Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • ق (The Letter Qaf)

    45 آیات | مکی

    گروپ پر ایک اجمالی نظر

    سورۂ قٓ سے سورتوں کا چھٹا گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس میں کل سترہ سورتیں ہیں۔ جن میں سے سات سورتیں ۔۔۔ قٓ، ذاریات، طور، قمر، نجم، رحمان اور واقعہ ۔۔۔ بالترتیب مکی ہیں۔ صرف سورۂ رحمان کو بعض مصاحف میں مدنی ظاہر کیا گیا ہے، لیکن اس کی تفسیر سے واضح ہو جائے گا کہ یہ رائے بالکل بے بنیاد ہے۔ پوری سورہ کا مدنی ہونا تو درکنار اس کی کوئی ایک آیت بھی مدنی نہیں ہے۔

    سورۂ واقعہ کے بعد دس سورتیں ۔۔۔ حدید، مجادلہ، حشر، ممتحنہ، صف، جمعہ، منافقون، تغابن، طلاق اور تحریم ۔۔۔ مدنی ہیں۔

    اس گروپ کا جامع عمود بعث اور حشر و نشر ہے۔ اس کی تمام مکی سورتوں میں یہ مضمون ابھرا ہوا نظر آئے گا۔ اگرچہ قرآن کے بنیادی مطالب، دوسرے گروپوں کی طرح، اس میں بھی زیربحث آئے ہیں لیکن وہ اسی جامع عمود کے تحت آئے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس جو مدنی سورتیں اس میں شامل ہیں وہ بھی اسی اصل کے تحت ہیں۔ بعث اور حشر و نشر پر ایمان کا لازمی نتیجہ اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت ہے۔ مدنی سورتوں میں اسی تسلیم و اطاعت کے وہ مقتضیات بیان ہوئے ہیں جن کے بیان کے لیے زمانۂ نزول کے حالات داعی ہوئے ہیں۔

    مکی سورتوں میں تمام رد و قدح کفار قریش کے عقائد و مزعومات پر ہے اور وہی ان میں اصلاً مخاطب بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے اگر خطاب ہے تو بطور التفات و تسلی ہے۔ مدنی سورتوں میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے ہے اور خاص طور پر ان لوگوں کی کمزوریاں زیربحث آئی ہیں جو اللہ و رسول پر ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے تھے لیکن ایمان کے تقاضوں سے ابھی اچھی طرح آشنا نہیں ہوئے تھے۔ انہی کے ضمن میں اہل کتاب بھی زیربحث آئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس دور میں اہل کتاب بھی قریش کی حمایت اور اسلام کی مخالفت کے لیے میدان میں اتر آئے تھے، دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر منافقین کا گروہ جو گھس آیا تھا وہ بیشتر انہی اہل کتاب کے زیراثر تھا۔ اس گروپ کی پہلی سورہ ۔۔۔ قٓ ۔۔۔ ہے۔ اب اللہ کا نام لے کر ہم اس کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔

    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا عمود بعث یعنی زندگی بعد الموت کا اثبات ہے۔ قرآن نے جب لوگوں کو آگاہ کیا کہ مرنے کے بعد لوگ ازسرنو زندہ کیے جائیں گے اور اپنے رب کے آگے اپنے اعمال و اقوال کی جواب دہی کے لیے پیش ہوں گے تو یہ چیز قریش کے لیڈروں پر بہت شاق گزری کہ انہی کے اندر کا ایک شخص مدعئ نبوت بن کر ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد لوگ پھر زندہ کیے جائیں گے۔ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد لوگ ازسرنو زندہ ہوں! اس سورہ میں لوگوں کے اسی استبعاد کو موضوع بحث بنا کر ان کے شبہات کے جواب دیے گئے ہیں۔

  • ق (The Letter Qaf)

    45 آیات | مکی
    ق - الذاریات

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ دوسری سورہ میں اثبات قیامت کے تاریخی دلائل، البتہ پہلی سورہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اِس کے ساتھ قرآن کے انذار عذاب کو بھی ثابت کیا گیا ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا خاتمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کے مضمون پر ہوا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 050 Verse 001 Chapter 050 Verse 002 Chapter 050 Verse 003 Chapter 050 Verse 004 Chapter 050 Verse 005 Chapter 050 Verse 006 Chapter 050 Verse 007 Chapter 050 Verse 008 Chapter 050 Verse 009 Chapter 050 Verse 010 Chapter 050 Verse 011 Chapter 050 Verse 012 Chapter 050 Verse 013 Chapter 050 Verse 014 Chapter 050 Verse 015
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ قٓ ہے۔ قسم ہے باعظمت قرآن کی!
