Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • السجدہ (The Prostration, Worship, Adoration)

    30 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ لقمان ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قرآنی نام بھی دونوں کا ایک ہی یعنی ’الٓمّٓ‘ ہے۔ تمہید بھی دونوں کی ایک ہی نوع کی ہے۔ اس کا آغاز اس مضمون سے ہوتا ہے کہ یہ کتاب خداوند عالم کی اتاری ہوئی کتاب ہے۔ اس کو اتار کر اللہ تعالیٰ نے ان امّی عربوں پر عظیم احسان فرمایا ہے جن کے اندر اب تک کوئی منذر نہیں آیا تھا۔ وہ انتہائی ناشکرے ہوں گے اگر انھوں نے اس کی قدر کرنے کے بجائے اس کے کتاب الٰہی ہونے کے دعوے کو افتراء قرار دیا۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں ذرا شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے بعد کلام کا رخ قرآن کے ان دعاوی کے اثبات کی طرف مڑ گیا ہے جو خاص طور پر مخالفین کی وحشت کا باعث تھے اور جن کے سبب سے وہ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ آخر میں تورات کا حوالہ ہے کہ اسی طرح کتاب، اللہ نے حضرت موسیٰؑ پر بھی اتاری تھی جس کی فرعون اور اس کی قوم نے مخالفت کی اور اس کا نہایت برا انجام ان کے سامنے آیا۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح تورات کے حاملین کو صبر کے امتحانوں سے گزرنے کے بعد کامیابی حاصل ہوئی اسی طرح تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بھی صبر کے امتحان سے گزرنا پڑے گا۔ اگر تم ان مراحل سے کامیابی سے گزر گئے تو فتح تمہی کو حاصل ہو گی۔ تمہارے یہ مخالفین بالآخر پامال ہو کر رہیں گے۔

  • السجدہ (The Prostration, Worship, Adoration)

    30 آیات | مکی

    لقمان ۔ السجدہ

    ۳۱ ۔ ۳۲

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ حکیم لقمان کے حوالے سے دین فطرت کے جن حقائق کا اثبات کرتی ہے، دوسری میں اُنھی کے متعلق لوگوں کے اُن شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو اُس وقت پیش کیے جا رہے تھے۔
    دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے اور دونوں کے مخاطب قریش مکہ ہیں۔
    اِن سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت اور فتح و نصرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 032 Verse 001 Chapter 032 Verse 002 Chapter 032 Verse 003 Chapter 032 Verse 004 Chapter 032 Verse 005 Chapter 032 Verse 006 Chapter 032 Verse 007 Chapter 032 Verse 008 Chapter 032 Verse 009 Chapter 032 Verse 010 Chapter 032 Verse 011 Chapter 032 Verse 012 Chapter 032 Verse 013 Chapter 032 Verse 014
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الٓمّٓ ہے۔
    ’الٓمّٓ‘ یہ اور اس طرح کے جتنے حروف بھی مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں چونکہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں۔ یہ جس سورہ میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں اس طرح آئے ہیں جس طرح کتابوں، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ذٰلک اور تِلۡکَ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام ہونے کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ حدیثوں سے بھی ان کا نام ہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جو سورتیں ان ناموں سے موسوم ہیں اگرچہ ان میں سے سب اپنے انہی ناموں سے مشہور نہیں ہوئیں بلکہ بعض دوسرے ناموں سے مشہور ہوئیں، لیکن ان میں سے کچھ اپنے انہی ناموں سے مشہور بھی ہیں۔ مثلاً طٰہٰ، یٰس، ق اور ن وغیرہ۔ ان ناموں کے معانی کے بارے میں کوئی قطعی بات کہنا بڑا مشکل ہے اس وجہ سے ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قرآن کا تو دعویٰ یہ ہے کہ وہ ایک بالکل واضح کتاب ہے، اس میں کوئی چیز بھی چیستاں یا معمے کی قسم کی نہیں ہے، پھر اس نے سورتوں کے نام ایسے کیوں رکھ دیے ہیں جن کے معنی کسی کو بھی نہیں معلوم؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لینا عربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔ قرآن پر اہل عرب نے بہت سے اعتراضات کئے اور ان کے یہ سارے اعتراض قرآن نے نقل بھی کئے ہیں لیکن ان کے اس طرح کے کسی اعتراض کا کوئی ذکر نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ناموں میں ان کے لئے کوئی اجنبیت نہیں تھی۔ علاوہ بریں جن لوگوں کی نظر اہل عرب کی روایات اور ان کے لٹریچر پر ہے وہ جانتے ہیں کہ اہل عرب نہ صرف یہ کہ اس طرح کے ناموں سے نامانوس نہیں تھے بلکہ وہ خود اشخاص، چیزوں، گھوڑوں، جھنڈوں، تلواروں حتیٰ کہ قصائد اور خطبات تک کے نام اسی سے ملتے جلتے رکھتے تھے۔ یہ نام مفرد حروف پر بھی ہوتے تھے اور مرکب بھی ہوتے تھے۔ ان میں یہ اہتمام بھی ضروری نہیں تھا کہ اسم اور مسمٰی میں کوئی معنوی مناسبت پہلے سے موجود ہو بلکہ یہ نام ہی بتاتا تھا کہ یہ نام اس مسمٰی کے لئے وضع ہوا ہے۔ اور یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شے کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ یہ نام ہے تو پھر اس کے معنی کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ نام سے اصل مقصود مسمٰی کا اس نام کے ساتھ خاص ہوجانا ہے نہ کہ اس کے معنی۔ کم ازکم فہم قرآن کے نقطۂ نظر سے ان ناموں کے معانی کی تحقیق کی تو کوئی خاص اہمیت ہے نہیں۔ بس اتنی بات ہے کہ چونکہ یہ نام اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے ہیں اس وجہ سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت کی بنا پر رکھے گئے ہوں گے۔ یہ خیال فطری طور پر طبیعت میں ایک جستجو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی جستجو کی بنا پر ہمارے بہت سے پچھلے علماء نے ان ناموں پر غور کیا اور ان کے معنی معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کی جستجو سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن ہمارے نزدیک ان کا یہ کام بجائے خود غلط نہیں تھا اور اگر ہم بھی ان پر غور کریں گے تو ہمارا یہ کام بھی غلط نہیں ہو گا۔ اگر اس کوشش سے کوئِی حقیقت واضح ہوئی تو اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہو گا اور اگر کوئی بات نہ مل سکی تو اس کو ہم اپنے علم کی کوتاہی اور قرآن کے اتھاہ ہونے پر محمول کریں گے۔ یہ رائے بہرحال نہیں قائم کریں گے کہ یہ نام ہی بے معنی ہیں۔ اپنے علم کی کمی اور قرآن کے اتھاہ ہونے کا یہ احساس بجائے خود ایک بہت بڑا علم ہے۔ اس احساس سے علم و معرفت کی بہت سی بند راہیں کھلتی ہیں۔ اگر قرآن کا پہلا ہی حرف اس عظیم انکشاف کے لئے کلید بن جائے تو یہ بھی قرآن کے بہت سے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہو گا۔ یہ اسی کتاب کا کمال ہے کہ اس کے جس حرف کا راز کسی پر نہ کھل سکا اس کی پیدا کردہ کاوش ہزاروں سربستہ اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے دلیل راہ بنی۔ ان حروف  پر ہمارے پچھلے علماء نے جو رائیں ظاہر کی ہیں ہمارے نزدیک وہ تو کسی مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا۔ البتہ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمة اللہ علیہ کی رائے اجمالاً یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس سے اصل مسئلہ اگرچہ حل نہیں ہوتا لیکن اس کے حل کے لئے ایک راہ کھلتی ضرور نظر آتی ہے۔ کیا عجب کہ مولانا رحمة اللہ علیہ نے جو سراغ دیا ہے دوسرے اس کی رہنمائی سے کچھ مفید نشانات راہ اور معلوم کر لیں اور اس طرح درجہ بدرجہ تحقیق کے قدم کچھ اور آگے بڑھ جائیں۔ جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لئے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امام رحمة اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرف صرف آواز ہی  نہیں بتاتے تھے بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرف معانی اور اشیاء پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیاء پر وہ دلیل ہوتے تھے عموماً ان ہی کی صورت و ہئیت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کئے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم و اصلاح کر کے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی جس کے آثار اہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔ ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً “الف” کے متعلق معلوم ہے کہ وہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت ہی پر لکھا جاتا ہے۔ “ب” کو عبرانی میں بَیت کہتے بھی ہیں اور اس کے معنی بھی “بیت” (گھر) کے ہیں۔ “ج” کا عبرانی تلفظ جمیل ہے جس کے معنی جمل (اونٹ) کے ہیں۔ “ط” سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی کی شکل پر جاتا تھا۔ “م” پانی کی لہر پر دلیل ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔ مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورہ “ن” کو پیش کرتے ہیں۔ حرف “نون” اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جو سورہ اس نام سے موسوم ہوئی ہے اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر صاحب الحوت، مچھلی والے، کے نام سے آیا ہے۔ مولانا اس نام کو پیش کر کے فرماتے ہیں کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورہ کا نام “نون” (ن) اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں صاحب الحوت، حضرت یونس علیہ السلام، کا واقعہ بیان ہوا ہے جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں وہ  بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بنا پر آئے ہوں۔ قران مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً حرف “ط” کے معنی، جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہئیت بھی سانپ کی ہئیت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ اب قرآن میں سورہ طٰہٰ کو دیکھئے جو “ط” سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ  بیان ہوتا ہے۔ اسی طرح طسم، طس وغیرہ بھی “ط” سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کر لینے کا معجزہ مذکور ہے۔ “الف” کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ گائے کے سر کی ہئیت پر لکھا بھی جاتا تھا اور گائے کے معنی بھی بتاتا تھا۔ اس کے دوسرے معنی اللہ واحد کے ہوتے تھے۔ اب قرآن مجید میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ بقرہ میں جس کا نام الف سے شروع ہوتا ہے، گائے کے ذبح کا قصہ بیان ہوا ہے۔ دوسری سورتیں جن کے نام الف سے شروع ہوئے ہیں توحید کے مضمون میں مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ مضمون ان میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان ناموں کا یہ پہلو بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن سورتوں کے نام ملتے جلتے سے ہیں ان کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں بلکہ بعض سورتوں میں تو اسلوب بیان تک ملتا جلتا ہے۔ میں نے مولانا کا یہ نظریہ، جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لئے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معانی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ محض علوم قرآن کے قدردانوں کے لئے ایک اشارہ ہے، جو لوگ مزید تحقیق و جستجو کی ہمت رکھتے ہیں وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس راہ سے یہ مشکل آسان کر دے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ سابق سورہ کی طرح اس سورہ کی تمہید بھی بقرہ کی تمہید سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔
    اس کتاب کی تنزیل، اس میں ذرا شبہ نہیں، خداوند عالم کی طرف سے ہے۔
    قرآن پر قریش اور یہود کا اصل اعتراض: ’تَنزِیْل‘ کے معنی ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ صرف اتارنے کے نہیں بلکہ اہتمام خاص کے ساتھ درجہ بدرجہ اتارنے کے ہیں۔ ’الکتٰب‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی اس کتاب کی تنزیل ’اَللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ‘ کی طرف سے ہے۔ اس کے اللہ رب العٰلمین کی طرف سے ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ’لَا رَیْْبَ فِیْہِ‘ کا یہی مفہوم ہم نے سورۂ بقرہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ اس آیت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ قریش اور یہود دونوں کو سب سے زیادہ اختلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دعوے سے تھا کہ یہ کتاب آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جاتی ہے۔ اس دعوے کو وہ، جیسا کہ آگے کی آیت سے واضح ہو گا ’اِفْتِرَاء‘ قرار دیتے یعنی آنحضرت صلعم پر یہ الزام لگاتے کہ نعوذ باللہ اس کتاب کو یہ تصنیف تو خود کرتے ہیں لیکن ہمارے اوپر دھونس جمانے کے لیے اس کو جھوٹ موٹ منسوب اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔
    کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود اپنے جی سے گھڑ کر اس کو خدا کی طرف منسوب کر دیا ہے! بلکہ یہی تیرے رب کی جانب سے حق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہوشیار کر دو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہوشیار کرنے والا نہیں آیا تاکہ وہ راہ یاب ہوں۔
    یہ سوال حیرت و تعجب کی نوعیت کا ہے کہ کیا یہ لوگ حق کی مخالفت میں ایسے اندھے بہرے ہو گئے ہیں کہ اس کتاب کے کتاب الٰہی ہونے کے دعوے کو افتراء قرار دیتے ہیں! مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے اندر انصاف اور سچائی کی کوئی رمق ہوتی تو یہ بات وہ زبان سے نہ نکالتے لیکن یہ لوگ مخالفت کے جوش میں بالکل اندھے بہرے بن چکے ہیں۔ جواب میں دھمکی: ’بَلْ ہُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّکَ‘۔ اس الزام کا جواب قرآن مجید نے مختلف پہلوؤں سے دیا ہے جن کی وضاحت پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ یہاں کوئی تفصیلی جواب دینے کے بجائے نہایت سخت دھمکی کے انداز میں دعوے کو مزید مؤکد کر دیا ہے۔ اور یہ تاکید یہاں دو پہلوؤں سے نمایاں ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ یہی حق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جس دین آبائی کے علم بردار ہیں وہ بالکل باطل ہے، صحیح دین یہی ہے جس کی دعوت یہ کتاب دے رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کتاب کے متعلق اس وہم میں نہ رہیں کہ اس کو خدا کی طرف جھوٹ موٹ نسبت دی جا رہی ہے۔ یہ فی الحقیقت خدا ہی کی طرف سے ہے، اگر یہ لوگ اسی طرح اس کو جھٹلاتے رہے تو اس کا انجام خود بھگتیں گے۔ اُمّی عربوں پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان: ’لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاہُم مِّن نَّذِیْرٍ مِّن قَبْلِکَ لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُونَ‘۔ یہ اس کتاب کے اس اہتمام کے ساتھ اتارنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے اتاری ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو اس زندگی کے انجام اور آخرت کے احوال سے آگاہ کر دو جن کے اندر تم سے پہلے کوئی منذر نہیں آیا۔ یہاں ’قوم‘ سے مراد اہل عرب ہیں جن کے اندر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ یہ اس کتاب کے احسان کا پہلو نمایاں فرمایا گیا ہے کہ اُمّی عربوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب نازل کر کے بہت بڑا فضل فرمایا ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اس عظیم نعمت کی قدر کریں۔ ساتھ ہی اس کے اندر انذار کا پہلو بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کے اندر اپنا منذر بھیج دیتا ہے تو اس قوم کی قسمت میزان میں آ جاتی ہے۔ اگر اس کے بعد بھی وہ اپنے رویہ کی اصلاح نہیں کرتی تو ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو لازماً تباہ کر دیتا ہے۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت جگہ جگہ اس کتاب میں ہو چکی ہے۔
    اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دنوں میں پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ اس کے سوا نہ تمہارے لیے کوئی کارساز ہے اور نہ اس کے مقابل میں کوئی سفارشی۔ کیا تم لوگ چیتتے نہیں!
