Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • لقمان (Luqman)

    34 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    دونوں سابق سورتوں ۔۔۔ العنکبوت اور الرّوم ۔۔۔ کی طرح اس سورہ کا قرآنی نام بھی ’الٓمّٓ‘ ہی ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ ان کے عمود و مضمون میں فی الجملہ اشتراک ہے۔ اس سورہ کی تمہید سورۂ بقرہ کی تمہید سے ملتی جلتی ہوئی ہے اور بقرہ کا قرآنی نام بھی یہی ہے۔ بقرہ کی تمہید میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس قسم کے لوگ اس کتاب پر ایمان لائیں گے اور کس قسم کے لوگ اس سے اعراض کریں گے۔ اسی طرح اس سورہ کی تمہید میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ کس قسم کے لوگ اس برکت و رحمت سے فائدہ اٹھائیں گے اور کون لوگ اس سے محروم رہیں گے۔
    سابق سورہ میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ یہ قرآن اس دین فطرت کی دعوت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور اس دعوے پر آفاق و انفس کے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اس سورہ میں آفاق و انفس کے دلائل کے ساتھ ساتھ عرب کے مشہور حکیم ۔۔۔ لقمان ۔۔۔ کے نصائح کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کا مقصود اہل عرب پر یہ واضح کرنا ہے کہ ان کے اندر جو صحیح فکر و دانش رکھنے والے لوگ گزرے ہیں انھوں نے بھی انہی باتوں کی تعلیم دی ہے جن باتوں کی تعلیم یہ پیغمبرؐ دے رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقل سلیم (COMMON SENSE) انہی باتوں کے حق میں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، نہ کہ ان باتوں کے حق میں جن کی وکالت قرآن کے مخالفین کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اصل فطرت یہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ سوچنے سمجھنے والے لوگ ان حقائق تک کس طرح پہنچتے؟
    یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مغربی فلاسفہ جب اخلاقیات پر بحث کرتے ہیں تو اس کی بنیاد وہ عقل عام کے معروف اخلاقی مسلمات (COMMON SENSE ETHICS) ہی پر رکھتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ اخلاقی مسلمات کہاں سے پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک حکیم فاطر اور فطرۃ اللہ کو تسلیم کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ اس حقیقت سے گریز کی سزا ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ دی کہ ان کا سارا فلسفۂ اخلاق بالکل بے بنیاد اور بے معنی ہو کے رہ گیا ہے۔ ان کی تمام فلسفیانہ کاوشیں نہ تو نیکی اور بدی کے امتیاز کے لیے کوئی کسوٹی معین کر سکیں اور نہ وہ یہ بتا سکے کہ کیوں انسان کو نیکی کرنی چاہیے اور کیوں بدی سے بچنا چاہیے۔ سود مندی، لذت، خوشی اور فرض برائے فرض وغیرہ کی قسم کے جتنے نظریات بھی انھوں نے ایجاد کیے سب پادر ہوا ثابت ہوئے اور خود انہی نے ان کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیے۔ قرآن نے نہ صرف اخلاقیات کی بلکہ پورے دین کی بنیاد فطرت پر رکھی ہے اور یہ فطرت چونکہ ایک حکیم فاطر کی بنائی ہوئی ہے اس وجہ سے کسی کے لیے اس سے انحراف جائز نہیں ہے۔ جو شخص اپنی فطرت سے انحراف اختیار کرے گا وہ اپنے آپ کو تباہ اور اپنے فاطر کو ناراض کرے گا۔ انسان کی رہنمائی کے لیے اس کی فطرت اپنے اندر حقائق و معارف کا خزانہ رکھتی ہے لیکن انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر بگڑ بھی سکتا ہے اور اپنے اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر اپنی فطرت کی خلاف ورزی بھی کر سکتا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعے سے فطرت کے تمام مضمرات واضح کر دیے تاکہ کسی کے لیے کسی التباس و اشتباہ کی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔ بلکہ ہر شخص فطرت کی سیدھی راہ پر چل کر دنیا کی فوز و فلاح اور آخرت میں اپنے رب کی خوشنودی حاصل کر سکے۔
    اس سورہ میں لقمان کی حکمت کے حوالے سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قرآن کی تائید میں ایک ایسے حکیم کی شہادت پیش کرنا ہے جس نے زندگی کے حقائق پر غور کیا تھا اور جو قرآن کے مخالفین کے نزدیک بھی نہایت ہی بلند پایہ اور واجب الاحترام حکیم سمجھا جاتا رہا ہے۔ ساتھ ہی اس میں قرآن کی دعوت کی تائید میں آفاق و انفس کے دلائل ایک نئے اسلوب سے پیش کیے گئے ہیں۔

