Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الاحقاف (Winding Sand-tracts, The Wind-curved Sandhills, The Dunes)

    35 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ اس گروپ کی آخری مکی سورہ ہے۔ اس کے بعد تین سورتیں مدنی ہیں جن میں انہی وعدوں اور وعیدوں کی تکمیل ہے جن کا پچھلی مکی سورتوں میں ذکر ہوا ہے۔ اس کا قرآنی نام وہی ہے جو پچھلی سورہ کا ہے اور اس کی تمہید بھی بعینہٖ وہی ہے جو پچھلی سورہ کی ہے۔ اس میں مخالفین قرآن کو نہایت آشکارا الفاظ میں آگاہ کیا گیا ہے کہ قرآن جس روز قیامت سے تم کو خبردار کر رہا ہے وہ ایک امر شدنی ہے۔ شرک و شفاعت کے بل پر اگر تم اس انذار کو نظر انداز اور پیغمبرؐ کو ایک مفتری قرار دے رہے ہو تو یاد رکھو کہ تمہارے ان اوہام کے حق میں عقل و نقل کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ برعکس اس کے یہ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کی شہادت اس کے نزول سے پہلے ہی بنی اسرائیل کے ایک عظیم شاہد نے بھی دی ہے اور اس کی پیشین گوئیاں تورات میں بھی موجود ہیں جن کا یہ ٹھیک ٹھیک مصداق ہے اس وجہ سے تمہیں یہود اور نصاریٰ کی شہ سے بھی کسی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے، یہ لوگ تو خود اپنے رسولوں اور اپنے صحیفوں کو جھٹلا رہے ہیں۔
    اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت واضح الفاظ میں تسلی دی ہے کہ ان مخالفین کی ذرا پروا نہ کرو۔ تمہاری ذمہ داری لوگوں تک اس کتاب کو پہنچا دینے کی ہے۔ اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جن کی طبیعت میں سلامت روی، حق شناسی اور عاقبت بینی ہے۔ ان لوگوں سے کسی خیر کی امید نہ رکھو جو بالکل مادر پدر آزاد ہیں۔ تم جو چیز پیش کر رہے ہو اس کی اثر آفرینی کا حال تو یہ ہے کہ راہ چلتے جنوں کے کان میں بھی اس کے کلمات پڑ گئے ہیں تو وہ بھی اس پر فریفتہ ہو گئے ہیں۔ اگر ان لوگوں پر اس کا اثر نہیں پڑ رہا ہے تو یہ اس کلام کی کوئی خرابی نہیں بلکہ ان کے دلوں ہی کی خرابی ہے۔ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کرو اوران کو ان کے انجام کے حوالہ کرو جس کے ظہور میں اب زیادہ دیر نہیں ہے۔

  • الاحقاف (Winding Sand-tracts, The Wind-curved Sandhills, The Dunes)

    35 آیات | مکی

    الجاثیہ ۔ الاحقاف

    ۴۵ ۔ ۴۶

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے۔اِس کا جو پہلو، البتہ دونوں سورتوں میں نمایاں ہے، وہ مخاطبین کے اعتراضات و شبہات کی تردید اور اُن کے اُس رویے پر تہدید ہے جو وہ قرآن اور اُس کی دعوت کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ دونوں سورتوں کو ایک ہی آیت سے شروع کرکے قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف خود اشارہ کر دیا ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضامین سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔


  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 046 Verse 001 Chapter 046 Verse 002 Chapter 046 Verse 003 Chapter 046 Verse 004 Chapter 046 Verse 005 Chapter 046 Verse 006 Chapter 046 Verse 007 Chapter 046 Verse 008 Chapter 046 Verse 009 Chapter 046 Verse 010 Chapter 046 Verse 011 Chapter 046 Verse 012 Chapter 046 Verse 013 Chapter 046 Verse 014
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ حٰمٓ ہے۔
    یہ دونوں آیتیں پچھلی سورہ کی تمہید میں بھی گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی وضاحت بھی ہو چکی ہے۔ بعینہٖ اسی نام اور اسی تمہید سے اس سورہ کا آغاز نہایت واضح قرینہ اس بات کا ہے کہ دونوں میں نہایت واضح قدر مشترک موجود ہے۔ چنانچہ آگے کے مباحث سے ان کے اشتراک کا پہلو بھی سامنے آجائے گا اور جملہ حوامیم کا، جو پیچھے گزر چکی ہیں، خلاصہ بھی معلوم ہو جائے گا۔
    یہ کتاب نہایت اہتمام کے ساتھ خدائے عزیز و حکیم کی طرف سے اتاری گئی ہے۔
    یہ دونوں آیتیں پچھلی سورہ کی تمہید میں بھی گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی وضاحت بھی ہو چکی ہے۔ بعینہٖ اسی نام اور اسی تمہید سے اس سورہ کا آغاز نہایت واضح قرینہ اس بات کا ہے کہ دونوں میں نہایت واضح قدر مشترک موجود ہے۔ چنانچہ آگے کے مباحث سے ان کے اشتراک کا پہلو بھی سامنے آجائے گا اور جملہ حوامیم کا، جو پیچھے گزر چکی ہیں، خلاصہ بھی معلوم ہو جائے گا۔
    ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو نہیں پیدا کیا مگر ایک غایت اور معین مدت کے لیے۔ اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اس چیز سے اعراض کیے ہوئے ہیں جس سے ان کو آگاہ کیا گیا ہے۔
    یہ ان لوگوں کے حال پر اظہار افسوس ہے جو خدائے عزیز و حکیم کے اتارے ہوئے اس صحیفۂ گرامی کی تکذیب پر مصر اور اس چیز سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے تھے جس سے آگاہ کرنے کے لیے اللہ نے اس کو نازل کیا تھا۔ اس دنیا کے بامقصد ہونے کا تقاضا ہے کہ اس کے بعد روز جزا ہو۔ ’عَمَّا أُنذِرُوْا‘ سے اشارہ ظاہر ہے کہ قیامت کی طرف ہے اور قیامت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو نہ ماننے سے یہ سارا کارخانۂ عالم ایک بالکل عبث اور بے مقصد و بے غایت کھیل بن کے رہ جاتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ عالم ’بِالْحَقِّ‘ یعنی ایک غایت و مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ’عزیز‘ یعنی غالب و مقتدر ہونے کے ساتھ ’حکیم‘ بھی ہے۔ اگر قیامت نہ ہو تو اس دنیا کو دیکھ کر یہ بات تو ثابت ہو گی کہ اس کے بنانے والے کی قدرت بے نہایت ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ اس نے یہ ایک بالکل بے مقصد اور باطل کام کر ڈالا ہے۔ حالانکہ یہ بات اس کی ظاہر صفات کے بالکل منافی ہے۔ اس دنیا سے جس طرح اس کی قدرت ظاہر ہوتی ہے اسی طرح اس کی حکمت بھی مشاہدے میں آتی ہے اور یہ دونوں صفتیں بالکل پہلو بہ پہلو اس میں موجود ہیں۔ یہاں زبان کا وہ نکتہ یاد رکھیے جس کا ذکر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کر چکے ہیں کہ جب صفات کا بیان بغیر حرف عطف کے ہو جس طرح ’العزیز الحکیم‘ میں ہے تو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ صفات موصوف میں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔ ’بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّی‘ یعنی جس طرح اس کائنات کا ’بِالْحَقِّ‘ ہونا واضح ہے اسی طرح اس کے ’بالحق‘ ہونے کا ایک بدیہی تقاضا یہ بھی ہے کہ دنیا اسی طرح برابر چلتی نہ رہے بلکہ ضروری ہے کہ یہ ایک معین مدت تک کے لیے ہو جس کے بعد یہ ختم ہو۔ پھر اس کی عدالت قائم ہو۔ جس نے اس میں نیکی کمائی ہو اس کو اس کی نیکی کا صلہ ملے اور جس نے بدی کمائی ہو وہ اپنی بدی کی سزا بھگتے۔ ایک سوال اور اس کا جواب: یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہ بات تو معقول معلوم ہوتی ہے کہ ہر شخص اپنی نیکی یا بدی کی جزا یا سزا پائے لیکن اس کے لیے یہ کیا ضروری ہے کہ یہ پوری دنیا ایک معین مدت کے بعد ختم ہو جائے، کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ برابر قائم بھی رہے اور جو مرتے جائیں ان کی عدالت بھی ہوتی رہے؟ یہ سوال یوں تو ذہن میں متعدد غلط فہمیوں کے موجود ہونے کے سبب سے پیدا ہوتا ہے جن پر یہاں بحث کے لیے گنجائش نہیں ہے لیکن ایک چیز کی طرف ہم یہاں اشارہ کریں گے، وہ یہ کہ انسان کا ہر عمل خواہ نیکی کا عمل ہو یا بدی کا، اپنے اندر متعدی ہونے کی خصوصیات رکھتا ہے۔ ایک شخص ایک نیکی کا تخم بوتا ہے جس کی برکتوں سے صدیوں اور قرنوں تک اولاد آدم مستفید ہوتی ہے، اسی طرح ایک شخص ایک غلط اور گمراہ کن فلسفہ ایجاد کرتا ہے جس کی ضلالت ایک خلق کثیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پھر وہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ اتنی مستحکم ہوتی جاتی ہے کہ اس کو اکھاڑنا تو درکنار، قوموں کے بعد قومیں اٹھتی اور اپنی صلاحیتیں ان کو پروان چڑھانے پر صرف کرتی ہیں۔ اس صورت حال کے سبب سے کسی کی نیکی یا بدی کا صحیح اندازہ اس کو کرانا ہو تو یہ ضروری ہو گا کہ ان کے بعید سے بعید اثرات اس کے سامنے لائے جائیں اور عناصر کائنات میں سے جو بھی اس کی کسی نیکی یا بدی کے گواہ ہوں ان کو پیش کیا جائے۔ اس کے بغیر کامل عدل ظہور میں نہیں آ سکتا۔ اس وجہ سے یہ ضروری ہوا کہ ایک دن اس دنیا کی مدت پوری ہو اور اللہ تعالیٰ ایک ایسی عدالت میں لوگوں کا فیصلہ فرمائے جس میں سب حاضر ہوں۔ یہاں تک کہ آسمان اور زمین سے بھی اگر کسی معاملہ میں گواہی مطلوب ہو تو ان کو بھی ان کے سارے ریکارڈ کے ساتھ طلب کیا جائے۔ یہ چیز ظاہر ہے کہ اسی صورت میں ممکن ہے جب سب کا روز انصاف ایک ہو۔
    ان سے کہو کہ کبھی تم نے غور بھی کیا ان چیزوں پر جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو! مجھے دکھاؤ کہ زمین کی چیزوں میں سے انھوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے یا ان کا آسمانوں میں کون سا ساجھا ہے! میرے سامنے اس سے پہلے کی کوئی کتاب پیش کرو یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔
    شرک کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے: یہ ان لوگوں کے اعراض کے اصل سبب پر ضرب لگائی ہے کہ ان کا اعتماد چونکہ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر ہے اس وجہ سے یہ قرآن کے انذار کی کوئی پروا نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اول تو قیامت محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور اگر اس کی کچھ حقیقت ہے بھی تو ہم جن معبودوں کی پرستش کر رہے ہیں وہ ہم کو ہر خطرے سے بچائیں گے۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے کہو کہ تم اللہ کے سوا جن چیزوں کو پکارتے ہو کبھی ان پر غور بھی کیا ہے کہ ان کی کچھ حقیقت بھی ہے یا یہ محض تمہارے ذہن ہی کی ایجاد ہیں! اگر تم ان کی کچھ حقیقت سمجھتے ہو تو ذرا مجھے بھی دکھاؤ کہ انھوں نے زمین یا اس کی چیزوں میں سے کیا چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے! مطلب یہ ہے کہ خدا کے شریک بننے کے حق دار تو صرف اسی شکل میں وہ ہو سکتے ہیں جب آسمان و زمین کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہو۔ اگر اس میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے تو آخر ان کو اس خدا کے حقوق میں شریک کرنے کے کیا معنی جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا خالق ہے۔ وہ خالق ہو کر کس طرح گوارا کرے گا کہ اس کی پیدا کی ہوئی دنیا کے مالک دوسرے بن بیٹھیں! اور تم نے یہ کس طرح جائز سمجھا کہ اس کی اجازت کے بغیر دوسروں کو اس کی حکومت اور اس کے حقوق میں شریک بنا دو! یہ امر یہاں واضح رہے کہ مشرکین عرب ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ اس وجہ سے اس دلیل کی بنیاد ایک ایسی حقیقت پر ہے جو ان کے نزدیک بھی مسلم تھی۔ ’اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ‘۔ ’اَثَارَۃٍ‘ اس روایت کو کہتے ہیں جو سلف سے منقول ہوتی چلی آرہی ہو۔ ’الاثارۃ البقیۃ من العلم توثروھم علی اثارۃ من العلم ای بقیۃ منہ یاثرونھا من الاولین‘ (اقرب الموارد) اس کے ساتھ ’مِنْ عِلْمٍ‘ کی قید اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ اس روایت کی بنیاد محض وہم و گمان پر نہیں بلکہ علم پر ہے۔ خدا کی گواہی کے معلوم کرنے کا قابل اعتماد ذریعہ: یعنی اگر تم مدعی ہو کہ خدا نے تمہارے معبودوں کو اپنی خدائی میں شریک بنایا ہے تو اپنے اس دعوے کی سچائی ثابت کرنے کے لیے یا تو اس قرآن سے پہلے کی کوئی کتاب پیش کرو یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد وہم و گمان پر نہیں بلکہ علم پر ہو۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کا کوئی شریک ہے یا نہیں؟ اس باب میں اصلی گواہی خود خدا ہی کی ہو سکتی ہے کہ اس نے اپنا شریک کسی کو بنایا ہے یا نہیں اور بنایا ہے تو کس کو؟ خدا کی گواہی کو جاننے کا واحد ذریعہ اس کی نازل کردہ کتابیں ہیں یا وہ روایات و آثار جو اس کے نبیوں اور رسولوں سے صحیح طور پر سلف سے خلف کو منتقل ہوئے۔ فرمایا کہ اس طرح کی کوئی چیز ہو تو اس کو پیش کرو، محض وہم کی بنیاد پر ایک ہوائی قلعہ تعمیر کر کے اپنی عاقبت نہ خراب کرو۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ علم یا تو اس کی کتابوں کے ذریعہ سے خلق کو منتقل ہوا ہے مثلاً تورات و انجیل وغیرہ کے ذریعہ سے یا روایات و آثار کے ذریعہ سے، مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کی تعلیمات بعد والوں کو روایات ہی کے ذریعہ سے پہنچیں۔ ان ذرائع سے جو علم منتقل ہوا اس میں کہیں شرک کے حق میں کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ تورات، انجیل اور دوسرے صحیفوں میں اگرچہ بہت سی تحریفات ہو چکی ہیں تاہم ان کے اندر شرک کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق جو روایات، تورات، انجیل یا دوسرے صحیفوں میں نقل ہوئی ہیں ان میں بھی شرک کا کوئی جرثومہ نہیں ہے۔ مشرکین عرب اپنے باپ دادا کے طریقہ پر ہونے کے مدعی ضرور تھے لیکن قرآن کے بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ یہ ثابت کرنے سے قاصر رہے کہ ان کے باپ دادا کے طریقہ کی بنیاد کسی شرعی یا عقلی دلیل پر تھی۔ آخر تک وہ یہی کہتے رہے کہ جس طریقے پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اسی پر ہم چلتے رہیں گے، اس سے بحث نہیں کہ انھوں نے یہ طریقہ کہاں سے لیا۔