    انذار کا خاص موضوع: اوپر کی آیت میں اس کتاب کی تنزیل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا خاص مقصد انذار بتایا گیا ہے۔ اب یہ اسی کی تفصیل آ رہی ہے۔ انذار کا خاص موضوع دو چیزیں ہیں۔ ایک توحید دوسری قیامت قرآن مجید اول تو اس بات سے ڈراتا ہے کہ لوگ غلط سہاروں اور فرضی معبودوں کی امید پر زندگی نہ گزاریں۔ اس کائنات کا خالق و مدبر تنہا اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ ہے۔ سب کو بالآخر اسی کی طرف لوٹنا اور اسی کے آگے جواب دہ ہونا ہے۔ اس وجہ سے اسی کی شکرگزاری اور اسی کی عبادت و اطاعت سب پر واجب ہے۔ دوسرے وہ قیامت سے ڈراتا ہے کہ قیامت شدنی ہے۔ بالآخر سب کی پیشی خدا ہی کے آگے ہو گی۔ اس وقت مجرم اپنے جرم کا اعتراف اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ اگر ایک مرتبہ پھر انھیں دنیا میں جانے کی مہلت نصیب ہو تو وہ ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاریں گے لیکن وہاں اس قسم کی درخواستوں اور التجاؤں کا موقع باقی نہیں رہے گا۔ آیت زیربحث اور بعد کی چند آیتوں میں توحید کا بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد قیامت اور احوال قیامت کا ذکر آئے گا۔ یہ کائنات کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں نہیں آئی ہے: ’اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ‘۔ چھ دنوں سے مراد، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں، خدائی ایام ہیں اور آگے وضاحت آ رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کا ایک دن ہمارے ہزار سالوں کے برابر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے چھ دنوں سے مراد چھ ادوار ہوں گے۔ یہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کی خلقت کسی اتفاقی واقعہ کی طرح ظہور میں نہیں آئی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت تدریج و اہتمام کے ساتھ وجود بخشا ہے۔ یہ تدریج و اہتمام اس کی غایت و حکمت پر دلیل ہے اور اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کوئی کھیل تماشا نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد باغایت کارخانہ ہے۔ اس کا انتظام اللہ تعالیٰ براہ راست خود کر رہا ہے: ’ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ‘۔ یعنی اس اہتمام و انتظام سے اس دنیا کو پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس سے بے تعلق نہیں ہو بیٹھا ہے بلکہ وہ اپنے عرش حکومت پر متمکن ہو کر براہ راست اور بالفعل اس کا انتظام بھی فرما رہا ہے۔ یہ مشرکین کے اس خیال کی تردید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کر کے اس کا انتظام اپنی دوسری مقرب ہستیوں کے سپرد کر دیا ہے اور خود اس سے بالکل الگ ہو بیٹھا ہے۔ اس تصور کی بنیاد جس وہم پر تھی اس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں۔ براہ راست انتظام کا لازمی نتیجہ: ’مَا لَکُم مِّنۡ دُوْنِہِ مِنۡ وَلِیٍّ وَلَا شَفِیْعٍ‘۔ یہ اس کے لازمی نتیجہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جب براہ راست تمام امور کی باگ اسی کے ہاتھ میں ہے تو سب کی پیشی بھی اسی کے آگے ہونی ہے اور وہی سارے معاملات کا فیصلہ فرمائے گا۔ اس وقت اس کے سوا نہ کوئی کسی کا کارساز و مددگار بن سکے گا اور نہ اس کے مقابل میں کوئی کسی کی سفارش کر سکے گا۔ لفظ ’دُوْنَ‘ میں سوا اور مقابل دونوں کا مفہوم پایا جاتا ہے اس وجہ سے یہاں ’وَلِیِّ‘ کے ساتھ ’شَفِیْع‘ کی بھی نفی فرما دی۔ ’أَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ‘۔ یہ تمام نتائج چونکہ مخاطب کے مسلمات پر مبنی ہیں اس وجہ سے ان کو سامنے رکھ دینے کے بعد متنبہ کیا کہ آخر ایسی واضح باتیں تم لوگ کیوں نہیں چیتتے!!
    وہی آسمان سے زمین تک سارے امور کا انتظام فرماتا ہے۔ پھر یہ تمام امور اسی کی طرف لوٹتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ہزار سال کے برابر ہے۔
    مشرکین کے ایک خاص گروہ کی تردید: یعنی آسمان سے لے کر زمین تک تمام امور کی تدبیر وہی فرماتا ہے۔ یہ مشرکین کے اس گروہ کی تردید ہے جو اس وہم میں مبتلا تھا کہ زمین چونکہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کا ایک دور دراز علاقہ ہے اس وجہ سے اس نے اپنی حکومت صرف آسمان تک محدود رکھی ہے، زمین کا انتظام اس نے اپنے دوسرے کارندوں کے حوالہ کر دیا ہے۔ اسی گروہ کو مخاطب کر کے قرآن میں بعض جگہ یہ سوال آیا ہے کہ کیا زمین میں الگ خدا اور آسمان میں الگ خدا ہیں! کیسی بے عقلی کی باتیں کرتے ہو! ’ثُمَّ یَعْرُجُ إِلَیْْہِ‘ یعنی تمام امور صادر بھی اسی کی طرف سے ہوتے ہیں اور پھر رجوع بھی اسی کی طرف ہوتے ہیں۔ ’یَعْرُجُ إِلَیْْہِ‘ یہاں (REFER) ہونے کے مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ احکام صادر کر کے پھر بے تعلق نہیں ہو بیٹھتا بلکہ ہر چیز اس کے سامنے پیش ہوتی رہتی ہے اور وہ پوری طرح باخبر رہتا ہے کہ کارکنان قضا و قدر نے کیا فرائض انجام دیے اور کس طرح انجام دیے۔ خدائی ایام کی نوعیت: ’فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ أَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ‘۔ عام طور پر لوگوں نے اس سے مراد قیامت کا دن لیا ہے اور اس دن لوگوں کے اعمال کی جو پیشی خدا کے سامنے ہونی ہے ان کے نزدیک یہ اس کی طرف اشارہ ہے۔ قیامت کا دن چونکہ بہت سخت ہو گا اس کی اس سختی کو بطریق استعارہ یوں تعبیر فرمایا کہ وہ ہزار سال کے برابر بن جائے گا۔ ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ بعینہٖ یہی مضمون سورۂ حج میں اس طرح آیا ہے: وَإِنَّ یَوْماً عِندَ رَبِّکَ کَأَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (۴۷) ’’اور تمہارے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار سے ہزار سالوں کے برابر کا ہوتا ہے۔‘‘ وہاں یہ آیت عذاب کے لیے لوگوں کی جلد بازی کے جواب میں وارد ہوئی ہے کہ جب ان کو عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ اس عذاب کی دھمکی ہم ایک مدت سے سن رہے ہیں لیکن وہ آیا نہیں، اگر اس کو آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتا! ان کے جواب میں فرمایا ہے کہ خدا کے کاموں کو اپنے محدود پیمانوں سے نہ ناپو۔ تمہارے دن چوبیس گھنٹوں کے ہوتے ہیں اس وجہ سے تمہیں چند سالوں کی مدت بھی بہت طویل محسوس ہوتی ہے لیکن خدا کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار سے ایک ہزار سال کے برابر کا ہوتا ہے اور اسی کے حساب سے اس کے سارے پروگرام اور منصوبے بنتے ہیں۔ تم اپنے دنوں کو پیش نظر رکھ کر گھبرانے لگتے ہو کہ فلاں بات پر اتنی مدت گزر گئی لیکن اب تک وہ واقع نہیں ہوئی، اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہو کہ یہ دھمکی تمہیں جھوٹ موٹ سنائی گئی حالانکہ خدائی دنوں کے اعتبار سے ابھی اس پر ایک گھڑی بھی نہیں گزری ہوتی ہے۔ بعینہٖ اسی سیاق میں آیت زیربحث بھی وارد ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمام امر و تدبیر خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اسی کی طرف سے احکام صادر بھی ہوتے ہیں اور پھر اسی کی طرف لوٹتے بھی ہیں لیکن یہ صادر ہونا اور لوٹنا سب خدائی دنوں کے حساب سے ہوتا ہے۔ اس وجہ سے نہ ہر شخص ان کے نتائج سے آگاہ ہو سکتا اور نہ ہر شخص ان کی حکمت کو سمجھ سکتا ہے۔ بندوں کے لیے صحیح روش یہ ہے کہ وہ خدا کے معاملات میں جلد بازی نہ کریں بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کریں۔  
    وہ غائب و حاضر کا جاننے والا، عزیز و رحیم ہے۔
    ’ذٰلِکَ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ‘۔ غیب اور حاضر کا جاننے والا اور عزیز و رحیم وہی ہے۔ دوسرے کسی کا بھی یہ درجہ نہیں ہے کہ وہ کائنات کے تمام اسرار سے واقف ہو سکے۔ وہ تمام غائب و حاضر سے واقف بھی ہے اور عزیز و رحیم بھی ہے۔ اس وجہ سے بندوں کو چاہیے کہ وہ کامل حسن ظن کے ساتھ اس پر بھروسہ کریں۔ ایک شبہ کا ازالہ: ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہی مضمون سورۂ معارج میں یوں وارد ہوا ہے: تَعْرُجُ الْمَلّٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ(۴) ’’فرشتے اور جبریل اس کی طرف صعود کرتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔‘‘ بظاہر اس آیت اور اوپر کی آیت میں تضاد معلوم ہوتا ہے لیکن یہ تضاد نہیں ہے۔ دنوں کا یہ تفاوت مداروں کے اختلاف پر مبنی ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے مختلف سیاروں کے دن الگ الگ ہیں۔ پھر یہ بات بھی توجہ کے قابل ہے کہ آیت زیربحث میں امور کے پیش کیے جانے کا ذکر ہے اور سورۂ معارج میں ملائکہ اور جبریل کی پیشی کا ذکر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ امور کی پیشی ہزار سال کے دن میں ہوتی ہو اور ملائکہ اور جبریل کی براہ راست پیشی کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہو۔ یہ امور غیب ہیں۔ ان کے باب میں کوئی بات جزم کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی تاہم اتنی بات بالکل واضح ہے کہ دونوں آیتوں میں کوئی تناقض نہیں ہے۔ سورۂ حج کی تفسیر میں اس مسئلہ پر ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ سورۂ معارج کی تفسیر میں انشاء اللہ ہم اس کے بعض دوسرے گوشوں پر بھی نظر ڈالیں گے۔  
    جس نے جو چیز بھی بنائی ہے خوب ہی بنائی ہے! اس نے انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا۔