  • لقمان (Luqman)

    34 آیات | مکی

    لقمان ۔ السجدہ

    ۳۱ ۔ ۳۲

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ حکیم لقمان کے حوالے سے دین فطرت کے جن حقائق کا اثبات کرتی ہے، دوسری میں اُنھی کے متعلق لوگوں کے اُن شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو اُس وقت پیش کیے جا رہے تھے۔
    دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے اور دونوں کے مخاطب قریش مکہ ہیں۔
    اِن سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت اور فتح و نصرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 031 Verse 001 Chapter 031 Verse 002 Chapter 031 Verse 003 Chapter 031 Verse 004 Chapter 031 Verse 005 Chapter 031 Verse 006 Chapter 031 Verse 007 Chapter 031 Verse 008 Chapter 031 Verse 009 Chapter 031 Verse 010 Chapter 031 Verse 011
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الٓمّٓ ہے۔
    الٓمّٓ: یہ ایک مستقل جملہ ہے۔ عربی زبان کے عام قاعدے کے مطابق یہاں مبتدا محذوف ہے۔ اس کو ظاہر کر دیا جائے تو پوری بات یوں ہو گی۔ ھٰذہ الٓمّٓ، (یہ الف، لام، میم ہے) ہم نے ترجمہ میں اس حذف کو کھول دیا ہے۔ یہ اور اس طرح کے جتنے حروف بھی مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں چونکہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں۔ یہ جس سورہ میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں اس طرح آئے ہیں جس طرح کتابوں، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ذٰلک اور تِلۡکَ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام ہونے کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ حدیثوں سے بھی ان کا نام ہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جو سورتیں ان ناموں سے موسوم ہیں اگرچہ ان میں سے سب اپنے انہی ناموں سے مشہور نہیں ہوئیں بلکہ بعض دوسرے ناموں سے مشہور ہوئیں، لیکن ان میں سے کچھ اپنے انہی ناموں سے مشہور بھی ہیں۔ مثلاً طٰہٰ، یٰس، ق اور ن وغیرہ۔ ان ناموں کے معانی کے بارے میں کوئی قطعی بات کہنا بڑا مشکل ہے اس وجہ سے ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قرآن کا تو دعویٰ یہ ہے کہ وہ ایک بالکل واضح کتاب ہے، اس میں کوئی چیز بھی چیستاں یا معمے کی قسم کی نہیں ہے، پھر اس نے سورتوں کے نام ایسے کیوں رکھ دیے ہیں جن کے معنی کسی کو بھی نہیں معلوم؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لینا عربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔ قرآن پر اہل عرب نے بہت سے اعتراضات کئے اور ان کے یہ سارے اعتراض قرآن نے نقل بھی کئے ہیں لیکن ان کے اس طرح کے کسی اعتراض کا کوئی ذکر نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ناموں میں ان کے لئے کوئی اجنبیت نہیں تھی۔ علاوہ بریں جن لوگوں کی نظر اہل عرب کی روایات اور ان کے لٹریچر پر ہے وہ جانتے ہیں کہ اہل عرب نہ صرف یہ کہ اس طرح کے ناموں سے نامانوس نہیں تھے بلکہ وہ خود اشخاص، چیزوں، گھوڑوں، جھنڈوں، تلواروں حتیٰ کہ قصائد اور خطبات تک کے نام اسی سے ملتے جلتے رکھتے تھے۔ یہ نام مفرد حروف پر بھی ہوتے تھے اور مرکب بھی ہوتے تھے۔ ان میں یہ اہتمام بھی ضروری نہیں تھا کہ اسم اور مسمٰی میں کوئی معنوی مناسبت پہلے سے موجود ہو بلکہ یہ نام ہی بتاتا تھا کہ یہ نام اس مسمٰی کے لئے وضع ہوا ہے۔ اور یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شے کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ یہ نام ہے تو پھر اس کے معنی کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ نام سے اصل مقصود مسمٰی کا اس نام کے ساتھ خاص ہوجانا ہے نہ کہ اس کے معنی۔ کم ازکم فہم قرآن کے نقطۂ نظر سے ان ناموں کے معانی کی تحقیق کی تو کوئی خاص اہمیت ہے نہیں۔ بس اتنی بات ہے کہ چونکہ یہ نام اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے ہیں اس وجہ سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت کی بنا پر رکھے گئے ہوں گے۔ یہ خیال فطری طور پر طبیعت میں ایک جستجو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی جستجو کی بنا پر ہمارے بہت سے پچھلے علماء نے ان ناموں پر غور کیا اور ان کے معنی معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کی جستجو سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن ہمارے نزدیک ان کا یہ کام بجائے خود غلط نہیں تھا اور اگر ہم بھی ان پر غور کریں گے تو ہمارا یہ کام بھی غلط نہیں ہو گا۔ اگر اس کوشش سے کوئِی حقیقت واضح ہوئی تو اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہو گا اور اگر کوئی بات نہ مل سکی تو اس کو ہم اپنے علم کی کوتاہی اور قرآن کے اتھاہ ہونے پر محمول کریں گے۔ یہ رائے بہرحال نہیں قائم کریں گے کہ یہ نام ہی بے معنی ہیں۔ اپنے علم کی کمی اور قرآن کے اتھاہ ہونے کا یہ احساس بجائے خود ایک بہت بڑا علم ہے۔ اس احساس سے علم و معرفت کی بہت سی بند راہیں کھلتی ہیں۔ اگر قرآن کا پہلا ہی حرف اس عظیم انکشاف کے لئے کلید بن جائے تو یہ بھی قرآن کے بہت سے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہو گا۔ یہ اسی کتاب کا کمال ہے کہ اس کے جس حرف کا راز کسی پر نہ کھل سکا اس کی پیدا کردہ کاوش ہزاروں سربستہ اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے دلیل راہ بنی۔ ان حروف  پر ہمارے پچھلے علماء نے جو رائیں ظاہر کی ہیں ہمارے نزدیک وہ تو کسی مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا۔ البتہ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمة اللہ علیہ کی رائے اجمالاً یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس سے اصل مسئلہ اگرچہ حل نہیں ہوتا لیکن اس کے حل کے لئے ایک راہ کھلتی ضرور نظر آتی ہے۔ کیا عجب کہ مولانا رحمة اللہ علیہ نے جو سراغ دیا ہے دوسرے اس کی رہنمائی سے کچھ مفید نشانات راہ اور معلوم کر لیں اور اس طرح درجہ بدرجہ تحقیق کے قدم کچھ اور آگے بڑھ جائیں۔ جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لئے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امام رحمة اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرف صرف آواز ہی  نہیں بتاتے تھے بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرف معانی اور اشیاء پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیاء پر وہ دلیل ہوتے تھے عموماً ان ہی کی صورت و ہئیت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کئے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم و اصلاح کر کے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی جس کے آثار اہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔ ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً “الف” کے متعلق معلوم ہے کہ وہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت ہی پر لکھا جاتا ہے۔ “ب” کو عبرانی میں بَیت کہتے بھی ہیں اور اس کے معنی بھی “بیت” (گھر) کے ہیں۔ “ج” کا عبرانی تلفظ جمیل ہے جس کے معنی جمل (اونٹ) کے ہیں۔ “ط” سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی کی شکل پر جاتا تھا۔ “م” پانی کی لہر پر دلیل ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔ مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورہ “ن” کو پیش کرتے ہیں۔ حرف “نون” اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جو سورہ اس نام سے موسوم ہوئی ہے اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر صاحب الحوت، مچھلی والے، کے نام سے آیا ہے۔ مولانا اس نام کو پیش کر کے فرماتے ہیں کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورہ کا نام “نون” (ن) اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں صاحب الحوت، حضرت یونس علیہ السلام، کا واقعہ بیان ہوا ہے جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں وہ  بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بنا پر آئے ہوں۔ قران مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً حرف “ط” کے معنی، جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہئیت بھی سانپ کی ہئیت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ اب قرآن میں سورہ طٰہٰ کو دیکھئے جو “ط” سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ  بیان ہوتا ہے۔ اسی طرح طسم، طس وغیرہ بھی “ط” سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کر لینے کا معجزہ مذکور ہے۔ “الف” کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ گائے کے سر کی ہئیت پر لکھا بھی جاتا تھا اور گائے کے معنی بھی بتاتا تھا۔ اس کے دوسرے معنی اللہ واحد کے ہوتے تھے۔ اب قرآن مجید میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ بقرہ میں جس کا نام الف سے شروع ہوتا ہے، گائے کے ذبح کا قصہ بیان ہوا ہے۔ دوسری سورتیں جن کے نام الف سے شروع ہوئے ہیں توحید کے مضمون میں مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ مضمون ان میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان ناموں کا یہ پہلو بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن سورتوں کے نام ملتے جلتے سے ہیں ان کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں بلکہ بعض سورتوں میں تو اسلوب بیان تک ملتا جلتا ہے۔ میں نے مولانا کا یہ نظریہ، جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لئے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معانی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ محض علوم قرآن کے قدردانوں کے لئے ایک اشارہ ہے، جو لوگ مزید تحقیق و جستجو کی ہمت رکھتے ہیں وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس راہ سے یہ مشکل آسان کر دے۔
    یہ پُرحکمت کتاب کی آیات ہیں۔
    اس کتاب سے فائدہ وہی اٹھائیں گے جن کی صلاحیتیں زندہ ہیں: ’تِلْکَ‘ کا اشارہ ’الّمّٓ‘ کی طرف ہے۔ اس سورہ کا قرآنی نام یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورہ ایک پُرحکمت کتاب کی آیات پر مشتمل ہے لیکن حکمت کے جواہر ریزوں کا قدردان ہر شخص نہیں ہوتا۔ ان کی قدر کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو ’محسن‘ ہوں گے۔ ’محسن‘ سے مراد وہ خوب کار لوگ ہیں جنھوں نے اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں سے صحیح کام لیا، اپنی فطرت کی صلاحیتوں کو زندہ رکھا اور اپنی بصیرت کے حد تک جو قدم بھی اٹھایا صحیح سمت میں اٹھایا۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لیے یہ آیات ہدایت اور رحمت ہیں۔ وہ دنیا میں ان سے ہدایت حاصل کریں گے اور آخرت میں ان کے لیے یہ باعث فضل و رحمت ہوں گی۔ لفظ ’محسن‘ پر ہم پیچھے بھی اس کتاب میں بحث کر چکے ہیں اور آگے آیت ۲۲ میں بھی یہ آ رہا ہے۔ وہاں ان شاء اللہ اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ اس تمہید ہی سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو لوگ اس کتاب کی ناقدری کر رہے ہیں ان کی یہ ناقدری اس کتاب کے بے قیمت ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ ان ناقدروں کی فطرت کے مسخ ہونے کی دلیل ہے۔ اس وجہ سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ان لوگوں کے رویے سے بددل نہیں ہونا چاہیے۔
    ہدایت و رحمت بن کر نازل ہوئی ہیں خوب کاروں کے لیے۔
    اس کتاب سے فائدہ وہی اٹھائیں گے جن کی صلاحیتیں زندہ ہیں: ’تِلْکَ‘ کا اشارہ ’الّمّٓ‘ کی طرف ہے۔ اس سورہ کا قرآنی نام یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورہ ایک پُرحکمت کتاب کی آیات پر مشتمل ہے لیکن حکمت کے جواہر ریزوں کا قدردان ہر شخص نہیں ہوتا۔ ان کی قدر کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو ’محسن‘ ہوں گے۔ ’محسن‘ سے مراد وہ خوب کار لوگ ہیں جنھوں نے اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں سے صحیح کام لیا، اپنی فطرت کی صلاحیتوں کو زندہ رکھا اور اپنی بصیرت کے حد تک جو قدم بھی اٹھایا صحیح سمت میں اٹھایا۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لیے یہ آیات ہدایت اور رحمت ہیں۔ وہ دنیا میں ان سے ہدایت حاصل کریں گے اور آخرت میں ان کے لیے یہ باعث فضل و رحمت ہوں گی۔ لفظ ’محسن‘ پر ہم پیچھے بھی اس کتاب میں بحث کر چکے ہیں اور آگے آیت ۲۲ میں بھی یہ آ رہا ہے۔ وہاں ان شاء اللہ اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ اس تمہید ہی سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو لوگ اس کتاب کی ناقدری کر رہے ہیں ان کی یہ ناقدری اس کتاب کے بے قیمت ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ ان ناقدروں کی فطرت کے مسخ ہونے کی دلیل ہے۔ اس وجہ سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ان لوگوں کے رویے سے بددل نہیں ہونا چاہیے۔
    ان کے لیے جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں۔
