Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • یس (Ya-seen)

    83 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سورۂ یٰسٓ اور گروپ کی پچھلی دونوں سورتوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورتوں میں توحید، معاد اور رسالت کے جو مطالب زیربحث آئے ہیں انہی پر اس میں بھی بحث ہوئی ہے۔ البتہ تفصیل و اجمال اور نہج استدلال کے اعتبار سے فرق ہے۔ پچھلی سورہ کے بعض مطالب اس میں تاریخی اور فطری دلائل سے اچھی طرح محکم و مدلل کر دیے گئے ہیں۔ اس کا آغاز اثبات رسالت کے اسی مضمون سے ہوا ہے جس پر سابق سورہ تمام ہوئی ہے۔ اور فلسفۂ دین کے نقطۂ نظر سے غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی واضح طور پر نظر آئے گی کہ اس کی بنیاد بھی، پچھلی سورتوں کی طرح، شکر اور اس کے مقتضیات ہی پر ہے۔ آگے ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں جس سے اس کا عمود اور نظام ان شاء اللہ اچھی طرح واضح ہو جائے گا۔

  • یس (Ya-seen)

    83 آیات | مکی

    یٰس

    ۳۶

    یہ ایک منفردسورہ ہے جس سے اِس باب میں اتمام حجت کی ابتدا ہو رہی ہے۔ اِس کے اور پچھلی دونوں سورتوں کے مضمون میں اِس کے سوا کوئی خاص فرق نہیں ہے کہ اسلوب بیان میں تنبیہ و تہدید، ملامت اور زجر و توبیخ کی شدت نمایاں ہوگئی ہے۔ اِس لحاظ سے یہ اگلی دونوں سورتوں کے لیے گویا اُس مضمون کی تمہید ہے جو اُن میں پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے۔
    اِس کے مخاطب قریش کے متکبرین ہیں اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 036 Verse 001 Chapter 036 Verse 002 Chapter 036 Verse 003 Chapter 036 Verse 004 Chapter 036 Verse 005 Chapter 036 Verse 006 Chapter 036 Verse 007 Chapter 036 Verse 008 Chapter 036 Verse 009 Chapter 036 Verse 010 Chapter 036 Verse 011 Chapter 036 Verse 012
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ یٰسٓ ہے۔
    یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ یہ جس سورہ میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں اس طرح آئے ہیں جس طرح کتابوں، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ذٰلک اور تِلۡکَ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام ہونے کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ حدیثوں سے بھی ان کا نام ہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جو سورتیں ان ناموں سے موسوم ہیں اگرچہ ان میں سے سب اپنے انہی ناموں سے مشہور نہیں ہوئیں بلکہ بعض دوسرے ناموں سے مشہور ہوئیں، لیکن ان میں سے کچھ اپنے انہی ناموں سے مشہور بھی ہیں۔ مثلاً طٰہٰ، یٰس، ق اور ن وغیرہ۔ ان ناموں کے معانی کے بارے میں کوئی قطعی بات کہنا بڑا مشکل ہے اس وجہ سے ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قرآن کا تو دعویٰ یہ ہے کہ وہ ایک بالکل واضح کتاب ہے، اس میں کوئی چیز بھی چیستاں یا معمے کی قسم کی نہیں ہے، پھر اس نے سورتوں کے نام ایسے کیوں رکھ دیے ہیں جن کے معنی کسی کو بھی نہیں معلوم؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لینا عربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔ قرآن پر اہل عرب نے بہت سے اعتراضات کئے اور ان کے یہ سارے اعتراض قرآن نے نقل بھی کئے ہیں لیکن ان کے اس طرح کے کسی اعتراض کا کوئی ذکر نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ناموں میں ان کے لئے کوئی اجنبیت نہیں تھی۔ علاوہ بریں جن لوگوں کی نظر اہل عرب کی روایات اور ان کے لٹریچر پر ہے وہ جانتے ہیں کہ اہل عرب نہ صرف یہ کہ اس طرح کے ناموں سے نامانوس نہیں تھے بلکہ وہ خود اشخاص، چیزوں، گھوڑوں، جھنڈوں، تلواروں حتیٰ کہ قصائد اور خطبات تک کے نام اسی سے ملتے جلتے رکھتے تھے۔ یہ نام مفرد حروف پر بھی ہوتے تھے اور مرکب بھی ہوتے تھے۔ ان میں یہ اہتمام بھی ضروری نہیں تھا کہ اسم اور مسمٰی میں کوئی معنوی مناسبت پہلے سے موجود ہو بلکہ یہ نام ہی بتاتا تھا کہ یہ نام اس مسمٰی کے لئے وضع ہوا ہے۔ اور یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شے کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ یہ نام ہے تو پھر اس کے معنی کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ نام سے اصل مقصود مسمٰی کا اس نام کے ساتھ خاص ہوجانا ہے نہ کہ اس کے معنی۔ کم ازکم فہم قرآن کے نقطۂ نظر سے ان ناموں کے معانی کی تحقیق کی تو کوئی خاص اہمیت ہے نہیں۔ بس اتنی بات ہے کہ چونکہ یہ نام اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے ہیں اس وجہ سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت کی بنا پر رکھے گئے ہوں گے۔ یہ خیال فطری طور پر طبیعت میں ایک جستجو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی جستجو کی بنا پر ہمارے بہت سے پچھلے علماء نے ان ناموں پر غور کیا اور ان کے معنی معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کی جستجو سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن ہمارے نزدیک ان کا یہ کام بجائے خود غلط نہیں تھا اور اگر ہم بھی ان پر غور کریں گے تو ہمارا یہ کام بھی غلط نہیں ہو گا۔ اگر اس کوشش سے کوئِی حقیقت واضح ہوئی تو اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہو گا اور اگر کوئی بات نہ مل سکی تو اس کو ہم اپنے علم کی کوتاہی اور قرآن کے اتھاہ ہونے پر محمول کریں گے۔ یہ رائے بہرحال نہیں قائم کریں گے کہ یہ نام ہی بے معنی ہیں۔ اپنے علم کی کمی اور قرآن کے اتھاہ ہونے کا یہ احساس بجائے خود ایک بہت بڑا علم ہے۔ اس احساس سے علم و معرفت کی بہت سی بند راہیں کھلتی ہیں۔ اگر قرآن کا پہلا ہی حرف اس عظیم انکشاف کے لئے کلید بن جائے تو یہ بھی قرآن کے بہت سے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہو گا۔ یہ اسی کتاب کا کمال ہے کہ اس کے جس حرف کا راز کسی پر نہ کھل سکا اس کی پیدا کردہ کاوش ہزاروں سربستہ اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے دلیل راہ بنی۔ ان حروف  پر ہمارے پچھلے علماء نے جو رائیں ظاہر کی ہیں ہمارے نزدیک وہ تو کسی مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا۔ البتہ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمة اللہ علیہ کی رائے اجمالاً یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس سے اصل مسئلہ اگرچہ حل نہیں ہوتا لیکن اس کے حل کے لئے ایک راہ کھلتی ضرور نظر آتی ہے۔ کیا عجب کہ مولانا رحمة اللہ علیہ نے جو سراغ دیا ہے دوسرے اس کی رہنمائی سے کچھ مفید نشانات راہ اور معلوم کر لیں اور اس طرح درجہ بدرجہ تحقیق کے قدم کچھ اور آگے بڑھ جائیں۔ جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لئے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امام رحمة اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرف صرف آواز ہی  نہیں بتاتے تھے بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرف معانی اور اشیاء پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیاء پر وہ دلیل ہوتے تھے عموماً ان ہی کی صورت و ہئیت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کئے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم و اصلاح کر کے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی جس کے آثار اہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔ ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً “الف” کے متعلق معلوم ہے کہ وہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت ہی پر لکھا جاتا ہے۔ “ب” کو عبرانی میں بَیت کہتے بھی ہیں اور اس کے معنی بھی “بیت” (گھر) کے ہیں۔ “ج” کا عبرانی تلفظ جمیل ہے جس کے معنی جمل (اونٹ) کے ہیں۔ “ط” سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی کی شکل پر جاتا تھا۔ “م” پانی کی لہر پر دلیل ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔ مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورہ “ن” کو پیش کرتے ہیں۔ حرف “نون” اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جو سورہ اس نام سے موسوم ہوئی ہے اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر صاحب الحوت، مچھلی والے، کے نام سے آیا ہے۔ مولانا اس نام کو پیش کر کے فرماتے ہیں کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورہ کا نام “نون” (ن) اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں صاحب الحوت، حضرت یونس علیہ السلام، کا واقعہ بیان ہوا ہے جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں وہ  بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بنا پر آئے ہوں۔ قران مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً حرف “ط” کے معنی، جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہئیت بھی سانپ کی ہئیت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ اب قرآن میں سورہ طٰہٰ کو دیکھئے جو “ط” سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ  بیان ہوتا ہے۔ اسی طرح طسم، طس وغیرہ بھی “ط” سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کر لینے کا معجزہ مذکور ہے۔ “الف” کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ گائے کے سر کی ہئیت پر لکھا بھی جاتا تھا اور گائے کے معنی بھی بتاتا تھا۔ اس کے دوسرے معنی اللہ واحد کے ہوتے تھے۔ اب قرآن مجید میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ بقرہ میں جس کا نام الف سے شروع ہوتا ہے، گائے کے ذبح کا قصہ بیان ہوا ہے۔ دوسری سورتیں جن کے نام الف سے شروع ہوئے ہیں توحید کے مضمون میں مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ مضمون ان میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان ناموں کا یہ پہلو بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن سورتوں کے نام ملتے جلتے سے ہیں ان کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں بلکہ بعض سورتوں میں تو اسلوب بیان تک ملتا جلتا ہے۔ میں نے مولانا کا یہ نظریہ، جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لئے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معانی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ محض علوم قرآن کے قدردانوں کے لئے ایک اشارہ ہے، جو لوگ مزید تحقیق و جستجو کی ہمت رکھتے ہیں وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس راہ سے یہ مشکل آسان کر دے۔ یہ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی ’یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ‘ کے لیے ہیں لیکن یہ بات بالکل بے دلیل ہے۔
    شاہد ہے پرحکمت قرآن۔
    قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت کو ہے: ’و‘ قسم کے مفہوم میں ہے اور قسم عربی میں، جیسا کہ ہمارے استاذ مولانا فراہیؒ نے اپنی کتاب ’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ میں وضاحت فرمائی ہے، شہادت کے لیے آتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پر حکمت قرآن جو تم لوگوں کو سنا رہے ہو، خود اس بات کی شہادت کے لیے کافی ہے کہ تم رسولوں کے زمرے سے تعلق رکھنے والے ہو۔ رسول کے سوا کوئی دوسرا اس طرح کا حکیمانہ اور معجز کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت، اس کے فلسفہ کو ہے۔ اس کی زبان کی بلاغت و جزالت مزید برآں ہے۔
    کہ تم رسولوں میں سے ہو۔
    قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت کو ہے: ’و‘ قسم کے مفہوم میں ہے اور قسم عربی میں، جیسا کہ ہمارے استاذ مولانا فراہیؒ نے اپنی کتاب ’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ میں وضاحت فرمائی ہے، شہادت کے لیے آتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پر حکمت قرآن جو تم لوگوں کو سنا رہے ہو، خود اس بات کی شہادت کے لیے کافی ہے کہ تم رسولوں کے زمرے سے تعلق رکھنے والے ہو۔ رسول کے سوا کوئی دوسرا اس طرح کا حکیمانہ اور معجز کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت، اس کے فلسفہ کو ہے۔ اس کی زبان کی بلاغت و جزالت مزید برآں ہے۔
    ایک نہایت سیدھی راہ پر۔
