Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • غافر (The Forgiver (God), The Believer)

    85 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    گروپ کی پچھلی سورتوں کی طرح اس سورہ کی بنیاد بھی توحید ہی پر ہے۔ قرآن کے دوسرے اصولی مطالب بھی اس میں زیر بحث آئے ہیں لیکن اصلاً نہیں بلکہ ضمناً توحید کے لوازم و مقتضیات کی حیثیت سے آئے ہیں۔
    اس کا قرآنی نام ’حٰمٓ‘ ہے اور یہی نام اس کے بعد کی چھ سورتوں کا بھی ہے۔ یہ ساتوں ’حوامیم‘ کے نام سے مشہور ہیں اور اپنے ناموں کی طرح اپنے مطالب میں بھی مشترک ہیں۔ یہ تمام سورتیں دعوت کے اس دور سے تعلق رکھنے والی ہیں جب توحید و شرک کی بحث نے اتنی شدت اختیار کر لی تھی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں پر مکہ میں عرصۂ حیات تنگ ہونے لگا تھا۔ ہجرت کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے۔ اب اس میں اور آگے کی سورتوں میں وقت کے یہ حالات بالتدریج نمایاں ہوتے جائیں گے اور ان کے تقاضے سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدۂ نصرت و حمایت بھی بالکل واضح ہوتا جائے گا۔ جو مسلمان اس وقت حالات سے نبرد آزما تھے ان کی اس میں حوصلہ افزائی کی گئی ہے، جو خطرات میں تھے ان کو تسلی دی گئی ہے اور جو دعوت کے ساتھ ہمدردی رکھنے کے باوجود، کسی مصلحت سے، اب تک کھل کر اس کی حمایت کے لیے میدان میں نہیں اترے تھے ان کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بے پروا ہو کر وہ کلمۂ حق کی سربلندی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو گا۔

  • غافر (The Forgiver (God), The Believer)

    85 آیات | مکی

    الزمر ۔ المؤمن

    ۳۹ ۔ ۴۰

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھتوحید پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ اثبات اور دوسری میں منکرین کے لیے تنبیہ و انذار اور اہل ایمان کے لیے تسلی، تشویق اور حوصلہ افزائی کا پہلو نمایاں ہے۔ اِسی طرح جو لوگ ابھی تذبذب میں تھے، اُنھیں بھی رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بے پروا ہو کر وہ بھی آگے بڑھیں اور دعوت حق کی اِس جدوجہد میں پیغمبر کے ساتھی بن جائیں۔ دونوں کی ابتدا الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی آیت سے ہوئی ہے۔ اِس سے خود قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف اشارہ کر دیا ہے اور الفاظ کے اِس فرق سے یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ پہلی سورہ میں خدا کی حکمت اور دوسری میں اُس کاعلم بناے استدلال ہے۔
    اِن سورتوں سے آگے مزید چھ سورتوں کے مطالب بھی کم و بیش وہی ہیں جو اوپر سورۃ ’المؤمن‘ کے بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ اِن کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ہی، یعنی ’حٰم‘ رکھا ہے اور اِسی بنا پر یہ حوامیم کہلاتی ہیں۔
    دونوں سورتوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 040 Verse 001 Chapter 040 Verse 002 Chapter 040 Verse 003 Chapter 040 Verse 004 Chapter 040 Verse 005 Chapter 040 Verse 006 Chapter 040 Verse 007 Chapter 040 Verse 008 Chapter 040 Verse 009 Chapter 040 Verse 010 Chapter 040 Verse 011 Chapter 040 Verse 012 Chapter 040 Verse 013 Chapter 040 Verse 014 Chapter 040 Verse 015 Chapter 040 Verse 016 Chapter 040 Verse 017 Chapter 040 Verse 018 Chapter 040 Verse 019 Chapter 040 Verse 020 Chapter 040 Verse 021 Chapter 040 Verse 022
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ حٰمٓ ہے۔
    تمام حوامیم نام کی طرح مزاج میں بھی بالکل یکساں ہیں: ’حٰمٓ‘ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ حروف مقطعات پر مفصل بحث سورۂ بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بس اتنی بات یہاں یاد رکھیے کہ یہ سورہ اور اس کے بعد کی تمام مکی سورتیں، جو اس گروپ میں شامل ہیں، سب اسی نام سے موسوم بھی ہیں اور سب کا مزاج بھی بالکل یکساں ہے۔
    اس کتاب کی تنزیل خدائے عزیز و علیم کی طرف سے ہے۔
    مخالفین پر امتنان اور ان کو تنبیہ: ’تَنزِیْلُ الْکِتَابِ ....... الاٰیۃ‘۔ یہ قرآن کے مخالفین پر امتنان بھی ہے اور ان کو تنبیہ بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب نہایت اہتمام سے جو اتاری ہے تو اس لیے اتاری ہے کہ لوگ اس کی قدر کریں، اس سے ہدایت حاصل کریں اور اپنے رب کے اس اہتمام کے شکرگزار ہوں جو ان کی ہدایت کے لیے اس نے کیا ورنہ یاد رکھیں کہ جس نے یہ کتاب اتاری ہے وہ ’عزیز‘ بھی اور علیم بھی۔ ’عزیز‘ ہے اس وجہ سے وہ ہر چیز پر قدرت و اختیار رکھتا ہے۔ وہ مخالفت کرنے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں، ہر سزا دے سکتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں بن سکتا۔ ’عزیز‘ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علیم بھی ہے اس وجہ سے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کتاب کی تنزیل سے جو کشمکش برپا ہوئی ہے وہ کس مرحلہ میں ہے، اس کے پیش کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے اور اس کی مخالفت کرنے میں جو لوگ پیش پیش ہیں ان کے ارادے کیا ہیں، وہ کہاں تک پہنچ چکے ہیں اور کب ان کا ہاتھ پکڑا جانا ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے بلکہ خدائے عزیز و علیم کا اتارا ہوا صحیفۂ ہدایت ہے اس وجہ سے اس کی موافقت بھی بڑی اہمیت رکھنے والی بات ہے اور اس کی مخالفت کے نتائج بھی نہایت سنگین اور دور رس ہیں۔
