Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • العنکبوت (The Spider)

    69 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس سورہ کا آغاز ان لوگوں کو مخاطب کر کے ہوا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے جرم میں ستائے جا رہے تھے۔ خاص کر نوجوان اور غلام، سورہ کے نزول کے دور میں، اپنے باپوں اور آقاؤں کے ہاتھوں بڑی سخت آزمائش کے دور سے گزر رہے تھے۔ قدرتی طور پر اس صورت حال نے کمزور ارادے کے لوگوں کے اندر بہت سے سوالات قرآن اور رسول کی صداقت سے متعلق پیدا کر دیے ۔۔۔ جن کا برسر موقع جواب دیا جانا ضروری ہوا تاکہ مظلوموں اور کمزوروں کی ہمت افزائی بھی ہو اور جو لوگ خدا کی ڈھیل کو اپنی فتح سمجھ کر ظلم و ستم میں بالکل بے باک ہوتے جا رہے تھے ان کو بھی تنبیہ ہو۔
    حالات کے تقاضے سے اس میں ہجرت کی طرف بھی اشارات ہیں اور مظلوم مسلمانوں کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ انھیں بہرحال ظلم کے آگے سپر نہیں ڈالنی چاہیے۔ اگر حق کی خاطر انھیں اپنے وطن کو چھوڑنا پڑ جائے تو اس کے لیے بھی انھیں تیار رہنا چاہیے۔ نہ خدا کی زمین تنگ ہے اور نہ اس کے خزانۂ رزق میں کمی ہے۔ جو لوگ خدا کی راہ میں ہجرت کریں گے خدا ان کے لیے خود اپنا دامن رحمت پھیلائے گا اور ان کی ساری ضروریات کا کفیل ہو گا۔
    پچھلی سورہ میں اہل کتاب کی مخالفت کی طرف بعض اشارات گزرے ہیں۔ اس سورہ میں ان کی مخالفت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو یہ رہنمائی بھی دی گئی ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ بحث میں ان کو کیا روش اختیار کرنی چاہیے۔

  • العنکبوت (The Spider)

    69 آیات | مکی

    العنکبوت ۔ الروم

    ۲۹ ۔ ۳۰

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع منکرین رسالت کو تہدید و وعید، اُن کے شبہات کی تردید اور اہل ایمان کے لیے، اگر وہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے ایمان پر قائم رہیں تو انجام خیر کی بشارت ہے۔ پہلی سورہ ۔۔۔ العنکبوت ۔۔۔ میں اِسی رعایت سے اُنھیں مصائب و شدائد کے ہجوم میں عزیمت و استقامت کی تلقین کی گئی ہے۔ اِس کے لیے بناے استدلال پہلی سورہ میں زیادہ تر تاریخ کے حقائق اور دوسری میں انفس و آفاق کی نشانیاں ہیں۔
    اِن میں خطاب اگرچہ بعض مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اور اہل ایمان سے بھی، لیکن روے سخن ہر جگہ قریش مکہ ہی کی طرف ہے۔
    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت کا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 029 Verse 001 Chapter 029 Verse 002 Chapter 029 Verse 003 Chapter 029 Verse 004 Chapter 029 Verse 005 Chapter 029 Verse 006 Chapter 029 Verse 007 Chapter 029 Verse 008 Chapter 029 Verse 009 Chapter 029 Verse 010 Chapter 029 Verse 011 Chapter 029 Verse 012 Chapter 029 Verse 013
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الٓمّٓ ہے۔
    الٓمّٓ: یہ ایک مستقل جملہ ہے۔ عربی زبان کے عام قاعدے کے مطابق یہاں مبتدا محذوف ہے۔ اس کو ظاہر کر دیا جائے تو پوری بات یوں ہو گی۔ ھٰذہ الٓمّٓ، (یہ الف، لام، میم ہے) ہم نے ترجمہ میں اس حذف کو کھول دیا ہے۔ یہ اور اس طرح کے جتنے حروف بھی مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں چونکہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں۔ یہ جس سورہ میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں اس طرح آئے ہیں جس طرح کتابوں، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ذٰلک اور تِلۡکَ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام ہونے کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ حدیثوں سے بھی ان کا نام ہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جو سورتیں ان ناموں سے موسوم ہیں اگرچہ ان میں سے سب اپنے انہی ناموں سے مشہور نہیں ہوئیں بلکہ بعض دوسرے ناموں سے مشہور ہوئیں، لیکن ان میں سے کچھ اپنے انہی ناموں سے مشہور بھی ہیں۔ مثلاً طٰہٰ، یٰس، ق اور ن وغیرہ۔ ان ناموں کے معانی کے بارے میں کوئی قطعی بات کہنا بڑا مشکل ہے اس وجہ سے ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قرآن کا تو دعویٰ یہ ہے کہ وہ ایک بالکل واضح کتاب ہے، اس میں کوئی چیز بھی چیستاں یا معمے کی قسم کی نہیں ہے، پھر اس نے سورتوں کے نام ایسے کیوں رکھ دیے ہیں جن کے معنی کسی کو بھی نہیں معلوم؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لینا عربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔ قرآن پر اہل عرب نے بہت سے اعتراضات کئے اور ان کے یہ سارے اعتراض قرآن نے نقل بھی کئے ہیں لیکن ان کے اس طرح کے کسی اعتراض کا کوئی ذکر نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ناموں میں ان کے لئے کوئی اجنبیت نہیں تھی۔ علاوہ بریں جن لوگوں کی نظر اہل عرب کی روایات اور ان کے لٹریچر پر ہے وہ جانتے ہیں کہ اہل عرب نہ صرف یہ کہ اس طرح کے ناموں سے نامانوس نہیں تھے بلکہ وہ خود اشخاص، چیزوں، گھوڑوں، جھنڈوں، تلواروں حتیٰ کہ قصائد اور خطبات تک کے نام اسی سے ملتے جلتے رکھتے تھے۔ یہ نام مفرد حروف پر بھی ہوتے تھے اور مرکب بھی ہوتے تھے۔ ان میں یہ اہتمام بھی ضروری نہیں تھا کہ اسم اور مسمٰی میں کوئی معنوی مناسبت پہلے سے موجود ہو بلکہ یہ نام ہی بتاتا تھا کہ یہ نام اس مسمٰی کے لئے وضع ہوا ہے۔ اور یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شے کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ یہ نام ہے تو پھر اس کے معنی کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ نام سے اصل مقصود مسمٰی کا اس نام کے ساتھ خاص ہوجانا ہے نہ کہ اس کے معنی۔ کم ازکم فہم قرآن کے نقطۂ نظر سے ان ناموں کے معانی کی تحقیق کی تو کوئی خاص اہمیت ہے نہیں۔ بس اتنی بات ہے کہ چونکہ یہ نام اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے ہیں اس وجہ سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت کی بنا پر رکھے گئے ہوں گے۔ یہ خیال فطری طور پر طبیعت میں ایک جستجو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی جستجو کی بنا پر ہمارے بہت سے پچھلے علماء نے ان ناموں پر غور کیا اور ان کے معنی معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کی جستجو سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن ہمارے نزدیک ان کا یہ کام بجائے خود غلط نہیں تھا اور اگر ہم بھی ان پر غور کریں گے تو ہمارا یہ کام بھی غلط نہیں ہو گا۔ اگر اس کوشش سے کوئِی حقیقت واضح ہوئی تو اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہو گا اور اگر کوئی بات نہ مل سکی تو اس کو ہم اپنے علم کی کوتاہی اور قرآن کے اتھاہ ہونے پر محمول کریں گے۔ یہ رائے بہرحال نہیں قائم کریں گے کہ یہ نام ہی بے معنی ہیں۔ اپنے علم کی کمی اور قرآن کے اتھاہ ہونے کا یہ احساس بجائے خود ایک بہت بڑا علم ہے۔ اس احساس سے علم و معرفت کی بہت سی بند راہیں کھلتی ہیں۔ اگر قرآن کا پہلا ہی حرف اس عظیم انکشاف کے لئے کلید بن جائے تو یہ بھی قرآن کے بہت سے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہو گا۔ یہ اسی کتاب کا کمال ہے کہ اس کے جس حرف کا راز کسی پر نہ کھل سکا اس کی پیدا کردہ کاوش ہزاروں سربستہ اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے دلیل راہ بنی۔ ان حروف  پر ہمارے پچھلے علماء نے جو رائیں ظاہر کی ہیں ہمارے نزدیک وہ تو کسی مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا۔ البتہ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمة اللہ علیہ کی رائے اجمالاً یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس سے اصل مسئلہ اگرچہ حل نہیں ہوتا لیکن اس کے حل کے لئے ایک راہ کھلتی ضرور نظر آتی ہے۔ کیا عجب کہ مولانا رحمة اللہ علیہ نے جو سراغ دیا ہے دوسرے اس کی رہنمائی سے کچھ مفید نشانات راہ اور معلوم کر لیں اور اس طرح درجہ بدرجہ تحقیق کے قدم کچھ اور آگے بڑھ جائیں۔ جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لئے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امام رحمة اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرف صرف آواز ہی  نہیں بتاتے تھے بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرف معانی اور اشیاء پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیاء پر وہ دلیل ہوتے تھے عموماً ان ہی کی صورت و ہئیت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کئے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم و اصلاح کر کے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی جس کے آثار اہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔ ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً “الف” کے متعلق معلوم ہے کہ وہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت ہی پر لکھا جاتا ہے۔ “ب” کو عبرانی میں بَیت کہتے بھی ہیں اور اس کے معنی بھی “بیت” (گھر) کے ہیں۔ “ج” کا عبرانی تلفظ جمیل ہے جس کے معنی جمل (اونٹ) کے ہیں۔ “ط” سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی کی شکل پر جاتا تھا۔ “م” پانی کی لہر پر دلیل ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔ مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورہ “ن” کو پیش کرتے ہیں۔ حرف “نون” اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جو سورہ اس نام سے موسوم ہوئی ہے اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر صاحب الحوت، مچھلی والے، کے نام سے آیا ہے۔ مولانا اس نام کو پیش کر کے فرماتے ہیں کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورہ کا نام “نون” (ن) اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں صاحب الحوت، حضرت یونس علیہ السلام، کا واقعہ بیان ہوا ہے جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں وہ  بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بنا پر آئے ہوں۔ قران مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً حرف “ط” کے معنی، جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہئیت بھی سانپ کی ہئیت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ اب قرآن میں سورہ طٰہٰ کو دیکھئے جو “ط” سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ  بیان ہوتا ہے۔ اسی طرح طسم، طس وغیرہ بھی “ط” سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کر لینے کا معجزہ مذکور ہے۔ “الف” کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ گائے کے سر کی ہئیت پر لکھا بھی جاتا تھا اور گائے کے معنی بھی بتاتا تھا۔ اس کے دوسرے معنی اللہ واحد کے ہوتے تھے۔ اب قرآن مجید میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ بقرہ میں جس کا نام الف سے شروع ہوتا ہے، گائے کے ذبح کا قصہ بیان ہوا ہے۔ دوسری سورتیں جن کے نام الف سے شروع ہوئے ہیں توحید کے مضمون میں مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ مضمون ان میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان ناموں کا یہ پہلو بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن سورتوں کے نام ملتے جلتے سے ہیں ان کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں بلکہ بعض سورتوں میں تو اسلوب بیان تک ملتا جلتا ہے۔ میں نے مولانا کا یہ نظریہ، جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لئے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معانی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ محض علوم قرآن کے قدردانوں کے لئے ایک اشارہ ہے، جو لوگ مزید تحقیق و جستجو کی ہمت رکھتے ہیں وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس راہ سے یہ مشکل آسان کر دے۔
    کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ محض یہ کہہ دینے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے؟
    راہ حق میں آزمائشیں لازماً پیش آتی ہیں: ’اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ الاٰیۃ‘ بات اگرچہ عام صیغہ سے فرمائی گئی ہے لیکن اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو مکہ کی پرمحن زندگی سے گھبرا اٹھے تھے۔ بعض لوگ اسلام میں داخل تو ہو گئے تھے لیکن ان کو اس راہ کی صعوبتوں کا اندازہ نہیں تھا۔ ان کو گمان تھا کہ جب انھوں نے نیکی کی راہ میں قدم رکھا ہے تو راہ ہموار ملے گی اور وہ ٹھنڈی سڑک سے منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے۔ ان لوگوں کو جب کفار کے ہاتھوں زہرہ گداز مصائب سے سابقہ پیش آیا تو ان کے قدم ہل گئے اور اس طرح کے حالات میں خام ذہن کے لوگوں کو جس طرح کے شبہات لاحق ہوتے ہیں ان کے ذہنوں میں بھی اسی قسم کے شبہات پیدا ہونے لگے۔ مثلاً یہ کہ اگر یہ اللہ کا راستہ ہے تو یہ اتنا دشوار گزار کیوں ہے؟ اگر اس کی دعوت دینے والے اللہ کے رسول ہیں تو ان پر ایمان لانا اتنا جان جوکھم کا کام کیوں ہے؟ ہم جب اللہ کے کام کے لیے اٹھے ہیں تو ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں، پھر ہماری راہ میں رکاوٹیں اور یہ اڑنگے کیوں ڈال دیے گئے ہیں! اس طرح کے سوالات کا پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ راہ حق اور اس کے تقاضوں سے اچھی طرح آشنا نہیں تھے اور نہایت آسانی سے نفاق کے فتنہ میں مبتلا ہو سکتے تھے۔ اس سورہ میں سب سے پہلے انہی لوگوں کی بیماری کی طرف توجہ فرمائی گئی۔ ارشاد ہوا کہ اگر لوگوں نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ وہ ایمان کا دعویٰ کریں گے اور مجرد ان کے اس دعوے کی بنا پر ان کا نام مومنین صادقین کے رجسٹر میں درج ہو جائے گا، ان کے کھرے کھوٹے ہونے کی کوئی جانچ نہیں ہو گی، تو یہ انھوں نے نہایت غلط سمجھا تھا۔
    اور ہم نے تو ان لوگوں کو بھی آزمایا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ سو اللہ ان لوگوں کو ممیز کرے گا جو سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی ممیز کر کے رہے گا۔
    یہ اللہ تعالیٰ نے نہایت مؤکد الفاظ میں اپنی اس سنت کی یاددہانی فرمائی جس سے ان لوگوں کو لازماً سابقہ پیش آتا ہے جو ایمان و اسلام کا دعویٰ لے کر اٹھتے ہیں۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے پہلے جو لوگ یہ دعویٰ لے کر اٹھے ہم نے ان کو بھی آزمائشوں میں ڈال کر ان کا امتحان کیا، اسی طرح ان کا بھی امتحان کریں گے یہ اشارہ پچھلے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی طرف ہے۔ ’فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ‘ یعنی اگر یہ امتحان نہ ہو تو آخر یہ کس طرح ثابت ہو گا کہ کون اپنے دعوے میں سچا ہے، کون جھوٹا ہے۔ اس وجہ سے اللہ لازماً راست بازوں اور جھوٹے مدعیوں میں امتیار کرے گا۔ ’عَلِمَ‘ یہاں ممیز و معین کرنے کے معنی میں ہے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے اور صیغہ یہاں وہ استعمال ہوا ہے جو تاکید کے لیے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک مقررہ سنت ہے اس وجہ سے یہ کسی کو ناگوار ہو یا گوارا بہرحال اس امتحان سے ہر ایک کو گزرنا ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے علم کا تعلق ہے وہ ہر چیز کو محیط ہے۔ وہ ہر ایک کے باطن سے اچھی طرح باخبر ہے کہ کون مخلص ہے اور کون منافق، لیکن وہ لوگوں کے ساتھ جزا و سزا کا معاملہ مجرد اپنے علم کی بنیاد پر نہیں کرتا بلکہ لوگوں کے عمل کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس وجہ سے وہ ہر ایک کو امتحان میں ڈال کر پرکھتا ہے اور اسی امتحان سے ہر ایک کے مدارج معین ہوتے ہیں۔
    کیا جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں وہ گمان رکھتے ہیں کہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے! بہت ہی برا فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں!
