Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الشوری (The Consultation)

    53 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور زمانۂ نزول

    اس سورہ کا بھی مرکزی مضمون توحید ہی ہے۔ اسی کے تحت قیامت سے بھی ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ توحید کی اصلی اہمیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اس بات پر ایمان ہو کہ انصاف کا ایک دن لازماً آنے والا ہے اور اس دن ہر شخص کو سابقہ اللہ واحد و قہار ہی سے پیش آئے گا، کسی کی مجال نہیں ہو گی کہ اس کی پکڑ سے کسی کو بچا سکے یا اس کے اذن کے بغیر اس کے سامنے زبان ہلا سکے۔
    استدلال کی بنیاد اس میں دعوت انبیاء کی تاریخ پر ہے کہ آدمؑ و نوحؑ سے لے کر اب تک تمام انبیاء نے اسی دین توحید کی دعوت دی اور ان کو بھی اللہ نے اسی طرح وحی کے ذریعہ سے تعلیم دی جس طرح یہ قرآن وحی کیا جا رہا ہے۔ مختلف حلقوں نے دین کے معاملہ میں جو اختلاف کیا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ کے رسولوں نے الگ الگ دینوں کی تعلیم دی بلکہ اس کی وجہ صرف باہمی عداوت و رقابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحیح علم آ جانے کے باوجود مختلف گروہوں نے اپنی ضد اور اپنی برتری قائم رکھنے کے زعم میں حق سے اختلاف کیا اور اس طرح لوگ مختلف گروہوں اور حلقوں میں بٹتے گئے۔ یہ قرآن اسی اختلاف کو مٹانے کے لیے ایک میزان حق بن کر نازل ہوا ہے۔ اگر لوگ اس میزان کے فیصلہ کو قبول نہیں کریں گے تو اب قیامت کی میزان عدل لوگوں کا فیصلہ کرے گی۔
    سورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکی دور کے آخر میں، ہجرت سے متصل زمانے میں نازل ہوئی ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قریش کے لیڈروں کو اس میں جو خطاب ہے اس کی نوعیت ودَاعیِ خطاب کی ہے، گویا ان سے متعلق پیغمبرؐ کی جو ذمہ داری تھی وہ پوری ہو گئی، اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے۔ اگر انھوں نے یہ ذمہ داری اب بھی محسوس نہ کی تو اس کے نتائج کے لیے تیار رہیں۔ اسی طرح مسلمانوں سے متعلق اس میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں ان سے مترشح ہوتا ہے کہ اب وہ ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ان کو ایک ہیئت اجتماعی کی شکل میں اپنے فرائض ادا کرنے ہیں جس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے انھیں تیار رہنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں بار بار یہ تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری ذمہ داری لوگوں کو واضح طور پر حق پہنچا دینے کی تھی وہ تم نے پوری کر دی۔ لوگوں کے دلوں میں ایمان اتار دینا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ اب ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ اسی ضمن میں بعض اعتراضات کے جواب بھی دیے گئے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر مخالفین کی طرف سے کیے گئے۔

  • الشوری (The Consultation)

    53 آیات | مکی

    حٰم السجدہ ۔ الشوریٰ

    ۴۱ ۔۴۲

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع توحید کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ تنبیہ اور دوسری میں تفہیم کا پہلو نمایاں ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 042 Verse 001 Chapter 042 Verse 002 Chapter 042 Verse 003 Chapter 042 Verse 004 Chapter 042 Verse 005 Chapter 042 Verse 006 Chapter 042 Verse 007 Chapter 042 Verse 008 Chapter 042 Verse 009 Chapter 042 Verse 010
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ حٰمٓ (ہے)۔
    یہ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ یاد ہو گا، پچھلی دو سورتوں کا نام بھی ’حٰمٓ‘ ہی ہے۔
    عٓسٓقٓ ہے۔
    یہاں اس پر ’عٓسٓقٓ‘ کا اضافہ ہے ۔ ناموں کا اشتراک عمود کی وحدت پر دلیل ہے اور یہ اضافہ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سورہ میں کچھ خاص مطالب بھی ہیں جو پچھلی دونوں سورتوں میں نہیں ہیں چنانچہ مطالب کے تجزیہ پر ایک نظر ڈال کر ان خاص مطالب کو الگ کیا جا سکتا ہے۔