    جو گناہوں کو بخشنے والا، توبہ کو قبول کرنے والا، سخت پاداش اور بڑی قدرت والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
    ’غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ ذِیْ الطَّوْلِ ... الاٰیۃ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مزید صفات بیان فرمائیں کہ وہ گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ کو قبول کرنے والا بھی ہے اور سخت پاداش والا اور بڑی قدرت والا بھی۔ ’طَوْل‘ کے معنی فضل، غنٰی، قدرت اور بخشش کے ہیں۔ یہاں تقابل کے اصول کو پیش نظر رکھ کر میں نے قدرت کے معنی کو ترجیح دی ہے۔ فیصلہ کن مرحلہ: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں قسم کی صفات سے متصف اور دونوں طرح کے اختیارات کا مالک ہے تو اس کتاب کی تنزیل کے بعد ہر شخص کے لیے راہ کھلی ہوئی ہے کہ وہ یا تو اس کو قبول کر کے خدا کی رحمت و مغفرت کا امیدوار بن جائے یا اس کی مخالفت کر کے اس کے عذاب اور اس کی قدرت کی شان کے ظہور کا انتظار کرے۔ ’لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ إِلَیْْہِ الْمَصِیْرُ‘۔ یعنی اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے تو وہ اپنی اس غلط فہمی کی اصلاح کر لے۔ خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے۔ قیامت کے دن سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے اور سب کے معاملات کا فیصلہ وہی فرمائے گا، نہ کسی اور کی طرف لوٹنا ہو گا نہ کوئی اور خدا کے اذن کے بغیر کسی کے لیے سفارش کر سکے گا۔
    اللہ کی ان آیات میں وہی لوگ کج بحثیاں کر رہے ہیں جو جزا کے منکر ہیں۔ تو ملک میں ان کا دندنانا تمہیں کسی مغالطہ میں نہ ڈالے۔
    ’اٰیٰتِ اللّٰہِ‘ سے مراد اس کتاب کی آیات ہیں جس کی تنزیل کا ذکر اوپر آیت ۲ میں ہوا ہے۔ یہاں اس کو ’اٰیٰتِ اللّٰہِ‘ سے تعبیر کر کے اس کے دلیل و حجت ہونے کے پہلو کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ’اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو اس عذاب کے منکر تھے جس سے قرآن آگاہ کر رہا تھا۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسولوں نے جب اپنی قوموں کو خدا کے عذاب سے ڈرایا تو انھوں نے اس کو بالکل جھوٹ جانا اور اپنی دنیوی کامیابیوں کو دلیل بنا کر رسول کے اس انذار کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا۔ انذار کی تکذیب کرنے والوں کو تنبیہ: اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے واسطہ سے مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ آج قرآن کی مخالفت میں جو کج بحثیاں کر رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو اس کے انذار عذاب کے منکر ہیں۔ ان کے کبر پر یہ چیز بہت شاق گزر رہی ہے کہ انھوں نے اس کتاب اور اس کے لانے والے کا انکار کیا تو ان پر کوئی عذاب آ جائے گا۔ وہ یہ بات اپنی رعونت کے سبب سے ماننی نہیں چاہتے اور ظاہری حالات کے اعتبار سے وہ اپنے کو کامیاب و خوش حال دیکھ رہے ہیں اس وجہ سے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن ان کی موجودہ خوش حالی سے کسی کو مغالطہ نہ ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی قوموں کو عین ان کے دور عروج و اقبال میں پکڑ لیا اور وہ اس کی پکڑ سے اپنے کو بچا نہ سکیں۔ ’فَلَا یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلَادِ‘ میں خطاب اگرچہ، ظاہر الفاظ کے اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن اس میں جو زجر و عتاب ہے اس کا رخ قریش کے منکرین کی طرف ہے جو اپنے اقتدار اور اپنی سیادت و امارت کے گھمنڈ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے کہ ان پر کوئی عذاب آنے والا ہے۔ وہ قرآن کی بار بار کی تنبیہ پر حیران تھے کہ بھلا ان پر عذاب کیوں اور کدھر سے آئے گا! ’تَقَلُّبٌ‘ کے معنی چلت پھرت اور آزادانہ آمد و شد کے ہیں۔ موقع و محل سے اس کے اندر غرور و تکبر کا مفہوم بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھنے کی میں نے کوشش کی ہے۔
    ان سے پہلے نوح کی قوم نے تکذیب کی اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی اور ہر امت نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا اور باطل کے ذریعہ سے کج بحثیاں کیں تاکہ اس سے حق کو پسپا کر دیں تو میں نے ان کو دھر لیا تو دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا!
