Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • القصص (The Narrations, The Stories)

    88 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ نمل ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ البتہ اجمال و تفصیل اور اسلوب بیان و نہج استدلال کے اعتبار سے دونوں میں فرق ہے۔ سابق سورہ میں حضرت موسیٰؑ کی سرگزشت کا صرف اتنا حصہ اجمالاً بیان ہوا ہے جو ان کو رسالت عطا کیے جانے اور فرعون کے پاس جانے کے حکم سے متعلق ہے۔ اس سورہ میں وہ پوری سرگزشت، نہایت تفصیل سے بیان ہوئی ہے، جو ان کی ولادت باسعادت سے لے کر ان کو تورات عطا کیے جانے تک کے احوال و مشاہدات پر مشتمل ہے۔ سابق سورہ میں بنی اسرائیل کی طرف صرف ایک مخفی اشارہ تھا، اس سورہ میں ان کے صالحین و مفسدین دونوں کا رویہ نسبتہً وضاحت سے زیربحث آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں یہود کھل کر سامنے آ گئے تھے۔
    حضرت موسیٰؑ کی سرگزشت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بعینہٖ اسی مقصد سے سنائی گئی ہے جس مقصد سے سورۂ یوسف میں حضرت یوسفؑ کی سرگزشت سنائی گئی ہے کہ اس آئینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اچھی طرح دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی حفاظت و صیانت اور اپنی اسکیموں کو بروئے کار لانے کے لیے اپنی کیا شانیں دکھاتا ہے اور آپؐ کے مخالفین بھی دیکھ لیں کہ اس دعوت کی مخالفت میں بالآخر ان کو کس انجام سے دوچار ہونا ہے۔
    قریش پر اس سورہ میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جس طرح اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا اسی طرح اس نے اس پیغمبر اور اس کتاب کو تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ تم پر اللہ کی ہدایت پوری طرح واضح ہو جائے اور تمہارے پاس گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
    بنی اسرائیل پر یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اگر یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول نہ ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت موسیٰؑ کی زندگی کے ان گوشوں سے بھی یہ واقف ہوتے جن سے تم بھی صحیح صحیح اور اس تفصیل سے واقف نہیں ہو! اور ساتھ ہی اس امر واقعی کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ جو ہدایت، اللہ نے تم پر نازل فرمائی تھی وہ تم نے اختلافات میں پڑ کر گم کر دی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنے اس رسول کے ذریعہ سے اس ہدایت کو ازسرنو زندہ کرے اور خلق پر اپنی حجت تمام کرے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں یہ تسلی دی گئی ہے کہ اس قرآن کو تم نے اللہ سے مانگ کر نہیں لیا ہے بلکہ اللہ نے خود تم پر اس کی ذمہ داریاں ڈالی ہیں تو جب اس نے خود تم پر اس کا بار ڈالا ہے تو تم مخالفوں کی مخالفت اور راہ کی مشکلات سے بے پروا ہو کر اپنا فرض انجام دو۔ جس اللہ نے یہ بوجھ تم پر ڈالا ہے وہ خود ہر قدم پر تمہاری رہنمائی و دست گیری فرمائے گا اور تمہیں کامیابی کی منزل پر پہنچائے گا۔

  • القصص (The Narrations, The Stories)

    88 آیات | مکی

    النمل ۔ القصص

    ۲۷ ۔ ۲۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی اور بشارت دینا اور آپ کے منکرین کو متنبہ کرنا ہے کہ آخرت سے بے خوف اور دنیا کے عیش و آرام میں مگن ہو کر وہ جس سرکشی پر اترے ہوئے ہیں، اُسے چھوڑ دیں، اپنے اوپر خدا کی نعمتوں اور عنایتوں کا شکر ادا کریں اور اپنے پیغمبر کو پہچانیں۔

    دونوں سورتوں میں اصل بناے استدلال موسیٰ علیہ السلام کی سرگذشت ہے۔ اِس کے علاوہ جو سرگذشتیں سنائی گئی ہیں، وہ تبعاً اِسی کے بعض پہلوؤں کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔

    اِن میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اور قریش مکہ سے بھی، لیکن روے سخن زیادہ تر اُنھی کی طرف ہے۔

    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت کا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 028 Verse 001 Chapter 028 Verse 002 Chapter 028 Verse 003 Chapter 028 Verse 004 Chapter 028 Verse 005 Chapter 028 Verse 006 Chapter 028 Verse 007 Chapter 028 Verse 008 Chapter 028 Verse 009 Chapter 028 Verse 010 Chapter 028 Verse 011 Chapter 028 Verse 012 Chapter 028 Verse 013 Chapter 028 Verse 014 Chapter 028 Verse 015 Chapter 028 Verse 016 Chapter 028 Verse 017 Chapter 028 Verse 018 Chapter 028 Verse 019 Chapter 028 Verse 020 Chapter 028 Verse 021 Chapter 028 Verse 022 Chapter 028 Verse 023 Chapter 028 Verse 024 Chapter 028 Verse 025 Chapter 028 Verse 026 Chapter 028 Verse 027 Chapter 028 Verse 028 Chapter 028 Verse 029 Chapter 028 Verse 030 Chapter 028 Verse 031 Chapter 028 Verse 032 Chapter 028 Verse 033 Chapter 028 Verse 034 Chapter 028 Verse 035 Chapter 028 Verse 036 Chapter 028 Verse 037 Chapter 028 Verse 038 Chapter 028 Verse 039 Chapter 028 Verse 040 Chapter 028 Verse 041 Chapter 028 Verse 042 Chapter 028 Verse 043 Chapter 028 Verse 044 Chapter 028 Verse 045 Chapter 028 Verse 046
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ طٰسٓمّٓ ہے۔
    حروف مقطعات پر پیچھے بحث گزر چکی ہے۔ ‘کتاب مبین’ کے اندر احسان و امتنان اور اتمام حجت کے جو پہلو ہیں، خاص طور پر اہل کتاب کے لیے، ان کی وضاحت بھی ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ کم و بیش انہی الفاظ سے سابق سورہ کی تمہید بھی شروع ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ دونوں کا مرکزی مضمون ایک ہی ہے۔
    یہ واضح کتاب الٰہی کی آیات ہیں۔
    ’کتاب مبین‘ کے اندر احسان و امتنان اور اتمام حجت کے جو پہلو ہیں، خاص طور پر اہل کتاب کے لیے، ان کی وضاحت بھی ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ کم و بیش انہی الفاظ سے سابق سورہ کی تمہید بھی شروع ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ دونوں کا مرکزی مضمون ایک ہی ہے۔