    اسی طرح خدائے عزیز و حکیم وحی کرتا ہے تمہاری طرف اور اسی طرح وہ وحی کرتا رہا ہے ان کی طرف جو تم سے پہلے گزرے۔
    تمام نبیوں کی تعلیم بھی ایک ہی رہی ہے اور طریقۂ تعلیم بھی ایک ہی رہا ہے: ’کَذٰلِکَ‘ کا اشارہ ان مطالب کی طرف ہے جو اس سورہ میں بیان ہوئے ہیں۔ ان مطالب کا ایک اجمالی تصور اس سورہ کے نام نے دے دیا ہے اس وجہ سے ’کَذٰلِکَ‘ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ بالکل موزوں ہے۔ یعنی اس نام سے موسوم سورہ میں جو باتیں وحی کی جا رہی ہیں یہ جس طرح تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں اسی طرح تم سے پہلے آنے والے نبیوں کو بھی وحی کی جا چکی ہیں۔ ادائے مطلب میں بتقاضائے بلاغت ایجاز ہے۔ پوری بات گویا یوں ہے کہ ’اس طرح اللہ تم پر وحی کر رہا ہے اور اسی طرح اس نے ان نبیوں پر بھی وحی کی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں‘۔ اس قسم کے ایجاز کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔ ’کَذٰلِکَ‘ وحدت مدعا کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے اور طریقۂ وحی کی یکسانی کی طرف بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو تعلیم بھی انہی باتوں کی دی جن کی تعلیم تم کو دی جا رہی ہے اور اس تعلیم کے لیے طریقہ بھی وہی اختیار فرمایا جو تمہارے لیے اختیار فرمایا اس وجہ سے کسی پہلو سے بھی قرآن میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو لوگوں کے لیے باعث وحشت ہو۔ اگر یہ اس سے وحشت زدہ ہو رہے ہیں تو یہ ان کی اپنی طبیعت کا فساد ہے۔ وحدت مدعا کی طرف اشارہ: وحدت مدعا کی طرف آگے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے: شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ وَمَا وَصَّیْْنَا بِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی أَنْ أَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیْہِ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلَیْْہِ (۱۳) ’’تمہارے لیے اس نے اسی دین کو مقرر کیا جس کی تعلیم نوح کو دی اور اسی کی وحی ہم نے تم کو کی اور جس کی تلقین ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی کی کہ اللہ کے دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ برپا کرو۔ مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی تم دعوت دے رہے ہو۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ جس اسلام اور جس دین توحید کی دعوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اسی کی دعوت پر تمام انبیاء علیہم السلام مامور ہوئے لیکن مشرکین نے جو دین شرک ایجاد کیا اس کی عصبیت کے جوش میں اس دین حق کے مخالف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اسی قسم کی عصبیت کے جنون میں اہل کتاب بھی مبتلا ہو گئے۔ طریقہ کی یکسانی کی طرف اشارہ: طریقہ کی یکسانی کی طرف آگے اس سورہ میں اس طرح اشارہ فرمایا ہے: وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُکَلِّمَہُ اللَّہُ إِلَّا وَحْیْاً أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍ أَوْ یُرْسِلَ رَسُولاً فَیُوحِیَ بِإِذْنِہِ مَا یَشَاءُ إِنَّہُ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ ۵ وَکَذَلِکَ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ رُوحاً مِّنْ أَمْرِنَا مَا کُنتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیْمَانُ وَلَکِن جَعَلْنَاہُ نُوراً نَّہْدِیْ بِہِ مَنْ نَّشَاء مِنْ عِبَادِنَا (۵۱-۵۲) ’’اور کسی بشر کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اس سے بات کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعہ سے یا پردہ کی اوٹ سے یا بھیجے اپنا کوئی فرشتہ پس وہ وحی کر دے اس کے اذن سے جو وہ چاہے۔ بے شک وہ بڑا ہی بلند اور حکیم ہے۔ اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی وحی کی ایک روح کی اپنے امر میں سے۔ تم نہ کتاب سے آشنا تھے اور نہ ایمان سے لیکن ہم نے اس کو ایک نور بنایا جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔‘‘ اس سے واضح ہوا کہ آج جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر خدا پیغمبر سے کلام کرتا ہے تو ان سے بھی کلام کرے یا وہ اس طرح نمودار ہو کہ وہ اس کو دیکھیں اور اس کا کلام سنیں، یہ محض ان کی خود سری اور بددماغی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح نہ کسی سے بات کرتا اور نہ اس طرح جلوہ نمائی کرنا اس کی شان ہے، بلکہ ہمیشہ سے اس کا طریقہ یہ رہا کہ اس نے اپنے جن بندوں کو نبوت کے کارخاص کے لیے منتخب فرمایا ان سے وحی کے ذریعہ سے بات کی اور اس وحی کا ایک خاص ضابطہ ہے۔ آنحضرت صلعم کے لیے تسلی اور مخالفین پر اتمام حجت: اس بات کے کہنے سے مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا بھی ہے اور مخالفین پر اتمام حجت بھی۔ ظاہر ہے کہ جب آپ اسی دین حق کی دعوت دے رہے ہیں جس کی دعوت تمام نبیوں اور رسولوں نے دی تو آپ کوئی ایسی بات نہیں پیش کر رہے ہیں جس سے لوگ وحشت زدہ ہوں۔ جو لوگ اس سے وحشت زدہ ہیں وہ تمام نبیوں کی دعوت کے مخالف اور تعصب و عناد میں مبتلا ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس اگر آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا مشاہدہ نہیں کرا سکتے یا اس کو کلام کرتے دوسروں کو سنا نہیں سکتے تو یہ چیز بھی آپ کی نبوت کا کوئی نقص نہیں۔ آپ اللہ کی وحی پیش کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس سے بھی بات کرتا ہے وحی کے ذریعہ ہی سے کرتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کسی کو بھی نہیں نوازتا۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ’عزیز و حکیم‘ کا حوالہ یہاں تسلی کے مضمون سے بھی تعلق رکھتا ہے اور تہدید کے مضمون سے بھی۔ جب اللہ تعالیٰ ’عزیز‘ ہے تو وہ گردن کشوں کو جب چاہے دبا سکتا ہے۔ اگر وہ فوراً نہیں دباتا تو وہ اپنی حکمت کے تحت ان کو مہلت دے رہا ہے اس وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رب عزیز و حکیم پر بھروسا رکھنا اور ان لوگوں کا معاملہ اسی کے حوالہ کرنا چاہیے۔  
    اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہ بڑی ہی بلند اور عظیم ہستی ہے۔
    صفت ’عزیز‘ کی وضاحت: یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ’عزیز‘ کی وضاحت ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ نہ کسی چیز میں کسی کا ساجھا ہے اور نہ کوئی چیز اس کے حیطۂ اقتدار و اختیار سے باہر ہے۔ وہ بڑی ہی بلند اور بڑی ہی عظیم ہستی ہے، کسی کا بھی یہ درجہ نہیں کہ اس کا کفو اور ہمسر ہو سکے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ لوگوں کو مہلت دے رہا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ لوگ اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو گئے اور اگر اس نے کسی کو عزت و شوکت بخشی ہے تو اس کو اتنا مغرور نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خدا کو دیکھنے اور اس سے ہم کلام ہونے کا حوصلہ کر بیٹھے۔ اللہ کی بارگاہ بہت بلند اور اس کی ہستی بڑی عظیم ہے۔
    قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح اور زمین والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ آگاہ کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ ہی ہے۔
    ’علّی‘ و ’عظیم‘ کی وضاحت: یہ خدائے ’علّی‘ و ’عظیم‘ کے علو اور اس کی عظمت کا بیان ہے کہ اس کی عظمت کے بوجھ سے آسمانوں کا یہ حال ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اوپر سے پھٹ پڑیں گے اور ملائکہ کا حال ’بایں ہمہ قربت‘ یہ ہے کہ اس کی خشیت کے سبب سے وہ ہر وقت اس کی تسبیح و تحمید میں لگے رہتے اور زمین والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ یعنی نادانوں نے تو فرشتوں کو خدائی میں شریک بنا رکھا ہے اور یہ توقع لیے بیٹھے ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں ان کو وہ مقام حاصل ہے کہ وہ اپنے پجاریوں کو بڑے بڑے مرتبے دلوائیں گے اور خود ان کا حال یہ ہے کہ وہ ہر وقت اس کی خشیت سے لرزاں و ترساں اور مصروف تسبیح و تحمید ہیں۔ ’تسبیح‘ اور ’حمد‘ کے فرق پر اس کے محل میں گفتگو ہو چکی ہے۔ ’تسبیح‘ میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور ’حمد‘ میں اثبات کا۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو تمام خلاف شان باتوں سے، جن میں سب سے زیادہ نمایاں شرک ہے، پاک اور تمام اعلیٰ صفات سے، جن میں سب سے مقدم توحید ہے، متصف ٹھہراتے ہیں۔ ’وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ‘ میں وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورۂ مومن میں بدیں الفاظ گزر چکی ہے: اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِرَبِّھِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا. (۷) (جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں جو اس کے اردگرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے، اس پر ایمان رکھتے اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں)۔ ملائکہ کا استغفار اہل زمین کے لیے: اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ اہل زمین میں سے ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو اہل ایمان ہیں۔ چونکہ یہ بات واضح تھی اس وجہ سے آیت زیربحث میں یہ حذف کر دی گئی ہے۔ ملائکہ کا یہی استغفار ان کی شفاعت ہے جو وہ اپنے رب کی بارگاہ میں اہل ایمان کے لیے کر رہے ہیں۔ اس سے مشرکین کی مزعومہ شفاعت کی تردید ہو گئی۔ ’اَلَآ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ‘۔ یہ مشرکین کو ایک برمحل تنبیہ ہے کہ کان کھول کر اچھی طرح سن لو کہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا اللہ ہی ہے۔ اگر یہ چیز فرشتوں کے اختیار میں ہوتی تو وہ اس تذلل کے ساتھ لوگوں کی مغفرت کے لیے اللہ تعالیٰ سے کیوں درخواست کرتے؟  
    اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اللہ ان پر نگرانی رکھے ہوئے ہے اور تم ان پر داروغہ نہیں مقرر کیے گئے ہو۔
    مشرکین کو نہایت سخت وعید: یہ مشرکین کو نہایت سخت انداز میں وعید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ ان واضح دلائل کے بعد بھی جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اور تمام تنبیہ و تذکیر کے باوجود اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، اللہ ان کی کڑی نگرانی کر رہا ہے کہ جونہی وہ اپنی مہلت پوری کر لیں ان کو اپنے قہر و غضب کے پنجہ میں گرفتار کر لے۔ اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ خدا نے تم پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی ہے کہ لازماً تم ان کو ایمان کی راہ پر لگا ہی دو۔ تمہاری ذمہ داری تبلیغ حق کی تھی وہ تم نے کر دی اور جب تک تمہارے رب کا حکم ہے، کرتے رہو۔ اگر یہ ایمان نہ لائے تو اس کی پرسش انہی سے ہونی ہے، تم سے نہیں ہونی ہے۔ یہی مضمون آگے اسی سورہ میں یوں آیا ہے: فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا أَرْسَلْنَاکَ عَلَیْْہِمْ حَفِیْظاً إِنْ عَلَیْْکَ إِلَّا الْبَلَاغُ (۴۸) ’’پس اگر یہ اعراض کریں تو ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا ہے، تمہارے اوپر ذمہ داری صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ہے۔‘‘  
    اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف ایک عربی قرآن وحی کیا ہے تاکہ تم اہل مکہ اور اس کے گرد و پیش والوں کو آگاہ کر دو اور اس دن سے ڈرا دو جو سب کے اکٹھے کرنے کا دن ہو گا جس کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اس دن ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا اور ایک گروہ دوزخ میں۔
    اس ’کَذٰلِکَ‘ کا اشارہ آیت ۱ کے مضمون کی طرف ہے کہ جس طرح ہم نے تم سے پہلے آنے والے نبیوں اور رسولوں کو اپنی وحی سے سرفراز کیا اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی یہ قرآن بزبان عربی اتارا ہے تاکہ تم عرب کی مرکزی بستی اور اس کے گردوپیش کے لوگوں کو آگاہ کر دو۔ قرآن کے ساتھ ’عربی‘ کی صفت بطور امتنان اور اتمام حجت ہے، جیسا کہ ’حٰمٓ السجدہ‘ کی آیت ۲۴ میں گزر چکا ہے کہ اہل عرب کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے کہ ان کے لیے اللہ کے دین کی پوری وضاحت نہیں کی گئی۔ ’اُمّ الْقُرٰی‘ میں اتمام حجت کا پہلو: ’اُمُّ الْقُرٰی‘ سے مراد مکہ ہے اس لیے کہ ’اُمُّ الْقُرٰی‘ مرکزی بستی کو کہتے ہیں اور عرب میں مرکزی بستی کی حیثیت مکہ ہی کو حاصل تھی۔ یہاں مکہ کے بجائے ’اُمُّ الْقُرٰی‘ کے لفظ میں بھی اتمام حجت کا پہلو ہے۔ اگر ایک پیغام مرکزی بستی کے لوگوں کو پہنچا دیا گیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس ملک کے لوگوں کو ان کے سرپر چڑھ کر پکار دیا گیا ہے۔ اگر ’اُمُّ الْقُرٰی‘ کے بجائے عرب کے کسی گوشے سے یہ دعوت اٹھتی تو باتیں بنانے والے یہ بات بنا سکتے تھے کہ آخر ہمارے اکابر و سادات اور ہمارے ذہین طبقہ کو چھوڑ کر قرآن نے سب سے پہلے عوام کے طبقہ کو کیوں مخاطب کیا، اس کے حق و باطل کے اصلی پرکھنے والے تو مکہ کے سادات ہو سکتے تھے! ’وَمَنْ حَوْلَھَا‘ سے کیا مراد ہے؟ ’وَمَنْ حَوْلَھَا‘ سے بعض لوگوں نے تمام عالم کو مراد لیا ہے۔ ان کے اس خیال کی بنیاد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام عالم کے لیے ہوئی ہے، اس وجہ سے صرف اطراف مکہ یا ملک عرب ہی کے شہر مراد نہیں ہیں، بلکہ پوری دنیا مراد ہے۔ یہ بات اگرچہ بجائے خود ایک حقیقت ہے کہ آنحضرتؐ خاتم النبیین ہیں، اس وجہ سے آپ کی بعثت تمام عالم کے لیے ہوئی، لیکن ’وَمَنْ حَوْلَھَا‘ کی یہ تاویل الفاظ کے حدود سے اول تو صریح تجاوز ہے پھر اصل مقصد کے لیے اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ آپ دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ ایک بعثت خاص، دوسری بعثت عام۔ آپ کی بعثت خاص اہل مکہ اور اہل عرب کی طرف ہوئی اور ان پر آپ نے براہ راست حجت قائم فرمائی۔ رہی آپ کی بعثت عام تو وہ تمام عالم کے طرف ہے اور اہل عالم پر دین حق کی شہادت دینے کی ذمہ داری قرآن نے بھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی، قیامت تک کے لیے ملت مسلمہ پر ڈالی ہے اور اس ذمہ داری ہی کی بنا پر اس امت کو اللہ تعالیٰ نے ’شُھَدَآءُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ‘ کے منصب پر سرفراز فرمایا ہے۔ یہ اس امت کا فریضۂ منصبی ہے کہ اللہ کے رسول نے دین حق کی گواہی جس طرح اس امت کے لوگوں پر دی اسی طرح یہ برابر دوسروں کے سامنے یہ گواہی دیتی رہے۔ اسی فریضہ کے تقاضے سے اس امت کو یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ ایک گروہ اس میں ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ یہاں تک کہ یہ اس وقت بھی حق پر قائم رہے گا جب دنیا کی رگ رگ میں باطل کا زہر سرایت کر جائے گا۔ ۱؂ عدالت عام سے انذار: ’وَتُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْہِ‘۔ انذار عام کے بعد یہ انذار خاص کا ذکر ہے کہ ان لوگوں کو خاص طور پر ’یَوْمَ الجمع‘ سے ڈرا دو۔ ’یَوْمَ الجمع‘ سے اشارہ ظاہر ہے کہ روز قیامت کی طرف ہے۔ روزقیامت کو ’یَوْمَ الجمع‘ سے تعبیر کرنے میں اس بات کی آگاہی ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ بلااستثناء سب کو اکٹھا کرے گا۔ عابدوں کو بھی اور معبودوں کو بھی؛ لیڈروں کو بھی، ان کے پیرؤوں کو بھی، انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو بھی؛ کفار اور ان کے حمایتیوں کو بھی۔ اور ان سب کی موجودگی میں، بھری عدالت میں، فیصلہ فرمائے گا کہ اللہ کے دین کے معاملے میں کس کا رول کیا رہا ہے؟ کس نے اس میں اختلاف برپا کیا اور فساد ڈالا اور کس نے اس کی وحدت و پاکیزگی قائم رکھنے کی کوشش کی۔ کون انعام کا مستحق ہے اور کون سزا کا؟ ’فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ‘۔ یہ اس کھلی عدالت کے فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن ایک گروہ یعنی اہل ایمان کا گروہ لازماً جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ یعنی اہل کفر کا گروہ لازماً دوزخ میں۔ _____ ۱؂ اس مسئلہ پر مفصل بحث ہم اپنی کتاب ’دعوت دین اور اس کا طریق کار‘ میں کر چکے ہیں۔ جن لوگوں کو دلائل کی تفصیل مطلوب ہو، اس کی مراجعت کریں۔
    اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں نہ ان کا کوئی کارساز ہو گا اور نہ مددگار۔
