Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الدخان (The Smoke)

    59 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس سورہ کا قرآنی نام وہی ہے جو سابق سورہ کا ہے اور اس کی تمہید بھی اصل مدعا کے اعتبار سے تقریباً وہی ہے جو سابق سورہ کی ہے۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ سابق سورہ میں توحید کے دلائل کا پہلو نمایاں ہے اور اس میں توحید کے دلائل کے بجائے انذار کا پہلو غالب ہے۔ پوری سورہ پر تدبر کی نظر ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں قرآن اور رسالت کا اثبات اس پہلو سے ہے کہ قرآن منکرین کو جس انجام کی خبر دے رہا ہے وہ دنیا میں بھی شدنی ہے اور آخرت میں بھی۔ تاریخ اس کی شہادت دے رہی ہے اور یہی عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ سابق سورہ کی آخری آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ

    فَاصْفَحْ عَنْہُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ‘ (الزخرف: ۸۹)

    (ان کو نظر انداز کرو اور کہو میرا سلام لو، پس یہ عنقریب جان لیں گے)

    اس سورہ میں اسی تہدید کے دلائل و قرائن کی وضاحت ہے۔ گروپ کی آگے کی سورتوں میں یہ مضمون زیادہ واضح ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ گروپ کے آخر میں جو مدنی سورتیں ہیں ان میں قریش کے عزل اور اہل ایمان کی نصرت اور ان کے غلبہ کا بالکل قطعی الفاظ میں اعلان فرما دیا گیا ہے۔

  • الدخان (The Smoke)

    59 آیات | مکی

    الزخرف ۔ الدخان

    ۴۳ ۔ ۴۴

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع توحید کے منکرین کو انذار ہے۔ پہلی سورہ میں البتہ توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کا پہلو نمایاں ہے اور دوسری میں انذار کا جس میں اُن لوگوں کے لیے سخت تہدید اور اِس تہدید کے دلائل و قرائن کی وضاحت ہے جو توحید کی اِس دعوت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا افترا قرار دے رہے تھے اور اِس طرح قرآن کے بارے میں یہ کہہ رہے تھے کہ یہ اِنھی کا گھڑا ہوا ہے جسے خدا کی کتاب کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ قرآن کی عظمت و شان اور اُس کے اہتمام نزول کا مضمون اِسی رعایت سے بیان ہوا ہے۔ دونوں سورتوں کو ایک ہی آیت سے شروع کرکے قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف خود اشارہ کر دیا ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔


  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 044 Verse 001 Chapter 044 Verse 002 Chapter 044 Verse 003 Chapter 044 Verse 004 Chapter 044 Verse 005 Chapter 044 Verse 006 Chapter 044 Verse 007 Chapter 044 Verse 008 Chapter 044 Verse 009 Chapter 044 Verse 010 Chapter 044 Verse 011 Chapter 044 Verse 012 Chapter 044 Verse 013 Chapter 044 Verse 014 Chapter 044 Verse 015 Chapter 044 Verse 016
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ حٰمٓ ہے۔
    یہ اس سورہ کا قرآنی نام ہے اور یہی نام سابق سورہ کا بھی ہے۔ ناموں کا اشتراک مطالب کے اشتراک کی دلیل ہوتا ہے چنانچہ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ سابق سورہ کی آخری آیت میں قریش کو تکذیب رسول کے جس انجام کی دھمکی دی ہے اس سورہ میں اسی دھمکی کی تفصیل ہے۔ آگے کی آیات سے اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔
    قسم ہے واضح کر دینے والی کتاب کی۔
    ’و‘ یہاں قسم کے لیے ہے اور یہ وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے کہ عربی میں قسم کا اصل مقصد کسی دعوے پر شہادت پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مقسم علیہ کیا ہے؟ عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس کا مقسم علیہ بعد والی آیت ’اِنَّا أَنزَلْنٰہُ فِیْ لَیْْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ ....‘ کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ زبان کے قواعد کے اعتبار سے اس میں کوئی خامی نہیں ہے لیکن مجھے اس پر پورا اطمینان نہیں ہے۔ قسم اور مقسم علیہ میں تعلق دلیل اور دعوے کا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ قرآن کا کتاب مبین ہونا اس بات کی دلیل کس طرح بن سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ میرے نزدیک یہاں مقسم علیہ محذوف ہے۔ قرینہ اور موقع کلام اس محذوف پر دلیل ہے۔ بربنائے قرینہ مقسم علیہ کے محذوف ہونے کی نظیریں بہت ہیں۔ ایک واضح نظیر سورہ قٓ میں موجود ہے: ’قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ ۵ بَلْ عَجِبُوۡا أَن جَاء ہُمْ مُنذِرٌ مِّنْہُمْ ...‘ (۱-۲) (یہ سورہ قٓ ہے، شاہد ہے قرآن بزرگ! بلکہ انھوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک شخص منذر بن کر اٹھا)۔ ظاہر ہے کہ یہاں مقسم علیہ محذوف ہے۔ اسی طرح آیت زیربحث میں بھی مقسم علیہ محذوف ہے۔ اس حذف کا فائدہ یہ ہے کہ یہاں وہ ساری بات محذوف مانی جا سکتی ہے جس کے لیے موقع کلام مقتضی ہو۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو گویا پوری بات یوں ہو گی کہ یہ واضح کتاب، جو اپنے دعوے پر خود حجت قاطع ہے، اس بات کی شاہد ہے کہ یہ جھٹلانے والوں کو جس انجام بد سے ڈرا رہی ہے وہ ایک امر شدنی ہے، جو شخص اس کو پیش کر رہا ہے اس کو خبطی یا دیوانہ نہ سمجھو بلکہ وہ ایک رسول مبین ہے۔ اس کی دعوت تمام تر حکمت پر مبنی ہے۔ اس کو قبول کرنا باعث رحمت اور اس کو رد کرنا باعث نقمت ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ان باتوں کی دلیل ڈھونڈنے کے لیے قرآن سے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان میں سے ہر حقیقت کو مبرہن کر دینے کے لیے یہ کتاب خود کافی ہے۔ جو لوگ اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔  