    اور ان سے بڑھ کر گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ان کی دہائی دیتے ہیں جو تاقیامت ان کو جواب دینے والے نہیں ہیں اور وہ ان کی دعاؤں سے بے خبر بھی ہیں!
    مشرکین کے معبودوں کی بے حقیقتی اور بے خبری: یہ ان نادانوں کے حال پر اظہار افسوس ہے کہ ان لوگوں سے بڑھ کر گمراہ اور محروم القسمت کون ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ان سے دعا و فریاد کر رہے ہیں جو قیامت تک ان کو کوئی جواب دینے والے نہیں ہیں اور جن کا حال یہ ہے کہ انھیں خبر بھی نہیں کہ کوئی ان سے دعا و فریاد کر رہا ہے! قیامت کے دن ان کی طرف سے کوئی مدد ملنا تو درکنار وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ مشرکین جن کی پرستش کرتے تھے وہ یا تو فرضی ہستیاں تھیں جن کا کوئی مسمیٰ سرے سے موجود ہی نہ تھا، اس وجہ سے ان کے کسی چیز سے باخبر ہونے یا کسی دعا کے قبول کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہی وہ ہستیاں جن کی کچھ حقیقت ہے مثلاً ملائکہ یا جنات جن کی پرستش مشرکین عرب کرتے تھے یا حضرت مسیح علیہ السلام جن کی پرستش عیسائی کرتے تھے وہ تو بذات خود کسی کی دعا و فریاد سے واقف بھی نہیں ہو سکتے چہ چائیکہ اس کو قبول کر سکیں۔ سورۂ مائدہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن سوال کرے گا کہ کیا تم نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بناؤ؟ وہ جواب دیں گے کہ میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا تھا جس کا مجھے کوئی حق نہیں تھا! میں نے ان کو وہی بتایا جس کا تو نے مجھے حکم دیا۔ میرے بعد انھوں نے کیا بنایا اس کی خبر مجھے نہیں ہے۔ اس کو تو ہی جانتا ہے۔ سورۂ فرقان میں فرشتوں کا جواب ان الفاظ میں منقول ہے: وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ فَیَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ہَؤُلَاء أَمْ ہُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ ۵ قَالُوا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنبَغِیْ لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِکَ مِنْ أَوْلِیَاء وَلَکِن مَّتَّعْتَہُمْ وَآبَاء ہُمْ حَتَّی نَسُوا الذِّکْرَ وَکَانُوا قَوْماً بُوۡرًا (الفرقان: ۱۷-۱۸) ’’اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ ان کو اور ان سب کو جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، اکٹھا کرے گا۔ پس پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انھوں نے خود راہ کھوئی؟ وہ جواب دیں گے تو پاک ہے۔ ہمارے لیے یہ زیبا نہ تھا کہ ہم تیرے سوا دوسرے کو کارساز بناتے۔ بلکہ یوں ہوا کہ تو نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ وہ تیری یاددہانی بھول بیٹھے اور ہلاک ہونے والے بنے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک انبیاء اور صالحین کا تعلق ہے وہ تو ساری ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال دیں گے جنھوں نے ان کی تعلیم کے بالکل خلاف ان کو شریک خدا ٹھہرایا اور ان کی پرستش کی۔ رہے دوسرے معبود یعنی جنات و شیاطین وغیرہ تو وہ جس طرح اپنے پرستاروں سے اعلان براء ت کریں گے اور ان کے پرستار جس طرح ان پر لعنت کریں گے اس کی تفصیلات مختلف سورتوں میں بیان ہوئی ہیں۔ ان سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ قیامت کے دن ان کا کچھ نافع ہونا تو درکنار سب سے زیادہ بدتر دشمن اپنے پرستاروں کے وہی ہوں گے۔ سورۂ قصص کی آیات ۶۲-۶۴ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔  
    اور جب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔
    مشرکین کے معبودوں کی بے حقیقتی اور بے خبری: یہ ان نادانوں کے حال پر اظہار افسوس ہے کہ ان لوگوں سے بڑھ کر گمراہ اور محروم القسمت کون ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ان سے دعا و فریاد کر رہے ہیں جو قیامت تک ان کو کوئی جواب دینے والے نہیں ہیں اور جن کا حال یہ ہے کہ انھیں خبر بھی نہیں کہ کوئی ان سے دعا و فریاد کر رہا ہے! قیامت کے دن ان کی طرف سے کوئی مدد ملنا تو درکنار وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ مشرکین جن کی پرستش کرتے تھے وہ یا تو فرضی ہستیاں تھیں جن کا کوئی مسمیٰ سرے سے موجود ہی نہ تھا، اس وجہ سے ان کے کسی چیز سے باخبر ہونے یا کسی دعا کے قبول کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہی وہ ہستیاں جن کی کچھ حقیقت ہے مثلاً ملائکہ یا جنات جن کی پرستش مشرکین عرب کرتے تھے یا حضرت مسیح علیہ السلام جن کی پرستش عیسائی کرتے تھے وہ تو بذات خود کسی کی دعا و فریاد سے واقف بھی نہیں ہو سکتے چہ چائیکہ اس کو قبول کر سکیں۔ سورۂ مائدہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن سوال کرے گا کہ کیا تم نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بناؤ؟ وہ جواب دیں گے کہ میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا تھا جس کا مجھے کوئی حق نہیں تھا! میں نے ان کو وہی بتایا جس کا تو نے مجھے حکم دیا۔ میرے بعد انھوں نے کیا بنایا اس کی خبر مجھے نہیں ہے۔ اس کو تو ہی جانتا ہے۔ سورۂ فرقان میں فرشتوں کا جواب ان الفاظ میں منقول ہے: وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ فَیَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ہَؤُلَاء أَمْ ہُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ ۵ قَالُوا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنبَغِیْ لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِکَ مِنْ أَوْلِیَاء وَلَکِن مَّتَّعْتَہُمْ وَآبَاء ہُمْ حَتَّی نَسُوا الذِّکْرَ وَکَانُوا قَوْماً بُوۡرًا (الفرقان: ۱۷-۱۸) ’’اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ ان کو اور ان سب کو جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، اکٹھا کرے گا۔ پس پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انھوں نے خود راہ کھوئی؟ وہ جواب دیں گے تو پاک ہے۔ ہمارے لیے یہ زیبا نہ تھا کہ ہم تیرے سوا دوسرے کو کارساز بناتے۔ بلکہ یوں ہوا کہ تو نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ وہ تیری یاددہانی بھول بیٹھے اور ہلاک ہونے والے بنے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک انبیاء اور صالحین کا تعلق ہے وہ تو ساری ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال دیں گے جنھوں نے ان کی تعلیم کے بالکل خلاف ان کو شریک خدا ٹھہرایا اور ان کی پرستش کی۔ رہے دوسرے معبود یعنی جنات و شیاطین وغیرہ تو وہ جس طرح اپنے پرستاروں سے اعلان براء ت کریں گے اور ان کے پرستار جس طرح ان پر لعنت کریں گے اس کی تفصیلات مختلف سورتوں میں بیان ہوئی ہیں۔ ان سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ قیامت کے دن ان کا کچھ نافع ہونا تو درکنار سب سے زیادہ بدتر دشمن اپنے پرستاروں کے وہی ہوں گے۔ سورۂ قصص کی آیات ۶۲-۶۴ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔  
    اور جب ان کو ہماری نہایت واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کافر لوگ حق کی بابت، جب کہ وہ ان کے پاس آ گیا، کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
    قرآن سے فرار کے بہانے: اب یہ ان بہانوں کا ذکر ہو رہا ہے جو قرآن سے فرار کے لیے وہ ایجاد کرتے تھے۔ فرمایا کہ جب ہماری نہایت واضح آیتیں درباب توحید و قیامت ان کو سنائی جاتی ہیں اور ان سے ان کا کوئی جواب نہیں بن آتا تو وہ اس قرآن کے باب میں کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ قرآن کو جادو کہنے کی وجہ کی وضاحت جگہ جگہ ہو چکی ہے۔ قریش کے لیڈروں کے لیے جب اس کی تاثیر و تسخیر کا لوہا مانے بغیر چارہ نہیں رہا تو انھوں نے اپنے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہے تو یہ کلام نہایت پرزور اور پرتاثیر لیکن یہ زور و تاثیر اس کے خدائی کلام ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے۔ ’لِلْحَقِّ‘ کے بعد ’لَمَّا جَآءَ ہُمْ‘ کے الفاظ ان کے اس فعل کی شناعت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ اس حق کو انھوں نے جادو اس وقت قرار دیا جب کہ وہ ان کے پاس آ گیا۔ حق کے بارے میں کوئی مغالطہ اس وقت تک تو بعید نہیں ہے جب تک وہ سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن اس کے سامنے آ جانے کے بعد وہی لوگ اس قسم کی باتیں بناتے ہیں جو خود بھی مغالطہ میں رہنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی مغالطہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ کہہ دو کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو تم لوگ مجھے خدا سے ذرا بھی نہ بچا سکو گے اور تم جو سخن سازیاں کر رہے ہو وہ ان سے خوب واقف ہے، وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے اور وہ بڑا ہی غفور رّحیم ہے۔
    یہ قرآن کے مخالفین کے ایک پراپیگنڈے کا حوالہ ہے۔ چونکہ یہ نہایت ہی لغو پروپیگنڈہ تھا جس کا لغو ہونا خود ان لوگوں پر بھی واضح تھا جو اس کے مرتکب ہو رہے تھے اس وجہ سے اس کا ذکر نہایت استعجاب و حیرت کے انداز میں فرمایا ہے کہ اس کا کوئی جواب دینے کے بجائے معاملہ اللہ کے حوالہ کر دیا ہے کہ اگر تم لوگ میری مخالفت کے جنون میں اس حد تک اتر آئے ہو کہ اپنے ضمیر کے بالکل خلاف مجھے ایک مفتری قرار دینے میں بھی کوئی باک نہیں رہا تو اب تم سے کوئی بحث بے سود ہے۔ اس معاملہ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ ’قُلْ إِنِ افْتَرَیْتُہُ فَلَا تَمْلِکُوۡنَ لِیْ مِنَ اللہِ شَیْْئًا‘۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن ہے تو تمہاری اپنی تصنیف لیکن تم اس کو جھوٹ موٹ خدا کی وحی قرار دے رہے ہو تو ان سے کوئی بحث نہ کرو۔ بس یہ کہہ دو کہ اگر میں نے خدا پر اتنا بڑا افترا کیا ہے تو کوئی چیز مجھے اس کی پکڑ سے نہ بچا سکے گی اور اس وقت تم لوگ میرے کچھ کام آنے والے نہیں بنو گے کہ تم میرے اس جرم کا بار اپنے اوپر محسوس کرو۔ ’ہُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوۡنَ فِیْہِ‘۔ ’اَفَاضَ فی الحدیث‘ کے معنی کی وضاحت دوسرے مقام میں ہم کر چکے ہیں۔ اس کا اصلی مفہوم کسی بات میں نکتہ چینی کرتے کرتے اس کو اس حد تک بڑھا دینا ہے کہ رائی پربت بن جائے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ جو سخن سازیاں کرر ہے ہو اللہ تعالیٰ ان سے اچھی طرح آگاہ ہے اس وجہ سے میں معاملہ اسی کے حوالہ کرتا ہوں۔ وہی فیصلہ فرمائے گا کہ فی الواقع میں کوئی مفتری ہوں اس وجہ سے تم مجھے کوئی وزن نہیں دے رہے ہو یا مجھے ایک راست باز اور امین جانتے ہوئے محض اس وجہ سے مفتری قرار دے رہے ہو کہ میری دعوت تمہارے نفس کی خواہشوں کے خلاف ہے۔ ہٹ دھرموں کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیا جائے: ’کَفٰی بِہِ شَہِیْدًا بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ‘۔ اس قضیہ میں اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے مابین گواہی کے لیے کافی ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ جب معلوم ہو کہ فریق مخالف ضد اور دھاندلی پر اتر آیا ہے اور جان بوجھ کر وہ ایک ایسی بات کہہ رہا ہے جو خود اس کے اپنے ضمیر کے بھی خلاف ہے تو ایسی صورت میں واحد چارۂ کار ایک معقول انسان کے لیے یہی باقی رہ جاتا ہے کہ وہ معاملہ اللہ کے حوالہ کر کے بحث ختم کر دے۔ یہ شریفانہ طریقہ بعض اوقات ضدی مخاطبوں کو بھی اپنے رویہ پر نظرثانی کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔ وہ اس سے متاثر نہ بھی ہوں جب بھی دعوت کے نقطۂ نظر سے بابرکت طریقہ یہی ہے۔ غیر جانبدارانہ ذہن کے لوگ اس سے ضرور متاثر ہوتے ہیں اور مخالفوں کے دل میں بھی داعی کی عظمت اس کی اس خود اعتمادی کے سبب سے دوچند ہو جاتی ہے۔ ’وَہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیْمُ‘۔ یعنی میں یہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ وہ اس کا فیصلہ ضرور فرمائے گا اور یہ حقیقت سب پر واضح ہو جائے گی کہ میں مفتری ہوں یا تم لوگ جان بوجھ کر حق کو جھٹلانے والے ہو۔ اگر اس فیصلہ میں کچھ دیر بھی ہوئی جب بھی میرے لیے مایوسی اور پریشانی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے۔ وہ لوگوں کو پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ آخری حد تک مہلت دیتا ہے تاکہ جو توبہ و اصلاح کرنا چاہیں وہ توبہ و اصلاح کر کے اس کی رحمت کے سزاوار بن جائیں۔
