Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الحجرات (The Private Apartments, The Inner Apartments)

    18 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الفتح ۔۔۔ کا ضمیمہ و تتمہ ہے۔ سورۂ فتح کی آخری آیت میں، تورات کے حوالہ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ صفت جو وارد ہوئی ہے کہ ’مُّحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ أَشِدََّآءُ عَلَی الْکُفََّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ‘ (محمدؐ اللہ کے رسول اور جو ان کے ساتھ ہیں کفار کے لیے سخت اور باہمدگر نہایت مہربان ہوں گے)۔ یہ پوری سورہ اسی ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ جہاں تک اس کی اہمیت کا تعلق ہے اس کی وضاحت سورۂ فتح کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔ اس کی یہ اہمیت مقتضی ہوئی کہ اس کے وہ مضمرات یہاں وضاحت سے بیان کر دیے جائیں جن کا بیان کیا جانا اس وقت مسلمانوں کے معاشرے کی اصلاح کے لیے نہایت ضروری تھا۔ یہ بات اپنے محل میں بیان ہو چکی ہے کہ قرآن میں احکام و ہدایات کا نزول حالات کے تقاضوں کے تحت ہوا ہے تاکہ لوگوں پر ان کی صحیح قدر و قیمت واضح ہو سکے۔ چنانچہ یہ سورہ بھی ایسے حالات میں نازل ہوئی ہے جب نئے نئے اسلام میں داخل ہونے والوں کی طرف سے بعض باتیں ایسی سامنے آئیں جن سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ نہ تو رسول کے اصلی مرتبہ و مقام ہی سے اچھی طرح واقف ہیں اور نہ اسلامی معاشرہ کے اندر اپنی ذمہ داریوں ہی سے۔ چنانچہ اس ضمیمہ میں ضروری ہدایات دے دی گئیں جو اس وقت کے حالات کے اندر ضروری تھیں۔ ان احکامات و ہدایات کا تعلق تمام تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے باہمی حقوق ہی سے ہے۔ کفار کا معاملہ اس میں زیربحث نہیں آیا۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کو جو رویہ اختیار کرنا چاہیے اس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔
    سورہ کے تیسرے گروپ میں جس نوعیت کا تعلق سورۂ نور کا سورۂ مومنون کے ساتھ ہے اسی نوعیت کا تعلق اس سورہ کا سورۂ فتح کے ساتھ ہے دونوں کا مزاج باہمدگر بالکل ملتا جلتا ہوا ہے۔

  • الحجرات (The Private Apartments, The Inner Apartments)

    18 آیات | مدنی

    الحجرات

    ۴۹

    یہ ایک منفردسورہ ہے جس پر قرآن مجید کا یہ پانچواں باب ختم ہو جاتا ہے۔ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ سابق سورہ ۔۔۔ الفتح ۔۔۔ کا تکملہ ہے۔ سورۂ فتح کی آخری آیت میں تورات کے حوالے سے صحابۂ کرام کی جو تمثیل بیان ہوئی ہے، یہ پوری سورہ گویا اُسی کی تفسیر ہے۔ چنانچہ اِس کا موضوع وہی تزکیہ و تطہیر ہے جو پچھلی دونوں سورتوں سے چلا آرہا ہے۔ اِس کے تحت اِس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے باہمی حقوق سے متعلق ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔
    اِس میں خطاب اہل ایمان سے ہے اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں اُس وقت نازل ہوئی ہے، جب آپ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کا وقت قریب آگیا تھا اور اندیشہ تھا کہ اخلاقی تربیت کی کمی، باہمی منافرت اور قبائلی عصبیت کے جھگڑے اُن کی قومی وحدت کو پارہ پارہ کر دے سکتے ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 049 Verse 001 Chapter 049 Verse 002 Chapter 049 Verse 003 Chapter 049 Verse 004 Chapter 049 Verse 005 Chapter 049 Verse 006 Chapter 049 Verse 007 Chapter 049 Verse 008 Chapter 049 Verse 009 Chapter 049 Verse 010
    Click translation to show/hide Commentary
    اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ اور رسول کے سامنے اپنی رائے مقدم نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
    وہ حالات جن میں یہ سورہ نازل ہوئی: خطاب اگرچہ عام مسلمانوں سے ہے لیکن جن لوگوں کا رویہ اس سورہ میں زیربحث آیا ہے وہ، جیسا کہ آگے کی آیات سے بالتدریج واضح ہوتا جائے گا، اطراف مدینہ کے بدوی قبائل کے وہ لوگ ہیں جو اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت سے متاثر ہو کر مسلمانوں میں شامل تو ہو گئے تھے لیکن ابھی ایمان ان کے دلوں میں اچھی طرح رچا بسا نہیں تھا۔ اس کی وجہ اول تو یہ تھی کہ یہ لوگ اسلام کو سمجھ کر نہیں بلکہ اس سے مرعوب ہو کر اس میں داخل ہوئے، ثانیاً مرکز سے بے تعلق رہنے کے سبب سے ان کی تربیت بھی اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ ان کے اندر ایک غلط قسم کا پندار بھی تھا کہ انھوں نے کسی جنگ کے بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر لی جو آپ پران کا ایک احسان ہے۔ اس پندار کا اثر یہ تھا کہ ان کے سردار جب مدینہ آتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس انداز سے بات کرتے گویا وہ اسلام کے بڑے مربی و محسن ہیں۔ بغیر اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی معاملے میں ان کی رائے دریافت کریں آگے بڑھ بڑھ کر اپنی رائیں پیش کرتے اور مشورے دینے کی کوشش کرتے۔ بات کرتے ہوئے حضورؐ کی آواز پر اپنی آواز، تفوق کے اظہار کے لیے بلند رکھتے۔ جب کبھی آتے تو ان کی خواہش یہ ہوتی کہ حضورؐ بلاتاخیر سارے کام چھوڑ کر، ان سے ملاقات کریں اور اگر ذرا تاخیر ہو جاتی تو بے درنگ آپ کے حجروں کے باہر سے، اس طرح آواز دینا شروع کر دیتے جس طرح ایک عام آدمی کو آواز دی جاتی ہے۔ آپس میں ان کے درمیان جو جاہلی رقابتیں زمانۂ جاہلیت سے چلی آ رہی تھیں، ان میں ہر ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتا اور اس غرض کے لیے وہ اپنے حریفوں سے متعلق بعض اوقات ایسی خبریں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچاتے جو غلط فہمی پیدا کرنے والی ہوتیں۔ ان کی بنا پر مدینہ کے مسلمان اگر کوئی اقدام کر گزرتے تو یہ چیز مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے لیے نہایت مضر ہوتی۔   یہ حالات تھے جن میں یہ سورہ نازل ہوئی۔ اس میں رویہ تو زیربحث، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک مخصوص گروہ ہی کا ہے لیکن قرآن نے خطاب عام ہی رکھا ہے تاکہ اس کا زیادہ فضیحتا بھی نہ ہو اور وہ رخنے بند بھی ہو جائیں جن سے شیطان کو معاشرہ کے اندر فتنہ انگیزی کی راہ مل سکتی ہے۔   ممانعت رسول کے سامنے رائے پیش کرنے کی نہیں بلکہ رائے پیش کرنے میں پہل کرنے کی ہے: یہ امر واضح رہے کہ یہاں ممانعت اللہ کے رسول کے سامنے اپنی رائے پیش کرنے میں پہل کرنے یا اپنی رائے کو اللہ اور رسول کے حکم پر مقدر کرنے کی ہے نہ کہ رسول کے سامنے مجرد اپنی کوئی رائے پیش کرنے کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امور مصلحت میں صحابہؓ سے ان کی رائیں معلوم بھی فرماتے اور صحابہؓ اپنی رائے پیش بھی کرتے۔ اسی طرح صحابہؓ بعض اوقات عام امور مصلحت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بھی عرض کرتے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فلاں اقدام وحی الٰہی پر مبنی نہ ہو تو اس کی جگہ فلاں تدبیر زیادہ قرین مصلحت رہے گی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات ان کی رائیں قبول بھی فرما لیتے۔ اس آیت میں اس طرح کی باتوں کی نہی نہیں ہے۔ حضورؐ نے خود اپنے طرزعمل سے اس کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضورؐ سب سے زیادہ لوگوں سے مشورہ لینے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی، جیسا کہ آیت ’وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ‘ (آل عمران: ۱۵۹) سے واضح ہے، آپ کو لوگوں سے مشورہ کرتے رہنے کی ہدایت فرمائی گئی تھی۔   یہاں ممانعت اسی بات کی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ کوئی شخص اللہ کے رسول کو ایک عام آدمی یا مجرد ایک لیڈر سمجھ کر اور اپنے آپ کو ان سے زیادہ مدبر خیال کر کے، بغیر اس کے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کسی معاملہ میں اس کی رائے دریافت کریں، حضورؐ کو اپنی رائے سے متاثر کرنے اور اپنی رائے کو حضورؐ کی بات پر مقدم کرنے کی کوشش کرے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو اس کا رویہ دلیل ہے کہ وہ رسول کے اصلی مرتبہ و مقام سے بالکل بے خبر ہے۔ اللہ کا رسول اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا یا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت کرتا یا کہتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنے کی جسارت کرتا ہے تو دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اپنی رائے کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر مقدم کرنا چاہتا ہے درآنحالیکہ یہ چیز اس کے تمام ایمان و عمل کو ڈھا دینے والی ہے اگرچہ اس کو اس کا شعور نہ ہو۔   اللہ اور رسول کا معاملہ الگ الگ نہیں ہے: ’بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ و رسول کا معاملہ الگ الگ نہیں ہے۔ اللہ کا رسول اللہ کا سفیر و نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کو بن پوچھے مشورہ دینا خود اللہ تعالیٰ کو مشورہ دینا ہے، اس کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا اللہ کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا ہے اور اس سے بڑھ کر اپنے کو مدبر سمجھنا خود خدائے علیم و حکیم سے بڑھ کر اپنے کو مدبر و حکیم سمجھنا ہے۔ یہ آدمی کے اس رویہ کے لازمی نتائج ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو اس کی بلادت کے سبب سے ان نتائج کا احساس نہ ہو لیکن ان کے لازمی نتائج ہونے سے انکار ناممکن ہے۔   ’وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ‘۔ یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ اور رسول سے زیادہ دانش مند اور مدبر ہونے کے خبط میں مبتلا نہ ہو۔ اللہ سمیع و علیم ہے۔ وہ تمھاری ساری باتوں کو سن بھی رہا ہے اور ان کے پیچھے جو محرکات کام کر رہے ہیں ان سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے تو اس کا مکافات عمل کا قانون لازماً ظہور میں آئے گا۔ اس قانون کا ذکر آگے والی آیت میں آ رہا ہے۔   موجودہ زمانے کے مدعیان اصلاح کی کج فہمی: اس آیت میں ہمارے زمانے کے ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو اسلام کی خدمت کے دعوے کے ساتھ اس کے اقدار کو مسخ اور اس کے قوانین کی تحریف کر رہے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ اور رسول نے جس شکل میں اسلام دیا ہے اس شکل میں وہ اس دور میں نہیں چل سکتا۔ ضروری ہے کہ زمانہ کے تقاضوں کے مطابق اس کی اصلاح کی جائے۔ چنانچہ وہ شریعت کے احکام میں اپنی رائے کے مطابق ترمیم کر رہے ہیں۔ بس یہ فرق ہے کہ آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو پہلے ہی سے سبقت کر کے چاہتے تھے کہ اللہ و رسول کے آگے اپنے مشورے پیش کر دیں، اس زمانے کے مدعیان اسلام کو یہ موقع نہ مل سکا اس وجہ سے وہ اب ان غلطیوں کی اصلاح کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک اللہ و رسول سے ’العیاذ باللہ‘ دین کے معاملے میں ہو گئی ہیں۔
    اے ایمان لانے والو! تم اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند نہ کرو اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ مبادا تمہارے اعمال ڈھے جائیں اور تم کو احساس بھی نہ ہو۔
    جن کے اندر پندار ہو اس کا اثر ان کے انداز کلام سے نمایاں ہوتا ہے: یہ اسی اوپر والی بات کے ایک دوسرے پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ خناس سمایا ہوا ہو کہ وہ اللہ و رسول کو مشورہ دینے کے پوزیشن میں ہیں یا جن کو یہ زعم ہو کہ ان کا اسلام قبول کر لینا اسلام اور پیغمبرؐ پر ایک احسان ہے۔ ان کا طرز خطاب اور انداز کلام رسول کے آگے متواضعانہ و نیاز مندانہ نہیں ہو سکتا تھا۔ بلکہ ان کے اس پندار کا اثر ان کی گفتگو سے نمایاں ہونا ایک امر فطری تھا۔ چنانچہ یہ لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے تو ان کے انداز کلام سے یہ واضح ہوتا کہ یہ اللہ کے رسول سے کچھ سیکھنے نہیں بلکہ ان کو کچھ سکھانے اور بتانے آئے ہیں۔ چنانچہ جس طرح یہ اپنی رائیں پیش کرنے میں سبقت کرتے اسی طرح ان کی کوشش یہ بھی ہوتی کہ ان کی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر بلند و بالا رہے اور اگر آپ کو مخاطب کرتے تو ادب سے ’یا رسول اللہ‘ کہنے کے بجائے ’یا محمد‘ کہہ کر خطاب کرتے جس طرح اپنے برابر کے ایک عام آدمی کو خطاب کیا جاتا ہے۔ یہاں ان کو اس غیر مہذب طریقۂ کلام و خطاب سے روکا گیا ہے کیونکہ یہ چیز غمازی کر رہی تھی کہ انھوں نے نہ صرف یہ کہ رسول کا اصل مرتبہ و مقام نہیں پہچانا ہے بلکہ ان کے اندر اپنی برتری کا وہ زعم بھی چھپا ہوا ہے جو بالآخر ان کے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دینے والا ہے۔   ’اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ‘ میں ’ان‘ سے پہلے، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آرہے ہیں ’کراھۃ‘ یا ’مخافۃ‘ یا ان کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہو گا کہ اس بے ادبی سے تمہیں اس لیے روکا جا رہا ہے کہ مبادا تمہاری یہ حرکت اس بات کا سبب بن جائے کہ عنداللہ تمہارے سارے اعمال ڈھے جائیں۔   ’وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘۔ یعنی تم تو اس پندار میں مبتلا رہو گے کہ تم نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے اور نبیؐ کو اپنی رایوں سے مستفید کرنے کے لیے تمہاری بے چینی بھی خدمت دین ہی کے عشق میں ہے لیکن ادھر تمہارے وہ سارے اعمال ڈھے جائیں گے جو اپنے زعم میں تم نے دین کی خاطر انجام دیے اور تمہیں اس بات کا شعور بھی نہ ہو گا۔   ایک نہایت اہم حقیقت: اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ایک شخص بہت سے کام اپنی دانست میں دین کے کام سمجھ کر دین ہی کی خدمت کے لیے کرتا ہے لیکن اس کے اندر اگر یہ پندار سمایا ہوا ہو کہ وہ اللہ و رسول پر یا اللہ کے دین پر کوئی احسان کر رہا ہے اور اس زعم میں نہ وہ اللہ تعالیٰ کی صحیح عظمت کو ملحوظ رکھے، نہ اس کے رسول کے اصلی مرتبہ و مقام کا احترام کرے تو اس کے سارے اعمال اکارت ہو کے رہ جائیں گے اور اس کو اپنی اس بے شعوری کا پتہ آخرت میں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ و رسول کا محسن سمجھ بیٹھے۔ اس کے ہاں قبولیت کا شرف صرف انہی لوگوں کے اعمال کو حاصل ہو گا جو اس کے دین کی خدمت صرف اس کی رضا کے لیے، ٹھیک ٹھیک اس کے مقرر کردہ شرائط کے مطابق، انجام دیں گے اور ساتھ ہی دل سے اس حقیقت کے معترف رہیں گے کہ یہ خدمت انجام دے کر انھوں نے اللہ و رسول پر کوئی احسان نہیں کیا ہے بلکہ یہ اللہ کا فضل و احسان خود ان کے اوپر ہوا ہے کہ اس نے ان کو اپنے دین کی کسی خدمت کی توفیق بخشی۔