    ہم تمہیں موسیٰؑ اور فرعون کی سرگزشت کا کچھ حصہ ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں ان لوگوں کی ہدایت کے لیے جو ایمان لانا چاہیں۔
    موسیٰؑ و فرون کی سرگزشت سنانے کا اصل مقصد: خطاب اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن آیت کے آخری الفاظ ’لِقَوْمٍ یُؤْمِنُوۡنَ‘ خود شاہد ہیں کہ مقصود اس سرگزشت کے سنانے سے وقت کے فراعنہ یعنی قریش کے لیڈروں کے کان کھولنا ہے۔ ’بِالْحَقِّ‘ یعنی بالکل ٹھیک ٹھیک، غایت و مدعا اور عبرت و موعظت کے ساتھ۔ تورات میں حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی سرگزشت نہ تو ٹھیک ٹھیک بیان ہوئی ہے اور نہ اس سے وہ موعظت ہی سامنے آتی ہے جواس کی اصل روح ہے۔ قرآن نے یہ سرگزشت اس کے ان دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر سنائی ہے۔ ’لِقَوْمٍ یُؤْمِنُوۡنَ‘ میں فعل ہمارے نزدیک ارادۂ فعل کے مفہوم میں ہے۔ یہ ٹکڑا اپنے اندر ایک قسم کی تنبیہ رکھتا ہے کہ ہم یہ سرگزشت سنا تو رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ انہی کو پہنچے گا جن کے اندر ایمان لانے کا ارادہ پایا جاتا ہے۔ جو اندھے بہرے بن چکے ہیں وہ بدستور اندھے بہرے ہی بنے رہیں گے۔
    بے شک فرعون سرزمین مصر میں بہت سرکش ہو گیا تھا اور اس نے اس کے باشندوں کو مختلف طبقوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ان میں سے ایک گروہ کو اس نے دبا رکھا تھا۔ ان کے بیٹوں کو ذبح کر چھوڑتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا، بے شک وہ زمین میں فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔
    سرگزشت سے پہلے اس کا خلاصہ: اصل سرگزشت سے پہلے یہ اور اس کے بعد کی دو آیتیں اس غایت و مقصد کو سامنے کر دینے کے لیے وارد ہوئی ہیں جس کو پیش نظر رکھ کر یہ سنائی جا رہی ہے۔ قرآن میں یہ اسلوب متعدد مقامات میں اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی سرگزشت سنانے سے پہلے وہ مدعا مختصر الفاظ میں قاری کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے جو اس کے سنانے سے پیش نظر ہوتا ہے تاکہ سرگزشت کے پھیلاؤ میں اصل حقیقت قاری کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ سورۂ کہف میں اس کی مثال گزر چکی ہے۔ ’إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِیْ الْأَرْضِ‘۔ زمین میں ’علو‘ (سرکشی) یہ ہے کہ زمین کے اصل خالق و مالک کی مرضی اور اس کے احکام کو نظر انداز کر کے کوئی اس میں اپنی من مانی کرنے لگ جائے اور خدا کے بندوں کو خدا کی بندگی و اطاعت میں داخل کرنے کے بجائے ان سے اپنی بندگی و غلامی کرانے لگے۔ ’وَجَعَلَ أَہْلَہَا شِیَعاً یَسْتَضْعِفُ طَائِفَۃً مِّنْہُمْ‘ یہ اسی ’عُلو‘ اور ’فساد فی الارض‘ کی وضاحت ہے کہ اس نے ملک کے باشندوں کو طبقات میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک گروہ کو اس نے بالکل دبا کر اور غلام بنا کر رکھا۔ جب راعی و رعیت سب خدا کی مملوک ہیں تو کسی ملک کے حکمران کے لیے یہ بات جائز نہیں ہو سکتی کہ وہ رعایا کے درمیان کوئی تفریق و امتیاز برتے بلکہ راعی و رعیت سب کے لیے بلا امتیاز ایک ہی قانون اور ایک ہی نظام عدل و مساوات ہونا چاہیے لیکن فرعون نے بنی اسرائیل کو تو غلاموں کی حیثیت دے رکھی تھی اور خود خدا بن بیٹھا تھا۔ ساتھ ہی اپنی قوم قبطیوں کو یہ اختیار دے رکھا تھا کہ وہ بنی اسرائیل سے غلاموں کی طرح کام لیں۔ ’یُذَبِّحُ أَبْنَاء ہُمْ وَیَسْتَحْیِیْ نِسَاء ہُمْ‘۔ اس جبر و ظلم کی ایک مثال ہے جو فرعون اور قبطیوں کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر ہو رہا تھا۔ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کی سنگدلانہ اسکیم فرعون اور اس کے اعیان نے جس سیاسی اندیشہ کی بنا پر چلائی تھی اس کی وضاحت سورۂ طٰہٰ اور بعض پچھلی دوسری سورتوں میں ہو چکی ہے۔ ’إِنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ‘۔ یعنی یہ خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا درآنحالیکہ اللہ اپنی زمین میں جس کو بھی حکمرانی کا منصب بخشتا ہے عدل و امن کے قیام کے لیے بخشتا ہے۔
    اور ہم یہ چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو ملک میں دبا کر رکھے گئے تھے اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کی وراثت بخشیں۔
    بنی اسرائیل کو یپشوائی دینے کا خدائی فیصلہ: ’نُرِیْدُ‘ سے پہلے، عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق، فعل ناقص محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان تو یہ ظلم و ستم ڈھائے ہوئے تھے اور ان کی پوری کوشش یہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو کسی طرح ابھرنے نہ دیں لیکن ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم مظلوموں پر احسان کریں، ان کو پیشوائی کا منصب بخشیں اور ظالموں کو مٹا کر مظلوموں کو وراثت و خلافت عطا کریں۔ ’نَجْعَلَہُمْ أَئِمَّۃً‘ سے اشارہ اس دینی پیشوائی کی طرف ہے جو حضرت موسیٰؑ کی بعثت کے بعد بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی۔ اور ’نَجْعَلَہُمُ الْوَارِثِیْنَ‘ سے خلافت و حکومت مراد ہے جو ان کو ارض فسلطین میں ملی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں جس کے حدود نہایت وسیع ہو گئے یہاں تک کہ مصر کی حکومت بھی ان کی ایک باجگزار ریاست بن گئی۔
    اور ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں اور فرعون و ہامان اور ان کی فوجوں کو ان کے ہاتھوں وہ دکھائیں جس کا وہ اندیشہ رکھتے تھے۔