    بے شک اس کو ہم نے ایک مبارک رات میں اتارا ہے، بے شک ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے تھے۔
    یہ اس اہتمام خاص کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے اتارنے کے لیے فرمایا۔ مقصود اس اہتمام کے ذکر سے مخاطبوں پر یہ واضح کرنا ہے کہ اس کو کوئی ہنسی مسخری کی چیز یا کسی مجذوب کی بڑ نہ سمجھیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم اسکیم کا ایک نہایت عظیم حصہ ہے اور اس کے اتارنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے وہ مبارک شب منتخب فرمائی جو اس کی طرف سے تمام امور حکمت کی تقسیم کے لیے خاص کی ہوئی ہے۔ مقصود اس کے اتارنے سے ان لوگوں کو انذار کرنا ہے جن کے آباء و اجداد کو انذار نہیں کیا گیا تھا تاکہ ان پر اللہ کی حجت تمام ہو جائے اور قیامت کے دن وہ یہ عذر نہ کر سکیں کہ ان کو انذار کے بغیر ہی پکڑ لیا گیا۔ اس اہتمام خاص کے بعض اور پہلو بھی ہیں جن کی تفصیل ان شاء اللہ سورۂ جن اور سورۂ قدر کی تفسیر میں آئے گی۔ ’لَیْْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ لیلۃ القدر ہے۔ چنانچہ سورۂ قدر میں یہ تصریح موجود ہے کہ اسی رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن اتارا: ’إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْْلَۃِ الْقَدْرِ ۵ وَمَا أَدْرَاکَ مَا لَیْْلَۃُ الْقَدْرِ ۵ لَیْْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ ۵ تَنَزَّلُ الْمَلَاءِکَۃُ وَالرُّوحُ فِیْہَا بِإِذْنِ رَبِّہِم مِّن کُلِّ أَمْرٍ ۵ سَلَامٌ ہِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ‘ (۱-۵) (ہم نے اس کو اتارا ہے لیلۃ القدر میں۔ اور تم کیا سمجھے کہ لیلۃ القدر کیا ہے! لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اس میں ملائکہ اور جبریل اترتے ہیں، ہر باب میں اپنے رب کے اذن کے ساتھ۔ وہ سلامتی ہی سلامتی ہے۔ وہ طلوع فجر تک ہے)۔ یہ لیلۃ القدر لازماً رمضان شریف ہی کی کوئی رات ہو سکتی ہے اس لیے کہ قرآن میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ رمضان ہی کے مہینہ میں قرآن نازل ہوا: ’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ..... ‘ (البقرہ: ۱۸۵) (رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا)۔ رہا یہ سوال کہ یہ رمضان کی کون سی رات ہے تو اس کا کوئی قطعی جواب مشکل ہے۔ روایات کی روشنی میں صرف اتنی بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ کی کوئی رات ہے۔ تعین کے ساتھ اس کے ظاہر نہ کرنے میں مصلحت الٰہی یہ معلوم ہوتی ہے کہ بندے اس کی جستجو کریں اور اس طرح ان کے ذوق و شوق اور طلب و تمنا کا امتحان ہو۔ بندوں کی اس طلب و تمنا کے اندر ہی اس لیلۃ القدر کی تمام برکتوں کا راز مضمر ہے۔ ان تصریحات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہو گئی کہ اس سے شعبان یا کسی اور مہینہ کی کوئی رات مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس رات میں قرآن کے اتارے جانے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ پورا قرآن اسی شب میں اتار دیا گیا ہو بلکہ یہ اس کے مبارک آغاز کا پتا دیا گیا ہے۔ جب ایک کام کا آغاز ایک مبارک ساعت میں ہو گیا اور اس کے پورے کیے جانے کا فیصلہ بھی ہو گیا تو گویا وہ کلام اسی مبارک ساعت میں ہو گیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو کوئی دوسرا تبدیل نہیں کر سکتا۔ قرآن میں اس اسلوب تعبیر کی مثالیں موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مستقبل میں پورے ہونے والے وعدے ماضی کے صیغے سے بیان کیے ہیں۔ ’لَیْْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ خاص خاص دنوں، مہینوں اور اوقات کا مبارک ہونا ان کی روحانی زرخیزی اور فیض بخشی کے پہلو سے ہے۔ جس طرح ہماری اس مادی دنیا میں موسموں اور فصلوں کا لحاظ ہے۔ ہر موسم ہر چیز کی کاشت کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ اسی طرح روحانی عالم میں بھی ساعات و اوقات، سالوں اور مہینوں کا اعتبار ہے۔ جو عبادت اللہ تعالیٰ نے جس وقت، جس دن اور جس مہینہ کے ساتھ وابستہ کر دی ہے اس کی حقیقی برکت اسی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جب وہ اس وقت یا اس دن یا اس مہینہ کی پابندی کے ساتھ کی جائے۔ ورنہ جس طرح بے موسم کی بوئی ہوئی گندم بے حاصل رہتی ہے اسی طرح بے وقت کی نماز، بے وقت کے روزے اور بے موسم کے حج کا بھی کچھ حاصل نہیں اور اگر ہے تو بہت تھوڑا۔ ہمارے چوبیس گھنٹوں کے اوقات میں فجر، چاشت، ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور تہجد کے اوقات روحانی اعتبار سے اپنے اندر ایک خاص برکت رکھتے ہیں۔ قرآن اور حدیث میں ان کی یہ برکت واضح فرمائی گئی ہے۔ اسی طرح ہفتہ کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روحانی فیض بخشی کے اعتبار سے ایک مخصوص اہمیت حاصل ہے جو کسی دوسرے دن کو حاصل نہیں ۔۔۔ سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان یا حج کے مہینوں کو جو شرف خصوصی حاصل ہے اس میں دوسرے مہینے ان کے شریک و سہیم نہیں ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں میں سے ایک رات اللہ تعالیٰ نے مخصوص کر دی ہے جس میں وہ اپنے ملائکہ مقربین کے ذریعہ سے اس دنیا میں مامور ملائکہ کو اپنے سال بھر کے پروگرام سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر حکم کو اس کے مقررہ وقت پر نافذ کریں۔ اسی طرح کی ایک رات میں رب العزت نے قرآن نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو انذار کیا جائے اور اس دنیا کی ہدایت کے لیے ایک آخری رسول کی بعثت کی شکل میں جو رحمت مقدر تھی وہ ظہور میں آئے۔ اس کا حوالہ دینے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اس قرآن کا نزول نہ کوئی اتفاقی واقعہ ہے، نہ یہ کوئی بے وقت کی راگنی ہے، نہ یہ بے موسم کا کوئی خود رَو پودا ہے، نہ یہ کوئی من گھڑت چیز ہے؛ بلکہ یہ اس اسکیم کا ظہور ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی خلق کی اصلاح و ہدایت کے لیے پسند فرمائی ہے۔ چنانچہ اس مبارک رات میں اس کو اس نے اتارا ہے جو تمام امور حکمت کی تقسیم کے لیے خاص ہے۔ پس جن لوگوں کے لیے یہ اتاری گئی ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کے شایان شان اس کی قدر کریں ورنہ یاد رکھیں کہ جو چیز اللہ نے اس شان و اہتمام کے ساتھ اتاری ہے اس کی ناقدری وہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا۔ یہ کوئی ہوائی چیز نہیں ہے کہ یہ اس کو مذاق میں اڑا دیں اور یہ اڑ جائے۔ اس کی تصدیق یا تکذیب دونوں ہی چیزیں نہایت اہم نتائج کی حامل ہیں اور یہ نتائج لازماً سامنے آ کے رہیں گے۔ ابدی بادشاہی یا ابدی ہلاکت: ’اِنَّا کُنَّا مُنذِرِیْنَ‘۔ یہ قرآن کے مقصد نزول کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں یہ بات رہی ہے کہ جس طرح پچھلی قوموں کو ان کی نافرمانیوں پر ہلاک کرنے سے پہلے ان کو تمام خیر و شر سے آگاہ کر دیا گیا اسی طرح اہل عرب کو بھی ان کی نافرمانیوں پر سزا دینے سے پہلے اچھی طرح آگاہ کر دیا جائے تاکہ ان میں سے جو ہدایت قبول کرنا چاہیں وہ ہدایت قبول کر لیں اور جو ہدایت نہ قبول کریں ان کے لیے کوئی عذر نہ باقی رہ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کا نزول اور اس رسول کی بعثت اللہ تعالیٰ کی طرف اتمام حجت کے لیے ہے اور سنت الٰہی یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد کسی قوم کو مہلت نہیں ملا کرتی اس وجہ سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ جو قدم اٹھائے یہ سوچ کر اٹھائے کہ ایک فیصلہ کن مرحلہ اس کے سامنے ہے۔ اس کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔۔۔ ابدی بادشاہی یا ابدی ہلاکت!!  
    اس رات میں تمام پر حکمت امور کی تقسیم ہوتی ہے۔
    مخاطبوں کو ایک تنبیہ: یہ اسی شب مبارک کی تعریف ہے کہ اس میں تمام مبنی بر حکمت امور کی تقسیم ہوتی ہے۔ اس آیت کو اگر سورۂ قدر کی روشنی میں دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ مقربین کو زمین سے متعلق تمام امور کلیہ سے آگاہ فرماتا ہے اور وہ ان سے زمین میں مامور ملائکہ کو آگاہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے نقشہ کے مطابق اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ ’اَمْر‘ کے ساتھ ’حَکِیْم‘ کی صفت اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ اللہ تعالی کا کوئی حکم بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ وہ کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ بھی اس کے عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور اگر کسی قوم پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے تو وہ بھی اس کے عدل و حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ مخاطبوں کو تنبیہ ہے کہ اس وقت جو مرحلہ تمہارے سامنے ہے اس کے ہر پہلو پر سنجیدگی سے غور کرو۔ اگر تم نے لاابالیانہ روش اختیار کیے رکھی اور خدا کی ایک مبنی برحکمت اسکیم کے تقاضے پورے نہ کیے تو اس کے نتائج خود تمہارے حق میں نہایت مہلک ہوں گے۔
    خاص ہمارے امر سے۔ بے شک ہم رسول بھیجنے والے تھے۔
    ’اَمْرًا‘ کا نصب علیٰ سبیل الاختصاص ہے اور مقصود اس سے اس تقسیم امور کی اہمیت و عظمت کو واضح فرمانا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہوتا ہے خاص امر الٰہی سے ہوتا ہے۔ اس میں کسی اور کو دخل نہیں ہوتا اس وجہ سے بندوں پر واجب ہے کہ اس کو کائنات کے بادشاہ حقیقی کے خاص فرمان کی حیثیت سے قبول کریں اور سچے جذبۂ انقیاد کے ساتھ اس کے ہر حکم کی اطاعت کریں۔ اگر انھوں نے اس کو رد کیا، اس کا مذاق اڑایا اور اس کی تکذیب کی تو یاد رکھیں کہ یہ اس کائنات کے بادشاہ حقیقی سے بغاوت ہو گی جس کی سزا بڑی ہی ہولناک ہے۔ ان پیشین گوئیوں کی طرف اشارہ جو انبیاء سے منقول ہیں: ’اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ‘۔ یہ بالکل ’اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ‘ کے ہم وزن جملہ ہے۔ جس طرح اوپر والی آیت میں قرآن کے نزول کا مقصد انذار بتایا ہے اسی طرح اس آیت میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں یہ بات پہلے سے طے تھی کہ وہ بنی اسماعیل میں ایک رسول مبعوث فرمائے گا جو بنی اسماعیل کے لیے بھی باعث رحمت ہو گا اور تمام خلق کے لیے بھی۔ یہ اشارہ ان پیشین گوئیوں کی طرف ہے جو حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح علیہم السلام سے منقول ہیں اور جن کا حوالہ ان کے محل میں ہم دے چکے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اس رسول کی بعثت اسی اسکیم کے تحت ہوئی ہے اور ٹھیک اس رات میں ہوئی ہے جو اس طرح کے امور مہمہ کے ظہور کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے۔
    خاص تیرے رب کی رحمت سے۔ بے شک سننے جاننے والا وہی ہے۔
