Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الفتح (The Victory, Conquest)

    29 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے ربط

    سابق سورہ کی آیت ۳۵ میں اہل ایمان سے یہ وعدہ جو فرمایا ہے کہ اگر تم کمزور نہ پڑے تو تمہی سربلند ہو گے، تمہارے حریف ذلیل و پامال ہوں گے، اس سورہ میں اسی وعدہ کے ایفاء کی واقعاتی شہادت ہے۔ اس کا آغاز صلح حدیبیہ کے ذکر سے ہوا ہے جو فتح مکہ کی تمہید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت پر اتمام نعمت کا فتح باب ثابت ہوئی۔ اس میں فتح و غلبہ کی ان پیشین گوئیوں اور بشارتوں کا بھی حوالہ ہے جو اس امت کے باب میں تورات اور انجیل میں وارد ہوئی ہیں تاکہ اہل ایمان اور اہل کفر دونوں پر اچھی طرح واضح ہو جائے کہ یہ جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور آگے ہو گا، ان میں سے کوئی بات بھی اتفاقی نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی سکیم میں پہلے سے طے ہے اور یہ سکیم پوری ہو کے رہے گی۔ کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس میں مزاحم ہو سکے۔

  • الفتح (The Victory, Conquest)

    29 آیات | مدنی

    محمد ۔ الفتح

    ۴۷ ۔ ۴۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے نتیجے میں جو لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے، اُن کے علم و عمل کا تزکیہ اور اُن کی جماعت کی تطہیر ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھیں آخرت میں جنت اور دنیا میں فتح و نصرت کی بشارت بھی نہایت واضح الفاظ میں دی گئی ہے جس کا لازمی نتیجہ منکرین اور مکذبین کی ہزیمت اور اُن کے لیے جہنم کی وعید ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب اصلاً اہل ایمان سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب منکرین حق کے خلاف فیصلہ کن اقدام میں کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا تھا۔


  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 048 Verse 001 Chapter 048 Verse 002 Chapter 048 Verse 003 Chapter 048 Verse 004 Chapter 048 Verse 005 Chapter 048 Verse 006 Chapter 048 Verse 007
    Click translation to show/hide Commentary
    بے شک ہم نے تم کو ایک کھلی ہوئی فتح عطا فرمائی۔
    معاہدۂ حدیبیہ کے ’فتح مبین‘ ہونے کے چند پہلو: ’فتح مبین‘ سے یہاں مراد معاہدۂ حدیبیہ ہے، اس کے سوا کسی اور فتح کو مراد لینے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اس کو فتح مبین قرار دینے کے متعدد پہلو بالکل واضح ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ قریش نے علانیہ بیت اللہ پر مسلمانوں کا حق تسلیم کیا اور یہ تسلیم کرنا بطور احسان نہیں بلکہ مسلمانوں سے دب کر ہوا۔ آگے آیت ۲۴ سے واضح ہو گا کہ اگر معاہدہ نہ ہوتا اور جنگ چھڑتی تو مسلمانوں کی فتح یقینی تھی۔ قریش نے صورت حال کا اچھی طرح اندازہ کر لیا تھا اس وجہ سے وہ معاہدہ کے دل سے خواہش مند تھے۔ البتہ اپنی ناک ذرا اونچی رکھنے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ مسلمان اسی سال عمرہ کرنے پر اصرار نہ کریں بلکہ آئندہ سال آئیں۔ مسلمانوں کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے انھوں نے بہت بڑی رشوت بھی دی کہ تین دن کے لیے وہ شہر بالکل خالی کر دیں گے تاکہ کسی تصادم کا کوئی اندیشہ نہ رہے۔ قریش کی طرف سے یہ پیش کش کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ دوسرا یہ کہ قریش نے اس معاہدے کی رو سے مسلمانوں کو اپنے برابر کی ایک حریف قوت عرب میں تسلیم کر لیا۔ ان کی نظر میں مسلمانوں کی حیثیت اب باغیوں اور غداروں کی نہیں رہی تھی، جیسا کہ وہ علانیہ اب تک کہتے رہے تھے، بلکہ مساوی درجے کی ایک سیاسی قوت کی ہو گئی چنانچہ انھوں نے علانیہ ان کے لیے یہ حق تسلیم کر لیا کہ عرب کے جو قبائل ان کے حلیف بننا چاہیں وہ ان کو اپنا حلیف بنا سکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ قریش نے مسلمانوں کی جنگی صلاحیتوں کا لوہا بھی اس حد تک مان لیا کہ خود اصرار کر کے معاہدے میں دس سال کے لیے جنگ بندی کی شرط رکھوائی۔ چوتھا یہ کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبرؐ اور مسلمانوں کو جنگ کی اجازت جو نہیں دی تو اس کی وجہ مسلمانوں کی کوئی کمزوری نہیں تھی بلکہ صرف یہ تھی کہ مکہ میں بہت سے ظاہر اور مخفی مسلمان تھے جو وہاں سے ابھی ہجرت نہیں کر سکے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جنگ کی صورت میں ان کو خود مسلمانوں کے ہاتھوں نقصان پہنچ جائے گا۔ غرض اس کے ایک فتح مبین ہونے کے گوناگوں پہلو واضح تھے جو مسلمانوں سے مخفی نہیں ہو سکتے تھے لیکن قریش نے اپنی حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کچھ اس طرح کیا اور بعض واقعات نہایت اشتعال انگیز۔ مثلاً ابوجندل کا واقعہ ۔۔۔ اس دوران میں ایسے پیش آ گئے کہ مسلمانوں کے اندر عام احساس یہ پیدا ہو گیا کہ یہ معاہدہ دب کر کیا جا رہا ہے۔ جذبات کے ہیجان میں لوگ اس کے ہر پہلو پر غور کر کے یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ اس معاہدے کی رو سے انھوں نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ اس سورہ نے جب اصل حقائق کی طرف توجہ دلائی تب لوگوں کو احساس ہوا کہ فی الواقع انھوں نے معاہدے کے مضمرات سمجھنے میں غلطی کی اور جب اس کے نتائج سامنے آئے تو ہر شخص نے کھلی آنکھ سے دیکھ لیا کہ فی الواقع یہی معاہدہ فتح مکہ کی تمہید ثابت ہوا۔
    کہ اللہ تمہارے تمام اگلے اور پچھلے گناہوں کو بخشے، تم پر اپنی نعمت تمام کرے۔ تمہارے لیے ایک بالکل سیدھی راہ کھول دے۔
    اس فتح مبین کے چند نتائج: ’ل‘ یہاں غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے یہ فتح مبین جو عنایت فرمائی ہے یہ تمہید ہے جو منتہی ہو گی مندرجہ ذیل باتوں پر جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں سرفراز فرمانے والا ہے۔ ایک یہ کہ اب وہ وقت فریب ہے کہ تم اپنے مشن کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اگلے پچھلے گناہوں ہو معاف کر کے اپنی رحمت سے نوازے گا۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت تمام کرنے والا ہے۔ تیسری یہ کہ ہدایت کی صحیح راہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کھول دے گا۔ چوتھی یہ کہ تمہیں اللہ تعالیٰ ایسا غلبہ عطا فرمائے گا جس کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ چاروں باتیں یہاں اجمال کے ساتھ مذکور ہوئی ہیں۔ ان کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضرورت ہے کہ قرآن کے نظائر کی روشنی میں ان کی وضاحت کی جائے۔ ’لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ‘۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی بشارت دی گئی ہے کہ اس ’فتح مبین‘ کے بعد فریضۂ رسالت کی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہونے کا وقت آپ کے لیے قریب آ گیا ہے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے آیا ہے۔ مثلاً سورۂ نصر میں فرمایا ہے: إِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ ۵ وَرَأَیْْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوۡنَ فِیْ دِیْنِ اللہِ أَفْوَاجًا ۵ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا (۱-۳) ’’جب اللہ کی مدد اور فتح ظاہر ہو جائے اور تم دیکھو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا ہے۔