Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • فاطر (The Originator)

    45 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ سبا ۔۔۔ کی توام سورہ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ اس کا بھی اصل مضمون توحید ہی ہے۔ اس کا آغاز خدا کی حمد کے اثبات اور فرشتوں کی الوہیت کے تصور کے ابطال سے ہوا ہے۔ پھر توحید ہی کے تحت رسالت و معاد سے متعلق وہ باتیں بیان ہوئی ہیں جو مقصد انذار کے پہلو سے ضروری اور سورہ کے مزاج اور اس کے زمانۂ نزول سے مناسبت رکھنے والی ہیں۔ پچھلی سورہ میں، یاد ہو گا، جنوں اور ملائکہ کی الوہیت کے تصور کا ابطال فرمایا ہے۔ اس سورہ میں ملائکہ کی الوہیت کے تصور کی تردید نسبۃً زیادہ واضح الفاظ میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین عرب کے مزعومہ معبودوں میں سب سے زیادہ اہمیت فرشتوں ہی کو حاصل تھی۔

  • فاطر (The Originator)

    45 آیات | مکی

    سبا ۔ فاطر

    ۳۴ ۔ ۳۵
    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی دعوت دی گئی اور اُس کی توحید کا اثبات کیا گیا ہے۔ چنانچہ دونوں کا موضوع ایک ہی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ تاریخی استدلال اور دوسری میں ملائکہ کی الوہیت کے ابطال کا پہلو نمایاں ہے۔ اِنھیں ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ سے شروع کرکے اِن کے اِس تعلق کی طرف قرآن نے خود اشارہ کر دیا ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 035 Verse 001 Chapter 035 Verse 002 Chapter 035 Verse 003 Chapter 035 Verse 004 Chapter 035 Verse 005 Chapter 035 Verse 006 Chapter 035 Verse 007 Chapter 035 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    شکر کا سزاوار حقیقی اللہ ہے۔ آسمانوں اور زمین کا خالق، فرشتوں کو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے پیغام رساں بنانے والا۔ وہ خلق میں جو چاہے اضافہ کر دیتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    دین کی بنیاد توحید ہے اور توحید کی حقیقت اللہ ہی کی شکرگزاری ہے: یاد ہو گا، پچھلی سورہ کا آغاز بھی ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ ہی سے ہوا ہے۔ اس سے دونوں سورتوں کے مزاج کی مناسبت واضح ہوتی ہے۔ دین کی بنیاد توحید پر ہے اور توحید کی حقیقت اللہ ہی کی شکرگزاری ہے اس لیے کہ آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا اللہ ہی ہے اور بندوں کو جو ظاہری و باطنی نعمتیں بھی حاصل ہوئی ہیں سب اللہ ہی کا عطیہ ہیں۔ فرشتوں کی حیثیت قاصدوں کی ہے نہ کہ مقصود کی: ’جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا اُوْلِیْٓ اَجْنِحَۃٍ مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‘۔ ’جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَۃِ‘ بدل ہے ’فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ‘ سے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر اس کی اہمیت کے پہلو سے فرمایا کہ جو اللہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اسی نے فرشتوں کو بھی پیغام رسانی کے مقصد سے وجود بخشا ہے۔ فرشتوں کے خاص طور پر ذکر کی وجہ یہ ہے کہ عربوں کی میتھالوجی (MYTHOLOGY) میں سب سے زیادہ اہمیت فرشتوں ہی کو حاصل تھی۔ وہ ان کو خدا کی چہیتی بیٹیوں کا درجہ دیتے اور اسی حیثیت سے ان کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا تصور یہ تھا کہ اگر یہ خوش رہیں تو ان کے واسطے سے سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس عقیدے نے ان کے ہاں خدا کے وجود کو بالکل معطل کر دیا تھا۔ و ہ خدا کو رسمی طور پر مانتے تو تھے لیکن ان کی تمام شکرگزاری اور عبادت کے مرکز ان کے وہ اصنام ہی تھے جو انھوں نے اپنے زعم کے مطابق فرشتوں کے نام پر بنا رکھے تھے۔ یہاں ان کے اسی زعم باطل کی تردید کے لیے ارشاد ہوا کہ شکر کا سزاوار اللہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ اسی نے فرشتوں کو بھی پیغام بری کی ڈیوٹی پر مقرر فرمایا ہے۔ یعنی یہ فرشتے نہ آسمان و زمین کی تخلیق میں کسی نوع سے شریک ہیں اور نہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ ہے بلکہ یہ صرف خدا کے پیغام رساں ہیں جن کے ذریعے سے خدا اپنے رسولوں کو اپنے احکام سے آگاہ کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جن لوگوں نے ان قاصدوں کو مقصود کا اور نامہ بروں کو محبوب کا درجہ دے کر انہی کی پرستش شروع کر رکھی ہے انھوں نے نہ خدا کی قدر پہچانی، نہ ان قاصدوں کی اور نہ اپنی ہی۔ فرشتوں کے درمیان فرق مراتب: ’اُوْلِیْٓ اَجْنِحَۃٍ‘ صفت ہے ’رُسُلًا‘ کی۔ ’اَجْنِحَۃ‘ جمع ہے ’جَنَاح‘ کی۔ ’جَنَاح‘ آدمیوں کے بازوؤں کے لیے بھی آتا ہے اور پرندوں کے پروں کے لیے بھی جن سے وہ اڑتے ہیں۔ یہاں یہ لفظ فرشتوں کے لیے استعمال ہوا ہے اس وجہ سے اس کی نوعیت متشابہات کی ہے یعنی ان کی اصل حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ مقصود اس سے یہاں ہم کو صرف اس حقیقت کا علم دینا ہے کہ سب فرشتے ایک ہی درجے کے نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی مصلحتوں کے تحت مختلف درجے کی قوتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کسی کی قوت پرواز کم ہے کسی کی زیادہ۔ کچھ دو پروں کی قوت سے اڑتے ہیں، کچھ تین کی، کچھ چار کی۔ یہ پر فرشتوں کے ہیں اس وجہ سے ان کی قوت پرواز کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور یہ چار تک کا ذکر بھی تحدید کے مفہوم میں نہیں ہے۔ مقصود یہاں صرف ان کے مراتب و منازل کے تفاوت کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ اس وجہ سے اگر اللہ تعالیٰ کے پاس ایسے فرشتے بھی ہوں جن کی قوت پرواز اس سے زیادہ ہو تو اس آیت سے اس کی نفی نہیں ہوتی۔ چنانچہ بعض حدیثوں میں حضرت جبریلؑ کے پروں کی تعداد اس سے زیادہ مذکور ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوت پرواز اور رسائی تمام فرشتوں سے زیادہ ہے۔ مقصود یہاں صرف یہ واضح کرنا ہے کہ جن نادانوں نے فرشتوں کو الوہیت کے زمرے میں داخل کر رکھا ہے ان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بلند کا پتہ نہیں ہے۔ خدائی میں شریک ہونا تو درکنار اس کے قاصد اور سفیر ہونے میں بھی ان سب کا درجہ و مرتبہ ایک نہیں ہے بلکہ کسی کی رسائی کسی منزل تک ہے اور کسی کی پہنچ کسی مقام تک۔ اسی حقیقت کا اعتراف سورۂ صافات میں حضرت جبریل امینؑ کی زبان سے یوں منقول ہے: وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ. (۱۶۴-۱۶۶) ’’اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے بس ایک معین مقام ہے اور ہم ہر وقت صف بستہ رہنے والے ہیں اور ہم ہر وقت تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔‘‘ صفات اور صلاحیتوں میں کمی بیشی کرنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے: ’یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ جن صلاحیتوں اور قوتوں کی مخلوق چاہے پیدا کر سکتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس نے فرشتوں کو اگر اپنی پیغام بری کے لیے پیدا کیا تو یہ بھی اس کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے۔ اگر ان کے درجات میں تفاوت رکھا تو یہ بھی اسی کی قدرت کی ایک شان ہے کہ اگر وہ خلق یا اس کی صلاحیتوں میں کوئی مزید اضافہ کرنا چاہے تو اس پر بھی وہ قادر ہے۔ صفات اور صلاحیتوں میں کمی بیشی کرنا اللہ کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کی صفات اور قوتوں میں اس نے افزونی عطا فرمائی ہے تو اس کے بھی معین حدود ہیں۔ اس کی بنا پر نہ کسی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ خدا کی خدائی میں شریک ہونے کا مدعی بن جائے نہ یہ جائز ہے کہ دوسرے اس کو خدائی میں شریک بنا دیں۔  
