Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الجاثیۃ (The Kneeling Down, Crouching)

    37 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ نام، تمہید اور بنیادی مطالب میں سابق سورہ کا مثنیٰ ہے۔ فرق ہے تو اجمال و تفصیل کا ہے۔ اس میں قریش کو صاف الفاظ میں دھمکی دی گئی ہے کہ توحید اور قیامت کے دلائل سے آسمان و زمین کا ہر گوشہ معمور ہے اور ان کی تفصیل اللہ نے اپنی کتاب میں بھی بیان کر دی ہے۔ اگر یہ دلیلیں تمہاری سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں تو دنیا کی کوئی چیز بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ اب تمہارا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی تمہارا فیصلہ فرمائے گا۔
    مسلمانوں کو اس میں صاف الفاظ میں فتح و غلبہ کی بشارت دی گئی ہے کہ کچھ دنوں صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرو۔ اگر استقلال کے ساتھ تم اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو آخری کامیابی تمہارا ہی حصہ ہے۔ اس راہ میں جو مصیبتیں بھی تم جھیلو گے وہ رائگاں نہیں جائیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ ان کا بھرپور صلہ دے گا۔
    یہ سورہ اس دور کی سورتوں میں سے ہے جب یہود کھلم کھلا قریش کی پیٹھ ٹھونکنے لگ گئے تھے۔ اس وجہ سے اس میں یہود کو بھی نہایت واضح الفاظ میں ملامت ہے کہ اللہ نے ان کو امامت کے جس منصب پر فائز فرمایا تھا اپنی شامت اعمال سے انھوں نے اس کو ضائع کر دیا۔ اب ان کا معاملہ اللہ کی عدالت میں پیش ہو گا اور وہی ان کا فیصلہ فرمائے گا۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ تنبیہ ہے کہ اللہ نے جو روشن شاہراہ تم کو دکھائی ہے اس پر چلو اور ان دین بازوں سے ہوشیار رہو۔ یہ زور لگا رہے ہیں کہ اپنی ایجاد کردہ بدعات میں مبتلا کر کے تمہیں بھی اللہ کی راہ سے اس طرح محروم کر دیں جس طرح وہ خود محروم ہو بیٹھے ہیں۔

  • الجاثیۃ (The Kneeling Down, Crouching)

    37 آیات | مکی

    الجاثیہ ۔ الاحقاف

    ۴۵ ۔ ۴۶

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے۔اِس کا جو پہلو، البتہ دونوں سورتوں میں نمایاں ہے، وہ مخاطبین کے اعتراضات و شبہات کی تردید اور اُن کے اُس رویے پر تہدید ہے جو وہ قرآن اور اُس کی دعوت کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ دونوں سورتوں کو ایک ہی آیت سے شروع کرکے قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف خود اشارہ کر دیا ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضامین سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 045 Verse 001 Chapter 045 Verse 002 Chapter 045 Verse 003 Chapter 045 Verse 004 Chapter 045 Verse 005 Chapter 045 Verse 006 Chapter 045 Verse 007 Chapter 045 Verse 008 Chapter 045 Verse 009 Chapter 045 Verse 010 Chapter 045 Verse 011 Chapter 045 Verse 012 Chapter 045 Verse 013 Chapter 045 Verse 014 Chapter 045 Verse 015
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ حٰمٓ ہے۔
    اس سورہ کا بھی قرآنی نام ’حٰمٓ‘ ہی ہے۔ اس نام سے موسوم سورتوں کے مطالب کے اشتراک اور ان کے مزاج کی ہم رنگی پر پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔
    اس کتاب کی تنزیل خدائے عزیز و حکیم کی طرف سے ہے۔
    سورہ کی تمہید: ’تَنْزِیْلُ الْکِتَابِ ..... الاٰیۃ‘ سابق سورہ کی طرح اس سورہ کی تمہید میں بھی قرآن کی عظمت و اہمیت کا حوالہ ہے البتہ اس میں اہمیت کے بیان کا پہلو سابق سورہ سے مختلف ہے۔ لفظ ’تَنْزِیْلُ‘ پر ہم اس کے محل میں بحث کر کے بتا چکے ہیں کہ اس کے اندر تدریج و اہتمام کا مفہوم پایا جاتا ہے اور قرآن کے اتارے جانے کے معاملے میں اللہ نے جو اہتمام خاص ملحوظ رکھا ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس اہتمام خاص کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنی دو صفتوں ۔۔۔ عزیز اور حکیم ۔۔۔ کا حوالہ دیا ہے۔ ’عزیز‘ کے معنی غالب و مقتدر کے ہیں اور ’حکیم‘ اس کو کہتے ہیں جس کے ہر قول و فعل میں حکمت ہو۔ ان دونوں صفتوں کے اجتماع سے یہاں دو باتیں واضح ہوئیں۔ صفات ’عزیز‘ و ’حکیم‘ کے مقتضیات: ایک یہ کہ جس خدا نے یہ کلام اس اہتمام کے ساتھ اتارا ہے وہ کوئی ضعیف و ناتواں اور عاجز و بے بس ہستی نہیں ہے بلکہ تمام کائنات کا اختیار و اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ تمام کائنات کے ملک حقیقی کا فرمان واجب الاذعان ہے اگر اس کا کما حقہٗ احترام نہ کیا گیا تو لوگ یاد رکھیں کہ جب وہ لوگوں کو پکڑے گا تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہ بن سکے گا۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ عزیز اور غالب و مقتدر ہونے کے ساتھ ساتھ ’حکیم‘ بھی ہے۔ اس وجہ سے اس کا ہر قول و فعل حکمت پر مبنی ہے۔ اس کی حکمت کی شان اس کے اس حکیمانہ کلام سے واضح ہے بشرطیکہ لوگ اس پر غور کریں۔ اس کی حکمت ہی کی ایک شان یہ بھی ہے کہ اگرچہ ناقدرے اور ناشکرے اس کے کلام اور اس کے رسول کی توہین کر رہے ہیں لیکن وہ غالب و مقتدر ہونے کے باوجود ان کے پکڑنے میں جلدی نہیں کر رہا ہے بلکہ ان کو مہلت پر مہلت دیے جا رہا ہے تاکہ جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے وہ اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کا مستحق بنا لیں اور جو اپنی صلاحیتیں برباد کر چکے ہیں ان پر اللہ کی حجت پوری ہو جائے۔ حساب کے دن وہ کوئی عذر نہ کر سکیں۔
    آسمانوں اور زمین میں ایمان لانے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔
    قرآن کی دعوت کے حق میں آفاق کے دلائل: یہ قرآن کی دعوت توحید اور اس کے انذار قیامت کے حق میں آفاق کے دلائل کی طرف اشارہ ہے تاکہ اس کا حکیمانہ کلام ہونا واضح ہو۔ فرمایا کہ قرآن لوگوں کو جس چیز کی طرف بلا رہا ہے اور جس چیز سے ڈرا رہا ہے اس کی نشانیاں آسمانوں اور زمین کے چپہ چپہ میں موجود ہیں لیکن یہ نشانیاں کارآمد ان لوگوں کے لیے ہیں جو ایمان لانے والے ہوں۔ جو لوگ ایمان لانے والے نہ ہوں وہ سب کچھ دیکھ کر بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں اور روز نئی نئی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور اگر ان کی طلب کے مطابق کوئی نئی نشانی دکھا بھی دی جائے تو اس سے بھی وہ قائل نہیں ہوتے بلکہ کسی دوسری نشانی کا مطالبہ شروع کر دیتے ہیں۔ اصل چیز انسان کا ارادہ ہے۔ اگر اس کے اندر حقیقت کی جستجو اور منزل کی طلب ہو تو خالق کائنات نے منزل مقصود کی نشان دہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ آسمانوں میں بھی جگہ جگہ سگنل اشارے دے رہے ہیں اور زمین بھی قدم قدم پر رستہ دکھا رہی ہے لیکن جو لوگ اپنی خواہشوں ہی کے پیچھے بھٹکنا چاہتے ہیں ان کو نہ آسمان کے سگنل نظر آتے اور نہ زمین کے نشانات۔ وہ ہمیشہ آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں اور اسی آوارہ گردی میں ان کی زندگیاں گزر جاتی ہیں۔
    اور اسی طرح خود تمہاری خِلقت اور حیوانات کے اندر بھی، جو اس نے زمین میں پھیلا رکھے ہیں، ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو یقین کرنا چاہیں۔
    انسان کی خلقت کے اندر جو نشانیاں ہیں ان کی طرف اشارہ: آسمانوں اور زمین کی نشانیوں کی طرف ایک جامع اشارہ کرنے کے بعد خود انسان کی خلقت اور اس کی پرورش کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں جو اہتمام فرمایا ہے اس کی طرف توجہ دلائی کہ انسان اگر اپنی ہی خلقت کے تمام اطوار و مراحل پر غور کرے تو اس پر خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کے وہ حقائق واضح ہوں گے کہ اس کے لیے نہ خالق کی توحید میں کسی شبہ کی گنجائش باقی رہے گی نہ وہ امکان معاد میں اور نہ جزا و سزا کے لازمی ہونے میں۔ جس خالق نے انسان کو مٹی سے اور پھر پانی کی ایک بوند سے ایسی اعلیٰ صورت بخش دی اس کے لیے اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیوں مشکل ہو جائے گا؟ جس پروردگار نے انسان کی پیدائش کے بالکل ابتدائی مرحلہ سے لے کر اس کے آخری مرحلہ تک پرورش کا یہ انتظام فرمایا آخر وہ اس کو بالکل غیر مسؤل کس طرح چھوڑ دے گا۔ جو انسان اتنی اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آتا ہے آخر اس کی صلاحیتوں کے باب میں اس سے پرسش کیوں نہیں ہو گی؟ پھر یہ کہ جس انسان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے تمام اضداد اور تمام اجزائے مختلفہ کو سازگار بنایا آخر اس کی کیا شامت آئی ہوئی ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی دوسری چیز کو شریک کرے؟ سامان پرورش کی نشانیوں کی طرف اشارہ: ’وَمَا یَبُثُّ مِنۡ دَآبَّۃٍ‘ میں اشارہ اس سامان ربوبیت کی طرف ہے جو اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کی شکل میں انسان کے لیے مہیا فرمایا ہے۔ اگر انسان غور کرے تو اس امر میں ذرا شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان چوپایوں سے جو گوناگوں فوائد حاصل کر رہا ہے یہ اس کو محض اتفاقی واقعہ کے طور پر نہیں حاصل ہو رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہی فوائد کے لیے ان چیزوں کو وجود بخشا اور ہر اعتبار سے ان کو ان کے فوائد کے لیے موزوں بنایا ہے۔ انسان کو سواری اور باربرداری کا محتاج بنایا تو سواری اور باربرداری کے لیے نہایت موزوں جانور پیدا کیے، اس کو دودھ اور گوشت اور کھال اور اون کا ضرورت مند بنایا تو ان تمام ضروریات کے لیے الگ الگ نہایت مناسب چوپائے عطا کیے۔ یہ چیز اس بات کی صاف دلیل ہے کہ اس کائنات کا خالق نہایت مہربان ہے اور اس کی شکرگزاری واجب ہے۔ پھر اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ جب اس نے انسان کو اس اہتمام کے ساتھ اپنی نعمتوں سے نوازا ہے تو لازم ہے کہ ایک ایسا دن بھی آئے جس دن وہ ان نعمتوں کے متعلق لوگوں سے سوال کرے، جنھوں نے ان کا حق پہچانا ہو ان کو انعام دے اور جو ان کو پا کر خدا کو بھول بیٹھے ہوں ان کو اس کفران نعمت کی سزا دے۔ ایمان لانے کے لیے اصلی چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر ایمان کا ارادہ پایا جاتا ہو: ’لِّقَوْمٍ یُوۡقِنُوۡنَ‘ میں فعل ’یُوۡقِنُوۡنَ‘ ارادۂ فعل کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی مذکورہ چیزوں کے اندر توحید و معاد اور جزا و سزا کی دلیلیں تو بے شمار ہیں لیکن مجرد دلیلوں کا وجود اس کے لیے نافع نہیں ہے جس کے اندر دلیلوں کو قبول کرنے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ جو شخص کسی بات کا یقین نہیں کرنا چاہتا وہ بدیہی سے بدیہی حقیقت کے خلاف بھی کچھ نہ کچھ شکوک ایجاد کر ہی لیتا ہے۔
    اور رات اور دن کی آمد و شد میں اور اس ذریعۂ رزق میں جو اللہ آسمان سے اتارتا ہے، پھر اس سے زمین کو زندہ کر دیتا ہے اس کے مر جانے کے بعد، اور ہواؤں کی گردش میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھیں۔
    ’اِخْتِلَافِ‘ کے معنی یہاں یکے بعد دیگرے رات اور دن کی آمد و شد کے ہیں۔ ساتھ ہی یہ لفظ اس اختلاف مزاج کی طرف بھی ایک لطیف اشارہ کر رہا ہے جو رات اور دن کے اندر پایا جاتا ہے اور جو اس کائنات کی نشوونما اور اس کی بہبود و بقا کے لیے ضروری ہے۔ ’مِنْ رِّزْقٍ‘ سے مراد یہاں پانی ہے جو ذریعۂ رزق بنتا ہے۔ گویا مسبب سبب کے لیے استعمال ہوا ہے۔ الفاظ کا یہ طریقۂ استعمال عربی بلکہ کم و بیش ہر زبان میں معروف ہے۔ رات اور دن کی آمد و شد کے اشارات: اختلاف لیل و نہار کی دلیل قرآن میں جگہ جگہ مذکور ہوئی ہے کہ باوجودیکہ ان دونوں کے اندر نسبت ضدین کی ہے، ایک خشک ہے دوسرا گرم، ایک پرسکون ہے دوسرا پرشور، ایک تاریک ہے دوسرا روشن، تاہم ان کے اندر انسان کی پرورش کے لیے زوجین کی سی سازگاری اور موافقت پائی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ دونوں ایک ہی خدا کے بنائے ہوئے اور اسی کے حکم سے برابر، پوری پابندئ وقت کے ساتھ، اپنے مفوضہ فرائض کی بجا آوری میں سرگرم ہیں۔ اگر یہ الگ الگ خداؤں کی ایجاد ہوتے تو ان کے اندر جو سازگاری پائی جاتی ہے اس کا وجود میں آنا ناممکن تھا اور اگر یہ سازگاری وجود میں نہ آتی تو اس کرۂ زمین کے باشندوں کے لیے زندگی ناممکن ہو جاتی۔ بارش کی نشانیاں: یہی حال بارش کا ہے کہ وہ ہوتی تو آسمان سے ہے لیکن زندگی زمین اور اہل زمین کو بخشتی ہے۔ یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ آسمانوں اور زمین کے اندر ایک ہی ارادہ کارفرما ہے۔ اگر آسمان کے دیوتا الگ اور زمین کے دیوتا الگ ہوتے تو آسمان کو کیا پڑی تھی کہ وہ زمین والوں کے لیے غذا کا ذخیرہ اتارتے! پھر یہ بات بھی ہر موسم میں، ہر خاص وعام کے مشاہدہ میں آتی ہے کہ زمین بالکل خشک اور بے آب و گیاہ ہوتی ہے، اس کے کسی گوشے میں بھی زندگی کی کوئی نشانی دکھائی نہیں دیتی کہ بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی دیکھتے دیکھتے زمین کا ہر گوشہ لہلہا اٹھتا ہے۔ تو جس خدا کی یہ شانیں ہر موسم میں ہم دیکھتے ہیں اگر وہ اس دنیا کے مرکھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کرنا چاہے تو کیا یہ کام اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ ہواؤں کی گردش کی نشانیاں: ’وَتَصْرِیْفِ الرِّیَاحِ‘۔ یعنی ہواؤں کی گردش میں بھی خدا کی قدرت، رحمت، ربوبیت اور اس کی نقمت کی نشانیاں موجود ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی مُصَرِّف کے ہاتھ میں ان کی باگ ہے اور وہی اپنی حکمتوں کے تحت ان کو استعمال کرتا ہے۔ اگر وہ ان کو روک دے تو چشم زدن میں ساری دنیا تباہ ہو جائے۔ وہ چاہے تو ایک قوم کے لیے اس کو رحمت بنا دے اور دوسری قوم کے لیے نقمت۔ اسی ہوا کی گردش سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات بخشی اور اسی کی گردش سے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کیا۔ آئے دن یہ بات مشاہدہ میں آتی رہتی ہے کہ کسان اپنی فصل کے مستقبل سے نہایت مطمئن ہوتے ہیں لیکن دفعۃً کوئی ایسی ہوا چل جاتی ہے کہ مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ ملاح اپنی کشتیوں کے بادبان کھولے ہوئے اور کسان اپنی گندم صاف کرنے کے آلات لیے ہوئے سازگار ہوا کے انتظار میں چشم براہ ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں کہ سازگار ہوا چلا دے۔ اس زمانے میں سائنس کی بدولت اگرچہ انسان کے اندر یہ زعم پیدا ہو گیا ہے کہ اس نے ابر و ہوا کو بہت حد تک اپنے قابو میں کر لیا ہے لیکن قدرت ذرا سا جھنجھوڑ دیتی ہے تو اس ادعا کا سارا بھرم کھل جاتا ہے۔ یہ باتیں اس بات کی صاف شہادت ہیں کہ ایک ہی ذات ہے جو اس کائنات کے تمام عناصر پر حکمران ہے۔ اس کے اذن کے بغیر ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا۔ ’اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَعْقِلُوۡنَ‘۔ یعنی نشانیاں تو قدم قدم پر توحید اور معاد کی موجود ہیں لیکن یہ نشانیاں نظر ان لوگوں کو آتی ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔ جو لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے یا کام لیتے ہیں تو بس اسی حد تک جس حد تک وہ ان کی مادی ضروریات کی تکمیل میں ان کا ہاتھ بٹا سکے، وہ لوگ ان نشانیوں کے اصلی جمال کے مشاہدہ سے محروم ہی رہتے ہیں۔ یہاں قرآن نے ان نشانیوں کی طرف اجمالی اشارات کیے ہیں اس وجہ سے ہم بھی اجمالی اشارات ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔ پچھلی سورتوں میں یہ باتیں تفصیل سے گزر چکی ہیں اور ہم بھی ان کی وضاحت پوری تفصیل سے کر چکے ہیں۔ نشانیاں ان کے لیے کارآمد ہیں جو ان سے فائدہ اٹھائیں: اوپر کی تینوں آیات سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اہل ایمان کے لیے تو اس کائنات کا گوشہ گوشہ توحید و معاد کی نشانیوں سے معمور ہے۔ رہے دوسرے تو ان سے بھی یہ نشانیاں مخفی نہیں ہیں بشرطیکہ ان کے اندر ماننے اور یقین کرنے کا حوصلہ اور اپنی عقل سے صحیح کام لینے کا دم داعیہ ہو۔ جو لوگ ایک حقیقت کو، خواہ وہ کتنی ہی واضح ہو، ماننا ہی نہیں چاہتے یا اپنی عقل سے وہ اصل کام لیتے ہی نہیں جس کے لیے وہ فی الحقیقت خلق ہوئی ہے، ایسے لوگوں کے اندھے پن کا کوئی علاج نہیں ہے۔
    یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں بالکل حق کے ساتھ سنا رہے ہیں تو اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے!
    آنحضرت صلعم کے لیے تسلی اور مخالفین کو ملامت: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور آپ کے مخالفین کو ملامت ہے۔ ’تِلْکَ‘ کا اشارہ آفاق و انفس کی انہی نشانیوں کی طرف ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئیں۔ فرمایا کہ اللہ کی توحید، اس کی قدرت و حکمت اور اس کے روز جزا و سزا کی یہ نشانیاں ہیں جو اس قرآن کے ذریعہ سے ہم تم کو، ان کے صحیح نتائج و لوازم کے ساتھ، پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ یہ نشانیاں اس قدر واضح ہیں کہ کوئی ذی ہوش ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ انہی کے واقعی نتائج و لوازم کو قرآن تسلیم کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اگر تمہارے یہ مخالفین ان نشانیوں کے بدیہی نتائج کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں تو اب ان سے زیادہ عقل اور دل کو مطمئن کرنے والی اور کون سی چیز ہو سکتی ہے جس پر ایمان لائیں گے! ’بالحق‘ کا مفہوم: ’نَتْلُوہَا عَلَیْْکَ بِالْحَقِّ‘ میں ’بِالْحَقِّ‘ سے مراد وہ قطعی اور حقیقی نتائج ہیں جو ان نشانیوں پر غور کرنے سے سامنے آتے ہیں۔ یہ قید اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جہاں تک ان نشانیوں پر غور کرنے کا تعلق ہے ان پر غور تو دوسرے بھی کرتے ہیں لیکن وہ اپنے مخصوص اور نہایت محدود زاویہ سے غور کرتے ہیں اس وجہ سے یا تو ان حقائق تک پہنچ نہیں پاتے جو ان کے اندر مضمر ہیں یا پہنچتے تو ہیں لیکن چونکہ وہ ان کے نفس کی خواہشوں کے خلاف ہیں اس وجہ سے ان کے اعتراف سے گریز کرتے ہیں۔ مثلاً آسمان و زمین کی نشانیوں پر فلکیات و ارضیات کے ماہرین بھی غور کرتے ہیں۔ انسان کی خلقت پر اناٹومی (ANATOMY) والے بھی تحقیق کرتے ہیں، حیوانات کے مختلف پہلوؤں پر علم الحیوانات والے بھی سر کھپاتے ہیں، رات اور دن کی گردش، بارشوں کے اوقات و اثرات اور ہواؤں کے تغیر و تبدل پر موسمیات والے بھی بہت کچھ ہوا باندھتے ہیں لیکن ان سب کا حال ان کی تنگ نظری کے سبب سے یہ ہے کہ یہ اپنی دوربینوں اور خوردبینوں سے تِل کو تو دیکھ لیتے ہیں لیکن تل کے اوٹ کا پہاڑ ان کو نظر نہیں آتا۔ موسمیات والے یہ پیشین گوئی تو کر دیں گے کہ آگے چوبیس گھنٹے موسم گرم و خشک رہے گا اور اس کی کوئی الٹی سیدھی توجیہ بھی کر دیں گے۔ اکثر حالات میں ان کی پیشین گوئی صحیح بھی ثابت ہوتی ہے اور بعض حالات میں ان کی پیش کردہ توجیہ سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کی نگاہ صرف ہواؤں کے تصرف کی نوعیت اور اس کے اثرات کا اندازہ کرنے تک محدود رہ جاتی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر وہ اس سوال پر غور کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے کہ ان تصرفات کے پس پردہ حقیقی مصرف کون ہے اور اس کے حقوق و فرائض کیا ہیں! حالانکہ کائنات کے اندر یہ تمام تصرفات و تغیرات جو ہوتے ہیں یہ اسی لیے ہوتے ہیں کہ انسان اس اصل سوال تک پہنچے، اس کا حل دریافت کرے اور اگر خدا کا کوئی بندہ اس کو اس سوال کا کوئی دل نشین حل بتائے تو اس کو قبول اور اس پر عمل کرے۔ قرآن نے ان نشانیوں کے انہی پہلوؤں کو خاص طور پر بے نقاب کیا ہے جو اصل حقیقت پر روشنی ڈالنے والے ہیں اس وجہ سے اس کو ’نَتْلُوْہَا عَلَیْْکَ بِالْحَقِّ ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ دو اہم حقیقتیں: اس سے ایک بڑی اہم حقیقت یہ واضح ہوئی کہ قرآن کی دعوت جبر یا تحکم پر مبنی نہیں ہے بلکہ تمام تر آفاق و انفس کے واضح دلائل اور عقل و فطرت کے بینات پر مبنی ہے۔ جو لوگ ان کو نہیں مانتے ان کے نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ مخفی ہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ ان کو اپنے نفس کی خواہشوں کے خلاف پاتے ہیں اس وجہ سے ان سے درگزر کرنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں ظاہر ہے کہ وہ کوئی بھی ایسی بات ماننے کو تیار نہیں ہو سکتے جو ان کی خواہش کے خلاف ہے اگرچہ وہ سورج سے بھی زیادہ روشن ہو کر ان کے سامنے آئے۔ دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ اس کائنات میں سب سے زیادہ بدیہی بلکہ ابدہ البدیہیات اللہ اور اس کی نشانیاں ہیں۔ جو لوگ ان کے منکر ہیں وہ کسی بھی حقیقت کو ماننے کے اہل نہیں ہیں۔ وہ محض اپنی خواہشوں کے غلام، اپنے پیٹ اور تن کے پجاری ہیں۔ اس طرح کے لوگ اگر کچھ نئی نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کریں تو ان کے مطالبات لائق توجہ نہیں ہیں۔ اس طرح کے اندھوں کی آنکھیں کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی نہیں کھول سکتا۔
    ہلاکی ہے ہر اس لپاٹیے گنہ گار کے لیے۔
    یہ اسی ملامت کے مضمون کی مزید توسیع ہے کہ جن لوگوں نے اس طرح تمام حقائق تلپٹ کر دیے ہیں تاکہ اپنی گنہ گارانہ زندگی کے لیے سند جواز فراہم کریں ان کے لیے ہلاکی ہے۔ ’اَفَّاکٌ‘ اور ’اَثِیْم‘: ’اَفَّاکٌ‘ کے معنی ہیں حقائق کی قلب ماہیت کر دینے والا، یعنی خدا کی نشانیاں اور اس کی آیات تو کسی اور حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہوں لیکن وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بندگی میں اس حقیقت کی بالکل قلب ماہیت کر دے۔ اس کے مصداق اول تو قریش کے مشرکین تھے جنھوں نے محض اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی میں دین ابراہیمؑ کو مسخ کیا لیکن اس کے عام مصداق میں ہر دور کے وہ محرفین دین شامل ہیں جو اللہ کی آیات اور اس کے احکام میں اپنی خواہشات کے تحت تحریف کے مرتکب ہوئے یا ہو رہے ہیں۔ ’اَثِیْمٌ‘ کے معنی گنہ گار، خاص طور پر حقوق و فرائض کے تلف کرنے والے کے ہیں۔ ’اَفَّاکٌ‘ کے ساتھ اس صفت کا جوڑ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ حقائق کے قلب ماہیت کی اس سازش کے مرتکب وہی نابکار ہوتے ہیں جو خدا کے حقوق و فرائض کے ادا کرنے سے گریز اور اپنی معصیت کی زندگی پر اصرار کرنا چاہتے ہیں۔ فرمایا کہ ان بدبختوں کے لیے ہلاکی اور تباہی ہے اس لیے کہ اللہ کی آیات ان کو سنائی جا رہی ہیں لیکن یہ نہایت تکبر کے ساتھ ان کو سن کر اس طرح چل دیتے ہیں گویا کوئی بات انھوں نے سنی ہی نہیں۔ یہ اشارہ قریش کے لیڈروں کے اس رویے کی طرف ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے جواب میں اختیار کرتے۔ اول تو یہ لوگ مجلس نبوی میں جانے ہی کو عار خیال کرتے لیکن کبھی پہنچ بھی جاتے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے پاس جا کر ان کو قرآن سناتے تو اس طرح کان جھاڑ کر اٹھ جاتے گویا کوئی بات انھوں نے سنی ہی نہیں۔
    جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے، اس کو پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں، پھر وہ استکبار کے ساتھ اپنی روش پر ضد کرتا ہے گویا اس نے وہ سنی ہی نہیں۔ تو ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔
    فرمایا کہ ان بدبختوں کے لیے ہلاکی اور تباہی ہے اس لیے کہ اللہ کی آیات ان کو سنائی جا رہی ہیں لیکن یہ نہایت تکبر کے ساتھ ان کو سن کر اس طرح چل دیتے ہیں گویا کوئی بات انھوں نے سنی ہی نہیں۔ یہ اشارہ قریش کے لیڈروں کے اس رویے کی طرف ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے جواب میں اختیار کرتے۔ اول تو یہ لوگ مجلس نبوی میں جانے ہی کو عار خیال کرتے لیکن کبھی پہنچ بھی جاتے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے پاس جا کر ان کو قرآن سناتے تو اس طرح کان جھاڑ کر اٹھ جاتے گویا کوئی بات انھوں نے سنی ہی نہیں۔ ’تُتْلٰی عَلَیْْہِ‘ کے الفاظ سے ان کے جرم کی سنگینی کا اظہار ہو رہا ہے کہ اگر دعوت حق کسی کو پہنچی نہ ہو اور وہ اس سے غافل رہ جائے تو اس کے لیے کچھ عذر ہو سکتا ہے لیکن وہ بدبخت خدا کو کیا جواب دے گا جس کے کانوں میں رسول نے خود جا کر اذان دی لیکن وہ بیدار نہ ہوا! اصرار علی الشرک کا اصل سبب استکبار ہے: ’یُصِرُّ مُسْتَکْبِرًا‘ میں اصرار علی الشرک کے اصل سبب پر روشنی پڑتی ہے کہ ان کے اصرار کی اصل علت یہ نہیں ہے کہ ان پر حقیقت واضح نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ اس بات میں اپنی سبکی سمجھتے ہیں کہ قوم کے سردار اور اعیان و اشراف ہو کر ایک ایسے شخص کی بالاتری اپنے اوپر تسلیم کر لیں جو دنیوی وجاہت میں ان کا ہم سر نہیں ہے۔ ’فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ‘۔ یہ اس ’وَیْْلٌ‘ کی وضاحت ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا کہ اس طرح کے تمام مستکبرین کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ یہ لوگ اگر اپنے غرور کے باعث نجات کی بشارت سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہیں تو بند رکھیں، عذاب کی خوش خبری بہرحال ان کو پہنچا دو جو اس طرح کے لوگوں کے لیے لازمی ہے۔
    اور جب اس کو ہماری آیات میں سے کسی بات کا علم ہوتا ہے تو اس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
    حق کی مخالفت کا عامیانہ حربہ: اوپر کی آیت میں مستکبرین کا وہ رویہ بیان ہوا ہے جو وہ اس وقت اختیار کرتے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود ان کو قرآن سنانے کی کوشش فرماتے۔ اب ان کا وہ رویہ بیان ہو رہا ہے جو اس وقت وہ اختیار کرتے جب قرآن کی کوئی بات ان کو کسی اور واسطہ سے پہنچتی۔ فرمایا کہ ان کو ہماری آیات میں سے کسی چیز کا علم ہوتا ہے تو اس کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دوسرے ان سے متاثر نہ ہونے پائیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قرآن کے زمانۂ نزول میں قریش کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو غیرجانبدارانہ ذہن کے ساتھ قرآن کی آیتیں سنتے اور ان سے وہ متاثر بھی ہوتے۔ اس طرح کے لوگ ان آیتوں کو اپنے سرداروں کے علم میں بھی لانے کی کوشش کرتے تاکہ ان کے باب میں ان کی رائے معلوم کریں۔ ان کے سردار فوراً تاڑ جاتے کہ لوگ ان آیات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر سے لوگوں کو بچانے کے لیے وہ یہ تو کر نہیں سکتے تھے کہ دلیل سے قائل کر دیں کہ قرآن کی بات میں فلاں چیز عقل یا فطرت یا حقیقت کے خلاف ہے۔ واحد تدبیر جو وہ کر سکتے تھے وہ یہی تھی کہ قرآن کی بات کا مذاق اڑائیں تاکہ اس طرح بات ہوا میں اڑ جائے اور کسی پر اس کا کوئی اثر نہ ہونے پائے۔ اس قسم کی عامیانہ حرکت اگرچہ کچھ زیادہ کارگر نہیں ہوتی تاہم وقتی طور پر کمزور رائے کے لوگ غلط فہمیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ حربہ ہر دور کے شیاطین نے حق کے خلاف استعمال کیا ہے۔ سب سے زیادہ سخت عذاب وہ ہے جس کے ساتھ رسوائی ہو: ’اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ‘۔ ان لوگوں کے اس رویہ کا اصل محرک، جیسا کہ اوپر والی آیت میں مذکور ہوا، استکبار تھا اس وجہ سے فرمایا کہ ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ انھوں نے حق کے مقابل میں گھمنڈ کیا اس وجہ سے ان کے لیے آخرت میں رسوائی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اگرچہ اللہ کا ہر عذاب پناہ مانگنے کی چیز ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ سخت عذاب وہ ہے جس کے ساتھ رسوائی بھی ہو۔ یہ عذاب مستکبرین کے لیے خاص ہے۔
    آگے ان کے جہنم ہے اور جو چیزیں انھوں نے کمائی ہیں وہ ان کے ذرا کام آنے والی نہیں بنیں گی اور نہ وہی ان کے کام آنے والے بنیں گے جو اللہ کے سوا انھوں نے اپنے لیے کارساز بنا رکھے ہیں۔ اور ان کے لیے ایک بڑا عذاب ہو گا۔
    ’مِنْ وَرَآءِ‘ کا مفہوم ہمارے اردو کے ورے اور پرے کی طرح موقع و محل سے معین ہوتا ہے۔ اس کا مطلب آگے بھی ہو سکتا ہے اور پیچھے بھی۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے آگے جہنم ہے جس میں یہ پڑیں گے اور اس میں پڑنے کے بعد نہ ان کا وہ حرام اندوختہ ان کے کچھ کام آئے گا جو ان کے استکبار اور حق سے اعراض کا سبب بنا اور نہ ان کے وہ مزعومہ شرکاء و شفعاء ہی کچھ کام آئیں گے جن کو انھوں نے اللہ کے سوا اپنا کارساز بنایا۔ ’وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ‘۔ اور عذاب بھی کوئی ایسا ویسا نہیں ہو گا جو کسی طرح جھیلا جا سکے بلکہ بہت بڑا عذاب ہو گا۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ آج نہیں ہو سکتا۔
