Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • ص (The Letter Sad)

    88 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس گروپ کی پچھلی سورتوں کی طرح اس سورہ کی بنیاد بھی توحید پر ہے۔ اس میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ قرآن قریش کے لیے ایک عظیم یاددہانی ہے لیکن یہ محض اپنے کبر و غرور اور شرک پرستی کے جوش و جنون میں اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس انجام سے بالکل بے پروا ہیں جس سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا ہے۔ یہ اس انجام کو دیکھ کر اس پر ایمان لائیں گے لیکن اس وقت کا ایمان بالکل بے سود ہو گا۔

  • ص (The Letter Sad)

    88 آیات | مکی

    الصافات ۔ ص

    ۳۷ ۔ ۳۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع منکرین توحید کو تہدید و وعید ہے۔پہلی سورہ میں ، البتہ انکار اور دوسری میں استکبار پر تنبیہ کی گئی ہے جو مخاطبین کے انکار کا اصلی سبب ہے۔ اِس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو اِن مستکبرین کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین کا مضمون بھی دوسری سورہ میں نمایاں ہے۔ چنانچہ انبیا علیہم السلام کی جو سرگذشتیں اِس سورہ میں سنائی گئی ہیں، اُن میں یہ دونوں چیزیں ملحوظ ہیں۔
    اِن سورتوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 038 Verse 001 Chapter 038 Verse 002 Chapter 038 Verse 003 Chapter 038 Verse 004 Chapter 038 Verse 005 Chapter 038 Verse 006 Chapter 038 Verse 007 Chapter 038 Verse 008 Chapter 038 Verse 009 Chapter 038 Verse 010 Chapter 038 Verse 011 Chapter 038 Verse 012 Chapter 038 Verse 013 Chapter 038 Verse 014 Chapter 038 Verse 015 Chapter 038 Verse 016
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ صٓ ہے۔ قسم ہے یاددہانی سے معمور قرآن کی (کہ اس کی ہر بات حق ہے)۔
    ’صٓ‘ حروف مقطعات میں سے ہے۔ یہ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ ان حُرف پر جامع بحث بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ محض تکلف ہے۔ قرآن کے ’ذکر‘ سے موسوم ہونے کے بعض پہلو: ’وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْرِ‘۔ جس طرح قرآن کی قسم سورۂ یٰسٓ میں ’حکیم‘ کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے اسی طرح یہاں ’ذِی الذِّکْرِ‘ کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ ’ذکر‘ کا اصل مفہوم یاددہانی کرنا ہے۔ قرآن سرتاسر یاددہانی ہے۔ اس وجہ سے اس کا نام بھی جگہ جگہ ’ذکر‘ آیا ہے۔ آگے آیت ۸ میں اس کا یہی نام آیا ہے۔ اس کے اس نام اور اس صفت سے موسوم و موصوف ہونے کے کئی پہلو ہیں: ۔۔۔ یہ ان تمام حقائق کی یاددہانی کرتا ہے جو انسان کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں لیکن انسان ان کو بھولا ہوا ہے۔ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے خلق کے لیے جو ہدایت نازل فرمائی اور جس کو لوگ بھلا بیٹھے تھے، یہ اس کی بھی یاددہانی کرتا ہے۔ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نقمت کے ظہور کے جو بڑے بڑے واقعات اس دنیا میں پیش آئے، اس کے اندر ان کی بھی یاددہانی ہے۔ ۔۔۔ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو جس انجام سے دوچار ہونا پڑا، یہ ان سے بھی باخبر کرتا ہے۔ ۔۔۔ اس دنیا کی زندگی کے بعد جس مرحلۂ حساب و کتاب اور جزاء و سزا سے لوگوں کو سابقہ پیش آنا ہے، یہ اس کو بھی یاد دلاتا ہے۔ یہ سارے پہلو اس کی صفت ’ذِی الذِّکْرِ‘ کے اندر موجود ہیں۔ آگے اسی سورہ کی آیات ۸-۱۷، ۴۶-۴۹ اور ۸۶ کے تحت ان کی وضاحت آ رہی ہے۔ مُقسَم علیہ قسم کے اندر مضمر ہے: اس قَسم کا مُقسَم علیہ یہاں الفاظ میں مذکور نہیں ہے بلکہ وہ قسم کے اندر ہی مضمر ہے۔ یہ طریقہ ان مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں قسم کی نوعیت ایسی ہو کہ مُقسَم علیہ ذکر کے بغیر اس سے واضح ہو رہا ہو۔ یہاں یہی صورت ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن جن یاددہانیوں سے مملو ہے وہ اس بات پر شاہد ہیں کہ آج قریش کو جن باتوں کی تذکیر کی جا رہی ہے وہ بالکل ناقابل انکار ہیں۔ اگر وہ ان کو نہیں مان رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کے اندر کسی ریب و شک کی گنجائش ہے بلکہ اس کا سبب محض ان کی انانیت اور مخاصمت ہے۔
    بلکہ جن لوگوں نے اس کا انکار کیا وہی گھمنڈ اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔
    قرآن کی مخالفت کی اصل علت: ’اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ سے مراد یہاں خاص طور پر قریش ہیں۔ فرمایا کہ ان کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کی تذکیر میں کوئی کسر ہے بلکہ یہ گھمنڈ اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ ان کے اس گھمنڈ اور ضد کی وضاحت آگے کی آیات میں آ رہی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ خرابی قرآن میں نہیں بلکہ خود ان لوگوں کے اپنے اندر ہے۔ قرآن ہر پہلو سے نہایت مدلل، دلنشیں اور مؤثر یاددہانی کر رہا ہے لیکن جن لوگوں نے انانیت اور مخالفت کی روش اختیار کر رکھی ہو ان پر اس کی تذکیر کیا کارگر ہو سکتی ہے!
    ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کر دیں تو انھوں نے اس وقت ہائے پکار کی جب کوئی مفر باقی نہیں رہا۔
    ماضی کی قوموں کی طرف ایک اشارہ: یعنی ان کی انانیت پر یہ بات بہت شاق گزر رہی ہے کہ انھیں ڈرایا جا رہا ہے کہ اگر وہ قرآن کی تکذیب پر اڑے رہے تو خدا کے عذاب کی زد میں آ جائیں گے۔ حالانکہ تاریخ کی کتنی مثالیں ان کو سنائی جا چکی ہیں کہ جن قوموں نے ان کی طرح ضد کی ہم نے ان کو تباہ کر دیا۔ جب وہ خدا کی پکڑ میں آ گئیں تو انھوں نے بہت ہائے پکار اور توبہ و ایمان کی منادی کی۔ لیکن اس وقت ان کے لیے کوئی مفر باقی نہیں رہا تھا اس لیے کہ ظہور عذاب کے بعد توبہ اور ایمان کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ ’لَاتَ‘ اصل میں ’لَا‘ ہے البتہ اس کے ساتھ ’ت‘ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی طرح کا اضافہ ’ثم‘ اور ’ربّ‘ کے ساتھ بھی ہو جاتا ہے۔ البتہ اس صورت میں یہ وقت کی نفی کے لیے خاص ہو جاتا ہے جس طرح یہاں ہے۔
    ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاہ کرنے والا آیا۔ اور کافروں نے کہا یہ تو ساحر اور جھوٹا ہے۔
    مکذبین کا غرور: یعنی ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ انہی کے اندر کا ایک شخص ان کے لیے خدا کا منذر بن کر آیا۔ خدا کو کوئی منذر ہی بھیجنا ہوتا تو کسی مافوق بشر ہستی کو منذر بناتا، انہی جیسے ایک انسان کو منذر بنانے کے کیا معنی! اور اگر انسان ہی کو منذر بنانا تھا تو آخر خدا کی نظر ایک غریب آدمی پر کیوں پڑی، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو اس مقصد کے لیے اس نے کیوں نہیں انتخاب کیا؟ گویا پیغمبر کی بشریت بھی ان کے لیے وجہ انکار بنی اور ان کی غربت و ناداری بھی۔ اس آیت میں پہلی وجہ انکار کی طرف اشارہ ہے، آگے آیت ۸ میں دوسری وجہ انکار کا ذکر آ رہا ہے اور یہ دونوں ہی باتیں غرور اور گھمنڈ میں داخل ہیں جس کا ذکر اوپر لفظ ’عزت‘ سے ہوا ہے۔ قرآن سے عوام کو برگشتہ کرنے کے لیے قریش کے لیڈروں کا ایک اشغلا: ’وَقَالَ الْکَافِرُوۡنَ ہٰذَا سَاحِرٌ کَذَّابٌ‘۔ یعنی اپنے اس عُجب و استکبار کی بنا پر ان کافروں نے ہمارے پیغمبر کو ’ساحر‘ اور ’کذاب‘ قرار دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر اور قرآن کو سحر کہنے کی وجہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ قریش کے لیے قرآن کی معجزانہ فصاحت و بلاغت سے تو انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی لیکن وہ اپنے عوام پر یہ اثر نہیں پڑنے دینا چاہتے تھے کہ وہ اس فصاحت و بلاغت سے مسحور ہو کر اس کو کلام الٰہی مان لیں۔ اس چیز سے لوگوں کو بچانے کے لیے وہ قرآن کو سحر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر کہتے اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ اس شخص کے کلام میں جو تاثیر و تسخیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس پر آسمان سے وحی آتی ہے بلکہ یہ کلام کا جادوگر ہے اس وجہ سے اس کی باتیں دلوں پر اثر کرتی ہیں۔ قرآن کو شعرا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ ’کَذَّابٌ‘ کے معنی ہیں جھوٹا، لپاٹیا اور لاف زن۔ یہ لفظ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی تردید کے جوش میں کہتے۔ یعنی ہے تو یہ شخص کلام کا جادوگر لیکن عوام پر اپنی دھونس جمانے کے لیے دعویٰ یہ کرتا ہے کہ وہ جو کچھ لوگوں کو سنا رہا ہے وہ خدا کی طرف سے اس پر وحی ہوتا ہے اور وہ خدا کا منذر ہو کر آیا ہے۔ چونکہ ان کو اصل چڑ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت ہی سے تھی اس وجہ سے اس کی تردید میں وہ نہایت سخت تھے جس کا اظہار اس لفظ سے بھی ہو رہا ہے۔ اس آیت کا اسلوب بیان شاہد ہے کہ اس میں ان محروم القسمت لوگوں کے حال پر اظہار حسرت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان کی تنبیہ و تذکیر کے لیے ان کے اندر ایک منذر بھیجا، ان کے لیے ایک یاددہانی کرنے والی کتاب نازل فرمائی لیکن وہ غرور کے سبب سے اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ انہی جیسا ایک بشر ان کے پاس انذار کے لیے آئے۔ اس رعونت میں ان کافروں نے اللہ کے رسول کو ساحر اور کذاب بنا ڈالا۔
    کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک کر دیا! یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہوئی!
    قریش کا زہریلا پروپیگنڈا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کے ساتھ دوسری چیز جس سے قریش کے لیڈروں کو سب سے زیادہ چڑ تھی وہ آپ کی دعوت توحید تھی۔ اس کی آڑ لے کر وہ اپنے عوام کو آپ کے خلاف خوب بھڑکاتے۔ چونکہ قبیلہ قبیلہ کے بت جدا جدا تھے اور قبیلہ اپنے بت کے ساتھ اندھی بہری عقیدت رکھتا تھا اس وجہ سے وہ قبائل کی عصبیت بھڑکانے کے لیے یہ زہریلا پروپیگنڈا کرتے کہ اس شخص نے تمام معبودوں کو ختم کر کے ایک معبود بنا ڈالا، اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہو سکتی ہے! اس فقرے کے اندر غور کیجیے تو دو زہر چھپے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس شخص نے اس معبود کے سوا، جس کو یہ خود معبود مانتا ہے۔ دوسرے تمام معبودوں کی خدائی ختم کر دی۔ دوسرا یہ کہ اس نے ایسی حرکت کی ہے جو ایک نہایت انوکھی حرکت ہے جس کی کوئی مثال ہم اپنے آباء و اجداد کی تاریخ میں نہیں پاتے۔ لفظ ’عُجَابٌ‘ کے اندر ’عجیب‘ کے مقابل میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ پروپیگنڈا پوری قوم عرب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشتعل کر دینے کے لیے کافی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے اپنے پیغمبرؐ کو محفوظ رکھا۔
    ان کے لیڈر اٹھے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ بے شک یہ کام کرنے کا ہے!
