کو اصل کی حیثیت دی ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا تھا جو اس دور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ان کے قلوب جب نور ایمان سے منور ہوئے تو ان کو سب سے زیادہ تشویش اپنی اولاد کے دنیوی مستقبل سے متعلق نہیں بلکہ اس کے اخروی انجام سے متعلق ہوئی۔ ان کی اس تشویش کا اظہار آگے اسی سورہ کی آیت ۲۶:’اِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْ أَہْلِنَا مُشْفِقِیْنَ‘ (بے شک ہم اس سے پہلے اپنے اہل و عیال کے اندر چوکنے اور خبردار رہے ہیں) سے ہوتا ہے۔ اس آیت کے تحت ہم ان شاء اللہ واضح کریں گے کہ اس میں جس ڈر یا تشویش کا حوالہ ہے اس سے مراد ان کا یہ اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جس گلے کا چرواہا بنایا ہے اس کی کوئی بھیڑ بھیڑیے کا لقمہ نہ بنے بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو جاہلیت کی تاریکی سے نکال کر صراط مستقیم کی ہدایت بخشی ہے اسی طرح ان کی اولاد کو بھی ایمان کی توفیق نصیب ہو تا کہ ان کو جہنم کے ہول سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انہی باایمان بندوں کی تسلی کے لیے یہ بشارت دی کہ اگرچہ یہ ضابطہ تو بالکل اٹل ہے کہ کسی شخص کو نجات ایمان و عمل کے بدوں حاصل نہیں ہو گی لیکن اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں پر یہ فضل ضرور فرمائے گا کہ اگر ان کی اولاد نے ان کی پیروی کی تو، گو ایمان کے اعتبار سے اس کا درجہ فروتر ہو لیکن اللہ تعالیٰ اولاد کو ان کے ساتھ جمع کر دے گا اور اس یکجائی کے لیے ان کے درجے کو نیچا نہیں کرے گا بلکہ اولاد کے درجے کو اونچا کر دے گا۔ اولاد کی اصلاح کے لیے فکرمند رہنے کی تعلیم: یہ اس بات کی تعلیم ہے کہ ہر شخص اپنی اولاد اور اپنے متعلقین کو ایمان کی راہ دکھانے کی کوشش، جس حد تک اس کے امکان میں ہو، ضرور کرے۔ ایمان کے بغیر کسی شخص کو بھی نجات حاصل نہیں ہو گی اگرچہ وہ کسی نبی اور رسول کی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کسی کی اولاد نے اگر ایمان کی راہ اختیار کر لی تو گو اس کا ایمان ادنیٰ درجے کا ہی ہو لیکن اس کو اپنے رفیع المنزلت بزرگوں کی معیت جنت میں ضرور حاصل ہو جائے گی۔
    ہر ایک اس کمائی کے بدلے میں گرو ہو گا جو اس نے کی ہو گی۔ اور ہم ان کی پسند کے میوے اور گوشت ان کو برابر دیتے رہیں گے۔
    یعنی جس طرح ہم ان کی اولاد کو یکجا کر دیں گے اسی طرح ان کے لیے مطلوب فواکہ اور ان کے مرغوب گوشت میں بھی اضافہ کر دیں گے۔ لفظ ’اَمْدَدْنَا‘ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ تعداد کے اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے رزق و فضل میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ ’فَاکِہَۃٍ‘ اور ’لَحْمٍ‘ کے دونوں لفظوں کے اندر تمام غذائی نعمتیں جمع ہو گئی ہیں، خواہ وہ تفکہات کی نوعیت کی ہوں یا غذا کی۔
    ان کے درمیان ایسی شراب کے پیالوں کے تبادلے ہو رہے ہوں گے جو لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
