Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الذاریات (The Wind That Scatter, The Winnowing Winds)

    60 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ قٓ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ سورۂ قٓ کی تفسیر میں آپ نے دیکھا کہ ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو قرآن کے اس دعوے کو بعید از امکان قرار دیتے تھے کہ لوگ مرنے کے بعد ازسرنو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس سورہ میں ایک قدم اور آگے بڑھ کر قرآن کے انذار عذاب کو بھی ثابت کیا گیا ہے اور جزا و سزا کو بھی۔ سورہ کا عمود اس کی تمہید ہی میں ان الفاظ سے واضح فرما دیا گیا ہے: ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ وَإِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ (بے شک جو وعید تم کو سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچی ہے اور جزا و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی)۔

    خطاب قریش کے مکذبین ہی سے ہے اور استدلال کی بنیاد تمام تر آفاق و انفس کے دلائل پر ہے۔ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورہ میں بھی اسی طرح تسلی دی گئی ہے جس طرح سابق سورہ میں دی گئی ہے۔

  • الذاریات (The Wind That Scatter, The Winnowing Winds)

    60 آیات | مکی
    ق - الذاریات

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ دوسری سورہ میں اثبات قیامت کے تاریخی دلائل، البتہ پہلی سورہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اِس کے ساتھ قرآن کے انذار عذاب کو بھی ثابت کیا گیا ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ ام
    القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا خاتمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کے مضمون پر ہوا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 051 Verse 001 Chapter 051 Verse 002 Chapter 051 Verse 003 Chapter 051 Verse 004 Chapter 051 Verse 005 Chapter 051 Verse 006 Chapter 051 Verse 007 Chapter 051 Verse 008 Chapter 051 Verse 009 Chapter 051 Verse 010 Chapter 051 Verse 011 Chapter 051 Verse 012 Chapter 051 Verse 013 Chapter 051 Verse 014 Chapter 051 Verse 015
    Click translation to show/hide Commentary
    شاہد ہیں تند ہوائیں جو اڑاتی ہیں غبار۔
    ’و‘ قسم کے لیے ہے اور قسم شہادت کے لیے: ’وَالذَّارِیَاتِ‘ میں ’و‘ قسم کے لیے ہے اور اس بات کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اس طرح اشیاء کی جو قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا مقصود ان اشیاء کی تعظیم نہیں، بلکہ ان کو اس دعوے پر شہادت کے لیے پیش کرنا ہے جو قسم کے بعد مذکور ہوتا ہے یا سیاق کلام سے سمجھا جاتا ہے؛ چنانچہ یہ قسم بھی شہادت ہی کے لیے ہے۔ اس کا ترجمہ اگر شہادت کے لفظ سے کیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ زیادہ معنی خیز ہو گا۔ ’ذَارِیَاتٌ‘: ’ذَارِیَاتٌ‘۔ غبار اڑانے والی ہواؤں کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ہواؤں کی صفت کے طور پر آتا ہے۔ لیکن یہ اپنے موصوف کے لیے اس طرح معروف ہو چکا ہے کہ اس کے قائم مقام کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے۔ ’ذَارِیَاتٌ‘ کے بعد لفظ ’ذَرْوًا‘ کے اضافے سے معنی میں اسی طرح کا اضافہ ہو گیا ہے جس طرح ’ضَرَبَ ضَرْبًا‘ کے اندر تاکید فعل کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے۔ اس طرح کی تاکیدات کا مفہوم اردو ترجمے میں منتقل کرنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے۔ یہاں اگر ہواؤں کے ساتھ ’تند‘ کا اضافہ کر دیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ مفہوم ادا ہو جائے گا۔
    پھر اٹھا لیتی ہیں بوجھ۔
