Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الزخرف (The Gold Adornments, The Ornaments Of Gold, Luxury)

    89 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ گروپ کی دوسری سورتوں کی طرح اس کا بھی مرکزی مضمون توحید ہی ہے اور اس توحید ہی کی اہمیت واضح کرنے کے لیے اس میں قیامت کا بھی ذکر ہوا ہے۔ خاص طور پر ملائکہ کی الوہیت اور ان کی شفاعت کے تصور کا ابطال اس میں تفصیل سے ہے اور قریش کے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے کہ وہ جس دین شرک کے پیرو ہیں یہ ان کو حضرت ابراہیمؑ سے وراثت میں ملا ہے۔
    سابق سورہ میں قرآن کی عظمت ایک خاص پہلو سے نمایاں کی گئی تھی اس میں اس کے بعض دوسرے پہلو نمایاں کر کے قریش کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر محض دولت دنیا کے غرور میں تم نے اس عظیم نعمت کی قدر نہ کی تو یاد رکھو کہ پیغمبر کے اوپر ذمہ داری صرف اس حق کو پہنچا دینے کی ہے۔ اس کی تکذیب کے نتائج کی ذمہ داری خود تمہارے اوپر ہو گی۔
    قرآن پر نفس وحی کے پہلو سے مخالفین کے جو اعتراضات تھے اور جن کو وہ اس کی تکذیب کا بہانہ بنا رہے تھے ان کے جواب پچھلی سورہ میں دیے گئے ہیں، اس سورہ میں انبیائے سابقین کی دعوت کے ساتھ اس کی ہم آہنگی واضح فرمائی گئی ہے کہ جس دین توحید کی دعوت یہ قرآن دے رہا ہے اسی کی دعوت تمام انبیاء نے دی ہے۔ جو لوگ اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ اپنے لیے اسی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی دوسری قومیں دوچار ہوئیں۔

  • الزخرف (The Gold Adornments, The Ornaments Of Gold, Luxury)

    89 آیات | مکی

    الزخرف ۔ الدخان

    ۴۳ ۔ ۴۴

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع توحید کے منکرین کو انذار ہے۔ پہلی سورہ میں البتہ توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کا پہلو نمایاں ہے اور دوسری میں انذار کا جس میں اُن لوگوں کے لیے سخت تہدید اور اِس تہدید کے دلائل و قرائن کی وضاحت ہے جو توحید کی اِس دعوت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا افترا قرار دے رہے تھے اور اِس طرح قرآن کے بارے میں یہ کہہ رہے تھے کہ یہ اِنھی کا گھڑا ہوا ہے جسے خدا کی کتاب کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ قرآن کی عظمت و شان اور اُس کے اہتمام نزول کا مضمون اِسی رعایت سے بیان ہوا ہے۔ دونوں سورتوں کو ایک ہی آیت سے شروع کرکے قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف خود اشارہ کر دیا ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 043 Verse 001 Chapter 043 Verse 002 Chapter 043 Verse 003 Chapter 043 Verse 004 Chapter 043 Verse 005 Chapter 043 Verse 006 Chapter 043 Verse 007 Chapter 043 Verse 008 Chapter 043 Verse 009 Chapter 043 Verse 010 Chapter 043 Verse 011 Chapter 043 Verse 012 Chapter 043 Verse 013 Chapter 043 Verse 014 Chapter 043 Verse 015 Chapter 043 Verse 016 Chapter 043 Verse 017 Chapter 043 Verse 018 Chapter 043 Verse 019 Chapter 043 Verse 020 Chapter 043 Verse 021 Chapter 043 Verse 022 Chapter 043 Verse 023 Chapter 043 Verse 024 Chapter 043 Verse 025
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ حٰمۤ ہے۔
    پہلی سورتوں کی طرح اس کا قرآنی نام بھی ’حٰمۤ‘ ہی ہے۔ سورتوں کے ناموں کا اشتراک، ہم اشارہ کر چکے ہیں، ان کے مطالب کے اشتراک پر دلیل ہے۔ چنانچہ تمام ’حَوَامِیْم‘ جو آپ پڑھتے آ رہے ہیں، ایک ہی قدر مشترک کی حامل ہیں۔ اختلاف اگر ہے تو اسلوب بیان، نہج استدلال اور اجمال و تفصیل کا ہے۔
    شاہد ہے یہ واضح کتاب۔
    قرآن اپنے ہر دعوے پر خود حجت ہے: یہ قرآن کی قسم کھائی ہے اور اس کی صفت یہاں ’مُبِیْنٌ‘ وارد ہوئی ہے جس کے معنی ہیں واضح کر دینے والی کتاب، یعنی اپنے ہر دعوے پر یہ خود حجت ہے، کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ جو لوگ اس کی تکذیب کے لیے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں وہ آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ خود اپنی ہی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب: یہاں مقسم علیہ محذوف ہے۔ جہاں قرینہ بالکل واضح اور قسم خود مقسم علیہ کو واضح کر رہی ہو، وہاں مقسم علیہ کو حذف کر دیتے ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ سورۂ قۤ میں بھی اس کی نہایت واضح مثال موجود ہے۔ یہاں لفظ ’مُبِیْنٌ‘ نے خود مقسم علیہ کی طرف اشارہ کر دیا ہے اس وجہ سے اس کے علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ گویا آفتاب آمد دلیل آفتاب۔
    ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے تا کہ تم سمجھو۔
    قرآن کے ’مبین‘ ہونے کا ایک خاص پہلو: یہ قرآن کے ’مُبِیْنٌ‘ ہونے کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ہم نے اس کو عربی قرآن کی صورت میں اتارا ہے تاکہ تم سمجھو۔ یہ مضمون اس گروپ کی پچھلی سورتوں میں بھی مختلف اسلوبوں سے گزر چکا ہے اور ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ قرآن کا عربی میں اتارا جانا اہل عرب پر ایک عظیم احسان بھی تھا اور ایک فیصلہ کن اتمام حجت بھی۔ احسان کا پہلو تو بالکل واضح ہے کہ خدا نے اپنی آخری اور کامل ہدایت ان کی زبان میں اتاری کہ وہ بلاواسطۂ غیر اس سے کسب فیض کر سکیں، دوسروں کی تعلیم و تبلیغ کا انھیں رہین احسان نہ ہونا پڑے بلکہ دوسرے ان کے ممنون احسان بنیں۔ اتمام حجت کا پہلو یہ ہے کہ اللہ نے ان کی اپنی زبان میں اپنی ہدایت نازل کر کے ان کا ہر عذر ختم کر دیا ہے۔ اب وہ عند اللہ یہ عذر نہیں کر سکتے کہ مخاطب عربی اور کلام عجمی!
