Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الروم (The Romans)

    60 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ عنکبوت ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے اور دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہی یعنی الٓمّٓ ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورہ میں ظاہری حالات کے علی الرغم مسلمانوں کو نصرت الٰہی اور غلبہ کی بشارت دی گئی ہے اور اس بشارت کی بنیاد اس حقیقت پر رکھی گئی ہے کہ اس کارخانۂ کائنات کو اللہ تعالیٰ نے بالحق پیدا کیا ہے۔ وہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ تمام امر و نہی اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اس دنیا میں بھی اپنے رسول اور اپنے ساتھیوں کو غلبہ بخشے گا اور اس دنیا کے بعد آخرت بھی ہے جس میں اس کے کامل حق و عدل کا ظہور ہو گا۔ اس وقت باطل یکسر نابود ہو جائے گا اور حق و اہل حق کو ابدی بادشاہی حاصل ہو گی۔
    یہ مسائل مشرکین مکہ اور مسلمانوں کے درمیان زیربحث ہی تھے کہ اسی اثناء یعنی ۶۱۴ء میں پڑوس کے ملک یعنی شام اور فسلطین میں یہ انقلاب پیش آیا کہ مجوسیوں نے حملہ کر کے رومیوں کو وہاں سے بے دخل کر دیا۔ رومی چونکہ نصرانیت کے پیرو تھے اس وجہ سے دین و عقیدہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں سے قریب تھے اور اس قربت کے سبب سے قدرتی طور پر مسلمانوں کو ان سے ہمدردی تھی۔ اس کے برعکس مجوسی دین شرک کے پیرو تھے اس وجہ سے مشرکین کی تمام ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔ مجوسیوں کے ہاتھوں رومیوں کی اس شکست سے مشرکین مکہ کو بڑی شہ ملی۔ اس کی آڑ میں انھوں نے قرآن کی ان تمام باتوں کا مذاق اڑانا شروع کر دیا جو ان کی خواہشوں کے خلاف تھیں۔ مثلاً یہ کہ مسلمان جو یہ کہتے ہیں کہ دین توحید ہی حق ہے یا مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو گا یا قیامت آنے والی ہے جس میں حق کا بول بالا ہو گا، یہ سب باتیں ان کی محض لایعنی ہیں۔ اگر ان کی یہ باتیں سچی ہوتیں تو بھلا مجوسیوں کو رومیوں پر کس طرح غلبہ حاصل ہوتا! یہ واقعہ تو اس بات کی صاف شہادت ہے کہ ہمارا ہی دین و عقیدہ اور ہمارا ہی نظریۂ زندگی صحیح ہے اور ہم ہی غالب و حاکم رہیں گے۔
    قرآن نے اس سورہ میں اسی واقعہ کو بنیاد بنا کر ان تمام حقائق کو ازسرنو مبرہن کیا ہے جن کو مشرکین نے مشتبہ بنانے کی کوشش کی۔

  • الروم (The Romans)

    60 آیات | مکی

    العنکبوت ۔ الروم

    ۲۹ ۔ ۳۰

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع منکرین رسالت کو تہدید و وعید، اُن کے شبہات کی تردید اور اہل ایمان کے لیے، اگر وہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے ایمان پر قائم رہیں تو انجام خیر کی بشارت ہے۔ پہلی سورہ ۔۔۔ العنکبوت ۔۔۔ میں اِسی رعایت سے اُنھیں مصائب و شدائد کے ہجوم میں عزیمت و استقامت کی تلقین کی گئی ہے۔ اِس کے لیے بناے استدلال پہلی سورہ میں زیادہ تر تاریخ کے حقائق اور دوسری میں انفس و آفاق کی نشانیاں ہیں۔
    اِن میں خطاب اگرچہ بعض مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اور اہل ایمان سے بھی، لیکن روے سخن ہر جگہ قریش مکہ ہی کی طرف ہے۔
    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت کا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 030 Verse 001 Chapter 030 Verse 002 Chapter 030 Verse 003 Chapter 030 Verse 004 Chapter 030 Verse 005 Chapter 030 Verse 006 Chapter 030 Verse 007 Chapter 030 Verse 008 Chapter 030 Verse 009 Chapter 030 Verse 010 Chapter 030 Verse 011 Chapter 030 Verse 012 Chapter 030 Verse 013 Chapter 030 Verse 014 Chapter 030 Verse 015 Chapter 030 Verse 016 Chapter 030 Verse 017 Chapter 030 Verse 018
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الٓمّٓ ہے۔