    ان سے کہو کہ میں کوئی پہلا رسول تو نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ میں تو صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں تو صرف ایک کھلا ہوا آگاہ کرنے والا ہوں۔
    یعنی اگر تم میری مخالفت اس وجہ سے کر رہے ہو کہ میں تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں اور وہ عذاب دکھا نہیں سکتا جس سے تم کو ڈرا رہا ہوں تو یاد رکھو کہ میں دنیا میں پہلا شخص نہیں ہوں جو رسول بن کر آیا ہو۔ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں۔ وہ سب بشر ہی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مافوق بشر نہیں۔ رسولوں کے باب میں سنت الٰہی یہی رہی ہے کہ انسانوں کے اندر رسول ہمیشہ انسانوں ہی کے اندر سے آئے ہیں اور یہ بات بھی سن لو کہ اگر میں تمہاری طلب کے مطابق عذاب نہیں لا سکتا تو یہ چیز بھی میرے دعوائے رسالت کی نفی نہیں کرتی۔ میں نے رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے، خدا یا عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ مجھے خود برملا یہ اعتراف ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور نہ یہ علم ہے کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کر رہا ہوں جو مجھے وحی کی جاتی ہے اور اسی سے تم کو بھی آگاہ کر رہا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق تمہارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ بس اس سے زیادہ نہ میرے اوپر کوئی ذمہ داری ہے اور نہ میں اس سے زیادہ کچھ اور ہونے کا مدعی ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ مجھ سے اگر کوئی بحث کرنی ہے تو میرے اصل دعوے سے متعلق کرو، غیر متعلق سوالات چھیڑ کر نہ اپنے آپ کو الجھن میں ڈالو، نہ دوسروں کو۔
    ان سے پوچھو کہ اس وقت کیا ہو گا اگر یہ قرآن اللہ کی جانب سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک شاہد نے اس کے مانند کتاب کی گواہی بھی دی ہے سو وہ تو اس پر ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا! بے شک اللہ ظالموں کو راہ یاب نہیں کرتا!
    یہاں جواب شرط محذوف ہے اور یہ حذف اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جواب شرط ایسے خوف ناک نتائج پر متضمن ہے کہ الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کتاب کا انکار اور اس کو خدا کے اوپر میرا افترا قرار دے رہے ہو لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہوئی تب کیا بنے گا!! ساتھ ہی یہ بات بھی تمہارے سوچ لینے کی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شاہد اس طرح کی چیز کی گواہی دے چکا ہے، وہ تو اس پر ایمان لایا اور تم استکبار کی بنا پر اس سے اعراض کیے جا رہے ہو! شاہد سے کون مراد ہے؟ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شاہد سے کس کی طرف اشارہ ہے۔ اس سوال کے تین جواب ہمارے مفسرین نے دیے ہیں۔ عام رائے تو یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلامؓ ہیں لیکن ایک دوسرے گروہ نے اس پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ عبداللہ بن سلامؓ اس سورہ کے نزول کے بہت بعد مدینہ میں اسلام لائے تو اس مکی سورہ میں ان کے اسلام سے پہلے ہی ان کی گواہی کے حوالہ دینے کے کیا معنی، جب کہ کوئی ادنیٰ قرینہ بھی یہاں اس بات کا نہیں ہے کہ کم از کم اس آیت ہی کو مدنی قرار دیا جا سکے۔ دوسرے گروہ کے نزدیک اس سے اشارہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے لیکن یہ قول بھی کچھ وزنی نہیں ہے۔ آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات کا ذکر قرآن کے حق میں ان کی شہادت ہی کا حوالہ دینے کے لیے مستقلاً، نام کی تصریح کے ساتھ، آ رہا ہے تو یہاں اشارے کی صورت میں ان کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک تیسرے گروہ نے اس کو اسم جنس کے مفہوم میں لے کر اس سے ان عام لوگوں کی شہادت مراد لی ہے جو بنی اسرائیل میں سے قرآن پر ایمان لائے۔ اس گروہ میں ابن کثیرؒ بھی شامل ہیں لیکن یہ قول بالکل ہی بے بنیاد ہے۔ اس کو اسم جنس کے مفہوم میں لینا قواعد زبان کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن ہم اس غیر ضروری بحث میں یہاں پڑنا نہیں چاہتے۔ اسلوب کلام یہاں خود شاہد ہے کہ نکرہ تفخیم شان کے لیے ہے نہ کہ تحقیر و تعمیم کے لیے۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ اشارہ کسی ایسے شاہد کی طرف ہو جس کی شخصیت اور شہادت دونوں کا مرتبہ ایسا ہو کہ اس کو بطور ایک دلیل کے پیش کیا جاسکے۔ ہمارے نزدیک یہ اشارہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی طرف ہے۔ اس کے وجوہ مندرجہ ذیل ہیں: ۱۔ پہلی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی بعثت کا خاص مقصد ہی یہ بتایا ہے کہ میں آنے والے کی راہ صاف کرنے آیا ہوں۔ آپ کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور آپؐ آخری نبی بھی ہیں اور آخری رسول بھی۔ اس وجہ سے اس ’آنے والے‘ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کو مراد لینے کی کوئی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں ہے۔ انجیلوں کا مطالعہ کیجیے تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰؑ کو حضرت مسیح کی بشارت دینے کے لیے مبعوث فرمایا اسی طرح حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا کہ وہ آنے والے کی راہ صاف کریں۔ انجیلوں میں اصلی مضمون جو گوناگوں اسلوبوں سے سامنے آتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ہی ہے۔ استاذ امامؒ نے خاص اس موضوع پر انگریزی میں ایک رسالہ لکھا ہے کہ انجیلوں کا اصل مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور تعارف ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے جس آسمانی بادشاہت کا بار بار ذکر کیا ہے اور اس کی جو تمثیلیں بیان فرمائی ہیں وہ تمام تر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی دعوت ہی پر منطبق ہوتی ہیں۔ ۲۔ دوسری اہم چیز یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت اگرچہ تورات اور زبور وغیرہ میں بھی ہے جن کے حوالے ہم پچھلی سورتوں میں نقل کر آئے ہیں لیکن حضرت مسیح علیہ السلام نے نام کی تصریح کے ساتھ آپ کی بشارت دی ہے۔ سورۂ صف میں اس کا حوالہ یوں آیا ہے: وَإِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ إِنِّیْ رَسُولُ اللَّہِ إِلَیْْکُم مُّصَدِّقاً لِّمَا بَیْْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاء ہُم بِالْبَیِّنَاتِ قَالُوا ہَذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ (الصف : ۶) ’’اور یاد کرو جب کہ عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کی جانب سے تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہوں، مصداق بن کر ان پیشین گوئیوں کا جو میرے پہلے سے تورات میں موجود ہیں اور خوش خبری دیتا ہوا ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہو گا۔ پس جب وہ کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔‘‘ قرآن نے اس آیت میں جس بشارت کا حوالہ دیا ہے وہ انجیلوں میں موجود ہے۔ بعض انجیلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی کی تصریح بھی باربار وارد ہوئی ہے۔ مثلاً برناباس کی انجیل میں ۔۔۔ عیسائی اسی وجہ سے اس انجیل کو مستند نہیں مانتے لیکن اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا، دوسری انجیلوں میں بھی آپ کا حوالہ موجود ہے۔ اگرچہ نام غائب کر کے صرف صفات کا حوالہ باقی رہنے دیا گیا ہے اور ترجموں کے ذریعہ سے ان صفات کو بھی مسخ و محرف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم جو شخص ایمان داری کے ساتھ ان پر غور کرے گا وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی دوسرا ان کا مصداق نہیں ہو سکتا۔ یہاں اشارے پر قناعت کیجیے۔ ان شاء اللہ سورۂ صف کی تفسیر میں اس مسئلہ پر ہم مفصل بحث کریں گے۔ ۳۔ تیسری چیز یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی پیشین گوئیوں میں قرآن، قرآن کی دعوت، اس دعوت کے مزاج، دنیا پر اس دعوت کے غلبہ اور اس غلبہ کے مراحل و مدارج کا نہایت صاف الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ سورۂ اعراف کی تفسیر میں ہم بعض چیزوں کا حوالہ دے چکے ہیں۔ آگے سورۂ فتح کی آیت ۲۹ کے تحت بھی ہم اس مسئلہ پر بحث کرنے والے ہیں۔ قارئین کے اطمینان کے لیے بعض حوالے یہاں بھی ہم نقل کرتے ہیں: ’’یسوع نے ان سے کہا کہ کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معاروں نے رد کیا۔ وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے؟ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی۔ اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔‘‘ (متی: باب ۲۱: ۴۱-۴۴) ’’اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔‘‘ (یوحنا: باب ۱۴: ۱۷) ’’اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ سے اس کا کچھ نہیں۔‘‘ (یوحنا: باب ۱۴: ۳۱) اسلامی دعوت کے تدریجی فروغ کی طرف بھی متعدد تمثیلوں میں اشارے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تمثیل جس کی طرف سورۂ فتح میں قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے، یہ ہے: ’’اس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آ کر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔‘‘ (متی: باب ۱۳: ۳۱-۳۲) ۴۔ چوتھی اہم چیز یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس واضح شہادت کا یہ اثر تھا کہ عیسائیوں میں سے جو لوگ اصل نصرانیت پر قائم رہے، یعنی ان کے خلیفہ صادق شمعون کے پیرو، وہ قرآن کے نزول کے بعد بڑے جوش و خروش سے اس پر ایمان لائے اور قرآن نے نہایت شان دار الفاظ میں ان کی تعریف کی ہے۔ سورۂ مائدہ میں اس گروہ کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الْیَہُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَاناً وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ ۵ وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ (المائدہ: ۸۲-۸۳) ’’تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور اہل ایمان کی محبت میں سب سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں علماء اور راہب ہیں اور وہ تکبر کرنے والے نہیں ہیں۔ یہ لوگ جب اس چیز کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف اتاری گئی ہے تو حق کو پہچان لینے کے سبب سے تم دیکھتے ہو کہ اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو جاتی ہیں۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے رب ہم ایمان لائے تو ہم کو تو حق کی گواہی دینے والوں میں لکھ۔‘‘ تدبر قرآن میں ان آیات کی تفسیر غور سے پڑھ لیجیے۔ نصاریٰ کی تاریخ سے لوگ اچھی طرح واقف نہیں ہیں اس وجہ سے ان آیات کا صحیح مفہوم ان پر واضح نہیں ہو سکا۔ یہ پال کے پیروؤں کی تعریف نہیں ہے بلکہ شمعون کے پیروؤں کی ہے۔ پال کے پیرو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے بھی نہیں۔ وہ اس لفظ کو حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی جگہ انھوں نے اپنے لیے مسیحی کا لفظ اختیار کیا ہے۔ شمعون کے پیرو بے شک اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے تھے۔ یہ لوگ اس شہادت کے حامل رہے جو سیدنا مسیح علیہ السلام نے آخری رسول کی بعثت کے باب میں دی تھی اور جب وقت آیا تو انھوں نے پورے جوش و خروش اور نہایت سچے جذبۂ ایمانی کے ساتھ اس کی شہادت دی۔ اسی چیز کی طرف ’رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اس تکبر میں مبتلا نہیں ہوئے جس میں پال اور اس کے پیرو مبتلا ہوئے اس وجہ سے اسلام کی دولت سے بہرہ مند ہوئے۔ انہی لوگوں کے باب میں حضرت مسیح علیہ السلام نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ ’’مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں، آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے۔