    قرآن سے اعراض فطرت سے انحراف کا نتیجہ ہے: یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے اور اس کے بغیر حرف عطف کے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن حکیم بیک وقت دونوں باتوں کا شاہد ہے۔ اس بات کا بھی کہ تم اللہ کے رسولوں میں سے ہو اور اس بات کا بھی کہ تم بالکل سیدھی راہ پر ہو اور لوگوں کو سیدھی راہ پر چلنے کی دعوت دے رہے ہو۔ تنکیر یہاں تفخیم شان کے لیے ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ راہ عقل و فطرت اور خدا کی بتائی ہوئی نہایت سیدھی راہ ہے۔ جو لوگ یہ سیدھی راہ اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں انھوں نے اپنی فطرت بگاڑ لی ہے اور اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے اس وجہ سے انھیں سیدھی چیز ٹیڑھی نظر آ رہی ہے۔
    جس کو نہایت اہتمام سے اتارا ہے خدائے عزیز و رحیم نے۔
    قرآن انذار اور بشارت ہے: ’تَنزِیْل‘ فعل محذوف سے منصوب ہے۔ اس کے معنی کی وضاحت دوسرے مقام میں ہم کر چکے ہیں کہ یہ کسی چیز کو درجہ بدرجہ نہایت اہتمام کے ساتھ اتارنے کے لیے بھی آتا ہے۔ یہ قرآن کے ایک دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کو خدائے عزیز و رحیم نے نہایت اہتمام و تدریج کے ساتھ اتارا ہے کہ لوگ اس پر غور کریں، اس کو سمجھیں اور اس سے ’صراط مستقیم‘ کی رہنمائی حاصل کریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی دو صفتوں کا حوالہ ہے۔ ایک ’عزیز‘ دوسری ’رحیم‘۔ ان میں ایک صفت انذار کے لیے ہے اور دوسری بشارت کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس کی تکذیب کریں گے وہ یاد رکھیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ ایک عزیز و مقتدر کا فرمان واجب الاذعان ہے جو سرکشی کرنے والوں کو لازماً سزا دے گا۔ ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے اور اپنی اس رحمت ہی کے لیے اس نے یہ کتاب اتاری ہے تو جو اللہ کے بندے اس قرآن کی قدر کریں گے ان کو وہ اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازے گا۔
    کہ تم ان لوگوں کو آگاہ کر دو جن کے اگلوں کو آگاہ نہی کیا گیا پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
    بنی اسماعیل کو تنبیہ: یہ قرآن کے اتارنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ نے اس کو اس اہتمام سے اس لیے اتارا ہے کہ جن کے اندر تم سے پہلے کسی رسول کی بعثت نہیں ہوئی تھی اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کو تم زندگی کے انجام سے اچھی طرح آگاہ کر دو۔ یہ اشارہ بنی اسماعیل کی طرف ہے اور یہ اس عظیم احسان کا بیان ہے جو حضرت ابراہیمؑ کی دعا اور حضرات انبیاء علیہم السلام کی پیشین گوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے امیوں پر کیا۔ اس میں ان کے لیے ترغیب کے ساتھ یہ ترہیب بھی ہے کہ اگر انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو اپنے لیے سب سے بڑی سعادت کی جگہ سب سے بڑی شقاوت کا سامان کریں گے۔ یہی مضمون دوسرے مقامات میں اس طرح بیان ہوا ہے: ’لِتُنذِرَ قَوْماً مَّا أَتَاہُم مِّن نَّذِیْرٍ مِّن قَبْلِکَ‘ (القصص: ۴۶) (تاکہ تم ان لوگوں کو آگاہ کر دو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا)۔  
    ان میں سے بہتوں پر ہماری بات پوری ہو چکی ہے تو وہ ایمان لانے والے نہیں بنیں گے۔
    سرکشوں سے اعراض کی ہدایت: ’قول‘ سے اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف ہے جو اس نے ابلیس کے جواب میں اس وقت فرمایا تھا جب اس نے یہ دھمکی دی تھی کہ میں ذریت آدم کی اکثریت کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ‘ (میں ایسے تمام جنوں اور انسانوں سے جو تیری پیروی کریں گے دوزخ کو بھر دوں گا) اسی قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہارا فرض انذار کرنا ہے وہ کرتے رہو لیکن یہ توقع نہ رکھو کہ ان میں سے ہر شخص تمہاری دعوت قبول کرے گا بلکہ ان میں بہتیرے ایسے ہیں جن پر ہماری بات صادق آ چکی کہ وہ ابلیس کی پیروی کے جرم میں جہنم کے ایندھن بنیں گے۔ اس طرح کے لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ ان کے درپے اور ان کے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔  
    ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں پس ان کے سر اٹھے رہ گئے۔