    نبی صلعم کی رسالت کا اثبات آپ کے پیش کردہ اصولوں کی صداقت کے پہلو سے: یہ ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں، مستقل جملہ ہے۔ یعنی یہ سورہ ’الٓمّٓ‘ ہے۔ یہ اس سورہ کا اصل قرآنی نام ہے۔ یہی نام سابق سورہ کا بھی ہے۔ یہ قرینہ ہے اس بات کا کہ عمود کے اعتبار سے دونوں سورتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورہ میں اس کائنات کا جو فلسفہ بیان ہوا تھا اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر رسول اور اس کے ساتھیوں کے لیے دنیا اور آخرت میں جس نصرتِ الٰہی اور غلبہ کی بشارت دی گئی تھی، ایک خاص واقعہ کو جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے، دلیل بنا کر کفار نے اس کا خوب مذاق اڑایا اور اس طرح ان کے زعم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تکذیب کے لیے ان کو ایک ایسی شہادت مل گئی جس پر وہ بہت مسرور ہوئے اور قدرتی طور پر ان کی یہ شادمانی مسلمانوں کے لیے باعث رنج ہوئی۔ قرآن نے اس سورہ میں اسی واقعہ کو تمہید بنا کر ان تمام پہلوؤں کی وضاحت فرمائی جن سے بے خبری کی بنا پر کفار مغالطہ میں مبتلا ہوئے اور جن کے اچھی طرح ذہن نشین نہ ہونے کے سبب سے مسلمانوں کی ایک جماعت کو بھی خلجان لاحق ہوا۔ اس طرح یہ سورہ گویا سابق سورہ کے مطالب کو ازسرنو مدلل و مبرہن اور ان تمام شبہات کا ازالہ کر رہی ہے جو اس سلسلہ میں پیدا ہوئے یا پیدا ہو سکتے تھے۔ گویا دونوں سورتوں میں زیر بحث موضوع ایک ہی ہے۔ فرق صرف پہلو اور نہج استدلال کا ہے۔ ان دونوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت آپ کے پیش کردہ اصولوں کی صداقت کے پہلو سے واضح کی گئی ہے۔
    رومی (پاس کے علاقے میں) مغلوب ہوئے۔
    قرآن کی ایک پیشین گوئی کی صداقت: ’اَدْنَی الْاَرْضِ‘ سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو عرب کی سرزمین سے بالکل متصل تھی۔ اس علاقے پر اس زمانے میں رومیوں کی حکومت تھی لیکن وہ اس وقت سخت اندرونی خلفشار میں مبتلا تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ایرانیوں نے ان پر حملہ کر دیا اور ان علاقوں سے ان کو بے دخل کر دیا۔ یہ واقعہ ۶۱۴ء یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے چھٹے یا ساتویں سال پیش آیا۔
    (رومی) پاس کے علاقے میں (مغلوب ہوئے)۔ اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد عنقریب ۔۔۔ چند سالوں میں ۔۔۔ غالب آ جائیں گے۔
    قرآن کی ایک پیشین گوئی کی صداقت: ’اَدْنَی الْاَرْضِ‘ سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو عرب کی سرزمین سے بالکل متصل تھی۔ اس علاقے پر اس زمانے میں رومیوں کی حکومت تھی لیکن وہ اس وقت سخت اندرونی خلفشار میں مبتلا تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ایرانیوں نے ان پر حملہ کر دیا اور ان علاقوں سے ان کو بے دخل کر دیا۔ یہ واقعہ ۶۱۴ء یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے چھٹے یا ساتویں سال پیش آیا۔ ’وَھُمْ مِنْ م بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ‘۔ ’غَلَبٌ‘ اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے۔ یہ قرآن نے پیشین گوئی فرمائی کہ اگرچہ رومی اس وقت مغلوب ہو گئے ہیں لیکن یہ مغلوبیت ان کی عارضی ہے، بہت جلد وہ پھر ایرانیوں پر غالب ہو جائیں گے۔
    اللہ ہی کے حکم سے ہوا جو پہلے ہوا اور اللہ ہی کے حکم سے ہو گا جو بعد میں ہو گا اور اس وقت اہل ایمان مسرور ہوں گے۔
    ’فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ‘ یعنی اس انقلاب میں، جس کی قرآن خبر دے رہا ہے، زیادہ دن نہیں لگیں گے، صرف چند سالوں کے اندر اندر یہ واقع ہو جائے گا۔ اگرچہ ’سَیَغْلِبُوْنَ‘ کے اندر بھی مستقبل قریب کا مفہوم موجود تھا لیکن اس میں ایک قسم کا ابہام تھا۔ اس ابہام کو رفع کرنے کے لیے اس کے ساتھ ’فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ‘ کی قید لگا دی جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ انقلاب زیادہ سے زیادہ اگلی دہائی کے اندر واقع ہو جائے گا۔ لفظ ’بِضْع‘ کا اطلاق دس سے زیادہ کی تعداد کے لیے نہیں ہوتا۔ اس تعیین و تصریح کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اس واقعہ کو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مشرکین نے اپنے فکر و فلسفہ کی صحت کی دلیل بنا لیا تھا جس سے قدرتی طور پر مسلمانوں کو صدمہ پہنچا۔ قرآن نے اس مؤکد پیشین گوئی کے ذریعے سے ایک طرف تو مسلمانوں کو اطمینان دلایا کہ تمھارے مخالفوں نے اس واقعہ کو اپنے حق میں جو دلیل بنایا ہے اور جس سے وہ بہت خوش ہیں، ان کی یہ خوشی چند روزہ ہے، بہت جلد یہ غم سے بدل جائے گی۔ دوسری طرف مشرکین کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے جانچنے کے لیے ایک کسوٹی رکھ دی کہ یہ پیشین گوئی آپ کی نبوت کی ایک دلیل ہو گی۔ تاریخوں سے ثابت ہے کہ اس واقعہ کے تقریباً نو سال بعد ہرقل نے رومیوں کو ازسرنو منظم کر کے ایرانیوں کو سخت شکست دی اور ان سے نہ صرف اپنے علاقے واپس لے لیے بلکہ ان کے بھی بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور اس طرح قرآن کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہو گئی۔ قوموں سے بناؤ اور بگاڑ میں اصلی عامل کردار ہے: ’لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ م بَعْدُ‘۔ یعنی جو کچھ ہوا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوا ہے اور آگے جو کچھ ہو گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہو گا۔ قوموں کی زندگی میں اتنے بڑے بڑے انقلابات محض اتفاقات زمانہ اور گردش روزگار سے نہیں پیش آتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیش آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ہر حکم حق و عدل پر مبنی ہوتا ہے۔ رومیوں نے جب اپنے اندر وہ خرابیاں پیدا کرلیں جو کسی قوم کو خدا کے تازیانۂ تنبیہ کا مستحق بناتی ہیں تو وہ اس سے مجرد اس بنیاد پر نہیں بچ سکتے تھے کہ وہ بعض اچھے عقائد و رسوم کا اظہار کرتے ہیں۔ صرف رسوم و عقائد اجتماعی زندگی کے بنانے بگاڑنے میں اصلی دخل نہیں رکھتے بلکہ اصل شے وہ انفرادی و اجتماعی کردار ہے جو ان عقائد و رسوم سے پیدا ہوتا ہے یا پیدا ہونا چاہیے۔ اگر وہ کردار نہ پیدا ہو تو محض کھوکھلے رسوم کچھ بھی کارآمد نہیں ہوتے۔ چنانچہ رومیوں کا یہی کھوکھلا پن مجوسیوں کے آگے ان کی شکست کا سبب ہوا اور اب مستقبل قریب میں ان کے لیے جس غلبہ کی بشارت دی جا رہی ہے تو وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہو گا اور اللہ کا ہر حکم عدل و حق پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے لازماً یہ غلبہ اس وجہ سے ان کو حاصل ہو گا کہ وہ اپنے حالات کی اصلاح کر کے ایرانیوں کے مقابل میں اپنے کو اللہ کی مدد کا مستحق بنائیں گے۔ مسلمانوں کا رویہ دوسری قوموں کے ساتھ: ’وَیَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ‘۔ اس دن مسلمان خوش ہوں گے۔ اس وجہ سے بھی کہ جو لوگ مذہب اور فکر و فلسفہ میں ان سے قریب تر ہیں ان کو فتح ہو گی اور اس وجہ سے بھی کہ قرآن کی ایک عظیم پیشین گوئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے، پوری ہو گی۔ یہ امر یہاں قابل توجہ ہے کہ باوجودیکہ رومی صحیح نصرانیت کے پیرو نہیں تھے بلکہ ان کے عقائد و اعمال میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو چکی تھیں لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو مجوسیوں کے مقابل میں ان سے ہمدردی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ہمدردی کی تحسین فرمائی۔ اسلام نے دوسری غیر مسلم قوموں کے ساتھ اسی اصول پر اپنے قانون اور معاملات کی بنیاد رکھی ہے۔ یعنی جو قوم اپنے نظریات و عقائد اور فکر و فلفسہ میں اسلام سے جتنی قریب ہو گی بین الاقوامی میدان میں مسلمانوں کی ہمدردیاں دوسروں کے مقابل میں ان کے ساتھ اتنی ہی زیادہ ہوں گی۔
    اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور عزیز و رحیم تو وہی ہے۔
    قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ: ’بِنَصْرِ اللّٰہِ‘ کا تعلق ’سَیَغْلِبُوْنَ‘ سے بھی ہو سکتا ہے اور ’یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ‘ سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ غلبہ جو ان کو حاصل ہو گا اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہو گا، اس لیے کہ اللہ ہی جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور کسی کی مدد نہیں کر سکتا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تمام تر حق و عدل پر مبنی ہے اس وجہ سے وہ انھی کی مدد فرماتا ہے جو اس کے عدل و حکمت کی رو سے اس کی مدد کے سزاوار ہوتے ہیں۔ ’عزیز و رحیم‘ کی صفات کا حوالہ یہاں اس کی مشیت کی نوعیت کے اظہار کے لیے ہے کہ وہ غالب و مقتدر ہے اس وجہ سے اس کی مشیت میں کوئی مزاحم تو نہیں ہو سکتا لیکن ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے اس وجہ سے اس کا ہر ارادہ عدل و رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ اپنی مشیت کے زور میں یہ نہیں کرتا کہ قوموں کو قوموں سے ٹکرا کر ان کے فساد فی الارض کا تماشا دیکھے۔
    یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