    شریروں کو تنبیہ: ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو متنبہ کرنے کے بعد یہ ان لوگوں کو بھی متنبہ فرما دیا جو کمزور مسلمانوں کو ظلم و ستم کا ہدف بنائے ہوئے تھے۔ فرمایا اگر ان لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ یہ اسی طرح ظلم و ستم کرنے کے لیے چھوڑے رکھے جائیں گے اور کبھی ہماری گرفت میں نہیں آئیں گے تو ان کا یہ گمان بالکل غلط ہے۔ ’یَعْمَلُوۡنَ السَّیِّئَاتِ‘ اگرچہ لفظاً عام ہے لیکن اشارہ انہی ناہنجار لوگوں کی طرف ہے جو بے بس مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے تھے اور خدا کی ڈھیل سے شہ پا کر دن پر دن دلیر ہوتے جا رہے تھے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ خدا اسی طرح ان کو ڈھیل دیے رکھے گا تو وہ بڑی سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ ’سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ‘۔ یعنی ان کا یہ فیصلہ خدا کے بارے میں نہایت برا فیصلہ ہے۔ خدا کو اگر انھوں نے کمزور سمجھا ہے کہ وہ ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا جب بھی ان کا یہ فیصلہ نہایت برا ہے اور اگر انھوں نے اپنی ان تمام ستم رانیوں پر اس کو راضی اور اس معاملے سے بالکل بے تعلق و بے پروا سمجھ رکھا ہے جب بھی ان کا یہ فیصلہ نہایت غلط اور نہایت برا ہے۔
    جو اللہ کی ملاقات کا متوقع ہے وہ اطمینان رکھے کہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آ کے رہے گا اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔
    مظلوم مسلمانوں کو تسلی: یہ مظلوم مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ بہرحال تمہیں ہر کام آخرت کی امید پر کرنا ہے اور اگر تم یہ امید رکھتے ہو تو اطمینان رکھو کہ اللہ نے اس کے لیے جو مدت ٹھہرا رکھی ہے وہ لازماً پوری ہو کے رہے گی۔ ایک دن تم اپنے رب سے ملو گے اور اس دن تم اپنی ہر اس محنت و زحمت کا صلہ پا جاؤ گے جو اس کی خاطر تم نے جھیلی ہو گی۔ خدا سمیع و علیم ہے۔ کوئی چیز اس کے احاطۂ علم سے باہر نہیں ہے۔ تمہاری سرفروشیاں بھی اس کے علم میں ہوں گی اور تمہارے دشمنوں کی ستم رانیاں بھی اس کے سامنے ہوں گی۔
    اور جو ہماری راہ میں جدوجہد کر رہا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ اللہ عالم والوں سے بے نیاز ہے۔
    ایک برسر موقع آگاہی: یہ متنبہ فرمایا ہے کہ جو شخص ایمان لاتا اور اس راہ میں مشقتیں اٹھاتا ہے وہ یاد رکھے کہ وہ اپنا ہی مستقبل سنوارتا ہے اور اپنا ہی گھر بھرتا ہے، وہ خدا اور اس کے دین پر کوئی احسان نہیں کرتا۔ اس وجہ سے اسے اس بات سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے کوئی مصیبت پیش آئی۔ اگر اسے کوئی مصیبت پیش آئی تو خدا کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ تمام عالم سے مستغنی ہے۔ البتہ لوگ اس کے محتاج ہیں اس وجہ سے خدا کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی بھی جو کوئی دیتا ہے وہ درحقیقت اپنے ہی نفع کے لیے دیتا ہے، اس سے خدا کو کوئی نفع نہیں پہنچتا۔ یہاں یہ حقیقت اچھی طرح ملحوظ رہے کہ دنیا کی طرح دین بھی خدا کے کام آنے والی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ بندوں ہی کے کام آنے والی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ راستہ انسان ہی کی سعادت کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ جس طرح ایک کسان اپنے کھیت میں مشقت کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے کرتا ہے، کسی دوسرے کے لیے نہیں کرتا اسی طرح انسان دین کی راہ میں چل کر اپنی ہی منزلیں طے کرتا ہے۔ خدا کی منزل نہیں طے کرتا۔
    اور جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے تو ہم ان کی برائیاں ان پر سے جھاڑ دیں گے اور ان کو ان کے عمل کا بہترین بدلہ دیں گے۔
    اہل ایمان کے ساتھ اللہ کا معاملہ: قرینہ دلیل ہے کہ لفظ ’سَیِّاٰتٌ‘ یہاں صغائر یعنی چھوٹے گناہوں کے مفہوم میں ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر صاحب ایمان و عمل کے ساتھ یہ معاملہ کرنے والا ہے کہ اس کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے وہ درگزر فرمائے گا اور اس نے جو نیک اعمال کیے ہوں گے ان کا وہ اُن سے کہیں بڑھ کر صلہ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب بندوں کے ساتھ خدا کا معاملہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا صلہ پانے والا ہے تو پھر اس کے دل میں یہ وسوسہ کیوں پیدا ہوا کہ اس نے خدا کی راہ میں کوئی تکلیف جھیلی تو یہ اس نے اللہ اور اس کے دین پر کوئی احسان کیا!
    اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیک سلوک کی ہدایت کی۔ اور اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو کسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا، جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں، تو ان کی بات نہ مان۔ میری ہی طرف تم سب کی واپسی ہے تو جو کچھ تم کرتے رہے ہو میں اس سے تمہیں آگاہ کروں گا۔
    باپ ماں کے حقوق خدا کے حقوق کے تحت ہیں: اوپرکی آیات میں جس آزمائش کا ذکر ہوا ہے اس میں ایک حصہ اس آزمائش کا بھی تھا جو اسلام لانے والے نوجوانوں کو اپنے کافر باپوں اور سرپرستوں کے ہاتھوں پیش آئی۔ باپ ماں کے حقوق چونکہ ہر دین میں مسلم رہے ہیں اس وجہ سے اس حق سے باپوں نے بسا اوقات بہت غلط فائدہ اٹھایا ہے کہ اپنے حق کے نام پر انھوں نے اپنی اولاد کو خدا کے حقوق سے روکنے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں انھوں نے ظلم و ستم سے بھی دریغ نہیں کیا ہے۔ اس کی مثالیں ہر دعوت حق کی تاریخ میں موجود ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر جو کچھ ان کے باپ کے ہاتھوں گزری اس کی تفصیل اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کے دور میں نوجوانوں کو جن حالات سے سابقہ پیش آیا ان کی طرف بھی پچھلی سورتوں میں اشارے گزر چکے ہیں۔ یہی صورت حال ان نوجوانوں کو بھی پیش آئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ وہ بھی اسلام لانے کے جرم میں اپنے باپوں اور سرپرستوں کے ظلم و ستم کے ہدف بن گئے۔ اس صورت حال کا تقاضا یہ ہوا کہ اس باب میں نوجوانوں کو واضح ہدایت دے دی جائے کہ والدین اگر ان کے دین کے معاملے میں مداخلت کریں تو انھیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیک سلوک کی ہدایت کی ہے اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی اس کو فرمائی ہے کہ اگر وہ تجھ پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالیں کہ تو کسی چیز کو بے دلیل میرا شریک ٹھہرا تو اس معاملے میں ان کی اطاعت نہ کیجیو۔ ’توصیۃ‘ یہاں ہدایت دینے کے مفہوم میں ہے اور اس معنی میں یہ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ قرآن نے اس کو یہاں تمام مذاہب اور تمام انبیاء کی مسلم تعلیم کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ تورات، انجیل اور زبور سب میں والدین کی اطاعت کو خدا کی اطاعت کے تحت جگہ دی گئی ہے۔ والدین کو جو حق اولاد پر ملا ہے وہ خدا ہی کا عطاکردہ ہے اس وجہ سے ان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اولاد کو خدا کے حقوق سے روکیں اور جب والدین کو یہ حق حاصل نہیں ہے، جن کا حق خدا کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے تو پھر دوسروں کے لیے اس حق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چنانچہ اسلام میں قانون ہے کہ ’لَا طاعۃَ لمخلوقٍ فِی معصیۃِ الخالقِ‘ ’خالق کے حکم کے خلاف کسی مخلوق کی اطاعت بھی جائز نہیں‘۔ شرک ایک بے دلیل چیز ہے: ’مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ‘ یہ شرک کی نفی کی دلیل ہے جو قرآن میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوئی ہے۔ ’علم‘ کے معنی دلیل و برہان کے ہیں۔ جہاں تک ایک خدا کا تعلق ہے وہ تو ایک بدیہی حقیقت ہے جس کو ایک مشرک بھی بہرحال مانتا ہے۔ رہے دوسرے اس کے شریک تو ان کی دلیل پیش کرنا ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو ان کو شریک خدا ٹھہراتے ہیں اور جب تک ان کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو کسی عاقل کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ ان کو خدائی میں شریک کر کے ان کی غلامی کا قلادہ بھی اپنی گردن میں ڈال لے۔ تنبیہ اور تسلی دونوں: ’اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمََا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‘ میں تسلی بھی ہے اور تنبیہ بھی۔ مطلب یہ ہے کہ سب کی واپسی میری ہی طرف ہونی ہے، کوئی اور مرجع و ماویٰ بننے والا نہیں ہے تو میں سب کو ان کے اعمال سے باخبر کروں گا۔ باخبر کرنے سے مراد ظاہر ہے کہ اعمال کی جزا اور سزا دینے کے ہیں۔ یعنی آج جو لوگ میرے بندوں کو میری راہ سے روکنے کے لیے ان پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں ان کی کرتوتیں بھی میں ان کے سامنے رکھوں گا اور میرے جو بندے میری راہ میں استقامت دکھائیں گے ان کی جانبازیوں کا انعام بھی ان کو بھرپور دوں گا۔
    اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے تو ہم ان کو صالحین کے زمرہ میں داخل کریں گے۔
    اوپر کی آیت میں نمایاں پہلو تنبیہ کا تھا اس آیت میں تسلی کے پہلو کا صریح الفاظ میں ذکر فرما دیا۔ ’اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‘ یہاں اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ یعنی جو لوگ اپنے دشمنوں کی تمام دشمنی کے علی الرغم ایمان و عمل صالح پر قائم و استوار رہیں گے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو ہم بلاشبہ زمرۂ صالحین میں داخل کریں گے۔ زمرۂ صالحین سے مراد اللہ کے ان خالص و مخلص بندوں کا گروہ ہے جن کو اس دنیا کی مختلف آزمائشوں سے گزار کر اللہ تعالیٰ آخرت کی ابدی بادشاہی کے لیے منتخب فرما رہا ہے۔ اس گروہ میں ہر مدعی کے لیے جگہ نہیں ہے۔ اس میں صرف وہی لوگ بار پائیں گے جو اپنے آپ کو امتحان کی کسوٹیوں پر کھرا ثابت کریں گے۔
    اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے لیکن جب اللہ کی راہ میں انھیں دکھ پہنچتا ہے تو وہ لوگوں کے پہنچائے ہوئے دکھ کو خدا کے عذاب کے مانند قرار دے بیٹھتے ہیں اور اگر تمہارے رب کی طرف سے کوئی مدد ظاہر ہو گی تو کہیں گے کہ ہم تو آپ لوگوں کے ساتھ تھے۔ کیا لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر نہیں ہے!
    ایمان کے مدعیوں کو تنبیہ: یہ ایمان کے مدعیوں کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ ایمان کا دعویٰ کرنے کو تو کر بیٹھے لیکن جب اس راہ کی آزمائشوں سے سابقہ پیش آیا ہے تو وہ لوگوں کی پہنچائی ہوئی اذیت سے اس طرح گھبرا اٹھے ہیں جس طرح خدا کے عذاب سے ڈرنا اور گھبرانا چاہیے۔ حالانکہ اس دنیا میں جو دکھ بھی پہنچے گا بہرحال وہ چند روزہ ہے۔ برعکس اس کے خدا جس عذاب میں پکڑنے والا ہے وہ ابدی ہے۔ اس وجہ سے حق کی خاطر اس دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت جھیل لینا بھی آسان ہے بمقابلہ اس کے کہ اس سے مرعوب ہو کر آدمی اپنے آپ کو ابدی عذاب کا سزاوار بنا لے۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت جاری ہے اس کے تحت ہر شخص کو بہرحال دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ یا تو وہ حق کا راستہ اتخاب کرے اور پھر پوری پامردی کے ساتھ خلق کی بے مہری بلکہ اس ظلم و ستم کا مقابلہ کرے اور اگر اس کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا تو پھر باطل کے ساتھ چلے اور آخرت میں ابدی خسران سے دوچار ہو۔ ان دو کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے۔ یہاں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ لوگوں کے ہاتھوں آدمی کو جو دکھ پہنچے ہیں ان کو ’فتنہ‘ یعنی آزمائش سے تعبیر فرمایا ہے اس لیے کہ ان کی حیثیت بہرحال ایک آزمائش سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ پیش آئے گا اس کو عذاب سے تعبیر فرمایا اس لیے کہ وہ درحقیقت عذاب ہو گا جس سے مفر کی کوئی صورت نہیں ہو گی۔ ’وَلَئِنۡ جَآءَ نَصْرٌ مِّنۡ رَّبِّکَ لَیَقُوۡلُنَّ إِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ‘۔ یعنی اس وقت تو آزمائشوں نے ان کے قدم ہلا دیے ہیں اور یہ دشمنان حق کے ہم نوا بن بیٹھے ہیں لیکن کل جب خدا کی مدد و نصرت کے آثار ظاہر ہوں گے تو یہ بڑے دعوے کے ساتھ کہیں گے کہ ہم نے بھی اس حق کی خاطر بڑی قربانیاں دی ہیں اس راہ میں ہم کسی سے پیچھے نہیں رہے ہیں۔ ’أَوَلَیْْسَ اللَّہُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُورِ الْعَالَمِیْنَ‘۔ فرمایا کہ یہ دعویٰ تو اس کے آگے کارگر ہو سکتا ہے جو دلوں کے بھیدوں سے بے خبر ہو، جس پر سارا ظاہر و باطن آشکارا ہو اس پر یہ فریب کیا چلے گا!