    مذکورہ وعدے پر تاریخ سے دلیل: یہ اوپر والی بات ’فَلَا یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلَادِ‘ کی دلیل تاریخ سے پیش کی گئی ہے کہ ان سے (قریش سے) پہلے قوم نوح اور ان کے بعد آنے والی قوموں (اشارہ عاد و ثمود وغیرہ کی طرف ہے) نے بھی اسی طرح اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور ہر قوم نے اپنے رسول کو پکڑ لینا چاہا اور اپنی کٹ حجتیوں سے اس کے حق کو پسپا کرنے کی کوشش کی لیکن قبل اس کے کہ وہ رسول پر ہاتھ ڈالیں اللہ نے انھی کو پکڑ لیا، پھر دیکھو کہ خدا نے ان کے عمل کی پاداش میں ان کو کیسا سخت پکڑا! اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ’شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘ جو بیان فرمائی ہے یہ اس کی شہادت پیش کی گئی ہے اور عذاب کے لیے لفظ ’عقاب‘ جو یہاں آیا ہے اس سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے متمردین پر جو عذاب بھیجتا ہے وہ ان کے اعمال کا قدرتی ردعمل ہوتا ہے۔ وہ ہرگز ان کے اوپر کوئی ظلم نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ان کے انجام سے عبرت تو پکڑنی چاہیے لیکن وہ ہمدردی کے مستحق ہرگز نہیں ہوتے۔ قریش کو ایک بروقت تنبیہ: اس آیت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ سورہ اس دور میں نازل ہوئی جب قریش کے لیڈر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہاتھ ڈالنے کے لیے مشورے کرنے لگے تھے۔ قرآن نے ان کو آگاہی دے دی کہ اگر وہ اس قسم کا کوئی اقدام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے نتائج پر دور تک نگاہ ڈالیں! اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے لیے جو تسلی ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔
    اور اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر پوری ہو چکی ہے جنھوں نے کفر کیا ہے۔ یہ لوگ دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔
    ’کَلِمَۃُ رَبّ‘ سے وہی ’کلمۃ العذاب‘ مراد ہے جس کا ذکر سورۂ زمر کی آیت ۷۱ میں گزر چکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ کلی فیصلہ جس سے اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں آگاہ فرما دیا تھا کہ جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کریں گے، اللہ ان سب کو جہنم میں بھر دے گا۔ فرمایا کہ تیرے رب کا یہ فیصلہ جس طرح پچھلی قوموں پر صادق آیا اسی طرح ان کافروں (کفار قریش) پر بھی صادق آ چکا ہے اور یہ بھی انہی کی طرح جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنا فرض انجام دو۔ ان کے لیے جو انجام مقدر ہو چکا ہے یہ اس سے دوچار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب چونکہ جہنم کا دیباچہ ہے اس وجہ سے عذاب کو تعبیر جہنم سے کیا۔
    جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اس کی حمد کے ساتھ، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں جو ایمان لائے ہیں۔ اے ہمارے رب، تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے تو ان لوگوں کی مغفرت فرما جو توبہ کریں اور تیرے راستہ کی پیروی کریں اور ان کو عذاب جہنم سے بچا۔
    فرشتوں کی حیثیت کی وضاحت: اب یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کو فرشتوں کی سفارش اور ان کی مدد پر بھروسہ ہے اور ان کے بل پر یہ پیغمبر کے انذار کی تکذیب کر رہے ہیں تو ان کا حال یہ لوگ کان کھول کر سن لیں کہ عام فرشتے تو درکنار، خدا کے جو خاص مقرب فرشتے ہیں یعنی حاملین عرش اور ان کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے، وہ بھی برابر خدا کی خشیت سے لرزاں و ترساں اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ ’وَیُؤْمِنُونَ بِہٖ‘۔ وہ الوہیت کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ خدا کے بندوں کی طرح اس پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ ’وَیَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوۡا‘۔ اور ان لوگوں کے لیے جو خدا پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ برابر استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت دونوں کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ گویا یہی استغفار ان کی سفارش ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے مخصوص ہے۔ فرشتوں کی اس خشیت اور اہل ایمان کے لیے ان کے استغفار کا ذکر سابق سورہ کی آخری آیت میں بھی گزر چکا ہے اور سورۂ شوریٰ میں بھی بدیں الفاظ آیا ہے: تَکَادُ السَّمَاوَاتُ یَتَفَطَّرْنَ مِن فَوْقِہِنَّ وَالْمَلَائِکَۃُ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِی الْأَرْضِ (الشوریٰ: ۵) ’’اور خدا کی خشیت و جلال سے قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ، تسبیح اور زمین والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔‘‘ فرشتوں کی اس خشیت کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں نے ان کی نسبت یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ خدا کے اتنے چہیتے اور اس پر اتنا زور و اثر رکھنے والے ہیں کہ اپنے پجاریوں پر وہ کسی حال میں بھی خدا کو ہاتھ ڈالنے نہیں دیں گے وہ اس حقیقت سے باخبر ہو جائیں کہ فرشتے اس قسم کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ وہ ہر وقت خدا کے آگے سرفگندہ اور اس کے قہر و غضب سے پناہ مانگتے رہنے والے ہیں۔ فرشتوں کی سفارش کی نوعیت: ’رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَۃً وَعِلْماً فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوا وَاتَّبَعُوۡا سَبِیْلَکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ‘۔ یہ فرشتوں کے استغفار کی وضاحت ہے کہ وہ کوئی بات اپنے رب سے ناز و تدلل کے ساتھ نہیں کرتے بلکہ وہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے علم ہی کے حوالہ کرتے ہیں کہ تیری رحمت بھی ہر چیز پر حاوی ہے اور تیرا علم بھی ہر چیز کو محیط ہے اس وجہ سے تو ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جو تیری رحمت اور علم کے تقاضوں کے مطابق ہو گا۔ اس عقیدے کے ساتھ وہ ان لوگوں کے لیے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں جو اپنی غلطیوں سے توبہ کر لیں اور ان کی اصلاح کر کے اللہ کے رستہ کے پیرو بن جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتے دعا اور سفارش تو برابر کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی دعا اور سفارش ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی جاہلیت کی بدعقیدگی و بدعملی سے توبہ کر کے اللہ کے رستہ کے پیرو بن جائیں نہ کہ ان لوگوں کے لیے جو اس کے رسول اور اس کے دین کے دشمن ہیں۔  
    اور اے ہمارے رب! ان کو ہمیشگی کے ان باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ اور ان کو بھی جو ان کے آباء اور ازواج و دّرّیات میں سے جنت کے لائق ٹھہریں۔ بے شک عزیز و حکیم تو ہی ہے۔
    فرشتے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جنت توبہ اور اصلاح سے حاصل ہو گی: ’رَبَّنَا وَأَدْخِلْہُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِیْ وَعَدتَّہُم وَمَنۡ صَلَحَ مِنْ آبَائِہِمْ وَأَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ إِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘ یہ اسی استغفار کی مزید تفصیل ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے جنت کی دعا کرتے ہیں جو توبہ اور اصلاح کر کے اس کا حق پیدا کر لیتے ہیں اور جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ نیز وہ ان کے آباء، ازواج اور ذریات میں سے صرف ان لوگوں کے لیے دعا کرتے ہیں جو توبہ و اصلاح سے اس کے لیے استحقاق پیدا کر لیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتے اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ مجرد کسی کے طفیل اور کسی کے نسب و خاندان کی بنا پر کسی کو جنت حاصل ہونے والی نہیں ہے بلکہ جس کو بھی حاصل ہو گی اس کے استحقاق اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہو گی۔ ’إِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ بعینہٖ کلمۂ شفاعت سے جو مائدہ کی آیت ۱۲۰ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زبان سے نقل ہوا ہے۔ وہاں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ یہ تفویض الی اللہ کا کلمہ ہے یعنی تو جو چاہے کر سکتا ہے لیکن ساتھ ہی تو حکیم بھی ہے اس وجہ سے وہی کرے گا جو عدل و حکمت پر مبنی ہو گا۔ فرشتوں کا یہی استغفار درحقیقت اہل زمین کے لیے سفارش ہے اور اس کی نوعیت یہی ہے جو قرآن نے بیان فرمائی ہے نہ کہ وہ جو جاہلوں نے سمجھی ہے۔
    اور ان کو برے نتائج اعمال سے بچا اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا تو وہی ہیں جن پر تو نے رحم فرمایا۔ اور یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے۔
    ’وَقِہِمُ السَّیِّئَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّیِّئَاتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہُ وَذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‘۔ لفظ ’سَیّاٰت‘ یہاں نتائج ’سیّاٰت‘ کے معنی میں ہے۔ عمل اور نتیجہ کے لزوم کو ظاہر کرنے کے لیے بعض اوقات فعل نتیجۂ فعل کے مفہوم میں بولتے ہیں یعنی فرشتے اہل ایمان کے لیے یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے رب، تو ان کو بدیوں کے نتائج سے محفوظ رکھ۔ یعنی ان کے گناہوں کو جھاڑ دے کہ وہ ان کے شر سے محفوظ رہیں۔ ’وَمَنْ تَقِ السَّیِّئَاتِ ...... الاٰیۃ‘ فرشتوں کے اس فقرے سے روز حساب و کتاب کی ہولناکی کا اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کی نگاہوں میں اصلی خوش قسمت وہ ہے جس کو اللہ نے اس دن اس کے گناہوں کے نتائج سے محفوظ رکھا۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی یہی ہے اور اصل خوش بخت وہی ہے جس نے یہ کامیابی حاصل کی۔ فرشتوں کے اس استغفار کے بیان سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ واضح کرنا ہے کہ فرشتے اہل زمین کے لیے سفارش تو ہر وقت کر رہے ہیں لیکن ان کی سفارش کی نوعیت یہ ہے کہ جو بیان ہوئی ہے نہ کہ وہ جس کے بل پر لوگ آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں اور جب ان کو اصل حقیقت کی یاددہانی کی جاتی ہے تو مناظرہ و مجادلہ کے لیے آستینیں چڑھا لیتے ہیں۔