    جنت کا لطف و سرور: یہ اس لطف و سرور کا بیان ہے جس سے وہ جنت میں بہرہ مند ہوں گے۔ فرمایا کہ ان کے درمیان جام شراب کے تبادلے ہو رہے ہوں گے۔ ’تَنَازَعُوا الْکَاس‘ کے معنی ہیں ’تعاطوھا‘ یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف شراب کے جام بڑھائیں گے۔ چھین جھپٹ اس لفظ کے لوازم میں سے نہیں ہے۔ لفظ ’کَاْسٌ‘ ظرف اور مظروف یعنی شراب اور جام شراب دونوں کے لیے آتا ہے۔ ’لَا لَغْوٌ فِیْہَا وَلَا تَأْثِیْمٌ‘۔ یعنی یہ شراب ان برے اثرات سے بالکل پاک ہو گی جو دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہے۔ اس شراب سے آدمی نہ تو کسی لغو گوئی میں مبتلا ہو گا اور نہ کسی پر گناہ کی تہمت لگائے گا۔ ’اثمہ تاثیما‘ کے معنی ہیں ’اس نے اس کو گناہ کی تہمت لگائی‘۔ اس دنیا کی شراب کے مفاسد میں سے یہ بھی ہے کہ اس بدمستی میں آدمی اپنے حریفوں اور ان کی بہوؤں بیٹیوں پر ہر قسم کی تہمتیں جڑ دیتا ہے جس سے زمانۂ جاہلیت میں بڑے بڑے خاندانی فتنے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ قرآن نے دوسرے مقام میں اسی فتنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس کے ذریعہ سے شیطان تمہارے درمیان عداوت اور بغض کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس جنت کی شراب اہل جنت کے درمیان الفت و محبت کی عطربیزی کرے گی۔ چنانچہ سورۂ واقعہ میں فرمایا ہے: ’لَا یَسْمَعُونَ فِیْہَا لَغْواً وَلَا تَأْثِیْماً ۵ إِلَّا قِیْلاً سَلَامًا سَلَامًا‘ (۲۵-۲۶) (اس میں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔ صرف سلام اور جواب سلام کا چرچا ہو گا)۔  
    اور محفوظ موتیوں کے مانند چھوکرے ان کی خدمت میں سرگرم ہوں گے۔
    یعنی ان کی خدمت اور ان کی فرمائشوں کی تعمیل کے لیے ہر وقت ایسے چھوکرے ان کے سامنے حاضر رہیں گے جو اپنی پاکیزگی اور اپنے حسن و جمال کے اعتبار سے معلوم ہو گا کہ موتی ہیں جو صدف میں محفوظ رہے ہیں اور ان کی خدمت ہی کے لیے ان سے نکلے ہیں۔ اہل عرب کسی چیز کی غایت درجہ نفاست و نزاکت کی تعبیر کے لیے ’لُؤْلُؤٌ مَّکْنُوْنٌ‘ کی تشبیہ استعمال کرتے ہیں۔ قرآن کے انداز بیان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان چھوکروں کو خاص اسی مقصد کے لیے پیدا کرے گا۔ بعض لوگوں کی رائے اس کے خلاف بھی ہے لیکن ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے اس وجہ سے اس پر تنقید کی ضرورت نہیں ہے۔
    وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے، دریافت حال کرتے ہوئے۔
    اہل جنت کا ایک دوسرے سے دریافت حال: جنت میں مجتمع ہو جانے کے بعد، جس طرح ایک دراز اور کٹھن سفر کے مسافر منزل پر پہنچ کر ایک دوسرے سے دریافت حال کرتے ہیں اسی طرح اہل جنت تڑپ کر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور پوچھیں گے کہ کہیے کیسے گزری، راہ میں کیسی گھاٹیوں سے گزرنا پڑا، منزل تک کس طرح پہنچنا ہوا اور یہ اہل و عیال کی یکجائی کیسے نصیب ہوئی۔
    کہیں گے، ہم اس سے پہلے اپنے اہل و عیال کے باب میں بڑے ہی چوکنے رہے ہیں۔