    لیڈروں کے طرز عمل کی تصویر: یہ تصویر ہے اس رویے کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کے لیے قریش کے لیڈر اختیار کرتے۔ اگر وہ کبھی دیکھتے کہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے متاثر ہو رہے ہیں تو یہ وہاں سے چل کھڑے ہوتے اور دوسروں کو بھی اکساتے کہ یہاں سے چلو، اس شخص کی باتیں نہ سنو بلکہ اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ ’اِنَّ ہٰذَا لَشَیْْءٌ یُرَادُ‘۔ یعنی کرنے کا اصلی کام یہ ہے۔ یہ شخص جو وعظ تمھیں سنا رہا ہے یہ تمہارے دین آبائی سے تم کو پھیرنے کی کوشش ہے۔ اس کے برعکس کرنے کا کام، جو ہم میں سے ہر شخص کا مطلوب ہونا چاہیے یہ ہے کہ ہم اس کی تمام کوششوں کے علی الرغم اپنے معبودوں کی عبادت پر آخر دم تک جمے رہیں۔
    ہم نے یہ بات اس دور آخر میں تو سنی نہیں! یہ محض ایک من گھڑت بات ہے!
    عرب کی تاریخ سے متعلق قرآن اور قریش کے نقطۂ نظر کا اختلاف: یہ قریش کی طرف سے اس تاریخ کی تردید ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ملت عرب کی بیان فرماتے۔ آپ نے حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بعد کے انبیاء کی تاریخ سے یہ واضح فرما دیا تھا کہ ان تمام انبیاء نے توحید خالص کی تعلیم دی، خاص کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیم و دعوت اور حضرت اسماعیلؑ اور بیت اللہ کی جو تاریخ قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اس کا مقصد عربوں پر اسی حقیقت کو واضح کرنا تھا کہ ان کی ملت کی اصل تاریخ حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیلؑ سے شروع ہوتی ہے اور ان بزرگ نبیوں نے اپنی اولاد کو اس سرزمین میں اسلام کی خدمت اور توحید خالص کی دعوت کے لیے بسایا تھا اور اسی مقصد کے لیے اس گھر کی تعمیر فرمائی تھی جس کے آج قریش متولی بنے ہوئے ہیں۔ اور جس کے کونے کونے میں انھوں نے بتوں کو لا بسایا ہے۔ یہ تاریخ قریش کے تمام مزعومات پر ایک ضرب کاری تھی لیکن یہ اس قدر واضح اور دل نشین تھی کہ اس کے خلاف کہنے کے لیے ان کے پاس کوئی ایسی بات نہیں تھی جو لوگوں کو اپیل کر سکے لیکن وہ اپنے گھمنڈ اور اپنی مکابرت کے سبب سے اس کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں تھے اس وجہ سے کہتے کہ یہ توحید کی بات ہم نے اپنی ملت کے دور آخر میں تو سنی نہیں اس وجہ سے یہ ساری داستان جو توحید کے حق میں ہم کو سنائی جا رہی ہے بالکل من گھڑت ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر ملت عرب کی تاریخ یہ ہوتی جو قرآن میں بیان کی جا رہی ہے اور جس کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس تحدی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں تو آخر اس کی کچھ صدائے بازگشت اس ملت کے دور آخر میں بھی تو ہونی چاہیے تھی! لیکن ہم نے اپنے آبا و اجداد سے تو اس طرح کی کوئی بات نہیں سنی۔ ہم نے یہی دین ان سے پایا، اسی پر چل رہے ہیں اور اسی پر چلتے رہیں گے۔ بعض لوگوں نے ’ملت آخرہ‘ سے ملت عیسوی کو مراد لیا ہے لیکن اس کا کوئی قرینہ یہاں نہیں ہے۔ ملت عیسوی کا حوالہ تو اس شکل میں ان کے لیے معتبر و مؤثر ہوتا جب وہ اور ان کے عوام اس کے معتقد ہوتے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی دعوت ملت عیسوی کی بنیاد پر دی ہوتی۔