    اور جنھوں نے کفر کیا ان کو منادی کی جائے گی کہ خدا کی بیزاری تم سے اس کی نسبت سے کہیں زیادہ رہی ہے جتنی تم کو اس وقت اپنے سے ہے جب کہ تم کو ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے۔
    اصل صورت حال جس سے جھوٹی شفاعت پر تکیہ کرنے والوں کو سابقہ پیش آئے گا: یعنی یہ لوگ تو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے سفارشی ان کو اللہ کے ہاں اونچے سے اونچے درجے دلوائیں گے لیکن وہاں ان کو منادی کے ذریعہ سے یہ آگاہی دی جائے گی کہ آج جتنا غم و غصہ تم کو اپنی بدبختی و محرومی اور اپنے لیڈروں کی کج اندیشی و ضلالت پر ہے اس سے زیادہ تمہارے حال پر غصہ و غضب خدا کو اس وقت تھا جب کہ تم کو رسول کے ذریعہ سے ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم نہایت رعونت کے ساتھ دعوت کو ٹھکراتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اب اپنی اس رعونت اور خدا کے اس غصہ و غضب کا انجام بھگتو اور اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹو۔ اب یہاں کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔ یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے اللہ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آیا ہے اس وجہ سے تم اسی کے سزاوار ہو۔ ’إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَی الْإِیْمَانِ‘ ظرف ہے ’لَمَقْتُ اللّٰہِ أَکْبَرُ‘ کا۔ ’ایمان‘ سے خاص طور پر توحید پر ایمان مراد ہے۔ اس لیے کہ خدا کے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جو توحید کے ساتھ ہو۔ سورۂ زمر آیت ۴۵ میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ منکرین آخرت کو سب سے زیادہ چڑ توحید کی دعوت سے ہے۔ یہاں بھی آگے والی آیت میں وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ غصہ ان پر اس وجہ سے ہو گا کہ جب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی تو اس سے بدکتے اور شرک کو بڑی خوش دلی سے قبول کرتے: ’ذٰلِکُم بِأَنَّہُ إِذَا دُعِیَ اللَّہُ وَحْدَہُ کَفَرْتُمْ وَإِن یُشْرَکْ بِہِ تُؤْمِنُوا فَالْحُکْمُ لِلَّہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ‘ (۱۲) (یہ سب تمہیں اس وجہ سے پیش آیا کہ جب اللہ واحد کی دعوت دی جاتی تو تم اس کا انکار کر دیتے اور جب اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے تو اب تو فیصلہ خدائے بلند و عظیم ہی کے اختیار میں ہے)۔  
    وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! تو نے ہم کو دوبار موت دی اور دوبار زندگی دی تو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا تو کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے!
    اقرار بعد از وقت: اس وقت یہ لوگ بڑی سعادت مندی اور بڑی صفائی کے ساتھ کہیں گے کہ اے رب، اب ہم اپنے تمام جرائم کا اقرار کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ناممکن تھا اس وجہ سے ہم تیرے مواخذہ و محاسبہ سے بے خوف ہو کر تیرے رسول اور اس کی دعوت کا مذاق اڑاتے رہے لیکن اب تو نے ہمیں دو بار موت اور دوبار زندگی دے کر موت کے بعد کی زندگی کا اچھی طرح مشاہدہ کرا دیا تو کیا اب اس کی بھی کوئی سبیل ہے کہ اس دوزخ سے ہمیں نکلنا نصیب ہو کہ ہم ازسر نو دنیا میں جا کر ایمان اور عمل صالح کی زندگی بسر کریں! ’دو بار موت‘ سے ایک تو وہ حالت موت مراد ہے جو اس دنیا میں وجود پذیر ہونے سے پہلے انسان پر طاری ہوتی ہے اور دوسری وہ موت ہے جس سے ہر زندہ کو لازماً دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اسی طرح زندگی ایک تو وہ ہے جو اس دنیا میں حاصل ہوتی ہے اور دوسری وہ جو قیامت کو حاصل ہو گی۔
    یہ انجام تمہارے سامنے اس وجہ سے آیا کہ جب اللہ واحد کی دعوت دی جاتی تو تم اس کا انکار کرتے اور اگر اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے۔ تو اب فیصلہ خدائے بلند و عظیم ہی کے اختیار میں ہے۔
    یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو جواب دلوایا جائے گا کہ یہ جو کچھ تمہیں پیش آیا تمہاری اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ تمہیں توحید کی دعوت دی جاتی تو تم اس سے بدکتے اور شرک کے تم بڑے حامی بنے رہے تو اب فیصلہ خدائے برتر و عظیم ہی کے اختیار میں ہے اور اس کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہے جس سے تم دوچار ہو۔
    وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا اور تمہارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ اور یاددہانی نہیں حاصل کرتے مگر وہی جو متوجہ ہونے والے ہیں۔