    یاد رکھو کہ جو لوگ نبی کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں وہی ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کی افزائش کے لیے منتخب کیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔
    رسول کے معاملے میں صحیح ادب کی تعلیم: یہ اس صحیح ادب کی تعلیم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں ہر صاحب ایمان کو اختیار کرنا لازم ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی افزائش کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ لفظ ’اِمْتَحَنَ‘ یہاں ’اِصْطَفٰی‘ یا اس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضمن ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر دل تقویٰ کی تخم ریزی اور اس کی افزائش کے لیے موزوں نہیں ہوتا بلکہ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ امتحان کر کے دلوں کا انتخاب کرتا ہے اوراس انتخاب میں اصل چیز جو ترجیح دینے والی بنتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ و رسول کے لیے انقیاد و اطاعت کا سچا جذبہ اور ان کے آگے فروتنی کا صحیح شعور ہے یا نہیں۔ یہ چیز جس کے اندر جتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اس کو اتنی ہی زیادہ تقویٰ کی نعمت عطا ہوتی ہے اور جو لوگ جس درجے میں اس شعور سے عاری ہوتے ہیں وہ اتنے ہی تقویٰ سے بعید ہوتے ہیں۔ آواز بلند کرنے کا ذکر، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، انسان کے باطن کے ایک مخبر کی حیثیت سے ہوا ہے۔ جو شخص کسی کی آواز پر اپنی آواز بلند رکھنے کی کوشش کرتا ہے اس کا یہ عمل شہادت دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے اونچا خیال کرتا ہے۔ یہ چیز اکتساب فیض کی راہ بالکل بند کر دیتی ہے اگر استاد کے آگے کسی شاگرد کا یہ طرزعمل ہو تو وہ اس کے فیض سے محروم رہتا ہے۔ اسی طرح اگر اللہ کے رسول کے آگے کسی نے یہ روش اختیار کی تو وہ صرف رسول ہی کے فیض سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بھی محروم ہو جائے گا اس لیے کہ رسول، اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے۔ کتاب و سنت کے فیوض سے بہرہ مند ہونے کے لیے صحیح رویہ: یہی درجہ اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو تقویٰ کے لیے منتخب فرماتا ہے جو اس کی کتاب اور رسول کی سنت کے سامنے فروتنی کی یہی روش اختیار کرتے ہیں جس کی ہدایت رسول کے معاملے میں ہوئی ہے۔ جس شخص کے اندر اللہ و رسول کی ہر بات کے آگے سرجھکا دینے کا سچا جذبہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تقویٰ کی راہیں کھولتا ہے اور ہر قدم پر غیب سے اس کی رہنمائی ہوتی ہے اور اگر کوئی شخص اس خبط میں مبتلا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی اصلاح کرنے کی پوزیشن میں ہے تو اس کا یہ پندار اس کے سارے عمل کو غارت اور اس کی آخرت کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ ’لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ‘۔ اوپر والی آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر آواز بلند کرنے کا انجام یہ بتایا ہے کہ یہ روش اعمال کو برباد کر دینے والی روش ہے۔ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اپنی آواز رسول کے آگے پست رکھیں گے۔ فرمایا کہ ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ یعنی ان کی لغزشیں اور کوتاہیاں اللہ تعالیٰ بخش دے گا اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور رسول کے آگے فروتنی کی روش اختیار کی۔ کسی گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو اس سے بڑا سمجھنے کی جسارت نہیں کی۔ ان کی اس فروتنی کا انعام ان کو یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کی افزائش کے لیے منتخب فرمایا جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا ہے۔
    بے شک جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ رکھنے والے نہیں ہیں۔
    کم عقلوں کے ایک ناشائستہ طریقہ پر ان کو تنبیہ: یہ لوگ جس طرح مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے میں غیر مہذب تھے اسی طرح یہ حرکت بھی وہ کرتے کہ جب دیکھتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں موجود نہیں ہیں تو آتے ہی ازواج مطہراتؓ کے حجروں کے باہر ہی سے آپ کو چیخ چیخ کر پکارنا شروع کر دیتے۔ اس قسم کی حرکت بجائے خود بھی نہایت ناشائستہ ہے لیکن اس کا باطنی محرک اس کے ظاہر سے بھی زیادہ مکروہ تھا۔ یہ لوگ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا اور آگے اس کی پوری وضاحت آئے گی، اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ انھوں نے بغیر لڑے بھڑے جو اسلام قبول کر لیا تو یہ اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کا بہت بڑا احسان ہے اس وجہ سے یہ اپنا حق سمجھتے تھے کہ جب یہ آئیں تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بلا تاخیر ان کا خیر مقدم کریں۔ اگر کسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تشریف فرما نہ ہوتے تو انتظار کی زحمت گوارا نہ کرتے بلکہ فوراً ازواج مطہراتؓ کے حجروں کا چکر لگانا اور چیخ چیخ کر نہایت بھونڈے طریقہ سے، آپ کا نام لے لے کر، پکارنا شروع کر دیتے۔ فرمایا کہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ ’اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ‘ کے الفاظ میں ان لوگوں کی ناسمجھی پر ملامت بھی ہے اور لطیف انداز میں ان کی اس نادانی سے درگزر کرنے کا اشارہ بھی کہ ہر چند ہے تو ان کی یہ حرکت نہایت ناشائستہ لیکن ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ و مقام سے آشنا ہیں اور نہ اپنی اس حرکت کے انجام سے، اس وجہ سے یہ ترتیب کے محتاج اور درگزر کے لائق ہیں۔ ’وَرَآءِ الْحُجُرَاتِ‘ میں لفظ ’وَرَآءِ‘ جو آیا ہے اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہ حجروں کے پیچھے سے پکارتے تھے اس وجہ سے ان کی یہ حرکت قابل اعتراض ٹھہری۔ لفظ ’وَرَآءِ‘ پیچھے یا پچھواڑے کے مفہوم کے لیے خاص نہیں ہے۔ عربی میں ’نَادَانِیْ مِنْ وَرَآءِ الدَّارِ‘ کا مفہوم صرف یہ ہو گا کہ اس نے گھر کے باہر سے مجھے پکارا، قطع نظر اس سے کہ مکان کے پیچھے سے پکارا یا مکان کے سامنے سے۔ قابل اعتراض ان کا اس بھونڈے طریقہ سے پکارنا تھا۔ یہ امر واضح رہے کہ ایک عام مسلمان کو بھی اس طرح پکارنا اسلامی تہذیب کے خلاف ہے چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کو۔ سورۂ نور کی تفسیر میں وہ طریقہ آپ پڑھ آئے ہیں جو کسی صاحب خانہ سے ملاقات کے لیے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے۔