    ’ف‘ کے ساتھ عطف کے فوائد: ’فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا‘۔ جب صفات کا عطف ’ف‘ کے ساتھ ہو تو یہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ ان کے اندر ترتیب ہے، دوسری اس بات پر کہ یہ تمام صفتیں ایک ہی موصوف کی ہیں۔ عربیت کے اس قاعدے کی رو سے یہاں جو تین صفتیں ’ف‘ کے ساتھ بیان ہوئی ہیں وہ لازماً ہواؤں ہی کی ہوں گی۔ جن لوگوں نے ان کو الگ الگ چیزوں کی صفت مانا ہے ان کی رائے عربیت کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے نظائر کے بھی۔ سورۂ عادیات میں ہے: وَالْعَادِیَاتِ ضَبْحاً ۵ فَالْمُورِیَاتِ قَدْحاً ۵ فَالْمُغِیْرَاتِ صُبْحاً ۵ فَأَثَرْنَ بِہِ نَقْعاً ۵ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا (۱-۵) ’’گواہی دیتے ہیں وہ جو ہانپتے دوڑتے ہیں، پھر ٹھوکروں سے چنگاریاں نکالتے ہیں، پھر صبح کو دھاوا کرتے ہیں، پھر غبار اٹھاتے ہیں، پھر غول کے اندر گھس جاتے ہیں۔‘‘ ظاہر ہے کہ یہ تمام صفتیں الگ الگ چیزوں کی نہیں ہیں، بلکہ گھوڑوں ہی کی ہیں اور غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کے بیان میں ترتیب بھی ملحوظ ہے۔ کلام عرب میں بھی اس اسلوب کی مثالیں بہت ہیں۔ ہم صرف ابن زیابہ کا ایک مشہور شعر نقل کرتے ہیں: یا لھف زیابۃ للحارث الصابح، فالغانم، فالاٰئب (زیابہ کی طرف سے افسوس ہے حارث پر، جس نے غارت گری کی، لوٹا اور چل دیا) ’وِقْرٌ‘: ’وِقْرٌ‘ کے معنی بوجھ اور بار کے ہیں۔ یوں تو اس سے ہر وہ بوجھ اور بار مراد ہو سکتا ہے جس کو ہوائیں اٹھاتی ہیں، مثلاً غبار اور کنکر وغیرہ لیکن اس کا معروف استعمال بادلوں کے لیے ہے۔ مثلاً وَہُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیَاحَ بُشْراً بَیْْنَ یَدَیْْ رَحْمَتِہِ حَتَّی إِذَا أَقَلَّتْ سَحَاباً ثِقَالاً سُقْنَاہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِہِ الْمَآءَ (الاعراف ۵۷) ’’اور وہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر اپنے باران رحمت سے پہلے۔ یہاں تک کہ جب وہ بوجھل بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں ہم ان کو ہانکتے ہیں کسی مردہ زمین کی طرف اور وہاں بارش برسا دیتے ہیں۔‘‘  
    پھر چلنے لگتی ہیں آہستہ۔
    ’جاریات‘ کا مفہوم اور ایک غلط فہمی کا ازالہ: ’فَالْجَارِیَاتِ یُسْرًا‘۔ یہ صفت بھی ہواؤں ہی کی ہے۔ جن لوگوں نے اس سے کشتیاں مراد لی ہیں ان کی رائے اس قاعدے کے خلاف ہے جس کا حوالہ ہم نے اوپر دیا ہے۔ ’یُسْرٌ‘ کے معنی آہستہ اور نرم کے ہیں۔ عام قاعدہ یہ ہے کہ پہلے تند اور غبار انگیز ہوائیں چلتی ہیں جو مختلف سمتوں سے بادلوں کو ہانک ہانک کر لاتی اور جس علاقہ کو سیراب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے، اس پر ان کو تہ بہ تہ جما دیتی ہیں۔ پھر ہوا کی رفتار نرم ہو جاتی ہے اور مینہ برسنا شروع ہو جاتا ہے۔
    پھر الگ الگ کرتی ہیں معاملہ۔
    ’تقسیم امر‘ کا مفہوم: ’فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْراً‘۔ ’قَسِّمَ الْاَمْرَ‘ کے معنی ہوں گے کہ جس کے لیے جو بات طے تھی یا جو امر مقدر تھا وہ اس کو پہنچا دیا۔ یعنی یہ ہوائیں بادلوں کو لاد کر لانے کے بعد اپنے رب کے حکم کے مطابق تقسیم امر کرتی ہیں۔ یعنی جس علاقہ کے لیے جتنا پانی برسانے کا حکم ہوتا اتنا ہی برسا دیتی ہیں۔ بعض کو جل تھل کر دیتی ہیں، بعض کو نیم تشنہ اور بعض کو خشک چھوڑ جاتی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے دیتا ہے تو بعض علاقوں پر وہ طوفان و سیلاب بن کر نازل ہوتی ہیں اور پورے علاقے کا علاقہ ان کی زد میں آ کر تباہ ہو جاتا ہے۔ ہواؤں کے تصرفات اور ان کے فرق و امتیاز کی نیرنگیاں نہایت حیرت انگیز ہیں۔ ایک قوم کے ساتھ ان کا معاملہ کچھ ہوتا ہے، دوسری قوم کے ساتھ کچھ۔ کسی قوم کے لیے یہ ابر رحمت کی بشارت بن کر ظاہر ہوتی ہیں۔ کسی قوم کے لیے طوفان عذاب بن کر۔ آگے، ان شاء اللہ، اس کی تفصیل آئے گی۔