    رحمت اور عذاب دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے: یعنی رحمت اور نقمت دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اس وجہ سے ڈرنا بھی اسی سے چاہیے اور امید بھی اسی سے رکھنی چاہیے۔ وہ اپنی ان دونوں شانوں کا برابر مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ وہی آسمان سے رعد و برق اور صاعقہ کا بھی مشاہدہ کراتا رہتا ہے اور وہی بارش بھی نازل کرتا ہے جو زمین کے تمام رزق و فضل کے دروازے کھولتی ہے۔ یہ اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ آسمان اور زمین دونوں ایک ہی خدا کے تصرف میں ہیں اور اس کے ہاتھ میں صاعقۂ عذاب بھی ہے اور رزق و فضل کے خزانے بھی۔ نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے اصل شے توجہ ہے: ’وَمَا یَتَذَکَّرُ إِلَّا مَنۡ یُنِیْبُ‘۔ یعنی خدا کی یہ شانیں لوگوں کو تعلیم و تذکیر کے لیے ظاہر تو برابر ہوتی رہتی ہیں لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آدمی کے اندر متوجہ ہونے اور سوچنے سمجھنے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ اگر اپنی خواہشوں کے پیچھے کوئی ایسا اندھا بن جائے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور چیز کی طرف دیکھنے اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا کوئی حوصلہ اس کے اندر پایا ہی نہ جاتا ہو تو ایسے شخص کی آنکھیں کوئی بڑی سے بڑی نشانی بھی نہیں کھول سکتی۔
    تو اللہ ہی کو پکارو اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ، کافروں کے علی الرغم۔
    اہل ایمان کو دعوت عزم: یہ خطاب مسلمانوں سے ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ مشرکین آنکھیں کھولنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور تمہاری دعوت توحید سے یہ چڑتے اور تم سے لڑتے ہیں تو اب ان کی کوئی پروا نہ کرو بلکہ ان کے علی الرغم تم اپنے رب ہی کو بلا شرکت غیرے پکارو اور خالص اطاعت کے ساتھ اسی کی بندگی کرو۔
    وہ بلند درجوں والا اور عرش کا مالک ہے۔ وہ ڈالتا ہے روح، جو اس کے امر میں سے ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو روز ملاقات سے آگاہ کر دے۔
    یعنی اللہ تعالیٰ بڑے بلند درجات والا اور تمام کائنات کے عرش حکومت کا مالک ہے۔ اس تک کسی کی رسائی نہیں ہے۔ یہ مشرکین جن کو اس کا شریک و سہیم اور اس کا مقرب بنائے بیٹھے ہیں، یہ سب ان کے خود تراشیدہ مقربین ہیں، خدا کی بارگاہ بلند سب کی پہنچ سے بالا ہے۔ خدا کی مرضیات کے علم کا واحد ذریعہ وحی ہے: ’یُلْقِی الرُّوحَ مِنْ أَمْرِہِ عَلَی مَن یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہٖ‘۔ ’رُوْح‘ سے مراد یہاں ’وحی‘ ہے۔ وحی کو ’رُوح‘ سے تعبیر کرنے کی وجہ واضح ہے کہ جس طرح روح سے جسم کو زندگی حاصل ہوتی ہے اسی طرح وحی سے انسان کی عقل اور اس کے دل کو زندگی، حرارت اور روشنی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے کہ ’’انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے۔‘‘ ’مِنْ أَمْرِہٖ‘ کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ وحی امور الٰہیہ میں سے ہے جس کی پوری کیفیت و ماہیت ہر شخص نہیں سمجھ سکتا، اس کی کیفیت وہی سمجھتا ہے جو اس کو نازل کرتا ہے یا پھر وہ سمجھتا ہے جس کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہی حقیقت دوسرے مقام میں یوں واضح فرمائی ہے کہ ’وَیَسْئَلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّیْ وَمَا أُوتِیْتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلاً‘ (الاسراء: ۸۵) (وہ تم سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، کہہ دو، روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تم کو علم نہیں دیا گیا ہے مگر تھوڑا)۔ سورۂ بنی اسرآء کی مذکورہ آیت کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہاں اس ٹکڑے کے لانے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ خدا کی بارگاہ بلند تک کسی جن و بشر کی رسائی نہیں ہے کہ وہ اس کے غیب سے واقف ہو سکے۔ اس کی مرضیات جاننے کا واحد ذریعہ صرف وہ وحی ہے جو وہ اپنے بندوں میں سے اس پر نازل فرماتا ہے جس کو اس کارخاص کے لیے انتخاب فرماتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین نے اپنے زعم کے مطابق غیب کے جاننے کے جو ذرائع ایجاد کر رکھے ہیں وہ بالکل لا یعنی ہیں۔ خدا کی پسند و ناپسند جاننے کا ذریعہ بس وحی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر نازل فرماتا ہے لیکن یہ شامت زدہ لوگ قرآن اور اس کے لانے والے کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کو زعم ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنانے والا ہوتا تو ان میں سے کسی کو رسول بناتا۔ ان کو پتا نہیں ہے کہ اس منصب کے لیے اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے اور وہ جس کو منتخب فرماتا ہے وہی اس کا اہل ہوتا ہے؛ مدعی اس کا اہل نہیں ہوتا۔ ’لِیُنذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ‘۔ ’یَوْمَ التَّلَاقِ‘ سے مراد روز قیامت ہے اس لیے کہ اس دن سب کی پیشی خدا کے آگے ہونی ہے۔ وحی اور رسالت کا مقصود دراصل اسی دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ اصل مسئلہ جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے یہی ہے۔ اگر یہ سمجھ میں آ جائے تو دوسرے تمام مسائل کو سمجھنے کے لیے راہ کھل جاتی ہے۔ اگر یہ سمجھ میں نہ آئے تو انسان کا کوئی قدم بھی صحیح سمت میں نہیں اٹھ سکتا۔ اس وجہ سے انبیاء کرام کا اصل مشن اسی منزل کی رہنمائی رہا ہے۔  
    جس دن وہ خدا کے آگے بالکل بے نقاب ہوں گے۔ ان کی کوئی چیز بھی خدا سے مخفی نہیں ہو گی۔ آج کی بادشاہی کس کے اختیار میں ہے! خدائے واحد و قہار کے اختیار میں!