    مستکبرین کے استکبار کی تصویر: یہ ان ایمان نہ لانے والوں کے استکبار کی تصویر ہے کہ گویا ان کی گردنوں میں ایسے طوق پڑے ہوئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچتے ہیں جس کے سبب سے ان کے سر اس طرح اٹھے ہوئے رہ گئے ہیں کہ نہ وہ نیچے کی طرف جھک سکتے ہیں اور نہ اوپر ہی کی طرف اٹھ سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ وہ زمین کی نشانیاں دیکھ سکتے اور نہ آسمان کے عجائب ہی پر نگاہ ڈال سکتے۔ ان کی اس حالت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو ایسا بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ اشارہ کرتے آ رہے ہیں، یہ ہے کہ کسی فرد یا گروہ کی یہ حالت اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ہوتی ہے۔ جو لوگ حق سے انحراف و اعراض کی یہ روش دیدہ و دانستہ اختیار کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے آنکھیں بند کر کے زندگی گزارتے ہیں ان کے اوپر اللہ ان کی خواہشیں اور ان کے اعمال اسی طرح مسلط کر دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر کوئی تعلیم و تذکیر ان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اسی حقیقت کی طرف ’کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ‘ (المطففین: ۱۴) میں اشارہ فرمایا ہے۔ ’مقمح‘ اصل میں اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کا سر پیچھے کی جانب اس طرح باندھ دیا گیا ہو کہ اس کی گردن ایک خاص حد سے نہ نیچے ہو سکے نہ اوپر۔ بالکل یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے گلے میں آہنی طوق ڈال دیا جائے۔ وہ بھی اپنا سر نہ نیچے کر سکتا ہے نہ اوپر بلکہ ایک خاص زاویہ پر اس کی گردن تنی رہتی ہے۔ یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مستکبرین کی تصویر ہے۔ اس طرح کے لوگ اپنے اوپر نیچے اور دہنے بائیں کی تمام نشانیوں سے بے خبر ہی رہتے ہیں۔ ان کو اپنی ’انا‘ کے سوا اور کسی چیز کی طرف کبھی توجہ نہیں ہوتی۔
    اور ہم نے ان کے آگے سے بھی ایک روک کھڑی کر دی ہے اور ان کے پیچھے سے بھی ایک روک کھڑی کر دی ہے۔ اس طرح ہم نے ان کو ڈھانک دیا ہے پس ان کو سجھائی نہیں دے رہا ہے۔
    یہ اوپر والے مضمون ہی کی وضاحت ہے کہ اس طرح ہم نے ان کے آگے اور پیچھے دونوں طرف سے اوٹ کھڑی کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے جس کے سبب سے انھیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ ان کی اسی حالت پر سورۂ سبا میں اظہار تعجب فرمایا ہے: ’أَفَلَمْ یَرَوْا إِلَی مَا بَیْْنَ أَیْْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ‘ (۹) (کیا ان لوگوں نے ان کے آگے اور پیچھے جو آسمان و زمین ہیں ان پر نگاہ نہیں ڈالی؟) اس طرح کے مستکبرین کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ اپنی پچھلی روایات اور اپنے مستقبل کے مطامع کے غلام ہوتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ان کی راہ میں اس طرح روک بن جاتی ہیں کہ ان سے ہٹ کر وہ کوئی چیز دیکھنے کے قابل رہ ہی نہیں جاتے۔  
    اور ان کے لیے یکساں ہے، ان کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان نہیں لانے کے۔
    ظاہر ہے کہ اس طرح کے لوگ ایک سخت قسم کی عقلی و اخلاقی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا اصل مقصد کے لحاظ سے بالکل بے سود ہوتا ہے۔ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے۔ ان کو اگر انذار کیا جاتا ہے تو محض اتمام حجت کے لیے کہ قیامت کے دن یہ کوئی عذر نہ پیش کر سکیں۔ سورۂ بقرہ کے شروع میں ختم قلوب پر جو بحث گزر چکی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
    تم تو بس انہی کو ڈرا سکتے ہو جو نصیحت پر دھیان کریں اور غیب میں خدائے رحمان سے ڈریں۔ سو ایسے لوگوں کو مغفرت اور باعزت صلہ کی بشارت دو۔