    آنحضرت صلعم کے رحمت ہونے کی طرف اشارہ: یہ ارسال رسول کا مقصد واضح فرمایا اور خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے کہ تمہارے رب نے تم کو اپنی جانب سے ایک عظیم رحمت کے طور پر مبعوث فرمایا ہے۔ اگر لوگوں نے تمہاری قدر نہ کی تو تمہارا کچھ نہیں بگاڑیں گے، اپنے ہی کو اللہ کی سب سے بڑی رحمت سے محروم کریں گے۔ آیت ۳ میں رسول کے منذر ہونے کا ذکر تھا، اس آیت میں اس کے رحمت و بشارت ہونے کی طرف اشارہ ہو گیا۔ اور یہ دونوں باتیں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ جو چیز سب سے بڑی رحمت ہو گی وہ سب سے بڑی نقمت بھی بن سکتی ہے اگر اس کی قدر نہ کی جائے۔ یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ انذار کے پہلو کو مقدم رکھا ہے درآنحالیکہ قرآن کے نزول اور رسول کی بعثت سے اصل مقصود خلق پر رحمت ہوتا ہے اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف، سورہ کے عمود پر تقریر کرتے ہوئے، ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سورہ کا اصل مزاج انذار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سمع و علم کا لازمی تقاضا: ’اِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ‘۔ ان صفات کے حوالہ میں ایک پہلو یہ ملحوظ ہے کہ اس کائنات کا رب ایک دانا و بینا ہستی ہے، وہ اپنی خلق کو شتر بے مہار بنا کر نہیں چھوڑ سکتا۔ اس کے دانا و بینا ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ خلق کے حالات پر پوری نظر رکھے۔ لوگوں کو اپنے احکام و اوامر سے آگاہ کرے۔ اگر وہ ان کی تعمیل کریں تو دنیا و آخرت دونوں میں اس کا انعام دے اور اگر سرکشی کریں تو اس کی سزا دے۔ دوسرا یہ کہ اس وقت اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کے ساتھ قریش کے لیڈر جو کچھ کر رہے ہیں خدائے سمیع و علیم اس سے بے خبر نہیں ہے۔ ہر بات اس کے علم میں ہے اور جب ہر بات اس کے علم میں ہے اور کوئی چیز بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے تو نبی اور اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ جو کچھ اس کی حکمت کا تقاضا ہو گا وہ لازماً ظہور میں آئے گا۔ کوئی چیز بھی اس کی راہ میں مزاحم نہ ہو سکے گی۔ ان آیات کے مقدرات کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے سورۂ قصص کی آیات ۴۵-۴۶ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
    اس رب کی رحمت سے جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کا خداوند ہے اگر تم یقین کرنے والے بنو۔
    مخالفین کو ایک سخت وعید: یہ مخالفین کو وعید اور بڑی ہی سخت وعید ہے۔ فرمایا کہ اس انذار و تبشیر کو محض ہوائی بات نہ سمجھو جو محض تم پر دھونس جمانے کے لیے کہی جا رہی ہو بلکہ یہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کے خداوند کی طرف سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہی ہر چیز کا مالک اور خداوند ہے تو کس کے امکان میں ہے کہ اس کے کسی ارادے میں مزاحم ہو سکے۔ اگر وہ لوگوں کو پکڑنا چاہے تو جب چاہے پکڑ لے کوئی اس کو بچا نہیں سکتا اور اگر وہ کسی کو کچھ بخشنا چاہے تو جو چاہے بخش دے کوئی اس کو چھین نہیں سکتا۔ ’اِنْ کُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِیْنَ‘۔ یہ مخاطبوں کو ملامت ہے کہ ہے تو یہ حقیقت بالکل بدیہی لیکن کسی چیز کے ماننے کے لیے صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ بالکل واضح اور بدیہی ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کے اندر اس کے ماننے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ اگر یہ ارادہ کسی کے اندر موجود نہ ہو تو بدیہی سے بدیہی حقیقت کا بھی وہ انکار کر بیٹھتا ہے اور کوئی بڑے سے بڑا منطقی بھی اس کو قائل کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔
    اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، تمہارا بھی رب اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی رب۔
    یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید تاکید ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں جس کی سفارش تمہارے کچھ کام آ سکے۔ زندگی اور موت سب اسی کے اختیار میں ہے۔ وہی تمہارا بھی رب ہے اور وہی تمہارے اگلے آباء و اجداد کا بھی رب ہے۔ اگر تمہارے آباء و اجداد نے اس کے سوا کسی اور کو پوجا تو یہ ان کی سفاہت و جہالت ہے۔ ان کی تقلید کو اپنے لیے دلیل نہ بناؤ ورنہ پرائے شگون پر اپنی ناک کٹوا بیٹھو گے۔
    بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔
    انکار کی اصل علت: یعنی یہ انذار و تبشیر ہے تو ایک امر واقعہ جس میں کسی ذی ہوش کے لیے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ لوگ اپنی خواہشوں کے ایسے غلام ہیں کہ جب تک اس چیز کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے اس وقت تک ماننے والے نہیں ہیں، اس وجہ سے شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے اور اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ زندگی کے معاملات میں جن لوگوں کی روش لاابالیانہ ہے ان کو قائل کرنا تمہارا کام نہیں ہے۔ یہ لوگ اس وقت قائل ہوں گے جب عذاب کا تازیانہ دیکھ لیں گے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔
    پس انتظار کرو اس دن کا جس دن آسمان ایک کھلے ہوئے دھوئیں کے ساتھ نمودار ہو گا۔