    کہ جس عذاب کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ سچ ہے۔
    قسم کا مقسم علیہ: یہ اوپر کی قسم کا مقسم علیہ ہے۔ یعنی ہواؤں کے یہ عجائب تصرفات، جن کا تم برابر مشاہدہ کرتے رہتے ہو، اس بات پر شاہد ہیں کہ جس چیز کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچ ہے اور جزا و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی۔ ’توعدون‘ کا مفہوم: ’اِنَّمَا تُوۡعَدُوْنَ‘۔ استاذ امام فراہیؒ کے نزدیک ’تُوۡعَدُوْنَ‘ ’وعد‘ سے ہے جس کے تحت وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن کا نبیوں کی زبانی وعدہ کیا گیا ہے، یعنی حشر نشر، جزا سزا اور رحمت و نقمت وغیرہ۔ وہ ’إِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ کو اسی پر عطف خاص علی العام کی حیثیت دیتے ہیں؛ لیکن میرا رجحان اس طرف ہے کہ ’تُوۡعَدُوْنَ‘ ’وعید‘ سے ہے اور یہاں اس سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کے مکذبین پر نازل ہوتا ہے۔ گویا ہواؤں کے عجائب تصرفات کی قسم یہاں میرے نزدیک دو چیزوں پر کھائی گئی ہے۔ ایک اس بات پر کہ قریش کو جس عذاب کی بصورت تکذیب دھمکی دی جا رہی ہے اور جس کو وہ محض ایک دھونس گمان کر رہے ہیں وہ دھونس نہیں ہے بلکہ بالکل سچی دھمکی ہے اور اس طرح وہ جزا و سزا بھی ایک امر شدنی ہے جس کو وہ بہت بعید از امکان سمجھ رہے ہیں۔ میرے اس رجحان کے حق میں کئی باتیں جاتی ہیں، لیکن ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف تین باتوں کی طرف اشارہ کافی ہے۔ ایک یہ کہ اس طرح مقسم علیہ کے دونوں اجزاء کا محل بے تکلف الگ الگ معین ہو جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا۔ ایک اس عذاب سے جو اس دنیا میں ان پر نازل ہوا اگر وہ اپنی تکذیب پر اڑی رہ گئیں، دوسرے اس عذاب سے جس سے لازماً ان کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا اگر ان کا خاتمہ کفر ہی پر ہوا۔ ان دونوں عذابوں کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ یہ حقیقت مقتضی ہے کہ یہاں ان دونوں عذابوں کا ذکر ہو جب کہ قسم ان دونوں پر شاہد ہے۔ اس کی وضاحت آگے آئے گی۔ تیسری یہ کہ آگے رسولوں کی تکذیب کرنے والی بعض قوموں کا حوالہ قرآن نے اسی وعید کی تصدیق کے طور پر دیا ہے۔ وہاں آپ دیکھیں گے کہ ان کی تباہی میں ہواؤں کے تصرفات کو قرآن نے خاص طور پر نمایاں فرمایا ہے۔ زبان کا ایک نکتہ: یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ عذاب دنیا کی وعید کا ذکر تو فعل سے کیا ہے اور آخرت کی جزا و سزا کا ذکر اسم ’دین‘ سے کیا ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ اس دنیا میں قوموں پر جو عذاب آتا ہے وہ ایک امر حادث اور مشروط بشرائط و حالات ہوتا ہے۔ لیکن جزا و سزا کا قانون اس دنیا کی خلقت کی غایت اور اس کا لازمی نتیجہ ہے اس وجہ سے پہلے کو فعل سے تعبیر فرمایا اور دوسرے کو اسم سے۔
    اور جزاء و سزا بے شک واقع ہو کے رہے گی۔
    قسم کا مقسم علیہ: یہ اوپر کی قسم کا مقسم علیہ ہے۔ یعنی ہواؤں کے یہ عجائب تصرفات، جن کا تم برابر مشاہدہ کرتے رہتے ہو، اس بات پر شاہد ہیں کہ جس چیز کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچ ہے اور جزا و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی۔ ’توعدون‘ کا مفہوم: ’اِنَّمَا تُوۡعَدُوْنَ‘۔ استاذ امام فراہیؒ کے نزدیک ’تُوۡعَدُوْنَ‘ ’وعد‘ سے ہے جس کے تحت وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن کا نبیوں کی زبانی وعدہ کیا گیا ہے، یعنی حشر نشر، جزا سزا اور رحمت و نقمت وغیرہ۔ وہ ’إِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ کو اسی پر عطف خاص علی العام کی حیثیت دیتے ہیں؛ لیکن میرا رجحان اس طرف ہے کہ ’تُوۡعَدُوْنَ‘ ’وعید‘ سے ہے اور یہاں اس سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کے مکذبین پر نازل ہوتا ہے۔ گویا ہواؤں کے عجائب تصرفات کی قسم یہاں میرے نزدیک دو چیزوں پر کھائی گئی ہے۔ ایک اس بات پر کہ قریش کو جس عذاب کی بصورت تکذیب دھمکی دی جا رہی ہے اور جس کو وہ محض ایک دھونس گمان کر رہے ہیں وہ دھونس نہیں ہے بلکہ بالکل سچی دھمکی ہے اور اس طرح وہ جزا و سزا بھی ایک امر شدنی ہے جس کو وہ بہت بعید از امکان سمجھ رہے ہیں۔ میرے اس رجحان کے حق میں کئی باتیں جاتی ہیں، لیکن ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف تین باتوں کی طرف اشارہ کافی ہے۔ ایک یہ کہ اس طرح مقسم علیہ کے دونوں اجزاء کا محل بے تکلف الگ الگ معین ہو جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا۔ ایک اس عذاب سے جو اس دنیا میں ان پر نازل ہوا اگر وہ اپنی تکذیب پر اڑی رہ گئیں، دوسرے اس عذاب سے جس سے لازماً ان کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا اگر ان کا خاتمہ کفر ہی پر ہوا۔ ان دونوں عذابوں کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ یہ حقیقت مقتضی ہے کہ یہاں ان دونوں عذابوں کا ذکر ہو جب کہ قسم ان دونوں پر شاہد ہے۔ اس کی وضاحت آگے آئے گی۔ تیسری یہ کہ آگے رسولوں کی تکذیب کرنے والی بعض قوموں کا حوالہ قرآن نے اسی وعید کی تصدیق کے طور پر دیا ہے۔ وہاں آپ دیکھیں گے کہ ان کی تباہی میں ہواؤں کے تصرفات کو قرآن نے خاص طور پر نمایاں فرمایا ہے۔ زبان کا ایک نکتہ: یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ عذاب دنیا کی وعید کا ذکر تو فعل سے کیا ہے اور آخرت کی جزا و سزا کا ذکر اسم ’دین‘ سے کیا ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ اس دنیا میں قوموں پر جو عذاب آتا ہے وہ ایک امر حادث اور مشروط بشرائط و حالات ہوتا ہے۔ لیکن جزا و سزا کا قانون اس دنیا کی خلقت کی غایت اور اس کا لازمی نتیجہ ہے اس وجہ سے پہلے کو فعل سے تعبیر فرمایا اور دوسرے کو اسم سے۔
    شاہد ہے دھاریوں والا آسمان!
    ’ذات الحبک‘ کی تحقیق: ’سَمَآءٌ‘ سے آسمان کو بھی مراد لے سکتے ہیں اور بادلوں کو بھی۔ یہ دونوں معنوں کے لیے قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن آسمان کو مراد لیں گے تو یہاں لازماً ’ذات الحبک‘ کی صفت کے ساتھ ہی مراد لیں گے۔ اس وجہ سے اصل تحقیق طلب چیز یہ صفت ہی ہے۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر سورۂ ذاریات میں اس لفظ کی تحقیق کلام عرب کے شواہد کی روشنی میں بیان فرمائی ہے۔ ہم اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں یہاں درج کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: ’’’حُبُکٌ‘ کے معنی باندھنے اور گرہ لگانے کے ہیں۔ یہیں سے یہ اس مضبوطی و استواری کے لیے استعمال ہوا جو کسی چیز کی بناوٹ میں پیدا کی جائے۔ اسی سے ’حَبَاک‘ ہے جس کی جمع ’حُبُک‘ آتی ہے۔ ’حُبُک‘ ان دھاریوں، شکنوں اور لہروں کو کہتے ہیں جو کسی گف اور مضبوط بناوٹ کے کپڑے میں نمایاں کی گئی ہوں ۔۔۔۔۔۔ فرّاء کی تحقیق یہ ہے کہ ’حُبُک‘ سے مراد وہ لہریں اور شکنیں ہیں جو ریت یا ساکن پانی میں، جب کہ اس پر ہوا چل گئی ہو، پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہیں سے یہ بادلوں کی تعریف میں استعمال ہونے لگا کیونکہ بادلوں کے ٹکڑے بھی آسمان میں تہ بہ تہ موجوں اور تو بر تو روئی کے گالوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ امروء القیس فلک بوس محلوں کی تعریف کرتے ہوئے، جن پر بادل چھائے ہوئے ہیں، کہتا ہے۔ مکللۃ حمراء ذات اسرۃ لھا حبک کانھا من وصائل (ان محلوں پر سرخ دھاریوں والے بادل چھائے ہوئے ہیں گویا کہ دھاریوں والی چادریں ہیں) یہ موسم سرما کے بادلوں کی تعریف ہے اور یہ ان کے رنگ اور ان کی تہوں کی نہایت صحیح تصویر ہے ۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے ’ذات الحبک‘ سے چرخ مکوکب مراد لیا ہے ، خواہ اس کی مضبوطی و استواری کے پہلو سے یا اس وجہ سے کہ اس میں تارے ٹنکے ہوئے ہیں، ہمارے نزدیک ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ لفظ دھاریوں، شکنوں، لہروں اور خطوط کے معنی پر استعمال ہوتا ہے۔