Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الزمر (The Crowds, The Troops, Throngs)

    75 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ صٓ ۔۔۔ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس مضمون پر سابق سورہ ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ سورۂ صٓ کے آخر میں فرمایا ہے کہ یہ قرآن دنیا والوں کے لیے ایک عظیم یاددہانی ہے، لوگوں کو یاد دلا رہا ہے کہ آخرت شدنی ہے اور سب کو ایک ہی رب حقیقی کے آگے پیش ہونا ہے تو جو لوگ آج اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ بہت جلد اس کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اب اس سورہ کی تلاوت کیجیے تو اس کا آغاز بھی اسی مضمون سے ہوتا ہے کہ خدائے عزیز و حکیم نے یہ کتاب نہایت اہتمام سے اس لیے اتاری ہے کہ لوگوں نے اللہ کی توحید کے بارے میں جو اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کا فیصلہ کر دے تاکہ حق واضح ہو جائے اور جو لوگ اپنے فرضی دیویوں دیوتاؤں کے بل پر آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں وہ چاہیں تو وقت آنے سے پہلے اپنی عاقبت کی فکر کر لیں۔ اسی پہلو سے اس میں توحید کے دلائل بھی بیان ہوئے ہیں، شرک اور شرکاء کی تردید بھی فرمائی گئی ہے اور قیامت کے دن مشرکین کا جو حشر ہو گا اس کی تصویر بھی کھینچی گئی ہے۔ سورہ کی بنیاد توحید پر ہے اور اسی تعلق سے اس میں قیامت کا بھی بیان ہوا ہے۔ یہ سورہ اس گروپ کی ان سورتوں میں سے ہے جو کشمکش حق و باطل کے اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب ہجرت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ چنانچہ بعد کی سورتوں میں یہ مضمون بالتدریج واضح ہو تا گیا ہے۔

  • الزمر (The Crowds, The Troops, Throngs)

    75 آیات | مکی

    الزمر ۔ المؤمن

    ۳۹ ۔ ۴۰

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھتوحید پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ اثبات اور دوسری میں منکرین کے لیے تنبیہ و انذار اور اہل ایمان کے لیے تسلی، تشویق اور حوصلہ افزائی کا پہلو نمایاں ہے۔ اِسی طرح جو لوگ ابھی تذبذب میں تھے، اُنھیں بھی رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بے پروا ہو کر وہ بھی آگے بڑھیں اور دعوت حق کی اِس جدوجہد میں پیغمبر کے ساتھی بن جائیں۔ دونوں کی ابتدا الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی آیت سے ہوئی ہے۔ اِس سے خود قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف اشارہ کر دیا ہے اور الفاظ کے اِس فرق سے یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ پہلی سورہ میں خدا کی حکمت اور دوسری میں اُس کاعلم بناے استدلال ہے۔
    اِن سورتوں سے آگے مزید چھ سورتوں کے مطالب بھی کم و بیش وہی ہیں جو اوپر سورۃ ’المؤمن‘ کے بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ اِن کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ہی، یعنی ’حٰم‘ رکھا ہے اور اِسی بنا پر یہ حوامیم کہلاتی ہیں۔
    دونوں سورتوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 039 Verse 001 Chapter 039 Verse 002 Chapter 039 Verse 003 Chapter 039 Verse 004 Chapter 039 Verse 005 Chapter 039 Verse 006 Chapter 039 Verse 007 Chapter 039 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ کتاب نہایت اہتمام سے خدائے عزیز و حکیم کی طرف سے اتاری گئی ہے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور منکرین کے لیے تہدید: لفظ ’تَنۡزِیْلُ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں کہ اس کے معنی صرف اتارنے کے نہیں بلکہ اہتمام کے ساتھ اتارنے کے ہیں۔ یہ تمہیدی آیت اپنے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی بھی رکھتی ہے اور قرآن کے مکذبین کے لیے تہدید و وعید بھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا پہلو یہ ہے کہ تم نے یہ کتاب نہ خود تصنیف کی ہے نہ خدا سے مانگ کے اپنے اوپر اتروائی ہے، بلکہ تمہارے رب نے خود تمہارے اوپر نہایت اہتمام کے ساتھ، درجہ بدرجہ اتاری ہے اور اتار رہا ہے، تو تم اطمینان رکھو کہ وہی اس کی صداقتیں ظاہر کرے گا اور وہی اس کے لیے راہ ہموار کرے گا۔ جس خدا نے یہ کتاب اتاری ہے وہ کوئی بے بس ہستی نہیں بلکہ ’عَزِیْزٌ‘ یعنی غالب و مقتدر ہے، وہ جو چاہے کر سکتا ہے، کوئی اس کے ارادے میں مزاحم نہیں ہو سکتا۔ لیکن ’عَزِیْزٌ‘ ہونے کے ساتھ وہ ’حکیم‘ بھی ہے۔ اس وجہ سے اگر اس راہ میں کچھ مزاحمتیں پیش آ رہی ہیں یا آئندہ آئیں تو ان کو خدا کی حکمت پر محمول کرو۔ کوئی بات خدا کے حکم کے بغیر نہیں ہوتی اور اس کا ہر کام حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے منکرین کے لیے تہدید کا پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ، نہایت اہتمام و تدریج کے ساتھ لوگوں کی ہدایت کے لیے اتار رہا ہے۔ اس کا حق یہ ہے کہ لوگ اس نعمت کی قدر اور اس سے ہدایت و روشنی حاصل کریں۔ اگر انھوں نے اس کے برعکس اس کی تکذیب کی راہ اختیار کی تو یاد رکھیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خدائے عزیز و حکیم کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اگر اس کے باوجود وہ تکذیب کرنے والوں کو ڈھیل دے رہا ہے تو یہ محض اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت دے رہا ہے۔
    بے شک ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ۔
    ’حَقٌّ‘ کے معنی یہاں قول فیصل کے اور ’دین‘ کے معنی اطاعت کے ہیں۔ ان الفاظ کے مختلف معانی کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ توحید اور شرک کے باب میں قول فیصل: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے۔ اللہ کی توحید کے بارے میں مبتدعین و مشرکین نے جو اختلافات پیدا کر دیے تھے اس کتاب نے ان کا فیصلہ کر دیا تو تم اللہ ہی کی بندگی ’اس کی خالص اطاعت کے ساتھ‘ کرو۔ اطاعت خالص کا سزاوار اللہ ہی ہے۔ وہی سب کا خالق اور پروردگار ہے تو وہی سب کی عبادت کا بھی حق دار ہے اور جو عبادت کا حق دار ہے وہی اطاعت کا بھی حق دار ہے۔ یہ بالکل بے تکی بات ہے کہ عبادت کا حق دار کوئی ہو، اطاعت کا حق دار کوئی اور بن جائے اور جس طرح عبادت کا خالص ہونا ضروری ہے، اسی طرح اطاعت بھی بے آمیز ہونی ضروری ہے۔ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے خلاف جائز نہیں ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے یہ بات فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے نازل ہو جانے کے بعد تمہاری راہ معین ہو گئی۔ تم اسی راہ پر چلو۔ اگر دوسرے تمہارا ساتھ دیتے ہیں تو فبہا، نہیں دیتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ تمہارے اوپر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
    یاد رکھو کہ اطاعت خالص کا سزاوار اللہ ہی ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو خدا سے قریب تر کر دیں، اللہ ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ اللہ ان لوگوں کو بامراد نہیں کرے گا جو جھوٹے اور ناشکرے ہیں۔
    ’وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا ........ الاٰیۃ‘۔ یعنی یہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنائے بیٹھے ہیں اور ان کے حق میں انھوں نے یہ فلسفہ ایجاد کیا ہے کہ ان کو وہ خدا سمجھ کر نہیں بلکہ خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر پوج رہے ہیں، اگر اس کتاب کے فیصلہ کو وہ نہیں مان رہے ہیں تو اللہ ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا۔ ’اِنَّ اللَّہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ‘۔ ’ہَدٰی یَھْدِیْ‘ کسی مقصد میں بامراد کرنے کے مفہوم کے لیے بھی قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ قیامت کے دن ان لوگوں کا جو فیصلہ ہو گا اس کے متعلق یہ اصولی حقیقت واضح فرما دی کہ جو لوگ جھوٹے اور ناشکرے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بامراد نہیں کرے گا۔ جھوٹے سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا پر یہ جھوٹ باندھا کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا ہے درآنحالیکہ خدا نے ان کے باب میں کوئی دلیل یا شہادت نہیں اتاری اور ناشکرے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو نعمتیں تو سب خدا نے بخشیں لیکن انھوں نے گُن دوسروں کے گائے۔ یہ دونوں صفتیں مشرکین کی ہیں اور یہ دونوں بیک وقت ہر مشرک میں لازماً پائی جاتی ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس گھمنڈ میں قرآن اور پیغمبرؐ کو جھٹلا رہے ہیں کہ قیامت ہوئی تو وہ اپنے معبودوں کی بدولت خدا کے مقرب بن جائیں گے حالانکہ ایسے جھوٹوں اور ناشکروں کی کوئی امید بھی خدا کے ہاں بر آنے والی نہیں ہے۔
    اگر اللہ اولاد ہی بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ چھانٹ لیتا ان چیزوں میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا۔ وہ پاک اور ارفع ہے۔ وہ اللہ واحد ہے، سب پر قابو رکھنے والا۔
    مشرکین کے عقیدے پر تعریض: یہ مشرکین عرب کے عقیدے پر تعریض ہے کہ انھوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مان کر ان کو معبود بنا رکھا ہے اور ان کو خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کم عقلوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ اگر خدا اپنے لیے اولاد ہی بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ بیٹیاں کیوں بناتا، وہ اپنی مخلوقات میں سے جس بہتر سے بہتر چیز کو چاہتا اپنے لیے منتخب کرتا! ’سُبْحٰنَہٗ‘ وہ ایسی نسبتوں اور ایسی ضرورتوں سے ارفع، منزہ اور بالکل پاک ہے۔ اس کو کسی بیٹے یا بیٹی یا کسی شریک و مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بالکل یکہ و تنہا اور اپنی پوری کائنات کو اپنے قابو میں رکھنے والا ہے۔
    اس نے آسمانوں اور زمین کو غایت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ رات کو دن پر ڈھانکتا ہے اور دن کو رات پر اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک وقت مقرر کی پابندی کے ساتھ گردش کر رہا ہے سن رکھو کہ غالب اور بخشنے والا وہی ہے۔
    شرک و شفاعت کا عقیدہ اس دنیا کے بالحق ہونے کے منافی ہے: اس نے آسمان و زمین بے مقصد و غایت نہیں پیدا کیے ہیں کہ نیکی و بدی اور حق و باطل کا اس میں کوئی امتیاز ہی نہ ہو، جو چاہے، سفارشوں کے بل پر، اپنے لیے اونچے سے اونچے مرتبے خدا کے ہاں محفوظ کرا لے، خواہ اس کے اعمال و عقائد کچھ ہی ہوں۔ اگر ایسا ہو تو یہ دنیا ایک بالکل باطل کارخانہ بن جاتی ہے اور ایک حکیم و عادل خالق کی شان کے بالکل خلاف ہے کہ وہ کوئی باطل کام کرے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا سے بے تعلق نہیں ہے: ’یُکَوِّرُ الَّیْْلَ عَلَی النَّہَارِ ........ الاٰیۃ‘۔ یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ خدا دنیا کو پیدا کر کے کسی گوشے میں ایک تماشائی یا نرتکار بن کر بیٹھ رہا ہے بلکہ وہ برابر رات کو دن پر ڈھانکتا اور دن کو رات پر اُڑھاتا ہے۔ اسی نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے اور یہ سب اپنے مقررہ نظام الاوقات کے مطابق گردش کر رہے ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ ان کی پابندی اوقات میں منٹ اور سیکنڈ کا بھی فرق پیدا ہو جائے۔ ’اَلَا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ‘۔ یعنی کان کھول کر اچھی طرح سن لو کہ خدا عزیز بھی ہے اور غفار بھی۔ وہ ’عزیز‘ ہے اس وجہ سے کوئی اس کے اذن کے بغیر نہ اس کے ہاں رسائی حاصل کر سکتا نہ کسی کے لیے کوئی سفارش کر سکتا اور ’غفار‘ ہے اس وجہ سے وہ ان لوگوں کو خود بخشنے والا ہے جو اپنے لیے مغفرت کا حق پیدا کر لیں گے۔ ان کو کسی سفارشی کی سفارش کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔
    اسی نے پیدا کیا تم کو ایک ہی جان سے، پھر پیدا کیا اسی کی جنس سے اس کا جوڑ اور تمہارے لیے (نر و مادہ) چوپایوں کی آٹھ قسمیں اتاریں۔ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے، ایک خِلقت کے بعد دوسری خِلقت میں، تین تاریکیوں کے اندر۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم کہاں بھٹکا دیے جاتے ہو!
