Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • محمد (Muhammad)

    38 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور گروپ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت

    پچھلی سورہ ۔۔۔ سورۂ احقاف ۔۔۔ پر اس گروپ کی مکی سورتیں تمام ہوئیں۔ اب آگے تین سورتیں مدنی ہیں، سورۂ احقاف کے بعد یہ سورہ اس طرح بلا تمہید شروع ہو گئی ہے گویا احقاف کی آخری آیت میں کفار کے لیے جو وعید ہے اس میں اس کا عملی ظہور ہے۔ پچھلی سورتوں میں آپ نے دیکھا کہ یہ حقیقت اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے کہ قریش اور ان کے حامی اہل کتاب جس باطل کی حمایت میں لڑ رہے ہیں نہ آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے اندر اس کی کوئی بنیاد ہے نہ انبیاء کی تاریخ اور آسمانی صحیفوں میں اس کی کوئی شہادت ہے۔ یہ گھورے پر اگا ہوا ایک درخت ہے جس نے محض اس وجہ سے جگہ گھیر رکھی ہے کہ اس کو اکھاڑنے والا ہاتھ موجود نہیں ہے۔ اب اس سورہ اور اس کے بعد کی دونوں سورتوں میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اس کو اکھاڑ پھینکنے والے ہاتھ اللہ نے پیدا کر دیے ہیں اور تقدیر کا یہ اٹل فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ کفار کی وہ تمام کوششیں رائگاں ہو کے رہیں گی جو انھوں نے خلق کو اللہ کے راستہ سے روکنے کے لیے صرف کی ہیں۔ ساتھ ہی اہل ایمان کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ ان کی مساعی اس دنیا میں بھی بارآور ہو گی اور آخرت میں بھی وہی سرخرو ہوں گے بشرطیکہ وہ اپنے فرائض پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ ادا کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اسی ضمن میں منافقوں کو دھمکی دی گئی ہے جو مدعی تو ایمان کے تھے لیکن ان کی ہمدردیاں کفار اور اہل کتاب کے ساتھ تھیں۔ ان کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ اگر انھوں نے اس نفاق کو چھوڑ کر یکسوئی کے ساتھ اللہ اور رسول کا ساتھ نہ دیا تو ان کا بھی وہی حشر ہونا ہے جو کفار و مشرکین کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔

  • محمد (Muhammad)

    38 آیات | مدنی

    محمد ۔ الفتح

    ۴۷ ۔ ۴۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے نتیجے میں جو لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے، اُن کے علم و عمل کا تزکیہ اور اُن کی جماعت کی تطہیر ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھیں آخرت میں جنت اور دنیا میں فتح و نصرت کی بشارت بھی نہایت واضح الفاظ میں دی گئی ہے جس کا لازمی نتیجہ منکرین اور مکذبین کی ہزیمت اور اُن کے لیے جہنم کی وعید ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب اصلاً اہل ایمان سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب منکرین حق کے خلاف فیصلہ کن اقدام میں کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا تھا۔


  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 047 Verse 001 Chapter 047 Verse 002 Chapter 047 Verse 003 Chapter 047 Verse 004 Chapter 047 Verse 005 Chapter 047 Verse 006 Chapter 047 Verse 007 Chapter 047 Verse 008 Chapter 047 Verse 009 Chapter 047 Verse 010 Chapter 047 Verse 011 Chapter 047 Verse 012 Chapter 047 Verse 013 Chapter 047 Verse 014 Chapter 047 Verse 015
    Click translation to show/hide Commentary
    جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا، اللہ نے ان کے تمام اعمال رائگاں کر دیے۔
    کفار قریش کو وعید: سورۂ احقاف کفار کے لیے جس تہدید و وعید پر ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے یہ سورہ بلا کسی تمہید کے، اس طرح شروع ہو گئی ہے گویا اسی تہدید و وعید کا یہ عملی ظہور ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکا اللہ نے ان کی تمام کوششیں رائگاں کر دیں۔ یہ اشارہ ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ اس کی تفصیل سورۂ فتح کی آیت ۲۵ کے تحت آئے گی۔ ’اعمال‘ سے مراد ان کی وہ سرگرمیاں ہیں جو انھوں نے اللہ کے بندوں کو ایمان اور عمل صالح کی راہ سے روکنے کے لیے صرف کیں۔ لفظ ’اضلال‘ یہاں اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں سورۂ فیل میں لفظ ’تضلیل‘ استعمال ہوا ہے۔ وہاں فرمایا ہے: ’أَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَہُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ‘ (الفیل: ۲) (کیا ان کی ساری چال اللہ نے نابود نہ کر دی؟) یہ مضمون اسی سورہ کی آیات ۴، ۳۲ اور ۳۳ میں بھی آئے گا۔ یہاں یہ امر خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ یہ وعید اگرچہ ہے تو مستقبل سے متعلق اس لیے کہ اس سورہ کے نزول کے وقت قریش ابھی مکہ پر مسلط تھے لیکن اس کا بیان ماضی کے صیغہ سے ہوا ہے اس کی وجہ وہی ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی طور پر طے ہو گئی اور جس کا ظہور لازمی ہے وہ گویا واقع ہو چکی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو کوئی بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ اس قطعیت کو ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی وعیدیں قرآن میں ماضی کے صیغوں سے بھی بیان ہوئی ہیں۔ یہ اسلوب ہر زبان میں معروف ہے اور اس کے فوائد بالکل واضح ہیں۔  
    اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اچھے عمل کیے اور ایمان لائے اس چیز پر جو محمد پر نازل کی گئی۔ اور وہی حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ اللہ نے ان سے ان کی برائیاں دور کر دیں اور ان کا حال سنوار دیا۔
    اہل ایمان کے لیے بشارت: اوپر کی آیت میں کفار کے لیے جس درجے کی تہدید و وعید ہے اس آیت میں، اسی اسلوب بیان میں، اہل ایمان کے لیے، دنیا اور آخرت دونوں میں، فیروز مندی کی بشارت ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح بھی کیے، ان کے گناہ اللہ تعالیٰ نے دور فرما دیے اور ان کے تمام احوال بالکل درست کر دیے۔ جس طرح کفار کے لیے تہدید قطعیت کے اظہار کے لیے ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے اسی طرح اہل ایمان کے لیے بشارت بھی ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے۔ دین حق وہی ہے جو رسول اللہ صلعم پر نازل ہوا: اس آیت میں ’وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَہُوَ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمْ‘ کے الفاظ خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کے ہیں۔ صرف یہ نہیں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے ان کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ ہو گا بلکہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی ہے کہ اس چیز پر ایمان لائے جو محمدؐ پر اتاری گئی ہے، پھر مزید تصریح یہ ہے کہ ’اب خدا کی طرف سے حق یہی ہے‘ اس تصریح کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اس دور میں ایک گروہ ان لوگوں کا بھی پیدا ہو گیا تھا جو کفر اور اسلام دونوں کے درمیان سمجھوتے کی باتیں کرنے لگا تھا۔ اس کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ مسلمانوں کا اپنی انفرادیت پر اصرار ٹھیک نہیں ہے بلکہ کچھ گنجائش دوسروں کے لیے بھی تسلیم کرنی چاہیے۔ اہل کتاب کے اندر بھی ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جو کہتا تھا کہ مومن تو ہم بھی ہیں، اس سے کیا فرق پیدا ہوا کہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے۔ اس قسم کے باطل رجحانات کی بیخ کنی قرآن نے پچھلی سورتوں میں بھی کی ہے۔ یہاں بھی مذکورہ بالا تصریح نے اسی رجحان پر ضرب لگائی ہے کہ اب ایمان و ہدایت کا واحد راستہ وہی ہے جس کی دعوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے ہیں، اس سے ہٹ کر کوئی راہ نہیں ہے۔ ’وَأَصْلَحَ بَالَہُمْ‘ لفظ ’بال‘ ایک جامع لفظ ہے۔ یہ ظاہر و باطن دونوں قسم کے احوال پر حاوی ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن اور دنیا و آخرت دونوں کے تمام احوال درست کر دے گا۔
    یہ اس وجہ سے ہوا کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انھوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے حق کی پیروی کی۔ اس طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کر رہا ہے۔
    قوت صرف حق کے اندر ہے: یہ وجہ بتائی ہے اس بات کی کہ کیوں کفار کی تمام مساعی رائگاں ہوں گی اور کیوں اہل ایمان اپنی کوششوں میں سرخ رو اور فائز المرام ہوں گے۔ فرمایا کہ ایسا اس وجہ سے ہو گا کہ کفار نے شیطان کے سکھائے ہوئے باطل کی پیروی کی ہے اور اہل ایمان نے اس حق کی پیروی کی ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ باطل کے لیے ان کی عقل اور اس کی فطرت کے اندر کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کی مثال خود رَو جھاڑی کی ہے جو کسان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اس کی زمین میں اگ پڑتی ہے۔ اگر وہ اکھاڑی نہ جائے تو زمین میں جڑ پکڑ لیتی ہے اور اگر اکھاڑ دی جائے تو وہ بالکل بے ثبات ہوتی ہے۔ چنانچہ اب جب کہ اہل حق اس باطل سے نبرد آزمائی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو اس کا مٹ جانا یقینی ہے: ’جَآءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا‘ (بنی اسرائیل: ۸۱) (حق آ گیا اور باطل نابود ہوا، بے شک باطل نابود ہی ہونے والی چیز ہے)۔ اس کے برعکس اہل ایمان نے اس حق کی پیروی کی ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ حق کی فطرت میں ثبات و استحکام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق حق ہے اور اس نے یہ دنیا ’بِالْحَق‘ پیدا کی ہے۔ اس کا اصلی مزاج باطل کی پرورش نہیں بلکہ حق کی پرورش ہے۔ اب جب کہ حق آ گیا ہے تو اس باطل کو لازماً ٹھکرا دے گی جو اکاس بیل کی طرح اس پر مسلط ہو گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصلی زور و قوت اسباب و وسائل کے اندر نہیں بلکہ حق کے اندر ہے۔ اگر کشمکش باطل اور باطل کے درمیان ہی برپا ہو تب تو فیصلہ کی میزان اسباب و وسائل کے ہاتھ ہی میں ہوتی ہے لیکن کشمکش اگر حق اور باطل کے درمیان ہو تو اصلی فیصلہ کن اہمیت حق کو حاصل ہو گی، اسباب و وسائل کی حیثیت ثانوی ہو جائے گی۔ ’کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَہُمْ‘۔ مومنین اور کفار کا یہ انجام جو بیان ہوا ہے اس کی نوعیت چونکہ اس مرحلہ میں ابھی ایک پیشین گوئی ہی کی تھی، اس نے واقعہ کی شکل نہیں اختیار کی تھی، اس وجہ سے اس کو مثال بیان کرنے سے تعبیر فرمایا۔ ’لِلنَّاسِ‘ سے مراد یہی اہل ایمان اور کفار ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کے انجام کی یہ تمثیل بیان فرما دی ہے اور اس کی حقیقت عنقریب سب کے سامنے آ کے رہے گی۔  
    پس جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے تو ان کی گردنیں اڑاؤ یہاں تک کہ جب ان کو اچھی طرح چُور کر دو تو ان کو مضبوط باندھ لو پھر یا تو احسان کر کے چھوڑنا ہے یا فدیہ لے کر یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہ کام ہے تمہارے کرنے کا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے تم کو یہ حکم اس لیے دیا کہ ایک کو دوسرے سے آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے اللہ ان کے اعمال ہرگز رائگاں نہیں کرے گا۔
    کفار کے اندر ریڑھ کی ہڈی نہیں ہے: یہ مسلمانوں کو ابھارا ہے کہ کفار حق کے سہارے سے محروم ہیں اس وجہ سے ان کے اندر ریڑھ کی ہڈی گویا نہیں ہے تو جب جنگ میں ان سے مقابلہ ہو تو بے دریغ ان کی گردنیں مارو، اللہ نے ان کو تمہارے لیے شکار اور تمہاری تلواروں کے لیے ایک لقمۂ تر بنا دیا ہے۔ یہی بات سورۂ انفال میں یوں فرمائی گئی ہے: ’فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ‘ (الانفال: ۱۲) (پس ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور اور جوڑ جوڑ پر مارو)۔ ’حَتّٰٓی اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ‘۔ ’اِثْخَان‘ کے معنی ہیں اچھی طرح خون ریزی کرنا اور ’وثاق‘ بندھن کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اچھی طرح خون ریزی کر کے ان کے کس بل نکال چکو تو جو بچ رہیں ان کو اچھی طرح بندھنوں میں باندھ لو۔ یہ تمہارے سامنے چُوں نہیں کر سکیں گے۔ ’فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا‘۔ یعنی اس کے بعد اگر یہ تمہارے ہاتھ سے چھوٹیں تو صرف دو ہی شکلوں سے چھوٹیں۔ یا تو تمہارے احسان کا قلادہ اپنی گردن میں لے کر یا فدیہ دے کر۔ اور تمہارا یہی معاملہ اس وقت تک ان کے ساتھ رہے جب تک ان کے اندر جنگ کا حوصلہ بالکل سرد نہ پڑ جائے اور یہ تمہارے آگے ڈگ نہ ڈال دیں۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں فرمائی گئی: ’وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ‘ (الانفال: ۳۹) (اور ان سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ اس سرزمین سے فتنہ کا خاتمہ ہو جائے اور دین سارے کا سارا اللہ کا ہو جائے)۔ بنی اسمٰعیل کے معاملے کی خاص نوعیت: یہ امر واضح رہے کہ جہاں تک مشرکین عرب یا بالفاظ دیگر مشرکین بنی اسماعیل کا تعلق ہے ان پر اللہ تعالیٰ نے انہی کے اندر سے ایک رسول بھیج کر ان پر حجت تمام کر دی اس وجہ سے دوسرے غیرمسلموں کی طرح ان کے لیے یہ رعایت نہیں تھی کہ وہ اسلامی حکومت کے اندر ذمی یا معاہد بن کر رہ سکیں یا ان کو غلام بنایا جا سکے۔ ان کے لیے صرف دو ہی راستے تھے یا اسلام قبول کریں یا تلوار۔ اس کے وجوہ کی تفصیل سورۂ براء ت کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ کسی مسلمان قیدی کے فدیہ میں یا نقد و جنس کی شکل میں فدیہ لے کر یا احساناً ان کے کسی قیدی کو چھوڑا بھی جا سکتا تھا اور اگر ان میں سے کوئی اپنے رویہ پر غور کرنے کے لیے امان کا طالب ہو تو اس کو امان بھی دی جا سکتی تھی لیکن بحیثیت جماعت ان کے ساتھ جنگ کی حالت اس وقت تک باقی رہنی تھی جب تک سرزمین حرم کفر و شرک کے ہر شائبہ سے پاک نہ ہو جائے۔ اس مسئلہ میں فقہاء کے اندر جو اختلافات ہیں وہ بڑی الجھن میں ڈالنے والے ہیں۔ اس کی وضاحت سورۂ براء ت کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں معاملہ زیربحث مشرکین بنی اسماعیل کا ہے، دوسرے غیرمسلموں کے مسئلہ پر یہاں بحث نہیں ہوئی ہے۔ امام ابوحنیفہؒ جو یہ فرماتے ہیں کہ مشرکین کے قیدیوں کے باب میں احسان اور فدیہ کی اجازت منسوخ ہو گئی، وہ صرف قتل کیے جا سکتے ہیں یا غلام بنائے جا سکتے ہیں، تو اس کا اتنا حصہ صحیح ہے کہ مشرکین عرب کے ساتھ یہ رعایت موقّت تھی جو بالآخر فتح مکہ کے بعد ختم ہو گئی لیکن ان کا یہ فرمانا کہ وہ غلام بنائے جا سکتے ہیں، ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔ مشرکین عرب نہ غلام بنائے جا سکتے تھے نہ ذِمّی نہ معاہد۔ امام شافعیؒ کے نزدیک امام کو اختیار ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو پیش نظر رکھ کر، اس قسم کے قیدیوں کے ساتھ چار باتوں میں سے جو بات بھی مناسب خیال کرے، کر سکتا ہے۔ چاہے قتل کرا دے، چاہے غلام بنا لے، چاہے فدیہ لے کر چھوڑ دے، چاہے احساناً چھوڑ دے۔ ہمارے نزدیک امام شافعیؒ کی یہ رائے عام غیرمسلم قیدیوں کے حد تک تو صحیح ہے لیکن مشرکین عرب کے باب میں یہ کلیہ صحیح نہیں ہے۔ وہ ذمی یا غلام نہیں بنائے جا سکتے تھے۔ یہاں اس مسئلہ کی تفصیلات میں جانے کی گنجائش نہیں ہے۔ تفصیل کے طالب ہماری کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ میں باب ’اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق‘ کا مطالعہ کریں۔ ’ذٰلِکَ وَلَوْ یَشَآءُ اللّٰہُ لَانْتَصَرَ مِنْہُمْ وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَاْ بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍ‘۔ ’ذٰلِکَ‘ ایک جملہ کا قائم مقام ہے۔ اس کی ایک سے زیادہ مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہو گا کہ یہ کام ہے جو تمہارے کرنے کا ہے۔ یا یہ کام ہے جس کے لیے کمرہمت باندھو یا یہ کام ہے جس کے لیے تمہیں ہدایت کی جاتی ہے۔ اس قسم کے اجمال کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر تفصیل بھی سما جاتی ہے اور جملہ کے اندر زور بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ جہاد کی مصلحت: ’وَلَوْ یَشَآءُ اللّٰہُ ....... الاٰیۃ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ان سے جنگ کا حکم دے رہا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ان سے نمٹنے کے لیے تمہارا یا کسی کا محتاج ہے۔ وہ چاہتا تو خود ہی کوئی ارضی یا سماوی آفت بھیج کر ان کو ٹھکانے لگا دیتا۔ ان سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے چشم زدن میں اپنے کسی عذاب سے تباہ کر دیا۔ اسی طرح اللہ ان کو بھی تباہ کر دیتا لیکن اس نے تمہیں ان سے جنگ کا حکم اس لیے دیا کہ اس طرح تمہارا اور ان کا دونوں کا امتحان ہو۔ وہ اپنے باطل کی حمایت کے لیے جو جوش و جذبہ رکھتے ہیں وہ بھی سامنے آ جائے اور تم اپنے حق کے لیے جو جذبہ و فدویت و وفاداری رکھتے ہو وہ بھی بالکل ظاہر ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ تمہارے اندر کتنے ہیں جو راست باز و وفاشعار ہیں اور کتنے ہیں جو محض منافقانہ اپنے مفادات کے لیے تمہاری صفوں میں آ گھسے ہیں۔ ایک سنت الٰہی: یہاں اس سنت الٰہی پر بھی نگاہ رہے کہ رسولوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یوں رہا ہے کہ اگر رسول پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوئی ہے تو رسول اور اس کے ساتھیوں کو ہجرت کا حکم ہوا ہے اور اس کے تمام مکذبین کو اللہ نے کسی ارضی یا سماوی عذاب سے تباہ کر دیا ہے اور اگر رسول کے ساتھیوں کی تعداد بھی معتدبہ ہوئی ہے تو ان کو جہاد کا حکم ہوا ہے اور ان کے ہاتھوں اللہ نے ان کے دشمنوں سے انتقام لیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی معاملہ ہوا۔ آپ سے پہلے بھی نبیوں اور رسولوں کو جہاد کرنا پڑا ہے۔ فرعون کے مقابل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی مدد اللہ تعالیٰ نے سمندر کے طوفان سے کی۔ پھر دریا پار کرنے کے بعد ان کو متعدد چھوٹی بڑی جنگیں خود لڑنی پڑیں جن میں بنی اسرائیل کا اچھی طرح امتحان ہو گیا۔ وہ بیشتر امتحانوں میں ناکام رہے جس کی ان کو سزا بھگتنی پڑی۔ منافقین کے ایک گمان کی تردید: ’وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْ‘۔ فرمایا کہ اس جہاد میں جو لوگ شہید ہوں گے وہ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی رائگاں نہیں کرے گا بلکہ اس قربانی کا بھرپور صلہ ان کو دے گا۔ ’فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْ‘ کے الفاظ ان منافقین کے خیال کو سامنے رکھ کر ارشاد ہوئے ہیں جن کا ذکر تفصیل سے آگے آ رہا ہے۔ یہ لوگ چونکہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے تھے اس وجہ سے ہر وہ قربانی ان کے نزدیک خسارہ کے حکم میں تھی جس کا نفع ان کو نقد نقد حاصل نہ ہو جائے۔ یہ الفاظ انہی کے خیال پر ضرب لگانے کے لیے ارشاد ہوئے ہیں۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے باب میں یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ ان کو مردہ نہ خیال کرو، وہ زندہ ہیں، وہ بھی اسی قسم کے لوگوں کی تردید میں ہے۔ ’وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا‘ میں مستقبل کی جگہ ماضی کا صیغہ اس لیے استعمال ہوا ہے کہ یہ بشارت ان لوگوں پر بھی حاوی ہو جائے جو راہ حق میں اس سے پہلے قتل ہوئے۔  
    وہ ان کی رہنمائی منزل مقصود کی طرف کرے گا اور ان کا حال سنوار دے گا۔
    اوپر والی آیت میں جو بات ’فَلَنْ یُضِلَّ أَعْمَالَہُمْ‘ کے منفی اسلوب میں فرمائی گئی ہے وہی بات یہ مثبت اسلوب میں ارشاد ہوئی تاکہ بات پوری طرح واضح اور موکد ہو جائے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہ یاب کرے گا اور ان کے جملہ حالات سنوار دے گا۔ ہدایت یاب کرنے سے مقصود یہاں منزل مقصود کی ہدایت ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی آخری منزل ۔۔۔ جنت ۔۔۔ سے ان کو ہم کنار کرے گا۔ لفظ ’ہدایت‘ قرآن میں جگہ جگہ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں، آگے بھی آئیں گی۔ ’یُصْلِحُ بَالَہُمْ‘ کے اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو اہل جنت کی سرفرازی و فیروز مندی سے متعلق قرآن میں مذکور ہوئی ہے بلکہ اس اجمال کے اندر ایک نہایت لطیف اشارہ ان فیروز مندیوں کی طرف بھی ہے جن کا ذکر ’فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِیَ لَہُم مِّن قُرَّۃِ أَعْیُنٍ‘ (السجدہ: ۱۷) کے الفاظ سے ہوا ہے۔
