Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • صبا (Sheba)

    54 آیات | مکی

    سورتوں کا پانچواں گروپ

    سورۂ سبا سے سورتوں کا پانچواں گروشروع ہو رہا ہے جو سورۂ حجرات پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں ۱۳ سورتیں ۔۔۔ از سبا تا الاحقاف ۔۔۔ مکی ہیں، آخر میں تین سورتیں ۔۔۔ محمد، الفتح، الحجرات ۔۔۔ مدنی ہیں۔

    گروپ کا جامع عمود

    مطالب اگرچہ اس گروپ میں بھی مشترک ہیں یعنی قرآنی دعوت کی تینوں اساسات ۔۔۔ توحید، قیامت، رسالت ۔۔۔ پر جس طرح پچھلے گروپوں میں بحث ہوئی ہے اسی طرح اس میں بھی یہ تمام مطالب زیر بحث آئے ہیں! البتہ نہج استدلال اور اسلوب بیان مختلف اور جامع عمود اس کا اثبات توحید ہے جو اس مجموعہ کی تمام سورتوں میں نمایاں نظر آئے گا۔ دوسرے مطالب اسی کے تحت اور اسی کے تضمنات کی وضاحت کے طور پر آئے ہیں۔

    سورۂ سبا کا عمود

    اس گروپ کی پہلی سورہ، سورۂ سبا ہے۔ اس کا عمود اثبات توحید و قیامت ہے۔ بنیاد اس کی شکر اور اس کے مقتضیات پر ہے اور مخاطب مترفین قریش ہیں۔

  • صبا (Sheba)

    54 آیات | مکی

    سبا ۔ فاطر

    ۳۴ ۔ ۳۵

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی دعوت دی گئی اور اُس کی توحید کا اثبات کیا گیا ہے۔ چنانچہ دونوں کا موضوع ایک ہی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ تاریخی استدلال اور دوسری میں ملائکہ کی الوہیت کے ابطال کا پہلو نمایاں ہے۔ اِنھیں ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ سے شروع کرکے اِن کے اِس تعلق کی طرف قرآن نے خود اشارہ کر دیا ہے۔
    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔


  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 034 Verse 001 Chapter 034 Verse 002 Chapter 034 Verse 003 Chapter 034 Verse 004 Chapter 034 Verse 005 Chapter 034 Verse 006 Chapter 034 Verse 007 Chapter 034 Verse 008 Chapter 034 Verse 009
    Click translation to show/hide Commentary
    شکر کا حق دار وہ اللہ ہی ہے جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی حمد آخرت میں بھی ہو گی اور وہی حقیقی حکیم و خبیر ہے۔
    اس سورہ کی بنیاد شکر اور اس کے مقتضیات پر ہے: اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سورہ کی بنیاد شکر اور اس کے لوازم و مقتضیات پر ہے اور سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں یہ حقیقت بھی واضح ہو چکی ہے کہ شکر ہی پر توحید اور پھر پورے دین کی عمارت قائم ہے۔ منعم کے شکر کا واجب ہونا انسانی فطرت کی بدیہیات میں سے ہے۔ انسان پر جس کا بھی کوئی احسان ہوتا ہے وہ اس کا ممنون و شکر گزار ہوتا ہے۔ اگر کوئی اپنے محسن کا شکرگزار نہ ہو تو وہ لئیم و کمینہ ہے۔ اسی اصل پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آسمان و زمن کی تمام نعمتیں، جن سے انسان ہر لمحہ متمتع ہو رہا ہے اور جن کے اوپر ہی اس کے بقا کا انحصار ہے، کس کی پیدا کردہ اور کس کے قبضۂ قدرت میں ہیں؟ یہ سورج، یہ چاند، یہ ابر، یہ ہوا، یہ ستارے اور سیارے کس کے بنائے ہوئے ہیں؟ یہ زمین، یہ دریا، یہ پہاڑ، یہ چرند و پرند، یہ اشجار و انہار اور یہ سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ان سوالوں کا صحیح جواب یہی ہے کہ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کردہ، اسی کی مملوک اور اسی کے دست تصرف میں ہیں۔ پچھلی سورتوں میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ ان سوالوں کا یہی جواب قرآن کے کٹر سے کٹر مخالفین بھی دیتے تھے۔ اس آیت میں قرآن نے اسی بدیہی حقیقت کی یاددہانی کی ہے کہ وہی اللہ جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا خالق و مالک ہے وہی ان تمام مخلوقات کے شکر کا حقیقی سزاوار بھی ہے جو اللہ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں سے متمتع ہو رہی ہیں۔ اس شکر کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ سب اسی کی عبادت و اطاعت کریں اور اس عبادت و اطاعت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کریں اس لیے کہ کسی دوسرے کو ان چیزوں کے خلق یا ان کی تدبیر میں کوئی دخل نہیں ہے۔ دوسروں سے انسان کو کوئی فیض پہنچتا ہے تو محض ایک واسطہ و ذریعہ کی حیثیت سے پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے اگر ان کا کوئی حق انسان پر قائم بھی ہوتا ہے تو وہ خدا کے حق کے تحت ہوتا ہے نہ کہ خدا کے حق سے بالاتر یا اس کے برابر۔ شکر کے لوازم کا ظہور آخرت میں: ’وَلَہُ الْحَمْدُ فِی الْآخِرَۃِ‘۔ اوپر کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کے اس حق کا ذکر تھا جو اس دنیا کی زندگی میں اس کے ہر بندے پر قائم ہوتا ہے۔ اب اس ٹکڑے میں اس کے اس حق کا ذکر ہے جو آخرت میں آشکارا ہو گا۔ فرمایا کہ اسی کی حمد آخرت میں بھی ہو گی۔ اس ٹکڑے سے کئی باتیں واضح ہوئیں۔ ایک یہ کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ربوبیت کا جو اہتمام فرمایا ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے بعد آخرت کا ظہور ہو۔ اگر آخرت نہ ہو تو یہ تمام ربوبیت بالکل بے معنی و بے غایت ہو کے رہ جاتی ہے۔ اس نکتہ کی وضاحت متعدد مقامات میں ہو چکی ہے اس وجہ سے یہاں اشارے پر کفایت کیجیے۔ دوسری یہ کہ یہ اہل ایمان کے اس ترانۂ حمد کی طرف اشارہ ہے جو آخرت میں تمام حقائق کے ظہور اور اللہ تعالیٰ کے جملہ وعدوں کے ایفاء کے بعد ان کی زبانوں سے بلند ہو گا۔ اس کی طرف سورۂ یونس میں اشارہ ہے: ’وَآخِرُ دَعْوَاہُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلّIہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘ (یونس: ۱۰) (اور ان لوگوں کی آخری صدا یہ ہو گی کہ شکر کا حقیقی سزاوار اللہ، عالم کا خداوند، ہے)۔ تیسری یہ کہ یہ شرکاء و شفعاء کی کلی نفی ہے کہ یہ تمام مزعومہ دیوی دیوتا جن کی شفاعت کی امید پر مشرکین نچنت بیٹھے ہیں، آخرت میں سب ہوا ہو جائیں گے۔ ان میں سے کوئی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اس دن مشرکین اپنے معبودوں پر لعنت کریں گے اور معبود اپنے پجاریوں سے اعلان براء ت کریں گے۔ سب کی پیشی اللہ واحد کے حضور میں ہو گی۔ اسی کا فیصلہ ناطق ہو گا اور سب پر یہ حقیقت آشکارا ہو جائے گی کہ سزاوار حمد صرف اللہ رب العالمین ہے۔ اس حقیقت کی طرف سورۂ قصص میں یوں اشارہ فرمایا گیا ہے: ’لَہُ الْحَمْدُ فِیْ الْأُولَی وَالْآخِرَۃِ وَلَہُ الْحُکْمُ وَإِلَیْْہِ تُرْجَعُونَ‘ (القصص: ۷۰) (وہی حمد کا حق دار ہے دنیا میں اور اسی کی حمد ہو گی آخرت میں اور اسی کے اختیار میں تمام امور کا فیصلہ ہے اور اسی کے آگے تمہاری پیشی ہونی ہے)۔ مذکورہ بالا باتوں کی دلیل صفات الٰہی سے: ’وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ‘۔ یہ اوپر کے تمام دعاوی کی دلیل اللہ تعالیٰ کی صفات سے پیش کی گئی ہے کہ وہ حکیم و خبیر ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں اپنے شکرگزار بندوں کو ان کی شکرگزاری کا صلہ دے اور ناشکرے اپنی ناسپاسی کی سزا بھگتیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا ایک بازیچۂ اطفال بلکہ ایک نہایت ظالمانہ کھیل بن کے رہ جاتی ہے اور العیاذ باللہ یہ ماننا پڑے گا کہ اس کا خالق حکیم نہیں بلکہ ایک کھلنڈرا ہے حالانکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ یہ شہادت دے رہا ہے کہ اس کا خالق ایک حکیم ہے۔ اسی طرح اس کے حکیم ہونے کا یہ بھی تقاضا ہے کہ اس کے بے لاگ عدل کو کسی کی سفارش باطل نہ کر سکے اس لیے کہ اس صورت میں بھی اس کے حکیم ہونے کی نفی ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ خبیر بھی ہے اس لیے کہ جب اس نے ہر چیز پیدا کی ہے تو ضروری ہے کہ وہ اس کے ایک ایک ذرہ اور ایک ایک حرکت و سکون سے باخبر بھی ہو چنانچہ فرمایا ہے: ’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ‘ (الملک: ۱۴) (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے سب کچھ بنایا ہے) اس کے اس محیط کل علم کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی کے معاملے کا فیصلہ کرتے وقت نہ کسی دوسرے کے علم و خبر کا محتاج ہو اور نہ کوئی اس کو اپنی جھوٹی سفارش سے فریب دے سکے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ ان تمام باتوں کو حصر کے اسلوب میں فرمایا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جب حقیقی خالق و مالک اور حقیقی حکیم و خبیر وہی ہے تو اس کے سوا کوئی دوسرا حمد و شکر کا سزاوار کس طرح ہو سکتا ہے۔  
    وہ جانتا ہے ہر اس چیز کو جو زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور جو اس سے برآمد ہوتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہی رحم فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔
    خدا کی صفت ’خبیر‘ کی وضاحت: یہ اسی صفت ’خَبِیْرٌ‘ کی وضاحت ہے کہ اس کا علم اس کائنات کے ایک ایک ذرے اور ایک ایک حرکت و سکون کو محیط ہے۔ جو دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے وہ اس سے بھی باخبر ہوتا ہے اور جو پودا اس سے برآمد ہوتا ہے اس کو بھی وہ جانتا ہے۔ اسی طرح آسمان سے جو خیر و شر نازل ہوتا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہوتا ہے اور جو چیزیں اس میں صعود کرتی ہیں ان سے بھی وہ آگاہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا علم تمام کلیات و جزئیات کو محیط ہے اور وہ ہر چیز کی نگرانی فرما رہا ہے۔ اس کی مملکت میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہ تو اس کے دائرۂ علم سے باہر ہے اور نہ یہ ممکن ہے کہ اس کے کسی گوشے میں اس کے علم و اذن کے بغیر کوئی کسی قسم کی نقل و حرکت یا ددراندازی کر سکے۔ علم الٰہی کے اس احاطہ کی وضاحت اس مقصد سے کی گئی ہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل مشرکین کا یہ مغالطہ ہے کہ بھلا اتنی ناپیداکنار کائنات کے ہر کونے اور گوشے، ہر ایک کے قول و عمل اور ہر ایک کے دکھ اور درد سے خدا ہر لمحہ کس طرح واقف رہ سکتا ہے! اس وجہ سے اپنے تصور کے مطابق اس کائنات کے مختلف حصوں کو انھوں نے الگ الگ دیوتاؤں میں تقسیم کیا۔ اس کا تقرب حاصل کرنے اور اس کو اپنی ضروریات سے آگاہ کرنے کے لیے وسائل و وسائط ایجاد کیے۔ جنوں کو آسمان کی خبریں لانے والا مان کر ان کی پرستش کی، فرشتوں کو شفاعت کرنے والا سمجھ کر ان کو دیویوں کا درجہ دیا۔ اس آیت نے ان تمام توہمات پر ضرب لگائی کہ خدا کا علم ہر چیز کو محیط ہے اس وجہ سے کوئی اس کا شریک و سہیم نہیں ہے۔ وہ اپنی پوری کائنات کے سارے نظام پر خود حاوی اور تنہا کافی ہے۔ مشرکین کے ایک مغالطہ کا ازالہ: ’وَہُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوۡرُ‘ یعنی خدا کوئی ظالم اور غیر منصف بھی نہیں ہے کہ اس کو راضی کرنے یا اس کی آفتوں سے اپنے کو بچانے کے لیے کسی دوسرے کی سعی و سفارش کی ضرورت پیش آئے بلکہ وہ نہایت مہربان اور نہایت بخشنے والا ہے۔ اس کی رحمت کو متوجہ کرنے اور اس کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ بندہ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور توبہ و اصلاح کرے۔ یہاں یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک اہم عامل مشرکوں کا یہ مغالطہ بھی ہے کہ انھوں نے خدا کا تصور ایک نہایت ہولناک ہستی کی حیثیت سے کیا اور پھر اس کو راضی رکھنے کے لیے انھوں نے اپنے تصور کے مطابق وسائل و ذرائع ایجاد کیے۔ اس ٹکڑے نے اسی واہمہ پر ضرب لگائی ہے۔
    اور جنھوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آنے کی۔ کہہ دو، ہاں میرے خداوند عالم الغیب کی قسم، وہ ضرور تم پر آ کے رہے گی! اس سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے، نہ آسمانوں اور نہ زمین میں، اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز اور نہ بڑی۔ مگر وہ ایک واضح کتاب میں مرقوم ہے۔
    قیامت خدا کی صفات کا لازمی تقاضا ہے: یعنی جب اللہ حکیم و خبیر ہے، اس کا علم ہر چیز کو احاطہ بھی کیے ہوئے ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قیامت ضرور آئے لیکن جو ہٹ دھرم ہیں وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور بڑے غرور کے ساتھ انکار کرتے ہیں کہ قیامت ہرگز نہیں آئے گی۔ ’قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتَأْتِیَنَّکُمْ‘ جس طنطنہ کے ساتھ منکرین کا انکار تھا اسی زور کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بقید قسم، جواب دلوایا کہ ان کو سنا دو کہ ہاں، میرے رب کی قسم! وہ تم پر ضرور آ کے رہے گی۔ ’عٰلِمِ الْغَیْْبِ لَا یَعْزُبُ عَنْہُ الاٰیۃ‘۔ ’عالم الغیب‘ ’رَبِّیْ‘ سے بدل واقع ہے یعنی میرے اس رب کی قسم جو تمام غیب سے واقف ہے، جس سے آسمانوں اور زمین میں، ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ بلکہ ہر چیز ایک نہایت واضح رجسٹر میں درج ہے۔ اس آیت میں علم الٰہی کی وسعت کا بیان منکرین کی تہدید کے مقصد سے ہے کہ وہ چوکنے ہوں کہ اس ڈھٹائی سے وہ قیامت کا جو انکار کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ نہ صرف یہ کہ وہ آئے گی بلکہ ہر ایک کو اپنے ایک ایک قول و عمل کا، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، حساب بھی دینا ہے۔ ساتھ ہی اس میں ایک مغالطہ کا ازالہ بھی ہے وہ یہ کہ منکرین کے نزدیک قیامت کے استبعاد کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ اتنی وسیع دنیا میں ایک ایک شخص کے ہر قول و فعل کا علم کسے ہو سکتا ہے کہ وہ سب کا حساب کرنے بیٹھے گا! ان کے اس مغالطہ کو دور کرنے کے لیے یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے محیط کل علم کا حوالہ دیا جس طرح اوپر توحید کے سلسلہ میں دیا ہے۔
    تاکہ وہ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے۔ وہی لوگ ہیں جن کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے۔