    بنی اسرائیل کو اقتدار دینے کا خدائی فیصلہ: ’تمکین فی الارض‘ سے مراد اقتدار و صولت و دبدبہ ہے۔ یعنی ارادۂ الٰہی یہ ہوا کہ ان دبائے ہوئے مظلوموں کو ایک مضبوط اور طاقتور سلطنت عطا کرے اور فرعون و ہامان اور ان کی فوجوں کو وہ چیز دکھا دے جس کا وہ اندیشہ رکھتے تھے۔ ’مَا کَانُوۡا یَحْذَرُوۡنَ‘ سے اشارہ فرعون اور اس کے اعیان کے اس انداز کی طرف ہے جس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں کہ وہ بنی اسرائیل کی تعداد میں روز افزوں اضافہ سے بہت خائف تھے کہ اگر یہ قوت پکڑ گئے تو یا تو وہ خود ملک پر قابض ہو جائیں گے یا باہر کے دشمنوں سے مل کر یہاں سے قبطیوں کو بے دخل کر دیں گے۔ اسی خطرے کے سدباب کے لیے ان احمقوں نے بنی اسرائیل کے ذکور کے قتل کی وہ اسکیم بنائی تھی جس کی پوری تفصیل ہم پچھلی سورتوں میں پیش کر چکے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے مقابل میں ان کی ساری اسکیمیں اور پیش بندیاں بالکل بیکار ثابت ہوئیں۔ ارادۂ الٰہی مظلوموں کے حق میں پورا ہو کے رہا اور ان کے دشمن تمام زور و سطوت اور تمام تدبیر و تدبر کے باوجود پامال ہوئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اسی حقیقت کو قریش کے اکابر و زعما کے سامنے رکھنے کے لیے وہ سرگزشت سنائی جا رہی ہے جو آگے آ رہی ہے تاکہ لوگ اس قصہ کو قصہ کی حیثیت سے نہ سنیں بلکہ اس حق کو مد نظر رکھ کر سنیں جو اس کے اندر مضمر ہے۔ ہامان فرعون کا وزیر تھا: یہاں بالکل پہلی مرتبہ فرعون کے ساتھ ’ہامان‘ کا ذکر بھی آیا ہے اور اس طرح آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت فرعون کے وزیر کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کو دبائے رکھنے کے مسئلہ سے خاص دلچسپی تھی۔ آگے بھی اس کا ذکر فرعون کے وزیر اعظم ہی کی حیثیت سے آ رہا ہے۔ تورات میں یہ نام نہیں آیا ہے لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پیدا ہوتا۔ کتنی باتیں ہیں جن میں قرآن نے تورات کے بیانات کی تصحیح کی ہے یا ان پر اضافہ کیا ہے۔ یہ بھی حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی سرگزشت میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ بعض مستشرقین نے اس نام کو اعتراض کا ہدف بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مصر میں اس نام کا کوئی شخص نہیں تھا۔ ان لال بجھکڑوں کا یہ اعتراض بالکل ہی احمقانہ ہے۔ کیا یہ حضرات یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان کو فرعون اور اس کے تمام وزراء و اعیان اور اس عہد کے تمام اکابر مصر کے ناموں کی فہرست مل گئی ہے؟ وزراء و اعیان تو درکنار کیا یہ حضرات خود اس فرعون کے بارے میں متفق اللفظ ہیں جو حضرت موسیٰؑ کا ہم عصر تھا؟ قرآن کی مخالفت کے جنون میں اس قسم کی باتیں جو یہ لوگ کہتے ہیں وہ بالکل ہی ناقابل التفات ہیں۔ یہ لوگ پائی ہوئی حقیقت کو گم کرنے میں تو بڑے ماہر ہیں۔ لیکن جب کسی چیز کا سراغ دیتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھایا ہے۔ بنی اسرائیل کے اندیشہ سے فرعون کی فوجی تیاریاں: یہ فرعون و ہامان کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ان کی فوجوں کا جو ذکر بار بار آیا ہے اس کی بھی ایک خاص وجہ ہے۔ اس عہد کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان نے بنی اسرائیل کے مسئلہ کو ایک بالکل سیاسی رنگ دے دیا تھا۔ ان کی کثرت تعداد کو وہ اپنی حکومت کے لیے ایک خطرہ سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے فرعون نے اپنے تمام امراء و اعیان کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی فوجوں کو بنی اسرائیل کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بالکل چوکس رکھیں۔ چنانچہ جب اس نے بنی اسرائیل کے تعاقب کا فیصلہ کیا تو اپنے تمام امراء اور نوابوں کو ان کی فوجوں سمیت طلب کیا۔ فرعون کو اپنی ان افواج پر، جیسا کہ قرآن اور تورات دونوں سے واضح ہوتا ہے، بڑا ناز تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ سارا غرور و ناز چشم زدن میں ختم کر دیا۔
    اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ اس کو دودھ پلاؤ، پس جب تمہیں اس باب میں اندیشہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور نہ اندیشہ کیجیو اور نہ غم۔ ہم اس کو تمہارے پاس لوٹا کر لائیں گے اور اس کو اپنے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں۔
    اصل سرگزشت کا آغاز: اب یہ اصل سرگزشت شروع ہوئی ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ کی ولادت ہوئی تو فرمایا کہ ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو وحی کی کہ اس کو دودھ پلاتی رہو۔ اگر تمہیں اندیشہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور ذرا فکر و غم نہ کیجیو، ہم اس کو تمہارے پاس واپس لائیں گے اور اس کو اپنے رسولوں میں سے بنائیں گے۔ ’وحی‘ سے مراد یہاں ظاہر ہے کہ وہ اصطلاحی وحی نہیں ہے جو حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے۔ بلکہ الہام و القاء یا رؤیا کے ذریعہ سے اس طرح دل میں کوئی بات ڈال دینا ہے جس سے دل کو اس پر فی الجملہ اطمینان ہو جائے۔ حضرت موسیٰؑ کی حفاظت کے لیے خدائی انتظامات: جس زمانے میں حضرت موسیٰؑ کی ولادت ہوئی ہے بنی اسرائیل کے بچوں کے ہلاک کرنے کی سکیم بڑے زوروں سے چل رہی تھی۔ اول اول تو یہ کام فرعون اور اس کے اعیان نے دائیوں سے لینا چاہا لیکن تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ دائیوں نے اس میں کچھ زیادہ تعاون نہیں کیا۔ بالآخر فرعون نے قبطیوں کو یہ عام حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو اولاد نرینہ پیدا ہو اس کو دریا میں پھینک دیا کریں۔ اسی خطرناک زمانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اس وجہ سے قدرتی طور پر ان کی والدہ ماجدہ کا دل ہر وقت دھڑکتا رہتا کہ معلوم نہیں کس وقت کسی ظالم کی نظر بچے پر پڑ جائے اور وہ اس کو اچک لے جائے۔ اسی خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ابھی تو تم اس کو دودھ پلاؤ۔ اگر اس طرح کا کوئی خطرہ محسوس ہو تو بے خوف و خطر بچے کو تم خود اپنے ہاتھوں دریا کے حوالہ کر دینا اور ذرا غم و فکر نہ کرنا۔ ہم اس کو تمہارے پاس واپس بھی لائیں گے اور اس کو مستقبل میں اپنے شرف رسالت سے بھی مشرف کریں گے۔ دریا میں ڈالنے کی یہ ہدایت ظاہر ہے کہ اس وجہ سے فرمائی گئی کہ فرعون نے جو راستہ بچوں کی ہلاکت کے لیے اختیار کیا تھا اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت موسیٰؑ کے لیے وہی راستہ نجات کا راستہ بنے۔ سورۂ طٰہٰ کی آیت ۴۹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک صندوق میں بچے کو رکھ کے صندوق کو دریا میں بہا دینے کی ہدایت ہوئی تھی۔ تورات میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے: ’’وہ عورت حاملہ ہوئی اور بیٹا جنی اور اس نے اسے خوب صورت دیکھ کے تین مہینے تک چھپا رکھا اور آگے اس کو نہ چھپا سکی تو سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنایا اور اس پر لاسا اور رال لگایا اور لڑکے کو اس میں رکھا اور اس نے اسے دریا کے کنارے پر جھاڑ میں رکھ دیا۔‘‘ تورات کے بیان میں جو کمیاں اور غلطیاں ہیں ان کی طرف سورۂ طٰہٰ اور سورۂ اعراف کی تفسیر میں ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ یہاں خاص چیز جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی والدہ ماجدہ کو الہام کے ذریعے سے یہ تسلی دے دی گئی تھی کہ اس بچے کو ہم تمہارے پاس پھر واپس لائیں گے اور اس کو منصب رسالت پر سرفراز کریں گے اور یہ تسلی، اسلوب کلام دلیل ہے کہ ایک حتمی وعدے کی شکل میں دی گئی تھی۔ یہی چیز تھی جس کے اعتماد پر حضرت موسیٰؑ کی والدہ ماجدہ یہ بازی کھیل گئیں ورنہ کوئی ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو اس طرح دریا کی موجوں کے حوالہ کس طرح کر سکتی ہے!!  
    تو فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھا لیا کہ وہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم بنے۔ بے شک فرعون و ہامان اور ان کے اہل لشکر سے بڑی چوک ہوئی۔
    حضرت موسیٰؑ شاہی محل میں: اتنی بات بربنائے قرینہ یہاں پر حذف ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی والدہ نے جب خطرہ محسوس کیا تو ہدایت خداوندی کے مطابق بچے کو سرکنڈے کے ایک صندوق میں رکھ کر صندوق کو دریائے نیل کے حوالہ کر دیا۔ تورات کی مذکورہ بالا روایت پر اعتماد کیجیے تو واقعہ کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ تین ماہ تک تو انھوں نے بچے کو کسی نہ کسی طرح چھپائے رکھنے کی کوشش کی لیکن بالآخر انھیں یہ اندازہ ہو گیا کہ یہ تدبیر کارگر ہونے والی نہیں ہے۔ چنانچہ ناچار انھیں وہ اقدام کرنا پڑا جس کا ذکر اوپر ہوا۔ دریائے نیل اسرائیلیوں کی بستی کے پاس سے گزرتا ہوا فرعون کے محل کی طرف جاتا تھا۔ وہاں دریا کی موجوں نے صندوق کو کنارے پر ڈال دیا۔ فرعون کے گھر کے لوگوں کی نظر اس پر پڑ گئی۔ انھوں نے جب دیکھا کہ صندوق میں ایک موہنا بچہ پڑا ہوا ہے تو بادشاہ اور ملکہ کے حکم سے بچے کو شاہی محل میں لایا گیا۔ فرعون کی بیوی، جیسا کہ سورۂ تحریم سے واضح ہے، نہایت نیک دل تھیں۔ انھوں نے کہا اس بچے کو قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ اس طرح حضرت موسیٰؑ شاہی محل میں پہنچ گئے اور بادشاہ اور ملکہ دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گئے۔ یہاں لفظ ’آل‘ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب صندوق میں پڑے ہوئے ایک بچے کا ذکر شاہی محل تک پہنچا تو خاندان شاہی کے تمام چھوٹے بڑے موقع پر پہنچ گئے اور سب اس کو اٹھا کر محل میں لائے۔ تقدیر الٰہی کے بھید کسی کو معلوم نہیں: ’لِیَکُونَ لَہُمْ عَدُوّاً وَحَزَناً‘۔ اس ’ل‘ کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کر چکے ہیں کہ یہ غایت و انجام کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ انھوں نے تو بچے کو اس لیے اٹھایا کہ وہ ان کے لیے، جیسا کہ آگے ملکہ کے قول سے واضح ہو گا، آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا لیکن تقدیر الٰہی کا یہ بھید ان کو نہیں معلوم تھا کہ اس بچے کے ہاتھوں فرعونی اقتدار کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔ ’إِنَّ فِرْعَوْنَ وَہَامَانَ وَجُنُودَہُمَا کَانُوا خَاطِئِیْنَ‘۔ یہ فرعون، ہامان اور ان کے فوجیوں کے رویے پر عام تبصرہ ہے کہ وہ اپنی حماقت کے سبب سے یہ سمجھے کہ تمام اختیار و اقتدار ان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بنی اسرائیل کو ہمیشہ اسی طرح دبائے رکھیں گے۔ انھیں کیا خبر تھی کہ اگر خدا چاہے گا تو ان کے سب سے بڑے قامع کی پرورش ان کے شاہی محل میں، خود بادشاہ اور ملکہ کے ہاتھوں کرائے گا! اوپر آیت ۶ کے مضمون پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
    اور فرعون کی بیوی نے کہا، یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اس کو قتل نہ کرو۔ کیا عجب کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں اور ان کو انجام کی کچھ خبر نہ تھی۔
    فرعون کی بیوی نہایت نیک دل تھیں: ملکہ نے جب بچے کو دیکھا تو اس موہنی صورت پر قربان ہو گئیں۔ فرعون سے کہا، یہ تو میری اور تمہاری دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اس کو قتل نہ کرو۔ امید ہے یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں۔ ملکہ کے متعلق دوسرے مقام میں ہم یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ نہایت نیک دل اور فرعون کے رویہ سے سخت بیزار تھیں۔ ’عَسٰٓی أَن یَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَہُ وَلَدًا‘ یہ بعینہٖ وہی بات ہے، جو عزیز مصر نے، حضرت یوسفؑ سے متعلق، اپنی بیوی کو خطاب کر کے کہی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ملکہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی اور اگر تورات کے بیان کو باور کر لیا جائے کہ جس نے حضرت موسیٰؑ کے صندوق کو سب سے پہلے دیکھا وہ فرعون کی لڑکی تھی تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس وقت ان کے ہاں کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی۔ اس وجہ سے انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اول تو اس شکل و صورت کا بچہ فوائد و برکات سے خالی نہیں ہو سکتا، پھر یہ بات بھی ہے کہ اگر کسی اولاد نرینہ کے لیے ہماری امید پوری نہ ہوئی تو ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں گے۔ ’وَہُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ‘ یعنی بادشاہ اور ملکہ یہ سوچ رہے تھے، انھیں کچھ خبر نہیں تھی کہ قدرت اس پردے میں اپنی کیا شان دکھانے والی ہے!