    اور بے شک یہ اصل کتاب میں ہمارے پاس ہے نہایت بلند اور پرحکمت۔
    قرآن کی عالی نسبی: اس قرآن کی عظمت واضح فرمائی کہ یہ کوئی ہنسی مسخری کی چیز نہیں ہے بلکہ نہایت ہی عالی نسبی اور عالی مقام چیز ہے۔ اس کی عالی نسبی کی وضاحت یوں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو ’اُمُّ الْکِتَابِ‘ یعنی لوح محفوظ ہے یہ اس میں ہے اور اسی میں سے یہ تمہاری ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس کو جنات کا القاء، کاہنوں کی کہانت، شاعروں کی شاعری اور خطیبوں کی لفاظی گمان کر کے، اس کا مذاق اڑانے کی کوشش نہ کرے بلکہ یہ روشنی اس منبع نور سے نازل ہوئی ہے جس کے نور ہی سے آسمان و زمین میں روشنی ہے اور جو تمام علم کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ بدقسمت ہوں گے وہ لوگ جو اس کی قدر نہ پہچانیں!   قرآن کی عالی مقامی: اس کی عالی مقامی کا اظہار یوں فرمایا کہ ’لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ‘ یہ قرآن بجائے خود نہایت برتر اور پر حکمت ہے۔ یاد ہو گا، پچھلی سورہ میں بعینہٖ یہی صفت آیت میں ۵۱ میں اللہ تعالیٰ کے لیے آئی ہے اور وحی و قرآن کے بیان ہی کے سلسلہ میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر کلام متکلم کی صفات و خصوصیات کا آئینہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ’عَلِیٌّ‘ و ’حَکِیْمٌ‘ ہے اس وجہ سے اس کا کلام بھی ’عَلِیٌّ‘ و ’حَکِیْمٌ‘ ہے۔ اس سے یہ اشارہ نکلا کہ جن کے اندر جوہر شناسی کی صلاحیت ہو گی وہ اس کلام کی قدر کریں گے، رہے بلید و بدذوق لوگ تو نہ وہ اس کے اہل ہیں نہ وہ اس کی قدر کریں گے۔   اس کی عالی مقامی کے ذکر سے مخالفین کو اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ آسمانوں اور زمیں کے خالق کا اتارا ہوا کلام ہے، کسی سائل کی درخواست نہیں ہے۔ اگر تم نے اس کی قدر نہ کی تو تم اپنے ہی کو محروم کرو گے، خدا یا اس کے کلام کا کچھ نہیں بگاڑو گے۔ ان کی عظمت اور برتری اپنی ذاتی ہے جو دوسروں کے رد و قبول سے بالکل بے نیاز ہے۔
    کیا ہم تمہاری تذکیر سے اس لیے صرف نظر کر لیں کہ تم حدود سے تجاوز کر جانے والے لوگ ہو!
    تمہاری ناقدری کے باوجود تم پر اتمام حجت ضروری ہے: یعنی ہر چند تم ہو تو ناشکرے اور ناقدرے کہ اس کلام بلند و برتر کی توہین و تکذیب کر رہے ہو اور شرک و کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر جو ظلم تم نے ڈھائے ہیں ان کی اصلاح پر تمہاری طبیعتیں آمادہ نہیں ہو رہی ہیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا جاتا یا اب چھوڑ دیا جائے، تمہاری بیماریوں اور ان کے مہلک نتائج سے تم کو اچھی طررح آگاہ نہ کیا جائے۔ تمہاری یہ حالت اغماض کے بجائے اس بات کی مقتضی ہے کہ تمہارا علاج کیا جائے چنانچہ اللہ نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے اپنی کتاب اتاری۔ تم اس کی قدر کرو یا نہ کرو، لیکن یہ تذکیر اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تم پر اللہ کی حجت تمام نہ ہو جائے تاکہ جس کو زندگی کی راہ اختیار کرنی ہو وہ پوری بصیرت کے ساتھ زندگی کی راہ اختیار کر لے اور جس کو ہلاکت کی راہ پر جانا ہو وہ اتمام حجت کے بعد اس راہ پر جائے۔ تمہاری یہ تذکیر و تنبیہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت کے مطابق ہو رہی ہے۔ تم کتنی ہی نفرت و رعونت کے ساتھ اس کو ٹھکراؤ لیکن اب یہ اپنے آخری نتائج تک پہنچ کے رہے گی۔   ’صَفْحًا‘ میرے نزدیک مفعول ’لہٗ‘ کے مفہوم میں ہے اور اس کے معنی چشم پوشی کے ہیں۔ ’ضرب عنہ الشئ‘ کے معنی ہوں گے، ’اس سے اس چیز کو ہٹا دیا۔‘ ’اَنْ کُنتُمْ قَوْماً مُّسْرِفِیْنَ‘ ان کی اصل بیماری کا بیان ہے اور ’مسرفین‘ یہاں ’اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ‘ کے مفہوم میں ہے یعنی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے، اور اپنی جانوں پر سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جب تم کفر و شرک کی آلودگیوں میں لتھڑے ہوئے ہو تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنا جام شفا ہٹائے رکھتا۔ دوا کے اصل مستحق تو مریض ہی ہوتے ہیں، خواہ وہ اس کی قدر کریں یا نہ کریں۔ اگر اس کی قدر کرو گے تو اپنا بھلا کرو گے، اگر نہ کرو گے تو اپنی ہی موت کو دعوت دو گے۔
    اور ہم نے اگلوں میں کتنے ہی نبی بھیجے۔
    مذکورہ بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے: یہ اوپر کی بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے اور خطاب بغرض تسلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ فرمایا کہ جو سلوک آج تمہارے مخالفین تمہارے ستھ کر رہے ہیں یہی سلوک اس سے پہلے دوسرے نبیوں کے ساتھ ان کی قومیں کر چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے بھی کتنے رسول اسی مقصد تذکیر و اصلاح کے لیے بھیجے لیکن ہر قوم نے اپنے رسول کا مذاق اڑایا اور اس کی نصیحتوں کی تحقیر کی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا اور وہ قومیں کچھ کمزور نہ تھیں بلکہ وہ اپنی قوت و شوکت میں ان سے (قریش سے) کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ کے عذاب نے ان کی کمر توڑ کے رکھ دی۔
    اور جو نبی بھی ان کے پاس آتا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔
    مذکورہ بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے: یہ اوپر کی بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے اور خطاب بغرض تسلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ فرمایا کہ جو سلوک آج تمہارے مخالفین تمہارے ستھ کر رہے ہیں یہی سلوک اس سے پہلے دوسرے نبیوں کے ساتھ ان کی قومیں کر چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے بھی کتنے رسول اسی مقصد تذکیر و اصلاح کے لیے بھیجے لیکن ہر قوم نے اپنے رسول کا مذاق اڑایا اور اس کی نصیحتوں کی تحقیر کی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا اور وہ قومیں کچھ کمزور نہ تھیں بلکہ وہ اپنی قوت و شوکت میں ان سے (قریش سے) کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ کے عذاب نے ان کی کمر توڑ کے رکھ دی۔