    انذار قیامت کے لیے تمہید صفات الٰہی سے: اللہ تعالیٰ کی صفات عالم الغیب والشہادۃ اور عزیز و رحیم کو بنیاد قرار دے کر آگے قیامت کے انذار کے لیے تمہید استوار فرمائی کہ یہ اللہ ہی ہے جس نے جو چیز بھی بنائی خوب بنائی۔ یعنی اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کے لیے نہایت علم کی شاہد ہے۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لے کر انسان اگر اس پر غور کرے تو اس کی عقل صانع کی صنعت و کاریگری پر دنگ رہ جاتی ہے اور وہ بے خود ہو کر پکار اٹھتا ہے کہ ’تَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ‘ (بڑی ہی بابرکت ذات ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا!!) یہیں سے انسان پر اس حقیقت کا دروازہ کھلتا ہے کہ جو ذات اتنی قدرت رکھنے والی، اتنی حکیم، اتنی باریک بیں اور ایسی رحمان و رحیم ہے اس کی نسبت یہ کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اتنا بڑا عالم بالکل بے مقصد کھڑا کر دے۔ پس ضرور ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن آئے جس میں وہ حق و باطل میں امتیاز کرے۔ ان لوگوں کو جزا دے جنھوں نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا اور ان لوگوں کو سزا دے جنھوں نے اس دنیا میں اندھوں بہروں کی زندگی گزاری، نہ انھوں نے خود اس کی حکمتوں پر غور کیا اور نہ دوسرے غور کرنے والوں کی باتوں کو لائق اعتناء سمجھا۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ ۔۔۔ انسان: ’بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ‘۔ اوپر والے ٹکڑے میں یہ بات جو فرمائی ہے کہ اس نے جو چیز بھی بنائی خوب بنائی، اس کے ثبوت میں خارج کی مثالیں پیش کرنے کے بجائے خود انسان ہی کی خلقت کو بطور مثال پیش کیا ہے کہ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خود اپنی ہی خلقت کے مراحل و مدارج پر غور کرو اور دیکھو کہ خدا کی قدرت و حکمت اور اس کی ربوبیت کی کیا کیا شانیں تمھارے اندر ظاہر ہوئی ہیں! فرمایا کہ یہ انسان جو آج اپنی قابلیتوں پر اتنا نازاں ہے، اس کا آغاز خدائے حکیم و قدیر نے کسی بڑے قیمتی جوہر سے نہیں کیا بلکہ مٹی سے کیا، اسی سے اس کا قالب بنا اور اسی مٹی کے اندر سے اس کے اندر زندگی کی حرکت نمودار ہوئی لیکن دیکھو خالق کی قدرت و حکمت کہ اس نے مٹی کے لوندے کو کیا سے کیا بنا دیا!!
    پھر اس کی نسل حقیر پانی کے خلاصہ سے چلائی۔
    انسان کی خلقت کا دوسرا مرحلہ: ’ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّھِیْنٍ‘۔ یہ انسان کی خلقت کے دوسرے مرحلہ کی طرف اشارہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں اس کی حیثیت یہ ہوئی کہ مٹی کے بجائے اس کی نسل کے چلنے کا ذریعہ حقیر و ناپاک پانی کا خلاصہ بنا۔
    پھر اس کے نوک پلک سنوارے اور اس میں اپنی روح پھونکی اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے ۔۔۔ تم بہت ہی کم شکر گزار ہوتے ہو!
    تیسرا مرحلہ: ’ثُمَّ سَوّٰہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ‘۔ ’تسویۃ‘ کے معنی، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں، کسی چیز کو سنوارنے اور اس کی نوک پلک درست کرنے کے ہیں۔ آرٹ کی اصطلاح میں جس چیز کو تکمیلی یا اتمامی عمل (FINISHING TOUCH) کہتے ہیں ٹھیک وہی مفہوم ’تَسْوِیَۃ‘ کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تیسرے مرحلے میں آ کر اس نے مٹی سے بنے ہوئے اس انسان کے نوک پلک سنوارے اور اس کے اندر اپنی روح پھونکی تب اس کے اندر سمع و بصر اور دل کی وہ صلاحیتیں نمودار ہوئیں جو دوسری حیوانی مخلوقات کے مقابل میں اس کے لیے وجہ امتیاز بنیں۔ انسان کا اصلی شرف: ’نَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ‘ میں روح سے مراد وہ روح ہے جس کو ہم روحِ ملکوتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ انسان کے اندر حیوانی روح کے ساتھ ایک نورِ یزدانی (DIVINE SPARK) بھی ہے اور اسی نور کے فیض سے انسان کے سمع و بصر اور فواد میں وہ روشنی پیدا ہوئی ہے جس سے اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ اگر اس روشنی سے وہ محروم ہو جائے تو پھر اس کا باطن بھی اسی طرح تیرہ و تار ہے جس طرح حیوانات کا ہے۔ کان، آنکھ اور دل حیوانات کے پاس بھی ہیں لیکن وہ نوریزدانی سے محروم ہیں اس وجہ سے ان کے کانوں، آنکھوں اور دلوں میں وہ صلاحیت نہیں ہے جو انسان کے سمع و بصر اور دل میں ہے۔ اگر انسان اپنے کو اس نور سے محروم کر لے تو پھر وہ بھی ایک حیوان ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس نور کو باقی رکھنا اور اس کو بڑھانا یا گھٹانا انسان کے اپنے اختیار پر منحصر ہے۔ جو لوگ اس کی قدر کرتے اور اس کے حقوق ادا کرتے ہیں وہ اس میں اضافہ کرتے ہیں اور ان کے اندر یہ قوی سے قوی تر ہوتا جاتا ہے اور جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے ان کے اندر یہ ضعیف ہوتے ہوتے بالکل ہی بجھ جاتا ہے۔ ’مِنْ رُّوْحِہٖ‘ میں اضافت سے مقصود فی الجملہ اس روح کے اختصاص کا اظہار ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فیوض و برکات میں سے ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حصہ ہے۔ اس غلط فہمی پر تنبیہ اس لیے ہم نے ضروری سمجھی ہے کہ وحدت الوجود کی گمراہیوں میں بڑا دخل اسی غلط فہمی کا ہے۔ تسویہ اور نفخِ روح سے پہلے انسان حیوانیت کے دور میں تھا: اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تسویہ اور نفخ روح سے پہلے انسان پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب انسان حیوانات کی طرح ناتراشیدہ اور بصیرت و ادراک سے محروم تھا۔ اس دور کے بعد تسویہ نے اس کے ظاہر کو سنوارا اور نفخ روح نے اس کے باطن کو منور کیا۔ خلاصۂ بحث: ’قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ‘۔ یعنی اپنی خلقت کے ان تمام مراحل پر غور کرو کہ کس طرح خدا نے تمھارا آغاز کیا اور پھر کس درجے تک تم کو پہنچایا! حق تھا کہ تمھارا بال بال اپنے رب کی اس عنایت و ربوبیت کا شکرگزار ہوتا اور جو نعمتیں و صلاحیتیں اس نے تم کو بخشیں ان کو تم اس کی رضا کے کاموں میں استعمال کرتے لیکن تمھارا حال یہ ہے کہ تم بہت ہی کم اس کے شکرگزار ہوتے ہو۔
    اور کہتے ہیں کہ کیا جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے تو ہم پھر نئی خلقت میں آئیں گے! بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے آگے پیشی کے منکر ہیں۔
    سب کچھ دیکھنے کے بعد انسان کی بے بصیرتی: یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو سمع و بصر اور ادراک و تعقل کی جو صلاحیتیں بخشی تھیں وہ اس لیے بخشی تھیں کہ ان سے وہ کام لیں اور خدا کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت کے آثار کے مشاہدہ سے اس نتیجے تک پہنچیں کہ یہ دنیا عبث نہیں پیدا ہوئی ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن آئے جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے اپنے رب کے حضور حاضر کیا جائے اور وہ جزا یا سزا پائے، لیکن اس انسان کی کج فہمی کا یہ حال ہے کہ جب اس کو قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو خدا کی قدرت کی اتنی شانیں دیکھنے کے باوجود، وہ طنز و استہزاء کے ساتھ یہ سوال کرتا ہے کہ کیا جب ہم گل سڑ کر زمین میں رل مل جائیں گے تو اس کے بعد ازسرنو زندہ کیے جائیں گے!! قیامت کے انکار کے لیے ایک بہانہ: ’بَلْ ہُمْ بِلِقَایئ رَبِّہِمْ کَافِرُوۡنَ‘۔ یعنی یہ باتیں سب اوپر کے بہانے ہیں۔ آخر خدا کی اتنی شانیں اپنے وجود کے اندر اور باہر دیکھتے ہوئے یہ اتنے غبی کس طرح ہو سکتے ہیں کہ اپنے دوبارہ پیدا کیے جانے کو اس کی قدرت سے بعید سمجھیں! اصل چیز یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کے آگے پیشی اور اعمال کی جواب دہی کے منکر ہیں، اس چیز کو تسلیم کرنا ان کے دلوں پر بہت شاق ہے اس وجہ سے اس سے گریز کے لیے یہ تمام عقلی استمالے اور شبہات گھڑے اور اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بسا اوقات انسان انکار تو کسی اور چیز کا کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے انکار کے لیے بہانہ کسی اور چیز کو بناتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ براہ راست اس حقیقت کے انکار کی کچھ زیادہ گنجائش وہ نہیں پاتا۔ مشرکین عرب کا حال بھی یہی تھا۔ وہ خدا کے قائل تھے اس وجہ سے خدا کے آگے پیشی کا صریح انکار ان کے لیے مشکل تھا لیکن اس کو ماننے سے جو بھاری ذ مہ داریاں عائد ہوتی تھیں وہ ان کے لیے تیار نہیں تھے اس وجہ سے اس سے گریز کے لیے اول تو وہ قیامت پر اس قسم کے شبہات وارد کرتے تھے جس کی ایک مثال اوپر گزری اور بدرجۂ آخر اس کو مانتے تھے تو اس کے نتائج سے بچاؤ کے لیے انھوں نے شرکاء و شفعاء ایجاد کر لیے تھے۔
    کہہ دو کہ تمہاری جان وہ فرشتہ ہی قبض کرتا ہے جو تم پر مامور ہے پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
    دونوں شبہات کا اکٹھا جواب: یہ اوپر کی دونوں باتوں کا جواب ہے کہ جو مرتا ہے اس کو خدا کا وہ فرشتہ ہی وفات دیتا ہے جو خدا کی طرف سے ہر شخص پر مامور ہے۔ اس وجہ سے کوئی شخص مرنے کے بعد بھی خدا اور اس کے مامور ملائکہ کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ ہر شخص کو اٹھا کھڑا کرے گا اور وہ اس کے مامور ملائکہ کی نگرانی میں ان کے سامنے حاضر کیا جائے گا۔ ’ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ‘۔ یعنی کوئی اس طمع خام میں بھی مبتلا نہ رہے کہ اس کی واپسی اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء کی طرف ہونی ہے۔ اس دن ان شرکاء و شفعاء کا کوئی وجود نہیں ہو گا، سب کی پیشی اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ کے سامنے ہی ہو گی اور وہی سب کا فیصلہ فرمائے گا۔
    اور اگر تم دیکھ پاتے اس وقت کو جب کہ یہ مجرمین اپنے رب کے حضور اپنے سر جھکائے ہوئے اعتراف کریں گے کہ اے ہمارے رب، ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہمیں لوٹا کہ ہم نیک کام کریں، ہم یقین کرنے والے بن گئے۔