    کیا ہمارے اندر سے اسی شخص پر یہ یاددہانی نازل کی گئی! بلکہ یہ لوگ میری یاددہانی کے باب میں مبتلائے شک ہیں۔ بلکہ اب تک انھوں نے میرے عذاب کا مزا نہیں چکھا۔
    قریش کے پندار سیادت پر ضرب: یعنی وہ اپنی ریاست و امارت کے غرور میں کہتے ہیں کہ اگر خدا کو کوئی کتاب کسی بشر پر اتارنی ہوتی تو کیا اس کے لیے ہمارے اندر سے اس کو یہی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ملے! اللہ تعالیٰ اگر یہ کام کرنا چاہتا تو اس کے لیے وہ مکہ یا طائف کے رئیسوں میں سے کسی کا انتخاب کرتا نہ کہ ان کے جیسے ایک مفلس و نادار آدمی کا۔ اس نے تمام سرفرازیاں تو ہم کو بخشیں تو اس عزت کے لیے وہ ان کا انتخاب کیوں کرتا؟ یہ ان کے اس پندار کا بیان ہے جس کا ذکر آیت ۲ میں ’فِیْ عِزَّۃٍ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ ان کے اس پندار پر ضرب لگانے کے لیے فرمایا کہ ’بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنۡ ذِکْرِیْ بَلْ لَمَّا یَذُوۡقُوۡا عَذَابِ‘ کہ ان کی یہ تمام مشیخت مآبیاں اس وجہ سے ہیں کہ ان کو اس قرآن کے ذریعے جس عذاب کی یاددہانی کی جا رہی ہے اس کی طرف سے ابھی وہ شک میں ہیں، یہ اس کو محض ہوائی بات سمجھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک وہ ان کے سامنے آیا نہیں اور یہ لوگ مجرد باتوں سے قائل ہونے والے اسامی نہیں ہیں بلکہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ماننے والے لوگ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی تو ان کو دلیلوں سے سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اگر یہ دلیلوں سے نہ سمجھے تو بالآخر عذاب کا تازیانہ بھی ان کے لیے نمودار ہو جائے گا۔
    کیا تیرے رب عزیز و وہاب کے فضل کے خزانے انہی کی تحویل میں ہیں!
    رعونت کا جواب: یہ ان کی اس رعونت کا جواب ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہے کہ یہ اپنے سوا خدا کے کسی فضل و رحمت کا حق دار کسی کو نہیں سمجھتے، گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام خزانوں کی کنجیاں انہی کو پکڑا دی ہیں کہ یہ جس کو چاہیں محروم رکھیں۔ چنانچہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ ان کے دائرہ سے باہر اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت و رسالت اور قرآن و کتاب کا حامل کس طرح بنا سکتا ہے! انھیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ’عزیز‘ اور ’وہاب‘ یعنی اپنے تمام خزانوں کا بلاشرکت غیرے مالک و مصرف اور بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ اپنے ان بندوں کو بھی بڑی فیاضی سے بخشتا ہے جو ان کی نظروں میں اگرچہ کسی چیز کے اہل نہیں ہیں لیکن خدا کی نظروں میں ان کا بڑا مرتبہ ہے چنانچہ اس نے اگر ان کو اس زمین کے کچھ خزف ریزے دیے ہیں جن پر یہ اترا رہے ہیں تو اس نے جس کو چاہا ہے نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی بادشاہی بخش دی ہے جس سے بڑے منصب کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سورۂ طور میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے: ’اَمْ عِنۡدَہُمْ خَزَائِنُ رَبِّکَ أَمْ ہُمُ الْمُصَیْْطِرُوۡنَ‘ (۳۷) (کیا تیرے رب کے خزانے اس کے پاس ہیں یا یہ داروغے مقرر کر دیے گئے ہیں!)۔  