    یہ اصل ہدایت ہے اور جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا تو ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے کپکپی پیدا کر دینے والی نوعیت کا۔
    یعنی یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ ہدایت ہے۔ یہ ہنسی مسخری کی چیز نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ کی ان آیات کا انکار کریں گے یا مذاق اڑائیں گے وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہو گا۔ ’مَنْ رِّجْزٍ‘ کے الفاظ اس عذاب کی نوعیت واضح کر رہے ہیں۔ ’رِجْز‘ اس سزا یا عذاب کو کہتے ہیں جو کپکپی پیدا کر دے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی معمولی عذاب نہیں ہو گا بلکہ نہایت دردناک ہو گا جو دلوں کو لرزا دے گا۔
    اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو سازگار بنا دیا تاکہ اس کے حکم سے، اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل کے طالب بنو اور تاکہ تم اس کے شکر گزار رہو۔
    دلائل کی سلسلۂ بیان: اوپر کی چار آیتیں توحید اور معاد کے دلائل کے بیچ میں بطور تنبیہ و تذکیر آ گئی تھیں تاکہ قریش کے لیڈروں کو برسر موقع تنبیہ ہو جائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دے دی جائے۔ اب اس آیت میں اصل سلسلۂ کلام کو پھر لے لیا۔ فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو اس طرح تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے کہ وہ اپنے سینہ پر تمہاری کشتیوں کو چلاتا ہے۔ ’بِأَمْرِہٖ‘ یعنی یہ بات خاص خدا کے حکم سے ہوتی ہے۔ اگر خدا کا حکم نہ ہوتا تو دیکھتے ہو کہ کشتی سے کہیں زیادہ چھوٹی چیزیں سمندر کے اندر ڈالتے ہی ڈوب جاتی ہیں لیکن ہزاروں ٹن کا جہاز اس پر تیرتا ہے۔ یہ اللہ ہی کا بنایا ہوا قانون ہے کہ لوہے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تو ڈوب جائے لیکن جہاز اپنے اوپر ہزاروں ٹن لوہا لادے ہوئے نہ ڈوبے۔ ’وَلِتَبْتَغُوْا‘ سے پہلے قرینہ دلیل ہے کہ ’لِتَرْکَبُوْا‘ یا ’لِتُسَافِرُوْا‘ یا ان کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ حرف عطف اس حذف کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے یہ اہتمام اس لیے فرمایا ہے کہ تم ایک مقام سے دوسرے مقام کا سفر کرو اور تجارت کی راہ سے اس کے فضل کے طالب بن سکو۔ مشاہدات ربوبیت کی اصل تعلیم: ’وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ‘۔ یہ وہ اصل سبق ہے جو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ان مشاہدات سے ہر اس شخص کو ملتا ہے جس کے ضمیر اور جس کی عقل کے اندر زندگی کی کوئی رمق باقی ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے اپنی پروردگاری کی یہ شانیں اس لیے تم کو دکھائی ہیں کہ تم اس کے شکرگزار بندے بنو۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ شکرگزاری کا جذبہ ہی خدا کی بندگی کی اصل ہے۔ سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔
    اور اسی نے تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے ان چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب کو اپنی طرف سے۔ بے شک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔
    ’وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ‘۔ اور خاص طور پر سمندر کی تسخیر کا ذکر فرمایا تھا جو انسان کے مشاہدہ میں آنے والی چیزوں میں سب سے زیادہ زور دار اور بظاہر بالکل ناقابل تسخیر بھی ہے اور کم و بیش ہر شخص کو اس کے سفر کا تجربہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ اب یہ خاص کے بعد اس کائنات کی عام چیزوں کا حوالہ دیا کہ اسی خدا نے آسمانوں اور زمین کی دوسری چیزوں کو بھی تمہاری منفعت رسانی میں لگا رکھا ہے۔ ’جَمِیْعًا مِّنْہُ‘۔ یعنی یہ ساری چیزیں اسی کے حکم سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تمہاری خدمت انجام دے رہی ہیں۔ ’جَمِیْعًا‘ کا تعلق ماسبق سے نہیں بلکہ ’مِنْہُ‘ سے ہے۔ ان میں سے کسی چیز کو بھی نہ تم نے مسخر کیا ہے، نہ کسی اور نے مسخر کیا ہے اور نہ یہ چیزیں بطور خود تمہاری چاکری کر رہی ہیں بلکہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے تمہارے رب کی تدبیر سے ہو رہا ہے اس لیے کہ تنہا وہی ہے جو ان تمام چیزوں کا خالق اور ان پر مصرف ہے۔ ’اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَاتٍ لَّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُوۡنَ‘۔ یعنی غور کرنے والوں کے لیے آفاق کی نشانیوں میں توحید اور معاد کی گوناگوں دلیلیں موجود ہیں۔ آفاق کی نشانیوں میں توحید اور معاد کی دلیلیں: ۔۔۔ ان کا مسخر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی یہ درجہ نہیں رکھتی کہ اس کو معبود مان کر اس کی پرستش کی جائے بلکہ ہر چیز اپنے وجود سے اس بات کی شاہد ہے کہ اس کی نکیل ایک بالاتر قوت کے ہاتھ میں ہے جو اس کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت استعمال کر رہی ہے۔ ۔۔۔ ان کے اندر تضاد و تخالف کے باوجود اس طرح کی موافقت اور سازگاری بھی ہے جو ایک مشین کے پرزوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ یہ توافق اس بات کی دلیل ہے کہ ایک ہی ارادہ ہے جو اس کائنات کے پورے نظام پر حاوی ہے۔ ۔۔۔ اس نظام میں ربوبیت، رحمت اور حکمت کی ایسی شہادتیں موجود ہیں جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ کوئی اندھی بہری قوت اس کو نہیں چلا رہی ہے۔ اس کا علم، اس کی رحمت اور اس کی حکمت مقتضی ہے کہ وہ ایک ایسا روز جزا و سزا بھی لائے جس میں وہ ان لوگوں کو انعام دے جنھوں نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا اور ان لوگوں کو سزا دے جنھوں نے اس کی نعمتوں کی ناقدری کی اور کفر و شرک میں مبتلا ہوئے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ یا تو ’نعوذ باللہ‘ بالکل بے اختیار ہے یا بالکل بے حس اور کھلنڈرا۔ یہ باتیں اس کی اعلیٰ صفات کے منافی ہیں۔ دلائل کی کمی نہیں ہے ضرورت تفکر کی ہے: آخر میں لفظ ’یَتَفَکَّرُوۡنَ‘ اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ان کی کمی نہیں ہے۔ کائنات کا چپہ چپہ ان سے معمور ہے اور قرآن نے بھی ان کی پوری تفصیل کر دی ہے۔ کمی جس چیز کی ہے وہ تفکر کی ہے۔ لوگ اللہ کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے اور یہ غور کرنا انسان کا اپنا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کسی کو مجبور نہیں کرتا۔
    ایمان والوں سے کہہ دو کہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو خدا کے بڑے دنوں کے ظہور کے متوقع نہیں ہیں تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کا پورا پورا بدلہ دے جو وہ کرتی رہی ہے۔
    ’یَغْفِرُوْا‘ یہاں درگزر اور نظر انداز کرنے کے معنی میں ہے۔ ’اَیَّامَ اللہِ‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے عدل و انتقام کے وہ تاریخی دن ہیں جس میں اس نے رسولوں کے مکذبین کو صفحۂ ارض سے نیست و نابود کیا ہے۔ قرآن میں قوموں کی تاریخ بیان ہوئی ہے۔ اس میں ان ’ایام‘ کا ذکر گزر چکا ہے اور آگے بھی ان کی تفصیل آئے گی۔ ’لِیَجْزِیَ قَوْمًا‘ میں ’قوم‘ سے مراد یہی مخالفین ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ اس لفظ کی تنکیر اظہار نفرت و بیزاری کے لیے ہے جس طرح ’اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا‘ میں لفظ ’قُلُوْبٍ‘ کی تنکیر ہے۔ جن لوگوں نے اس سے مسلمانوں کو مراد لیا ہے انھوں نے سیاق و سباق کی دلالت اور اسلوب کی بلاغت پر غور نہیں کیا۔ مسلمانوں کے لیے تسلی: جس طرح اوپر آیت ۶ میں مخالفین کی ضد اور ہٹ دھرمی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے اسی طرح اس آیت میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ مخالفین کی اوچھی حرکتوں سے وہ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ ان کو ابھی نظرانداز کریں۔ ان لوگوں کو چونکہ یہ اندیشہ نہیں ہے کہ جس روز بد سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ فی الواقع ظہور میں بھی آنے والا ہے اس وجہ سے یہ دلیر ہوتے جا رہے ہیں لیکن اللہ اس قابل نفرت قوم کو اس لیے ڈھیل دے رہا ہے کہ یہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں تاکہ یہ اپنے کیے کی بھرپور سزا پائیں۔ سنت الٰہی یہی ہے کہ وہ شریروں کو پوری مہلت دیتا ہے تاکہ ان پر اللہ کی حجت پوری ہو جائے اور جب وہ پکڑے جائیں تو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔
    جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اس کا نفع اسی کے لیے ہے اور جو برائی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
    یہ اسی تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ اگر یہ لوگ نیکی کی راہ اختیار کریں گے تو اس کا نفع انہی کو پہنچے گا اور اگر بدی پر جمے رہ گئے تو اس کا وبال انہی پر آئے گا۔ اس کی کوئی ذمہ داری اہل ایمان پر نہیں ہو گی جب کہ انھوں نے حق لوگوں کو پہنچا دیا۔ پھر قیامت کے دن سب کی پیشی خدا کے سامنے ہو گی اور اس دن فیصلہ ہو جائے گا کہ کون حق پر رہا اور کون باطل پر اور کون کس انجام کا سزاوار ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List