    نہ خدا سے کوئی چیز مخفی ہو گی اور نہ کوئی اس کے قابو سے باہر ہو گا: اس دن ہر شخص کا سارا ظاہر و باطن خدا کے آگے بالکل بے نقاب ہو گا۔ کسی کی کوئی بات بھی اس سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہو گی کہ کسی گواہی و ثبوت کی ضرورت پیش آئے یا کوئی غلط بیانی کر سکے یا کوئی اپنے کسی جرم کو چھپا سکے یا اس کی کوئی غلط تاویل کر سکے یا کوئی اس کے باب میں کوئی جھوٹی سفارش کر سکے۔ ’لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ‘۔ یعنی اس وقت جب کہ ہر شخص خدا کے آگے بالکل بے نقاب اور بے بس ہو گا مجرموں سے خطاب کر کے پوچھا جائے گا کہ اب بولو، آج بادشاہی کس کی ہے؟ تم جن کو خدا کا شریک و سہیم بنائے بیٹھے تھے اور یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ تم کو خدا سے بچا لیں گے، وہ کہاں گئے؟ ’لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ‘۔ چونکہ اس وقت کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہو گا اس وجہ سے خود ہی جواب دیا کہ آج کے دن بادشاہی صرف خدائے واحد و قہار کی ہے۔ یہاں نہ کوئی کسی کا یاور و ناصر بن سکے گا اور نہ کوئی خدا کے کسی فیصلہ کو بدلوا سکے گا۔ لفظ ’قَہّار‘ کی تحقیق اس کے محل میں بیان ہو چکی ہے۔
    آج ہر جان کو اس کے کیے کا بدلہ ملے گا۔ آج کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ بے شک اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے۔
    یعنی آج کا دن خدا کے عدل کامل کے ظہور کا دن ہے۔ آج ہر شخص کو اس کے اپنے عمل کا بدلہ ملے گا۔ کسی کی کوئی حق تلفی یا کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہو گی اور یہ سارا کام چشم زدن میں ہو گا۔ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس میں بڑی مدت صرف ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکا دینے والا ہے۔
    اور ان کو قریب آ لگنے والی آفت سے ڈرا جب کہ دل حلق میں آ پھنسیں گے اور وہ غم سے گھٹے ہوئے ہوں گے۔ اس دن ظالموں کا نہ کوئی ہمدرد ہو گا اور نہ کوئی ایسا سفارشی جس کی بات سنی جائے۔
    لفظ ’اٰزِفَۃ‘ کا مفہوم: ’اٰزِفَۃ‘ کے معنی وہ چیز جو قریب آ لگی ہو۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس صفت کے استعمال سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ قیامت کو بہت بعید نہ سمجھو، وہ بالکل پاس ہی کھڑی ہے۔ ’مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہ‘ (جو مرا اس کی قیامت آ گئی) قیامت کے دن اس فاصلہ کا کسی کو بھی احساس نہیں ہو گا جو اس کے اور قیامت کے درمیان حائل ہے، بلکہ ہر شخص یہی سمجھے گا کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر شخص کی قیامت میں بس اتنے ہی دن باقی ہیں جتنے دن اس دنیا میں اس کی زندگی کے باقی ہیں۔ جس طرح ہر شخص کی موت اس کے پہلو میں کھڑی ہے اسی طرح قیامت بھی اس کے بغل میں موجود ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب کسی قوم کی طرف رسول کی بعثت ہوتی ہے تو وہ رسول اس کے لیے خدا کی عدالت کی منزلت میں ہوتا ہے۔ اگر قوم رسول کی تکذیب کر دیتی ہے تو لازماً تباہ کر دی جاتی ہے۔ یہ اس قوم کے لیے گویا قیامت صغریٰ ہوتی ہے جو تمہید ہوتی ہے قیامت کبریٰ کی۔ اس لفظ (اٰزِفَۃ) کے استعمال سے مقصود قریش کو یہ تنبیہ ہے کہ وہ قیامت کو بعید نہ سمجھیں۔ ان کی عدالت کا وقت اب آ چکا ہے۔ ایک عدالت ان کے لیے قائم ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ آخرت کی عدالت کا انتظار جو سارے معاملات کا آخری فیصلہ کر دے گی۔ ’إِذِ الْقُلُوۡبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کَاظِمِیْنَ مَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَلَا شَفِیْعٍ یُطَاعُ‘۔ یہ اس قیامت کی ہولناکی کی تصویر ہے کہ اس دن مجرموں کے دل گویا حلق میں آئے ہوئے ہوں گے اور وہ غم و الم سے گھٹے ہوئے ہوں گے۔ نہ اس دن کسی کے اپنے حلق سے اپنی مدافعت میں کوئی آواز نکلے گی اور نہ ان کا کوئی ہمدرد یا سفارشی ہو گا جو ان کی حمایت یا سفارش میں اپنی زبان کھولے۔ ’شَفِیْع‘ کے ساتھ ’یُطَاع‘ کی صفت مشرکین کے اس وہم پر ضرب لگانے کے لیے ہے کہ وہ اپنے معبودوں کے متعلق یہ تصور رکھتے ہیں کہ یہ خدا کے ایسے لاڈلے اور چہیتے ہیں کہ خدا ان کی نازبرداری میں ان کی ہر بات لازماً مانے گا۔ فرمایا کہ خدا کے ہاں ان کا کوئی سفارشی ایسا نہیں ہو گا جس کی کوئی شنوائی ہو۔
    وہ نگاہوں کی چوری بھی جانتا ہے اور ان بھیدوں کو بھی جو سینے چھپائے ہوئے ہیں۔
    سفارش کے خلاف ایک دلیل: کسی کے باب میں کسی کی سفارش تو اس کے ہاں کچھ کارگر ہو سکتی ہے جو ساری صورت حال سے خود واقف نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تو ہر شخص کی ہر چھوٹی بڑی بات سے خود واقف ہے۔ وہ تو نگاہ کی خیانتوں اور سینوں میں چھپے ہوئے رازوں سے بھی پوری طرح باخبر ہے تو اس کے آگے کسی کی کوئی سفارش کیا کارگر ہو سکے گی!