    قرآن اپنی حقانیت پر خود گواہ ہے: ’قٓ‘ اس سورہ کا نام ہے۔ مبتداء، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں، یہاں بھی محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہو گا کہ یہ سورۂ قٓ ہے۔ ’مَجِیْدٌ‘ کے معنی بزرگ، برتر اور باعظمت کے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر بھی قرآن میں استعمال ہوا ہے اور قرآن کی صفت کے طور پر بھی۔ ہر کلام متکلم کی صفات کا مظہر ہوتا ہے اس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے اسی طرح اس کا کلام بھی بزرگ و برتر ہے اور یہ برتری و بزرگی قرآن کی ایک ایک آیت سے نمایاں ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی صاحب ذوق قرآن کو سنے یا پڑھے اور اس کی عظمت و شوکت سے متاثر و مرعوب نہ ہو۔ اگر کوئی اس کی عظمت و جلالت سے متاثر نہ ہو تو وہ یا تو نہایت ہی بلید ہے یا اس کا دل بالکل سیاہ ہو چکا ہے۔ آدمی تو درکنار اگر یہ قرآن پہاڑوں پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے، اللہ تعالیٰ کی خشیت سے پاش پاش ہو جاتے۔ ’وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ‘ جملہ قسمیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس باعظمت و برتر کتاب کی قسم کھائی ہے اور قسم سے متعلق ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اس طرح کی تمام قسمیں بطور شہادت ہیں۔ یعنی قسم مقسم علیہ پر دلیل کی حیثیت سے کھائی جاتی ہے۔ یہ قسم بھی مقسم علیہ پر دلیل ہے، اگرچہ وہ محذوف ہے۔ مقسم علیہ ان مواقع میں حذف کر دیا جاتا ہے جہاں کلام کا سیاق و سباق اس کو واضح کر دینے کے لیے کافی ہو۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورۂ صٓ میں موجود ہے۔ فرمایا ہے: ’ صٓ وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْرِ ۵ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوۡا فِیْ عِزَّۃٍ وَشِقَاقٍ‘ (۱-۲) (اس کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد، ششم، صفحات ۵۱۱-۵۱۲) تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں قرآن کی عظمت و جلالت کی قسم ان لوگوں کی تردید میں کھائی گئی ہے جو اس کو شاعری، کہانت سحر یا القائے شیطانی کے قسم کی چیز قرار دیتے تھے۔ قرآن کی عظمت، شہادت میں پیش کر کے، ان کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ یہ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ اپنے وجود سے شاہد ہے کہ اس کا منبع یہ سفلی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے جس کا ذریعہ جبریل امین ہیں، اور جس کا منبع لوح محفوظ ہے۔ بعینہٖ اسی قسم کے سیاق و سباق کے ساتھ سورۂ بروج میں فرمایا ہے: بَلْ ہُوَ قُرْآنٌ مَّجِیْدٌ ۵ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ (۲۱-۲۲) ’’بلکہ یہ باعظمت قرآن ہے اور اس کا منبع لوح محفوظ میں ہے۔‘‘ یہی بات سورۂ تکویر میں یوں فرمائی گئی ہے: إِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَرِیْمٍ ۵ ذِیْ قُوَّۃٍ عِندَ ذِیْ الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۵ مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِیْنٍ ۵ وَمَا صَاحِبُکُم بِمَجْنُونٍ ۵ وَلَقَدْ رَآہُ بِالْأُفُقِ الْمُبِیْنِ ۵ وَمَا ہُوَ عَلَی الْغَیْْبِ بِضَنِیْنٍ ۵ وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَیْْطَانٍ رَجِیْمٍ ۵ فَأَیْْنَ تَذْہَبُونَ ۵ إِنْ ہُوَ إِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعَالَمِیْنَ (۱۹-۲۷) ’’یہ ایک باعزت رسول کا اتارا ہوا کلام ہے۔ وہ قوت والا اور عرش کے مالک کے نزدیک بارسوخ ہے۔ وہ مطاع اور مزید برآں امانت دار ہے۔ اور تمہارا ساتھی کوئی دیوانہ نہیں ہے اور اس نے اس کو بالکل کھلے افق میں دیکھا ہے۔ اور وہ غیب کی باتوں کا کوئی حریص نہیں ہے۔ اور یہ کسی شیطان رجیم کا القاء نہیں ہے، تو کہاں بھٹکے جاتے ہو! یہ تو دنیا والوں کے لیے یاددہانی ہے۔‘‘ قرآن کی عظمت کے اسی پہلو کی طرف’لَا یَأْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِن بَیْْنِ یَدَیْْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ‘ (حٰمٓ السجدہ ۴۲) (باطل نہ اس کے آگے سے اس میں آ سکتا اور نہ اس کے پیچھے سے) اور’لَّا یَمَسُّہُ إِلَّا الْمُطَہَّرُوۡنَ‘ (الواقعہ ۷۹) (اور اس کو صرف پاکیزہ ہی لوگ چھوتے ہیں) اور اس مضمون کی دوسری آیتیں بھی اشارہ کر رہی ہیں۔ سورۂ شعراء کے آخر میں قرآن کو کہانت اور شاعری کی تہمت سے بری کرنے کے جو دلائل بیان ہوئے ہیں ان کی وضاحت سورہ کی تفسیر میں ہو چکی ہے، خاص طور پر ’وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیَاطِیْنُ ۵ وَمَا یَنبَغِیْ لَہُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُونَ‘ (الشعراء ۲۱۰-۲۱۱) کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے انذار قیامت کو یہ بہانہ بنا کر نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ وحی الٰہی نہیں بلکہ القائے شیطانی ہے ان کی تردید کے لیے قرآن کی معجزانہ بلاغت اور اس کی لاہوتی حکمت ہی کافی ہے۔ نادان ہیں وہ جو اس کو کسی جن یا شیطان کا کلام سمجھتے ہیں۔ یہ جن یا شیطان کا کلام نہیں ہے بلکہ خدائے عزیز و حکیم کا اتارا ہوا کلام ہے۔ جوہر جام جم ازکان جہان دگر است  
    بلکہ ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی کے اندر سے ایک آگاہ کرنے والا آیا تو کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک نہایت عجیب بات ہے۔