    اگر یہ لوگ صبر کے ساتھ اتنا انتظار کر لیتے کہ تم خود ان کے پاس نکل کے آ جاتے تو یہ بات ان کے حق میں بہتر ہوتی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
    یہ ان کو صحیح ادب کی ہدایت فرمائی گئی کہ اگر وہ صبر کے ساتھ تمہارے نکلنے تک انتظار کر لیتے تو یہ چیز ان کے لیے بڑے خیر و برکت کا موجب ہوتی۔ آیت کا اسلوب ان کی محرومی پر اظہار حسرت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جس چشمہ فیض پر پہنچے تھے اگر انہوں نےاس کی صحیح قدر پہچانی ہوتی تو اس سے سیراب ہو کر لوٹتے لیکن یہ ان کی محرومی ہے کہ وہاں سے کچھ پانا تو درکنار اپنی نادانی و ناقدر شناسی کے باعث یہ کچھ کھو کے پلٹے۔ ’وَاللَّهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‘- یہ اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی صفات ’غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‘ کی یاد دہانی فرمائی ہے اور مقصود اس سے نہایت لطیف انداز میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اگرچہ ان کی یہ حرکتیں نہایت ناگوار ہیں لیکن یہ سمجھ رکھنے والے لوگ نہیں ہیں اس وجہ سے ابھی ان کی اس طرح کی باتوں سے درگزر کرو۔ اللہ تعالی غفور رحیم ہے اور یہی عفو و درگزر اس کے رسول کے بھی شایان شان ہے۔
    اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی اہم خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو، پھر تمہیں اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔
    خبر کے قبول کرنے کے معاملہ میں احتیاط کی تاکید: یہ مرکز (یعنی مدینہ) کے مسلمانوں کو اس طرح کے لوگوں کی طرف سے ایک سیاسی خطرہ سے آگاہ فرمایا گیا ہے۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ اطراف مدینہ کے بدوی قبائل کے بعض سرداروں کا رویہ بیان ہوا ہے۔ ان کے اندر تربیت سے محرومی کے باعث جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا صحیح شعور مفقود تھا اسی طرح اسلامی اخوت کے صحیح احساس سے بھی یہ لوگ ابھی نا آشنا تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں ان کے اندر جو رقابتیں اور رنجشیں آپس میں تھیں ان کے اثرات ہنوز باقی تھے۔ یہ لوگ مدینہ آتے تو ان میں سے بعض اپنے حریفوں کے خلاف غلط صحیح اطلاعات دے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بدگمان کرنے کی کوشش کرتے اور صحابہؓ میں سے بھی، جن پر ان کا اثر کارگر ہوتا، ان کو اپنے حق میں ہموار کرتے تاکہ مدینہ کی مرکزی طاقت کو اپنے حریفوں کے خلاف اپنے حق میں استعمال کر سکیں۔ یہ صورت حال ایک نازک صورت حال تھی۔ مدینہ کی حکومت اول تو ابھی اچھی طرح مستحکم نہیں ہوئی تھی۔ ثانیاً اس قسم کی بے بنیاد افواہ انگیزیوں کی بنا پر اس کا کوئی اقدام خاص طور پر مسلمانوں ہی کے کسی گروہ کے خلاف، عدل اور اجتماعی مصلحت دونوں کے خلاف ہوتا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ مرکز کے مسلمانوں کو یہ ہدایت کر دی جائے کہ وہ اس طرح کے اہم معاملات میں فیصلہ کلیۃً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صواب دید پر چھوڑیں، غیرثقہ لوگوں کی روایات پر اعتماد کر کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رائے سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں۔ چنانچہ ان کو ہدایت ہوئی کہ اگر کوئی فاسق شخص کسی اہم بات کی خبر دے تو نفس واقعہ کی اچھی طرح تحقیق کیے بغیر اس کی بات پر اعتماد کر کے کوئی اقدام نہ کر بیٹھو، مبادا کہ تم جوش و جذبہ سے مغلوب ہو کر کسی بے گناہ گروہ کے خلاف اقدام کر گزرو جس پر تمہیں بعد میں پچھتانا پڑے۔ فاسق سے مراد شریعت کے حدود و قیود سے بے پروا لوگ ہیں۔ لفظ ’نبأ‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سے مراد کوئی اہم خبر ہوتی ہے جس کو باور کر لینے یا اس پر عمل کرنے سے دور رس نتائج کے پیدا ہونے کاا مکان ہو۔ اس طرح کی اہم خبر اگر کوئی ایسا شخص دے جو دینی و اخلاقی اعتبار سے ناقابل اعتبار ہو تو عقل اور اخلاق دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ اس کی بات اس وقت تک باور نہ کی جائے جب تک خبر اور مخبر دونوں کی اچھی طرح تحقیق نہ کر لی جائے۔ ہو سکتا ہے کہ خبر دینے والے نے فاسد محرکات کے تحت خبر دی ہو اور خبر یا تو بالکل جھوٹی ہو یا کسی بدنیتی سے اس میں ایسی کمی بیشی کر دی گئی ہو کہ سننے والوں کے جذبات میں اس سے جوش و اشتعال پیدا ہو۔ لفظ ’جہالت‘ یہاں جوش و ہیجان کے معنی میں ہے۔ اس کی تحقیق جگہ جگہ اس کتاب میں ہم کر چکے ہیں۔
    اور اچھی طرح جان رکھو کہ تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے۔ اگر بہت سے معاملات میں وہ تمہاری بات مان لیا کرے تو تم بڑی مصیبت میں پھنس جاؤ گے لیکن اللہ نے تمہارے سامنے ایمان کو محبوب بنایا اور اس کو تمہارے دلوں میں کھبایا اور کفر و فسق اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں مبغوض کیا۔ یہی لوگ ہیں جو (اللہ کے فضل و انعام سے) راہ راست پانے والے بنے۔
    صحیح رویہ: یہ اسی تنبیہ کی مزید تاکید ہے کہ جب تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے تو تمہیں اپنی رایوں اور اپنے مشوروں کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہیے کہ رسول کو اپنے پیچھے چلانے کی کوشش کرو بلکہ تمہیں ان کے پیچھے چلنا ہے۔ وہ جو قدم بھی اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں اٹھاتے ہیں اس وجہ سے تمہاری دنیا اور آخرت کی فلاح ان کی پیروی میں ہے نہ کہ اپنے جذبات کی پیروی میں۔ اگر تمہیں کوئی رائے پیش کرنی ہو تو ادب سے اپنی رائے پیش کر کے فیصلہ رسول کی صوابدید پر چھوڑو۔ یہ خواہش نہ کرو کہ تمہاری ہر رائے لازماً مان ہی لی جائے۔ اچھی طرح یاد رکھو کہ تمہاری بہت سی رائیں خام ہوتی ہیں، اللہ کا رسول ان سب کو اگر مان لیا کرے تو تم بڑی مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔ وہ تمہاری انہی رایوں کو مانتے ہیں جو صائب ہوتی ہیں۔ ان کی بدولت تمہیں ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی رہنمائی حاصل ہے تو اس نعمت کی قدر کرو اور اپنے رب کے شکر گزار رہو۔ ’عنت‘ کے معنی زحمت اور مشقت کے ہیں۔ ’لَعَنِتُّمْ‘ یعنی تم بڑی مشقت و مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔ اگر کوئی مریض طبیب کی صوابدید پر عمل کرنے کے بجائے چاہے کہ طبیب اس کے مشوروں پر عمل پیرا ہو تو ایسے مریض کا خطر ے میں پڑ جانا ایک امر بدیہی ہے۔ زبان کے بعض لطائف: ’وَلٰکِنَّ اللہَ حَبَّبَ إِلَیْْکُمُ الْإِیْمَانَ وَزَیَّنَہُ فِیْ قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس زحمت و مشقت سے بچانے ہی کے لیے یہ اہتمام فرمایا کہ ایمان کو تمہاری نگاہوں میں محبوب بنایا اور اس کو تمہارے دلوں میں رچایا بسایا اور کفر، فسق اور عصیان کو تمہاری نگاہوں میں مکروہ و مبغوض ٹھہرایا تو اس اہتمام کا حق یہ ہے کہ اب تمہارے اندر ایمان کی محبت و محبوبیت قائم و دائم رہے اور کبھی تمہارے کسی قول و فعل سے اس پر کفر و عصیان کا کوئی دھبہ نہ پڑنے پائے۔ ’حَبَّبَ‘ اور ’کَرَّہَ‘ کے بعد ’اِلٰی‘ کا صلہ اس اہتمام خاص کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کی نگاہوں میں ایمان کو محبوب اور کفر و فسق کو مبغوض بنانے کے لیے اپنے رسول کے ذریعہ سے فرمایا۔ دور جاہلیت کی تاریکی میں تمام اقدار بالکل تلپٹ ہو گئے تھے۔ شیطان نے ایمان کو لوگوں کی نگاہوں میں مکروہ و مبغوض اور کفر و فسق کو محبوب و مطلوب بنا دیا تھا۔ ایمان اس طرح تہ بہ تہ پردوں کے اندر محجوب و مستور ہو گیا تھا کہ ان کو چاک کر کے ایمان کے حقیقی حسن و جمال کو خلق کے لیے بے نقاب کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا تھا۔ اسی طرح کفر کو شیطان نے مصنوعی غازوں سے اس طرح پر فریب بنا دیا تھا کہ اس کی اصل گھنونی شکل و صورت لوگوں کو دکھانا ہفت خواں طے کرنے کے برابر تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی عنایت ہوئی کہ اس نے اپنا رسول بھیجا جس نے ایک طویل جدوجہد اور جہاد کے بعد ایمان کو اس کی اصلی محبوب شکل میں لوگوں کو دکھایا اور اس کے جمال کو ان کے دلوں میں بسایا۔ اسی طرح کفر کے چہرے کے مصنوعی غازہ کو اتار کر اس کی اصل مکروہ اور گھنونی شکل سے لوگوں کو آشنا اور اس سے بیزار کیا۔ اسی مضمون کو یہاں ’حَبَّبَ اِلٰی‘ اور ’کَرَّہَ اِلٰی‘ کے الفاظ سے ادا فرمایا ہے۔ یعنی ایمان اور کفر دونوں کو ان کی حقیقی شکل و صورت میں تمہارے آگے پیش کیا جس سے تم ایمان کے دل دادہ بنے اور کفر سے بیزار ہوئے۔ گویا یہ دونوں فعل ’قدّم‘ کے مضمون پر متضمن ہیں اور حرف ’اِلٰی‘ اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہاں ’حَبَّبَ‘ کے مفعول کی حیثیت سے تو صرف ’ایمان‘ کا ذکر ہے لیکن ’کَرَّہَ‘ کے ساتھ کفر، فسق اور عصیان تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جن لوگوں کے کردار پر تبصرہ ہو رہا ہے وہ ابھی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ان باتوں سے اچھی طرح آشنا نہیں تھے جو ایمان کی ضد ہیں۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ ان کو وضاحت سے یہ بات بتائی جائے کہ صرف کفر ہی ایمان کے منافی نہیں ہے بلکہ فسق و عصیان کے قسم کی ساری باتیں بھی اسی شجرۂ ملعونہ کے برگ و بار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی مبغوض ٹھہرایا۔ لفظ ’فسق‘ یوں تو قرآن میں کفر کی جگہ بھی استعمال ہوا ہے لیکن یہاں چونکہ یہ کفر کے ساتھ آیا ہے اس وجہ سے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ حکم عدولی ہو گی جس کا ارتکاب کوئی شخص ایمان کا مدعی ہوتے ہوئے کرے۔ لفظ ’عصیان‘ یہاں موقع و محل اشارہ کر رہا ہے کہ رسول کی نافرمانی کے لیے آیا ہے۔ رسول کے خلفاء و امراء کی نافرمانی بھی چونکہ بالواسطہ رسول ہی کی نافرمانی ہے اس وجہ سے یہ چیز بھی اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہے۔ ’اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُونَ ۵ فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَنِعْمَۃً وَاللَّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘۔ فرمایا کہ یہی لوگ، جن کے دلوں میں ایمان کا جمال گھر کیے ہوئے ہے اور جو کفر، فسق اور عصیان کے ہر شائبہ سے بیزار و نفور ہیں، درحقیقت اصل ہدایت پر ہیں اور یہ ہدایت ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام سے حاصل ہوئی ہے اس وجہ سے ان کو اس پر اپنے رب ہی کا شکرگزار رہنا چاہیے خام کاروں کی طرح اس وہم میں نہیں مبتلا ہونا چاہیے کہ اس کو یہ چیز ازخود مل گئی ہے اور وہ خدا و رسول کا کوئی محسن بن گیا ہے۔ ’عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘ کی صفات کا حوالہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کی تقسیم کسی اندھے کی تقسیم نہیں ہے۔ وہ اپنے دین کی نعمت انہی کو دیتا ہے جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے۔ یہ آیت مدینہ کے مسلمانوں کی تعریف میں ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے برابر فیض یاب اور اللہ کے رنگ میں اچھی طرح رنگے ہوئے تھے اور سیاق و سباق دلیل ہے کہ اس میں ان خام کار مسلمانوں پر تعریض بھی ہے جن کی خامیوں پر سورہ کی ابتداء ہی سے تبصرہ ہو رہا ہے اور جن کا تعلق اطراف مدینہ کے قبائل سے تھا۔ ایک بے بنیاد شان نزول: آیت ۶ کے تحت ہمارے مفسرین نے، اپنی عادت کے مطابق، ایک شان نزول کا بھی ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو تحصیل زکوٰۃ کے لیے بنی مصطلق کے پاس بھیجا۔ جب یہ وہاں پہنچے تو بنی مصطلق کے لوگ بشکل جلوس ان کے خیر مقدم کے لیے نکلے۔ ولید نے گمان کیا کہ یہ لوگ ان سے لڑنے کو نکلے ہیں۔ وہ ڈر کر فوراً وہاں سے واپس آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ لوگ مرتد ہو گئے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انھوں نے انکار کر دیا۔؂۱ یہ خبر سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی مصطلق پر نہایت برہم ہوئے اور ان کی سرکوبی کے لیے آپؐ نے ایک دستہ بھیج دیا یا بھیجنے کا فیصلہ فرما لیا کہ اتنے میں بنی مصطلق والوں کو اطلاع ہو گئی اور ان کے سردار نے فوراً مدینہ حاضر ہو کر بقید قسم حضورؐ کو اطمینان دلایا کہ ہم نے تو ولید کی شکل بھی نہیں دیکھی، زکوٰۃ روکنے کا کیا سوال؟ ان کی طرف سے صفائی کے بعد ان کا معاملہ تو رفع دفع ہو گیا لیکن ہمارے مفسرین کے نزدیک ولیدؓ کی اسی روایت کی بنا پر یہ آیت اتری اور مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے کوئی عاجلانہ قدم نہ اٹھایا کریں۔ ہمارے مفسرین کوئی نہ کوئی شان نزول تو تقریباً ہر آیت کے تحت درج کرتے ہیں، اوپر آیت ’إِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوۡنَکَ ....... الاٰیۃ‘ کے تحت بھی انھوں نے ایک شان نزول کا حوالہ دیا ہے لیکن اس سے ہم نے اس وجہ سے تعرض نہیں کیا کہ بعض ناقدین نے اس پر جرح بھی کر دی ہے مگر اس شان نزول پر سب متفق ہیں اس وجہ سے اس سے تعرض ناگزیر ہے۔ شان نزول سے متعلق وہ اصولی حقیقت ہمیشہ مستحضر رکھیے جس کا ذکر ہم نے مقدمۂ تفسیر میں کیا ہے کہ سلف کسی آیت کے تحت اگر کسی واقعہ کا ذکر شان نزول کی حیثیت سے کرتے ہیں تو اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ بعینہٖ وہی واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب ہوا ہے بلکہ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ آیت سے اس واقعہ کا حکم بھی مستنبط ہوتا ہے۔ یہ رائے اصول تفسیر کے ماہرین کی ہے اس وجہ سے میں نے اس کا حوالہ دیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی معلوم ہے کہ شان نزول سے متعلق روایات بیش تر ضعیف بلکہ بے بنیاد ہیں، اس وجہ سے ان کو عقل و نقل کی کسوٹی پر پرکھے بغیر مان لینے سے اسی فتنہ میں پڑ جانے کا اندیشہ ہے جس سے آیت زیربحث میں اہل ایمان کو روکا گیا ہے۔ اس شان نزول کو درایت کی کسوٹی پر جانچیے تو معلوم ہو گا کہ اس کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آیت میں فاسق کی روایت پر اعتماد کرنے سے روکا گیا ہے۔ جب کہ ولیدؓ کے متعلق اس واقعے سے پہلے کوئی بات بھی ایسی لوگوں کے سامنے نہیں آئی تھی جس سے معلوم ہو سکتا کہ نعوذ باللہ وہ فاسق ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ ان کے فسق کی کوئی شہادت موجود نہیں تھی بلکہ ان کی ثقاہت و عدالت کا یہ مرتبہ تھا کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تحصیل زکوٰۃ کے ذمہ دارانہ منصب پر مامور فرمایا۔ اگر ان کے اندر اس قسم کا کوئی کھوٹ ہوتا تو حضورؐ ان کو اس اہم خدمت کے لیے کس طرح منتخب فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس شان نزول کو باور کر لیجیے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ’نعوذ باللہ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ سے اتنے ناواقف تھے کہ ایسے لوگوں کو ذمہ دارانہ مناصب پر مامور فرما دیتے تھے جو اپنی دروغ بافی سے حکومت اور رعایا دونوں کو خطرے میں ڈال دیں۔ اس قسم کی بے بصیرتی ایک عام معقول آدمی سے بھی بعید از قیاس ہے چہ جائیکہ اس کا صدور سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر ولیدؓ استقبال کرنے والی پارٹی کو جنگجو پارٹی سمجھ کر اس سے ڈر کے واپس آ گئے تھے اور اپنا تاثر انھوں نے حضورؐ کے سامنے یہ بیان کیا کہ بنی مصطلق نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے تو ان کی یہ بات سادہ لوحی اور کمزوری تو قرار دی جا سکتی ہے لیکن ازروئے شریعت اس کو فسق نہیں کہا جا سکتا۔ پھر تو اس مضمون کی آیت اترنی تھی کہ ’مسلمانو، تم اپنے ذمہ دارانہ عہدے ایسے سادہ لوحوں کے سپرد نہ کیا کرو جو استقبال کرنے والوں اور لڑنے والوں کے درمیان امتیاز کرنے سے بھی قاصر ہوں‘۔ غور کرنے کی بات ہے کہ ولیدؓ اتنے سادہ لوح ہوتے تو کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ایسی اہم مالی اور سیاسی ذمہ داری سپرد کر دیتے؟ کیا کسی شخص کے اندر سادہ لوحی کوئی ناگہانی طور پر پیدا ہو جانے والی چیز ہے جو لوگوں سے مخفی رہے، یہاں تک کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کا اندازہ نہ ہو سکے! چوتھی بات یہ ہے کہ یہی ولیدؓ ہیں جن کو سیدنا عثمان غنیؓ نے اپنے دور خلافت میں کوفہ کا گورنر بنایا۔ غور کیجیے کہ کیا حضرت عثمان غنیؓ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ یہ شخص ازروئے نص قرآن فاسق قرار پا چکا ہے اور گورنری تو درکنار اسلامی قانون کی رو سے یہ کسی روایت یا شہادت کا بھی اہل نہیں ہے؟ اگر ناواقف تھے تو یہ جانیے کہ حضرت عثمانؓ جیسے خلیفۂ راشد، جن کو جامع قرآن ہونے کا بھی شرف حاصل ہے، نعوذ باللہ، قرآن کا اتنا علم بھی نہیں رکھتے تھے جتنا علم شان نزول کی روایتیں کرنے والے ان راویوں کو تھا۔ میں نے اس شان نزول کے صرف چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے، ورنہ اضطراب اس کے ہر پہلو میں ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تادیبی دستہ روانہ کر دیا تھا، بعض میں ہے کہ روانہ کرنے کا فیصلہ فرما لیا تھا اور بنی مصطلق کو الٹی میٹم دے دیا تھا کہ اگر تم لوگ اپنی حرکت سے باز نہ آئے تو میں تمہاری سرکوبی کے لیے ایسے شخص کو بھیجوں گا جو ’عندی کنفسی‘ (جو میرے نزدیک میری اپنی ذات کی طرح ہے) ساتھ ہی حضرت علیؓ کے شانے پر تھپتھپاتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی کہ اس مہم کو یہ سر کریں گے۔ بعض روایات میں اس کے برخلاف یہ ہے کہ اس مہم پر آپؐ نے حضرت خالدؓ کو بھیجا۔ غرض جتنے منہ ہیں اتنی ہی باتیں ہیں، حالانکہ ’لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْأَمْرِ‘ سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کی کوئی بات آئی بھی تو آپ نے ٹال دی اور لوگوں کو تنبیہ کر دی گئی کہ وہ پیغمبرؐ کو اپنی رایوں سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں۔ میرے نزدیک یہ شان نزول روافض کی ’ایجادات‘ میں سے ہے جس سے انھوں نے صرف ولیدؓ ہی کو بدنام کرنا نہیں چاہا ہے بلکہ حضرت عثمانؓ کو بھی مطعون کرنے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے یہ جانتے بوجھتے کہ یہ شخص فاسق ہے محض ازراہ کنبہ پروری؂۲ اس کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ پھر کوفہ کی گورنری کے دوران میں بھی ان ظالموں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا بلکہ ان کے فسق کے ایسے واقعات کی روایت کی ہے جن کو سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ ہنسی ان ظالموں کی ذہانت پر آتی ہے اور رونا اپنے مفسرین کی سادگی پر کہ اس قسم کی بے سروپا روایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل کر دیتے ہیں حالانکہ آیت کے الفاظ اور اس کے سیاق و سباق سے ان کو کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ _____ ؂۱ بعض راویوں کا بیان ہے کہ ڈرے نہیں بلکہ ان کے دل میں پہلے سے بنی مصطلق کے خلاف رنجش تھی اسی وجہ سے ان سے ملے بغیر واپس آ گئے اور یہ بات بنائی کہ انھوں نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ ؂۲ یہ امر واضح رہے کہ حضرت ولیدؓ سیدنا عثمانؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔
    (یہی لوگ ہیں جو) اللہ کے فضل و انعام سے (راہ راست پانے والے بنے)۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے۔
    ’فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَنِعْمَۃً وَاللَّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘۔ فرمایا کہ یہی لوگ، جن کے دلوں میں ایمان کا جمال گھر کیے ہوئے ہے اور جو کفر، فسق اور عصیان کے ہر شائبہ سے بیزار و نفور ہیں، درحقیقت اصل ہدایت پر ہیں اور یہ ہدایت ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام سے حاصل ہوئی ہے اس وجہ سے ان کو اس پر اپنے رب ہی کا شکرگزار رہنا چاہیے خام کاروں کی طرح اس وہم میں نہیں مبتلا ہونا چاہیے کہ اس کو یہ چیز ازخود مل گئی ہے اور وہ خدا و رسول کا کوئی محسن بن گیا ہے۔ ’عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘ کی صفات کا حوالہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کی تقسیم کسی اندھے کی تقسیم نہیں ہے۔ وہ اپنے دین کی نعمت انہی کو دیتا ہے جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے۔ یہ آیت مدینہ کے مسلمانوں کی تعریف میں ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے برابر فیض یاب اور اللہ کے رنگ میں اچھی طرح رنگے ہوئے تھے اور سیاق و سباق دلیل ہے کہ اس میں ان خام کار مسلمانوں پر تعریض بھی ہے جن کی خامیوں پر سورہ کی ابتداء ہی سے تبصرہ ہو رہا ہے اور جن کا تعلق اطراف مدینہ کے قبائل سے تھا۔ ایک بے بنیاد شان نزول: آیت ۶ کے تحت ہمارے مفسرین نے، اپنی عادت کے مطابق، ایک شان نزول کا بھی ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو تحصیل زکوٰۃ کے لیے بنی مصطلق کے پاس بھیجا۔ جب یہ وہاں پہنچے تو بنی مصطلق کے لوگ بشکل جلوس ان کے خیر مقدم کے لیے نکلے۔ ولید نے گمان کیا کہ یہ لوگ ان سے لڑنے کو نکلے ہیں۔ وہ ڈر کر فوراً وہاں سے واپس آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ لوگ مرتد ہو گئے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انھوں نے انکار کر دیا۔