‘‘ اس سورہ میں فتح و غلبہ کی بشارت کے ساتھ یہ اشارہ بھی ہے کہ اس کے بعد فریضۂ رسالت کی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہونے کا وقت آپ کے لیے قریب آ جائے گا لیکن صاف الفاظ میں اس کی بشارت دینے کے بجائے اس کے لیے تیاری کرنے کی ہدایت فرمائی گئی کہ تسبیح، نماز اور استغفار سے اس کے لیے تیاری کرو۔ آیت زیرنظر میں یہی مضمون موقع و محل کے تقاضے سے نہایت واضح بشارت کے اسلوب میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فتح مبین جو تمہیں حاصل ہوئی ہے اس کے بعد اب وہ وقت قریب ہے کہ تمہارے رب نے جو ذمہ داری تم پر ڈالی تھی اس سے فارغ فرمائے گا اور نہایت سرخ روئی و سرفرازی کے ساتھ اس طرح فارغ فرمائے گا کہ تمہارے تمام اگلے پچھلے گناہ بخش دے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے بڑی بشارت کوئی ہو سکتی تھی تو لاریب یہی ہو سکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس عظیم مشن پر مامور فرمایا تھا اس سے آپ کو اس طرح فارغ فرمائے کہ اس کے متعلق کوئی بھی چھوٹی یا بڑی مسؤلیت آپ پر باقی نہ رہے بلکہ یہ اطمینان ہو جائے کہ آپ نے یہ فریضہ ٹھیک ٹھیک اپنے رب کی مرضی کے مطابق انجام دے دیا۔ اس ٹکڑے میں آپ کو خوشنودی کا یہی پروانہ عطا ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے بڑا پروانہ کوئی اور آپ کے لیے نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی کی شکرگزاری نے آخری دور میں جب آپ کی عبادت کی سرگرمیوں میں بہت اضافہ کر دیا تو لوگ آپ سے سوال کرتے کہ یارسول اللہ آپ کے تو تمام اگلے پچھلے گناہ بخشے جا چکے ہیں تو آپ عبادت میں اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ اس کا جواب دیتے کہ ’اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا‘ (کیا میں اپنے رب کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟) انبیاء علیہم السلام سے کس طرح کے گناہ صادر ہوتے ہیں: یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جس ’ذنب‘ کی نسبت کی گئی ہے اس سے متعلق یہ وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام سے اتباع ہوا کی نوعیت کے گناہ تو کبھی صادر نہیں ہوئے لیکن اقامت دین کی جدوجہد میں، نیک دواعی کے تحت، کبھی ان سے بھی ایسی باتیں صادر ہو گئی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی ہے۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس منافقین آتے اور کوئی بہانہ پیدا کر کے یہ چاہتے کہ ان کو جہاد میں شرکت سے رخصت دی جائے۔ آپ کو علم ہوتا کہ یہ لوگ محض بہانہ سازی کر رہے ہیں لیکن کریم النفسی کے سبب سے آپ ان کو رخصت دے دیتے کہ ان کا فضیحتا نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نرمی اگرچہ آپ کی کریم النفسی کا نتیجہ تھی، اس میں اتباع ہوا کا کوئی شائبہ نہیں تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر آپ کی گرفت فرمائی اس لیے کہ نبی ہر معاملے میں حق و عدل کی کسوٹی ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ شریفانہ سلوک کرنے کے معاملے میں بھی اس حد تک متجاوز نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے شریفانہ سلوک کے لیے ٹھہرا دی ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اپنی قوم کے سرداروں کی دلداری، اس خیال سے، زیادہ فرماتے کہ اگر یہ لوگ ایمان لائیں گے تو یہ دعوت کی تقویت و ترقی کا ذریعہ بنیں گے۔ یہ چیز بجائے خود کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ دین کی مصلحت کا ایک نہایت اہم تقاضا ہے لیکن اگر یہ اتنی زیادہ ہو جائے کہ اس سے اصلی حق داروں کے حق سے غفلت ہونے لگے یا نا اہلوں کی رعونت میں اس سے اضافہ ہونے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اس سے روک دیتا ہے۔ سورۂ عبس میں ایک نابینا کا جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ اسی نوعیت کا ہے۔ اسی طرح کے واقعات دوسرے انبیاء کی زندگیوں میں بھی پیش آئے جن کی وضاحت ہم نے اپنی اس کتاب میں ان کے محل میں کی ہے۔ آیت زیربحث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جس گناہ کی نسبت کی گئی ہے اس کی نوعیت یہی ہے۔ اس طرح کی تمام باتوں سے متعلق آپ کو بشارت دے دی گئی کہ یہ ساری چیزیں آپ کو بخش دی جائیں گی۔ ’اگلے اور پچھلے‘ کے الفاظ اصلاً تو احاطہ کے مفہوم پر دلیل ہیں۔ لیکن ان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس بشارت سے پہلے کی غلطیاں بھی معاف اور اس کے بعد بھی اگر کوئی غلطی ہوئی تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہے۔ اس کے لیے کسی نئی بشارت کی ضرورت نہیں ہے۔ ’وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْْکَ‘۔ یہ نعمت دین کے اتمام اور اس کی تکمیل کی بشارت ہے۔ چنانچہ حجۃ الوداع کے موقع پر جب اس نعمت کی تکمیل ہو گئی تو یہ اعلان کر دیا گیا کہ ’اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْنًا‘ (المائدہ ۳) (اب میں نے تمہاری رہنمائی کے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا)۔ تکمیل دین کی نعمت کا ثمرہ: ’وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا‘۔ یہ تکمیل دین کی نعمت کا ثمرہ بیان ہوا ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں اس صراط مستقیم کی ہدایت بخشے گا، جس سے شیطان نے لوگوں کو ہٹا دیا تھا۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کی ہدایت کے لیے جو دین نازل فرمایا تھا یہود اور نصاریٰ نے بھی اس کو ضائع کر دیا تھا اور اہل عرب نے بھی، حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کے تعمیر کردہ مرکز توحید کو ایک بت خانہ کی شکل میں تبدیل کر کے، اصل نشان راہ گم کر دیا تھا۔ جس سے خدا تک پہنچانے والی سیدھی راہ بالکل ناپید ہو چکی تھی۔ یہ راہ خلق کے لیے ازسرنو اس وقت باز ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اپنے دین کی تجدید و تکمیل فرمائی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعمیر کردہ مینارۂ توحید کفر کے نرغہ سے نکل کر اپنے اصلی ابراہیمی جمال و شان میں نمایاں ہوا ہے۔ اس ٹکڑے میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اب دین بھی نکھر کر سامنے آ جائے گا اور وہ مرکز نور بھی بے نقاب ہو جائے گا جو ہدایت کی اصل شاہراہ کی طرف رہنمائی کے لیے تعمیر ہوا تھا۔ یہاں یہ بشارت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے دی گئی ہے۔ یہی بشارت اسی سورہ کی آیت ۲۰ میں تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے دی گئی ہے۔ وہاں ان شاء اللہ ہم اس پر مزید روشنی ڈالیں گے۔  
    اور تمہیں اپنی ناقابل شکست نصرت سے نوازے۔