    مخالفین کی مخالفت کی اصل علت: یہاں ’بَلْ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن نے اس اعتراض کو محض حقیقت سے فرار کے لیے ایک بہانہ قرار دیا ہے۔ اس ’بَلْ‘ کے مضمرات کھولیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جو لوگ قرآن کو جنات و شیاطین کا القاء قرار دیتے ہیں ان کی تردید کے لیے قرآن کی عظمت و جلالت ہی کافی ہے۔ ان کے فرار کی اصل وجہ وہ نہیں ہے جو وہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کو اس بات پر تعجب ہے کہ ایک شخص انہی کے اندر سے ان کے لیے منذر بن کر اٹھا جو ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اپنے اندر ہی کے ایک آدمی کو خدا کا رسول تسلیم کر لینا چونکہ ان کے دلوں پر بہت شاق ہے، اس وجہ سے اس کی تکذیب میں انھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ مر کر، سڑ گل جانے کے بعد لوگ اٹھائے جائیں گے! یہ اٹھایا جانا بہت بعید از عقل ہے! اس آیت پر اچھی طرح غور کیجیے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ قرآن کے نزدیک ان کے اس فرار کی اصل علت ان کا استکبار ہے۔ وہ اپنے ہی اندر کے ایک شخص کو رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس وجہ سے وہ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے بھی منکر ہیں اور قیامت کو بھی ایک بعید از قیاس چیز قرار دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ استکبار میں مبتلا نہ ہوتے تو وہ اتنے بلید نہیں ہیں کہ اللہ کے کلام اور کاہنوں کی خرافات میں امتیاز نہ کر سکیں۔ اور قیامت کے اثبات کے جو دلائل قرآن ان کے سامنے پیش کر رہا ہے ان کو سمجھنے سے قاصر رہ جائیں۔ اس استکبار کی تفصیل پیچھے کی سورتوں میں گزر چکی ہے کہ یہ لوگ اول تو اپنی ہدایت کے لیے کسی رسول کی ہدایت کے قائل ہی نہیں ہیں اور اگر کسی درجے میں قائل ہیں بھی تو ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو وہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتا یا مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسول بناتا۔ ان سرداروں کے ہوتے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو رسول بنا دے جو ایک بالکل غریب آدمی ہے۔ ان اعتراضوں کے جواب پیچھے کی سورتوں، بالخصوص چوتھے گروپ میں جس کا جامع عمود اثبات رسالت ہے اور جو الفرقان سے شروع ہوتا ہے، تفصیل سے دیے جا چکے ہیں۔ یہاں گروپ کے مضمون کے تقاضے سے ان کے ان شبہات سے تعرض کیا ہے جو وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے امکان پر وارد کرتے تھے اور جن کو قرآن اور رسول کی مخالفت کے لیے، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، انھوں نے بہانہ بنا رکھا تھا۔
    کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے تو دوبارہ لوٹائے جائیں گے! یہ لوٹایا جانا تو بہت بعید ہے!
    مخالفین کی مخالفت کی اصل علت: یہاں ’بَلْ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن نے اس اعتراض کو محض حقیقت سے فرار کے لیے ایک بہانہ قرار دیا ہے۔ اس ’بَلْ‘ کے مضمرات کھولیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جو لوگ قرآن کو جنات و شیاطین کا القاء قرار دیتے ہیں ان کی تردید کے لیے قرآن کی عظمت و جلالت ہی کافی ہے۔ ان کے فرار کی اصل وجہ وہ نہیں ہے جو وہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کو اس بات پر تعجب ہے کہ ایک شخص انہی کے اندر سے ان کے لیے منذر بن کر اٹھا جو ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اپنے اندر ہی کے ایک آدمی کو خدا کا رسول تسلیم کر لینا چونکہ ان کے دلوں پر بہت شاق ہے، اس وجہ سے اس کی تکذیب میں انھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ مر کر، سڑ گل جانے کے بعد لوگ اٹھائے جائیں گے! یہ اٹھایا جانا بہت بعید از عقل ہے! اس آیت پر اچھی طرح غور کیجیے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ قرآن کے نزدیک ان کے اس فرار کی اصل علت ان کا استکبار ہے۔ وہ اپنے ہی اندر کے ایک شخص کو رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس وجہ سے وہ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے بھی منکر ہیں اور قیامت کو بھی ایک بعید از قیاس چیز قرار دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ استکبار میں مبتلا نہ ہوتے تو وہ اتنے بلید نہیں ہیں کہ اللہ کے کلام اور کاہنوں کی خرافات میں امتیاز نہ کر سکیں۔ اور قیامت کے اثبات کے جو دلائل قرآن ان کے سامنے پیش کر رہا ہے ان کو سمجھنے سے قاصر رہ جائیں۔ اس استکبار کی تفصیل پیچھے کی سورتوں میں گزر چکی ہے کہ یہ لوگ اول تو اپنی ہدایت کے لیے کسی رسول کی ہدایت کے قائل ہی نہیں ہیں اور اگر کسی درجے میں قائل ہیں بھی تو ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو وہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتا یا مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسول بناتا۔ ان سرداروں کے ہوتے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو رسول بنا دے جو ایک بالکل غریب آدمی ہے۔ ان اعتراضوں کے جواب پیچھے کی سورتوں، بالخصوص چوتھے گروپ میں جس کا جامع عمود اثبات رسالت ہے اور جو الفرقان سے شروع ہوتا ہے، تفصیل سے دیے جا چکے ہیں۔ یہاں گروپ کے مضمون کے تقاضے سے ان کے ان شبہات سے تعرض کیا ہے جو وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے امکان پر وارد کرتے تھے اور جن کو قرآن اور رسول کی مخالفت کے لیے، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، انھوں نے بہانہ بنا رکھا تھا۔
    ہم نے جان رکھا ہے جو کچھ زمین ان کے اندر سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک محفوظ رکھنے والی کتاب بھی ہے۔
    مخالفین کے شبہات کا جواب: فرمایا کہ دوبارہ زندہ کیا جانا اس وجہ سے ان کو بعید از امکان معلوم ہو رہا ہے کہ جسموں کے سڑ گل کر خاک میں مل جانے کے بعد ان کے اجزا کو زمین سے فراہم کرنا، ان کے خیال میں، ناممکن ہے۔ یہ مغالطہ اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے علم کو اپنے علم پر قیاس کیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ جسم انسانی کے جن اجزا کو زمین تحلیل کرتی ہے، وہ ان سب کو جانتا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔ جس نے ہر چیز کو خلق کیا ہے اور جس کے حکم ہی سے ہر چیز پر موت طاری ہوتی ہے، اس سے کوئی چیز کس طرح مخفی رہ سکتی ہے!’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ‘ (الملک ۱۴) (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے؟) اور جب وہ جانتا ہے تو جب وہ چاہے گا ان تمام اجزا کو فراہم کر کے ہر ایک کے جسم کو ازسرنو مشکّل کر دے گا۔ اس کام میں اس کو ذرا بھی دشواری نہیں پیش آئے گی۔ جس نے ہر چیز کو عدم محض سے وجود بخشا اور اس کو اس میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی، آخر دوبارہ اس کے منتشر اجزاء کو اکٹھا کر دینے میں اس کو کیوں دشواری پیش آئے گی؟ ’وَعِنۡدَنَا کِتَابٌ حَفِیْظٌ‘۔ یعنی اپنے ذاتی علم کے سوا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا سارا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے ایک دفتر بھی قائم کر رکھا ہے۔ جس میں یہ بھی درج ہے کہ کون شخص زمین کی کس پہنائی میں دفن ہے اور اس کے جسم کے اجزاء کہاں کہاں ہیں اور ہر شخص کے تمام اقوال و افعال بھی اس میں درج ہیں۔ نادانوں کو قیامت کے باب میں جس طرح یہ شبہ پیش آتا ہے کہ سڑ گل کر مٹی میں مل جانے کے بعد جسم انسانی کے اجزا کو فراہم کرنا اور ان کو ازسرنو جسم کی شکل میں مشکّل کرنا بھلا کس کے بس میں ہے اسی طرح یہ شبہ بھی پیش آتا ہے کہ ہر شخص کے ہر قول و فعل کا ریکارڈ محفوظ رکھ سکتا ہے کہ ایک دن وہ سب کا حساب کرنے اور سب کو سزا اور جزا دینے بیٹھے؟ اس ٹکڑے نے اس شبہے کو بھی صاف کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے تمام اقوال و اعمال کا ریکارڈ بھی ایک دفتر میں محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کا معاملہ زمانۂ جاہلیت کے عربوں کے لیے تو اچنبھے کا ہو سکتا تھا لیکن اس زمانے میں سائنس نے جو انکشافات کیے ہیں ان کو جاننے کے بعد، اگر کوئی شخص قرآن کے اس دعوے میں شک کرے تو ایسے ہٹ دھرموں کو کوئی بڑی سے بڑی دلیل بھی قائل نہیں کر سکتی۔ یہ لوگ اس وقت مانیں گے جب ان کے ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے پکڑا دیے جائیں گے، لیکن اس وقت کا ماننا بالکل بے سود ہو گا۔
    بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلایا ہے جب کہ وہ ان کے پاس آ چکا ہے۔ پس وہ ایک صریح تضاد فکر میں مبتلا ہیں۔
    لفظ ’حق‘ اسی سورہ کی آیت ۱۹ اور آیت ۴۲ میں قیامت کے لیے آیا ہے لیکن یہاں ’لَمَّا جَآءَ ہُمْ‘ کا قرینہ پتا دے رہا ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے جو قیامت سے لوگوں کو آگاہ کر رہا تھا لیکن لوگ اس کی تکذیب کر رہے تھے اور اس کی تکذیب کے لیے بہانہ کے طور پر قیامت کے خلاف وہ شبہات پیش کر رہے تھے جو اوپر بیان ہوئے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے ان شبہات سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گویا قیامت فی الواقع ایک بہت بعید از امکان چیز ہے اور یہ اس کا انکار جو کر رہے ہیں تو اس کے لیے معقول وجوہ ان کے پاس ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے ایک بالکل بدیہی حق کی تکذیب کی ہے اور وہ بھی اس وقت جب وہ ان کے سامنے بالکل واضح طور پر آ گیا۔ ’لَمَّا جَآءَ ہُمْ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ قرآن مجید جس قیامت کی خبر دے رہا ہے وہ حق تو پہلے بھی تھی لیکن اب تک یہ لوگ اس کے باب میں اگر گرفتار شبہات رہے تو ان کے پاس کچھ عذر بھی تھا کہ یہ قرآن و کتاب سے ناآشنا اُمّی تھے لیکن اب وہ کیا عذر کر سکتے ہیں جبکہ وہ ایک ایسے حق کا انکار کر رہے ہیں جو نصف النہار کے سورج کی طرح ان کے سروں پر چمک رہا ہے! مکذبین قیامت کا تضاد فکر: ’فَہُمْ فِیْ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ‘۔ ’اَمْرٍ مَّرِیْجٍ‘ کی تشریح اہل لغت ’امر مختلط‘ یا ’امر ملتبس‘ کے الفاظ سے کرتے ہیں، یعنی ایک ایسی صورت حال جس میں نہایت واضح قسم کا تناقض و تضاد ہو۔ ’مرج‘ کے معنی ’خلط‘ یعنی گڈ مڈ کر دینے کے ہیں۔ سورۂ رحمان میں ہے۔ ’مَرَجَ الْبَحْرَیْْنِ یَلْتَقِیَانِ‘ (۱۹) (اس نے کھاری اور شیریں دونوں قسم کے دریا چھوڑے جو آپس میں ٹکراتے ہیں)۔ قرآن کی تکذیب کر کے مکذبین جس صورت حال سے دوچار ہوئے یہ اس کی ٹھیک ٹھیک تعبیر ہے کہ یہ لوگ ایک صریح قسم کے تضاد فکر میں مبتلا ہو کے رہ گئے ہیں۔ ایک طرف یہ خدا اور اس کی ان تمام صفات کا اقرار کرتے ہیں جو قیامت کو لازم کرتی ہیں، دوسری طرف قیامت کا انکار کرتے ہیں جو اس اقرار کا بالکل بدیہی تقاضا ہے۔ اس طرح وہ ایک ایسی ذہنی الجھن میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی راہ ان کو سجھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس الجھن سے نجات کی واحد راہ وہی ہے جو قرآن ان کو بتا رہا ہے، لیکن اس کو قبول کرنے کے لیے وہ تیار نہیں ہیں حالانکہ حق کی تکذیب کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آدمی اپنی تکذیب کو جائز ثابت کرنے کے لیے جتنی دلیلیں ایجاد کرتا ہے وہ سب اس کے موقف کے بودے پن کو عریاں کرتے ہیں۔ قرآن نے ان کے اسی تضاد فکر کی طرف سورۂ ذاریات میں، جو اس کی توام سورہ ہے’إِنَّکُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ‘ (۸) (بے شک تم لوگ ایک شدید قسم کے تناقض میں گرفتار ہو) کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اس مسئلہ کی پوری وضاحت سورۂ نمل کی آیت ۶۶ ’بَلِ ادَّارَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْآخِرَۃِ ......الاٰیۃ‘ کے تحت ہو چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان کی گمراہی میں سب سے زیادہ دخل اس کے اسی تضاد فکر کو ہے۔ یا تو وہ اپنی سہل انگاری کے سبب سے رطب و یابس ہر قسم کے نظریات اپنے ذہن میں جمع کر لیتا ہے یا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں صحیح نظریات و عقائد کے ساتھ باطل نظریات بھی جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کی زندگی مجموعۂ اضداد بن جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے افکار کا برابر جائزہ لیتا رہے، تنقید کی صلاحیت مردہ نہ ہونے دے، اور خواہشات نفس کی پیروی میں حق کے ساتھ باطل کا جوڑ ملانے کی کوشش نہ کرے تو وہ شیطان کے اس فتنہ سے محفوظ رہ سکتا ہے، لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں۔
    کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا، کس طرح ہم نے اس کو بنایا اور اس کو سنوارا اور کہیں اس میں کوئی رخنہ نہیں!
    اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی طرف اشارہ: یہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین قیامت کو اپنی قدرت، ربوبیت اور حکمت کی ان بدیہی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اوپر اور نیچے ہر جگہ نظر آتی ہیں اور ہر اس شخص کے اندر بصیرت اور یاددہانی پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں جس کے سینہ میں اثرپذیر اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔ سب سے پہلے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ کیا انھوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھائی کہ دیکھتے کہ کس طرح ہم نے اس کو بلند کیا، اس کو ستاروں سے سجایا اور ہماری قدرت و حکمت کا اعجاز ہے کہ ایسی ناپیدا کنار چھت میں کہیں کسی رخنہ کی نشان دہی وہ نہیں کر سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کی قدرت و حکمت کا یہ کرشمہ وہ اپنے سروں پر دیکھتے ہیں، کیا اس کے لیے ان کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کر دینا مشکل ہو جائے گا؟
    اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں ہر قسم کی خوش منظر چیزیں اُگائیں۔
    اس کے بعد قدرت و حکمت کے ساتھ اپنی ربوبیت اور پرورش کے اہتمام کی طرف بھی توجہ دلائی۔ فرمایا کہ وہ اپنے نیچے دیکھیں کہ کس طرح ہم نے زمین کو ان کے قدموں کے نیچے بچھایا ہے اور اس کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے اندر پہاڑوں کی میخیں گاڑ دی ہیں اور اس میں طرح طرح کی چیزیں اگا رکھی ہیں جو ان کی غذا کے کام آتی ہیں اور جن کی خوش منظری ان کی باصرہ نوازی بھی کرتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس پروردگار کی قدرت و حکمت اور جس کی پروردگاری کی یہ شانیں وہ دیکھ رہے ہیں کیا اس کے لیے دشوار ہے کہ وہ ان کے مر جانے کے بعد، ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرے؟ کیا جس پروردگار نے ان کی پرورش کا یہ اہتمام کر رکھا ہے وہ ان کو اسی طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ کھائیں، پئیں، عیش کریں، ان سے کبھی اس باب میں کوئی پرسش نہیں ہو گی۔
    ہر متوجہ ہونے والے بندے کی بصیرت اور یاددہانی کے لیے!
    یہ دنیا اپنے وجود میں ایک درس گاہ معرفت ہے: ’تَبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کے اندر اپنی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی یہ شانیں اس لیے نمایاں فرمائی ہیں کہ جو لوگ توجہ کرنے والے ہیں، ان کے اندر یہ بصیرت اور یاددہانی پیدا کریں۔ ’تَبْصِرَۃٌ‘ سے مراد آنکھوں کے اندر بصیرت پیدا کرنا ہے کہ وہ ظاہر سے گزر کر اس حقیقت تک پہنچ سکیں جس کی طرف ظاہر رہنمائی کر رہا ہے۔ اور ’ذِکْرٰی‘ سے مراد غفلت کے حجاب کو دور کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے چپہ چپہ کو ایسے عجائب اور کرشموں سے بھر دیا ہے جو آنکھوں کے پردے اٹھانے اور دلوں کے جھنجھوڑنے اور جگانے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن یہ کرشمے ان پر کارگر ہوتے ہیں جن کے اندر اثرپذیری کی حس موجود ہو۔ جو لوگ اپنی محسوس پرستی کی وجہ سے اپنی یہ حس لطیف مردہ کر چکے ہوں ان کے لیے یہ ساری کائنات ایک عالم ظلمات ہے۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی طرف اس کتاب میں جگہ جگہ، ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ دنیا اپنے بقا کے لیے ان تمام رنگا رنگیوں اور گل کاریوں کی محتاج نہیں تھی جو اس کے ہر گوشے میں نمایاں ہیں، لیکن قدرت نے اس فیاضی کے ساتھ اس کے اندر اپنی شانیں جو دکھائی ہیں تو اسی لیے دکھائی ہیں کہ انسان کی وہ حس لطیف جو قدرت، حکمت، حسن اور فیض و کرم سے اثرپذیر اور بیدار ہوتی ہے وہ بیدار ہو اور اس چمن کے ایک ایک پتہ پر جو درس حکمت ثبت ہیں وہ ان کو سیکھے اور سمجھے، لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ خالق نے ہر انسان کے اندر توجہ اور انابت کی جو صلاحیت ودیعت فرمائی ہے وہ اس کو بروئے کار لائے۔ اگر کوئی شخص اپنی اس صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کو ایسے بلید و بے حس جانوروں کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اس نے انسان کو ذی ارادہ ہستی جو بنایا ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جو شعور اس کو عطا ہوا ہے اس کی قدر کرے اور اس کی رہنمائی میں آگے کے لیے قدم اٹھائے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کو خدا کی طرف سے مزید روشنی عطا ہوتی ہے ورنہ جو کچھ اس کو عطا ہوتا ہے وہ بھی اس کی ناقدری کی پاداش میں سلب ہو جاتا ہے۔ ان آیتوں میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے۔ اطمیان قلب اور شرح صدر کے لیے بعض حوالے ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل میں، ان لوگوں کو خطاب کر کے، جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو مستبعد خیال کرتے تھے، فرمایا ہے: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَآٰی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ.(بنی اسرائیل:۹۹) ’’کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ان کی طرح پھر پیدا کر دے۔‘‘ منکرین قیامت کے اسی شبہ کا جواب سورۂ نازعات میں ان الفاظ میں دیا ہے۔ ءَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بَنٰھَا ہ رَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰھَا ہ وَاَغْطَشَ لَیْلَھَا وَاَخْرَجَ ضُحٰھَا ہ وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا ہ اَخْرَجَ مِنْھَا مَآءَ ھَا وَمَرْعٰھَا ہ وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا ہ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ. (النازعات: ۲۷-۳۳) ’’کیا تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ کٹھن ہے یا آسمان کا؟ اس کو بنایا، اس کے گنبد کو بلند کیا، پھر اس کو اچھی طرح ہموار کیا، اور اس کی رات کو ڈھانک دیا اور اس کے دن کو بے نقاب کیا۔ اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ اس سے اس کا پانی اور چارہ برآمد کیا اور پہاڑوں کو لنگر انداز کیا۔ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے برتنے کے لیے۔‘‘ ان آیات پر تدبر کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان میں قدرت، عظمت، حکمت اور ربوبیت کے وہ سارے پہلو، کچھ مزید وسعت کے ساتھ، سمٹ آئے ہیں، جن سے سورۂ قٓ کی زیربحث آیات میں قیامت کے وقوع، اس کی ضرورت اور اس کے مقتضائے صفات الٰہی ہونے پر استدلال فرمایا گیا ہے۔  
    اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا جس سے ہم نے باغ بھی اگائے اور کاٹی جانے والی فصلیں بھی۔
    آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ ایک اور پہلو سے: یہ آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف ایک اور زاویہ سے توجہ دلائی جس سے آسمان و زمین کے درمیان توافق کے پہلو سے توحید کی شہادت بھی ملتی ہے۔ ان کے اندر ربوبیت کے جو اسباب ودیعت ہیں ان سے جزا و سزا کا لزوم بھی سامنے آتا ہے اور بارش سے مردہ زمین کے اندر جو حیات تازہ نمودار ہوتی ہے اس سے حیات بعد الممات کے وقوع کا بھی مشاہدہ ہر شخص کو ہوتا ہے۔ ’مَآءٌ مُّبٰرَکٌ‘ سے مراد وہ بارش ہے جو باعث زرخیزی و شادابی ہو۔ بعض مرتبہ ایسی بارش بھی ہوتی ہے جو زرخیزی کے بجائے تباہی کا باعث بن جاتی ہے اور وہ قوموں کے لیے عذاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہاں ’مبارک‘ کی صفت اسی شبہ کے ازالہ کے لیے ہے۔ ’حَبَّ الْحَصِیْدِ‘ سے وہ اجناس مراد ہیں جن کا دِرو عمل میں آتا ہے اور جو ذخیرہ کی جاتی ہیں۔ مثلاً گندم اور جَو وغیرہ۔ باغوں کے ساتھ ’حَبَّ الْحَصِیْدِ‘ کے ذکر سے مقصود اس اہتمام ربوبیت کی طرف توجہ دلانا ہے جو اس کائنات کے رب نے اپنے بندوں کے لیے فرمایا ہے کہ اس نے لوگوں کے لیے باغوں میں تازہ اور لذیذ پھل بھی پیدا کیے اور کھیتوں میں غذائی اجناس بھی اگائیں جو پکنے پر کاٹ کر ذخیرہ کر لی جاتی اور برابر کام آتی ہیں۔
    اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت بھی جن میں تہ بہ تہ خوشے لگتے ہیں۔
    ’وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّھَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ‘۔ بظاہر ’جَنّٰت‘ کے بعد ’نخل‘ کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی، لیکن یہ عام کے بعد خاص کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب کا خاص میوہ یہی تھا جو ان کے لیے بہترین پھل بھی تھا اور بڑی حد تک ان کی غذائی ضرورت بھی پوری کرتا تھا۔ اس کی دراز قامتی اور اس کے تہ بہ تہ خوشوں کی طرف اشارہ مخاطب کے اندر مشاہدۂ کائنات کی حس اور شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ہے کہ وہ قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھے اور ان سے وہ اثر لے جو ایک حساس اور بیدار دل کو لینا چاہیے۔
    بندوں کی روزی کے لیے۔ اور ہم نے اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیا۔ اسی طرح مرنے کے بعد زمین سے نکلنا بھی ہو گا۔
    ’رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ‘۔ یعنی تہ بہ تہ خوشے خود اپنی صورت سے گواہی دے رہے ہیں کہ خالق نے ان پر اپنی قدرت، حکمت اور صناعی اس فیاضی کے ساتھ اس لیے صرف فرمائی ہے کہ اس کے بندے ان سے بہرہ مند ہوں، ان کے اندر اس کی حکمت و ربوبیت کی شانوں کا مشاہدہ کریں اور ان نعمتوں کا حق پہچانیں کہ ایک دن لازماً ان کی بابت اس سے پرسش ہونی ہے۔ ’وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ‘۔ یہ وہ اصل مدعا ہے جس کو اس سورہ کے عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ فرمایا کہ جس بارش کی یہ برکتیں دیکھتے ہو اسی بارش کا یہ کرشمہ بھی ہے کہ زمین جو بالکل مردہ اور بے آب و گیاہ ہوتی ہے، اس کے کسی گوشے میں بھی کسی سبزہ یا روئیدگی کا کوئی نشان نہیں ہوتا، بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی اس کے چپہ چپہ سے ایک حیات تازہ نمودار ہو جاتی ہے۔ اسی پر قیاس کرو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو بھی، جس سے تم کو آگاہ کیا جا رہا ہے، لیکن تم اس کو ناممکن خیال کر رہے ہو۔
    ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، (عاد، فرعون اور لوط کے بھائیوں اور اصحب الایکہ اور قوم تبع) نے بھی جھٹلایا۔