    کیا آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کی بادشاہی انہی کے اختیار میں ہے! اگر ایسا ہے تو وہ آسمانوں کے اندر چڑھ جائیں۔
    یہ اسی اوپر والی بات کی مزید تفصیل ہے۔ یعنی اگر ان کا زعم یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ان کے ہاتھ میں ہے تو آسمانوں پر چڑھ جائیں اور اس رحمت کو روک دیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نازل فرما رہا ہے۔ ’اسباب‘ سے مراد ’اسباب السمٰوٰت‘ ہے۔ یہ لفظ کسی چیز کے اطراف اور متعلقات کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔
    (جب میرا عذاب آ جائے گا) تو اس وقت جماعتوں میں سے کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی شکست کھا کے رہے گا۔
    عذاب الٰہی کا مقابلہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی نہیں کر سکتی: ’ہُنَالِکَ‘ کا اشارہ اسی عذاب کی طرف ہے جس کا ذکر آیت ۸ میں ’لَمَّا یَذُوۡقُوۡا عَذَابِ‘ کے الفاظ سے گزرا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس قرآن کی تصدیق کے لیے عذاب الٰہی کے ظہور کے منتظر ہیں تو یاد رکھیں کہ جب وہ عذاب آ جائے گا تو کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی خواہ کسی بھی قوم کا ہو، اس کے مقابل میں نہیں ٹک سکے گا۔ بلکہ وہ لازماً شکست کھائے گا۔ ’جُندٌ‘ کی تنکیر یہاں تفخیم شان کے لیے اور ’مَا‘ اس تنکیر کی تاکید کے لیے ہے۔ یعنی کوئی لشکر بھی ہو اور وہ کتنی ہی قوت و صولت رکھتا ہو، عذاب الٰہی کے مقابل میں وہ نہیں ٹک سکتا۔
    ان سے پہلے قوم نوح، عاد اور کثیر لشکروں والے فرعون نے تکذیب کی۔
    ’ذُو الْأَوْتَادِ‘: ’ذُو الْأَوْتَادِ‘ کا لفظی ترجمہ ہو گا ’میخوں والا‘ لیکن عربی میں میخوں سے خیموں کو تعبیر کرتے ہیں اور پھر خیموں سے بطریق کنایہ فوجیں مراد لیتے ہیں۔ یہ اسی طرح کا کنایہ ہے جس طرح ’قدور راسیات‘ سے کسی شخص کی فیاضی کو تعبیر کرتے ہیں، چنانچہ قرآن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی فیاضی کی تعبیر کے لیے یہ کنایہ آیا ہے۔ یہاں ’ذُو الْأَوْتَادِ‘ سے فرعون کی کثیر فوجوں کی طرف اشارہ ہے جو خیموں میں رہتی تھی۔ فرعون کی فوجوں کی کثرت کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے اور یہ تمام فوجیں اس کے ساتھ عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر سمندر میں غرق ہوئیں۔
    اور ثمود، قوم لوط اور بن والوں نے بھی۔ یہ پارٹیاں ہیں۔
    ’اَصْحَابُ الأَیْْکَۃِ‘ سے مراد اصحاب مدین ہیں۔ ’ایکۃ‘ کے معنی جنگل کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے ’مدین‘ کے پاس کوئی جنگل بھی تھا اس وجہ سے یہ لوگ اس نام سے بھی معروف تھے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ اوپر کے دعوے کی تصدیق تاریخ سے: اوپر آیت ۸ میں یہ بات جو فرمائی ہے کہ جب عذاب الٰہی آ جائے گا تو کسی جماعت یا قوم کی قوت و جمعیت کتنی ہی ہو، وہ اس کے مقابل میں نہیں ٹک سکے گی، یہ اسی بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ ان تمام قوموں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور جب اس کی پاداش میں ان پر اللہ کا عذاب آیا تو ان میں سے کوئی بھی اس کے مقابل میں نہ ٹک سکی۔ ’اُولٰٓئِکَ الْأَحْزَابُ‘ میں خبر حذف کر دی گئی ہے۔ اس لیے کہ موقع و محل سے یہ خود واضح ہے اور بعد کا ٹکڑا اس کو مزید واضح کر رہا ہے۔ یعنی دیکھ لو یہ بڑی نامی گرامی قومیں تھیں لیکن ان کا یہ حشر کیا ہوا! جب اللہ کا عذاب آیا تو یہ سب خس و خاشاک کی طرح اڑ گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے بھی انہی کی روش اختیار کی۔
    ان سب ہی نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر نازل ہو کے رہا۔
    ’اِنۡ کُلٌّ إِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ‘۔ یعنی ان میں سے ہر ایک کا اصلی جرم یہی تھا کہ انھوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور اسی جرم کے مرتکب تم بھی ہو رہے ہو۔ ’فَحَقَّ عِقَابِ‘ اصل میں ’فَحَقَّ عِقَابِیْ‘ ہے۔ قافیہ کی رعایت سے ’ی‘ گر گئی ہے جس طرح ’لَمَّا یَذُوۡقُوۡا عَذَابِ‘ میں گر گئی ہے۔
    اور یہ لوگ بھی صرف ایک ڈانٹ کے منتظر ہیں۔ جس کے بعد کوئی ڈھیل نہیں۔
    ’فَوَاق‘ کے معنی وقفہ اور مہلت کے ہیں۔ ’قِطّ‘ حصہ اور نصیب کے معنی میں آتا ہے۔ مطالبۂ عذاب اور اس کا جواب: اشارہ قریش کی طرف ہے کہ یہ لوگ بڑے طنطنہ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لیے انھوں نے کوئی ناقابل تسخیر دفاعی لائن تعمیر کر لی ہے حالانکہ ان کو پامال کر دینے کے لیے خدا کی ایک ہی ڈانٹ کافی ہو گی، دوسری کی نوبت بھی نہیں آنے پائے گی اور اس کی پکڑ ایسی ہو گی کہ پھر ایک لمحہ کے لیے بھی ان کو فرصت نصیب نہیں ہو گی۔
    اور انھوں نے کہا کہ اے رب، ہمارا حساب روز حساب سے پہلے ہی چکا دے۔
    ’وَقَالُوا رَبَّنَا ...... الاٰیۃ‘۔ یہ مطالبۂ عذاب کے معاملے میں ان کی رعونت کا بیان ہے کہ یہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تکذیب کے جوش میں یہاں تک کہہ گزرے کہ اے رب! اگر یہ شخص اپنے اس دعوے میں سچا ہے کہ ہم نے اس کی تکذیب کی تو ہم پر کوئی عذاب آ جائے گا تو وہ عذاب قیامت سے پہلے ہی ہم پر آ جائے تاکہ اس کی سچائی ثابت ہو جائے، اگر یہ سچا ہے، اور (نعوذ باللہ) اس کا جھوٹ ثابت ہو جائے، اگر یہ جھوٹا ہے، جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ قریش کے اس مطالبہ کا ذکر سورۂ انفال میں بھی بدیں الفاظ گزر چکا ہے: وَإِذْ قَالُوۡا اللّٰہُمَّ إِنۡ کَانَ ہَذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِکَ فَأَمْطِرْ عَلَیْْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ (۳۲) ’’اور جب کہ انھوں نے کہا، اے اللہ، اگر یہی حق ہو تیرے پاس سے تو ہم پر پتھر برسا دے آسمان سے یا کوئی اور درد ناک عذاب ہم پر نازل کر۔‘‘ روایات میں ابوجہل سے متعلق بھی یہ بات منقول ہے کہ بدر کے موقع پر اس نے یہ دعا کی تھی کہ اے خدا، جو ہمارے اندر سے اس قطع رحم کا باعث ہوا ہے کہ قریش کی تلوار خود قریش ہی کے مقابل میں بے نیام ہے، اس کو تُو کل کچل دیجیو!  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List