    خطاب کی نوعیت اور تمنی کے جواب کے حذف کی بلاغت: ’وَلَوْ تَرٰٓی‘ میں خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہو سکتا ہے اور عام مخاطبوں سے بھی۔ پہلی شکل میں یہ آیت تسلی کے سیاق میں ہو گی اور دوسری صورت میں تہدید کے سیاق میں۔ اگر پہلی صورت اختیار کیجیے تو مطلب یہ ہو گا کہ آج تو یہ لوگ تمہارے آگے بہت اکڑ رہے اور بڑے تبختر و رعونت کے ساتھ قیامت اور خدا کے آگے پیشی کا انکار کر رہے ہیں لیکن اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے جب یہ تمام مجرمین سر نیہوڑائے اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے تو ۔۔۔ یہاں تمنی کا جواب محذوف ہے اور اس حذف میں بڑی بلاغت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس وقت ان کی بے بسی کا وہ منظر دیکھتے جس کا آج تصور بھی نہیں کر سکتے! ’رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُوۡنَ‘۔ یعنی اس وقت ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ اعتراف ہو گا کہ اے ہمارے رب! ہم نے اچھی طرح دیکھ اور سن لیا۔ اب ہمیں ایک بار دنیا میں پھر لوٹا تا کہ ہم کچھ نیکی کمائیں۔ ہمیں ہر بات کا پورا یقین ہو گیا۔
    اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو اس کی ہدایت خود ہی دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ بات متحقّق ہو چکی ہے کہ میں جنوں اور انسانوں، سب سے جہنم کو بھر کے چھوڑوں گا۔
    مشاہدہ کے بعد کا ایمان بے سود ہے: یہ ان کے اعتراف اور ان کی درخواست کا جواب ہے جو برسرموقع ان کو دیا جائے گا کہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد تمہارا یہ اقرار و ایمان بالکل بے سود ہے۔ اگر اللہ کو اس طرح کا مجبورانہ ایمان پسند ہوتا تو وہ ہر شخص کو ایمان و ہدایت پر ہی پیدا کرتا۔ یہ اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ ہدایت کے معاملے میں اس نے لوگوں کو اختیار دیا کہ وہ امتحان کرے کہ کون اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کی پیروی میں شیطان کی راہ پسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حتمی فیصلہ کا حوالہ: ’وَلٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ‘۔ یہ اس فیصلہ کی طرف اشارہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اس کے چیلنج کے جواب میں آگاہ فرما دیا تھا۔ قرآن میں اس کا ذکر جگہ جگہ آیا ہے۔ سورۂ صٓ میں اس کا حوالہ یوں ہے: قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ أَجْمَعِیْنَ ۵ إِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ۵ قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ ۵ لَأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنکَ وَمِمَّن تَبِعَکَ مِنْہُمْ أَجْمَعِیْنَ (صٓ: ۸۲-۸۵) ’’ابلیس نے کہا تیرے عزت و جلال کی قسم! میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ بس ان میں سے تیرے خاص بندے ہی بچ رہیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ پھر یہ بات بھی حق ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں کہ میں بھی تجھ سے اور تیری ذریت سے اور ان انسانوں میں سے جو تیری پیروی کریں گے، سب کو جہنم میں بھر کے رہوں گا۔‘‘ یہاں اس قول کا حوالہ دینے سے مقصود مجرموں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہو گا کہ اب عذر و معذرت کا وقت گزر گیا۔ اللہ نے شیطان کے جواب میں پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا تھا کہ وہ بنی آدم میں سے جن کو گمراہ کر سکتا ہے گمراہ کر لے۔ انسان کو خدا نے یہ آزادی دی ہے کہ وہ چاہے تو رحمان کی راہ اختیار کرے اور چاہے تو شیطان کی راہ اختیار کرے۔ دنیا کی زندگی میں یہ امتحان تھا۔ اب امتحان کا مرحلہ گزر چکا اور نتائج بھگتنے کی باری ہے چنانچہ آج وہ انجام تمہارے سامنے آ گیا اور میری بات تم پر پوری ہوئی۔  
    تو اب چکھو مزا اس بات کا کہ تم نے اس دن کی پیشی کو بھلائے رکھا۔ ہم نے بھی تم کو نظرانداز کیا اور تم اپنے کیے کی پاداش میں اب ہمیشگی کا عذاب چکھو۔
    ’نَسِی‘ کے معنی، ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں، نظرانداز کرنے اور ٹالنے کے بھی آتے ہیں۔ یہاں یہ نظر انداز کرنے ہی کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب کسی سوال و درخواست کی گنجائش باقی نہیں رہی جس طرح تم نے اس دن کو نظر انداز کیے رکھا آج ہم نے تم کو نظرانداز کیا۔ اب تمہاری کوئی درخواست و التجا ہمارے نزدیک درخوراعتنا نہیں رہی۔ اب اپنے اعمال کی پاداش میں ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ یعنی یہ تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہے بلکہ عمر بھر جس فصل کی تم نے کاشت کی ہے یہ اسی کا حاصل تمہارے سامنے آیا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List