    تو ہم نے ان سے زیادہ زور آوروں کو ہلاک کر چھوڑا اور اگلوں کی مثالیں گزر چکی ہیں۔
    مذکورہ بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے: یہ اوپر کی بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے اور خطاب بغرض تسلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ فرمایا کہ جو سلوک آج تمہارے مخالفین تمہارے ستھ کر رہے ہیں یہی سلوک اس سے پہلے دوسرے نبیوں کے ساتھ ان کی قومیں کر چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے بھی کتنے رسول اسی مقصد تذکیر و اصلاح کے لیے بھیجے لیکن ہر قوم نے اپنے رسول کا مذاق اڑایا اور اس کی نصیحتوں کی تحقیر کی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا اور وہ قومیں کچھ کمزور نہ تھیں بلکہ وہ اپنی قوت و شوکت میں ان سے (قریش سے) کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ کے عذاب نے ان کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ ’وَمَضٰی مَثَلُ الْأَوَّلِیْنَ‘ اور تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ اشارہ عاد و ثمود اور ان قوموں کی طرف ہے جن کی تباہی کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں بھی بیان ہو چکی ہیں اور آگے کی سورتوں میں بھی آ رہی ہیں۔
    اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ لازماً یہی جواب دیں گے کہ ان کو خدائے عزیز و علیم نے پیدا کیا ہے۔
    مشرکین کے تضاد فکر کی وضاحت: یہ قریش کے کفر و شرک اور ان کی اس ضد و مکابرت کی تفصیل بیان ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر آیت ۵ میں ’اَنْ کُنتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ‘ کے الفاظ سے گزر چکا ہے۔ یہ بیان آگے دور تک جائے گا۔ فرمایا کہ یہ یوں تو اپنے دین شرک کی حمایت میں تم سے لڑنے کے لیے آستینیں چڑھائے ہوئے ہیں لیکن یہ ایک شدید قسم کے تضاد فکر میں مبتلا ہیں جس کی طرف ان کا جوش مخالفت ان کو متوجہ ہونے نہیں دے رہا ہے۔ اگر تم ان سے سوال کرو کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو اس کا جواب لازماً وہ یہی دیں گے کہ ان کا خالق خدائے عزیز و علیم ہے لیکن دوسری طرف ان کی سفاہت کا یہ عالم ہے کہ ’وَجَعَلُوْا لَہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْئً ا‘ (اور انھوں نے اللہ کے بندوں میں سے اس کے شریک اور کفو و ہمسر بنا رکھے ہیں)۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب جیسا کہ پچھلی سورتوں میں تفصیل گزر چکی ہے، آسمان و زمین اور دوسری تمام مخلوقات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی مانتے تھے کہ ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں جو اس کی چہیتی اور اس کی ذات و صفات میں شریک ہیں اس وجہ سے ان کی عبادت خدا کے تقرب کا ذریعہ اور مال و اولاد کی فراوانی کا وسیلہ ہے۔  
    جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے رکھے کہ تم راہ پاؤ۔
    چار آیتیں بطور تضمین: یہ آیت اور بعد کی تین آیات مشرکین کے جواب کا حصہ نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہیں کہ جو شخص اس کائنات کی خلقت پر تدبر کی نگاہ ڈالے گا وہ اس میں خالق کی قدرت، ربوبیت اور حکمت کے ایسے آثار پائے گا کہ لازماً وہ اس کی توحید کا بھی اقرار کرے گا اور ایک روز جزا و سزا کا بھی۔ مقصد اس تفصیل سے یہ دکھانا ہے کہ مشرکین کا یہ اعتراف کہ آسمان و زمین کا خالق خدائے عزیز و علیم ہی ہے، اگر اپنی صحیح سمت میں آگے بڑھے تو اس کے تضمنات یہ بھی ہیں جو آگے بیان ہو رہے ہیں۔ لیکن مشرکین پہلا قدم صحیح اٹھا کر پھر غلط سمت میں مڑ جا تے ہیں جس سے وہ اپنے مانے ہوئے عقیدہ کو باطل اور پائی ہوئی راہ کو گم کر دیتے ہیں۔   خدا کے خالق ہونے کے تضمنات: فرمایا کہ وہی خدائے عزیز و علیم جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے (اور جس کا خالق ہونا تم کو بھی تسلیم ہے) اسی نے تمہاری بودوباش کے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا۔ اس گہوارہ بنانے کی مزید وضاحت قرآن کے دوسرے مقامات میں اس طرح فرمائی ہے کہ اس نے اپنی عظیم قدرت و حکمت سے اس میں پہاڑ گاڑ دیے ہیں کہ وہ تمہارے سمیت کسی طرف کو لڑھک نہ پڑے۔ پھر اس میں تمہارے لیے راستے رکھے ہیں یعنی زمین کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے پہاڑ گاڑے تو اس طرح نہیں کہ وہ ہر طرف سے تمہاری راہ روک کر کھڑے ہو جائیں بلکہ خشکی اور تری دونوں کے اندر ان پہاڑوں کے درمیان سے تمہارے لیے راستے بھی رکھے ہیں کہ تمہارے قافلے اور تمہارے جہازات ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کر سکیں۔   ایک معنی خیز ٹکڑا: ’لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ‘ کا ٹکڑا یہاں نہایت معنی خیز اور بلیغ ہے۔ ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں پہاڑوں کی فلک بوس دیواروں کے درمیان تمہارے لیے جو راستے رکھے ہیں وہ اس لیے رکھے ہیں کہ تم ان ناقابل عبور دیواروں کے اندر محبوس و محصور ہو کے نہ رہ جاؤ بلکہ ان سے باہر نکلنے کے لیے بھی راہیں کھلی رہیں۔ دوسرا نہایت لطیف اشارہ اس سے یہ نکلتا ہے کہ تم اپنے رب کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اپنے حال پر اس کی ان بے پایاں عنایات پر غور کرو اور اس نتیجہ تک پہنچو کہ جس پروردگار نے تمہارے لیے یہ کچھ اہتمام فرمایا ہے وہی تمہاری شکرگزاری اور عبادت و اطاعت کا اصل سزاوار ہے اور اگر تم نے اس کے اس حق کو نہ پہچانا تو ایک دن لازماً ایسا آئے گا جس میں تم کو اس ناسپاسی کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔
    اور جس نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازہ کے ساتھ۔ پس ہم نے اس سے حیات تازہ بخش دی ایک مردہ زمین کو۔ اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جاؤ گے!