    ’مُحْسِنِین‘ کی صفات: یہ ’مُحْسِنِین‘ کی صفات بیان ہوئی ہیں اور ان کے پردے میں وہ لوگ نگاہوں کے سامنے کر دیے گئے ہیں جو اس وقت اس لفظ کے صحیح مصداق تھے۔ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں۔ ’وَہُمْ بِالْآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُوْنَ‘ میں ان اہل ایمان کی غایت درجہ تحسین ہے۔ یعنی درحقیقت یہی لوگ ہیں جو آخرت پر پکا یقین رکھنے والے ہیں۔ اسی یقین کا ثمرہ ہے کہ ان کو نماز اور زکوٰۃ کے اہتمام کی توفیق حاصل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ نماز اور زکوٰۃ سے غافل ہیں وہ درحقیقت آخرت کے یقین سے محروم ہیں اور اگر وہ اس کے مدعی ہیں تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔
    یہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہوں گے۔
    فرمایا کہ یہی لوگ اس دنیا میں اپنے رب کی صراط مستقیم پر ہیں اور یہی لوگ آخرت میں فلاح پانے والے بنیں گے۔ باقی سارے لوگ گمراہی پر ہیں اور وہ آخرت میں جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔
    اور لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو فضولیات کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے گمراہ کریں بغیر کسی علم کے۔ اور ان آیات کا مذاق اڑائیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
    ’لَہْوَ الْحَدِیْثِ‘ کا مفہوم: ’اِشْتِرَاء‘ کے معنی، جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کر چکے ہیں، ترجیح دینے کے بھی آتے ہیں۔ ’لَہْوَ الْحَدِیْثِ‘ اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح دوسرے مقام میں ’زخرف القول‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ یہاں یہ لفظ کتاب حکیم کی آیات کے مقابل میں استعمال ہوا ہے۔ اس وجہ سے اس سے مراد وہ گمراہ کن باتیں ہیں جو وقت کے مفسدین لوگوں کو آیات الٰہی سے برگشتہ کرنے کے لیے پھیلاتے تھے۔ قرآن لوگوں کو زندگی کے اصل حقائق کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا تھا لیکن مخالفین کی کوشش یہ تھی کہ لوگ انہی مزخرفات میں پھنسے رہیں جن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہاں اسی صورت حال کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور اسلوب بیان اظہار تعجب کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک پرحکمت کتاب اتاری ہے لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان میں بہتیرے اس کے مقابل میں انہی فضول باتوں کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کی خواہشوں اور بدعتوں کے لیے سند تصدیق فراہم کرتی ہیں۔ ’لِیُضِلَّ عَن سَبِیْلِ اللَّہِ بِغَیْْرِ عِلْمٍ وَیَتَّخِذَہَا ہُزُواً‘۔ ’عِلْمٌ‘ سے مراد دلیل و برہان ہے۔ آگے آیت ۳۰ میں بھی یہ لفظ آ رہا ہے۔ وہاں اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ مفسدین کی یہ تمام سعئ نامراد اس لیے ہے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں حالانکہ اللہ کی راہ چھوڑ کر جس راہ پر وہ چل رہے ہیں اور جس پر لوگوں کو بھی چلانا چاہتے ہیں اس کے حق میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جسارت کا یہ عالم ہے کہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے اور اپنی بے سروپا باتوں کی تائید میں آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں۔ ’أُولٰئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ‘۔ اوپر اہل ایمان کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’وہی لوگ ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے‘۔ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو قرآن کی آیات حکمت کے مقابل میں اپنی خرافات بدعت و ضلالت کو پھیلانے میں سرگرم تھے۔ فرمایا کہ ان کے لیے ایک نہایت سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہو گا۔ ’ذلیل کرنے والا عذاب‘ اس وجہ سے ہو گا کہ حق کے مقابل میں اپنی بات کی پچ استکبار ہے اور استکبار کی سزا اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلت و رسوائی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ عذاب اور عذاب میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یوں تو ہر عذاب عذاب ہے، اللہ تعالیٰ اس سے امان میں رکھے، لیکن سب سے زیادہ سخت وہ عذاب ہے جو رسوا کر دینے والا ہو۔
    اور جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اس طرح متکبرانہ اعراض کرتے ہیں گویا ان کو سنا ہی نہیں، گویا ان کے کانوں میں بہرا پن ہے تو ان کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو!