    اور اللہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کریں گے۔ اللہ ہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔
    رہی یہ بات کہ کوئی اپنی سفارش سے حق کو باطل اور باطل کو حق بنا سکے تو اس کا بھی امکان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حق کے مطابق ہو گا اور کوئی اپنی سفارش سے اس کے فیصلۂ حق کو باطل سے نہیں بدلوا سکتا۔ ’وَالَّذِیْنَ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ لَا یَقْضُوۡنَ بِشَیْءٍ‘۔ رہے ان مشرکین کے معبودان باطل تو ان کے اختیار میں سرے سے کسی امر کا فیصلہ ہی نہ ہو گا کہ وہ کسی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ کر سکیں۔ ’إِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ‘۔ یہ اوپر کی بات کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ حقیقی دیکھنے والا اور سننے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس کے سوا حق کسے ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کرے اور جب وہ دیکھنے والا اور سننے والا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی اپنی سفارش سے اس کو دھوکا دے کر غلط فیصلے کرا سکے اور یہ معبودان باطل جو نہ دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں آخر کس بنا پر ان کے متعلق یہ تصور کیا گیا ہے کہ یہ بھی کسی کے معاملہ کا فیصلہ کرنے والے بنیں گے!
    کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں! وہ ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے قوت میں بھی اور ان آثار کے اعتبار سے بھی جو انھوں نے زمین میں چھوڑے۔ پس اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو پکڑا اور کوئی ان کو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا نہ بنا۔
    قریش کو صاف الفاظ میں تہدید: یہ قریش کو صاف الفاظ میں تہدید ہے کہ اس جسارت کے ساتھ رسول کے انذار کی جو وہ تکذیب کر رہے ہیں تو کیا کبھی اس ملک کی سیاحت انھوں نے اس قصد سے نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے ان قوموں کا کیا حشر ہو چکا ہے جو اپنی قوت و جمعیت میں ان سے بڑھ کر اور تعمیر و تمدن کے آثار کے اعتبار سے ان پر کہیں فوقیت رکھنے والی تھیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کے جرموں کی پاداش میں ان کو پکڑا تو نہ ان کی قوت و جمعیت ان کے کچھ کام آ سکی، نہ ان کی تعمیری و تمدنی ترقیاں آڑے آ سکیں اور نہ ان کے وہ اصنام و الہٰہ ہی ان کی حفاظت کر سکے جن کو وہ اپنا حامی و ناصر سمجھتے تھے۔ یہ اشارہ عاد و ثمود اور اہل مدین وغیرہ کی طرف ہے جن کی قوت و جمعیت اور تمدنی و تعمیری ترقیوں کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ لفظ ’اشدّ‘ یہاں ’اعظم و اکثر‘ کے مفہوم پر متضمن ہے اس سے ’قوۃ‘ کے ساتھ ’اٰثارًا‘ کا ذکر بالکل موزوں ہے۔ ’اٰثار‘ سے مراد تمدنی و تعمیری ترقیوں کے آثار ہیں۔ دنیا میں انہی آثار کو ہمیشہ قوموں کی عظمت و شوکت کی دلیل سمجھا گیا ہے۔ لیکن قرآن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اگر قوم ایمان سے عاری ہو تو یہ آثار اس کے زوال کی نشانی ہیں اور بالآخر یہی اس کے قومی وجود کے لیے مقبروں کی صورت میں تبدیل ہو کے رہتے ہیں۔
    یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آتے تھے تو انھوں نے انکار کیا پس اللہ نے ان کو پکڑ لیا، بے شک وہ طاقت ور اور سخت پاداش والا ہے۔
    یہ ان قوموں کی تباہی کا سبب بیان فرمایا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے لیکن انھوں نے اپنی قوت و جمعیت اور اپنی دنیوی ترقیوں کے زعم میں رسولوں کے انذار کی کوئی پروا نہ کی بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑا اور جب پکڑا تو وہ اس کی پکڑ سے چھوٹ نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ قوی اور سخت پاداش والا ہے۔ جب وہ پکڑتا ہے تو کوئی سائنس اس سے چھڑا نہیں سکتی۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List