Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الصافات (Those Who Set The Ranks, Drawn Up In Ranks)

    182 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ یٰسٓ ۔۔۔ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ توحید، قیامت اور رسالت کے اصولی مباحث جس طرح اس گروپ کی پچھلی سورتوں میں زیربحث آئے ہیں اسی طرح اس میں بھی زیربحث آئے ہیں البتہ نہج استدلال اور ترتیب بیان مختلف ہے۔ توحید جو اس پورے گروپ کی روح ہے، اس سورہ میں بھی نمایاں ہے۔ لیکن اس میں اس کے ایک خاصل پہلو ۔۔۔ الوہیت ملائکہ کے تصور کے ابطال ۔۔۔ کو زیادہ وضاحت کے ساتھ لیا ہے۔ احوال قیامت کی تصویر اس میں ایسے زاویہ سے پیش کی گئی ہے جس سے مشرکین کے عوام اور ان کے لیڈروں کی باہمی تو تکار سامنے آتی ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کی پوری تاریخ بھی اس میں اجمالاً بیان ہوئی ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جن قوموں نے رسولوں کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ نے ان کو مٹا دیا۔ فلاح صرف رسولوں اور ان کی پیروی کرنے والوں کو حاصل ہوئی۔

  • الصافات (Those Who Set The Ranks, Drawn Up In Ranks)