    ’نصر عزیز‘ کا صحیح مفہوم: ’وَیَنْصُرَکَ اللہُ نَصْرًا عَزِیْزًا‘۔ ’نَصْرٌ عَزِیْزٌ‘ سے مراد کفر کے مقابل میں ایسی فتح و نصرت ہے جس کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔ اس طرح کی نصرت ظاہر ہے کہ اسی شکل میں آپ کو حاصل ہو سکتی تھی جب کفر کا زور بالکل ہی ٹوٹ جائے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ جب قریش کا زور بالکل ختم ہو جائے اور بیت اللہ مسلمانوں کی تحویل میں آ جائے۔ اب تک مسلمانوں کو قریش کے مقابل میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں وہ بھی اہم تھیں لیکن ایسی نہیں تھیں کہ ان کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔ قریش جب تک مکہ پر مسلط تھے اس وقت تک وہ بہرحال ایک طاقت تھے لیکن واقعۂ حدیبیہ نے ان کی یہ طاقت متزلزل کر دی اور وہ وقت اب دور نہیں رہ گیا تھا کہ ان کے اقتدار کی یہ کہنہ عمارت ایک ہی جھٹکے میں زمین بوس ہو جائے۔ یہ اسی ’نصر عزیز‘ کی بشارت دی گئی ہے۔ عزیز کے معنی غالب و مقتدر کے ساتھ منیع کے بھی ہیں یعنی جس تک کسی کی پہنچ نہ ہو سکے۔ ترتیب بیان کی ایک بلاغت: یہاں ان بشارتوں کے ظہور کی ترتیب میں جو بلاغت ہے وہ بھی قابل توجہ ہے کہ جو چیز سب سے پہلے ظہور میں آنے والی ہے اس کا ذکر سب سے آخر میں ہوا اور جو چیز سب کا خلاصہ ہے اور سب سے آخر میں ظاہر ہو گی اس کا ذکر سب سے پہلے ہوا۔ یہ ترتیب نزولی ہے۔ یعنی بیان مطالب میں نیچے سے اوپر چڑھنے کی نہیں بلکہ اوپر سے نیچے اترنے کی ترتیب اختیار فرمائی گئی ہے۔ اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ یہ موقع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دینے کا تھا۔ فتح مکہ کی بشارت بھی اگرچہ اہم بشارت تھی لیکن اس سے بھی بڑی بلکہ سب سے بڑی بشارت آپ کے لیے یہ تھی کہ وہ انعام اخروی آپ کے سامنے رکھ دیا جائے جو آپ کو ملنے والا ہے اور جس کے ملنے میں اب زیادہ دیر نہیں رہ گئی ہے۔ ’لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ‘۔
    وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر طمانیت نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کی افزونی ہو اور آسمانوں اور زمین کی تمام فوجیں اللہ ہی کی ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے۔
    وعدۂ نصرت کی دلیل: اوپر والی آیت میں جس نصرت کا وعدہ فرمایا گیا ہے یہ اس کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ یہ اللہ ہی کی نصرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے مومنوں کے دلوں میں یہ حوصلہ پیدا کیا کہ وہ تمہاری دعوت پر عمرہ کے لیے تمہارے ہم رکاب ہو گئے تاکہ جو دولت ایمان ان کو حاصل تھی اس پر وہ اپنی اس حوصلہ مندی اور نبی کی رفاقت سے مزید اضافہ کر لیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ سفر اگرچہ عمرہ کے لیے تھا لیکن اس کا ارادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت خطرناک حالات میں فرمایا تھا۔ قریش سے برابر جنگ کی حالت قائم تھی اور اب تک ان کے حوصلہ کا یہ عالم تھا کہ وہ برابر امنڈ امنڈ کر مدینہ پر حملہ کر رہے تھے۔ ایسی حالت میں کسی طرح بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ مسلمان جماعتی حیثیت سے عمرہ کے لیے جائیں گے تو وہ بغیر مزاحمت کے آسانی سے ان کو مکہ میں داخل ہونے دیں گے۔ چنانچہ آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ منافقین اسی بنا پر یہ گمان رکھتے تھے کہ مسلمان موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اب کے اس سفر سے ان کو گھر پلٹنا نصیب نہیں ہو گا۔ ایسے حالات کے اندر چودہ پندرہ سو صحابہؓ کا اپنے گھروں کو چھوڑ کر، ڈھائی سو میل دور کے سفرکے لیے اٹھ کھڑے ہونا اور وہ بھی بالکل غیر مسلح، کوئی معمولی بات نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان میں برکت دی، ان پر خاص اپنے پاس سے عزم و حوصلہ اتارا اور وہ اس سفر کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا نے تمہارے ساتھیوں کو اس موقع پر یہ حوصلہ عطا فرمایا وہ آگے کے مراحل میں بھی ان کی حوصلہ افزائی فرمائے گا اور اللہ تم سے جس ’نصر عزیز‘ کا وعدہ فرما رہا ہے وہ پورا ہو کے رہے گا۔ اہل ایمان کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ ان کے ایمان کی جانچ کے لیے پیش آتی ہیں: ’لِیَزْدَادُوْآ إِیْمَانًا مَّعَ إِیْمَانِہِمْ‘ میں دین کی اس حکمت کی طرف اشارہ ہے کہ اس دنیا میں اہل ایمان کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ درحقیقت ان کے ایمان کی جانچ کے لیے پیش آتی ہیں۔ اگر وہ اس جانچ میں پورے اترتے جاتے ہیں تو ان کے ایمان کی قوت میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کو ’نفس مطمئنہ‘ کی بادشاہی حاصل ہو جاتی ہے اور اگر وہ فیل ہو جاتے ہیں اور برابر فیل ہی ہوتے رہتے ہیں تو بالآخر ان کا نور ایمان بالکل ہی بجھ جاتا ہے۔ ایمان کے گھٹنے بڑھنے سے متعلق امام ابوحنیفہؒ کے مسلک کا صحیح پہلو: اس سنت الٰہی کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں اور اس سنت کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ ایمان ایک گھٹنے بڑھنے والی چیز ہے۔ اگر وہ کوئی جامد شے ہوتا تو اس امتحان کی ضرورت نہیں تھی۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ سے یہ بات جو منسوب کی جاتی ہے کہ وہ ایمان کے گھٹنے بڑھنے کے قائل نہیں تھے تو اس کا ایک محل ہے۔ اس سے ان کی مراد وہ قانونی ایمان ہے جس پر ایک اسلامی ریاست میں ایک مسلمان کے شہری حقوق قائم ہوتے ہیں نہ کہ وہ ایمان جس پر آخرت کے مدارج و مقامات مبنی ہیں۔ قانونی و فقہی ایمان کے اعتبار سے ہر مسلمان جو ضروریات دین کا قائل ہے، برابر ہے اور اسلامی ریاست سب کے ساتھ مسلمان ہی کی حیثیت سے معاملہ کرے گی۔ اس پہلو سے ایک بدوی اور ایک شہری میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔ رہا آخرت کا معاملہ تو اس کا انحصار حقیقی ایمان پر ہے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہو سکتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ فرمائے گا۔ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مسلک بجائے خود ہمارے نزدیک بالکل صحیح ہے لیکن اس کی وکالت بھی بالکل غلط طریقہ پر کی جاتی ہے اور اعتراض کرنے والوں نے ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ جو رسول کی مدد کرتے ہیں وہ اپنے لیے کسب سعادت کی راہ کھولتے ہیں: ’وَلِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَکَانَ اللہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تمہاری رفاقت کے لیے جو آمادہ کر دیا تو یہ ان پر اس نے احسان فرمایا کہ وہ اپنی اس نیکی سے اپنے ایمان پر مزید ایمان کا اضافہ کر لیں ورنہ وہ اپنے رسول اور اپنے دین کی نصرت کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تمام قوتیں اور تمام فوجیں اللہ ہی کے تصرف میں ہیں، وہ جب چاہے کفار سے اپنی ان فوجوں کے ذریعہ انتقام لے سکتا ہے لیکن اس نے اہل ایمان کو اپنے رسول کی نصرت کی دعوت دے کر یہ چاہا کہ ان کے لیے ایک فوز عظیم کے حصول کی راہ کھولے۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ اس کا ہر کام علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور اس کے اس کام میں بھی اس کی عظیم حکمت ہے۔ اس مضمون کی مزید وضاحت مطلوب ہو تو سورۂ محمد کی آیت ۴ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ آگے یہی آیت ایک اور پہلو سے آ رہی ہے۔ وہاں اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔
    تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ اور تاکہ ان سے ان کے گناہوں کو جھاڑ دے اور اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی یہی ہے!