    اور اللہ ایمان والوں کو بھی ممیز کر کے رہے گا اور منافقوں کو بھی ممیز کر کے رہے گا۔
    مطلب یہ ہے کہ جب اس طرح مخلصین کے ساتھ منافقین بھی ملے ہوئے ہیں تو اللہ ان کو اسی طرح چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ وہ ان دونوں کو چھانٹ کر الگ الگ کرے گا۔ ’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ سے یہاں مومنین مخلصین مراد ہیں۔ اس لیے کہ اس کے مقابل میں منافقین کا ذکر ہے جن کا کردار اوپر والی آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے ہیں لیکن اس راہ میں چوٹ کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ بات بصیغۂ تاکید بیان ہوئی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ فرق و امتیاز اللہ تعالیٰ کی صفات کا لازمی تقاضا ہے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ بات اس کے عدل کے منافی ہو گی۔
    اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری راہ پر چلتے رہو، ہم تمہارے گناہوں کا بوجھ اٹھا لیں گے۔ حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں بنیں گے۔ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔
    بزرگوں کی غلط منطق: ’اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ اگرچہ باعتبار لفظ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کی اولاد یا دوسرے زیردست افراد اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ لوگ اپنے زیردستوں کو اسلام سے پھیرنے کے لیے ان پر جبر و ظلم بھی کرتے اور یہ اخلاقی دباؤ بھی ڈالتے کہ ہم نیک و بد اور خیر و شر کو تم سے زیادہ سمجھنے اور پرکھنے والے ہیں۔ اس وجہ سے تم ہمارے طریقے پر چلتے رہو، اگر ہمارا طریقہ غلط ہوا تو اس کا عذاب و ثواب ہماری گردن پر ہے، تم اس کی ذمہ داری سے بری ہو، تمہارا بوجھ ہم اٹھا لیں گے۔ یہ منطق بزرگوں، سرپرستوں، باپوں، استادوں، پیروں اور لیڈروں کی طرف سے، اپنے چھوٹوں کے مقابل میں، پہلے بھی ہمیشہ استعمال کی گئی ہے اور اب بھی استعمال کی جاتی ہے اور بسا اوقات یہ مؤثر بھی ہوتی ہے۔ ایک خاص حد تک اس کی تاثیر ایک امر فطری ہے اور اس میں چنداں ہرج بھی نہیں ہے۔ لیکن دین کا معاملہ نہایت اہم ہے۔ اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے، اس کے اپنے کندھوں پر ڈالی ہے۔ اس معاملے میں بے سوچے سمجھے نہ کسی کی تقلید جائز ہے اور نہ کسی کو اپنی تقلید پر مجبور کرنا جائز ہے۔ خدا کے ہاں کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بن سکے گا۔
    اور یہ لوگ اپنے گناہ لادے ہوئے ہوں گے اور اپنے گناہوں کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی۔ اور جو افتراء وہ کر رہے ہیں قیامت کے دن اس کی بابت ان سے پرسش ہونی ہے۔
    ’لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی‘ یہاں اسی حقیقت کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ اپنے زیردستوں کو یہ اطمینان دلا رہے ہیں کہ وہ ان کے بوجھ اٹھا لیں گے وہ بڑی غلط فہمی میں ہیں اور بالکل جھوٹ اطمینان دلا رہے ہیں۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ یہ اپنے گناہوں کے بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی ان کو حصہ بٹانا پڑے گا جو ان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوں گے۔ ’عَمَّا کَانُوا یَفْتَرُوۡنَ‘ سے مراد وہ بدعتیں ہیں جو ایجاد تو انھوں نے خود کیں لیکن ان کو منسوب اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں اور ان کی حمایت میں اتنا غلو ہے کہ دوسروں کو بھی ان پر مجبور کرتے ہیں اور ان کے عذاب و ثواب کی ذمہ داری اپنے سر لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ان سب کی بابت قیامت کے دن ان سے پرسش ہونی ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List