    182 آیات | مکی

    الصافات ۔ ص

    ۳۷ ۔ ۳۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع منکرین توحید کو تہدید و وعید ہے۔پہلی سورہ میں ، البتہ انکار اور دوسری میں استکبار پر تنبیہ کی گئی ہے جو مخاطبین کے انکار کا اصلی سبب ہے۔ اِس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو اِن مستکبرین کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین کا مضمون بھی دوسری سورہ میں نمایاں ہے۔ چنانچہ انبیا علیہم السلام کی جو سرگذشتیں اِس سورہ میں سنائی گئی ہیں، اُن میں یہ دونوں چیزیں ملحوظ ہیں۔
    اِن سورتوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 037 Verse 001 Chapter 037 Verse 002 Chapter 037 Verse 003 Chapter 037 Verse 004 Chapter 037 Verse 005 Chapter 037 Verse 006 Chapter 037 Verse 007 Chapter 037 Verse 008 Chapter 037 Verse 009 Chapter 037 Verse 010
    Click translation to show/hide Commentary
    شاہد ہیں صفیں باندھے، حاضر رہنے والے فرشتے۔
    قسم شہادت کے لیے: ’و‘ قسم کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو قسمیں کھائی ہیں یہ تعظیم کے لیے نہیں بلکہ مقسم علیہ پر شہادت کے لیے ہیں۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ ’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ میں اس مسئلہ پر مفصل بحث کی ہے۔ ہمارے قلم سے اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔ قسم کے اس مفہوم کی روشنی میں ’وَالصَّافَّاتِ صَفّاً‘ کا ترجمہ ’شاہد ہیں صفیں باندھے ہوئے‘ حاضر رہنے والے فرشتے، کیا جائے تو یہ قسم کے مفہوم کو بالکل ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والا ہو گا۔ ’صَافَّاتِ‘ فرشتوں کی صفت ہے: ’صَافَّاتِ‘ یہاں فرشتوں کی صفت کے طور پر آیا ہے اور اس کی وضاحت اسی سورہ میں خود حضرت جبریلؑ کی زبانی ہو گئی ہے۔ ان کا ارشاد نقل ہوا ہے: ’وَمَا مِنَّا إِلَّا لَہُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ ۵ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ۵ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ‘، (۱۶۴-۱۶۶) (اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک معین مقام ہے، اور ہم تو صف بستہ رہنے والے ہیں اور ہم تو تسبیح کرتے رہنے والے ہیں)۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان فرشتوں کا ذکر ہے جو ملاء اعلیٰ کے زمرے سے تعلق رکھتے اور عرش الٰہی کے ارد گرد صف بستہ رہتے ہیں۔ سورۂ زمر میں ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے: ’وَتَرَی الْمَلَائِکَۃَ حَافِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ‘ (۷۵) (اور تم دیکھو گے فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے اردگرد، اپنے رب کی تسبیح کرتے ہوئے، اس کی حمد کے ساتھ)۔  
    پھر زجر کرنے والے (شیاطین کو)۔
    دوسری صفت: ’زجر‘ کے معنی جھڑکنے، ڈانٹنے اور دھتکارنے کے ہیں۔ یہ انہی فرشتوں کی دوسری صفت بیان ہوئی ہے کہ اگر شیاطین ملاء اعلیٰ کے قریب پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان کو دھتکارتے ہیں۔ شیاطین کو ملاء اعلیٰ سے دور رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص انتظام بھی فرمایا ہے جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
    پھر ذکر کرنے والے (اپنے رب کا)۔
    تیسری صفت: یہ ان فرشتوں کی تیسری صفت ہے۔ تلاوت ذکر سے مراد وہی چیز ہے جو سورۂ زمر میں ’یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ‘ کے الفاظ سے اور اس سورہ میں ’وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوۡنَ‘ کے الفاظ سے مذکور ہوئی ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کرتے ہیں۔ صفات میں ترتیب: یہاں عربی زبان کا یہ قاعدہ پیش نظر رہے کہ جب صفات کا بیان اس طرح ’ف‘ کے ساتھ ہو جس طرح یہاں ہے تو یہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ یہ تمام صفات ایک ہی چیز کی ہیں اس وجہ سے جن لوگوں نے ان صفات کے الگ الگ موصوف قرار دیے ہیں ان کی رائے ہمارے نزدیک عربیت کے خلاف ہے۔ دوسری اس بات پر کہ ان صفات میں ایک تدریجی ترتیب ہے۔ ہم نے جو تاویل کی ہے اس سے پہلی بات تو بالکل واضح ہے کہ یہ تمام صفات ملائکہ کی ہیں۔ رہی دوسری بات تو غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان صفات میں اسی طرح کی ترتیب ہے جس طرح کی ترتیب ہماری نمازوں میں ہوتی ہے۔ جس طرح ہم خدا کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیطان سے تعوذ کرتے ہیں، پھر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہیں اسی طرح ملائکہ بھی عرش الٰہی کے اردگرد صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیاطین کو زجر کرتے ہیں، پھر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہیں۔
    کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔
    مقسم علیہ: یہ اس قسم کا مقسم علیہ ہے۔ فرشتوں کی اس بندگی اور اس حمد و تسبیح کو شہادت میں پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ تمہارا رب ایک ہی ہے۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جن لوگوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مان کر ان کو خدائی میں شریک کر رکھا ہے اور ان کی شفاعت کی امید پر ان کی پوجا کر رہے ہیں وہ بالکل حماقت میں مبتلا ہیں۔ فرشتوں کا خود اپنا طرز عمل ان نادانوں پر ایک کھلی ہوئی نکیر ہے۔ اس لیے کہ وہ برابر خدا کی بندگی اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم ہیں اور یہ احمق لوگ ان کو شریک خدا بنا کر ان کی پوجا میں لگے ہوئے ہیں۔
    وہی خداوند ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا۔ اور وہی خداوند ہے سارے اطراف مشرق کا۔
    یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔ یعنی وہی اللہ واحد تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا خداوند ہے اور وہی تمام مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس نے اپنی ناپیدا کنار مملکت کے دور دراز گوشوں کا انتظام اپنے دوسرے شریکوں کے سپرد کر رکھا ہے۔ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہی ہے۔ وہ اپنی کائنات کے ہر گوشے اور کونے کا مالک خود ہے اور خود ہی اپنے احکام کے تحت اس کا انتظام فرماتا ہے۔ اس کائنات میں فرشتوں کا اگر کوئی دخل ہے تو خدا کے شریک کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے فرماں بردار سفیروں اور کارندوں کی حیثیت سے ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے رب کے احکام کی تعمیل میں کرتے ہیں۔ جمع کے استعمال کا ایک خاص محل: ’رَبُّ الْمَشَارِقِ‘ میں ’مَشَارِق‘ جمع اپنے اطراف کی وسعت کے اعتبار سے ہے۔ سورۂ اعراف میں لفظ ’اعراف‘ کے تحت ہم بیان کر آئے ہیں کہ جمع بعض مرتبہ کسی شے کی وسعت اور اس کے طول کو ظاہر کرنے کے لیے بھی آتی ہے۔ قرآن میں ’مشارق‘ اور ’مغارب‘ کے الفاظ اسی اعتبار سے آئے ہیں۔ اسی طرح جہاں مقصود کسی شے کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کرنا ہو وہاں اس کو بعض اوقات مثنیٰ کی شکل میں لاتے ہیں چنانچہ قرآن میں ’مشرقین‘ اور ’مغربین‘ بھی استعمال ہوئے ہیں۔ ’رَبُّ الْمَشَارِقِ‘ کے بعد ’رَبُّ الْمَغَارِب‘ بربنائے وضاحت قرینہ حذف ہے۔ اس لیے کہ ’مغارب‘ ’مشارق‘ کے تحت ہیں۔ جب اصل کا ذکر آ گیا تو فرع کا ذکر گویا خود بخود ہو گیا۔ بعض جگہ اس کو واضح بھی فرما دیا ہے۔ مثلاً: ’فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ‘ (المعارج: ۴۰) (پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشارق اور مغارب کے رب کی کہ بے شک ہم قادر ہیں)۔ ’مشارق‘ کے خاص اہتمام کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دنیا میں مشرکوں نے سب سے زیادہ پرستش سورج کی کی ہے جو مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔  
    بے شک ہم ہی نے سجایا ہے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت سے۔
    شیاطین جن کی تردید: اوپر کی آیات میں ملائکہ کا ذکر ہوا ہے کہ نادانوں نے تو ان کو خدائی کا درجہ دے رکھا ہے اور ان کے ملاء اعلیٰ تک کا حال یہ ہے کہ وہ برابر اپنے رب کے آگے صف بستہ اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ اب آگے کی آیات میں شیاطین جن کا ذکر آ رہا ہے کہ نادانوں نے ان کی نسبت یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہے اور وہ وہاں سے غیب کی خبریں حاصل کرتے ہیں چنانچہ اسی توقع پر ان کی پرستش کی جاتی ہے کہ یہ علم غیب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ حالانکہ ملاء اعلیٰ تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہے۔ اگر کوئی شریر جن وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔
    اور اس کو محفوظ کیا ہے اچھی طرح ہر سرکش شیطان کی دراندازی سے۔
    ’وَحِفْظًا‘ فعل محذوف کی تاکید ہے۔ یعنی ’وَحَفِظْنٰھَا حِفْظًا‘ اس وجہ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آسمان کو ہم نے شیاطین کی دراندازی سے اچھی طرح محفوظ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ستارے ایک طرف تو آسمان زیریں کی زینت ہیں، دوسری طرف قدرت ان سے یہ کام بھی لیتی ہے کہ جو شیاطین ملاء اعلیٰ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو انہی ستاروں کے ذریعے سے سرزنش کی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے۔ مثلاً: ’وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَاء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنَاہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ‘ (الملک: ۵) (اور ہم نے سماء دنیا کو تاروں سے سجایا ہے اور ان کو شیاطین کے سنگ سار کرنے کے لیے بھی بنایا ہے) دوسرے مقام میں ہے: ’وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَزَیَّنَّاہَا لِلنَّاظِرِیْنَ ۵ وَحَفِظْنَاہَا مِن کُلِّ شَیْْطَانٍ رَّجِیْمٍ ۵ إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُّبِیْنٌ‘ (الحجر: ۱۶-۱۸) (اور ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور اس کو دیکھنے والوں کے لیے ستاروں سے مزین کیا ہے اور اس کو ہر شیطان رجیم سے محفوظ کیا ہے اور اگر کوئی چھپ کے ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے)۔  
    اور وہ ملاء اعلیٰ کی طرف کان نہیں لگانے پاتے اور وہ ہر جانب سے دھتکارے جاتے ہیں۔
    ’لَا یَسَّمَّعُوۡنَ‘ یہ نفی فعل، نفی فائدہ فعل کے پہلو سے ہے۔ یعنی شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کی کوشش کرتے تو ہیں لیکن وہ کان لگانے پاتے نہیں۔ جب وہ یہ کرنا چاہتے ہیں تو ہر جانب سے ان پر سنگ باری ہوتی ہے۔
    کھدیڑنے کے لیے اور ان کے لیے ایک دائمی عذاب ہے۔
    ’دُحُوْرٌ‘ کے معنی دھتکارنے اور کھدیڑنے کے ہیں اور ’وَاصِبٌ‘ کے معنی دائم کے۔ یعنی اس دنیا میں تو وہ اس طرح ملعون و مرجوم رہیں گے اور آخرت میں ان کے لیے ایک دائمی عذاب ہے۔
    مگر یہ کہ کوئی اچک لے کوئی بات تو ایک دہکتا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔
    یعنی قدرت کے اس محکم انتظام کے بعد اس بات کا تو امکان ہے نہیں کہ کوئی شیطان ملاء اعلیٰ تک پہنچ سکے یا ان کی باتیں سن سکے۔ کوئی شریر جن اگر کچھ کر سکتا ہے تو یہ کر سکتا ہے کہ اچکوں کی طرح کوئی بات اچکنے کی کوشش کرے۔ سو اس کے سدباب کے لیے بھی یہ انتظام ہے کہ آسمان کی برجیوں سے ایک دہکتا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ نہ فرشتوں کو خدا کی خدائی میں کوئی دخل ہے اور نہ جنات کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہے کہ وہاں سے وہ غیب کی کوئی خبر معلوم کر سکیں اس وجہ سے جو لوگ فرشتوں کو خدا کی چہیتی بیٹیاں سمجھ کر پوج رہے ہیں وہ بھی احمق اور جو جنات کو علم غیب کا وسیلہ سمجھ کر ان سے تعلق و توصل پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی احمق۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ عربوں کے شرک اور ان کی کہانت کی تمام گرم بازاری انہی دو مذکورہ تصورات پر تھی۔ قرآن نے یہاں جنوں اور فرشتوں دونوں کی حقیقت واضح کر کے ان کی ضلالت کے اس سارے کاروبار کو ختم کر دیا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List