Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الاحزاب (The Clans, The Confederates, The Combined Forces)

    73 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود، گروپ کے ساتھ اس کا تعلق اور زمانۂ نزول

    جس طرح سورۂ نور اپنے گروپ کے آخر میں پورے گروپ کے تکملہ و تتمّہ کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح سورۂ احزاب اپنے پورے گروپ کا جو فرقان سے شروع ہوا ہے، تکممہ و تتمّہ ہے۔ یہ گروپ، جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، قرآن و رسالت کے اثبات میں ہے۔ اس تعلق سے اس سورہ میں چند باتیں خاص طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔
    ۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بحیثیت رسول جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی تھی اس کی وضاحت اور بے خوف لومۃ لائم اس کو ادا کرنے کی تاکید۔
    ۔۔۔ انبیاء و رسل کے طبقہ کے اندر آپ کو جو امتیاز خاص اور جو مرتبہ و مقام حاصل ہے اس کا بیان۔
    ۔۔۔ امت کے ساتھ آپ کے تعلق کی نوعیت اور امت پر آپ کے حقوق اور ان کے مقتضیات کی وضاحت۔
    ۔۔۔ حضورؐ کی ازواج مطہراتؓ کا درجہ امت کے اندر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے تعلق کی مخصوص نوعیت۔
    ۔۔۔ اس عظیم امانت کا حوالہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر ڈالی گئی ہے اور جس کی وضاحت کے لیے اللہ نے اپنی کتاب نازل فرمائی ہے۔ اس عظیم ذمہ داری کے حقوق و فرائض کی یاددہانی۔
    یہ سورہ اس دور میں نازل ہوئی ہے جب منافقین و منافقات نے قرآن کی بعض اصلاحات کو بہانہ بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پراپیگنڈے کی ایک نہایت مکروہ مہم چلا رکھی تھی۔ یہاں تک کہ ازواج مطہراتؓ کے ذہن کو بھی انھوں نے مسموم کرنے کی کوشش کی۔ اس میں ان فتنوں کی طرف بھی اشارات ہیں جو منافقین نے غزوۂ احزاب کے دوران، جو ۵ھ میں واقع ہوا، مسلمانوں کو بددل کرنے کے لیے اٹھائے۔ اسی سلسلہ میں حضرت زیدؓ اور حضرت زینبؓ کے واقعہ کی اصل نوعیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اس لیے کہ اس واقعہ کو بھی واقعۂ افک کی طرح، جس کا ذکر سورۂ نور میں گزر چکا ہے، منافقین نے فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔

  • الاحزاب (The Clans, The Confederates, The Combined Forces)

    73 آیات | مدنی

    الاحزاب

    ۳۳

    یہ ایک منفرد سورہ ہے جس پر قرآن کے اِس چوتھے باب کا خاتمہ ہورہا ہے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اِس باب کا موضوع اثبات رسالت اور اِس کے حوالے سے قریش کو انذار و بشارت ہے۔ چنانچہ اِسی تعلق سے یہ سورہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق و فرائض بیان کرتی اور آپ اور آپ کی ازواج مطہرات کے بارے میں جو رویہ اُس زمانے کے منافقین و منافقات نے اختیار کر رکھا تھا، اُس پر اُنھیں شدید تنبیہ کرتی ہے۔ نیز مسلمانوں کو ہدایت کرتی ہے کہ اِن کے مقابلے میں وہ اپنے رب ہی پربھروسا رکھیں، اُس کی مدد شامل حال رہی تو یہ اُن کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے، جیسا کہ غزوۂ احزاب کے موقع پر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ و اختیار کے ساتھ عہد اطاعت کی جو عظیم امانت انسان کو دے رکھی ہے، اُس کے حقوق کی یاددہانی بھی اِسی مناسبت سے کی گئی ہے۔ اِس لحاظ سے یہ سورہ بالکل اُسی طرح اِس باب کی تمام سورتوں کا تکملہ و تتمہ ہے، جس طر ح سورۂ نور پچھلے باب کا تکملہ و تتمہ ہے۔