    قرآن ان پر کارگر ہو سکتا ہے جو عقل سے کام لیں: یعنی تمہاری تعلیم و تذکیر تو بس انہی کے اوپر کارگر ہو سکتی ہے جو تمہاری نصیحت سنیں، اس پر غور کریں اور اپنے دلوں کے دروازے اس کے لیے کھولیں۔ نیز یہ کہ وہ اپنی عقل سے کام لیں، نرے محسوسات کے غلام بن کے زندگی نہ گزاریں کہ جب تک ان کو عذاب نہ دکھا دیا جائے اس وقت تک کوئی بات ماننے ہی کے لیے تیار نہ ہوں۔ ایمان معتبر وہ ہے جو سمع و بصر اور عقل و دل کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر لایا جاتا ہے نہ کہ حقائق کو آنکھوں سے دیکھ کر۔ فرمایا کہ جو لوگ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہیں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ البتہ ان لوگوں کو مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دو جو غیب میں رہتے، خدائے رحمان سے ڈرتے ہیں۔ خدا سے خشیت اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے: یہ حقیقت ہم جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں کہ خدا سے خشیت درحقیقت اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے۔ وہ رحمان ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ نیکوں کو ان کی نیکی کا صلہ اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دے۔ اسی رحمانیت کے ظہور کے لیے اس نے جزا اور سزا کا دن مقرر کیا ہے جس میں اس کی کامل رحمت اور اس کے کامل عدل کا ظہور ہو گا۔
    بے شک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم نوٹ کر رہے ہیں جو کچھ انھوں نے آگے کے لیے بڑھایا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا اور ہم نے ہر چیز ایک واضح کتاب میں محفوظ کر لی ہے۔
    روز جزا کی یاددہانی: یہ اسی روز جزا کی یاددہانی ہے جو اس کی رحمانیت کا لازمی تقاضا ہے۔ فرمایا کہ ایک دن آئے گا کہ ہم تمام مردوں کو زندہ کریں گے اور اس دنیا میں انھوں نے آگے کے لیے جو کچھ کیا اور پیچھے کے لیے جو کچھ چھوڑا ہے، ہم اس سارے کو قلم بند کر رہے ہیں۔ مقصود اس سے اس کے لازم کو واضح کرنا ہے کہ جب ہم سب کو زندہ بھی کریں گے اور ہر ایک کے اعمال نوٹ بھی کر رہے ہیں تو لازماً ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق معاملہ بھی کریں گے۔ اس لازمی نتیجہ کی یہاں وضاحت نہیں کی۔ اس کی وجہ اول تو یہ ہے کہ یہ بغیر ذکر کے بھی واضح ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کے باب میں منکرین کا اصلی شبہ صرف دو پہلوؤں سے تھا۔ ایک اس پہلو سے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو مستبعد سمجھتے تھے۔ دوسرا اس پہلو سے کہ اتنی وسیع دنیا کے تمام اعمال و اقوال کون محفوظ رکھ سکتا ہے کہ وہ ایک دن اس سارے کا حساب کرنے بیٹھے؟ یہ دونوں شبہات یہاں صاف کر دیے جس کے بعد اس کا لازمی نتیجہ خود بخود سامنے آ گیا۔ ’مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَہُمْ‘ میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو دوسرے مقام میں ’یٰنَبَّأُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس دنیا میں انسان بہت سے کام، اپنے تصور کے مطابق، آخرت کے لیے کرتا ہے اور بہت سے کام اپنی اس دنیا کی زندگی یا اپنے بعد والوں کے لیے کرتا ہے۔ فرمایا کہ ہم اس کے ان دونوں ہی طرح کے کاموں کو نوٹ کر رہے ہیں۔ ’اِمَامٍ مُبِیْنٍ‘ سے مراد: ’وَکُلَّ شَیْْءٍ أحْصَیْْنَاہُ فِیْ اِمَامٍ مُبِیْنٍ‘۔ ’اِمَامٍ‘ کے اصلی معنی رہنما، ہادی، لیڈر اور مرجع کے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ اس کتاب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو سب کے لیے رہنما اور مرکز و مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ ہود آیت ۱۷ اور احقاف آیت ۱۲ میں یہ لفظ تورات کے لیے آیا ہے۔ یہاں یہ اس مرکزی کتاب کے لیے استعمال ہوا ہے جس میں ہر شخص کے اعمال درج ہوں گے اور جس کے مطابق ہر شخص جزا یا سزا پائے گا۔ یہ اوپر والے ٹکڑے کی مزید وضاحت ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ لوگوں کے اعمال و اقوال کی تحریر میں ہم نے کسی غفلت و بے پروائی سے کام لیا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ ہر چیز ایک نہایت واضح دفتر میں درج کر رکھی ہے جو سب کے سامنے اس کا سارا کچا چٹھا پیش کر دے گا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List