    ان کے لیے اس دن کا انتظار کرو جس دن آسمان ہر ایک کو نظر آنے والے دھوئیں کے ساتھ نمودار ہو گا جو سب پر چھا جائے گا اور وہ زبان حال سے اعلان کرے گا کہ یہ ایک دردناک عذاب ہے۔ یہ اس عذاب کی دھمکی ہے جس کا لوگ مطالبہ کر رہے تھے اور جس کو دیکھے بغیر نبی کے انذار کی تصدیق کے لیے تیار نہیں تھے۔ ’دخان مبین‘ سے کیا مراد ہے: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’دُخَانٌ مُّبِیْنٍ‘ سے کیا مراد ہے؟ دخان کے معنی دھوئیں کے ہیں اور اس کے ساتھ ’مبین‘ کی صفت واضح مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ دھواں ایسا ہو گا کہ ہر کہ و مہ اور ہر چھوٹے بڑے کو بالکل نمایاں نظر آئے گا۔ کسی کے لیے بھی اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہو گی۔ مفسرین میں سے ایک گروہ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ دھواں ظہور قیامت کے وقت ظاہر ہو گا۔ اس کی تائید میں انھوں نے ایک روایت بھی نقل کی ہے لیکن ناقدین حدیث نے اس روایت کو قصہ گویوں کی روایت قرار دے کر اس کی تردید کر دی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ روایت آیات کے سیاق و سباق کے بھی خلاف ہے۔ آگے آپ دیکھیں گے کہ سیاق کلام صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ذکر قیامت کا نہیں بلکہ کسی ایسے عذاب کا ہے جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں ان کی قوموں پر آیا ہے، جس کی تفصیلات عاد، ثمود اور قوم شعیب وغیرہ کی سرگزشتوں میں گزر چکی ہیں۔ ایک دوسرے گروہ نے اس سے ایک قحط مراد لیا ہے جو ان کے بیان کے مطابق، ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا کے نتیجہ میں قریش پر آیا اور اس نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ لوگ مردار تک کھانے پر مجبور ہو گئے اور بھوک سے ہر شخص کا یہ حال ہوا کہ آسمان کی طرف لوگ نظر اٹھاتے تو وہ بالکل دھواں ہی دھواں نظر آتا۔ عام طور پر ہمارے مفسرین نے اسی دوسرے قول کو اختیار کیا ہے لیکن مجھے اس میں کئی باتیں کھٹکتی ہیں۔ اول یہ کہ اپنی پوری قوم کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس طرح کی بددعا کا ذکر صرف اس تفسیری روایت ہی میں ملتا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور شہادت اس کی موجود نہیں ہے کہ حضورؐ نے اپنی قوم کے لیے بددعا فرمائی ہو۔ آپ کی دعا اپنی قوم کے لیے ہمیشہ یہی رہی کہ ’رَبِّ اھْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ‘ (اے میرے رب، میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ لوگ جانتے نہیں)۔ سب سے زیادہ نازک موقع ہجرت کا تھا۔ ہجرت کے موقع پر بعض دوسرے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کے لیے بددعا کی بھی ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس موقع پر بھی کوئی بددعا کا کلمہ نہیں نکلا۔ آپ نے فرمایا تو بس یہ فرمایا کہ ’اے مکہ‘ تو مجھے بہت عزیز ہے لیکن کیا کروں، تیرے فرزند مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے؛ مختلف جنگوں کے مواقع پر بھی، جب کہ قریش اور مسلمانوں کی فوجیں آمنے سامنے ہوئی ہیں، آپ نے جو دعائیں کی ہیں وہ تمام تر اہل ایمان کے لیے ثبات قدم اور حق کے لیے نصرت کے مضمون پر مشتمل ہیں۔ دشمنوں کے خلاف کوئی کلمہ زبان مبارک سے نکلا ہے تو وہ اس سے زیادہ نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ رعب ڈال دے اور ان کے قدموں کو متزلزل کر دے۔ مجھے یاد نہیں کہ ان مواقع پر بھی کبھی اپنی پوری قوم کے لیے آپ نے بددعا فرمائی ہو۔ دوسری یہ کہ ہجرت کے بعد سب سے زیادہ نازک موقع حدیبیہ کا موقع ہے جب قریش کی عصبیت جاہلیت بالکل عریاں ہو کر سامنے آئی اور مسلمانوں کے جذبات ان کے خلاف آخری حد تک مشتعل ہو گئے۔ لیکن اس موقع پر بھی آپؐ نے قریش کے لیے کوئی بددعا نہیں کی۔ صرف یہی نہیں کہ بددعا نہیں کی بلکہ مسلمانوں کے مشتعل جذبات کو دبایا اور ان کو جنگ سے روک دیا اور قرآن نے، جیسا کہ سورۂ فتح میں تفصیل آئے گی، اس جنگ کو روک دینے کی حکمت یہ واضح فرمائی کہ جنگ ہوتی تو اندیشہ تھا کہ اس سے ان لوگوں کو نقصان پہنچتا جو دل سے مسلمان تھے لیکن اپنی مجبوریوں کے باعث ابھی مکہ سے ہجرت نہیں کر سکے تھے۔ غور کیجیے کہ جب مکہ کے ان مخفی مسلمانوں ہی کے خیال سے مسلمانوں نے اپنی کھینچی ہوئی تلواریں میانوں میں کر لیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کر لیا جو صحابہؓ کے عام جذبات کے خلاف تھا تو انہی اہل مکہ کے لیے کسی ایسے قحط کی بددعا آپؐ کیسے کر سکتے تھے جس میں لوگ مردار کھانے پر مجبور ہو جائیں؟ اس قسم کا کوئی قحط نمودار ہوتا تو اس کی زد میں مکہ اور طائف کے سردار ہی تو نہ آتے! اس کا اصلی حملہ تو غرباء اور عوام پر ہوتا جن کے اندر ایک بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی بھی تھی۔ تیسری یہ کہ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ کسی دعا کی ہدایت کی گئی ہے نہ کسی بددعا کی، بلکہ صبر کے ساتھ ایک ایسے دن کے انتظار کی ہدایت فرمائی گئی ہے جس دن آسمان ایک ایسے دھوئیں کے ساتھ نمودار ہو گا جو پوری قوم پر چھا جائے گا اور جو زبان حال سے یہ منادی کرے گا کہ یہ وہی دردناک عذاب ہے جس سے لوگوں کو آگاہ کیا گیا لیکن لوگ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ گویا اس کی نوعیت ایک وعید کی ہے اور وعید حالات کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔ قرآن میں قریش کو باربار اس طرح کے عذاب سے ڈرایا گیا جس طرح کے عذاب عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ پر آئے لیکن اس قسم کا کوئی عذاب ان پر نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کی اکثریت ایمان لائی۔ صرف تھوڑے سے اشرار اپنی شرارت پر اڑے رہے جو یا تو اہل ایمان کے ساتھ تصادم میں ختم ہو گئے یا فتح مکہ کے موقع پر انھوں نے گھٹنے ٹیک دیے۔ چوتھی یہ کہ قحط کی تعبیر ’دخان مبین‘ سے کوئی موزوں تعبیر نہیں ہے۔ قحط کا مضمون عربی شاعری کا ایک پامال مضمون ہے۔ جس زمانے میں شمال کی ٹھنڈی ہوائیں چلتیں ملک میں ایک قحط کی سی حالت پیدا ہو جاتی۔ بعض علاقوں میں حالات نہایت سنگین بھی ہو جاتے۔ عرب شعراء اپنے قصائد میں ان حالات کی نہایت مؤثر تصویر کھینچتے ہیں اور مختلف استعارات، کنایات اور تشبیہات سے پورے حالات نگاہوں کے سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی شاعر نے بھی کسی شدید سے شدید قحط کو بھی ’دخان مبین‘ سے تعبیر کیا ہو یا اس کے اثر کو بیان کرنے کے لیے یہ اسلوب بیان اختیار کیا ہو۔ ان وجوہ سے قحط والی روایت اگر صحیح بھی ہے تو اس کا تعلق اس آیت سے نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی قحط پڑا ہو، یہ بھی امکان ہے کہ یہ قحط بہت سخت ہو گیا ہو۔ اللہ تعالی کی یہ سنت بھی رہی ہے کہ رسولوں کی بعثت کے دور میں ان کی قومیں ایسی آزمائشوں میں ڈالی گئی ہیں جس سے ان کے اندر تنبہ اور انابت پیدا ہو۔ اس سنت کے اشارات قرآن میں موجود ہیں۔ ان تمام امکانات کے باوجود اس آیت کا تعلق کسی ایسے قحط سے نہیں معلوم ہوتا جس کی شدت سے ہر شخص کا یہ حال ہو گیا کہ اس کو آسمان دھوئیں کی شکل میں نظر آنے لگا۔ ’دخان مبین‘ کی تعبیر سے ذہن اگر منتقل ہوتا ہے تو قحط کی طرف نہیں بلکہ ’حاصب‘ کے عذاب کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ عرب کی پچھلی قوموں پر رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں بیشتر یہی عذاب آیا ہے۔ عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ کی جو سرگزشتیں پیچھے گزر چکی ہیں ان میں اس عذاب کی تفصیلات بیان ہو چکی ہیں۔ شعرائے عرب کے کلام اور قرآن سے اس کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ ’دخان مبین‘ کی تعبیر سے بہت ملتی جلتی ہوئی ہے۔ اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ سیاہ غبار کا ایک ستون سا آسمان کی طرف اٹھتا نظر آتا ہے۔ اس غبار میں جب تک سورج بالکل چھپ نہیں جاتا اس کی شعاعیں بھی اس کے اندر مخلوط ہوتی ہیں جس سے دیکھنے والوں کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی جنگل میں آگ لگی ہوئی ہے جس کا دھواں آسمان تک اٹھ رہا ہے۔ پھر جب ہوا کا زور بڑھتا ہے اور یہ طوفان کسی طرف کا رخ کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابر سیاہ چھا رہا ہو جو بس برسنے والا ہی ہے۔ پھر یہ ایک ہولناک شکل اختیار کر لیتا ہے اور بستیوں کو ریت اور کنکر پتھر کی بارش سے ڈھانک دیتا ہے۔ قوم عاد پر جب عذاب آیا تو انھوں نے فضا کے سیاہ غبار کو ابرسیاہ خیال کیا۔ چنانچہ سورۂ احقاف میں ان کا ذکر یوں آیا ہے: ’فَلَمَّا رَأَوْہُ عَارِضاً مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِیَتِہِمْ قَالُوا ہَذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا بَلْ ہُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِہِ رِیْحٌ فِیْہَا عَذَابٌ أَلِیْمٌ‘ (۲۴) (پس جب انھوں نے اس عذاب کو ایک ابر کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو بولے کہ یہ تو بادل ہے جو ہمیں سیراب کرنے والا ہے۔ نہیں بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کے لیے تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ ایک بادتند، جس کے اندر ایک دردناک عذاب ہے)۔ اسی عذاب کو قوم شعیب کی تباہی کے ذکر میں ’عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ‘ سے تعبیر فرمایا گیا: ’فَکَذَّبُوہُ فَأَخَذَہُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ ....‘ (الشعرا: ۱۸۹) (پس انھوں نے اس کی تکذیب کر دی جس کے نتیجہ میں ان کو یوم ظلہ کے عذاب نے پکڑ لیا)۔ ’ظلّۃ‘ چھتری اور سائبان اور شامیانے وغیرہ کے لیے بھی آتا ہے اور ابر کے لیے بھی۔ ’حاصب‘ کا عذاب اپنے ابتدائی مرحلہ میں اٹھتے ہؤے ابر یا دھوئیں ہی کی شکل میں نظر آتا ہے اس وجہ سے قرین قیاس بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ اسی عذاب کی دھمکی ہو۔ یہ دھمکی نہایت واضح الفاظ میں قریش کو عاد اور ثمود وغیرہ کی سرگزشتیں سنا کر دی بھی گئی تھی۔ ہم نہایت وضاحت کے ساتھ پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ان قوموں کے عذاب کی نوعیت واضح کر چکے ہیں۔ آگے کی سورتوں کی تفسیر میں بھی یہ تفصیلات آئیں گی۔ وہاں ہم استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق بھی اس باب میں ان شاء اللہ پیش کریں گے۔ یہ دھمکی، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں، اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ مخالفین اگر رسول کی تکذیب کر دیں گے تو ان پر عذاب آ جائے گا لیکن مشرکین قریش کی اکثریت، جیسا کہ معلوم ہے۔ آہستہ آہستہ مسلمان ہو گئی اور صلح حدیبیہ کے تو ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ بالتدریج معاندین کا زور بالکل ٹوٹ گیا، یہاں تک کہ فتح مکہ کے بعد ’یَدْخُلُوۡنَ فِیْ دِیْنِ اللہِ أَفْوَاجًا‘ (النصر: ۲) کی پیشین گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ اس کی صداقت کا مشاہدہ ہر شخص نے اپنی آنکھوں سے کر لیا۔ ظاہر ہے کہ جو دھمکی تکذیب کی شرط کے ساتھ مشروط تھی اس تصدیق کے بعد اس کے ظہور میں آنے کے لیے کوئی وجہ باقی نہیں رہی چنانچہ قریش بحیثیت مجموعی اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے۔ صرف ان کے وہ اشرار مسلمانوں کی تلواروں کی زد میں آئے جو ان پر حملہ آور ہوئے اور تلواروں سے بچ رہے انھوں نے فتح مکہ کے بعد گھٹنے ٹیک دیے۔  
    وہ دھواں لوگوں کو ڈھانک لے گا۔ یہ ایک دردناک عذاب ہے!