    اللہ لوگوں کے لیے جس رحمت کا فتح باب کرے تو اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو روک لے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں اور وہی حقیقی عزیز و حکیم ہے۔
    اس بات کی دلیل کہ کیوں اللہ ہی سزاوار شکر ہے: یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں خدا ہی شکر کا سزاوار ہے۔ فرمایا کہ اللہ تمہارے لیے جس فضل و رحمت کا بھی دروازہ کھولنا چاہے وہ اس کو کھول سکتا ہے، کوئی اس کے فضل و رحمت کو روک نہیں سکتا۔ اسی طرح اگر وہ کسی رحمت سے محروم کرنا چاہے تو کسی کی طاقت نہیں کہ وہ تمہیں اس سے بہرہ مند کر سکے۔ یہی مضمون سورۂ زمر میں یوں بیان ہوا ہے: قُلْ أَفَرَأَیْْتُم مَّا تَدْعُوۡنَ مِن دُوۡنِ اللّٰہِ إِنْ أَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلْ ہُنَّ کَاشِفَاتُ ضُرِّہِ أَوْ أَرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ہَلْ ہُنَّ مُمْسِکَاتُ رَحْمَتِہٖ (الزمر: ۳۸) ’’اللہ کے سوا جن معبودوں کو تم پکارتے ہو کبھی تم نے ان پر غور کیا ہے۔ اگر اللہ مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس کے دفع کرنے والے بن سکتے ہیں! یا اللہ مجھے کسی رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں!‘‘ مقصد یہ ہے کہ جب اصل حقیقت یہ ہے تو فرشتوں اور جنوں کو تم نافع و ضار سمجھ کر ان کی عبادت جو کرتے ہو یہ محض تمہاری حماقت ہے۔ نفع و ضرر تمام تر خدا ہی کے اختیار میں ہے اس وجہ سے شکر اور عبادت کا حق دار تنہا وہی ہے۔ آیت میں ایک ہی چیز (رحمت) کے لیے ضمیر پہلے مؤنث آئی، پھر اسی کے لیے مذکر آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک جگہ لفظ کا لحاظ ہے دوسری جگہ مفہوم کا۔ اس کی متعدد نظیریں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔ ’مِنْ بَعْدِہٖ‘ یعنی ’مِنْ بَعْدِ اِمْسَاکِہٖ‘۔ آگے اسی سورہ میں فرمایا ہے: ’وَلَئِنْ زَالَتَآ إِنْ أَمْسَکَہُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِہٖ‘ (۴۱) (اگر وہ دونوں (آسمان و زمین) اپنی جگہ سے ٹل جائیں تو خدا کے بعد کوئی ان کو تھامنے والا نہیں بن سکتا)۔ ’وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یعنی اصل غالب و مقتدر وہی ہے وہ کھولتا اور وہی روکتا ہے اور یہ کھولنا اور باندھنا تمام تر اس کی حکمت کے تقاضوں کے تحت ہوتا ہے اس لیے کہ وہ حکیم بھی ہے۔  
    اے لوگو! تمہارے اوپر اللہ کا جو انعام ہے اس کا دھیان کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق بہم پہنچاتا ہو! اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو!
    اتمام حجت کے لیے ایک سوال: اوپر کی آیات میں جو مضمون اصولی طور پر بیان ہوا ہے اسی مضمون کو اتمام حجت کے انداز میں، لوگوں کو مخاطب کر کے، فرمایا کہ لوگو، اللہ کی جو نعمتیں تم کو حاصل ہیں ان میں سے ایک ایک کا دھیان کرو اور ان پر غور کرو۔ لفظ ’نعمت‘ یہاں جنس نعمت کے مفہوم میں ہے۔ غور کرنے کے لیے ان کے سامنے مسئلہ کو سوال کی صورت میں رکھا کہ یہ آسمان و زمین میں سے جو تمہیں روزی مل رہی ہے، آسمان سے پانی برستا اور زمین سے تمہاری معاش و معیشت کی گوناگوں چیزیں پیدا ہوتی ہیں، کیا تم کہہ سکتے ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں یہ چیزیں بخشتا ہے۔ سوال کا جواب: ’لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ‘۔ ان کی طرف سے کسی جواب کا انتظار کیے بغیر خود اس کا جواب دیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ خود جواب دینے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس سوال کا صحیح جواب اس کے سوا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، دوسری یہ کہ مشرکین عرب، جو یہاں مخاطب ہیں، اس سوال کا یہی جواب، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے، دیتے بھی تھے۔ فرمایا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے اور تم کو بھی اس سے انکار نہیں ہے تو پھر کہاں تمہاری عقل الٹ گئی ہے کہ دوسری چیزوں کو تم معبود بنائے بیٹھے ہو!