‘‘ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی اس تحقیق کی روشنی میں یہ قَسم سرما کے سرخ دھاریوں والے بادلوں کی ہے جو شمال کی بادتند کے ساتھ نمایاں ہوتے اور جن کو پچھلی معذّب قوموں کی تباہی میں، جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی، بڑا دخل رہا ہے۔ گویا ہواؤں کی قسم کے بعد یہ بادلوں کی قسم اسی قسم کی تکمیل ہے اس لیے کہ ہواؤں اور بادلوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ اس قسم کے اضافے سے ہواؤں کی ہلاکت انگیزی کے پہلو کی طرف خاص طور پر اشارہ مقصود ہے۔  
    بے شک تم ایک اختلاف میں پڑے ہوئے ہو۔
    مخالفین کو ملامت: قرینہ شاہد ہے کہ یہ ٹکڑا جوابِ قَسم نہیں ہے بلکہ مخالفین کے رویہ پر ان کو ملامت ہے۔ جواب قسم اوپر گزر چکا ہے اور یہ دوسری قسم اوپر والی قسم ہی کی تکمیل ہے اس وجہ سے اس کے بعد جواب قسم کے اعادے کی ضروت نہیں تھی بلکہ اس کی جگہ مکذبین کو سرزنش کر دی گئی کہ تم لوگ ایک صریح قسم کے اختلاف اور تناقض فکر میں مبتلا ہو ورنہ شہادتوں کے ہوتے نہ وعید عذاب کو جھٹلانے کی گنجائش ہے، نہ وعدۂ جزاء و سزا میں شک کرنے کی۔ قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ وضاحت قرینہ کی بنا پر جواب قسم حذف کر کے اس کی جگہ کوئی سرزنش و ملامت کا جملہ رکھ دیا گیا ہے۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورۂ قٓ میں گزر چکی ہے: قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ ۵ بَلْ عَجِبُوا أَن جَاء ہُمْ مُنذِرٌ مِّنْہُمْ فَقَالَ الْکَافِرُونَ ہَذَا شَیْْءٌ عَجِیْبٌ (قٓ ۱-۲) ’’یہ قٓ ہے۔ قرآن بزرگ و برتر کی قسم (یہ کلام الٰہی ہے) بلکہ ان کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس ایک آگاہ کرنے والا انہی میں سے آیا تو کافروں نے کہا یہ تو عجیب بات ہے!‘‘ اس آیت میں دیکھ لیجیے جواب قسم مذکور نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ مخالفین کو ان کی صریح دھاندلی پر ملامت کر دی گئی ہے۔ یہی اسلوب سورۂ بروج میں بھی اختیار فرمایا گیا ہے: وَالسَّمَاء ذَاتِ الْبُرُوجِ ۵ وَالْیَوْمِ الْمَوْعُودِ ۵ وَشَاہِدٍ وَمَشْہُودٍ ۵ قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُوۡدِ (البروج ۱-۴) ’’قسم ہے برجوں والے آسمان کی اور وعدہ کیے ہوئے دن کی اور شاہد و مشہود کی! ناس ہوں آگ کی گھاٹی والے!‘‘ مخالفین کا تضاد فکر: ’قول مختلف‘ سے قیامت اور جزا و سزا کے باب میں ان کے تضاد فکر اور تضاد قول کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین عرب کے بارے میں ہم جگہ جگہ یہ لکھ چکے ہیں کہ ان میں سے قیامت کے کھلے منکر ہی نہیں تھے بلکہ انکار کرنے والوں کے ساتھ ان کے اندر ایک گروہ مذبذبین کا بھی تھا جو صریح طور پر انکار نہیں کرتے تھے بلکہ اس کو ایک مستبعد بات سمجھتے تھے۔ اسی طرح ان کے اندر ایک بہت بڑا گروہ ان لوگوں کا بھی تھا جو قیامت کو بعید از امکان تو نہیں سمجھتے تھے لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ قیامت کے دن ان کا معاملہ ان کے شرکاء سے متعلق ہو گا، وہ اپنے پجاریوں کو اپنی شفاعت سے بچا لیں گے۔ یہ لوگ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے لیے وہ تمام صفتیں تسلیم کرتے تھے جو اس کی بدیہی اور لازمی صفات ہیں اور جو جزا و سزا کو لازم کرتی ہیں دوسری طرف ان کے بدیہی نتائج و لوازم کے بارے میں یا تو مبتلائے شک تھے یا ان کا انکار کرتے تھے۔ ان کی اسی ذہنی الجھن کی طرف یہاں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ مقصود ان کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ قرآن ان کو جس بات سے آگاہ کر رہا ہے وہ تو اس کائنات کی ایک بدیہی حقیقت ہے بشرطیکہ یہ لوگ اپنے ذہن کو سیدھی راہ پر سوچنے دیں، اس میں غیر فطری اڑنگے نہ ڈالیں۔ پچھلی سورہ میں ’فَہُمْ فِیْ أَمْرٍ مَّرِیْجٍ‘ (۵) کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔ ہمارے نزدیک دونوں جگہ ایک ہی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے۔  