‘‘ اوپر سورۂ مائدہ کی آیت میں ’وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوۡنَ‘ کے الفاظ سے ان کے اسی وصف کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت کی نوعیت ایک عام شہادت سے بالکل مختلف ہے۔ ان کی بعثت ہی خاص اس مقصد سے ہوئی تھی کہ وہ آپؐ کی راہ صاف کریں اور خلق کو اس آسمانی بادشاہی کی بشارت دیں جس کا آپؐ کے ذریعہ سے ظہور ہونے والا تھا۔ اس حوالہ سے قرآن نے مشرکین پر بھی حجت قائم کی ہے اور اہل کتاب پر بھی۔ ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں کہ دعوت کے اس دور میں قریش کو اہل کتاب کی پشت پناہی بھی حاصل ہو گئی تھی اس وجہ سے ان کا حوصلہ بہت بڑھ گیا تھا۔ قرآن نے یہاں یہی دکھایا ہے کہ اسلام کی مخالفت کے جنون میں آج یہودی اور مسیحی جو حرکتیں چاہیں کریں لیکن بنی اسرائیل کا ایک عظیم شاہد اس حق کی نہایت آشکارا الفاظ میں شہادت دے چکا اور اس پر ایمان لا چکا ہے۔ اس کے ایمان اور اس کی شہادت کے بعد جو لوگ محض استکبار کی بنا پر اس حق کی مخالفت کر رہے ہیں وہ اپنا انجام اچھی طرح سوچ لیں۔ ’اِنَّ اللہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ‘۔ یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اس کتاب میں بار بار ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کبھی راہ یاب نہیں کرتا جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے اور اس کی بخشی ہوئی روشنی کی ناقدری کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس نے عقل کی رہنمائی اور آفاق و انفس کی گواہی کے ساتھ ساتھ اپنے نبیوں اور رسولوں کی شہادت کے ذریعہ سے بھی حق کو بالکل آشکارا کر دیا۔ اب جو لوگ ان ساری چیزوں کو ہدایت کا ذریعہ بنانے کے بجائے ان کو اپنی ضلالت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کریں ایسے لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لا کھڑا کرنا اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو وہ بھٹکنے ہی کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔  
    اور کفر کرنے والوں نے ایمان لانے والوں کے باب میں کہا کہ اگر قرآن کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم پر سبقت نہ پاتے اور چونکہ انھوں نے اس سے ہدایت نہیں حاصل کی تو اب کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔
    منکرین کے استکبار کی وضاحت: اوپر والی آیت میں ان منکرین کے جس استکبار کا حوالہ ہے یہ اس کی وضاحت ہے کہ ان ظالموں کی رعونت کا حال یہ ہے کہ اس حق کے خلاف ایک دلیل وہ یہ بھی لاتے ہیں کہ اس کو سب سے پہلے غریبوں نے قبول کیا ہے چنانچہ ان کے اغنیاء کہتے ہیں کہ اگر اس نئے دین میں کوئی خیر ہوتا تو یہ ممکن نہیں تھا کہ یہ فتوفقیر لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کر جاتے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کی کوئی اور نعمت تو ان کے حصہ میں آئی نہیں تو یہ چیز اگر فی الواقع کوئی نعمت ہوتی تو یہ اس کی طرف سبقت کرنے والے نہ بنتے بلکہ ہم ہی اس کی طرف بھی سبقت کرتے۔ ان کا اس طرف سبقت کرنا دلیل ہے کہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے، اگر یہ انہی چیزوں میں سے ہے جن کے درپے ادنیٰ درجہ کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔ ’وَإِذْ لَمْ یَہْتَدُوۡا بِہٖ فَسَیَقُولُونَ ہَذَا إِفْکٌ قَدِیْمٌ‘۔ یعنی اب جبکہ اس روشنی سے ہدایت حاصل کرنے کے بجائے انھوں نے گمراہی اور خیرگی ہی حاصل کی ہے تو جو کچھ انھوں نے کہا ہے صرف اسی پر بس نہیں کریں گے بلکہ یہ بھی کہیں گے کہ یہ کوئی نیا جھوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جھوٹ قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے، ہر دور میں کچھ لوگ رہے ہیں جو اسی قسم کے ڈراوے سنا کر لوگوں پر اپنی دھونس جماتے رہے ہیں لیکن ان کی بات آج تک سچی ثابت نہیں ہوئی۔ جس قیامت سے انھوں نے ڈرایا نہ وہ آئی نہ کبھی آئے گی۔ اس طرح کے لوگوں کا جھوٹ اب بالکل کھل چکا ہے اس وجہ سے ہم ان کی دھونس میں آنے والے نہیں ہیں۔ ’اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ سے قرینہ دلیل ہے کہ یہاں کفار کے اغنیاء مراد ہیں جن کے استکبار کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا ہے۔ ’لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا‘ سے یہاں غربائے مسلمین مراد ہیں اور ’ل‘ یہاں ’فِیْ‘ کے مفہوم میں ہے یہ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ ’وَإِذْ لَمْ یَہْتَدُوۡا بِہٖ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جب انھوں نے ایک بالکل واضح حق کا انکار کیا ہے تو اپنے ضمیر کو تسلی دینے اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے انھیں اور بھی باتیں بنانی پڑیں گی چنانچہ وہ یہ بھی کہیں گے کہ یہ جھوٹ تو بہت پرانا جھوٹ ہے۔ اس کو پرانا جھوٹ قرار دینے میں دلیل کا پہلو، ان کے زعم کے مطابق یہ ہے کہ اس کا جھوٹ ہونا بالکل ثابت ہو چکا ہے۔ اگر قیامت آنے والی ہے تو آخر وہ کہاں غائب ہے! ایک مدت دراز سے اس کا چرچا ہے لیکن جہاں تک اس کے ظہور کا تعلق ہے ہنوز روز اول ہے۔
    اور اس کے پہلے سے موسیٰ کی کتاب موجود ہے، رہنما اور رحمت! اور یہ کتاب اس کی پیشین گوئیوں کی مصداق ہے، عربی زبان میں تاکہ ان لوگوں کو آگاہ کرے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور یہ بشارت ہے خوب کاروں کے لیے۔