    قریش کو تہدید: یہ قریش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کر دیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کے بعد لازماً ظہور میں آتی ہے۔ اس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔ اس تہدید کی طرف اشارہ اوپر آیت ۵ میں بھی ہو چکا ہے لیکن وہاں اس اشارے کے بعد کلام کا رخ دلائل معاد کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ دلائل کے بعد اس اشارے کی وضاحت فرما دی کہ اس جسارت کے ساتھ یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں تو اپنی ان پیش رو قوموں کے انجام کو سامنے رکھیں جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔ اصحاب الرس: یہاں جن قوموں کا ذکر آیا ہے ان سب کا حوالہ مختلف پہلوؤں سے پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر ضرورت ان کی تاریخی حیثیت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا ذکر سورۂ فرقان کی آیت ۳۸ میں آیا ہے۔ اس کے تحت ہم ان کے بارے میں مفسرین کے اقوال کے حوالے بھی دے چکے ہیں اور اپنی رائے بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ اگرچہ قوموں کے ذکر میں ترتیب یہاں تاریخی نہیں ہے لیکن قوم نوح کے بعد معاً اصحاب الرس کا ذکر اس بات کا قرینہ ضرور ہے کہ ان کا تعلق قدیم اقوام بائدہ سے ہے جن میں اکثر کی تاریخ بالکل ناپید ہو چکی ہے۔ ’کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ‘ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان کی طرف ایک رسول کی بعثت ہوئی جس کی انھوں نے تکذیب کی اور اس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا جس نے ان کو فنا کر دیا۔ تفسیر کی کتابوں میں ایک روایت یہ بھی نقل ہوئی ہے کہ اس قوم نے اپنے رسول کو کنویں میں دفن کر دیا تھا۔ ’رَسٌّ‘ کنویں کو کہتے ہیں، اس وجہ سے ان کا نام اصحاب الرس ہوا۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ رسولوں میں سے کسی کا اس کی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں ہے۔ ’رَسّ‘ کے معنی کنویں کے ہوں بھی تو اس کی طرف نسبت کے لیے اس واقعہ کی صحت ضروری نہیں ہے۔ ’فرعون‘ کے ساتھ اس کی قوم کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اصل مجرم کی حیثیت درحقیقت فرعون ہی کو حاصل تھی۔ اسی نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ سورۂ طٰہٰ میں ہے: ’وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَمَا ہَدٰی‘ (۷۹) (اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور اس نے ان کو ٹھیک راہ نہ دکھائی)۔ یہی بات دوسرے الفاظ میں یوں ارشاد ہوئی ہے: ’اذْہَبْ إِلَی فِرْعَوْنَ إِنَّہُ طَغٰی‘ (۲۴) (فرعون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہو گیا ہے)۔ ’قَوْمُ تُبَّعٍ‘ کا ذکر سورۂ دخان کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔  
    (ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود،) عاد، فرعون اور لوط کے بھائیوں (اور اصحب الایکہ اور قوم تبع نے بھی جھٹلایا)۔
    قریش کو تہدید: یہ قریش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کر دیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کے بعد لازماً ظہور میں آتی ہے۔ اس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔ اس تہدید کی طرف اشارہ اوپر آیت ۵ میں بھی ہو چکا ہے لیکن وہاں اس اشارے کے بعد کلام کا رخ دلائل معاد کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ دلائل کے بعد اس اشارے کی وضاحت فرما دی کہ اس جسارت کے ساتھ یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں تو اپنی ان پیش رو قوموں کے انجام کو سامنے رکھیں جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔ اصحاب الرس: یہاں جن قوموں کا ذکر آیا ہے ان سب کا حوالہ مختلف پہلوؤں سے پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر ضرورت ان کی تاریخی حیثیت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا ذکر سورۂ فرقان کی آیت ۳۸ میں آیا ہے۔ اس کے تحت ہم ان کے بارے میں مفسرین کے اقوال کے حوالے بھی دے چکے ہیں اور اپنی رائے بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ اگرچہ قوموں کے ذکر میں ترتیب یہاں تاریخی نہیں ہے لیکن قوم نوح کے بعد معاً اصحاب الرس کا ذکر اس بات کا قرینہ ضرور ہے کہ ان کا تعلق قدیم اقوام بائدہ سے ہے جن میں اکثر کی تاریخ بالکل ناپید ہو چکی ہے۔ ’کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ‘ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان کی طرف ایک رسول کی بعثت ہوئی جس کی انھوں نے تکذیب کی اور اس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا جس نے ان کو فنا کر دیا۔ تفسیر کی کتابوں میں ایک روایت یہ بھی نقل ہوئی ہے کہ اس قوم نے اپنے رسول کو کنویں میں دفن کر دیا تھا۔ ’رَسٌّ‘ کنویں کو کہتے ہیں، اس وجہ سے ان کا نام اصحاب الرس ہوا۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ رسولوں میں سے کسی کا اس کی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں ہے۔ ’رَسّ‘ کے معنی کنویں کے ہوں بھی تو اس کی طرف نسبت کے لیے اس واقعہ کی صحت ضروری نہیں ہے۔ ’فرعون‘ کے ساتھ اس کی قوم کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اصل مجرم کی حیثیت درحقیقت فرعون ہی کو حاصل تھی۔ اسی نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ سورۂ طٰہٰ میں ہے: ’وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَمَا ہَدٰی‘ (۷۹) (اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور اس نے ان کو ٹھیک راہ نہ دکھائی)۔ یہی بات دوسرے الفاظ میں یوں ارشاد ہوئی ہے: ’اذْہَبْ إِلَی فِرْعَوْنَ إِنَّہُ طَغٰی‘ (۲۴) (فرعون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہو گیا ہے)۔ ’قَوْمُ تُبَّعٍ‘ کا ذکر سورۂ دخان کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔  