    جواب دینے والے جواب دیں گے کہ ہم اس سے پہلے دنیا میں اپنے اہل و عیال کے اندر ڈرنے والے رہے ہیں۔ اپنی عاقبت کے ساتھ برابر ان کی عاقبت کی بھی ہمیں فکر رہی ہے۔ ہم اس غرور میں کبھی مبتلا نہیں ہوئے کہ ہمارا بڑا خاندان اور بڑا کنبہ و قبیلہ ہے اور اس دنیا میں ہمیں جو کچھ حاصل ہے یہ ہمارا پیدائشی اور خاندانی حق ہے، اس کو کوئی ہم سے چھین نہیں سکتا۔ ہم نے آخرت کو ہمیشہ پیش نظر رکھا اور اپنے رب سے برابر یہ دعا کی کہ قیامت کے دن وہ ہمیں صالحین کے سربراہ کی حیثیت سے اٹھائے۔ فُسّاق کے پیشوا کی حیثیت سے نہ اٹھائے۔ ہم نے اپنی اولاد کو ہمیشہ نماز، زکوٰۃ اور خدا سے ڈرتے رہنے کی تاکید اور دین حق پر جینے اور اسی پر مرنے کی وصیت کی۔
    تو اللہ نے ہم پر اپنا فضل فرمایا اور ہمیں عذاب دوزخ سے محفوظ رکھا۔
    ہمارے اس خوف و اندیشہ کی برکت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا کہ ہم کو اور ہماری اولاد کو اس بہشت میں یکجا کر دیا اور آتش دوزخ کی ہوائے گرم سے اس نے ہمیں محفوظ رکھا۔ ’سموم‘ ہوائے گرم اور آگ کی آنچ کو کہتے ہیں۔ یہ اسلوب بیان اللہ تعالیٰ کے غایت درجہ لطف و احسان کی تعبیر کے لیے وہ اختیار فرمائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ اور آتش دوزخ تو درکنار اللہ تعالیٰ نے اس کی ہوائے گرم سے بھی ہمیں محفوظ رکھا۔
    ہم اس سے پہلے اسی کو پکارتے رہے تھے، بے شک وہ بڑا ہی باوفا اور مہربان ہے۔
    انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدہ توحید کی ہے: اس جملہ کا تعلق اوپر والے جملہ ’اِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْٓ أَہْلِنَا مُشْفِقِیْنَ‘ سے ہے۔ یعنی ایک تو یہ کہ ہم اپنے اہل و عیال کے اندر ڈرنے والے رہے ہیں، دوسرے یہ کہ ہم خوف اور طمع، امید اور بیم ہر حال میں خدا ہی کو پکارنے والے رہے ہیں۔ اس کے سوا کسی اور کی کبھی ہم نے نہ دہائی دی اور نہ کسی کو اس کا شریک و سہیم جانا۔ اس جملہ کو اصلاً آنا تو اوپر والے جملہ ہی کے ساتھ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی مبادرت ظاہر کرنے کے لیے ’فَمَنَّ اللہُ عَلَیْْنَا ..... الایٰۃ‘ کو اس پر مقدم کر دیا اور اس کو مؤخر کر دیا۔ اس تاخیر میں یہ بلاغت ہے کہ انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدۂ توحید کو حاصل ہے۔ جس نے اس کی حفاظت کی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا مستحق ٹھہرا اور جس نے اس میں خرابی پیدا کی اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس عقیدے میں مستحکم رہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ احسان فرمایا۔ ’اِنَّہُ ہُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ‘۔ یہ فقرہ غایت درجہ ممنونیت کے اظہار کے طور پر وہ فرمائیں گے کہ وہ بڑا ہی باوفا اور بڑا ہی مہربان ہے کہ اس نے نہ صرف وہ تمام وعدے پورے کیے جو اپنے بندوں سے کیے، بلکہ ان کو اپنے کرم مزید سے بھی نوازا۔ لفظ ’برّ‘ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ جب یہ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر آتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں سے جو وعدے کیے ہیں وہ سب کو پورا کرنے والا ہے۔ صدق اور وفا اس لفظ کی اصل روح ہے۔ اس کے ساتھ ’رحیم‘ کا اضافہ اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ وہ صرف وعدے ہی پورے کرنے والا نہیں، بلکہ بندوں کی کوتاہیوں سے درگزر کر کے ان کو اپنے مزید افضال سے نوازنے والا بھی ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List