    اللہ تعالیٰ ہی خالق و رازق ہے تو وہی رب بھی ہے: یہ اسی اوپر والی بات کی مزید وضاحت ہے کہ خدا ہی خالق ہے، اسی نے پرورش کا انتظام فرمایا ہے اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے، تو اس کے سوا دوسرا کس حق کی بنا پر رب بن جائے گا! جو لوگ یہ تمام بدیہی حقائق تسلیم کرتے ہیں آخر ان کی عقل کہاں الٹ جاتی ہے کہ وہ دوسروں کو اس کی بادشاہی میں ساجھی بناتے ہیں! ’خَلَقَکُمۡ مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا‘۔ یعنی خدا ہی نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا، پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا۔ تمام انسان ایک ہی آدم کی نسل سے ہیں اور سب کا خالق خدا ہی ہے، پھر خدا ہی ہے جس نے آدم کی جنس سے اس کے جوڑے ۔۔۔ عورت ۔۔۔ کو وجود بخشا کہ جب سب کا خالق اللہ ہی ہے اور اس حقیقت سے تمہیں بھی انکار نہیں ہے تو خدا کے سوا دوسرے معبودوں کے لیے کہاں گنجائش پیدا ہوئی! ’وَاَنزَلَ لَکُم مِّنْ الْأَنْعَامِ ثَمَانِیَۃَ أَزْوَاجٍ‘۔ یعنی جس خدا نے تم کو پیدا کیا اسی نے تمہاری پرورش کا سامان بھی کیا۔ یہ نہیں ہے کہ تمہیں پیدا کر کے اس نے تمہاری پرورش کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی ہو۔ یہ مختلف قسم کے چوپائے جن پر تمہاری معاش و معیشت کا انحصار ہے؛ خدا ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، کسی اور نے ان کو نہیں پیدا کیا ہے۔ یہاں چوپایوں کے لیے ’اَنزَلَ لَکُمْ‘ کے الفاظ اسی طرح استعمال ہوئے ہیں جس طرح ’اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن میں یہ اسلوب بیان اکثر چیزوں کے لیے استعمال ہوا ہے اور اس سے مقصود لوگوں کو ہر چیز کے اصل منبع کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ہر چیز کا نازل کرنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اسی نے لوہا اتارا تو وہ زمین میں پیدا ہو گیا اور اُس سے انسان نے طرح طرح کے اسلحہ ایجاد کر لیے، اسی نے چوپائے اتارے تو وہ انسان کی معاش و معیشت کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے زمین میں پھیل گئے۔ یہی حقیقت بینی انسان کے اندر صحیح جذبۂ شکرگزاری پیدا کرتی ہے ورنہ انسان کی نظر ہر نعمت کے سبب قریب کے ساتھ اٹک کے رہ جاتی ہے اور وہ اپنے حقیقی پروردگار کو بھول جاتا ہے۔ ’ثَمَانِیَۃَ أَزْوَاجٍ‘۔ لفظ ’زوج‘ جوڑے کے لیے بھی آتا ہے اور جوڑے کے ایک فرد کے لیے بھی۔ یہاں یہ اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ عرب میں پالتو چوپایوں میں سے چار معروف تھے۔ چھوٹے چوپایوں میں بھیڑ بکری، بڑے چوپایوں میں اونٹ اور گائے۔ لفظ انعام انہی کے لیے بولا جاتا ہے۔ ان کے نر و مادہ دونوں کو ملا کر گنیے تو یہ آٹھ بن جائیں گے۔ عرب میں معاش و معیشت کا انحصار زیادہ تر انہی پر تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی یاددہانی کے لیے ان کا خاص طور پر حوالہ دیا۔ اس مضمون کی تفصیل مطلوب ہو تو انعام کی آیات ۱۴۳-۱۴۴ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ ’یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ خَلْقاً مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ‘۔ خلق اور ربوبیت کی یاددہانی کے بعد یہ اپنی قدرت، کاریگری اور اپنے احاطۂ علم کی طرف توجہ دلائی کہ وہی خدا تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں، تین تین تاریکیوں کے اندر، تخلیق کے مختلف اطوار و مراحل سے گزارتا ہے۔ ان مختلف مراحل کی تفصیل سورۂ مومنون میں یوں فرمائی ہے: ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَاماً فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقًا آخَرَ (المومنون: ۱۴) ’’پھر ہم نطفہ کو خون کی پھٹکی کی شکل میں کر دیتے ہیں اور خون کی پھٹکی کو گوشت کا لوتھڑا بنا دیتے ہیں، پھر لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کر دیتے ہیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیتے ہیں۔ پھر اس کو ایک نئی خلقت میں کر دیتے ہیں۔‘‘ ’تین تاریکیوں‘ سے اشارہ مشیمہ، رِحم اور پیٹ کی تہ بہ تہ تاریکیاں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت کا دست صناع اور موقلم یہ صناعی سورج یا بجلی کی روشنی میں نہیں کرتا بلکہ تین تین پردوں کے اندر کرتا ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اس کا علم ہر جلی و خفی کو محیط ہے۔ ’ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ ....... الاٰیۃ‘۔ یعنی جس خدا کے تمہارے اوپر یہ یہ احسانات ہیں وہی تمہارا آقا اور مالک بھی ہے۔ ہر چیز اسی کی ملکیت اور تمام آسمان و زمین میں اسی کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، پھر تمہاری عقل کس طرح الٹ جاتی ہے کہ تم سیدھی راہ سے ہٹا کر ایک بالکل غلط سمت میں موڑ دیے جاتے ہو! ’تُصْرَفُوْنَ‘ مجہول کا صیغہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ان واضح حقائق فطرت کے بعد کسی غلط سمت میں بھٹکنے کی گنجائش تو نہیں تھی لیکن تم نے معلوم نہیں کس شیطان کے ہاتھ میں اپنی باگ پکڑا دی ہے جو تمہیں گمراہی کی وادیوں میں گردش کرا رہا ہے۔  
    اگر تم ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری کا رویہ پسند نہیں کرتا اور اگر تم اس کے شکرگزار رہو گے تو اس کو پسند کرے گا۔ اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہاری واپسی ہے تو وہ تمہیں ان کاموں سے آگاہ کرے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ وہ سینوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔
    اللہ تعالیٰ لوگوں کے کفر و ایمان سے بالکل بے نیاز ہے: لفظ ’کفر‘ یہاں ناشکری اور کفران نعمت کے مفہوم میں آیا ہے۔ اس کے مقابل میں ’اِنۡ تَشْکُرُوْا‘ ہے جس سے اس مفہوم کی وضاحت ہو رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے پیدا کرنے اور تمہاری پرورش میں تو خدا کے سوا کسی اور کو کوئی دخل ہے نہیں۔ اگر اس کے باوجود تم دوسروں کو خدا کا شریک بنا کر اس کی ناشکری کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ تم خدا کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہو۔ خدا تمہارے کفر اور شکر دونوں سے بے نیاز ہے۔ وہ تمہارا محتاج نہیں ہے بلکہ تمہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم اس کے شکرگزار رہو گے تو وہ اس کو پسند فرمائے گا۔ دنیا میں بھی تمہاری نعمتوں میں برکت ہو گی اور آخرت میں بھی اس کا بھرپور صلہ پاؤ گے اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھو کہ خدا اپنے بندوں کی طرف سے ناشکری کے رویہ کو پسند نہیں فرماتا تو لازماً اس کا نتیجہ بھی ان کے سامنے آئے گا۔ ’وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی ............. الاٰیۃ‘۔ اور یہ حقیقت بھی یاد رکھو کہ خدا کے ہاں ہر نفس کی ذمہ داری خود اسی کے اوپر ہے۔ کوئی دوسرا اس کی طرف سے جواب دہی کرنے والا نہیں بنے گا۔ اگر تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تمہارے یہ دیوی دیوتا تمہاری وکالت و شفاعت کر کے تم کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو یہ آرزوئے باطل پوری ہونے والی نہیں ہے۔ سب کی واپسی خدا ہی کی طرف ہونی ہے۔ کوئی اور مولیٰ و مرجع نہیں بنے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے سامنے اس کے اعمال کا پورا دفتر رکھ دے گا۔ وہ لوگوں کے دلوں کے بھیدوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔ نہ اس کو کسی کے بارے میں کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہے اور نہ کوئی اس کے آگے یہ کہنے والا بنے گا کہ فلاں کے بارے میں اس کی معلومات میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو خدا کے علم میں نہیں ہیں۔
    اور جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس کی طرف متوجہ ہو کر، پھر جب وہ اپنی طرف سے اس کو فضل بخش دیتا ہے تو وہ اس چیز کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے پکارتا رہا تھا اور اللہ کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے کہ اس کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کرے۔ کہہ دو، اپنے کفر کے ساتھ کچھ دنوں بہرہ مند ہو لو، تم دوزخ والوں میں سے بننے والے ہو۔
    انسان کی ناشکری پر تعجب اور افسوس: یہ انسان کی اس ناشکری کے رویہ پر تعجب اور افسوس کا اظہار ہے کہ اس کا عجیب حال ہے کہ جب اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تب تو وہ بڑے تضرع اور بڑی انابت کے ساتھ خدا سے فریاد کرتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت دور کر کے اس کو اپنے فضل سے بہرہ مند کر دیتا ہے تووہ اپنی مصیبت کو بھول جاتا ہے اور خدا کے بخشے ہوئے فضل کو دوسرے شریکوں کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے اور اس طرح خود بھی خدا کی راہ سے برگشتہ ہوتا ہے، دوسروں کو بھی اس سے برگشتہ کرتا ہے۔ یہاں چونکہ کفر کے سرغنوں کا رویہ زیربحث ہے اس وجہ سے فعل ’لِیُضِلَّ‘ متعدی استعمال فرمایا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ اس کے اندر گمراہ ہونے کا مفہوم خود شامل ہے۔ یہی مضمون آگے اسی سورہ میں اس طرح بیان ہوا ہے: فَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاہُ نِعْمَۃً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِیْتُہُ عَلَی عِلْمٍ (الزمر: ۴۹) ’’جب انسان کو کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تب تو وہ ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرے علم و قابلیت کا ثمرہ ہے۔‘‘ انسان کی فطرت کے اندر ایک خدا کے سوا کسی اور الٰہ کا کوئی شعور نہیں ہے اس وجہ سے جب اس پر کسی حقیقی افتقار کی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ اسی کی طرف متوجہ ہوتا اور اس سے دعا و فریاد کرتا ہے لیکن جب اس کی مصیبت دور ہو جاتی ہے تو وہ مصیبت کو بھی بھول جاتا ہے اور خدا سے بھی بے نیاز ہو جاتا ہے اور خدا کی بخشی ہوئی نعمت کو یا تو اپنے فرضی دیویوں دیوتاؤں سے منسوب کرتا ہے یا اپنی تدبیر اور اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ قرار دیتا ہے اور اس طرح خود شریک خدا بن جاتا ہے۔ ’قُلْ تَمَتَّعْ بِکُفْرِکَ قَلِیْلاً إِنَّکَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ‘۔ اوپر کی بات اگرچہ عام صیغے سے فرمائی گئی ہے لیکن مقصود مخاطب گروہ کی حالت ہی پر توجہ دلانا تھا اس وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ہوئی کہ ان سے کہہ دو کہ اپنی اس ناشکری اور اپنے اس کفر کے باوجود اللہ کی نعمتوں سے کچھ دن بہرہ مند ہو لو، بالآخر تو تم جہنم کے ایندھن بننے والے ہی ہو، وہ ساری کسر پوری کر دے گی۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List