    اس سے وہی روگردانی کرتے ہیں جن کی عقل الٹ دی گئی ہو۔
    یہ جملہ ’قول مختلف‘ کی صفت نہیں بلکہ ایک مستقل جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے ذہن کو تناقض سے پاک کر کے سوچیں تو جزا و سزا کا معاملہ بالکل بدیہی حقیقت ہے لیکن جن لوگوں کی عقل الٹ جاتی ہے وہ اس سے برگشتہ کر دیے جاتے ہیں۔ ’اِفک‘ کے معنی الٹ دینے کے ہیں اور ’مافوک‘ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی عقل الٹ دی گئی ہو۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو ’فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللہُ قُلُوۡبَہُمْ‘ (الصف ۵) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں بیان ہوئی ہے، یعنی ان لوگوں نے اپنی عقل صحیح طور پر استعمال نہیں کی اس وجہ سے قانون الٰہی کے مطابق ان کی عقل الٹ دی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کو وہ چیز بھی نظر نہیں آ رہی ہے جس کی شہادت اس کائنات کے ہر گوشے سے مل رہی ہے۔
    اٹکل کے تیر تکے چلانے والے ہلاک ہوں!
    گمان کا سہارا لینے والوں کی تباہی: یہ جملہ بھی ملامت و سرزنش کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اٹکل کے تیر تکے چلانے والے لوگ ہیں۔ انھوں نے اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے اس وجہ سے آفاق و انفس اور ارض و سماء کی وہ تمام دلیلیں جن کی طرف قرآن ان کو توجہ دلا رہا ہے، ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں۔ بصیرت سے محروم ہونے کے باعث اب ان کا تمام اعتماد قیاس و گمان پر رہ گیا ہے۔ اسی قیاس و گمان کے بل پر وہ اس واضح سے واضح حق کو بھی جھٹلانے پر کمربستہ ہیں جو ان کی خواہشوں کے خلاف ہے حالانکہ گمان کسی درجے میں بھی ان کے لیے حق کا بدل نہیں بن سکے گا بلکہ ایک دن ان پر واضح ہو جائے گا کہ حق کے انکار کے لیے انھوں نے وہم و گمان کا جو سہارا لیا یہی ان کی تباہی کا اصل سبب بنا۔ جو امور جتنے ہی اہم ہیں ان کے لیے اتنا ہی اہتمام ہے: ’خرص‘ کے معنی اندازہ اور تخمینہ کرنے کے ہیں ’خرص النخل والکرم‘ کے معنی ہیں کھجور کے درخت یا انگور کی بیل کے پھلوں کا اندازہ کیا۔ ’خرص فی الحدیث‘ کے معنی ہوں گے کہ ایک امر پر، غور کیے بغیر، اس کے بارے میں ایک اٹکل پچو بات اڑا دی۔ انسان کی زندگی سے متعلق جو امور جتنے ہی اہم اور دوررس نتائج کے حامل ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے اتنا ہی زیادہ اہتمام فرمایا ہے۔ اٹکل اور اندازوں پر وہی امور اس نے چھوڑے ہیں جن کی انجام کار کے پہلو سے کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ جن امور کی خاص اہمیت ہے، جو دور رس نتائج کے حامل ہیں اور جن پر انسان کی صلاح و فلاح کا انحصار ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے قیاس و گمان پر نہیں چھوڑا ہے بلکہ ان میں ہر پہلو سے اس نے حجت تمام کر دی ہے تاکہ انسان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ ان امور میں اٹکل کے گھوڑے دوڑانا بالکل ایسا ہی ہے کہ ایک شخص اندھیری رات میں اللہ کی بخشی ہوئی روشنی کو گل اور اپنی آنکھیں بند کر کے محض اٹکل سے راستہ معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ انسان کے لیے اس کی عاقبت کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے کسی پہلو کو بھی مبہم نہیں چھوڑا ہے بلکہ ہر جہت سے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرما دی ہے تاکہ گمراہی کا اندیشہ نہ رہے۔ آسمان و زمین میں اس نے قدم قدم پر نشانات راہ گاڑ دیے ہیں جو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ آنکھیں دے دی ہیں جو ان نشانات کو دیکھ سکتی ہیں اگر انسان آنکھیں کھلی رکھے۔ عقل بخشی ہے جو ان اشاروں کو سمجھتی ہے یا سمجھ سکتی ہے بشرطیکہ انسان اس سے صحیح طور پر فائدہ اٹھائے۔ علاوہ ازیں انسان کی فطرت میں وہ تمام داعیات و محرکات ودیعت فرما دیے ہیں جو صحیح سمت میں قدم بڑھانے، خطرات کا مقابلہ کرنے اور انسان کو برابر بیدار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ پھر مزید اور سب سے اعلیٰ و اشرف انتظام یہ فرمایا کہ اپنے نبیوں، رسولوں اور اپنی اتاری ہوئی کتابوں کے ذریعہ سے اچھی طرح واضح فرما دیا کہ زندگی کی صحیح شاہراہ کیا ہے اور اس راہ کے لیے کیا زاد و راحلہ مطلوب ہے۔ اتنے گوناگوں اہتمام کے بعد بھی انسان ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے محض اپنی اٹکل سے اپنے لیے کوئی اور راہ ڈھونڈنے کے درپے ہو تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اسے روشنی سے نفرت ہے، وہ تاریکی ہی میں بھٹکنا چاہتا ہے۔
    غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، بالکل بے خبر۔
    اٹکل کی پیروی کا سبب: ’اَلَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ سَاہُوۡنَ‘۔ یہ ان اٹکل کے تیر تکے چلانے والوں کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے اس بات کی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ انھوں نے خدا کی روشنی چھوڑ کر اپنا رہنما اٹکل کو کیوں بنایا ہے! فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ خواہشات نفس کے اندھیرے میں گھرے ہوئے ہیں اور ان پر ایسی غفلت طاری ہے کہ اس کا تسلسل کبھی ٹوٹتا ہی نہیں کہ اس سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ’غَمْرَۃٍ‘ سے مراد خواہشات نفس اور مطامع دنیا کی تاریکی ہے۔ ’سَاہُوۡنَ‘ خبر کے بعد دوسری خبر ہے جس سے ان کی غفلت کا تسلسل ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چیز ان پر اس طرح مسلط ہے کہ وہ اس سے باہر نکلنے کا کبھی نام ہی نہیں لیتے۔ اگر کبھی کوئی ان کو جگانے اور حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ چیز ان کے دلوں پر شاق گزرتی ہے اور وہ اپنے کو مطمئن رکھنے کے لیے جو غلط سے غلط سہارا بھی مل جاتا ہے اس پر تکیہ کر لیتے ہیں۔
    پوچھتے ہیں جزاء و سزا کا دن کب آئے گا!
    منکرین جزاء کا معارضہ: یعنی وہ جزاء و سزا سے آگاہ کرنے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے یہ سوال کرتے ہیں کہ جس یوم الجزاء سے ڈرا رہے ہو وہ کہاں ہے؟ اس کا ظہور کب ہو گا! اس سوال کے اندر انکار، استہزاء اور جلد بازی تینوں ہی باتیں موجود ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر فی الواقع اس طرح کا کوئی دن آنے والا ہے تو وہ آتا کیوں نہیں! اس کے ڈراوے سنتے سنتے تو ہمارے کان پک گئے لیکن اس کو نہ آنا تھا نہ آیا۔ یہ محض ایک ہوّا ہے جس سے تم ہمیں مرعوب کرنا چاہتے ہو۔ اگر اس کی کوئی حقیقت ہے تو اس کو لاؤ۔ اس کو دیکھے بغیر ہم تمہاری ان خیالی باتوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں! یہ سوال نقل کرنے سے قرآن کا مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ اس قماش کے لوگ حقائق سے گریز اختیار کرنے کے لیے اسی طرح کے بہانوں کی آڑ میں چھپتے ہیں حالانکہ انھیں اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ اگر یوم الجزاء کا آنا آفاق و انفس کے دلائل سے ثابت ہے اور اس کا ظہور اس کائنات کے خالق کی صفات کا لازمی تقاضا ہے تو اس دلیل سے اس کو نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ اس سے ڈرانے والے اس کو دکھا نہیں سکتے یا اس کا وقت نہیں بتا سکتے۔ اس قسم کا معارضہ ایک حقیقت کو ظن و تخمین سے جھٹلانے کے ہم معنی ہے اس وجہ سے قرآن نے ان لوگوں کے لیے ’خَرَّاصُوْنَ‘ کا لفظ استعمال فرمایا۔
    جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے!