    استکبار کی سزا: یہ ان لوگوں کے اس استکبار کی تصویر ہے جس کے سبب سے یہ ذلت کے عذاب کے مستحق ہوں گے۔ فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ نہایت غرور کے ساتھ اس طرح پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں گویا انھوں نے ان کو سرے سے سنا ہی نہیں، گویا ان کے دونوں کان بہرے ہیں۔ یعنی یہ ہماری آیات کو یک قلم ناقابل التفات سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ان کا پندار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہماری باتیں ان کے لیے لائق توجہ ہی نہیں رہ گئی ہیں تو پھر ہماری طرف سے ان کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر معاملہ مجرد غفلت کا ہو تو اس کی اصلاح تذکیر و تنبیہ سے ہو سکتی ہے لیکن جب تذکیر و تنبیہ کے جواب میں رعونت و استکبار کا مظاہرہ ہونے لگے تو یہ مرض لاعلاج ہے۔ اس طرح کے لوگ دوزخ ہی کا ایندھن بننے والے ہیں۔
    البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے۔
    قرآن کا مذاق اڑانے والوں کو جواب: یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو بنانے اور سنوارنے والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ’وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے جو پورا ہو کے رہے گا۔ اس جملے میں تاکید در تاکید کا جو مضمون مضمر ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اوپر آیت ۶ میں ذکر ہو چکا ہے کہ مستکبرین اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے استہزا کا خاص ہدف وہ آیتیں تھیں جن میں اس دور کے بے بس اور غریب مسلمانوں کو ایک ابدی بادشاہی کی خوش خبری سنائی جاتی تھی۔ معاملے کا یہ پہلو مقتضی ہوا کہ یہ بات یہاں پورے زور اور تاکید سے کہی جائے کہ مذاق اڑانے والے اگر اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑائیں لیکن اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔ وعدۂ قیامت کی قطعیت پر صفات الٰہی سے استدلال: ’وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ اسی وعدے کے حتمی ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات سے دلیل پیش کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر مستکبروں اور ظالموں کو سزا اور ایمان و عمل صالح والوں کو جزا نہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ نہ وہ عزیز ہے نہ حکیم ہے بلکہ العیاذ باللہ وہ ایک بالکل عاجز و بے بس ہستی ہے جس نے بالکل بے غایت و بے حکمت یہ دنیا بنا ڈالی۔ حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ خدا نہ صرف عزیز و حکیم ہے بلکہ حقیقی عزیز و حکیم وہی ہے۔ اس طرز استدلال کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے۔ یہاں اشارے پر اکتفا فرمائیے۔
    جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔ اور وہ غالب و حکیم ہے۔
    قرآن کا مذاق اڑانے والوں کو جواب: یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو بنانے اور سنوارنے والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ’وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے جو پورا ہو کے رہے گا۔ اس جملے میں تاکید در تاکید کا جو مضمون مضمر ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اوپر آیت ۶ میں ذکر ہو چکا ہے کہ مستکبرین اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے استہزا کا خاص ہدف وہ آیتیں تھیں جن میں اس دور کے بے بس اور غریب مسلمانوں کو ایک ابدی بادشاہی کی خوش خبری سنائی جاتی تھی۔ معاملے کا یہ پہلو مقتضی ہوا کہ یہ بات یہاں پورے زور اور تاکید سے کہی جائے کہ مذاق اڑانے والے اگر اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑائیں لیکن اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔ وعدۂ قیامت کی قطعیت پر صفات الٰہی سے استدلال: ’وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ اسی وعدے کے حتمی ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات سے دلیل پیش کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر مستکبروں اور ظالموں کو سزا اور ایمان و عمل صالح والوں کو جزا نہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ نہ وہ عزیز ہے نہ حکیم ہے بلکہ العیاذ باللہ وہ ایک بالکل عاجز و بے بس ہستی ہے جس نے بالکل بے غایت و بے حکمت یہ دنیا بنا ڈالی۔ حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ خدا نہ صرف عزیز و حکیم ہے بلکہ حقیقی عزیز و حکیم وہی ہے۔ اس طرز استدلال کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے۔ یہاں اشارے پر اکتفا فرمائیے۔
    اس نے بنایا آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں اور زمین میں پہاڑ گاڑ دیے کہ وہ تمہارے سمیت لڑھک نہ جائے اور اس میں ہر قسم کے جان دار پھیلائے۔ اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا پس اس میں نوع بنوع فیض بخش چیزیں پیدا کیں۔
    یہ اس کائنات کے ان دلائل و شواہد کی طرف توجہ دلائی ہے جن پر ایک نظر ڈال کر ایک متوسط درجہ کی عقل کا آدمی بھی، یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ اس کائنات کا خالق عزیز یعنی ہر چیز پر غالب و مقتدر بھی ہے اور اس کے ہر کام میں اس کی قدرت کے ساتھ اس کی بے پایاں حکمت بھی نمایاں ہے۔ فرمایا کہ یہ اسی کی قدرت و حکمت ہے کہ اس نے آسمانوں کی یہ عظیم چھت ایسے ستونوں کے بغیر ہی کھڑی کر دی جو تمہیں نظر آئیں اور ساتھ ہی زمین میں پہاڑ لنگر انداز کر دیے کہ یہ تمہارے ساتھ لڑھک نہ جائے۔ پھر اس چھت کے نیچے اور اس زمین کے اوپر بے شمار قسم کے جان دار پھیلا دیے اور ان کی پرورش کے لیے آسمان سے پانی برسایا اور اس پانی سے ہر قسم کی فیض بخش چیزیں اگائیں۔ ’بِغَیْْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا‘ میں ’تَرَوْنَہَا‘ ’عَمَدٍ‘ کی صفت ہے۔ یعنی یہ عظیم چھت اس کے عظیم خالق نے کھڑی تو کی ہے ستونوں پر لیکن یہ اس کی قدرت، حکمت اور کاریگری کا اعجاز ہے کہ یہ ستون کسی کو نظر نہیں آتے۔ اس نے اس کائنات کے اجزائے مختلفہ کو جذب و کشش کے ایسے قوانین کے ساتھ باندھ رکھا ہے جو صرف اسی کو نظر آتے ہیں۔ ’زَوْجٍ کَرِیْمٍ‘ میں لفظ ’کَرِیْم‘ کا صحیح لغوی مفہوم فیض بخش ہے۔ یہ خدا کی قدرت کے ساتھ ساتھ اس کی رحمت و ربوبیت کی طرف اشارہ ہے کہ اس نے یہ عظیم محل اور یہ قصر بے ستون تعمیر کر کے اس کے مکینوں کی پرورش کے لیے اپنی گوناگوں نعمتوں کے انبار بھی لگا دیے۔
    یہ ساری چیزیں تو اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ تو اب مجھے دکھاؤ کہ انھوں نے کیا چیزیں پیدا کی ہیں جو اس کے سوا ہیں! بلکہ یہ ظالم لوگ ایک صریح گمراہی میں مبتلا ہیں!!
    خدا کے شریک ٹھہرانے والوں سے ایک سوال: مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں تو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور تم کو بھی یہ اعتراف ہے کہ یہ اللہ کی بنائی ہوئی ہیں تو اب بتاؤ کہ تم اس کے سوا دوسری چیزوں کو جو پوجتے ہو تو انھوں نے کیا پیدا کیا ہے اور ان کا کیا کارنامہ ہے کہ تم نے خدا کی خدائی اور اس کے حقوق میں ان کو بھی شریک بنا دیا ہے!! ’بَلِ الظَّالِمُوۡنَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ‘۔ یہ ان سے منہ پھیر کر ان کے حال پر اظہار افسوس فرمایا ہے کہ ان ظالموں کے پاس اس حرکت کے جواز کی کوئی دلیل تو ہے نہیں جسے وہ پیش کر سکیں بلکہ ایک کھلی ہوئی گمراہی ہے جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List