    اللہ تعالیٰ کا کرشمۂ ربوبیت: اور اسی خدائے عزیز و علیم کا یہ کرشمۂ ربوبیت بھی ہے کہ اس نے آسمان سے پانی اتارا ایک خاص اندازے کے ساتھ۔ پانی کا ایک خاص اندازے کے ساتھ اترنا اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ یہ محض ابر و ہوا کے تصرف سے نہیں بلکہ ایک عزیز و علیم کی تقدیر سے اترتا ہے جو اپنی حکمت کے تحت صرف اتنا ہی پانی اتارتا ہے جس کا زمین تحمل کر سکتی ہے۔ پھر اس سے یہ بات بھی نکلی کہ آسمان و زمین دونوں کے اندر ایک ہی خدائے عزیز و علیم کا ارادہ کارفرما ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ آسمان اور زمین میں ایسا توافق ہوتا کہ آسمان سے پانی اترتا اور زمین اس سے اپنی صلاحیتیں اجاگر کرتی۔ مزید برآں اس سے یہ بات بھی نکلی کہ وہ عزیز و علیم ہستی نہایت کریم و بندہ پرور ہے کہ ایک خاص اندازے کے ساتھ ہی پانی اتارتی ہے۔ اسی اندازے کے ساتھ زمین کی تمام برکتیں وابستہ ہیں۔ اگر اس میں کوئی خلل واقع ہو جائے تو یہ زمین پانی کی کمی سے بھی تباہ ہو سکتی ہے اور اس کی زیادتی سے بھی۔   بارش کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ: ’فَأَنشَرْنَا بِہِ بَلْدَۃً مَّیْْتاً کَذٰلِکَ تُخْرَجُوۡنَ‘۔ یہ بارش کے ایک اور خاص پہلو کی طرف توجہ دلائی اور یہ پہلو چونکہ اس کائنات کی ایک بہت بڑی حقیقت کو آشکارا کرنے والا ہے اس وجہ سے اس کا ذکر متکلم کے صیغے سے فرمایا جو اہتمام خاص پر دلیل ہے۔ فرمایا کہ دیکھتے ہو کہ اسی پانی سے ہم ایک مردہ اور بے آب و گیاہ زمین کو زندہ کر دیتے ہیں اور وہ لہلہا اٹھتی ہے۔ اسی طرح ایک دن تم بھی مرنے اور گل سڑ جانے کے بعد اس زمین سے اٹھا کھڑے کیے جاؤ گے۔
    اور جس نے تمام گوناگوں قسم کی چیزیں پیدا کیں اور تمہارے واسطے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
    بعض اور آثار قدرت کی طرف اشارہ: اسی خدائے عزیز و علیم کی پروردگاری کے بعض اور آثار کا ذکر کر کے ان کے مقتضیات کی طرف توجہ دلائی جن کا احساس ہر سلیم الفطرت انسان کے اندر پیدا ہونا چاہیے جو ان سے بہرہ مند ہو رہا ہے۔   فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے دوسری نوع بنوع چیزیں پیدا کی ہیں۔ لفظ ’اَزْوَاجٌ‘ یہاں گوناگون اور نوع بنوع چیزوں کے مفہوم میں ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ قرآن مجید اور عربی ادب میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ ’مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَھِیْجٍ‘ کے الفاظ سے بھی قرآن میں یہی مفہوم ادا فرمایا گیا ہے۔ اشیاء اور انواع کی گوناگونی اور ان کا جوڑے جوڑے ہونا اس کائنات میں اسی لیے ہے کہ انسان کو اس کائنات کے خالق کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و ربوبیت کی یاددہانی ہوتی رہے۔ جوڑوں کے اندر جو توافق پایا جاتا ہے اس سے قرآن نے توحید پر جو دلیل قائم فرمائی ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔   ’وَجَعَلَ لَکُم مِّنَ الْفُلْکِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْکَبُونَ‘۔ یہ عام کے بعد دو خاص چیزوں کا ذکر فرما دیا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے کشتیاں اور ایسے چوپائے پیدا کیے جن تم پر سوار ہوتے ہو۔ قرآن کے زمانۂ نزول میں خشکی اور تری کی یہی سواریاں معروف تھیں اس وجہ سے انہی کا ذکر ہوا۔ اب سائنس کی برکت سے ان سواریوں کی فہرست گو بہت طویل ہو گئی ہے لیکن وہ سب انہی کے تحت ہیں اس لیے کہ جس سائنس کی مدد سے انسان ان کا مُوجد بنا ہے وہ خدا ہی کی ودیعت کردہ ہے۔
    تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو پھر تم اپنے رب کی نعمت کو، جب کہ تم ان پر بیٹھو، یاد کرو اور کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ان چیزوں کو ہماری خدمت میں لگا دیا اور ہم تو ان کو قابو میں کر لینے والے نہیں تھے!