    اِس کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور اہل ایمان بھی، اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ ہجرت کے بعد یہ مدینۂ طیبہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہے، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ حکومت وہاں قائم ہو چکی تھی اور منکرین کے خلاف آخری اقدام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماننے والوں کا تزکیہ و تطہیر کر رہے تھے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 033 Verse 001 Chapter 033 Verse 002 Chapter 033 Verse 003 Chapter 033 Verse 004 Chapter 033 Verse 005 Chapter 033 Verse 006 Chapter 033 Verse 007 Chapter 033 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    اے نبی، اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ بے شک اللہ علیم و حکیم ہے۔
    خطاب کی نوعیت: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں ’یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ‘ سے جو خطاب فرمایا ہے یہ محض تعظیم و تکریم کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ یہ لفظ آپ کے فریضۂ منصبی کی یاددہانی کے لیے یہاں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ کے نبی و رسول ہیں اس وجہ سے آپ کو صرف اپنے رب کی پروا ہونی چاہیے۔ آپ صرف اللہ سے ڈریں، کافروں اور منافقوں کی مخالفتوں سے بالکل بے پروا ہو کر لوگوں کو اللہ کی بات پہنچائیں۔ اسی طرح کا خطاب سورۂ مائدہ میں گزر چکا ہے: ’یٰٓاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنۡزِلَ إِلَیْْکَ مِنۡ رَّبِّکَ‘ (المائدہ: ۶۷) (اے رسول، تم اچھی طرح لوگوں کو وہ چیز پہنچا دو جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے)۔ ’وَلَا تُطِعِ الْکَافِرِیْنَ وَالْمُنَافِقِیْنَ‘۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تنبیہ و تاکید اس لیے نہیں فرمائی گئی کہ خدانخواستہ اس بات کا کوئی اندیشہ تھا کہ آپ کفار و منافقین کی باتوں سے متاثر یا مرعوب ہو جائیں گے بلکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے مخالفین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ اشرار کتنا ہی زور لگائیں اور کتنے ہی فتنے اٹھائیں لیکن تم ان کی باتوں پر ذرا کان نہ دھرنا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ آگے بعض ایسی باتوں کا ذکر آ رہا ہے جن کو کفار و منافقین نے آپ کے خلاف فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ کفار و منافقین کا باہمی رشتہ: یہاں کفار و منافقین کا ایک ساتھ ذکر اس حقیقت کو واضح کر رہا ہے کہ یہ دونوں اصلاً ایک ہی چٹے کے بٹے ہیں۔ اسلام دشمنی میں دونوں متحد ہیں۔ فرق ہے تو یہ ہے کہ ایک کھلم کھلا مخالفت کرتا ہے دوسرا اسلام کا کلمہ پڑھتے ہوئے، مسلمانوں کے اندر گھس کر، اسلام کی بیخ کنی کی کوشش کرتا ہے۔ اس وجہ سے انجام کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ توکل علی اللہ کی دلیل: ’إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا‘۔ یہ اس بات کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ کیوں پیغمبرؐ کو اپنے رب کے سوا سب سے بے خوف و بے پروا ہو کر صرف اس بات کی تبلیغ و تعمیل کرنی چاہیے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ فرمایا کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ اس وجہ سے اس نے جس بات کا حکم دیا ہے وہی بات صحیح علم و حکمت پر مبنی ہے۔ اس کے خلاف لوگ جو بکواسیں کر رہے ہیں ان کی خرافات لائق اعتنا نہیں ہیں۔ آگے آیت ۳۹ اور آیت ۴۸ سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔  
    اور پیروی کرو اس چیز کی جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے وحی کی جا رہی ہے، بے شک اللہ ان تمام چیزوں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔
    اوپر جو بات منفی اسلوب سے فرمائی گئی ہے وہی بات مثبت پہلو سے ارشاد ہوئی ہے کہ اشرار کی تمام شر انگیزیوں سے بالکل بے پروا ہو کر تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی جانب سے آتی ہے اور یہ اطمینان رکھو کہ تمہارے ہر اقدام و عمل سے اللہ اچھی طرح باخبر رہتا ہے۔ اس آیت میں پہلا خطاب واحد سے ہے اور دوسرا ’بِمَا تَعْمَلُوۡنَ‘ جمع سے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو خطاب ہے یہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ جس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دین کے معاملے میں یہی روش مسلمانوں کو بھی اختیار کرنی چاہیے۔
    اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور بھروسے کے لیے اللہ کافی ہے۔
    ’وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلاً‘۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی ہر بات علم و حکمت پر بھی مبنی ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر بھی ہے تو اسی پر بھروسہ رکھو اور اپنے موقف پر ڈٹے رہو۔ اعتماد اور بھروسہ کے لیے اللہ کافی ہے۔ اس کے ہوتے تمہیں کسی دوسرے سہارے کی احتیاج نہیں ہے۔ لفظ ’وکیل‘ کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کر چکے ہیں کہ اس سے مراد وہ ذات ہے جس پر پورا اعتماد کر کے اپنے معاملات اس کے حوالہ کر دیے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کا مطالبہ بندوں سے یہی ہے کہ وہ خدا کے دیے ہوئے احکام کی ہر حال میں تعمیل کریں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں کہ اس راہ میں جو مشکلیں پیش آئیں گی ان سے عہدہ برآ ہونے کی وہ توفیق بخشے گا۔
    اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے اور نہ تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو تمہاری مائیں بنایا اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنا دیا۔ یہ سب تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ حق کہتا ہے اور وہ صحیح راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
    اوپر کی تمہید کے بعد یہ بعض ایسے امور کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن میں قرآن کی اصلاحات کو کفار و منافقین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ فکر و ارادہ کا تضاد خلاف فطرت ہے: ’مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ‘۔ یہ ٹکڑا بعد کی باتوں کے ذکر کے لیے بطور تمہید ہے۔ چونکہ یہ باتیں فکر و ارادہ کے تضاد کا مظہر ہیں اس وجہ سے ان کے ذکر سے پہلے نفس تضاد ارادہ پر روشنی ڈالی کہ اللہ تعالیٰ کو اگر منظور ہوتا کہ انسان متضاد و متناقض ارادوں کی کشمکش ہی میں گرفتار رہے تو اس کو دل بھی ایک سے زیادہ دیتا لیکن اس نے کسی شخص کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس نے انسان کے لیے یہ پسند نہیں فرمایا کہ وہ دو بالکل متناقض ارادے اپنے اندر جمع کر رکھے۔ لیکن یہ انسان کی عجیب کج فہمی ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی ساخت کے بالکل خلاف وہ اپنے اندر متناقض ارادے جمع کر لیتا ہے۔ وہ خدا پر ایمان کا دعویٰ بھی رکھتا ہے اور ساتھ ہی دوسرے شریکوں کی بندگی بھی کرتا ہے۔ رسول سے اطاعت و وفاداری کا عہد بھی باندھتا ہے اور اس کے خلاف اس کے دشمنوں سے سازباز اور اس کی تعلیمات کے خلاف سرگوشیاں اور سازشیں بھی کرتا ہے۔ حالانکہ اگر دل ایک ہے تو اس کے ارادوں میں تضاد و تناقض نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام ارادے بالکل ہم آہنگ و ہم رنگ ہونے چاہییں۔ اگر معاملہ اس کے خلاف ہو تو یہ دل کی خرابی و بیماری کی دلیل ہے اور ہر عاقل کا فرض ہے کہ وہ اس خرابی کی اصلاح کر کے اپنے ارادوں میں ہم آہنگی پیدا کرے۔ تناقض فکر کی ایک مثال: ’وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الّٰٓئِْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰتِکُمْ‘۔ اب یہ اس تضاد فکر و ارادہ کی مثال کے طور پر ظہار کے معاملہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کر بیٹھتا ہے تو اس کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی لیکن لوگوں نے زمانۂ جاہلیت میں اس طرح کی عورتوں کو ماؤں کی طرح محرمات میں شامل کر رکھا تھا۔ اب قرآن نے اس جاہلیت کی جو اصلاح کی تو منافقین و کفار جھاڑ کے کانٹوں کی طرح پیغمبرؐ کے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ جو عورتیں ماؤں کی طرح حرام ہیں اس شخص نے اپنے پیرؤوں کے لیے ان کو بھی جائز کر دیا۔ ظہار: ’ظہار‘ عرب جاہلیت کی ایک اصطلاح ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہہ بیٹھتا کہ ’اَنتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمّی‘ (اب تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح حرام ہے) تو اس کی بیوی اس کے اوپر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی۔ اسی لفظ ’ظھر‘ سے جس کے معنی پیٹھ کے ہیں ’ظہار‘ کی اصطلاح پیدا ہو گئی۔ لیکن اس کا اطلاق انہی الفاظ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ کوئی شخص اپنی بیوی کے کسی اور حصۂ جسم کو بھی، بارادۂ تحریم، اپنی محرمات میں سے کسی سے مشابہ قرار دے دے تو اس کا حکم بھی ظہار ہی کا ہو گا۔ عرب جاہلیت میں یہ صورت ایک طلاق مغلظ کی تھی جس کے بعد کسی شخص کے لیے اپنی بیوی سے مراجعت کی کوئی شکل باقی نہیں رہ جاتی تھی۔ قرآن نے، جیسا کہ سورۂ مجادلہ کی آیات ۲-۴ میں تفصیل آئے گی، اس طرح کی بات کو منکر اور جھوٹ قرار دیا اور یہ اجازت دے دی کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح کی بات کہہ بیٹھے اور وہ پھر اس کے ساتھ زن و شو کے تعلقات قائم کرنا چاہے تو ایسا کر سکتا ہے اس لیے کہ اس طرح کی بیہودہ بات کہہ دینے سے کسی کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی لیکن اس نے چونکہ ایک منکر اور باطل بات کہی ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ ملاقات سے پہلے وہ ایک غلام آزاد کرے، اگر غلام میسر نہ ہو تو لگاتار دو ماہ روزے رکھے اور اگر اس کی قدرت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس اصلاح سے قرآن نے ان لوگوں کی گھریلو زندگی کو درہم برہم ہونے سے بچانے کی راہ بھی کھولی جو غصہ اور جھنجھلاہٹ میں آ کر، نتائج پر نگاہ کیے بغیر، فضول باتیں زبان سے نکال دیا کرتے ہیں اور ساتھ ہی آئندہ کے لیے ان کو اور دوسروں کو محتاط رہنے کا سبق بھی دے دیا لیکن کفار و منافقین نے، جو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے لیے کسی شوشے کی تلاش میں رہتے تھے، اس چیز کو بھی فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا کر لوگوں میں یہ پھیلانا شروع کر دیا کہ اس شخص کو دیکھو، اس نے ماں اور بیوی کے درمیان کوئی فرق ہی باقی نہیں رکھا! اسی چیز کی طرف یہاں آیت میں اشارہ ہے کہ یہ لوگ دودلی اور تضاد فکر و ارادہ کی بیماری میں مبتلا ہیں ورنہ انھیں سوچنا چاہیے کہ مجرد ایک بدتمیزی و جہالت کی بات کہہ دینے سے کسی کی بیوی اس کی ماں کس طرح بن جائے گی! اس غلطی پر وہ تادیب و اصلاح کا مستحق تو ضرور ہے تاکہ اس کو بھی اور معاشرہ کے دوسرے لوگوں کو بھی سبق حاصل ہو لیکن اس سزا کا مستحق تو وہ نہیں ہے کہ اس کی عائلی زندگی کا شیرازہ بالکل درہم برہم ہو کر رہ جائے۔ یہاں ہم صرف اشارہ پر کفایت کرتے ہیں اس لیے کہ قرآن نے بھی اشارہ ہی کیا ہے۔ ان شاء اللہ سورۂ مجادلہ کی تفسیر میں ہم اس پر مفصل بحث کریں گے اور بتائیں گے کہ اس طریقۂ طلاق میں شریعت کے قراردادہ طریقہ کے مقابل میں کیا کیا مفاسد موجود ہیں جن کی قرآن نے اصلاح کی ہے۔ تضاد فکر کی دوسری مثال: ’وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَکُمْ اَبْنَآءَ کُمْ‘ اسی طرح کے تضاد فکر میں لوگ منہ بولے بیٹوں کے معاملے میں بھی مبتلا تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں منہ بولے بیٹوں کو بالکل صلبی بیٹوں کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے متبنیّٰ کی منکوحہ سے اس کی وفات یا طلاق کے بعد نکاح کر سکے۔ یہ چیز اس فطری نظام عائلی کے بالکل خلاف تھی جس کو اسلام نے ’اُولُوا الارحام بعضھم اولی ببعض‘ کے اصول پر قائم فرمایا ہے۔ اس وجہ سے جب اس کی اصلاح کا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ حضرت زیدؓ کی مطلقہ بیوی حضرت زینبؓ سے نکاح کر لیں تاکہ اس غلط رسم کا خاتمہ ہو جائے۔ حضرت زیدؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنیّٰ کی حیثیت حاصل تھی اس وجہ سے اس رسم جاہلی کی اصلاح کا سب سے زیادہ مؤثر طریقہ یہی ہو سکتا تھا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے اقدام فرمائیں لیکن کفار و منافقین نے اس کو بھی آنحضرت صلعم کے خلاف فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنایا کہ اس شخص نے اپنے منہ بولے بیٹے کی منکوحہ سے نکاح کر لیا۔ اسی فتنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ بھی ان لوگوں کی دودلی کا کرشمہ ہے کہ یہ صلبی بیٹے اور منہ بولے بیٹے میں فرق نہیں کر رہے ہیں، دونوں کو ایک ہی درجے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس واقعہ پر مفصل بحث فصل ۶ میں آگے آ رہی ہے اس وجہ سے ہم یہاں اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔ قرآن فطرت کی راہ کی طرف رہنمائی کر رہا ہے: ’ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاھِکُمْ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ‘۔ یعنی اس قسم کی تمام باتیں تمہاری اپنی زبانوں کی گھڑی ہوئی ہیں۔ ان کو عقل و فطرت اور اللہ کی شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس وجہ سے یہ باطل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ذریعے سے تمہیں حق بتا رہا ہے اور تمہاری رہنمائی فطرت کی صراط مستقیم کی طرف کر رہا ہے تو اس صراط مستقیم کو اختیار کرو اور جاہلیت کے رسوم و بدعات سے باہر نکلو۔  
    منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت کے ساتھ پکارو۔ یہی اللہ کے نزدیک قرین عدل ہے اور اگر تم کو ان کے باپوں کا پتہ نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے شریک قبیلہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس باب میں تم سے جو غلطی ہوئی اس پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں، البتہ تمہارے دلوں نے جس بات کا عزم کر لیا اس پر مواخذہ ہے۔ اور اللہ غفور رّحیم ہے۔
    اسلام کے نظام میں کوئی خلاف فطرت چیز داخل نہیں ہو سکتی: ’اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِہِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ‘ یعنی منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت کے ساتھ پکارو تاکہ ان کے نسب کا امتیاز باقی رہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ کے قانون میں حق و عدل سے اقرب و اوفق ہے۔ اگر اس کی خلاف ورزی کر کے منہ بولے بیٹوں کو بالکل بیٹوں کے درجے میں کر دیا گیا تو وہ سارا نظام وراثت و قرابت و معاشرت بالکل تلپٹ ہو جائے گا جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ نے رحمی رشتوں اور انسانی فطرت کے جذبات و داعیات پر رکھی ہے۔ اسلام کے تمام احکام و قوانین خواہ وہ کسی شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہوں، اللہ تعالیٰ نے عدل و قسط پر قائم کیے ہیں اس وجہ سے اس میں کوئی بات اس عدل و قسط کے خلاف داخل نہیں ہو سکتی۔ اہل عرب کا ایک معاشرتی اصول: ’فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْا اٰبَآءَھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ‘ یعنی اگر ان کے باپوں کا پتہ نہ ہو تو ان کی حیثیت دینی بھائیوں اور ’’موالی‘‘ کی ہو گی۔ دینی اخوت کے رشتہ سے تو عربوں کو اول اول اسلام نے آشنا کیا، جاہلیت میں عرب اس سے بالکل نا آشنا تھے، لیکن خاندانوں اور قبیلوں کے ساتھ وابستہ ہونے کا ایک طریقہ حلف اور وِلا کا ان کے ہاں موجود تھا۔ خاندان یا قبیلہ سے باہر کا کوئی شخص اگر کسی خاندان یا قبیلہ میں شامل ہونا چاہتا اور اس خاندان والے اس کو شامل کر لیتے تو وہ اس خاندان کا ’مولیٰ‘ سمجھا جاتا اور جملہ حقوق اور ذمہ داریوں میں شریک خاندان و قبیلہ بن جاتا۔ اگر وہ قتل ہو جاتا تو جس خاندان یا قبلہ کا وہ مولیٰ ہوتا اس کو یہ حق حاصل ہوتا کہ وہ اس کے قصاص کا مطالبہ کرے۔ اسی طرح اگر وہ کوئی اقدام کر بیٹھتا جس کی بنا پر کوئی ذمہ داری عائد ہونے والی ہوتی تو اس ذمہ داری میں بھی پورے خاندان و قبیلہ کو حصہ لینا پڑتا: ’مولی القوم منہم‘ (قوم کا مولیٰ انہی کے اندر کا ایک فرد شمار ہوگا) عربوں میں ایک مسلم سماجی اصول تھا اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے بھی اس کو برقرار رکھا۔ کسی خاندان کے آزاد کردہ غلام کا وِلا بھی آزاد کرنے والے خاندان کو حاصل ہوتا۔ مثلاً اگر وہ آزاد کردہ غلام مرتا اور اس کا کوئی وارث نہ ہوتا تو وِلا کے تعلق کی بنا پر اس کی وراثت اس کے آزاد کرنے والوں کو پہنچتی۔ آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کسی کے متبنیٰ کے باپ کا علم نہ ہو تو اس کی حیثیت دینی بھائی اور مولیٰ کی قرار پائے گی لیکن کسی صورت میں اس کو صلبی بیٹے کی حیثیت حاصل نہ ہو گی۔ غلطی اور جرم میں فرق: ’وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا‘۔ یعنی اس معاملے میں جو غلطی بربنائے جہالت اب تک ہوئی ہے اس پر تو کوئی مواخذہ نہیں ہے، اللہ غفور رحیم ہے، لیکن اب اس تنبیہ و تعلیم کے بعد بھی اگر اسی غلط بات پر اصرار قائم رہا تو اس کی نوعیت غلطی کی نہیں بلکہ جرم کی ہو گی، اس لیے کہ یہ چیز تمہارے دلوں کے قصد و ارادہ اور دیدہ و دانستہ تعمد کا نتیجہ ہو گی جس پر اللہ تعالیٰ ضرور مواخذہ فرمائے گا۔  
    اور نبی کا حق مومنوں پر خود ان کے اپنے مقابل میں اَولیٰ ہے اور ازواج نبی کی حیثیت مومنین کی ماؤں کی ہے اور رحمی رشتے رکھنے والے آپس میں، دوسرے مومنین و مہاجرین کے مقابل، اَولیٰ ہیں، اللہ کے قانون میں۔ یہ اور بات ہے کہ تم اپنے اولیاء و اقرباء کے ساتھ کوئی حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ چیز کتاب میں نوشتہ ہے۔
    اسلامی معاشرے میں فرق مراتب: یہ اس فرق مراتب کو واضح فرمایا ہے جو اسلامی معاشرے میں مسلمانوں کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت ہوئی۔ اس وضاحت سے مقصود مسلمانوں کو اس خلط مبحث سے بچانا ہے جس کی بعض مثالیں اوپر گزر چکی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ: ’اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ‘۔ ’اَوْلٰی‘ کے معنی احق کے ہیں۔ مثلاً ’اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ‘ (آل عمران ۶۸) یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہر مسلمان پر دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ خود اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔ اس مضمون کی وضاحت آگے اسی سورہ میں ان الفاظ میں ہو گئی ہے: وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا.(الاحزاب ۳۶) “جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مومن اور مومنہ کے لیے ان کے معاملے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہ جاتا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا۔” اس سے معلوم ہوا کہ جس معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کا کوئی فیصلہ صادر ہو جائے اس میں کسی مومن یا مومنہ کے لیے کسی چون و چرا کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ رسول جو کچھ فرماتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نمائندے کی حیثیت سے فرماتا ہے اس وجہ سے ایمان کا لازمی تقاضا ہر مرد اور عورت کے لیے یہی ہے کہ وہ رسول کے احکام و ہدایات کی اللہ تعالیٰ کے احکام کی طرح بے چون و چرا تعمیل کرے۔ نہ دوسروں کی مخالفت و مزاحمت کی کوئی پروا کرے نہ اپنے مصالح و مفادات کی اور نہ اپنے جان و مال کی۔ ازواج مطہراتؓ کا درجہ: ’وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُہُمْ‘۔ یہ اس تعلق خاص کا قدرتی نتیجہ بیان ہوا ہے جو ہر امتی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا ہے یا ہونا چاہیے۔ اگر اس تعلق میں نفاق کی کوئی آلائش نہ ہو تو فطری طور پر ہر مسلمان کے جذبات ازواج مطہراتؓ کے معاملے میں وہی ہوں گے جو شریف بیٹوں کے اندر اپنی ماؤں کے لیے ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کی بنا پر ان کے لیے دلوں میں ایسا احترام اور ان کی عظمت کا ایسا غلبہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص ان کے ساتھ نکاح کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس سے الگ ہو کر اگر سوچ سکتے تھے تو صرف منافقین سوچ سکتے تھے اور وہ اپنے مفسدانہ اغراض کے لیے، تفصیل آگے آئے گی، ریشہ دوانیاں بھی کرتے رہتے تھے۔ اس آیت نے ان کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کر دیا اور آگے اسی بنیاد پر صاف الفاظ میں یہ ممانعت آ گئی: ’وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْم بَعْدِہٖٓ اَبَدًا‘(۵۳) (اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ اس کے بعد کبھی اس کی بیویوں سے نکاح کرو) یہاں اس اشارے پر قناعت کیجیے۔ آگے ان شاء اللہ ہم ان دینی مصالح پر روشنی ڈالیں گے جو اس ممانعت کے اندر مضمر تھے۔ مومنین کے باہمی حقوق کی بنیاد رحمی رشتوں پر: ’وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہراتؓ کو امت میں جو امتیازی مقام حاصل ہے اور جس پہلو سے حاصل ہے اس کو بیان کرنے کے بعد بقیہ سب کے تعلقات کے لیے اساس اس اصول کو قرار دیا ہے جو سورۂ نساء میں بیان ہو چکا ہے۔ یعنی رحمی رشتے رکھنے والے اقرب فالاقرب کے اصول پر ایک دوسرے کے حق دار ٹھہریں گے۔ ’فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ‘ سے مراد یہاں قرآن کی سورۂ نساء کی آیات ۷-۱۳ ہیں جن میں اسی فطری اصول کے مطابق تقسیم وراثت کا ضابطہ بیان ہوا ہے۔ مہاجرین و انصار کے درمیان حقوق کا جو عارضی نظم قائم کیا گیا تھا وہ ختم کر دیا گیا: ’اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِکُمْ مَّعْرُوْفًا کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا‘۔ اس کے بعد صرف اتنی گنجائش باقی رہ گئی کہ آدمی کے جو اعزہ و احباب اس کی وراثت کے حق دار نہیں ہیں اگر ان کے ساتھ وہ کوئی حسن سلوک کرنا چاہے تو ان حدود کے اندر کر سکتا ہے جو شریعت نے مقرر کر دیے ہیں۔ ان حدود کی تفصیل بھی سورۂ نساء میں بیان ہو چکی ہے۔ ’کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا‘ میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔  
    اور یاد کرو، جب ہم نے نبیوں سے ان کے عہد لیے اور تم سے بھی اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی، اور ہم نے ان سے نہایت محکم عہد لیا۔