    اور ان کو جنت میں داخل کرے گا، جس کی ان کو شناخت کرا دی ہے۔
    جنت کا وعدہ کوئی مبہم وعدہ نہیں ہے: ’وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ‘ یہ اسی ہدایت کی تفصیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ اس جنت کے باب میں فرمایا کہ ’عَرَّفَہَا لَہُمْ‘ اللہ نے اچھی طرح اس کی شناخت کرا دی ہے۔ اس تصریح کی ضرورت اس وجہ سے ہوئی کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جنت کا یہ وعدہ ایک مجمل و مبہم وعدہ ہے، کچھ نہیں معلوم کہ اس اسم کا مسمیٰ کیا ہے! اگر کوئی معاہدہ مبہم ہو، اس کی تفصیلات واضح نہ ہوں تو کمزور فریق برابر اندیشہ میں رہتا ہے کہ معلوم نہیں وقت پر اس کی تفسیر و تاویل سامنے آئے۔ جنت کے وعدے سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس قسم کے اندیشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ کیا ہے کہ اس کی ساری تفصیلات سے ان کو قرآن میں آگاہ کر دیا ہے اور جو باتیں تعبیر و بیان کی گرفت میں نہیں آ سکتی ہیں ان کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے تاکہ بندوں کو پورا اطمینان رہے کہ جس چیز کے عوض میں انھوں نے اپنی جانیں اپنے رب کے حوالہ کی ہیں وہ کوئی مبہم شے نہیں ہے بلکہ اس کی ساری تفصیلات طے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان میں سے ہر بات کے پورا کرنے کا ذمہ لیا ہے بلکہ ان پر مزید اضافوں کا وعدہ فرمایا ہے۔ جنت کی یہ تعریف یوں تو پورے قرآن ہی میں بیان ہوئی ہے لیکن خاص طور پر اس سورہ میں بھی اس کی تفصیل مذکور ہوئی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت ۱۵۔ یہ امر واضح رہے کہ ’عَرَّفَہَا لَہُمْ‘ کے الفاظ یہاں ’جنت‘ کی صفت کے طور پر نہیں آئے ہیں۔ ایسا ہوتا تو لفظ ’جنت‘ کو نکرہ آنا تھا بلکہ ان کی حیثیت مستتقل جملہ کی ہے اور اس کے مستقل جملہ ہونے ہی سے وہ مفہوم پیدا ہوتا ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔
    اے ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم اچھی طرح جمائے گا۔
    نصرت الٰہی کا ظہور کب ہوتا ہے: یہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ تمہارے کرنے کا کام یہ ہے کہ اللہ اور اس کے دین کی نصرت کے لیے اٹھ کھڑے ہو۔ اگر تم عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تو آگے کا کام تمہارا رب سنبھال لے گا۔ وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم اس طرح جمائے گا کہ کوئی ان کو اکھاڑ نہ سکے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی راہ میں پہلا قدم وہ اٹھائیں۔ اگر انھوں نے یہ قدم اٹھادیا تو اس کے بعد اس کی شانیں ظاہر ہوں گی۔ ان لوگوں کے لیے اس کی مدد نہیں نازل ہوتی جو گھروں میں بیٹھے بیٹھے اس کا انتظار کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے نازل ہوتی ہے جو اپنے آپ کو میدان میں ڈال دیتے ہیں پھر اس کی نصرت کا انتظار کرتے ہیں۔
    رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو ان کے لیے ہلاکی ہے اور اللہ نے ان کے اعمال رائگاں کر دیے۔
    ’وَالَّذِیْنَ کَفَرُوۡا فَتَعْسًا لَّہُمْ‘۔ یہ کفار کا حشر بتایا کہ ان کے لیے خدا کی پھٹکار ہے اور ان کے تمام اعمال برباد و رائگاں ہو کر رہیں گے۔ ان کو جو مہلت ملی وہ محض امتحان اور اتمام حجت کے لیے ملی۔ اب اگر تم ان سے نمٹنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو گے تو دیکھو گے کہ ان کی ساری کوششیں نابود ہو جائیں گی۔ ’تَعْسًا لَّہُمْ‘ لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے اور اس کا استعمال اسی طرح معروف ہے۔
    یہ اس سبب سے کہ انھوں نے اس چیز کو برا جانا جو اللہ نے اتاری پس اللہ نے ان کے اعمال ڈھا دیے۔
    کفار کی نامرادی کا سبب: ’ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ کَرِہُوۡا مَا أَنزَلَ اللَّہُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَہُمْ‘۔ یہ سبب بتایا ہے اس بات کا کہ کیوں یہ اس قدر بودے، بے ثبات اور خدا کی لعنت کے مستحق بن گئے ہیں؟ فرمایا کہ یہ اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اس چیز سے نفرت کی جو ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اتاری اور اپنی بدعتوں اور ضلالتوں کے ساتھ چمٹے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے وہ اعمال بھی خدا نے رائگاں کر دیے جو انھوں نے دین کے کام سمجھ کر کیے۔ یہ ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو تھے تو نیکی کے لیکن ان کے شرک کے سبب سے وہ بالکل لاحاصل ہو کے رہ گئے۔ اس طرح کے کاموں میں سے بعض کا قرآن نے سورۂ براء ت میں حوالہ بھی دیا ہے۔ مثلاً حرم کا اہتمام و انتظام اور حجاج کی خدمت۔ مشرکین کو اپنی ان خدمات پر بڑا ناز تھا۔ لیکن یہ تمام دین داریاں خدا کی میزان میں بالکل بے وزن ثابت ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول صرف وہی اعمال ہوتے ہیں جو اس کے شرائط پر انجام دیے جائیں وہ کسی کی نیکی کا محتاج نہیں ہے کہ جس طرح بھی کوئی نیک عمل کر دیا جائے وہ ممنون ہو کر اس کو قبول کر لے۔
    کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہو چکا ہے ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ نے ان کو پامال کر چھوڑا اور ان کافروں کے سامنے بھی انہی کی مثالیں آنی ہیں۔
    کفار قریش کی بے بصیرتی: یہ ان مشرکین کی کورچشمی اور بے بصیرتی پر اظہار افسوس ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے ملک میں اس مقصد سے چلے پھرے نہیں کہ ان قوموں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں، اللہ نے ان کو بالکل پامال کر دیا! آیت کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ لوگ چلے پھرے تو ہیں، اپنے تجارتی سفروں پر برابر نکلتے رہے ہیں لیکن ان بستیوں پر کبھی عبرت کی نگاہ انھوں نے نہیں ڈالی جو کسی زمانے میں عظیم قوموں کا مسکن تھیں لیکن اب وہ ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ یہ اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں سنائی جا چکی ہیں۔ ’وَلِلْکَافِرِیْنَ أَمْثَالُہَا‘۔ فرمایا کہ کافروں کے لیے تو انہی کی مثالیں ہیں یعنی جب وہ اپنے کفر اور اپنی تکذیب کے نتیجہ میں اس انجام کو پہنچیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ (قریش) انہی کی روش اختیار کر کے اس سے کسی مختلف انجام سے دوچار ہوں۔ اللہ کا قانون سب کے لیے ایک ہی ہے ۔۔۔ اوپر آیت ۳ ’کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَہُمْ‘ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
    یہ اس وجہ سے کہ اللہ اہل ایمان کا کارساز ہے اور کافروں کا کارساز کوئی بھی نہیں۔
    کفار کا کوئی کارساز نہیں: یعنی اس کائنات کا حقیقی کارساز و کارفرما تو اللہ تعالیٰ ہے اور وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے تو وہ کفار ان کے مقابل میں کیا وزن رکھتے ہیں جن کا کوئی کارساز نہیں۔ وہ جن کو اپنا کارساز سمجھے ہوئے ہیں وہ نہ تو اس دنیا میں ان کے کام آنے والے ہیں، نہ آخرت میں ۔۔۔ اوپر آیت ۳ میں یہی مضمون ایک دوسرے اسلوب سے گزر چکا ہے۔ وہ بھی پیش نظر رہے۔
    بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اسی طرح بہرہ مند ہو رہے اور کھا رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں۔ دوزخ ان کا ٹھکانا ہے۔
    یہ اہل ایمان کے اعمال کے مثمر اور کفار کے اعمال کے رائگاں ہونے کی مزید وضاحت اور اس شبہ کا جواب ہے کہ جب کفار کے اعمال کی کوئی حیثیت نہیں تو اس دنیا میں وہ کیوں دندناتے پھر رہے ہیں؟ فرمایا کہ اہل ایمان کو تو اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ رہے یہ کفار تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس دنیا میں ان کو کھانے بلسنے کی جو مہلت ملی ہے یہ کوئی خوش انجام چیز نہیں ہے۔ ان کا کھانا پینا جانوروں کے مانند ہے۔ یہ عقل و خرد سے عاری اور ان حقوق کے شعور سے بالکل نابلد ہیں جو اللہ کی نعمتیں ان پر عائد کرتی ہیں اس وجہ سے یہ چند روز ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا لیں لیکن یہ ان کے لیے موجب وبال ہوں گی اور ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔
    اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو قوت میں تمہاری اس بستی سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں جس نے تم کو نکالا ہے۔ ہم نے ان کو ہلاک کر چھوڑا پس کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ بن سکا۔
    یعنی کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ آج قریش کو بڑا زور و دبدبہ حاصل ہے، جب انھوں نے رسول اور اس کے ساتھیوں کو مکہ سے نکال چھوڑا تو ایسے زور آور لوگوں کو کون زیر کر سکتا ہے! فرمایا کہ کتنی بستیاں تھیں جو قوت و شوکت میں اس سے بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ نے ان کو تباہ کر دیا اور کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ بن سکا۔ یہ عاد و ثمود وغیرہ کی طرف اشارہ ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں سنائی جا چکی ہیں اور قریش کو جن کی شوکت و عظمت کا پورا اعتراف تھا۔ ’فَلَا نَاصِرَ لَہُمْ‘ میں ان کی اس دنیوی جمعیت کی نصرت کی بھی نفی ہے جس پر ان کو بڑا ناز اور اعتماد تھا اور ان مزعومہ شرکاء کی نصرت کی بھی نفی ہے جن کو وہ خدا کے مقابل میں اپنی سپر سمجھے ہوئے تھے۔
    کیا وہ جو اپنے رب کی طر ف سے ایک روشن دلیل پر ہیں ان لوگوں کے مانند ہو جائیں گے جن کی بدعملی ان کی نگاہوں میں کھبا دی گئی ہے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے!