    قیامت کا آنا کیوں ضروری ہے: یہ قیامت کی ضرورت واضح فرمائی کہ اس کا آنا کیوں ضروری ہے۔ فرمایا کہ اس لیے ضروری ہے کہ وہ نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کے نزدیک نیک و بد دونوں یکساں ہیں حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے اس وجہ سے لازمی ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو ان کی نیکیوں کا صلہ اور جنھوں نے اللہ کی باتوں کو شکست دینے کی کوشش کی ان کو ان کی اس سعئ نامراد کی سزا دے۔ قیامت کا اصل مقصد اہل ایمان کو صلہ دینا ہے، کفار کو سزا دینا اس کے لوازم میں سے ہے: یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ قیامت کا اصل مقصد اہل ایمان کو صلہ دینا بتایا گیا ہے۔ اس لیے کہ اس کا اصل مقصود درحقیقت ہے ہی یہی۔ مجرمین کو سزا دینا اس کے مقاصد میں سے نہیں بلکہ اس کے لوازم و نتائج میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا رحمت کے لیے بنائی ہے اور اس رحمت ہی کے لیے اس نے آخرت کا دن بھی رکھا ہے لیکن اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ جو لوگ اپنے آپ کو اس رحمت کا سزاوار نہیں بنائیں گے وہ اس کی نقمت کے سزاوار ٹھہریں گے۔ اہل ایمان کے لیے دو چیزوں کا یہاں ذکر فرمایا ہے۔ ایک مغفرت، دوسری ’رزق کریم‘۔ ’مغفرت‘ سے مراد یہ ہے کہ ایمان و عمل صالح کی زندگی بسر کرتے ہوئے ان سے جو کوتاہیاں اور غلطیاں صادر ہوئی ہوں گی اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمائے گا۔ ’رزق کریم‘ ان تمام افضال و عنایات کی ایک جامع تعبیر ہے جن کے وہ جنت میں وارث ٹھہریں گے۔
    اور جو ہماری آیات کو زک پہنچانے کی سعی میں سرگرم ہیں وہی ہیں جن کے لیے دردناک عذاب کا خاص حصہ ہو گا۔
    کفر کے سرغنوں کا انجام: کفار کا ذکر یہاں ’اَلَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْ آیَاتِنَا مُعَاجِزِیْنَ‘ کی صفت کے ساتھ فرمایا ہے۔ ’معاجزۃ‘ کے معنی ایک دوسرے کو شکست دینے کے قصد سے باہم مسابقت کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کی تگ و دو رات دن اللہ کی آیات اور اس کی باتوں کو شکست دینے کے لیے وقف رہی ہے ان کو اللہ تعالیٰ ’رجز الیم‘ کے عذاب میں سے حصہ دے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ کفر کے سرغنوں کی طرف ہے جن کے لیے عذاب بھی مخصوص ہوگا۔ اسی مخصوص عذاب کو ’عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِیْمٌ‘ سے تعبیر فرمایا۔ ’رجز‘ اس عذاب کو کہتے ہیں جو نہایت ہولناک ہو۔
    اور جن کو علم عطا ہوا ہے وہ، اس چیز کو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے، سمجھتے ہیں کہ یہی حق ہے اور وہ خدائے عزیز و حمید کے راستہ کی طرف ر ہنمائی کرتی ہے۔
    عاقلوں کی تائید آدمی کے اطمینان کے لیے بس ہے: یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو علم حقیقی کی روشنی عطا ہوئی۔ عام اس سے کہ وہ ان اہل کتاب میں سے ہوں جنھوں نے اپنے نبیوں اور صحیفوں کے علم کو محفوظ رکھا یا ان سلیم الفطرت لوگوں میں سے ہوں جن کے قلوب ان کی سلامت روی کے باعث قرآن کی روشنی میں مستنیر ہوئے۔؂۱ فرمایا کہ یہ لوگ اس چیز کو بالکل حق سمجھتے ہیں جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے۔ یعنی تم جس توحید کی دعوت دے رہے ہو اور جس قیامت سے لوگوں کو ڈرا رہے ہو، وہ اس کی تائید کر رہے ہیں کہ یہی حق ہے اور جو لوگ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر بڑے طنطنہ کے ساتھ توحید اور قیامت کی تکذیب کر رہے ہیں وہ یکسر باطل پر ہیں۔ یہ بات یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے فرمائی گئی ہے کہ اگر بے فکرے اور لاابالی لوگ تمہاری مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی پروا نہ کرو، تمہارے اطمینان کے لیے یہ چیز بس کافی ہے کہ جن کے اندر علم و معرفت کی روشنی ہے وہ تمہارے موید ہیں۔ آدمی کو پروا عاقلوں کی ہونی چاہیے نہ کہ احمقوں اور لاخیروں کی۔ ’وَیَہْدِیْ إِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ‘ یعنی یہ اہل علم اس حقیقت کو برملا تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کتاب لاریب خدائے عزیز و حمید کے راستہ کی طرف رہنمائی کرنے والی ہے۔ یعنی دوسروں نے جو دین گھڑ رکھے ہیں وہ تو تمام تر ضلالت اور ہلاکت کے کھڈ میں گرانے والے ہیں البتہ یہ کتاب خدا کی راہ دکھانے والی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی دو صفتیں مذکور ہوئی ہیں، ایک ’عَزِیْز‘ دوسری ’حَمِیْد‘۔ ’عَزِیْز‘ سے اس کی عزت و قدرت کا اظہار ہو رہا ہے اور ’حَمِیْد‘ سے دنیا اور آخرت دونوں میں اسی کا سزاوار حمد ہونا۔ اور یہ دونوں صفتیں توحید اور قیامت کو مستلزم ہیں، جیسا کہ اوپر کے مباحث سے واضح ہو چکا ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں حقیقی علم: اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ حقیقی علم، قرآن کی اصطلاح میں، صرف خدا کی معرفت اور آخرت کا علم ہے۔ اگر یہ علم کسی کے اندر نہ ہو تو دوسرے کتنے ہی علوم وہ پڑھ ڈالے اس کا یہ سارا علم اس کے لیے بار اور دوسروں کے لیے خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے ’علماء‘ صرف انہی کو کہا ہے جن کو خدا اور آخرت کی معرفت حاصل ہو: إِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء إِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ غَفُوۡرٌ (فاطر: ۲۸) ’’اللہ سے اس کے بندوں میں سے بس وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں اور بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا، بخشنے والا ہے۔‘‘ _____ ؂۱ اہل عرب میں جو لوگ حنیفیت کے پیرو تھے وہ بھی اسی زمرے میں شامل ہیں۔
    اور جنھوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تم کو ایک ایسا آدمی دکھائیں جو تم کو یہ خبر دے رہا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تو ازسرنو ایک نئی خلقت میں اٹھائے جاؤ گے!
    کفار کا رویہ آنحضرت صلعم کی مخالفت میں: اہل ایمان کی روش کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کی روش بیان ہو رہی ہے جو علم کی روشنی سے محروم، کفر کے اندھیرے میں، بھٹک رہے ہیں۔ فرمایا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تمہارا اور تمہاری دعوت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ لوگوں سے کہتے ہیں کہ آؤ ہم تمہیں ایک ایسا سرپھرا دکھائیں جو خدا کا رسول بن کر یہ منادی کرتا پھر رہا ہے کہ لوگ مر کر جب بالکل ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو وہ ازسرنو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے! ۔۔۔ گویا ان کے نزدیک یہ بات اس قابل بھی نہیں کہ اس کی تردید میں کوئی دلیل دی جائے۔
    کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو کسی قسم کا جنون ہے! بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہی عذاب اور نہایت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
    یہ ان کے اسی استہزاء کی مزید تفصیل اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا برمحل جواب ہے۔ ’أَفْتَرٰی عَلَی اللَّہِ کَذِباً أَم بِہِ جِنَّۃٌ‘۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اس شخص کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو یہ مانا جائے کہ اس نے یہ خدا پر جھوٹ باندھا ہے کہ خدا نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس کی طرف سے کہہ رہا ہے یا پھر یہ مانا جائے کہ یہ بھی جنون کی ایک قسم ہے جس میں یہ شخص مبتلا ہو گیا ہے! مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بیک وقت اس شخص میں موجود ہیں۔ یہ مفتری بھی ہے اور مجنون بھی! متمردین کے استہزاء کا باوقار جواب: ’بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَۃِ الاٰیۃ‘۔ ان متمردین کے اس استہزاء کا جواب قرآن نے فوراً دیا اور دیکھیے کتنا باوقار اور موثر جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ ان لال بجھکڑوں نے تشخیص بہت غلط کی۔ خرابی نہ داعی میں ہے نہ دعوت میں بلکہ ساری خرابی خود ان لوگوں کے اندر ہے جو آخرت پر ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ وہ عذاب اور نہایت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ یعنی ایک گمراہی تو وہ ہوتی ہے جس سے پلٹ کر آنے اور اصلاح کا امکان باقی رہتا ہے، ہزار خرابی کے بعد سہی۔ لیکن جو آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوا اس کی بازگشت کا پھر کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا۔ اس کے لیے امید کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے اس انجام کو مستقبل کے صیغہ سے بیان کرنے کے بجائے حال کے اسلوب میں بیان فرمایا اس لیے کہ ان کا یہ انجام ان کے رویہ کے اندر ہی مضمر ہے۔ گویا آج ہی وہ اپنی رعونت کے سبب سے اس سے دوچار ہیں۔
    کیا انھوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان و زمین پر نظر نہیں ڈالی! اگر ہم چاہیں تو ان کے سمیت زمین کو دھنسا دیں یا ان پر آسمان سے ٹکڑے گرا دیں! بے شک اس کے اندر ہر اس بندے کے لیے بہت بڑی نشانی ہے جو متوجہ ہونے والا ہو!
    اس کائنات کی کسی چیز کی نفع رسانی بالاضطرار نہیں بلکہ خدا کے حکم سے ہے: اس مجموعۂ آیات کی پہلی آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے مجوعہ کے آخر میں اسی مضمون کا ایک نئے اسلوب سے اعادہ ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے اس وجہ سے دنیا میں بھی شکر کا حقیقی سزاوار وہی ہے اور آخرت میں بھی اسی کی حمد ہو گی۔ یہاں فرمایا کہ کیا ان مستکبرین نے اس حقیقت پر کبھی غور نہیں کیا کہ یہ آسمان جو ان کے سروں پر شامیانے کی طرح تنا ہوا ہے اور یہ زمین جو ان کے قدموں کے نیچے فرش کی طرح بچھی ہوئی ہے اور جن کے فوائد و برکات سے یہ متمتع ہو رہے ہیں، یہ ان کے تھامے ہوئے نہیں تھمے ہیں بلکہ ان کو اللہ ہی نے تھام رکھا ہے؟ اگر اللہ نے ان کو نہ تھام رکھا ہوتا تو یہ دونوں ان کے لیے نعمتوں کے بجائے نقمتوں کا ذریعہ بن جاتے۔ فرمایا کہ ہم جب چاہیں ان کے سمیت زمین کو دھنسا دیں اور جب چاہیں اسی آسمان سے ابررحمت برسانے کے بجائے ان پر پتھر برسا دیں۔ اس کائنات کی کوئی چیز بھی انسان کو بالاضطرار نفع نہیں پہنچا رہی ہے بلکہ خدا کے حکم سے پہنچا رہی ہے اور کوئی چیز بھی براہ راست انسان کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ خدا کے حکم سے وہ اس کی نفع رسانی میں سرگرم ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے جو انسان پر واجب کرتی ہے کہ وہ کسی نعمت پر اترائے نہیں بلکہ اپنے اس رب کا شکرگزار رہے جس نے اس کو یہ نعمت بخشی ہے اور اس کو خدا کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس کو اسی کی خوشنودی اور فرماں برداری میں استعمال کرے۔ یہی مضمون آگے والی سورہ ۔۔۔ سورۂ فاطر ۔۔۔ میں، جو اس کا مثنیٰ ہے، یوں ارشاد ہوا ہے: إِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُوۡلَا وَلَئِنۡ زَالَتَا إِنْ أَمْسَکَہُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّنۡ بَعْدِہِ إِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُورًا (فاطر: ۴۱) ’’بے شک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ لڑھک نہ جائیں اور اگر وہ دونوں لڑھک جائیں تو کسی کی تاب نہیں کہ وہ خدا کے چھوڑ دینے کے بعد ان کو تھام سکے۔ بے شک وہ نہایت بردبار اور بخشنے والا ہے۔‘‘ ’إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَۃً لِّکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ‘۔ یعنی آسمانوں اور زمین کے اس پہلو پر اگر غور کرتے تو اس کے اندر اس بات کی بہت بڑی دلیل موجود ہے جس کی قرآن ان کو دعوت دے رہا ہے لیکن اس دلیل تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر حقیقت کی طلب، عبرت پذیری کی صلاحیت اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔ جن کے اندر یہ اوصاف نہ ہوں ان کے لیے کوئی نشانی بھی کارگر نہیں ہو سکتی۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List