    نعمتوں کا حق: ’لِتَسْتَوُوا عَلَی ظُہُورِہِ ...... الایٰۃ‘۔ یہ ان نعمتوں کا حق بیان ہو رہا ہے کہ خدا نے یہ سواریاں تمہیں اس لیے دی ہیں کہ تم ان سے فائدہ اٹھاؤ اور ان کے بخشنے والے کا حق پہچانو اور جب تم ان کی پیٹھوں پر بیٹھو تو اپنے رب کے اس فضل کو یاد کرو کہ اس نے بغیر کسی استحقاق کے یہ نعمتیں تم کو بخشی ہیں اس وجہ سے تمہارے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے غرور کا مظاہرہ کرو بلکہ اس وقت تمہیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ہماری مقصد برآری کے لیے ان کو ہمارے قابو میں کر دیا ہے ورنہ ہم تو ان کو قابو میں کرنے والے نہیں بن سکتے تھے۔   ’لِتَسْتَوُوا عَلٰی ظُہُوْرِہِ‘ میں لفظ ’ظُہُوْرٌ‘ اگرچہ کشتیوں کے لیے زیادہ موزوں نہیں ہے، اس کی واضح مناسبت گھوڑوں یا سواری کے دوسرے جانوروں ہی کے ساتھ ہے، لیکن یہاں یہ لفظ علیٰ سبیل التغلیب استعمال ہوا ہے۔ اس طرح کا استعمال عربی میں معروف ہے۔ مقصود یہی کہنا ہے کہ کشتی پر سوار ہو یا گھوڑے پر، اس وقت غرور سے اکڑنے کے بجائے اپنے رب کی نعمت کا شکر ادا کرو لیکن خاص طور پر گھوڑوں کے ذکر کے ساتھ یہ تنبیہ اس لیے فرمائی کہ گھوڑے کا سوار عام پیدل چلنے والوں کے سامنے سے گزرتا ہے اس وجہ سے اس کے اندر اپنے تفوق کا احساس (خاص طور پر جب کہ وہ تنک ظرف بھی ہو) زیادہ شدت کے ساتھ ابھرتا ہے یہاں تک کہ گھوڑے کی طرح خود اس کی گردن بھی اکڑ جاتی ہے۔ یہی چیز اس زمانے میں موٹروں نے کہیں زیادہ بڑھا دی ہے۔ بہت کم خوش قسمت ایسے ہوتے ہیں جو موٹر میں بھلے آدمیوں کی طرح بیٹھیں۔ ان کی رعونت ان کی ہر ادا سے نمایاں ہوتی ہے اور اس قدر بدنما طریقے سے نمایاں ہوتی ہے کہ یہ امتیاز مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ آدمی ہی ہیں یا کوئی اور مخلوق!   ’سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ‘۔ ’سُبْحانَ‘ اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کا کلمہ ہے یعنی وہ ہر قسم کے شرک اور ہر چھوٹے بڑے عیب سے پاک ہے۔ یہ تنزیہہ آدمی کے اندر خدا ہی کے لیے تفویض و تسلیم کا جذبہ ابھارتی ہے اور یہی جذبہ انسان کو غرور و استکبار اور طغیان و فساد سے بچاتا اور اس کے اندر شکر و سپاس کی نیاز مندی و فروتنی پیدا کرتا ہے۔   ’اِقْرَانٌ‘ کے معنی اپنے حریف پر غلبہ پانے اور اس کو مطیع کر لینے کے ہیں۔ یعنی اس وقت انسان کو پوری نیاز مندی کے ساتھ اپنے رب کے حضور میں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ یہ اللہ ہی کی شان اور اسی کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس مَرکَب کو ہمارا مطیع و فرماں بردار بنا دیا ہے ورنہ ہم تو اس کو قابو میں کر لینے والے نہیں بن سکتے تھے۔   یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ اعتراف ایک حقیقت نفس الامری کا اعتراف ہے۔ اس دنیا میں جو چیزیں بھی ہماری خدمت گزاری میں لگی ہوئی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی تسخیر ہی سے لگی ہوئی ہیں۔ یہ تسخیر نہ ہو تو مجرد ہماری تدبیر کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی کمند نہیں ڈال سکتی۔ اونٹ جیسے بڑے جانور کی ناک میں آپ نکیل ڈال دیتے ہیں اور گھوڑے کے منہ میں لگام دیتے ہیں۔ یہی کام اگر آپ جنگل کے درندوں کے ساتھ کرنا چاہیں تو ہزار خطرات کا مقابلہ کرنے کے بعد بھی آپ شیر پر سواری نہیں کر سکتے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی مہربانی ہے کہ اس نے ہماری خدمت کے لیے مختلف قسم کے جانور پیدا کیے اور ہمیں یہ صلاحیت بخشی کہ ہم ان کو مسخر کر کے اپنے مختلف مقاصد میں استعمال کرتے ہیں۔ اس زمانے میں بھاپ، بجلی اور ایٹم پر انسان کو جو تصرف حاصل ہوا ہے وہ بھی خدا ہی کی تسخیر سے حاصل ہوا ہے۔ ان فتوحات نے انسان کو بہت مغرور بنا دیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اب کون و مکان کا مالک سمجھنے لگا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کو انسان کی قید سے آزاد کر کے رحمت کے بجائے عذاب بنا دے۔   یہاں جو دعا تلقین کی گئی ہے اس کا ظاہری تعلق تو اونٹ اور گھوڑے وغیرہ کی سواریوں ہی سے ہے لیکن یہی دعا اس زمانے کی دوسری ترقی یافتہ سواریوں کے لیے بھی موزوں ہے، مثلاً موٹر اور ہوائی جہاز وغیرہ۔ البتہ بحری سواریوں کے لیے موزوں تر دعا ’بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرِیْھَا وَمُرْسٰھَا‘ والی دعا ہے جو حضرت نوحؑ سے منقول ہے۔
    اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں!