    اہل ایمان کے حسن انجام پر عقل و فطرت کی گواہی: اوپر کی آیت میں ان کے دنیوی انجام کی طرف اشارہ تھا اور اس کی دلیل تاریخ کی مثالوں سے پیش کی گئی ہے۔ یہ ان کے اخروی انجام کی طرف اشارہ ہے اور اس پر انسان کی عقل و فطرت کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے۔ فرمایا کہ کیا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہیں اور اس روشنی میں وہ چلتے ہیں اور وہ لوگ جن کی نگاہوں میں ان کی بدعملی کھبا دی گئی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں دونوں یکساں ہو جائیں گے؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یہ بات عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے اور اس کا بنانے والا نعوذ باللہ ایک کھلنڈرا ہے! لفظ ’بَیِّنَۃٌ‘ پر سورۂ یونس میں مفصل بحث ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک حجت قاطع خود انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرمائی ہے اور اس کی مزید تائید اپنی وحی کی روشنی سے کی ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل کر انسان کے باطن کو، جیسا کہ سورۂ نور کی تفسیر میں وضاحت ہو چکی ہے، ’نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ‘ بنا دیتی ہے جس کی جگمگاہٹ لازماً اس کی ظاہری زندگی میں بھی نمایاں ہوتی ہے۔ برعکس اس کے جو شخص اپنی فطرت کے چراغ کو گل کر دیتا ہے وہ وحی کے نور سے بھی محروم رہتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ظاہر و باطن دونوں ہی تاریک ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کے ظاہر اور باطن دونوں میں اتنا عظیم تفاوت ہے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں کس طرح ہو سکتے ہیں! اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ اہل ایمان کے ذکر میں تو صرف ان کے باطن کو نمایاں کیا ہے، ان کے ظاہر کا ذکر نہیں کیا ہے؛ اور اہل کفر کے ذکر میں ان کے ظاہر کا حوالہ دیا ہے، ان کے باطن کو نظرانداز کر دیا ہے۔ آپ تقابل کے اس اصول کی روشنی میں، جس کی مثالیں ہم دیتے آ رہے ہیں، اس خلا کو بھر لیجیے تب اس آیت کی بلاغت واضح ہو گی۔ آیت میں ’مَنْ‘ کے لیے ضمیریں اور فعل واحد اور جمع دونوں شکلوں میں استعمال ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واحد جمع، مذکر و مؤنث، سب میں مشترک ہے۔
    اس جنت کی مثال جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں نہریں ہوں گی پانی کی جس میں ذرا بھی تغیر نہ ہوا ہو گا، اور نہریں ہوں گی دودھ کی جس کا ذائقہ تبدیل نہ ہوا ہو گا اور نہریں ہوں گی شراب کی جو پینے والوں کے لیے یکسر لذت ہوں گی اور نہریں ہوں گی صاف شفاف شہد کی اور اس میں ان کے لیے ہر قسم کے پھل بھی ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت بھی! کیا یہ لوگ جن کو یہ نعمتیں حاصل ہوں ان لوگوں کے مانند ہوں گے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جن کو اس میں گرم پانی پلایا جائے گا پس وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے کر کے رکھ دے گا۔
    جنت کی تمثیل: یعنی جب دونوں گروہوں کا انجام یکساں ہونا عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے تو لازم ہے کہ جس نے پاکیزہ فطرت اور اللہ کی ہدایت کی روشنی میں زندگی گزاری اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے نوازے اور جس نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی وہ اپنی ضلالت پسندی کی قرار واقعی سزا بھگتے۔ چنانچہ دونوں کا انجام بالکل مختلف ہوگا۔ اللہ نے اپنے متقی بندوں سے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے جس کی تمثیل یہ ہے کہ اس میں بے آمیز خالص پانی کی نہریں ہوں گی، غیر متغیر دودھ کے چشمے ہوں گے، شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لیے ہر فساد و ضرر سے پاک، یکسر لذت ہی لذت ہوں گی، اسی طرح صاف شفاف شہد کی نہریں ہوں گی، مزید برآں ان کے لیے ہر قسم کے میوے بھی ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مستقل مغفرت کی بشارت بھی۔ برعکس اس کے دوسرے گروہ کے لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ان کی پہلی ہی ضیافت ایسے گرم پانی سے ہو گی جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ نعمتوں کے بے آمیز ہونے کے پہلو پر ایک نظر: یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ جنت کی جن نعمتوں کا ذکر ہوا ہے ان کے خالص اور بے آمیز ہونے کو خاص طور پر نمایاں فرمایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نعمتیں جتنی بھی ہیں سب کا اصلی منبع جنت ہی ہے لیکن اس عالم ناسوت میں جب ہمیں وہ ملتی ہیں تو اتنے مراحل اور اتنے وسائل و وسائط سے گزر کر ملتی ہیں کہ ان کی حقیقت و ماہیت بھی بالکل بدل جاتی ہے اور ان کی شکل و صورت بھی بالکل مسخ ہو کے رہ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر سب سے زیادہ عام چیز پانی ہی کو لیجیے، یہ فضاؤں، بادلوں، ہواؤں، دریاؤں، ندیوں، نالوں اور زمین کی تہوں کے کتنے مراحل طے کر کے ہم تک پہنچتا ہے! ظاہر ہے کہ ہر مرحلہ کے اثرات سے یہ متاثر ہوتا ہے جس کے سبب سے اس کا وہ مزاج، جو اس کے اصل منبع یعنی جنت میں ہے، بالکل بدل جاتا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس دودھ کو لیجیے۔ اس دنیا میں یہ جن راستوں سے گزر کر ہمیں ملتا ہے اس کے متعلق خود قرآن کا بیان ہے کہ وہ ’مِنْ م بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ‘ (النحل: ۶۶) یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔ غور کیجیے کہ جنت کی جو نعمت اس راستہ سے گزر کر ہم تک پہنچے گی وہ اپنی اصلی مزاجی خصوصیات پر کس طرح باقی رہ سکے گی۔ اس وجہ سے جنت کے دودھ اور شہد اور اس دنیا کے دودھ اور شہد میں اتنا ہی فرق ہے جتنا فرق آسمان و زمین میں ہے۔ یہاں کی نعمتوں سے وہاں کی نعمتوں کا ایک مبہم سا تصور تو آپ کر سکتے ہیں اور یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی بھی اسی لیے ہیں کہ ہم ان مجازی نعمتوں سے ان حقیقی نعمتوں کا تصور کر سکیں لیکن دونوں میں نسبت بہرحال حقیقت و مجاز ہی کی ہے۔ اس نسبت کو نظر اندازنہیں کرنا چاہیے۔ خالص نعمتیں سلیم الفطرت لوگوں کے لیے خاص ہیں: آیت ۱۴ کے ساتھ اس آیت کے ربط پر اگر اچھی طرح تدبر کیجیے تو یہ حقیقت بھی سامنے آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں، ان کی اصل شکل میں، اپنے ان بندوں کے لیے خاص کر رکھی ہیں جو اپنی فطرت کو، جس کو اللہ تعالیٰ نے ’فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا‘ (الروم: ۳۰) سے تعبیر فرمایا ہے، ہر قسم کے خلل و فساد سے محفوظ رکھیں گے اور قلب سلیم کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹیں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنی فطرت کو مسخ کر کے اپنی خواہشوں کے غلام بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قلب سلیم کو گندگیوں سے آلودہ کر لیں گے تو ان کے لیے ان نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ انھوں نے جتنا فائدہ اٹھانا تھا اس دنیا میں اٹھا لیا۔ آخرت میں ان کے لیے وہ عذاب ہی ہے جو اپنی فطرت کو مسخ کرنے کا لازمی نتیجہ ہے۔ آیت کا مدعا سمجھ لینے کے بعد ایک نظر الفاظ اور جملوں کے در و بست پر بھی ڈال لیجیے۔ ’اٰسِنْ‘ صفت کے طور پر اس پانی کے لیے آتا ہے جس کا رنگ اور ذائقہ تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ فاسد پانی سے جو فساد نظام جسم میں پیدا ہوتا ہے اس کا علاج کسی طبیب کے پاس نہیں ہے۔ دودھ سے متعلق فرمایا کہ ’لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ‘ (اس کا ذائقہ تبدیل نہ ہوا ہو گا)۔ اس سے مراد ذائقہ کی وہ تبدیلی ہے جو اس کے فساد سے نمایاں ہوتی ہے۔ دودھ فطری غذا کی حیثیت رکھتا ہے اس وجہ سے اس کا فساد بھی ایک اہم فساد ہے۔ ’خَمْرٌ‘ کی صفت ’لذت‘ میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے جس طرح ’زَیْدٌ عَدْلٌ‘ میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ یعنی وہ یکسر لذت ہی لذت ہو گی، پینے والے اس سے نہ کسی قسم کی تلخی، ناگواری یا خمار کا احساس کریں گے نہ وہ بدمستی اور گناہ کی محرک ہو گی۔ ’عَسَلٌ‘ کے ساتھ ’مُصَفًّی‘ کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اس دنیا میں جو شہد میسر آتا ہے وہ بہرحال مکھیوں ہی کے واسطہ سے میسر آتا ہے جو ان کے غل و غش سے پاک نہیں ہو سکتا۔ جنت کا شہد اپنے اصل منبع سے نکلا ہوا ہو گا۔ اس پر کوئی مگس کی قے ہونے کی پھبتی چست نہ کر سکے گا۔ ’وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ‘ کا ذکر آخر میں جنت کی سب سے بڑی نعمت کی حیثیت سے آیا ہے اس لیے کہ خدا کی مغفرت اور خوشنودی ہی ہے جو ان تمام نعمتوں کی ضامن بھی ہو گی اور اسی سے آگے کے مدارج کی راہیں بھی کھلیں گی۔ ’کَمَنْ ھُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ‘ سے پہلے ’اَفَمَنْ کَانَ لَہٗ مثل ھٰذِہِ الْجَنَّۃ‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ بربنائے قرینہ محذوف ہیں۔ استفہامیہ اور شرطیہ جملوں میں اس قسم کا حذف معروف ہے۔ پیچھے اس کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ ’مَآءٌ حَمِیْمٌ‘ کا ذکر اہل دوزخ کے لیے ’نُزُلٌ‘ یعنی اولین سامان ضیافت کی حیثیت سے آیا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اہل دوزخ کی پہلی ضیافت کھولتے پانی سے ہو گی۔ اس کے بعد ان کے لیے ہر قسم کے عذاب کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List