؂۱ یہ خبر سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی مصطلق پر نہایت برہم ہوئے اور ان کی سرکوبی کے لیے آپؐ نے ایک دستہ بھیج دیا یا بھیجنے کا فیصلہ فرما لیا کہ اتنے میں بنی مصطلق والوں کو اطلاع ہو گئی اور ان کے سردار نے فوراً مدینہ حاضر ہو کر بقید قسم حضورؐ کو اطمینان دلایا کہ ہم نے تو ولید کی شکل بھی نہیں دیکھی، زکوٰۃ روکنے کا کیا سوال؟ ان کی طرف سے صفائی کے بعد ان کا معاملہ تو رفع دفع ہو گیا لیکن ہمارے مفسرین کے نزدیک ولیدؓ کی اسی روایت کی بنا پر یہ آیت اتری اور مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے کوئی عاجلانہ قدم نہ اٹھایا کریں۔ ہمارے مفسرین کوئی نہ کوئی شان نزول تو تقریباً ہر آیت کے تحت درج کرتے ہیں، اوپر آیت ’إِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوۡنَکَ ....... الاٰیۃ‘ کے تحت بھی انھوں نے ایک شان نزول کا حوالہ دیا ہے لیکن اس سے ہم نے اس وجہ سے تعرض نہیں کیا کہ بعض ناقدین نے اس پر جرح بھی کر دی ہے مگر اس شان نزول پر سب متفق ہیں اس وجہ سے اس سے تعرض ناگزیر ہے۔ شان نزول سے متعلق وہ اصولی حقیقت ہمیشہ مستحضر رکھیے جس کا ذکر ہم نے مقدمۂ تفسیر میں کیا ہے کہ سلف کسی آیت کے تحت اگر کسی واقعہ کا ذکر شان نزول کی حیثیت سے کرتے ہیں تو اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ بعینہٖ وہی واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب ہوا ہے بلکہ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ آیت سے اس واقعہ کا حکم بھی مستنبط ہوتا ہے۔ یہ رائے اصول تفسیر کے ماہرین کی ہے اس وجہ سے میں نے اس کا حوالہ دیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی معلوم ہے کہ شان نزول سے متعلق روایات بیش تر ضعیف بلکہ بے بنیاد ہیں، اس وجہ سے ان کو عقل و نقل کی کسوٹی پر پرکھے بغیر مان لینے سے اسی فتنہ میں پڑ جانے کا اندیشہ ہے جس سے آیت زیربحث میں اہل ایمان کو روکا گیا ہے۔ اس شان نزول کو درایت کی کسوٹی پر جانچیے تو معلوم ہو گا کہ اس کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آیت میں فاسق کی روایت پر اعتماد کرنے سے روکا گیا ہے۔ جب کہ ولیدؓ کے متعلق اس واقعے سے پہلے کوئی بات بھی ایسی لوگوں کے سامنے نہیں آئی تھی جس سے معلوم ہو سکتا کہ نعوذ باللہ وہ فاسق ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ ان کے فسق کی کوئی شہادت موجود نہیں تھی بلکہ ان کی ثقاہت و عدالت کا یہ مرتبہ تھا کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تحصیل زکوٰۃ کے ذمہ دارانہ منصب پر مامور فرمایا۔ اگر ان کے اندر اس قسم کا کوئی کھوٹ ہوتا تو حضورؐ ان کو اس اہم خدمت کے لیے کس طرح منتخب فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس شان نزول کو باور کر لیجیے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ’نعوذ باللہ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ سے اتنے ناواقف تھے کہ ایسے لوگوں کو ذمہ دارانہ مناصب پر مامور فرما دیتے تھے جو اپنی دروغ بافی سے حکومت اور رعایا دونوں کو خطرے میں ڈال دیں۔ اس قسم کی بے بصیرتی ایک عام معقول آدمی سے بھی بعید از قیاس ہے چہ جائیکہ اس کا صدور سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر ولیدؓ استقبال کرنے والی پارٹی کو جنگجو پارٹی سمجھ کر اس سے ڈر کے واپس آ گئے تھے اور اپنا تاثر انھوں نے حضورؐ کے سامنے یہ بیان کیا کہ بنی مصطلق نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے تو ان کی یہ بات سادہ لوحی اور کمزوری تو قرار دی جا سکتی ہے لیکن ازروئے شریعت اس کو فسق نہیں کہا جا سکتا۔ پھر تو اس مضمون کی آیت اترنی تھی کہ ’مسلمانو، تم اپنے ذمہ دارانہ عہدے ایسے سادہ لوحوں کے سپرد نہ کیا کرو جو استقبال کرنے والوں اور لڑنے والوں کے درمیان امتیاز کرنے سے بھی قاصر ہوں‘۔ غور کرنے کی بات ہے کہ ولیدؓ اتنے سادہ لوح ہوتے تو کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ایسی اہم مالی اور سیاسی ذمہ داری سپرد کر دیتے؟ کیا کسی شخص کے اندر سادہ لوحی کوئی ناگہانی طور پر پیدا ہو جانے والی چیز ہے جو لوگوں سے مخفی رہے، یہاں تک کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کا اندازہ نہ ہو سکے! چوتھی بات یہ ہے کہ یہی ولیدؓ ہیں جن کو سیدنا عثمان غنیؓ نے اپنے دور خلافت میں کوفہ کا گورنر بنایا۔ غور کیجیے کہ کیا حضرت عثمان غنیؓ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ یہ شخص ازروئے نص قرآن فاسق قرار پا چکا ہے اور گورنری تو درکنار اسلامی قانون کی رو سے یہ کسی روایت یا شہادت کا بھی اہل نہیں ہے؟ اگر ناواقف تھے تو یہ جانیے کہ حضرت عثمانؓ جیسے خلیفۂ راشد، جن کو جامع قرآن ہونے کا بھی شرف حاصل ہے، نعوذ باللہ، قرآن کا اتنا علم بھی نہیں رکھتے تھے جتنا علم شان نزول کی روایتیں کرنے والے ان راویوں کو تھا۔ میں نے اس شان نزول کے صرف چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے، ورنہ اضطراب اس کے ہر پہلو میں ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تادیبی دستہ روانہ کر دیا تھا، بعض میں ہے کہ روانہ کرنے کا فیصلہ فرما لیا تھا اور بنی مصطلق کو الٹی میٹم دے دیا تھا کہ اگر تم لوگ اپنی حرکت سے باز نہ آئے تو میں تمہاری سرکوبی کے لیے ایسے شخص کو بھیجوں گا جو ’عندی کنفسی‘ (جو میرے نزدیک میری اپنی ذات کی طرح ہے) ساتھ ہی حضرت علیؓ کے شانے پر تھپتھپاتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی کہ اس مہم کو یہ سر کریں گے۔ بعض روایات میں اس کے برخلاف یہ ہے کہ اس مہم پر آپؐ نے حضرت خالدؓ کو بھیجا۔ غرض جتنے منہ ہیں اتنی ہی باتیں ہیں، حالانکہ ’لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْأَمْرِ‘ سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کی کوئی بات آئی بھی تو آپ نے ٹال دی اور لوگوں کو تنبیہ کر دی گئی کہ وہ پیغمبرؐ کو اپنی رایوں سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں۔ میرے نزدیک یہ شان نزول روافض کی ’ایجادات‘ میں سے ہے جس سے انھوں نے صرف ولیدؓ ہی کو بدنام کرنا نہیں چاہا ہے بلکہ حضرت عثمانؓ کو بھی مطعون کرنے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے یہ جانتے بوجھتے کہ یہ شخص فاسق ہے محض ازراہ کنبہ پروری؂۲ اس کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ پھر کوفہ کی گورنری کے دوران میں بھی ان ظالموں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا بلکہ ان کے فسق کے ایسے واقعات کی روایت کی ہے جن کو سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ ہنسی ان ظالموں کی ذہانت پر آتی ہے اور رونا اپنے مفسرین کی سادگی پر کہ اس قسم کی بے سروپا روایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل کر دیتے ہیں حالانکہ آیت کے الفاظ اور اس کے سیاق و سباق سے ان کو کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ _____ ؂۱ بعض راویوں کا بیان ہے کہ ڈرے نہیں بلکہ ان کے دل میں پہلے سے بنی مصطلق کے خلاف رنجش تھی اسی وجہ سے ان سے ملے بغیر واپس آ گئے اور یہ بات بنائی کہ انھوں نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ ؂۲ یہ امر واضح رہے کہ حضرت ولیدؓ سیدنا عثمانؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔
    اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان مصالحت کراؤ۔ پس اگر ان میں سے ایک دوسرے پر تعدی کرے تو اس سے جنگ کرو جو تعدی کرے۔ تا آنکہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف رجوع کرے۔ پس اگر وہ رجوع کرے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ مصالحت کرا دو اور ٹھیک ٹھیک انصاف کرو۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔
    اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں تصادم ہو جائے تو دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری: اوپر کی آیت میں اس بات کی ممانعت فرمائی گئی ہے کہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی کسی جماعت کے خلاف کوئی اقدام کر بیٹھیں۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہ اگر آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمانوں یا ان کی حکومت کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ ان کے درمیان اصلاح احوال کی کوشش کرو۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک پارٹی مصالحت پر آمادہ نہ ہو یا مصالحت کے بعد مصالحت کے شرائط کے خلاف دوسری پارٹی پر تعدی کرے تو اس صورت میں دوسرے مسلمانوں یا ان کی حکومت کو تعدی کرنے والی پارٹی سے جنگ کرنی چاہیے یہاں تک کہ وہ حق کے آگے جھکنے پر مجبور ہو جائے۔ ’تَفِیۡءَ اِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ‘ سے مراد اس فیصلہ کے آگے جھکنا ہے جو مصالحت کرانے والوں نے فریقین کے سامنے رکھا ہے۔ اگر کوئی پارٹی اس مصالحت سے گریز اختیار کر رہی ہے تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے جھکنے سے گریز اختیار کر رہی ہے۔ اس لیے کہ اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسی بات کا حکم دیا ہے اور جب اللہ نے اس کا حکم دیا ہے تو اس کی حیثیت ’اَمْرُ اللّٰہِ‘ کی ہے۔ ’فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا‘۔ یعنی مسلمانوں کے اس اجتماعی ایکشن کے بعد اگر وہ فیصلہ کے آگے سر جھکا دے تو اس بنیاد پر اس کے خلاف کوئی مزید کارروائی نہیں کی جائے گی کہ اس نے سرکشی کی روش اختیار کی، بلکہ فریقین کے درمیان انصاف کے تقاضوں کے مطابق صلح کرا دی جائے گی۔ جس فریق کا نقصان ہوا ہے اس کی تلافی ٹھیک ٹھیک کرا دی جائے گی۔ لفظ ’اَقْسِطُوْا‘ اسی عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کی تاکید کے لیے آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ کسی کے ساتھ بے جا رعایت کی جائے نہ کسی کو انصاف کے خلاف دبایا جائے۔ بلکہ بے رو رعایت جو کچھ عدل کا تقاضا ہے وہ پورا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ چند اجتماعی اصول جو آیت سے نکلتے ہیں: اس آیت سے مندرجہ ذیل اجتماعی اصول نکلتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمان اس کو پرایا جھگڑا سمجھ کر نہ تو اس سے بالکل الگ تھلگ رہیں اور نہ ان کے لیے یہ جائز ہے کہ بغیر اس بات کی تحقیق کیے کہ کون حق پر ہے کون ناحق پر، محض خاندانی، قبائلی اور گروہی عصبیت کے جوش میں کسی کے ساتھی اور کسی کے مخالف بن جائیں بلکہ انھیں ساری صورت معاملہ سمجھ کر فریقین کے درمیان مصالحت کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ایک فریق مصالحت پر راضی نہ ہو بلکہ جنگ ہی پر ضد کرے یا مصالحت کے لیے من مانے طور پر ایسی شرطیں پیش کرے جو عدل کے منافی ہوں تو اس صورت میں مسلمانوں کا یہ فرض ہو گا کہ وہ اس کے خلاف طاقت استعمال کر کے اس کو مصالحت کے شرائط کے آگے جھکنے پر مجبور کریں۔ اس طرح کی نزاعات میں غیرجانبدارانہ مسلمان اللہ و رسول کی ہدایات اور عدل کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کے مصالحت کے لیے جو شرطیں طے کریں گے فریقین پر ان کی اطاعت اسی طرح لازمی ہو گی جس طرح شریعت کے احکام کی اطاعت لازمی ہے، یہاں تک کہ جو فریق اس سے انحراف اختیار کرے گا اس سے جنگ کی جائے گی۔ مصالحت ہو جانے کے بعد اس کی شرائط کے خلاف اگر کوئی فریق دوسرے فریق پر تعدی کرے گا تو وہ تعدی کرنے والا قرار پائے گا۔ مسلمانوں کا فرض ہو گا کہ اس کی سرکوبی کریں۔ موجودہ زمانے کی ایک مشکل: یہ امر واضح رہے کہ یہ ہدایات اس صورت حال کے لیے دی گئی ہیں جب نزاع مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان واقع ہو اور ان کی ایک مرکزی طاقت فریقین کے درمیان مداخلت کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ اس زمانے میں یہ پیچیدہ صورت حال پیدا ہو گئی ہے کہ بہت سی چھوٹی بڑی مسلمان حکومتیں الگ الگ قائم ہو گئی ہیں۔ ان کے درمیان اگر خدانخواستہ کوئی جنگ چھڑ جائے تو دوسری مسلمان حکومتوں کے لیے اس قضیہ سے بالکل الگ تھلگ رہنا تو جائز نہیں ہے، مصالحت کی کوشش، جس کا آیت میں حکم دیا گیا ہے، ہر ایک کو کرنی ہو گی البتہ عملاً مداخلت کا معاملہ صورت حال پر منحصر ہے۔ جس کا تعلق وقت کے سیاسی تقاضوں سے ہے۔ اگر صورت حال اجازت دے گی تو تعدی کرنے والے فریق کو حق کے آگے جھکانے کے لیے اس کے خلاف طاقت استعمال کرنا بالکل جائز ہوگا اور اگر اس سے مزید بین الملّی یا بین الاقوامی پیچیدگیاں پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہو تو عملی مداخلت سے تو گریز اختیار کیا جائے گا لیکن مصالحت کی جدوجہد سے گریز کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔
    مسلمان باہمدگر بھائی بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں کے مابین مصالحت کراؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ تم پر رحم کیا جائے۔
    یعنی مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے درمیان کسی نزاع کا برپا ہونا ہی اول تو ان کی باہمی اخوت کے منافی ہے لیکن شیطان کی انگیخت سے کوئی نزاع برپا ہو ہی جائے تو دوسرے مسلمانوں کو ان کے درمیان مصالحت کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ اس آگ کو مزید بھڑکانے کی۔ ’وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوۡنَ‘- یعنی اللہ تعالی سے ڈرتے رہو۔ اگر تمہارے ہاتھوں کوئی ایسا کام ہوا جو بھائیوں اور بھائیوں کے درمیان قتل وخون کا سبب ہوا یا تم محض قومی، قبائلی، علاقائی یا سیاسی مصلحتوں کی خاطر کسی پہلو سے اس خون خرابے میں حصہ لینے والے بنے تو یاد رکھو کہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکو گے۔ اللہ تعالی کی رحمت کے مستحق وہی ٹھہریں گے جو اس کی قائم کی ہوئی اس اخوت کو ہمیشہ استوار و پائیدار رکھنے کی کوشش کریں گے، نہ خود اس میں کوئی رخنہ پیدا کریں گے اور نہ اپنے امکان کے حد تک کسی کو اس میں کوئی رخنہ پیدا کرنے کا موقع دیں گے۔ ’بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ‘- میں مثنیٰ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ جنگ دو بھائیوں ہی کے درمیان ہو، بلکہ یہ مثنیٰ مسلمانوں کے دو گروہوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثنیٰ کا اس طرح استعمال عربی میں معروف ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List