    یہ اس عذاب کی شدت کی تعبیر ہے کہ وہ لوگوں کو اس طرح چھا لے گا کہ کسی کے لیے بھی اس سے فرار کی کوئی راہ باقی نہیں رہے گی۔ ’ھٰذَا عَذَابٌ أَلِیْمٌ‘۔ یہ زبان حال یا صورت حال کی تعبیر ہے کہ ہر شخص پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ یہ کوئی وقتی جھونکا نہیں ہے جو آیا اور گزر گیا بلکہ قہر الٰہی ہے جو سب کی کمر توڑ کے رکھ دے گا۔
    اے ہمارے رب! ہم سے عذاب دور کر دے، ہم ایمان لانے والے بنے۔
    مشاہدۂ عذاب کے بعد مغروروں کا حال: یعنی اس وقت تو یہ بہت اکڑ رہے اور بڑے طنطنہ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن جب اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے تو فریاد کریں گے کہ اے رب! اس عذاب سے نجات دے۔ اب ہم ایمان لائے۔
    اب ان کے لیے نصیحت پکڑنے کا کہاں موقع باقی رہا! ان کے پاس تو ایک واضح کر دینے والا رسول آ چکا تھا۔
    یہ وہ جواب ہے جو ان لوگوں کو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جائے گا۔ فرمایا کہ عذاب آ جانے کے بعد قبول نصیحت کا کہاں موقع باقی رہے گا! بالخصوص جبکہ ان کے پاس اتمام حجت کے لیے اللہ نے اپنا ایک رسول بھی بھیج دیا تھا جس نے ہر بات کی اچھی طرح وضاحت کر دی تھی لیکن انھوں نے نہایت تکبر کے ساتھ اس سے منہ موڑا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ یہ دوسروں کو سکھایا پڑھایا ہوا ہے جس کو عذاب و قیامت کا مالیخولیا ہو گیا ہے۔ اب توبہ کا وقت گزر چکا۔ توبہ کا وقت وہ تھا جب رسول توبہ کی منادی کر رہا تھا۔ وہ وقت انھوں نے کھو دیا تو اب وہ ان کے لیے واپس آنے والا نہیں ہے۔ اس قسم کا جواب عذاب کی گرفت میں آ جانے والے مستکبرین کے لیے جگہ جگہ نقل ہوا ہے۔ بعض مستکبرین کو یہ جواب مخاطب کر کے دیا گیا ہے۔ مثلاً فرعون کو خطاب کر کے فرمایا: ’آلۡئٰنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ‘ (یونس: ۹۱) (اب ایمان لائے! اس سے پہلے تو تم نے نافرمانی کی)۔ دوسرے مقام میں ہے: ’فَیَقُوۡلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَی أَجَلٍ قَرِیْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَکُونُواْ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَکُم مِّن زَوَالٍ‘ (ابراہیم: ۴۴) (تو عذاب کی گرفت میں آ جانے کے بعد، وہ لوگ جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے، پکاریں گے کہ اے ہمارے رب، ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے، ہم تیری دعوت قبول اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔ اس وقت ان کو جواب ملے گا کہ کیا تم لوگ اس سے پہلے قسمیں نہیں کھاتے تھے کہ تم کبھی اپنے موقف سے ہٹنے والے نہیں ہو!) آیت زیربحث میں یہی بات ان سے منہ پھیر کر غائبانہ اسلوب میں فرمائی گئی ہے۔ اسلوب کی یہ تبدیلیاں بلاغت کے تقاضوں کے تحت ہوتی ہیں اور اہل ذوق کے لیے یہ چیزیں محتاج وضاحت نہیں ہیں۔ خطاب کے اسلوب میں شدت اور غائب کے اسلوب میں اعراض کا مضمون نمایاں ہوتا ہے۔ قرآن اور پیغمبرؐ سے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لیے قریش کا ایک اشغلہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کا یہ الزام کہ آپ کو بعض دوسرے لوگ سکھاتے ہیں، اور یہ ان کی سکھائی ہوئی باتیں وحی کے دعوے کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں، بعض دوسرے مقامات میں بھی مذکور ہے۔ یہ الزام قریش نے محض ان لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے ایجاد کیا تھا جو قرآن کے مواد بحث و استدلال سے متاثر ہو کر یہ سوچنے لگ گئے تھے کہ اس قسم کا پرمغز کلام کوئی ’امّی‘ غیبی رہنمائی کے بغیر، نہیں پیش کر سکتا۔ اس طرح کے لوگوں کو قرآن سے بدگمان کرنے کے لیے قریش نے یہ اشغلہ ایجاد کیا کہ وہ کلام کسی وحی و الہام کا ثمرہ نہیں بلکہ کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ وہ لوگ درپردہ یہ کلام ایجاد کرتے ہیں اور یہ شخص اس کو وحی کے نام سے پیش کرتا ہے۔ مقصود سازش کرنے والوں کا یہ ہے کہ اس راہ سے وہ ہماری قوم میں تفریق پیدا کریں۔ یہ الزام لگاتے ہوئے وہ یہ بھی تاثر دیتے کہ اس سازش میں بعض اہل کتاب اور عجمی بھی شامل ہیں تاکہ اس طرح وہ قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عربوں کے قومی جذبات کو کامیابی کے ساتھ بھڑکا سکیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون کہنے کی اصل وجہ کی طرف اس کے محل میں ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ قریش محسوس کرتے تھے کہ اول تو آپؐ کے دل پر خوف عذاب آخرت کا ایسا غلبہ ہے کہ آپؐ اٹھتے بیٹھتے، ہر وقت اسی کی یاددہانی کرتے ہیں۔ دوسرے آپ کے لب و لہجہ میں ایسا اذعان و یقین ہے کہ ہر شخص اس سے متاثر ہو کر یہ سوچنے لگتا ہے کہ اگر یہ شخص اللہ کی طرف سے مامور نہ ہوتا تو اس کو کیا پڑی تھی کہ دوسروں کے غم میں اپنا خواب و خور حرام کر لیتا؟ لوگوں کے اس تاثر کو دور کرنے کے لیے قریش نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ جس طرح بعض لوگوں کو بعض چیزوں کا سودا ہو جایا کرتا ہے، وہ اٹھتے بیٹھتے اسی چیز کی رٹ لگائے رہتے ہیں اور ہر جگہ ان کو وہی چیز نظر آتی ہے، اسی طرح اس شخص کو بھی عذاب کا سودا ہو گیا ہے۔ ہر گوشے سے اس کو وہی آتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک خبط و جنون ہے۔ بھلا عذاب ہم پر کدھر سے اور کیوں آ جائے گا!