    مسلمانوں کے غلبہ کا وعدہ: ’وَعْدَ اللّٰہِ‘ یہاں مصدر موکد ہے اس وجہ سے اس کے اندر تاکید کا مفہوم پیدا ہو جائے گا۔ یعنی اہل ایمان کی مدد کا یہ وعدہ بالکل قطعی اور اٹل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا لیکن جن لوگوں کی نظر صرف ظاہری اسباب و حالات تک محدود ہے وہ اس مخفی ہاتھ کو نہیں دیکھ رہے ہیں جو ان ظواہر کے اندر کارفرما ہے۔ اس وجہ سے وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ یہاں جس وعدے کے پورے ہونے کی طرف اشارہ ہے وہ صرف رومیوں کے غلبہ کا وعدہ نہیں ہے بلکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے غلبہ کا وہ وعدہ بھی ہے جس کی تکذیب کے لیے قریش نے مجوسیوں کی فتح کو دلیل بنایا تھا۔ اس واقعہ پر تبصرہ کرنے کے بعد یہ قرآن نے نہایت تاکید کے ساتھ اس وعدے کے پورے ہونے کا اظہار فرمایا جو اصلاً اس سورہ میں زیربحث ہے۔ آگے اسی سورہ کی آیات ۴۷، ۶۰ میں اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔
    وہ اس دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ بالکل ہی بے خبر ہیں۔
    ظاہر پرستوں اصل مغالطہ: اوپر والی آیت میں ان ظاہر پرستوں کے جس اندھے پن کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اس کی توجیہ ہے کہ اول تو یہ لوگ اس دنیا کے صرف ظاہر حالات کو دیکھتے ہیں، ان کے باطن تک ان کی نگاہ نہیں پہنچتی کہ اصل متصرف اس کے اندر کون ہے اور اس کی صفات کیا ہیں اس وجہ سے یہ ان کے لیے ایک کھیل تماشا بن کر رہ گئی ہے، دوسرے یہ آخرت سے بالکل غافل ہیں اور جب یہ آخرت سے غافل ہیں تو آخرت کے بغیر اس کارخانۂ کائنات کو مبنی برعدل و حکمت تصور کرنا ناممکن ہے۔ ’وَہُمْ عَنِ الْآخِرَۃِ ہُمْ غَافِلُوۡنَ‘ میں مبتداء کا اعادہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اس حقیقت کو زور و تاکید کے ساتھ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ آخرت سے اصلی غافل یہی لوگ ہیں۔ اس تاکید کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین عرب اگرچہ آخرت کا صاف الفاظ میں انکار نہیں کرتے تھے لیکن انھوں نے شرک و شفاعت کا ایک ایسا نظام کھڑا کر رکھا تھا کہ آخرت ان کے لیے ایک بالکل بے حقیقت چیز بن کر رہ گئی تھی۔ قرآن یہاں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کوئی یہ نہ گمان کرے کہ یہ لوگ آخرت کو کسی درجے میں بھی مانتے ہیں۔ اصلی حقیقت یہ ہے کہ آخرت سے یہ لوگ بالکل ہی بے خبر ہیں۔
    کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا! اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہیں پیدا کیا ہے مگر غایت و حکمت اور ایک مدت مقرر کے ساتھ۔ اور لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔
    کائنات کی مقصدیت سے استدلال: اس آیت میں اور آگے کی چند آیات میں اسی حقیقت کی تائید میں، جو اوپر بیان ہوئی، آفاق کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ خود اپنے باطن میں اتر کر غور کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، ان میں سے کسی چیز کو بھی بے غایت و مقصد، محض کھیل تماشے کے طور پر، نہیں بنایا ہے بلکہ ہر چیز ایک غایت و مقصد اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ بندھی ہوئی پیدا ہوئی ہے۔ تو جب اس کائنات کی ہر چیز اپنے اندر ایک غایت و حکمت رکھتی ہے اور اس کے لیے ایک مدت بھی مقرر ہے تو یہ کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ انسان جو اس کے اندر، واضح طور پر، ایک برتر مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے، بالکل بے مقصد اور عبث پیدا کیا گیا ہو۔ اس چیز کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک روز جزاء و سزا آئے جس میں وہ اپنے اعمال کی بابت مسؤل ہو، اپنی نیکیوں کا صلہ پائے اگر اس نے نیکیاں کی ہوں اور اپنی بدیوں کی سزا بھگتے اگر اس نے بدیاں کمائی ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ کارخانۂ کائنات ایک کھلنڈرے کا کھیل اور انسان ایک شتر بے مہار اور بے غایت و مقصد وجود بن کے رہ جاتا ہے اور یہ بات اس کائنات کی اس مقصدیت اور حکمت کے بالکل منافی ہے جس کی شہادت اس کے ہر گوشہ سے مل رہی ہے۔ یہی مضمون دوسری جگہ اس طرح بیان ہوا ہے: ’وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِےْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘ (اور وہ آسمانوں اور زمین کی خلقت میں غور کرتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب! تو نے یہ کارخانہ عبث نہیں پیدا کیا۔ تیری ذات پاک ہے تو ہمیں عذاب نار سے بچائیو!) ’أَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْ أَنفُسِہِمْ‘ کے الفاظ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ آسمان و زمین کی خلقت کی یہ حکمت ان لوگوں پر کھلتی ہے جو بالکل غیر جانب دار ہو کر اپنے باطن میں غوطہ لگاتے اور اصل حقیقت کو پانا چاہتے ہیں۔ رہے وہ جو محض دوسروں کے اندھے مقلد یا حقیقت کو جھٹلانے کے لیے معجزات اور نشانیوں کے طالب اور مناظرہ و مجادلہ کے لیے آستینیں چڑھائے رہتے ہیں وہ اس سے محروم ہی رہتے ہیں۔ ’وَإِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّہِمْ لَکَافِرُوۡنَ‘۔ یعنی ہے تو یہ حقیقت بالکل واضح لیکن اس کے باوجود بہت سے نادان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور عیش کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور اسی طرح ایک دن ختم ہو جائیں گے۔ ان کے لیے خدا کے آگے پیشی کا کوئی دن آنا نہیں ہے۔  
    کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے۔ وہ ان سے قوت میں زیادہ اور زمین کو زرخیز بنانے اور آباد کرنے میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھے اور ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے۔ پس اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔
    تاریخ کے دلائل کی طرف اشارہ: یہ اسی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنے ہی ملک کے آثار اور اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ جو قومیں اپنی عسکری قوت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر اور تمدنی و تعمیری صلاحیتوں میں ان سے کہیں آگے تھیں، ان کا انجام کیا ہو چکا ہے! اشارہ قوم عاد، ثمود، قوم مدین وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بیان ہو چکی ہیں۔ فرمایا کہ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن انھوں نے اپنی آنکھیں اس طرح بند رکھیں کہ وہ کسی نشانی سے بھی نہ کھلیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو عذاب میں پکڑا اور ان کا عذاب میں پکڑا جانا ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس لیے کہ انھوں نے اس انذار کی کوئی قدر نہیں کی جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اہتمام فرمایا بلکہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور نہایت جسارت کے ساتھ ان کا مذاق اڑاتے رہے ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ قریش قوموں کی اس تاریخ پر غور کریں کہ اس سے کیا بات ثابت ہوتی ہے؟ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے، جس میں ہر شخص اپنے زور میں جو چاہے کرتا پھرے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے، یا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ قوموں کے ساتھ اپنے قانون عدل و حکمت کے مطابق معاملہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی دوسری بات ثابت ہوتی ہے اور پھر اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن بھی آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ ایک ایک فرد کا محاسبہ کرے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔
    پھر ان لوگوں کا انجام، جنھوں نے بری روش اختیار کی، برا ہوا۔ بوجہ اس کے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑاتے رہے۔
    تاریخ کے دلائل کی طرف اشارہ: یہ اسی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنے ہی ملک کے آثار اور اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ جو قومیں اپنی عسکری قوت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر اور تمدنی و تعمیری صلاحیتوں میں ان سے کہیں آگے تھیں، ان کا انجام کیا ہو چکا ہے! اشارہ قوم عاد، ثمود، قوم مدین وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بیان ہو چکی ہیں۔ فرمایا کہ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن انھوں نے اپنی آنکھیں اس طرح بند رکھیں کہ وہ کسی نشانی سے بھی نہ کھلیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو عذاب میں پکڑا اور ان کا عذاب میں پکڑا جانا ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس لیے کہ انھوں نے اس انذار کی کوئی قدر نہیں کی جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اہتمام فرمایا بلکہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور نہایت جسارت کے ساتھ ان کا مذاق اڑاتے رہے ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ قریش قوموں کی اس تاریخ پر غور کریں کہ اس سے کیا بات ثابت ہوتی ہے؟ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے، جس میں ہر شخص اپنے زور میں جو چاہے کرتا پھرے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے، یا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ قوموں کے ساتھ اپنے قانون عدل و حکمت کے مطابق معاملہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی دوسری بات ثابت ہوتی ہے اور پھر اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن بھی آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ ایک ایک فرد کا محاسبہ کرے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔
    اللہ ہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
    اصل حقیقت: اوپر کی آیات میں اس کائنات کے ’بالحق‘ ہونے سے قانون مجازات کی صحت و صداقت پر استدلال فرمایا ہے۔ اب اس آیت اور بعد کی چند آیات میں نہایت آشکارا الفاظ میں وہ اصل حقیقت سامنے رکھ دی ہے جس سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنا ہے۔ فرمایا کہ اللہ ہی خلق کا آغاز فرماتا ہے اور وہی اس کا اعادہ فرمائے گا۔ ان دو لفظوں میں دعویٰ اور دلیل دونوں جمع ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ اللہ اس خلق کا اعادہ فرمائے گا، دلیل اس کی یہ ہے کہ اسی نے اس کا آغاز کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس نے اس کا آغاز کیا اور اس کام میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی اس کو اس کے اعادے میں بھی کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بلکہ اعادہ ابداء کے مقابل میں زیادہ آسان ہے۔ یہ جواب ہے منکرین قیامت کے شبہ کا کہ وہ قیامت کو نہایت مستبعد چیز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جب خلق کا ابداء مستبعد نہیں ہے تو اس کے اعادے میں کیا استبعاد ہے! ’ثُمَّ إِلَیْْہِ تُرْجَعُوۡنَ‘۔ یہ منکرین کے ایک دوسرے مغالطے کو رفع فرمایا۔ منکرین اول تو قیامت کے وقوع ہی کو نہایت مستبعد خیال کرتے تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجے میں مانتے بھی تھے تو ان کا گمان یہ تھا کہ ہمارا لوٹنا تو ہمارے معبودوں کی طرف ہو گا اور ان کو خدا کے ہاں اتنا تقرب حاصل ہے کہ اول تو وہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے اوپر ہاتھ ڈالنے ہی نہیں دیں گے اور اگر اس نے ہاتھ ڈالا تو وہ اپنی سفارش سے ہم کو بچا لیں گے۔ فرمایا کہ یہ خبط اپنے ذہن سے نکالو۔ ہر ایک کی پیشی اللہ ہی کے حضور ہونی ہے۔ اس دن کوئی اور مرجع و ماویٰ نہیں بنے گا۔
    اور جس دن قیامت واقع ہو گی تو مجرم اس دن مایوس ہو جائیں گے۔
    ’ابلاس‘ کے معنی بالکل مایوس اور بھونچکا رہ جانا ہے۔ فرمایا کہ آج یہ مخالفین جن کی شفاعت پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں جب قیامت کے دن ان کے سامنے اصلی صورت حال آئے گی تو وہ مایوس اور بھونچکے ہو کر رہ جائیں گے ۔۔۔ وہ دیکھیں گے کہ جن کو انھوں نے شریک خدا بنایا اور جن کی زندگی بھر پوجا کی ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔ ’وَکَانُوْا بِشُرَکَائِہِمْ کَافِرِیْنَ‘۔ اور خود ان کا حال یہ ہو گا کہ جن کی حمایت میں آج آستینیں چڑھائے ہوئے ہر ایک سے لڑنے کو تیار ہیں، ان کے منکر بن جائیں گے۔ سورۂ قصص کی تفسیر میں ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ قیامت کے مختلف مراحل میں مشرکین اپنے شرکاء کے معاملے میں مختلف رویے اختیار کریں گے ۔۔۔ کبھی تو وہ ان کو اپنی مدد کے لیے پکاریں گے اور کبھی وہ مرحلہ بھی آئے گا کہ صاف صاف ان کا انکار کریں گے۔ حیرانی و پریشانی کے عالم میں جہاں جو بات بنتی نظر آئے گی وہ کریں گے لیکن قیامت بات بنانے کی جگہ نہیں ہو گی بلکہ حقائق سے دوچار ہونے کی جگہ ہو گی۔ یہاں زبان کے اس اسلوب پر بھی نگاہ رہے کہ مستقبل کے احوال ماضی کے صیغوں ۔۔۔ ’وَلَمْ یَکُن لَّہُمْ‘ اور ’کَانُوْا بِشُرَکَائِہِمْ‘ ۔۔۔ میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ اسلوب تقریب فہم کے لیے اختیار کیا جاتا ہے گویا مخاطب جس چیز کو نہایت بعید سمجھتے ہیں متکلم اس کو ماضی کے اسلوب میں ایک واقع شدہ واقعہ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ احوال قیامت کے بیان میں قرآن نے یہ اسلوب اکثر جگہ استعمال کیا ہے۔