    ایک بلیغ فقرہ: ’وَإِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ‘۔ اوپر جس طرح آیت ۱۰ میں ’لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوۡنَ‘ کے الفاظ نہایت معنی خیز گزرے ہیں اسی طرح یہاں یہ الفاظ بھی نہایت بلیغ، حقیقت افروز اور فلسفۂ دین کی ایک نہایت اہم حقیقت پر روشنی ڈالنے والے ہیں۔ یعنی انسان کو کسی سواری پر بیٹھتے ہوئے صرف اتنی سی بات یاد نہیں رکھنی چاہیے کہ ہم فلاں شہر سے فلاں شہر کو جانے والے ہیں بلکہ اس حقیقت کا بھی تذکر کرنا چاہیے کہ ایک دن ہمیں لازماً اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے آگے پیش ہونا ہے۔ اس تذکر کا محرک یہ ہے کہ ہر نعمت خدا کی پروردگاری کی شہادت ہے، اور پروردگاری اس بات کو مستلزم ہے کہ پروردگار ایک دن سب کو جمع کر کے ان سے پرسش کرے کہ انھوں نے اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو کس طرح استعمال کیا۔ پھر ان کو انعام دے جنھوں نے ان کو صحیح استعمال کیا ہو اور ان سے انتقام لے جنھوں نے ان کو طغیان و فساد کا ذریعہ بنایا۔ یہ مسؤلیت اور جزاء و سزا اس ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو یہ تمام ربوبیت بے معنی اور یہ دنیا کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت سے دوسری اعلیٰ حقیقت کی طرف گریز کی ایک نہایت خوب صورت مثال ہے جس کے متعدد شواہد اس کتاب میں پیچھے گزر چکے ہیں۔
    اور ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے اس کا ایک جزء ٹھہرایا۔ بے شک انسان کھلا ہوا ناشکرا ہے!
    مشرکین کے فکری تضادات پر تبصرہ: اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت ۹ (وَلَئِن سَأَلْتَہُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ ...... الاٰیۃ) سے ہے۔ وہاں اس کے بعد تضمین کی آیتیں آ گئی تھیں اس وجہ سے ان تضادات پر کوئی تبصرہ نہیں ہوا تھا جو اعتراف کرنے والوں نے اپنے اندر جمع کر لیے تھے۔ اب یہ ان تضادات پر تبصرہ ہو رہا ہے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ ایک طرف تو ان لوگوں کا اقرار یہ ہے کہ آسمان و زمین کا خالق خدا ہی ہے، دوسری طرف انھوں نے خدا کے بندوں میں سے کچھ کو خدا کا جزء یعنی شریک ذات بنا رکھا ہے۔ ان کا یہ عقیدہ ان کے اپنے مسلمہ کے خلاف ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہی تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کا خالق ہے تو ہر چیز اسی کی مخلوق ہوئی، پھر کوئی چیز اس کا جزء کیسے ہو سکتی ہے! کسی چیز کے اس کا جزء ہونے کے معنی تو یہ ہوئے کہ وہ اس کی ذات کے اندر سے وجود میں آئی ہو اور پھر اس کا لازمی اقتضاء یہ بھی ہے کہ وہ اس کی کفو اور ہمسر بھی ہو۔ اس بات کے ماننے کے بعد خدا کی یکتائی اور بے ہمگی کہاں باقی رہی! یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین کے دیویوں دیوتاؤں میں کچھ تو وہ تھے جن کو صرف خدا کی صفات یا اس کے حقوق میں شریک مانتے تھے اور کچھ ایسے تھے جن کو وہ اس کی ذات میں بھی شریک تصور کرتے تھے۔ مثلاً ملائکہ کے متعلق ان کا تصور یہ تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں جو اس کی بڑی چہیتی ہیں، ان کی پرستش، شفاعت اور نجات کا ذریعہ ہو گی۔ قرآن نے یہاں ان کے اسی زعم کی تردید کی ہے کہ خدا کے سوا جو بھی ہیں سب اس کی مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو بھی اس کے جزو ہونے کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ یہ انسان کا انتہائی ناشکرا پن ہے کہ اس کو سب کچھ حاصل تو ہوا ہے خدا سے لیکن وہ دوسروں کو دیوی دیوتا بنا کر ان کے گن گاتا اور ان کی پرستش کرتا ہے۔   غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت کی زد اس عقیدہ وحدت الوجود پر بھی پڑتی ہے جس کے اصل موجد تو ہندو فلسفی ہیں لیکن ہمارے صوفیوں کے ایک گروہ نے اسلام میں بھی اس کو لا گھسایا ہے۔ اس عقیدے کے بموجب تمام کائنات اور اس کی ہر چیز خدا کے جزو کی حیثیت حاصل کر لیتی ہے۔ تو جب مشرکین عرب کا فرشتوں کو خدا کا جزو بنانا شرک ٹھہرا تو ساری کائنات کو خدا کو جزو بنا دینا توحید کس طرح بن جائے گا۔
    کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا!
    مشرکین کے عقیدے کا بھونڈا پن اخلاقی پہلو سے: ’اَمْ‘ استنکار و استعجاب کے مفہوم میں ہے۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں جو قرار دیتے تھے، ان کے اس عقیدے پر ایک دوسرے پہلو سے نکیر فرمائی۔ اوپر والی آیت میں ان کے جزء خدا ہونے کی تردید تھی۔ اس آیت میں ایک نفسیاتی پہلو سے ان کے اس عقیدے کے بھونڈے پن کو واضح فرمایا کہ صرف یہی ستم نہیں ہے کہ خدا کی مخلوقات کو اس کا ایک جزء بنائے دے رہے ہیں بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بیٹیوں کو اپنے لیے تو ایک نہایت نفرت کی چیز سمجھتے ہیں لیکن خدا کی طرف ان کو منسوب کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ جب خدا ہی سب کچھ پیدا کرتا ہے تو اس نے اپنے لیے بیٹیاں کیوں پسند کیں جب کہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خبر دی جائے تو غم سے اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ برابر گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے۔   مطلب یہ ہے کہ اس عقیدہ کے گھڑنے میں صرف یہی نہیں کہ عقل سے انھوں نے کوئی کام نہیں لیا بلکہ یہ اس احساس شرافت کی بھی بالکل نفی ہے جو انسانی فطرت کا بالکل بدیہی تقاضا ہے۔ اگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ خدا کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا تو کم از کم وہ اتنا انصاف تو کرتے کہ خدا کی طرف وہ چیز نہ منسوب کرتے جس سے وہ خود اس درجہ بیزار و نفور ہیں۔ یہ عقیدہ ایجاد کر کے انھوں نے صرف عقل ہی کی تذلیل نہیں کی ہے بلکہ احساس عدل سے اپنی بے مائگی کا ثبوت بھی دیا ہے۔
    اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی بشارت دی جاتی ہے جس کو وہ خدا کی صفت بیان کرتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے۔
    مشرکین کے عقیدے کا بھونڈا پن اخلاقی پہلو سے: ’اَمْ‘ استنکار و استعجاب کے مفہوم میں ہے۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں جو قرار دیتے تھے، ان کے اس عقیدے پر ایک دوسرے پہلو سے نکیر فرمائی۔ اوپر والی آیت میں ان کے جزء خدا ہونے کی تردید تھی۔ اس آیت میں ایک نفسیاتی پہلو سے ان کے اس عقیدے کے بھونڈے پن کو واضح فرمایا کہ صرف یہی ستم نہیں ہے کہ خدا کی مخلوقات کو اس کا ایک جزء بنائے دے رہے ہیں بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بیٹیوں کو اپنے لیے تو ایک نہایت نفرت کی چیز سمجھتے ہیں لیکن خدا کی طرف ان کو منسوب کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ جب خدا ہی سب کچھ پیدا کرتا ہے تو اس نے اپنے لیے بیٹیاں کیوں پسند کیں جب کہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خبر دی جائے تو غم سے اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ برابر گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے۔   مطلب یہ ہے کہ اس عقیدہ کے گھڑنے میں صرف یہی نہیں کہ عقل سے انھوں نے کوئی کام نہیں لیا بلکہ یہ اس احساس شرافت کی بھی بالکل نفی ہے جو انسانی فطرت کا بالکل بدیہی تقاضا ہے۔ اگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ خدا کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا تو کم از کم وہ اتنا انصاف تو کرتے کہ خدا کی طرف وہ چیز نہ منسوب کرتے جس سے وہ خود اس درجہ بیزار و نفور ہیں۔ یہ عقیدہ ایجاد کر کے انھوں نے صرف عقل ہی کی تذلیل نہیں کی ہے بلکہ احساس عدل سے اپنی بے مائگی کا ثبوت بھی دیا ہے۔
    کہ کیا وہ پیدا ہوئی ہے جو زیوروں میں پلتی اور مفاخرت میں بے زبان ہے!