    اور اگر یہ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو کچھ غم نہ کرو، تم سے پہلے بھی کتنے رسولوں کی تکذیب کی گئی ہے اور اللہ ہی کے سامنے سارے امور پیش کیے جائیں گے۔
    آنحضرت صلعم کو تسلی: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر ایسے سرپھرے لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی تعجب یا غم کی بات نہیں ہے، تم سے پہلے جو رسول آئے اس طرح کے لوگوں نے ان کی بھی تکذیب کی۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں تمہاری کسی تقصیر کو دخل نہیں ہے بلکہ تمام تر دخل اس میں ان مکذبین کی مخصوص ذہنیت کو ہے۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اپنی پیش رو قوموں کی روش پر چل رہے ہیں تو اس روش کا جو انجام ان کے سامنے آیا وہی ان کے سامنے بھی آئے گا۔ ’وَإِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الأمُوْرُ‘۔ سارے امور خدا کی طرف لوٹتے ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے۔ یعنی خدا اس معاملہ میں غیر جانبدار یا غیر متعلق نہیں ہے بلکہ ہر چیز اس کے سامنے آ رہی ہے اور آئے گی اور آخری فیصلہ اسی کا ہو گا تو اسی کے بھروسہ پر اپنے کام میں لگے رہو اور ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑو۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو مولیٰ و مرجع بنائے بیٹھے ہیں ایک دن اپنی اس طمع خام کا انجام خود دیکھ لیں گے۔
    اے لوگو! اللہ کا وعدہ شدنی ہے تو تم کو یہ دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ اللہ کے باب میں تم کو فریب کار شیطان فریب میں رکھے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے بعد مخالفین کو دھمکی دی کہ تم کو پچھلی قوموں کے انجام سے جو ڈرایا جا رہا ہے اس کو ہوائی بات نہ سمجھو۔ اللہ کی یہ وعید شدنی ہے۔ اس وقت تمہیں دنیا کی زندگی کی جو رفاہیت حاصل ہے وہ تمہیں دھوکے میں نہ رکھے۔ تم اپنی موجودہ رفاہیت کو اپنے رویہ کی صحت کی دلیل گمان کرتے ہو اور پیغمبرؐ کی وعید کا مذاق اڑاتے ہو کہ بھلا تم پر عذاب کیوں اور کدھر سے آ جائے گا لیکن جب اللہ کے وعدے کے ظہور کا وقت آئے گا تو تم دیکھ لو گے کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا تھا وہ بالکل تمہارے سامنے ہی موجود تھی۔ سب سے بڑے فتنہ سے آگاہی: ’وَلَا یَغُرَّنَّکُم بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ‘ ’غرور‘ کے معنی فریب کار کے ہیں اور یہاں اس سے مراد شیطان ہے اس لیے کہ سب سے بڑا فریب کار شیطان ہی ہے۔ فرمایا کہ خدا کے باب میں فریب کار شیطان تمہیں دھوکے میں نہ رکھے۔ خدا رحیم و کریم بھی ہے اور بڑا ہی منتقم و قہار بھی۔ تمہارے تمام طغیان و فساد کے باوجود اس نے تمہیں جو ڈھیل دے رکھی ہے تو اس سے اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تم اس کی گرفت سے باہر ہو یا تمہارے مزعومہ شرکاء نے تم کو بچا رکھا ہے یا وہ تم کو اس کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ اللہ کا نہ کوئی شریک ہے نہ کوئی اس کی پکڑ سے بچانے والا بن سکتا۔ شیطان نے تم کو اس فریب نفس میں اس لیے مبتلا کیا ہے کہ اس طرح وہ تم کو سیدھے جہنم میں لے جا اتارے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خدا کی صفات کے باب میں گمراہی دراصل تمام گمراہیوں کی جڑ ہے اس وجہ سے شیطان یہیں سے انسان پر گھات لگاتا ہے۔ اسی خطرے سے آیت ’وَمَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ‘ (الانفطار: ۶) میں آگاہ فرمایا گیا ہے۔
    بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم اس کو دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنی پارٹی کو صرف جہنم کا ایندھن بنانے کے لیے بلاتا ہے۔
    یعنی شیطان تمہارا دشمن اور کھلا ہوا دشمن ہے تو اپنے دشمن کو دشمن ہی سمجھو اور اس کی چالوں سے بچ کے رہو۔ یہ کہاں کی دانش مندی ہے کہ وہ تو تمہارا دشمن ہے لیکن تم نے اس کو اپنا مرشد سمجھ کر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے! اگر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے تو اس کا انجام سن لو کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ اس کی پارٹی میں شامل ہو جائیں وہ ان سب کو جہنم کے گھاٹ پر لے جا اتارے۔
    جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔
    وعدۂ شدنی کی وضاحت: یہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدۂ شدنی کی وضاحت ہے جس کا ذکر اوپر آیت ۵ میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے باب میں کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ دنیا نیکی اور بدی، خیر اور شر میں کسی امتیاز کے بغیر یوں ہی چلتی رہے گی۔ جنھوں نے یہ گمان کر رکھا ہے ان کو شیطان نے خدا کی صفات کے باب میں سخت دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس دن وہ لوگ عذاب شدید سے دوچار ہوں گے جنھوں نے کفر کیا ہو گا اور جن لوگوں نے ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاری ہو گی وہ مغفرت اور اجر عظیم کے حق دار ٹھہریں گے۔
    کیا وہ جس کی نگاہوں میں اس کا برا عمل کھبا دیا گیا ہے، پس وہ اس کو اچھا خیال کرنے لگا ہے (ایمان لانے والا بن سکتا ہے!) پس اللہ ہی جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو ان کے غم میں تم اپنے کو ہلکان نہ کرو، اللہ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کر رہے ہیں۔
    جو لوگ خدا کے قانون کی زد میں آ چکے وہ ایمان نہیں لائیں گے: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس میں تمہاری کسی تقصیر کو دخل نہیں ہے بلکہ یہ قانون الٰہی کی زد میں آئے ہوئے لوگ ہیں تو ان کے غم میں اپنے کو ہلکان نہ کرو۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے تو جب وہ باخبر ہے تو ان کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ’أَفَمَنْ زُیِّنَ لَہُ سُوءُ عَمَلِہِ فَرَآہُ حَسَنًا‘ کے بعد جواب بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ اگر اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی۔ کیا وہ جس کی نگاہوں میں اس کی بدعملی کھبا دی گئی ہے اور وہ اپنی بدی کو نیکی سمجھنے لگا ہے، تم اس کو ہدایت دینے والے بن سکتے ہو؟ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ہدایت پانا سنت الٰہی کے خلاف ہے تو ایسے لوگوں کی فکر میں اپنے کو گھلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرنا چاہیے۔ سورۂ زمر کی آیت ۱۹ میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے: أَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَنۡ فِیْ النَّارِ ’’کیا وہ جس پر عذاب کی بات پوری ہو چکی ہے! کیا تم اس کو بچانے والے بن سکو گے جو دوزخ میں پڑ چکا۔‘‘ اس ٹکڑے سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کسی برائی کے ارتکاب کی ایک حالت تو وہ ہے کہ آدمی اس کا ارتکاب کرتا ہے لیکن اس کے اندر اس کے برائی ہونے کا احساس زندہ رہتا ہے، دوسری حالت یہ ہے کہ اس کی برائی اس کی نگاہوں میں اس طرح کھبا دی جاتی ہے کہ وہ اسی کو ہنر، اسی کو فیشن، اسی کو ترقی کا زینہ اور اسی کو تہذیب و تعلیم کا مقتضیٰ سمجھنے لگتا ہے۔ پہلی حالت میں یہ توقع رہتی ہے کہ اس کو اگر تذکیر و تنبیہ کی جائے تو وہ سنبھل جائے گا لیکن دوسری حالت دل کے مسخ اور عقل کے ماؤف ہو جانے کی علامت ہے جس کو قرآن نے ’ختم قلوب‘ یا ’رین‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جو اس بیماری میں مبتلا ہوا، وہ خدا کے قانون کی زد میں آ چکا، اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ’فَإِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَشَآءُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَشَآءُ‘۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے اور جس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ ر ہے ہیں۔ آگے اسی سورہ میں اس کی مزید وضاحت آ رہی ہے۔ ’فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْْہِمْ حَسَرٰتٍ إِنَّ اللَّہَ عَلِیْمٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ‘۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے غم میں ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے خود عقلی و روحانی خود کشی کی ہے، اگر یہ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری دعوت میں کوئی کسر ہے بلکہ ان کے دلوں پر مہر ہو چکی ہے تو ان کا غم کھانے کے بجائے ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ وہ ان کی ساری کارستانیاں دیکھ رہا ہے، ان کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے یہ سزاوار ہوں گے۔ ’حَسَرٰتٍ‘ حال بھی ہو سکتا ہے اور مفعول لہٗ بھی۔ جس طرح ’یٰحَسْرَۃَ عَلَی الْعِبَادِ‘ میں ہے۔ اس کا جمع کی صورت میں آنا فرط غم کے اظہار کے لیے ہے۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List