    اور ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کے لیے سفارش کرنے والا نہیں بنے گا اور وہ اپنے شریکوں کا انکار کریں گے۔
    ’ابلاس‘ کے معنی بالکل مایوس اور بھونچکا رہ جانا ہے۔ فرمایا کہ آج یہ مخالفین جن کی شفاعت پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں جب قیامت کے دن ان کے سامنے اصلی صورت حال آئے گی تو وہ مایوس اور بھونچکے ہو کر رہ جائیں گے ۔۔۔ وہ دیکھیں گے کہ جن کو انھوں نے شریک خدا بنایا اور جن کی زندگی بھر پوجا کی ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔ ’وَکَانُوْا بِشُرَکَائِہِمْ کَافِرِیْنَ‘۔ اور خود ان کا حال یہ ہو گا کہ جن کی حمایت میں آج آستینیں چڑھائے ہوئے ہر ایک سے لڑنے کو تیار ہیں، ان کے منکر بن جائیں گے۔ سورۂ قصص کی تفسیر میں ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ قیامت کے مختلف مراحل میں مشرکین اپنے شرکاء کے معاملے میں مختلف رویے اختیار کریں گے ۔۔۔ کبھی تو وہ ان کو اپنی مدد کے لیے پکاریں گے اور کبھی وہ مرحلہ بھی آئے گا کہ صاف صاف ان کا انکار کریں گے۔ حیرانی و پریشانی کے عالم میں جہاں جو بات بنتی نظر آئے گی وہ کریں گے لیکن قیامت بات بنانے کی جگہ نہیں ہو گی بلکہ حقائق سے دوچار ہونے کی جگہ ہو گی۔ یہاں زبان کے اس اسلوب پر بھی نگاہ رہے کہ مستقبل کے احوال ماضی کے صیغوں ۔۔۔ ’وَلَمْ یَکُن لَّہُمْ‘ اور ’کَانُوْا بِشُرَکَائِہِمْ‘ ۔۔۔ میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ اسلوب تقریب فہم کے لیے اختیار کیا جاتا ہے گویا مخاطب جس چیز کو نہایت بعید سمجھتے ہیں متکلم اس کو ماضی کے اسلوب میں ایک واقع شدہ واقعہ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ احوال قیامت کے بیان میں قرآن نے یہ اسلوب اکثر جگہ استعمال کیا ہے۔
    اور جس دن قیامت واقع ہو گی مومن و کافر دونوں الگ الگ ہو جائیں گے۔
    کفار کا ایک مغالطہ: یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتح مند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’بالحق‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یوم الفرقان نمایاں ہو گا اور اس دن نیک و بد اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہو جائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک شان دارباغ میں مسرور و شادماں ہوں گے اور جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات و ملاقات کو جھٹلایا ہو گا وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ یہاں ’رَوْضَۃٌ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی جنت کے باغوں میں سے شان دار باغ میں ’حَبَرٌ‘ کے معنی خوش اور مسرور کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ تمام اسباب مہیا فرما دے گا جو ان کی خوشی کے لیے ضروری ہوں گے۔ مجرمین کے باب میں لفظ ’مُحْضَرُوْنَ‘ ان کی ذلت اور بے بسی کی تصویر کے لیے ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عذاب میں اس طرح باندھ کر اور گھسیٹ کر لائے جائیں گے جس طرح سزایافتہ قیدی لائے جاتے ہیں۔
    پس جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے وہ تو ایک شان دار باغ میں مسرور ہوں گے۔
    کفار کا ایک مغالطہ: یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتح مند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’بالحق‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یوم الفرقان نمایاں ہو گا اور اس دن نیک و بد اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہو جائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک شان دارباغ میں مسرور و شادماں ہوں گے اور جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات و ملاقات کو جھٹلایا ہو گا وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ یہاں ’رَوْضَۃٌ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی جنت کے باغوں میں سے شان دار باغ میں ’حَبَرٌ‘ کے معنی خوش اور مسرور کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ تمام اسباب مہیا فرما دے گا جو ان کی خوشی کے لیے ضروری ہوں گے۔ مجرمین کے باب میں لفظ ’مُحْضَرُوْنَ‘ ان کی ذلت اور بے بسی کی تصویر کے لیے ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عذاب میں اس طرح باندھ کر اور گھسیٹ کر لائے جائیں گے جس طرح سزایافتہ قیدی لائے جاتے ہیں۔