    تو انھوں نے اس سے منہ موڑا اور کہا کہ یہ تو ایک سکھایا پڑھایا خبطی ہے۔
    یہ وہ جواب ہے جو ان لوگوں کو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جائے گا۔ فرمایا کہ عذاب آ جانے کے بعد قبول نصیحت کا کہاں موقع باقی رہے گا! بالخصوص جبکہ ان کے پاس اتمام حجت کے لیے اللہ نے اپنا ایک رسول بھی بھیج دیا تھا جس نے ہر بات کی اچھی طرح وضاحت کر دی تھی لیکن انھوں نے نہایت تکبر کے ساتھ اس سے منہ موڑا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ یہ دوسروں کو سکھایا پڑھایا ہوا ہے جس کو عذاب و قیامت کا مالیخولیا ہو گیا ہے۔ اب توبہ کا وقت گزر چکا۔ توبہ کا وقت وہ تھا جب رسول توبہ کی منادی کر رہا تھا۔ وہ وقت انھوں نے کھو دیا تو اب وہ ان کے لیے واپس آنے والا نہیں ہے۔ اس قسم کا جواب عذاب کی گرفت میں آ جانے والے مستکبرین کے لیے جگہ جگہ نقل ہوا ہے۔ بعض مستکبرین کو یہ جواب مخاطب کر کے دیا گیا ہے۔ مثلاً فرعون کو خطاب کر کے فرمایا: ’آلۡئٰنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ‘ (یونس: ۹۱) (اب ایمان لائے! اس سے پہلے تو تم نے نافرمانی کی)۔ دوسرے مقام میں ہے: ’فَیَقُوۡلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَی أَجَلٍ قَرِیْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَکُونُواْ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَکُم مِّن زَوَالٍ‘ (ابراہیم: ۴۴) (تو عذاب کی گرفت میں آ جانے کے بعد، وہ لوگ جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے، پکاریں گے کہ اے ہمارے رب، ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے، ہم تیری دعوت قبول اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔ اس وقت ان کو جواب ملے گا کہ کیا تم لوگ اس سے پہلے قسمیں نہیں کھاتے تھے کہ تم کبھی اپنے موقف سے ہٹنے والے نہیں ہو!) آیت زیربحث میں یہی بات ان سے منہ پھیر کر غائبانہ اسلوب میں فرمائی گئی ہے۔ اسلوب کی یہ تبدیلیاں بلاغت کے تقاضوں کے تحت ہوتی ہیں اور اہل ذوق کے لیے یہ چیزیں محتاج وضاحت نہیں ہیں۔ خطاب کے اسلوب میں شدت اور غائب کے اسلوب میں اعراض کا مضمون نمایاں ہوتا ہے۔ قرآن اور پیغمبرؐ سے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لیے قریش کا ایک اشغلہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کا یہ الزام کہ آپ کو بعض دوسرے لوگ سکھاتے ہیں، اور یہ ان کی سکھائی ہوئی باتیں وحی کے دعوے کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں، بعض دوسرے مقامات میں بھی مذکور ہے۔ یہ الزام قریش نے محض ان لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے ایجاد کیا تھا جو قرآن کے مواد بحث و استدلال سے متاثر ہو کر یہ سوچنے لگ گئے تھے کہ اس قسم کا پرمغز کلام کوئی ’امّی‘ غیبی رہنمائی کے بغیر، نہیں پیش کر سکتا۔ اس طرح کے لوگوں کو قرآن سے بدگمان کرنے کے لیے قریش نے یہ اشغلہ ایجاد کیا کہ وہ کلام کسی وحی و الہام کا ثمرہ نہیں بلکہ کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ وہ لوگ درپردہ یہ کلام ایجاد کرتے ہیں اور یہ شخص اس کو وحی کے نام سے پیش کرتا ہے۔ مقصود سازش کرنے والوں کا یہ ہے کہ اس راہ سے وہ ہماری قوم میں تفریق پیدا کریں۔ یہ الزام لگاتے ہوئے وہ یہ بھی تاثر دیتے کہ اس سازش میں بعض اہل کتاب اور عجمی بھی شامل ہیں تاکہ اس طرح وہ قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عربوں کے قومی جذبات کو کامیابی کے ساتھ بھڑکا سکیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون کہنے کی اصل وجہ کی طرف اس کے محل میں ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ قریش محسوس کرتے تھے کہ اول تو آپؐ کے دل پر خوف عذاب آخرت کا ایسا غلبہ ہے کہ آپؐ اٹھتے بیٹھتے، ہر وقت اسی کی یاددہانی کرتے ہیں۔ دوسرے آپ کے لب و لہجہ میں ایسا اذعان و یقین ہے کہ ہر شخص اس سے متاثر ہو کر یہ سوچنے لگتا ہے کہ اگر یہ شخص اللہ کی طرف سے مامور نہ ہوتا تو اس کو کیا پڑی تھی کہ دوسروں کے غم میں اپنا خواب و خور حرام کر لیتا؟ لوگوں کے اس تاثر کو دور کرنے کے لیے قریش نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ جس طرح بعض لوگوں کو بعض چیزوں کا سودا ہو جایا کرتا ہے، وہ اٹھتے بیٹھتے اسی چیز کی رٹ لگائے رہتے ہیں اور ہر جگہ ان کو وہی چیز نظر آتی ہے، اسی طرح اس شخص کو بھی عذاب کا سودا ہو گیا ہے۔ ہر گوشے سے اس کو وہی آتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک خبط و جنون ہے۔ بھلا عذاب ہم پر کدھر سے اور کیوں آ جائے گا!
    ہم کچھ وقت کے لیے اس عذاب کو کھول بھی دیں تو تم لوٹ کر وہی کرو گے جو کرتے رہے تھے۔
    جو خواہشوں کے بندے ہوتے ہیں ان کی توبہ عارضی ہوتی ہے: یعنی ہو سکتا ہے کہ ہم تمہاری اس درخواست پر کہ ’ہم سے عذاب ٹال دیا جائے ہم ایمان لانے والے بن جائیں گے، کچھ وقت کے لیے عذاب ہٹا دیں لیکن تم پھر اسی راہ پر چلو گے جس پر عذاب سے پہلے چلتے رہے ہو۔ اپنی خواہشوں کے غلاموں کا حال یہی ہوتا ہے کہ جب ان کو کوئی آزمائش پیش آ جاتی ہے تو ناک رگڑ کے توبہ کرتے ہیں لیکن جب آزمائش گزر جاتی ہے تو اس طرح چل دیتے ہیں گویا نہ کوئی بات پیش آئی، نہ انھوں نے کوئی قول و قرار کیا اور نہ آئندہ اب اس طرح کی بات پیش آئے گی۔
    یاد رکھو جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ اس دن ہم پورا بدلہ لے کر رہیں گے!
    یعنی اس دنیا میں پکڑ سے چھوٹ بھی گئے تو یہ چیز وجہ اطمینان نہیں ہونی چاہیے۔ اس دن کو یاد رکھو جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے۔ ’بڑی پکڑ‘ سے مراد قیامت کی پکڑ ہے۔ اس دنیا میں قوموں کی جو گرفت ہوتی ہے وہ قیامت کے مقابل میں بہرحال چھوٹی ہی ہوتی ہے۔ قیامت کی پکڑ ابدی اور دائمی ہو گی اور اس دن تمام مجرموں سے اللہ تعالیٰ پورا پورا انتقام لے گا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List