    ایک شبہ کا جواب: اب یہ ایک شبہ کا جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایک ہی دین دیا تو اس نے یہ کیوں نہیں پسند فرمایا کہ سب اسی دین پر رہتے؟ اس نے یہ موقع کیوں دیا کہ لوگ اس میں اختلاف برپا کریں اور اس اختلاف کا نتیجہ بالآخر یہ نکلے کہ ایک گروہ تو جنت کا حق دار ٹھہرے اور دوسرا دوزخ کا سزاوار قرار پائے؟ اس کا جواب یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنا چاہتا تو کر سکتا تھا، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا۔ لیکن اس نے یہ نہیں پسند فرمایا کہ وہ لوگوں کو اپنی ہدایت قبول کرنے پر مجبور کرے بلکہ اس نے چاہا کہ لوگوں کو اختیار دے کر ان کے سامنے اپنی ہدایت رکھے کہ لوگ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر، اپنی آزادئ رائے کے ساتھ، ہدایت کو اختیار کریں اور اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے سزاوار بنیں۔ ’یُدْخِلُ مَنۡ یَشَاءُ فِیْ رَحْمَتِہٖ‘ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جس مشیت کا ذکر فرمایا ہے وہ اس کی رحمت اور اس کے عدل کے تحت ہے۔ اس وجہ سے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جن کے لیے اس کا عدل مقتضی ہو کہ وہ اس کی رحمت میں داخل ہوں ان کو وہ اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ اس مضمون کو اس کے بعد ’وَالظَّالِمُونَ مَا لَہُم مِّن وَلِیٍّ وَلَا نَصِیْرٍ‘ فرما کر واضح بھی کر دیا کہ جو لوگ ظالم یعنی کافر و مشرک ہیں نہ ان کا کوئی کارساز ہو گا، نہ کوئی مددگار۔ یعنی نہ ان کے مزعومہ اولیاء ان کے کام آنے والے بنیں گے اور نہ ان کی کوئی جمعیت و جماعت ہو گی جو ان کی کوئی مدد کر سکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف وہ لوگ محروم ہوں گے جو ظالم و مشرک ہوں گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ یہ اس کے عدل کا تقاضا ہے۔ اس کی مشیت اس کے عدل پر مبنی ہے اور کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس کی مشیت کو بدل سکے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور اس کتاب میں بار بار اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ ہم مزید وضاحت کے لیے یہاں بھی چند آیات کا حوالہ دیے دیتے ہیں۔ سورۂ یونس میں فرمایا ہے: وَلَوْ شَاء رَبُّکَ لآمَنَ مَنۡ فِی الأَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعاً أَفَأَنتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتَّی یَکُونُواْ مُؤْمِنِیْنَ ۵ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّہِ وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُوۡنَ (یونس: ۹۹-۱۰۰) ’’اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین میں جو بھی ہیں سب ایمان پر ہوتے تو کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن بن جائیں اور کوئی جان بھی ایمان نہیں لا سکتی مگر اللہ کے اذن سے اور اللہ ان لوگوں پر گندگی لاد دیتا ہے جو اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان و ہدایت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہے اور اس کی مشیت ان لوگوں کو ایمان کی توفیق بخشتی ہے جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔ جو عقل سے کام نہیں لیتے ان کی عقل ایسی گندگی کے ڈھیر کے نیچے دب جاتی ہے کہ ان کو ایمان و ہدایت کی روشنی نظر نہیں آتی۔ یہی مضمون سورۂ سجدہ میں اس طرح بیان ہوا ہے: وَلَوْ شِئۡنَا لَآتَیْْنَا کُلَّ نَفْسٍ ہُدَاہَا (السجدہ: ۱۳) ’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے۔‘‘ یعنی اگر ہم لوگوں کو ایمان پر مجبور کرنا چاہتے تو سب کو مومن بنا دیتے لیکن ہم نے لوگوں کو اختیار دے کر آزمایا ہے کہ کون ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے، کون کفر کی۔ پس جو کفر کی راہ اختیار کریں گے ہم ان سب کو جہنم میں بھر دیں گے اور ان لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے جو ایمان لائیں گے۔ یہی بات نہایت وضاحت سے سورۂ دہر میں اس طرح ارشاد ہوئی ہے: إِنَّ ہَذِہِ تَذْکِرَۃٌ فَمَن شَاء اتَّخَذَ إِلَی رَبِّہِ سَبِیْلاً ۵ وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن یَشَاءَ اللَّہُ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلِیْماً حَکِیْماً ۵ یُدْخِلُ مَن یَشَاءُ فِیْ رَحْمَتِہِ وَالظَّالِمِیْنَ أَعَدَّ لَہُمْ عَذَاباً أَلِیْماً (الدہر: ۲۹-۳۱) ’’یہ قرآن تو بس ایک یاددہانی ہے تو جس کا جی چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کرے اور تمہارا چاہنا کچھ نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ بھی چاہے۔ بے شک اللہ علیم و حکیم ہے۔ وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ رہے اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تو ان کے لیے اللہ نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو تسلی دی گئی ہے کہ لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی سے پریشان نہ ہو۔ یہ قرآن لوگوں پر زبردستی لادنے کی چیز نہیں ہے۔ یہ صرف ایک یاددہانی ہے۔ تو اس کے ذریعہ سے لوگوں کو یاددہانی کرو۔ جس کا جی چاہے ایمان لائے، جس کا جی چاہے کفر کی راہ اختیار کرے۔ اگر تم لوگ ان کے ایمان کے خواہش مند ہو تو تمہاری خواہش سے کچھ نہیں ہو سکتا جب تک اللہ کی مشیت نہ ہو اور اللہ کی مشیت اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ وہ اپنی رحمت میں انہی کو داخل کرتا ہے جن کو چاہتا ہے اور وہ انہی کو چاہتا ہے جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے اور اس کی ہدایت کی قدر کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے بن کر چلتے ہیں تو ایسے ظالموں کے لیے اللہ نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔  
    کیا ان لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں تو یاد رکھیں کہ کارساز اللہ ہی ہے اور وہ مُردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    سوال یہاں اظہار تعجب اور انکار کے مفہوم میں ہے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا ہے کہ ان کے لیے نہ کوئی کارساز ہو گا، نہ مددگار۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ اگر انھوں نے اللہ کے سوا کچھ دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں تو یہ محض ان کی بوالفضولی ہے۔ کارساز صرف اللہ ہی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وہی ہے جو مردوں کو زندہ کرے گا اور ہر ایک کی پیشی اس کے حضور میں ہونی ہے تو کارساز کوئی دوسرا کیسے بن جائے گا۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کے ہوتے کسی کارساز کی ضرورت کیا رہی اور اس کے آگے کسی بڑے سے بڑے کارساز کی کارسازی کیا کارگر ہو سکتی ہے۔
    اور جس کسی چیز میں بھی تم نے اختلاف کیا ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے۔ وہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔
    ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ جو اپنی ضد پر اڑے ہوئے تھے: اوپر آیت ۸ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ مخالفین کی ضد اور مکابرت سے آپ پریشان نہ ہوں۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ نے جو سنت مقرر کر رکھی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہ لوگ اللہ کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں اس وجہ سے ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجیے۔ اسی ہدایت کے بموجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ فرما دیا۔ چونکہ یہ بات اوپر والی آیت ہی کی تعمیل میں تھی اس وجہ سے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نئی ہدایت کی ضرورت نہیں تھی بلکہ کہنے کی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلا دی گئی۔ فرمایا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے دین کی جس بات میں بھی تم نے اختلاف کیا، خواہ وہ توحید ہو یا آخرت، میری ذمہ داری اس میں صرف حق پہنچا دینے کی تھی سو وہ میں نے تم کو پہنچا دیا۔ اب اس کا فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے۔ وہ فیصلہ فرمائے گا کہ میں نے حق پہنچانے میں کوتاہی کی یا تم نے حق کو پہچان کر اس کو جھٹلایا! وہی اللہ میرا رب ہے اس وجہ سے میں نے اس پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List