    رہے وہ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی تو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔
    کفار کا ایک مغالطہ: یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتح مند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’بالحق‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یوم الفرقان نمایاں ہو گا اور اس دن نیک و بد اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہو جائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک شان دارباغ میں مسرور و شادماں ہوں گے اور جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات و ملاقات کو جھٹلایا ہو گا وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ یہاں ’رَوْضَۃٌ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی جنت کے باغوں میں سے شان دار باغ میں ’حَبَرٌ‘ کے معنی خوش اور مسرور کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ تمام اسباب مہیا فرما دے گا جو ان کی خوشی کے لیے ضروری ہوں گے۔ مجرمین کے باب میں لفظ ’مُحْضَرُوْنَ‘ ان کی ذلت اور بے بسی کی تصویر کے لیے ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عذاب میں اس طرح باندھ کر اور گھسیٹ کر لائے جائیں گے جس طرح سزایافتہ قیدی لائے جاتے ہیں۔
    پس اللہ ہی کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے اور جس وقت صبح کرتے ہو۔
    توحید اور قانون مجازات کا تقاضا: اب یہ تقاضا بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی اس یکتائی اور اس کے قانون مجازات کا جس کا بیان اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی تو ہر ایک کا فرض ہے کہ صرف اللہ ہی کی تسبیح کرے شام و صبح اور عشا کے وقت اور ظہر کے وقت۔
    اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہو رہی ہے اور عشاء کے وقت بھی اور اس وقت بھی جب تم ظہر کرتے ہو۔
    ’وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘۔ یہ اوقات تسبیح کے بیچ میں ایک جملہ معترضہ بطور تنبیہ و تذکیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خدا ہی کی تسبیح کی جو دعوت دی جا رہی ہے یہ کوئی بیگانہ دعوت نہیں ہے بلکہ آسمانوں اور زمین کے ہر گوشے سے خدا ہی کی حمد کا ترانہ گونج رہا ہے۔ تو جو لوگ خدا کے سوا کسی اور کی بندگی کر رہے ہیں ان کا سُر اس کائنات کے مجموعی سُر سے بالکل بے جوڑ ہے البتہ جو لوگ خدا کی حمد و تسبیح کر رہے ہیں وہ اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس میں دعوت کے ساتھ ساتھ ایک قسم کی بے نیازی کا اظہار بھی ہے کہ اگر کچھ بدقسمت خدا کی حمد و تسبیح سے گریز کریں گے تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ اس کائنات میں اس کی حمد و تسبیح کرنے والوں کی کمی ہے، آسمانوں اور زمین کا ہر گوشہ اس کی حمد کرنے والوں سے معمور ہے۔ اوقات عبادت کے تعین میں حکمت: یہاں جو اوقات مذکور ہوئے ہیں ان پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد و تسبیح کے لیے وہ اوقات خاص طور پر پسند فرمائے ہیں جن میں اس کی کسی بڑی نشانی کا ظہور ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ رات دن، میں داخل ہوتی ہے یا دن رات میں داخل ہوتا ہے۔ یا سورج سمت راس سے جھکتا ہے یا رات تاریک ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو انسان غور کرنے والا ہے یہ اوقات اس کے ذہن و دماغ پر خاص طور پر اثرانداز ہوتے اور اس کو جھنجھوڑتے ہیں کہ وہ اس ذات کو اس وقت یاد کرے جس کے حکم سے یہ عظیم تغیر اس دنیا میں واقع ہوتا ہے۔ اگر ان اوقات میں بھی کوئی شخص اللہ کی نشانیوں اور اس کی شانوں سے متاثر نہیں ہوتا تو وہ نہایت بلید جانور ہے۔ اوقات نماز میں سے فجر اور ظہر کا ذکر تو اس آیت میں نہایت واضح طور پر موجود ہی ہے۔ ’تُمْسُوْنَ‘ میں اگر عصر اور مغرب دونوں کو شامل کر لیجیے اور ’َعَشِیًّا‘ سے ’عشاء‘ کو مراد لیجیے تو تمام اوقات نماز آ جاتے ہیں۔ لفظ ’عشی‘ کا اطلاق زوال کے وقت پر بھی ہوتا ہے اور مغرب سے لے کر عشاء کے وقت پر بھی، اس وجہ سے اس سے عشاء کا وقت مراد لینے میں لفظ سے کوئی تجاوز نہیں ہو گا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List