    لڑکیوں سے متعلق عرب جاہلیت کے احساس کی تشبیہ: یہ ان کے اس احساس کی تعبیر ہے جو لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر ان کے دل میں پیدا ہوتا اور ان کی گھٹن کا باعث ہوتا ہے۔ فرمایا کہ وہ اس سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کیا وہ وجود میں آئی ہے جو زیوروں میں پلتی اور مفاخرت کے مقابلوں میں بالکل بے زبان ہے۔   لفظ ’خِصَامٌ‘ یہاں مبارزت اور مفاخرت دونوں معنوں پر مشتمل ہے اور عرب جاہلیت ان دونوں ہی چیزوں کے رسیا تھے۔ ان کے ہاں آئے دن جنگیں بھی برپا ہوتی رہتیں اور مفاخرت کے مقابلے بھی ہوتے رہتے جن میں ہر قبیلہ کے خطیب اور شاعر اپنے اپنے قبیلہ کے مفاخر بیان کرنے میں داد خطابت و شاعری دیتے۔ ظاہر ہے کہ عورت ان دونوں ہی میدانوں میں فروتر تھی، نہ وہ زرہ بکتر اور شمشیر و سناں کی مخلوق تھی اور نہ خطابت و شاعری کی، اس وجہ سے اہل عرب کی نگاہوں میں اس کی کچھ زیادہ اہمیت نہ تھی اور یہ بات کچھ اہل عرب ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اس زمانے میں بھی عورت کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ نمائش کی مجالس ہی میں ہوئی ہے۔ مبارزت اور مفاخرت کے اعتبار سے تو آج بھی وہ وہیں ہے جہاں عرب جاہلیت کے دور میں تھی۔ یہ امر یہاں اچھی طرح ملحوظ رہے کہ عورت پر یہ تبصرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ان اہل عرب کی طرف سے ہے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ عام طور پر مفسرین نے یہ خیال کیا کہ یہ تبصرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ غلط فہمی لوگوں کو کلام کے سیاق پر نہ غور کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔
    اور انھوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمان کے بندے ہیں، بیٹیوں کا درجہ دے رکھا ہے۔ کیا یہ ان کی ولادت کے وقت موجود تھے! ان کی یہ گواہی نوٹ رہے گی اور ان سے اس کی پرسش ہو گی!
    اس واہمہ کی تردید ایک اور پہلو سے: ان کے اس واہمہ پر ایک اور پہلو سے بھی ضرب لگائی۔ فرمایا کہ انھوں نے فرشتوں کو جو عورتیں بنا کر رکھ دیا ہے تو آخر ان کے اس دعوے کی بنیاد کیا ہے؟ کیا جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا تو یہ اس وقت موجود تھے! اس کے بعد نہایت سخت الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ ان کا یہ دعویٰ نوٹ رہے گا اور ایک دن ان سے اس کی پرسش ہونی ہے۔ فرشتوں کے متعلق یہ پوری بحث سورۂ صافات کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔
    اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کو پوجنے والے نہ بنتے۔ ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔
    اپنی حماقت کی تائید میں مشرکین کی شرعی دلیل اور اس کی تردید: اپنی اس حماقت کی تائید و تصویب میں مشرکین جو شرعی دلیل پیش کرتے یہ اس کا حوالہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان کو پوجنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کو ان کی عبادت پسند ہے۔ اگر یہ چیز اس کو پسند نہ ہوتی تو اس کی قدرت میں تو سب کچھ ہے، وہ اپنی مشیت کے زور سے اس کو روک دیتا اور ہم ان کی عبادت نہ کر پاتے۔ جواب میں فرمایا کہ یہ محض ان کی اٹکل پچو باتیں ہیں۔ اس باب میں ان کو کوئی علم نہیں ہے۔ خدا کی پسند یا ناپسند کے جاننے کا یہ ذریعہ نہیں ہے کہ کسی شخص یا گروہ کو کسی برائی کے کرنے کی ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ اگر یہ کوئی دلیل ہے تو یہ دلیل ہر چور، ہر زانی، ہر بدمعاش اپنی چوری اور بدمعاشی کے جواز بلکہ استحسان کی تائید میں پیش کر سکتا اور کہہ سکتا ہے کہ اگرچہ یہ بات خدا کی مرضی کے خلاف ہوتی تو وہ اپنی مشیت کے زور سے اس کو روک دیتا لیکن جب اس نے اس کو نہیں روکا تواس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کی مرضی سے کیا اور ہمارا یہ فعل اس کو پسند ہے۔
    کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے تو وہ اس کی سند پکڑتے ہیں!