    حضرات انبیاء کا مشترکہ مشن: آیات ۱-۲ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو، ہر خوف و اندیشہ سے بے پروا ہو کر، صرف وحی الٰہی کی پیروی اور اسی کی دعوت کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے، پیرے کے آخر میں اسی بات کو حضرات انبیاء علیہم السلام کی تاریخ سے مزید موثق کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو ہدایت ہم تمہیں کر رہے ہیں اسی کی ہدایت ہم نے اپنے تمام نبیوں کو کی اور ان سے یہ عہد لیا کہ اللہ کی طرف سے ان کو جو وحی کی جا رہی ہے خود بھی اس کی پیروی کریں اور بے کم و کاست اس کو لوگوں کو بھی پہنچائیں۔ فرمایا کہ یہ میثاق ہم نے تم سے بھی لیا، نوحؑ سے بھی لیا، ابراہیمؑ سے بھی لیا، موسیٰؑ سے بھی لیا اور عیسیٰ ابن مریمؑ سے بھی لیا۔ عام کے بعد یہ خاص خاص جلیل القدر انبیاء کا حوالہ دے کر انبیاء کی پوری تاریخ سامنے رکھ دی گئی ہے تاکہ یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے کہ اس ذمہ داری کا بارگراں ہر نبی اور اس کے ساتھیوں کو اٹھانا پڑا ہے۔ اس خاص فہرست میں سب سے پہلے آنحضرت صلعم کا ذکر اس وجہ سے ہے کہ اصل مقصود آپؐ ہی کو یاددہانی ہے۔ اس میثاق کا حوالہ قرآن مجید میں جگہ جگہ مذکور ہے۔ خاص طور پر سورۂ مائدہ میں اس کی پوری تاریخ بیان ہو گئی ہے۔ یہاں ہر میثاق کا حوالہ دینے میں طوالت ہو گی۔ ہم بطور مثال صرف ایک میثاق کا حوالہ دیتے ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لیا گیا۔ حضرت موسیٰؑ کو خطاب کر کے ارشاد ہوا ہے: ’ٍ فَخُذْہَا بِقُوَّۃٍ وَأْمُرْ قَوْمَکَ یَأْخُذُواْ بِأَحْسَنِہَا‘ (الاعراف: ۱۴۵) (تم خود بھی اس کو مضبوطی سے پکڑو اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ اس بہترین چیز کو پوری مضبوطی سے اختیار کرے)۔ ’وَأَخَذْنَا مِنْہُم مِّیْثَاقاً غَلِیْظاً‘۔ یعنی اس میثاق کے معاملہ میں ہم نے ذرہ برابر بھی نرمی اور مداہنت نہیں برتی۔ بلکہ ہر ایک سے مضبوط عہد لیا۔ اور اس کو پوری مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم و استوار رہنے کی تاکید در تاکید فرمائی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ اول تو اس عہد کو میثاق سے تعبیر فرمایا ہے جو خود مضبوط و مستحکم عہد کے لیے آتا ہے پھر اس کے ساتھ ’غلیظ‘ کی قید بھی لگائی ہے جس سے اس کے اندر مزید استحکام پیدا ہو گیا ہے۔  
    تاکہ اللہ راست بازوں سے ان کی راست بازی کی بابت سوال کرے (اور کافروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کی نسبت)، اور کافروں کے لیے اللہ نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
    میثاق لینے کی حکمت: یہ میثاق لینے کی حکمت و مصلحت بیان فرمائی کہ انبیاء علیہم السلام کی اس تبلیغ کے بعد ہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ اتمام حجت ہوا۔ جس کے بعد وہ مستحق ہوئے کہ اللہ تعالیٰ راست بازوں سے ان کی راست بازی سے متعلق اور کافروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کے متعلق پوچھ گچھ کرے اور پھر ہر ایک کو ان کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے، اس اتمام حجت کے بغیر اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی گمراہی پر سزا دیتا تو یہ چیز اس کے عدل و رحمت کے خلاف ہوتی اور لوگ قیامت کے دن عذر کر سکتے۔ آگے آیت ۲۴ اور ۳۷-۴۰ کے تحت اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ سورۂ نساء کی آیت ’لِئَلاَّ یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ‘ (۱۶۵) میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے اور وہاں ہم اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List