    ازدیاد ایمان کا صلہ: یہ ’لِیَزْدَادُوْآ إِیْمَانًا مَّعَ إِیْمَانِہِمْ‘۔ کا صلہ بیان ہوا ہے اور اسلوب بیان بدلیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نور باطن میں اضافہ کی راہیں جو کھولتا ہے تو اس لیے کہ اس طرح وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور ان سے ان کے سارے گناہ دور فرما دے گا۔ یعنی یہ کوئی خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ تمام تر نفع ہی نفع ہے۔ یہاں ممکن ہے کہ کسی کے ذہن مین یہ سوال پیدا ہو کہ دخول جنت کا ذکر پہلے ہے اور گناہوں کے جھاڑنے کا ذکر بعد میں۔ حالانکہ لوگ جنت میں گناہوں کے جھاڑے جانے کے بعد داخل ہوں گے، ہمارے نزدیک یہ تقدیم و تاخیر محض ظاہری ہے۔ بشارت کے پہلو کو نمایاں کرنے کے لیے دخول جنت کا ذکر پہلے کر دیا گیا ہے، مقصود یہی بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو گناہوں سے پاک کر کے جنت میں داخل کرے گا۔ منافقین پر تعریض: ’وَکَانَ ذٰلِکَ عِنۡدَ اللہِ فَوْزًا عَظِیْمًا‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصلی اور سب سے بڑی کامیابی یہی ہے تو مبارک ہیں وہ جنھوں نے یہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے تمام خطرات سے بے پروا ہو کر بازی کھیلی۔ یہ ٹکڑا تمہید ہے منافقین کے ذکر کی جو آگے آ رہا ہے اور جن کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ وہ قریش کے ڈر سے گھروں میں دبک کر بیٹھ رہے اور سمجھ رہے ہیں کہ ان کی سیاست بڑی کامیاب رہی اور بڑی ہوشیاری سے انھوں نے اپنے کو ایک بہت بڑے خطرے سے بچا لیا ہے حالانکہ انھوں نے اپنے کو خطرے سے بچایا نہیں بلکہ خطرے میں جھونک دیا ہے جس کا اندازہ ان کو بہت جلد ہو جائے گا۔
    اور تاکہ اللہ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے باب میں بُرے گمان کرتے رہے، برائی کی گردش انہی پر ہے! اور ان پر اللہ کا غضب ہوا اور ان پر اس نے لعنت کی اور ان کے لیے اس نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے!
    اللہ تعالیٰ کے امتحان کا دوسرا پہلو: یہ اس امتحان کے دوسرے پہلو کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ جس امتحان سے اہل ایمان کے لیے فوز عظیم کی راہ کھولتا ہے وہی امتحان لازماً منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کے لیے سب سے بڑی تباہی یعنی دوزخ کی راہ کھولتا ہے اس لیے کہ اس سے ان کے کھوٹ ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں اور اللہ کی حجت ان پر تمام ہو جاتی ہے۔ ’اَلظَّانِّیْنَ بِاللہِ ظَنَّ السَّوْءِ‘ سے ان منافقین کے ان گمانوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آیت ۱۲ میں بدیں الفاظ آیا ہے: ’بَلْ ظَنَنۡتُمْ أَن لَّنۡ یَنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالْمُؤْمِنُوۡنَ إِلٰی أَہْلِیْہِمْ أَبَدًا وَزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوبِکُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَکُنتُمْ قَوْمًا بُورًا‘ (بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور مسلمانوں کو اس سفر سے اپنے گھر والوں کی طرف کبھی پلٹنا نصیب نہ ہو گا۔ یہ گمان تمہارے دلوں میں رچ بس گیا اور تم نے برے برے گمان کیے اور اس طرح تم ہلاک ہونے والے بنے)۔ منافقین اور مشرکین میں مماثلت: منافقین و منافقات کے ساتھ مشرکین و مشرکات کا جوڑ اس گہری قلبی و ذہنی مماثلت کی بنا پر ہے جو دونوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ جس طرح ایک مشرک اپنے رب کے ساتھ عہد بندگی کا مدعی ہوتے ہوئے دوسرے معبودوں کی پرستش کرتا ہے۔ اسی طرح ایک منافق بھی اللہ و رسول کے ساتھ عہد ایمان و اطاعت کا مدعی ہوتے ہوئے غیروں سے ’سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ‘ (محمد ۲۶) (بعض معاملات میں ہم آپ ہی لوگوں کے ساتھ رہیں گے) کی سازشیں کرتا ہے۔ اس اشتراک کی بنا پر قرآن نے نفاق کو شرک قرار دیا ہے جس کی وضاحت ہم نے اپنی کتاب ’’حقیقت شرک‘‘ میں کی ہے۔ یہاں منافقین کا ذکر مشرکین کے ساتھ کر کے قرآن نے ان کا درجہ معین کر دیا کہ اس طرح کے مدعیان ایمان کا حشر بالآخر ان مشرکوں کے ساتھ ہی ہو گا جن کے یہ ہم مسلک و ہم مشرب ہیں۔ ایک بلیغ جملہ معترضہ: ’عَلَیْْہِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْءِ‘ کا فقرہ بطور جملہ معترضہ ہے۔ جب اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل سے متعلق ان کے برے گمانوں اور ان کی بری تمناؤں کا ذکر آیا تو سلسلۂ کلام کے بیچ میں، بغیر توقف کے، فرما دیا کہ یہ لوگ مسلمانوں کے اوپر بری گردش کے منتظر ہیں حالانکہ بری گردش درحقیقت خود انہی کے اوپر ہے اس لیے کہ یہ لوگ جن لوگوں سے لو لگائے ہوئے ہیں ان کا انجام بہت جلد ان کے سامنے آ جانے والا ہے اور اسی انجام سے یہ بھی دوچار ہوں گے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے، ان کے لیے اللہ نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ نہایت ہی برا ٹھکانا ہے۔ مردوں کے پہلو بہ پہلو عورتوں کے ذکر کی حکمت: یہاں ایک بات اور بھی قابل توجہ ہے۔ اوپر اہل ایمان کے بیان میں بھی اور پھر منافقین و مشرکین کے ذکر میں بھی مردوں کے ساتھ عورتوں کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آزمائش کے دور کے حالات پر تبصرہ ہو رہا ہے۔ اس دور میں اگر کسی گروہ کے اندر نفاق پرورش پاتا ہے تو اس کی پرورش میں بڑا دخل بیوی بچوں کا ہوتا ہے۔ اس کی طرف اشارہ منافقین کے اس قول سے بھی ہو رہا ہے جس کا حوالہ آگے آیت ۱۱ میں ہے کہ’شَغَلَتْنَآ أَمْوَالُنَا وَاَہْلُوۡنَا‘ (ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے پھنسائے رکھا) اور حدیث میں بھی ارشاد ہے کہ ’الولد مبخلۃ مجبنۃ‘ (آل و اولاد سب سے زیادہ بخل و بزدلی میں مبتلا کرنے والے ہیں) اسی طرح اگر کسی گروہ کے اندر ایمان مستحکم ہوتا ہے تو اس میں بھی بیوی بچوں کے عزم و صبر اور ان کے اعتماد علی اللہ کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق دونوں کے ذکر میں عورتوں کا کردار بھی سامنے آ جائے تاکہ مومنات اور منافقات دونوں اپنی اپنی جگہ پر واقف ہو جائیں کہ ان کا رب نہ اپنی مومنہ بندیوں کی جاں نثاریوں سے بے خبر ہے اور نہ منافقات کی تن آسانیوں اور دنیا پرستیوں سے۔
    اور اللہ ہی کی ہیں آسمانوں اور زمین کی فوجیں اور اللہ غالب و حکیم ہے۔
    منافقین سے اظہار بیزاری: یہی ٹکڑا صرف ایک لفظ ’عزیز‘ کے فرق کے ساتھ اوپر آیت ۴ میں بھی شامل ہے۔ وہاں یہ ایک خاص پہلو سے آیا ہے۔ یہاں یہ ان منافقین کے اظہار سے بیزاری و بے نیازی کے لیے وارد ہوا ہے کہ اگر یہ منافقین جہنم کے ایندھن بننا چاہتے ہیں تو بن جائیں۔ خس کم جہاں پاک؛ اللہ کو ان بزدل لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اس کے اپنے ہیں۔ وہ ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے۔ اپنی حکمت کے تحت وہ ان لشکروں کو جس طرح چاہے استعمال کر سکتا ہے۔ کسی کی بزدلی اور پست ہمتی اس کے ارادوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتی۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List