    ’أَمْ اٰتَیْْنٰہُمْ کِتَابًا مِّن قَبْلِہٖ فَہُم بِہٖ مُسْتَمْسِکُوۡنَ‘۔ فرمایا کہ خدا کی پسند اور ناپسند کے جاننے کا قابل وثوق ذریعہ اس کی کتابیں اور اس کے نبیوں کی تعلیمات ہیں تو کیا اس قرآن سے پہلے ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے جس کو وہ سند میں پیش کر سکتے ہوں؟ اگر ایسا نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے تو آخر وہ کس سند پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کو خدا کی تائید حاصل ہے؟
    بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی انہی کے نقش قدم پر راہ یاب ہیں۔
    مشرکین کی روایتی دلیل اور اس کی تردید: اوپر مشرکین کی کلامی دلیل کی تردید فرمائی ہے۔ اس پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ مشرکین عرب کو بھی بالکل اسی طرح کا دھوکا پیش آیا جس طرح کا دھوکا ہمارے ہاں مُجبرہ کو پیش آیا۔ اب یہ ان کی روایتی دلیل کا حوالہ ہے جس پر ان کو سب سے زیادہ اعتماد تھا اور چونکہ اس کی بنیاد تقلید آباء پر ہے جس کا تعلق عقل کے بجائے مجرد جذبات سے ہے اس وجہ سے ہر دور کے اشرار نے اس ہتھیار سے فائدہ اٹھایا اور عوام کے جذبات بھڑکا کر مصلحین کی مساعئ اصلاح کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے۔   ’اُمَّۃٌ‘ کے معنی، جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، کسی قوم کے مجموعی طریقہ اور مسلک کے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنی اس حماقت کی تائید میں یہ دلیل بھی لاتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک صحیح مسلک اور ایک اعلیٰ طریقہ پر پایا ہے اور ہم چونکہ انہی کے مسلک پر ہیں اس وجہ سے بالکل ہدایت کی راہ پر ہیں۔ انہی کے نقش قدم کی پیروی ہماری ہدایت کی ضامن ہو گی۔ اگر ہم اس سے ذرا منحرف ہوئے تو ہم ہدایت کی راہ سے بھٹک جائیں گے اس وجہ سے جو لوگ ہمیں اس راہ سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ہماری تباہی کے درپے ہیں۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ لفظ ’اُمَّۃٌ‘ کی تنکیر اس کی عظمت کے اظہار کے لیے ہے۔
    اور اسی طرح ہم نے جس بستی میں بھی تم سے پہلے کوئی مُنذر بھیجا تو اس کے خوش حالوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے۔
    ہر دور کے مکذبین کا طریقہ ایک ہی رہا ہے: فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح اپنے دین کے معاملے میں اندھے مقلد ہیں اسی طرح اپنی دلیل میں بھی پچھلے انبیاء کے مکذبین کے مقلد ہیں۔ تم سے پہلے جو منذر بھی کسی بستی میں ہم نے بھیجا اس کے انذار اور اس کی دعوت اصلاح کا جواب قوم کے مستکبرین نے یہی دیا ہے کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک خاص طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی پر جمے رہیں گے۔ رسول نے جب ان سے یہ سوال کیا کہ اگر میں تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے بہتر طریقہ تمہارے پاس لے کر آیا ہوں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ ہی پر جمے رہو گے! اس کے جواب میں انھوں نے جھلا کر کہا کہ ہم تو اس سارے ہی کے منکر ہیں جو دے کر تم بھیجے گئے ہو!
    مُنذر نے کہا، کیا اگر میں اس سے زیادہ ہدایت بخش طریقہ لے کر تمہارے پاس آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے جب بھی تم انہی کے نقش قدم کی پیروی کرو گے! انھوں نے جواب دیا کہ ہم اس سارے کے منکر ہیں جو دے کر تم بھیجے گئے ہو!
    ہر دور کے مکذبین کا طریقہ ایک ہی رہا ہے: فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح اپنے دین کے معاملے میں اندھے مقلد ہیں اسی طرح اپنی دلیل میں بھی پچھلے انبیاء کے مکذبین کے مقلد ہیں۔ تم سے پہلے جو منذر بھی کسی بستی میں ہم نے بھیجا اس کے انذار اور اس کی دعوت اصلاح کا جواب قوم کے مستکبرین نے یہی دیا ہے کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک خاص طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی پر جمے رہیں گے۔ رسول نے جب ان سے یہ سوال کیا کہ اگر میں تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے بہتر طریقہ تمہارے پاس لے کر آیا ہوں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ ہی پر جمے رہو گے! اس کے جواب میں انھوں نے جھلا کر کہا کہ ہم تو اس سارے ہی کے منکر ہیں جو دے کر تم بھیجے گئے ہو!   ’اِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِہِ کَافِرُونَ‘ سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں:   ایک یہ کہ یہ جواب انھوں نے جھلا کر اور آپے سے باہر ہو کر دیا۔ اس لیے کہ جواب اصل سوال سے کئی قدم آگے ہے۔ رسول کا سوال تو صرف یہ تھا کہ اگر میرا طریقہ، جس کی میں دعوت دے رہا ہوں تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے بہتر ہوا تو کیا اس صورت میں بھی تم اپنی اسی ہٹ پر قائم رہو گے۔ جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم تمہاری ہر بات کے منکر ہیں۔ یعنی مسئلہ ’اَھْدٰی‘ اور ’غَیر اَھْدٰی‘ کے امتیاز کا نہیں ہے بلکہ ہم تمہاری کوئی بات سرے سے سننے اور ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔   دوسری یہ کہ کسی شے کے ’اَھْدٰی‘ اور ’غَیر اَھْدٰی‘ میں امتیاز کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت فرمائی ہے بشرطیکہ انسان کے پاس گوش حقیقت نیوش ہو۔ وہ مغرور، ضدی اور ہٹ دھرم نہ ہو۔
    تو ہم نے ان سے انتقام لیا تو دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا!
    مطلب یہ ہے کہ جب قوموں کی ضد اور مکابرت اس حد کو پہنچ گئی کہ انھوں نے رسولوں کی بات سننے اور سمجھنے سے انکار کر دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان سے کفران نعمت کا انتقام لیا، پھر دیکھو کہ رسولوں کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا!!


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List