    جواب منکرین کی ذہنیت کے مطابق: یہ سوال تحقیق کے لیے نہیں بلکہ، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، انکار اور استہزاء کے لیے تھا، اس وجہ سے قرآن نے جواب ان کی ذہنیت کو پیش نظر رکھ کر دیا۔ یہ امر واضح رہے کہ جو لوگ اس طرح کے سوال کرتے تھے وہ اس حقیقت سے ناواقف نہیں تھے کہ اس کے ظہور کا وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ کسی کو اس کا علم نہیں ہے اور اس کا علم نہ ہونے سے اصل حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کے وقت اور دن سے تعرض کرنے کے بجائے اس صورت حال کی تصویر ان کے سامنے رکھ دی جس سے اس دن سابقہ پیش آئے گا کہ یہ جزا کا دن اس وقت ظہور میں آئے گا جب یہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑا لیں لیکن یاد رکھیں کہ اس دن ان کا یہ حشر ہونا ہے۔ لفظ ’فتن‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہ لفظ جلانے اور تپانے کے معنی میں بھی آتا ہے اور کسی کو امتحان میں ڈال کر جانچنے اور پرکھنے کے معنی میں بھی۔ یہاں ’یُفْتَنُوْنَ‘ سے دو معنوں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ ایک تو جلانے اور تپانے کے معنی کی طرف، دوسرے اس حقیقت کی طرف کہ جس آگ پر یہ لوگ تپائے جائیں گے یہ ان شہوات و زخارف کی آگ ہو گی جن سے وہ دنیا میں آزمائے گئے اور جن کی محبت میں گرفتار ہو کر وہ جزا کے دن سے بے پروا ہوئے۔ آگے اس کی وضاحت آ رہی ہے۔
    چکھو مزا اپنے فتنہ کا، یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے تھے!
    لفظ ’فتنۃ‘ یہاں میرے نزدیک اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے یعنی دنیا کی وہ چیزیں جو تمہیں فتنہ میں ڈالنے والی بنیں اور جن کے عشق میں مبتلا ہو کر تم آخرت سے برگشتہ ہوئے، اپنی اصلی شکل و صورت میں وہ تمہارے سامنے نمایاں ہو گئیں، اب ان کا مزا چکھو۔ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے تھے۔
    بے شک پرہیز گار باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔
    تقویٰ کی روح: ’مُتَّقِیْنَ‘ ایک جامع صفت ہے جو قرآن میں ان لوگوں کے لیے استعمال ہوئی ہے جو خدا کے مقرر کردہ حدود و قیود کے اندر زندگی گزارنے والے ہیں۔ یہاں بھی اصلاً مراد وہی ہیں لیکن اوپر کی آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جو آخرت اور جزا و سزا سے نچنت لاابالیانہ زندگی گزارتے ہیں اس وجہ سے یہاں، تقابل کے اصول پر، اس صفت کے اندر جزا و سزا کے اندیشہ کا پہلو نمایاں ہے یعنی اس سے خاص طور پر وہ لوگ مراد ہیں جنھوں نے زندگی میں جو قدم بھی اٹھائے یہ سوچ کر اٹھائے کہ ایک دن ہر قول و فعل کا حساب دینا اور حدود الٰہی سے ہر تجاوز کی سزا بھگتنی ہے۔ درحقیقت جزا و سزا کا یہی اندیشہ تقویٰ کی اصل روح ہے۔ جس تقویٰ کے اندر یہ روح نہ ہو وہ محض نمائشی اور کاروباری تقویٰ ہے جس کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں ہے۔ ان لوگوں کی نسبت فرمایا کہ بے شک یہ لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اوپر لاابالیانہ زندگی گزارنے والوں کا انجام یہ بیان ہوا کہ وہ جن زخارف پر ریجھ کر آخرت سے بے پروا ہوئے انہی کی آگ پر تپائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ اب ان زخارف کا مزہ چکھو۔ اس کے برعکس ان لوگوں نے چونکہ آخرت کے مقابل میں دنیا کے زخارف کو کوئی وقعت نہیں دی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو باغوں اور چشموں میں اتارے گا۔ ’جَنَّاتٍ‘ اور ’عُیُونٍ‘ دونوں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ آخرت کی نعمتوں کی جامع تعبیر ہیں۔ ’فِیْ‘ یہاں اس بات پر دلیل ہے کہ یہ لوگ جنت کی نعمتوں میں بالکل گھرے ہوئے ہوں گے۔ ان کے لیے ہر طرف نعمت ہی نعمت ہو گی۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List