    اصحب الایکہ اور قوم تبع (نے بھی جھٹلایا)۔ ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہماری وعید ان پر واقع ہو کر رہی۔
    قریش کو تہدید: یہ قریش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کر دیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کے بعد لازماً ظہور میں آتی ہے۔ اس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔ اس تہدید کی طرف اشارہ اوپر آیت ۵ میں بھی ہو چکا ہے لیکن وہاں اس اشارے کے بعد کلام کا رخ دلائل معاد کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ دلائل کے بعد اس اشارے کی وضاحت فرما دی کہ اس جسارت کے ساتھ یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں تو اپنی ان پیش رو قوموں کے انجام کو سامنے رکھیں جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔ اصحاب الرس: یہاں جن قوموں کا ذکر آیا ہے ان سب کا حوالہ مختلف پہلوؤں سے پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر ضرورت ان کی تاریخی حیثیت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ اصحاب الرس کا ذکر سورۂ فرقان کی آیت ۳۸ میں آیا ہے۔ اس کے تحت ہم ان کے بارے میں مفسرین کے اقوال کے حوالے بھی دے چکے ہیں اور اپنی رائے بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ اگرچہ قوموں کے ذکر میں ترتیب یہاں تاریخی نہیں ہے لیکن قوم نوح کے بعد معاً اصحاب الرس کا ذکر اس بات کا قرینہ ضرور ہے کہ ان کا تعلق قدیم اقوام بائدہ سے ہے جن میں اکثر کی تاریخ بالکل ناپید ہو چکی ہے۔ ’کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ‘ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان کی طرف ایک رسول کی بعثت ہوئی جس کی انھوں نے تکذیب کی اور اس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا جس نے ان کو فنا کر دیا۔ تفسیر کی کتابوں میں ایک روایت یہ بھی نقل ہوئی ہے کہ اس قوم نے اپنے رسول کو کنویں میں دفن کر دیا تھا۔ ’رَسٌّ‘ کنویں کو کہتے ہیں، اس وجہ سے ان کا نام اصحاب الرس ہوا۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ رسولوں میں سے کسی کا اس کی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں ہے۔ ’رَسّ‘ کے معنی کنویں کے ہوں بھی تو اس کی طرف نسبت کے لیے اس واقعہ کی صحت ضروری نہیں ہے۔ ’فرعون‘ کے ساتھ اس کی قوم کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اصل مجرم کی حیثیت درحقیقت فرعون ہی کو حاصل تھی۔ اسی نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ سورۂ طٰہٰ میں ہے: ’وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَمَا ہَدٰی‘ (۷۹) (اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور اس نے ان کو ٹھیک راہ نہ دکھائی)۔ یہی بات دوسرے الفاظ میں یوں ارشاد ہوئی ہے: ’اذْہَبْ إِلَی فِرْعَوْنَ إِنَّہُ طَغٰی‘ (۲۴) (فرعون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہو گیا ہے)۔ ’قَوْمُ تُبَّعٍ‘ کا ذکر سورۂ دخان کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔  
    کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز رہے! بلکہ یہ لوگ ازسرنو پیدا کیے جانے کے باب میں مبتلائے شک ہیں۔
    نقاش نقش ثانی بہتر کشد زِاَوّل: اوپر کی آیات ۶-۱۱ میں آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص اہتمام کے ساتھ اپنی اس قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے جو آسمان و زمین کے ہر گوشہ سے نمایاں ہے اور مقصود اس سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، ان لوگوں کو قائل کرنا تھا جو مرنے کے بعد ازسرنو اٹھا کھڑے کیے جانے کو بعید از امکان تصور کرتے تھے۔ یہ انہی لوگوں کے سامنے سوال رکھا ہے کہ یہ لوگ ہمارے آسمانوں اور ہماری زمین کو دیکھ کر بتائیں کہ کیا پہلی بار ہم ان کو بنانے سے عاجز رہے! ’عَیْیٰ بِالْاَمْرِ‘ کے معنی کی وضاحت اہل لغت نے ’اِذَا لَمْ یَھْتَدْ لِوَجْہِ عَمَلِہٖ‘ کے الفاظ سے کی ہے۔ یعنی کوئی شخص ایک کام کرنے سے عاجز رہ جائے، اس کی سمجھ میں نہ آئے کہ یہ کس طرح انجام دیا جائے۔ ’بَلْ ہُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ‘۔ یعنی یہ لوگ یہ کہنے کی جرأت تو نہیں کر سکتے کہ ہم پہلی بار آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے قاصر رہے۔ ان کو اعتراف ہے کہ آسمانوں اور زمین کے خالق ہم ہی ہیں۔ البتہ ان کو اس باب میں تردد ہے کہ ازسرنو ان کو نہیں پیدا کر سکیں گے! میرے نزدیک اس جملہ کا انداز طنزیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ پہلی بار پیدا کرنے میں ہم کو کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی تو دوبارہ کیوں رکاوٹ پیش آئے گی! ان لال بجھکڑوں سے کوئی پوچھے کہ کسی چیز کو پہلی بار بنانا مشکل ہوتا ہے یا دوسری بار! اگر ایک نقاش، نقش ثانی نقش اول کے مقابل میں زیادہ بہتر کھینچ سکتا ہے تو ہم دنیا کو ازسرنو زیادہ آسانی سے کیوں نہیں پیدا کر سکتے!


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List