    قرآن کے حق میں تورات کی شہادت کا حوالہ: یہ قرآن کے حق میں توریت کی شہادت کا حوالہ ہے۔ اگرچہ زمانی ترتیب کے لحاظ سے اس کا ذکر مقدم ہونا تھا لیکن ان خاص وجوہ سے، جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا، حضرت مسیحؑ کی شہادت کا ذکر پہلے آیا۔ اب یہ تورات کا حوالہ دے کر اس شہادت کے تسلسل کو ظاہر فرما دیا کہ اس سے پہلے موسیٰؑ کی کتاب بھی ’امام‘ اور ’رحمت‘ بن کر آ چکی ہے۔ ’امام‘ کے معنی رہنما کے ہیں۔ یہ بعینہٖ وہی بات ہے جو قرآن کے باب میں ’ہُدًی وَّرَحْمَۃ‘ کے الفاظ سے ارشاد ہوئی ہے اور ہم اس کی وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ دونوں الفاظ دنیا اور آخرت دونوں کو پیش نظر رکھ کر استعمال ہوئے ہیں۔ اللہ کی کتاب دنیا میں رہنمائی کرتی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کی اصل حیثیت امام کی ہے۔ جس طرح امام کی اقتدا لازمی ہے اسی طرح زندگی کے معاملات میں اس کتاب کی اقتدا واجب ہے۔ اگر اس کی حیثیت باقی نہ رہے تو خواہ زبان سے اس کا کتنا ہی احترام کیا جائے اور اس کو کتنا ہی چوما چاٹا جائے لیکن یہ ساری باتیں عند اللہ بے سود ہیں۔ قرآن تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق ہے: ’وَہٰذَا کِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا‘۔ یہ قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن عربی زبان میں تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوا ہے۔ جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے اس کے باب میں شہادت دی ہے اسی طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اس کی پیشین گوئی کر چکے ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں اپنے مصداق کی منتظر تھیں۔ قرآن کے نزول سے یہ مصداق سامنے آ گیا اور اس طرح قرآن نے تورات کی تصدیق کر دی۔ عام طور پر لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ قرآن چونکہ تورات کو ایک آسمانی کتاب تسلیم کرتا ہے اس وجہ سے قرآن بھی ایک آسمانی کتاب ہوا۔ یہ بات بالکل لایعنی ہے۔ قرآن اگر تورات کو ایک آسمانی کتاب مانتا ہے تو یہ تورات کے آسمانی ہونے کی ایک دلیل تو بے شک ہوئی لیکن اس سے قرآن کا آسمانی ہونا کیسے ثابت ہو جائے گا؟ قرآن کے آسمانی ہونے کی تصدیق تورات کی زبان سے تو اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے اندر قرآن اور اس کے حامل سے متعلق پیشین گوئیاں ہوں اور قرآن کے نزول اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ان پیشین گوئیوں کی اس طرح تصدیق ہو جائے کہ کسی منصف کے لیے اس سے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے بلکہ ہر دیانت دار اور غیر جانب دار آدمی پکار اٹھے کہ بے شک ان پیشین گوئیوں کا حقیقی مصداق سامنے آ گیا اور اس مصداق نے ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اسی پہلو سے پچھلے صحیفوں کا مصداق کہا ہے، نہ کہ اس پہلو سے جو لوگوں نے عام طور پر سمجھا ہے۔ قرآن ان صحیفوں کا آسمانی ہونا تو بے شک مانتا ہے لیکن ساتھ ہی ان کے محرف ہونے کا بھی اعلان کرتا ہے۔ اس وجہ سے یہ تصدیق مطلق نہیں بلکہ اس خاص مفہوم میں ہے جس کی ہم نے اوپر وضاحت کی ہے۔ اس مفہوم کے لیے لفظ تصدیق کا استعمال عربی میں معروف ہے۔ اس کے محل میں اس کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ ’لِسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنۡذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا‘۔ یہ اہل عرب پر احسان کا اظہار بھی ہے اور اس میں تورات کی بعض پیشین گوئیوں کی طرف اشارہ بھی ہے۔ اہل عرب پر احسان کا پہلو تو واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب عربی میں نازل فرما کر ان کی زبان کی عزت بڑھائی، اس کو بقائے دوام کی سند عطا فرمائی، ان کو اپنے دین کی ترجمانی اور اس کی گواہی کے لیے چنا اور ان کے ہر عذر کا خاتمہ کر دیا۔ سابق پیشین گوئیوں کی طرف اس میں اشارہ کا پہلو یہ ہے کہ تورات میں آخری رسول سے متعلق یہ بات موجود ہے کہ اس کی بعثت امیوں یعنی بنی اسماعیل میں ہو گی۔ ان امیوں کی زبان ظاہر ہے کہ عربی تھی اس وجہ سے ان کی زبان کا حوالہ گویا خود ان کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ’لِیُنۡذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا‘۔ یہ اس کتاب کے نزول کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس لیے اتارا ہے کہ جن لوگوں نے شرک و کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ان کو اس کے انجام سے آگاہ کر دیا جائے تاکہ جو اپنی اصلاح کرنی چاہیں وہ آخری نتائج کے سامنے آنے سے پہلے پہلے اپنی اصلاح کر لیں۔ قرآن کا اصل مقصد: ’وَبُشْرٰی لِلْمُحْسِنِیْنَ‘۔ یہ اس کتاب کا دوسرا مقصد بیان ہوا ہے اور چونکہ اصل مقصود یہی ہے اس وجہ سے اس کا ذکر بشکل اسم ہے۔ فرمایا کہ یہ عظیم اور دائمی خوش خبری ہے خوب کاروں کے لیے۔ ’مُحْسِنِیْنَ‘ یہاں ’اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا‘ کے مقابل میں ہے جس سے لفظ کے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کی حفاظت کی اور اپنی زندگی کو اپنے خالق کے حدود و قیود کے اندر رکھا۔
    بے شک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر جمے رہے تو ان کو نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
    ’مُحْسِنِیْنَ‘ کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ: یہ اس بشارت کی وضاحت بھی ہے جس کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا اور ’مُحْسِنِیْنَ‘ کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ بھی۔ فرمایا کہ ہمارے جن بندوں نے قرآن کی دعوت حق قبول کر کے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ہمارا رب بس اللہ ہی ہے اور اپنے اس اقرار پر وہ تمام مخالفتوں سے بالکل بے خوف ہو کر ڈٹ گئے ہیں ان کے لیے ابدی جنت کی بشارت ہے۔ نہ ان کو مستقبل کا کوئی اندیشہ ہو گا اور نہ ماضی کا کوئی غم۔ وہی جنت کے مالک ہوں گے ہمیشہ کے لیے اور یہ چیز ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گی۔
    یہی لوگ اہل جنت ہیں، اس میں ہمیشہ رہنے والے۔ یہ صلہ ہو گا ان کاموں کا جو وہ کرتے رہے۔
    ’مُحْسِنِیْنَ‘ کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ: یہ اس بشارت کی وضاحت بھی ہے جس کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا اور ’مُحْسِنِیْنَ‘ کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ بھی۔ فرمایا کہ ہمارے جن بندوں نے قرآن کی دعوت حق قبول کر کے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ہمارا رب بس اللہ ہی ہے اور اپنے اس اقرار پر وہ تمام مخالفتوں سے بالکل بے خوف ہو کر ڈٹ گئے ہیں ان کے لیے ابدی جنت کی بشارت ہے۔ نہ ان کو مستقبل کا کوئی اندیشہ ہو گا اور نہ ماضی کا کوئی غم۔ وہی جنت کے مالک ہوں گے ہمیشہ کے لیے اور یہ چیز ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گی۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List