    اور موسیٰؑ کی ماں کا دل بالکل بے چین ہو گیا۔ قریب تھا کہ وہ اس کے راز کو ظاہر کر دیتی اگر ہم اس کے دل کو نہ سنبھالتے کہ وہ اہل ایمان میں سے بنی رہے۔
    آزمائشوں میں اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ: حضرت موسیٰؑ کی والدہ نے جب کوئی مفر نہ دیکھا تو جی کڑا کر کے صندوق دریا میں ڈالنے کو تو ڈال دیا لیکن اس کے بعد ان پر جو کچھ گزری یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا دل صبر و قرار سے بالکل خالی ہو گیا۔ قریب تھا کہ بے صبری میں ان سے کوئی ایسی بات صادر ہو جائے جس سے سارا راز فاش ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو سنبھال لیا تاکہ جس دولت ایمان سے وہ بہرہ مند تھیں اس پر اس آزمائش میں بھی وہ ثابت قدم رہیں، انسان بہرحال انسان ہے۔ کسی ماں کے لیے خود اپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کو دریا کی موجوں کے حوالہ کر دینا کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ اگرچہ ایک اشارۂ غیبی کا سہارا ان کو حاصل تھا اور یہ سہارا نہ ہوتا تو بھلا وہ اس کا تصور بھی کس طرح کر سکتی تھیں تاہم جب اپنا حال یہ ہے کہ اس واقعہ کے تصور کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ دل سینہ سے نکل پڑے گا تو اس وقت حضرت موسیٰؑ کی والدہ کے دل پرجو کچھ گزر رہی ہو گی اس کا اندازہ ان کے رب کے سوا اور کون کر سکتا ہے! لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اس نازک موقع پر سنبھالا اور وہی سنبھال سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور بندیوں کو امتحان میں تو ڈالتا ہے کہ یہ امتحان اس کی سنت ہے اور یہ امتحان درجے اور مرتبے کے اعتبار سے سخت سے سخت تر بھی ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی اس کی یہ سنت بھی ہے کہ جو لوگ اس کے امتحان کی راہ میں بازی کھیل جاتے ہیں وہ ان کو سنبھالتا بھی ہے۔ حضرت موسیٰؑ کی والدہ ماجدہ نے چونکہ بچے کو دریا کی موجوں کے حوالہ کر کے اپنے ایمان و توکل کی شہادت دے دی تھی اس وجہ سے آگے کے مرحلے میں خود رب کریم نے ان کے دل کو سنبھال لیا کہ ان کے اس ایمان و توکل کی لاج قائم رہے، کوئی ایسی بات صادر نہ ہونے پائے جو اس کے منافی ہو۔ اپنے باایمان بندوں اور بندیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یوں ہی ہے لیکن اس کو بہت کم لوگ سمجھتے ہیں!
    اور اس نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا تو وہ اس کو دور سے دیکھتی رہی اور ان لوگوں کو اس کی خبر نہ ہونے پائی۔
    دل کی تسلی کے لیے آخری تدبیر: جب صندوق پانی میں بہتا ہوا آگے کو چلا تو انھوں نے حضرت موسیٰؑ کی بہن سے فرمایا کہ اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے، تم بھی جاؤ اور دیکھو کہ صندوق کدھر جاتا ہے۔ یہ دل کی تسلی کے لیے آخری تدبیر تھی جو وہ کر سکتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ صندوق کا تعاقب ایک خاص حد تک ہی ممکن تھا، بالآخر تو اس کو نگاہوں سے اوجھل ہونا ہی تھا لیکن جتنی دیر بھی اور جتنی دور تک بھی اس کو دیکھنا ممکن ہو سکے وہ اس سے محروم رہنا کس طرح گوارا کر سکتی تھیں! چنانچہ حضرت موسیٰؑ کی بہن دور سے اس طرح اس کو دیکھتی رہیں کہ کسی کو اس واقعہ کی طرف توجہ نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و احسان ہوا کہ ان کی یہ مہم کامیاب رہی۔ صندوق کا فرعون کے محل کے پاس ساحل پر لگ جانے اور ننھے بھائی کو محل میں لے جانے کا سارا ماجرا انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہی محل اسرائیلیوں کی بستی سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔
    اور ہم نے اس کو پہلے ہی سے دودھ پلائیوں کے دودھ سے روک دیا تھا تو اس نے کہا کیا میں ایک ایسے گھر والوں کا آپ لوگوں کو پتہ دوں جو آپ لوگوں کی خاطر اس کو پا لیں گے اور وہ اس کی بڑی خیر خواہی سے دیکھ بھال کریں گے؟
    اللہ تعالیٰ کی ایک اور کارسازی: اب یہ اس تدبیر کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹانے کے لیے اختیار فرمائی۔ اوپر گزر چکا ہے کہ بچے کو محل میں بڑے چاؤ پیار سے لے جایا گیا۔ ظاہر ہے کہ سب سے پہلے اس بات کی فکر ہوئی ہو گی کہ بچے کو کسی دایہ کا دودھ پلایا جائے۔ دایہ بلائی گئی تو حضرت موسیٰؑ نے اس کا دودھ نہیں پیا۔ دوسری بلائی گئی۔ تیسری بلائی گئی۔ یکے بعد دیگرے کئی دایائیں بلائی گئیں لیکن حضرت موسیٰؑ نے کسی کی چھاتی منہ سے نہیں لگائی۔ اس صورت حال سے حضرت موسیٰؑ کی بہن نے فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے آگے بڑھ کر کہا اگر آپ لوگ کہیں تو میں ایک ایسے گھر والوں کا پتہ دوں جو پوری خیر خواہی اور محبت کے ساتھ بچے کی غور و پرداخت کریں گے۔ محل والے پریشان تو تھے ہی وہ فوراً راضی ہو گئے اور اس طرح حضرت موسیٰؑ کے اپنی ماں کے آغوش میں پہنچنے کی راہ کھل گئی۔
    پس ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائے اور تاکہ وہ اچھی طرح جان لے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔
    حضرت موسیٰؑ اپنی ماں کے آغوش میں: اس تدبیر سے خدائے کارساز و کریم نے حضرت موسیٰؑ کو دریا سے نکلوایا اور پھر ان کو ان کی ماں کی گود میں پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کا غم دور ہو جائے۔ اصل نکتہ! ’وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ‘۔ یہ اس وعدے کے ایفاء کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر آیت ۷ میں گزرا کہ تم بچے کو بے خوف و خطر دریا میں ڈال دینا، ہم اس کی حفاظت کریں گے اور اس کو پھر تم سے ملائیں گے۔ فرمایا کہ اس طرح ہم نے اس کو دکھا دیا کہ ہم جو وعدہ کرتے ہیں، خواہ اس کا ایفا بظاہر کتنا ہی مستبعد کیوں نہ نظر آئے لیکن ہم اس کو پورا کر کے رہتے ہیں اور ہماری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ ’وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ‘۔ یہ اصل نکتہ کی بات ارشاد ہوئی ہے کہ اکثر لوگ اپنی بلادت کے سبب سے اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ وہ خدا کے وعدوں کو محض ہوائی باتیں خیال کرتے ہیں اور ان کے اعتماد پر کوئی بازی کھیلنے میں ان کو خسارہ اور خطرہ نظر آتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے دیکھ لیں تب مانیں گے حالانکہ اس دنیا میں اصل امتحان تو یہی ہے کہ لوگ اپنے رب کے ان وعدوں اور وعیدوں کے لیے جئیں اور مریں جن کی حقیقت ابھی سامنے آئی ہے۔
    پس جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور پورا ہوا تو ہم نے اس کو قوت فیصلہ عطا فرمائی اور علم بخشا اور خوب کاروں کو ہم اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔
    حضرت موسیٰ ؑ کی جوانی کا اصلی جمال: ’بَلَغَ اَشُدَّہٗ‘ سے جوانی کو پہنچنا مراد ہے اور اس کے ساتھ لفظ ’اِسْتِوَآء‘ عقلی و مزاجی اعتدال و توازن کی طرف اشارہ کر رہا ہے یعنی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جسمانی اعتبار سے جوانی کو اور عقلی و مزاجی اعتبار سے اعتدال و توازن کی عمر کو پہنچے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جوانی بجائے خود کوئی بڑی وقیع چیز نہیں ہے اگر اس کے ساتھ عقلی و مزاجی اعتدال کا جمال نہ ہو۔ ’حُکم‘ سے مراد قوت فیصلہ اور ’عِلم‘ سے مراد خدا کی معرفت ہے۔ اس حکم و علم کے مختلف مدارج ہیں۔ اس کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو حضرات ابنیاء علیہم السلام کو حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں بعینہٖ یہی الفاظ حضرات انبیاء علیہم السلام کے علم کے لیے بھی استعمال ہوئے ہیں لیکن یہاں ظاہر ہے کہ وہ علم و حکمت مراد نہیں ہے اس لیے کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کی ابتدائی زندگی کے احوال بیان ہو رہے ہیں۔ نبوت ان کو، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے، اس کے بہت بعد ملی ہے۔ فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ ؑ جوانی کو پہنچے اور ان کو عقل اور ان کے مزاج میں اعتدال و توازن آ گیا تو ہم نے ان کو حکمت و معرفت سے نوازا۔ ’وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ‘ جو لوگ خوب کار ہوتے ہیں ہم ان کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔ ’مُحْسِنِیْنَ‘ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو ان کے صحیح مصرف میں بالکل صحیح طریقہ پر استعمال کرتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ہم اپنے علم و حکمت میں سے حصہ دیتے ہیں۔ یہی علم و حکمت انسان کی قوتوں اور صلاحیتوں کا اصلی جمال و کمال ہے۔ اگر کوئی شخص یہ نہ حاصل کر سکا تو اس نے اپنی ساری صلاحیتیں بھی برباد کیں اور اپنی جوانی بھی غارت کی۔
    اور ایک دن لوگوں کی بے خبری میں وہ شہر میں داخل ہوا تو اس میں اس نے دو آدمیوں کو لڑتے پایا۔ ایک اس کے اپنے گروہ میں سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں کے گروہ میں سے۔ تو جو اس کے گروہ میں سے تھا اس نے اس سے اس شخص کے مقابل میں مدد کی درخواست کی جو اس کے مخالفوں میں سے تھا تو موسیٰؑ نے اس کے گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ اس نے کہا یہ تو مجھ سے شیطانی کام صادر ہو گیا، بے شک وہ ایک کھلا ہوا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔
    ’مدینۃ‘ سے مراد: ’مدینۃ‘ سے مراد اصل شہر ہے جو شرفاء و اعیان کا مرکز اور حکومت کا مستقر تھا۔ بنی اسرائیل کی حیثیت چونکہ محض غلاموں اور خدمت گاروں کی تھی اس وجہ سے ان کی بستی اصل شہر سے الگ بسائی گئی تھی۔ وہ صرف مزدوروں اور خدمت گاروں کی طرح کام کے اوقات میں شہر میں جایا کرتے تھے۔ صالح جوانی میدان عمل میں: حضرت موسیٰ علیہ السلام جب جوان ہوئے اور ان کے اندر وہ فتوت و مروت اور حمیت و غیرت پیدا ہوئی جو صالح جوانی اور علم و معرفت کا خاصہ ہے تو وہ وقتاً فوقتاً شہر میں اپنے مظلوم بھائیوں کا حال دیکھنے کے لیے جانے لگے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی حمیت و حمایت کے سبب سے قبطیوں کی نظروں میں کھٹکنے لگے تھے اس وجہ سے انھیں یہ کام لوگوں کی نگاہوں سے بچ بچا کے ایسے اوقات میں کرنا پڑتا جن میں لوگ آرام کرتے ہیں۔ ایک دن وہ اسی طرح کے تجسس کے لیے شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی دونوں لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے جب حضرت موسیٰؑ کو دیکھا تو ان سے طالب مدد ہوا۔ حضرت موسیٰؑ اس کو مظلوم دیکھ کر، بتقاضائے فتوت و حمایت حق، اس کی مدد کے لیے بڑھے اور چاہا کہ بیچ بچاؤ کرا دیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قبطی اپنی رعونت کے سبب سے ان سے الجھ پڑا۔ انھوں نے اپنی مدافعت میں اس کو جو گھونسا مارا تو وہ ایسا بے ڈھب پڑا کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ حضرت موسیٰؑ نہ تو قبطی کے قتل کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے اور نہ ان کو اس صورت حال کے پیش آنے کا کوئی گمان تھا۔ بالکل بے ارادہ جب یہ حادثہ پیش آ گیا تو انھیں فوراً اپنی غلطی پر پشیمانی ہوئی اور انھوں نے اپنے رب سے معافی مانگی کہ اے رب میں نے اپنی جان پر سخت ظلم ڈھایا تو مجھے معاف فرما دے۔ چونکہ یہ غلطی ان سے بالکل بے ارادہ ہوئی تھی، پھرا نھوں نے معافی بھی بلاتاخیر مانگی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو فوراً ہی معاف فرما دیا اور اس معافی کی غیبی طور پر ان کو بشارت بھی مل گئی۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ اوپر یہ جو ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو بھرپور جوانی کے ساتھ اپنی حکمت و معرفت سے بھی نوازا تھا یہ اسی حکمت و معرفت سے کا کرشمہ ہے۔ اگر حضرت موسیٰؑ صرف ایک تگڑے جوان ہوتے تو اپنے گھونسے کی شہ زوری اور بے پناہی پر فخر سے پھولے نہ سماتے۔ بالخصوص ایک قبطی کے اس طرح قتل کو تو وہ اپنا ایک زندۂ جاوید کارنامہ سمجھتے لیکن انھوں نے اپنے دشمن کے معاملے میں بھی، اپنی ایک غیرارادی غلطی کو، اپنا ایک جرم سمجھا اور اپنے رب سے اس کی فوراً معافی مانگی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ معاملہ حضرت موسیٰؑ اور ان کے رب ہی کے درمیان کا معاملہ تھا۔ مصر میں اس وقت جو صورت حال تھی اس میں اس بات کا کوئی امکان نہ تھا کہ حضرت موسیٰؑ حکومت اور قانون سے کسی انصاف کی توقع کرتے۔
    اس نے دعا کی، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم ڈھایا تو مجھے بخش دے۔ تو خدا نے اسے بخش دیا۔ بے شک وہ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے۔
    صالح جوانی میدان عمل میں: حضرت موسیٰ علیہ السلام جب جوان ہوئے اور ان کے اندر وہ فتوت و مروت اور حمیت و غیرت پیدا ہوئی جو صالح جوانی اور علم و معرفت کا خاصہ ہے تو وہ وقتاً فوقتاً شہر میں اپنے مظلوم بھائیوں کا حال دیکھنے کے لیے جانے لگے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی حمیت و حمایت کے سبب سے قبطیوں کی نظروں میں کھٹکنے لگے تھے اس وجہ سے انھیں یہ کام لوگوں کی نگاہوں سے بچ بچا کے ایسے اوقات میں کرنا پڑتا جن میں لوگ آرام کرتے ہیں۔ ایک دن وہ اسی طرح کے تجسس کے لیے شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی دونوں لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے جب حضرت موسیٰؑ کو دیکھا تو ان سے طالب مدد ہوا۔ حضرت موسیٰؑ اس کو مظلوم دیکھ کر، بتقاضائے فتوت و حمایت حق، اس کی مدد کے لیے بڑھے اور چاہا کہ بیچ بچاؤ کرا دیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قبطی اپنی رعونت کے سبب سے ان سے الجھ پڑا۔ انھوں نے اپنی مدافعت میں اس کو جو گھونسا مارا تو وہ ایسا بے ڈھب پڑا کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ حضرت موسیٰؑ نہ تو قبطی کے قتل کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے اور نہ ان کو اس صورت حال کے پیش آنے کا کوئی گمان تھا۔ بالکل بے ارادہ جب یہ حادثہ پیش آ گیا تو انھیں فوراً اپنی غلطی پر پشیمانی ہوئی اور انھوں نے اپنے رب سے معافی مانگی کہ اے رب میں نے اپنی جان پر سخت ظلم ڈھایا تو مجھے معاف فرما دے۔ چونکہ یہ غلطی ان سے بالکل بے ارادہ ہوئی تھی، پھرا نھوں نے معافی بھی بلاتاخیر مانگی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو فوراً ہی معاف فرما دیا اور اس معافی کی غیبی طور پر ان کو بشارت بھی مل گئی۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ اوپر یہ جو ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو بھرپور جوانی کے ساتھ اپنی حکمت و معرفت سے بھی نوازا تھا یہ اسی حکمت و معرفت سے کا کرشمہ ہے۔ اگر حضرت موسیٰؑ صرف ایک تگڑے جوان ہوتے تو اپنے گھونسے کی شہ زوری اور بے پناہی پر فخر سے پھولے نہ سماتے۔ بالخصوص ایک قبطی کے اس طرح قتل کو تو وہ اپنا ایک زندۂ جاوید کارنامہ سمجھتے لیکن انھوں نے اپنے دشمن کے معاملے میں بھی، اپنی ایک غیرارادی غلطی کو، اپنا ایک جرم سمجھا اور اپنے رب سے اس کی فوراً معافی مانگی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ معاملہ حضرت موسیٰؑ اور ان کے رب ہی کے درمیان کا معاملہ تھا۔ مصر میں اس وقت جو صورت حال تھی اس میں اس بات کا کوئی امکان نہ تھا کہ حضرت موسیٰؑ حکومت اور قانون سے کسی انصاف کی توقع کرتے۔
    اس نے کہا، اے رب! چونکہ تو نے مجھ پر فضل فرمایا تو میں عہد کرتا ہوں کہ میں مجرموں کا مددگار کبھی نہیں بنوں گا۔
    آئندہ کے لیے احتیاط کا عہد: نعمت، صالحین کے لیے شکرگزاری میں اضافہ کرتی ہے اس وجہ سے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ فضل فرمایا کہ ان کو معافی دے دی تو آئندہ کے لیے انھوں نے یہ عہد فرمایا کہ اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔ ’’مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا‘‘ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ آپ نے اسرائیلی کی حمایت اس کو مجرم سمجھتے ہوئے کی۔ آپ نے تو جو کچھ کیا اس کو مظلوم سمجھتے ہوئے کیا، اس کی فریاد پر کیا اور وقت کے حالات کی بنا پر ان کو گمان یہی ہوا کہ قبطی ظالم اور اسرائیلی مظلوم ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کے معانی مانگنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تم بے قصور ہو، قبطی ظالم آدمی تھا، بلکہ ان کو ایک غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے معافی دی تو اس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ معلوم ہوتا ہے کہ میں نے مظلوم کی حمایت کرنی چاہی لیکن معاملہ کی تحقیق نہ کرنے کے سبب سے مجھ سے ظالم کی حمایت صادر ہو گئی۔ اس وجہ سے آئندہ کے لیے آپ نے یہ عہد فرمایا کہ اب میں بلا تحقیق کسی کی حمایت نہیں کروں گا بلکہ صرف اسی کی حمایت کروں گا جس کا مظلوم ہونا معلوم ہو۔ چنانچہ دوسرے ہی دن آپ نے جب اسی اسرائیلی کو ایک دوسرے قبطی سے لڑتے دیکھا اور وہ حسب سابق پھر حضرت موسیٰؑ سے طالب مدد ہوا تو آپ نے اس کو جھڑک دیا کہ تم ایک شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔
    پس دوسرے دن وہ شہر میں داخل ہوا ڈرتا، ٹوہ لیتا ہوا، تو دیکھا کہ وہی شخص، جو کل اس سے طالب مدد ہوا تھا، آج پھر اس کو مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا، تم خود ایک کھلے ہوئے شریر آدمی ہو۔
    عہد کا احترام: دوسرے روز حضرت موسیٰؑ ڈرتے اور ٹوہ لیتے ہوئے پھر شہر میں داخل ہوئے۔ شہر میں جاتے ہوئے احتیاط تو، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، پہلے بھی وہ کرتے تھے لیکن اب اس واقعہ کے سبب سے اور بھی طرح طرح کے اندیشے رہے ہوں گے کہ معلوم نہیں اس کا ردعمل ان کے اور ان کی قوم کے خلاف کیا ہوتا ہے۔ زبانوں پر کیا چرچے ہیں اور ان کے بارے میں کیا چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں! اتنے میں دیکھا کہ وہی اسرائیلی جو کل ان سے طالب مدد ہوا تھا آج پھر فریاد کر رہا ہے۔ لیکن حضرت موسیٰؑ نے اس کو جھڑک دیا کہ تم خود ایک کھلے ہوئے شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔ اس کے کھلے ہوئے شریر آدمی ہونے کی ایک کھلی ہوئی دلیل تو یہی تھی کہ کل بھی وہ ایک شخص سے الجھا ہوا تھا جس کے نتیجہ میں ایک سنگین حادثہ پیش آ چکا تھا اور آج بھی ایک دوسرے شخص سے وہ لڑ رہا تھا۔ یہ واضح قرینہ اسی بات کا تھا کہ یہ شخص شرپسند ہے۔ اور دوسری وجہ وہ تھی جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ کی معافی سے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی کو مظلوم سمجھ کر اس کی حمایت کرنے میں ان سے غلطی صادر ہوئی، اس معاملے میں ان کو تحقیق کرنی تھی۔ چنانچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ جو فرمایا تھا کہ آئندہ میں کسی مجرم کی پشت پناہی نہیں کروں گا اس موقع پر انھوں نے اس کا پورا احترام ملحوظ رکھا۔ اس مرتبہ وہ فوراً اس کی حمایت کے لیے نہیں اٹھ کھڑے ہوئے بلکہ قرائن کو سامنے رکھ کر اسی کو تنبیہ کی کہ تم خود ایک جھگڑالو اور شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔
    پس جب اس نے ارادہ کیا کہ پکڑے اس کو جو ان دونوں کا دشمن تھا تو وہ بول اٹھا کہ اے موسیٰؑ، کیا تم آج مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا! تم تو اس ملک میں ایک جبّار بننے کا ارادہ کر رہے ہو، تم اصلاح کرنے والوں میں سے نہیں بننا چاہتے۔
    ایک اسلوب کی وضاحت: ’ان‘ سے پہلے یہاں کوئی مناسب موقع فعل محذوف ہے۔ یعنی جب معاملہ یوں ہوا یا جب بات یہاں تک پہنچی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے پہلے زبانی افہام و تفہیم سے فریقین کو ہموار کرنے کی کوشش کی لیکن جب اس سے کام نہ چلا بلکہ قبطی نے اکڑ دکھائی تو آپ نے اس کو پکڑ کر علیحدہ کرنا چاہا۔ اس قبطی کو یہاں ’عَدُوٌّ لَّہُمَا‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰؑ اور اسرائیلی دونوں کا دشمن۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ اسرائیلی کا تو وہ بالفعل دشمن تھا ہی اور حضرت موسیٰؑ کے ساتھ اس کی دشمنی قومی اعتبار سے بھی تھی اور اس پہلو سے بھی کہ وہ اپنی اصلاحی سرگرمیوں کے سبب سے تمام قبطیوں کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے تھے۔ اسرائیلی کی حماقت سے افشائے راز: حضرت موسیٰؑ نے پکڑنا تو چاہا قبطی کو لیکن انھوں نے پہلے جھڑکا اسرائیلی کو تھا اس وجہ سے اس نے گمان کیا کہ آج ہو نہ ہو ان کا گھونسا اس پر پڑنے والا ہے۔ اس گھبراہٹ میں وہ چلایا کہ کل تم نے ایک شخص کو جس طرح قتل کیا ہے اسی طرح آج معلوم ہوتا ہے کہ تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو۔ اس طرح اس نے اپنی حماقت سے راز کھول دیا۔ بعض لوگوں نے ’یٰمُوسَی أَتُرِیْدُ الخ‘ کو قبطی کا قول قرار دیا ہے لیکن یہ قرین قیاس نہیں کیونکہ ایک تو قتل کا واقعہ ابھی راز تھا، دوسرے قبطی حضرت موسیٰؑ کو مصلح نہیں سمجھتے تھے۔ سفلہ لوگوں کا کردار: ’إِن تُرِیْدُ إِلَّا أَنۡ تَکُوۡنَ جَبَّارًا فِی الْأَرْضِ وَمَا تُرِیْدُ أَن تَکُوۡنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ‘۔ ’جَبَّار‘ کے معنی یہاں مطلق العنان اور قابو سے باہر کے ہیں۔ یعنی افشائے راز کے ساتھ ساتھ اس نے حضرت موسیٰؑ پر یہ چوٹ بھی کر ڈالی کہ ہم تو یہ گمان کر رہے تھے کہ تم اس ملک میں اصلاح کرنا چاہتے ہو لیکن معلوم ہوا کہ اصلاح نہیں کرنا چاہتے بلکہ ایک بالکل مطلق العنان اور بے قابو آدمی بن کر زندگی بسر کرنا چاہتے ہو! ۔۔۔ اس کے اس قول سے ایک طرف تو سفلہ لوگوں کا کردار سامنے آتا ہے کہ جب تک کوئی شخص ان کی مدد و حمایت کرے وہ اس کو بہت بڑا مصلح سمجھتے ہیں لیکن اگر وہ ان کو کسی برائی سے روکنے کی کوشش کرے تو وہ نہ صرف اس کو ایک بہت بڑا مفسد قرار دیتے ہیں بلکہ اس کے خلاف جاسوسی کرنے والے اور اس کے رازوں کو طشت ازبام کرنے والے بھی بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف اس سے حضرت موسیٰؑ کا کردار بھی سامنے آتا ہے کہ وہ اسی زمانے سے اپنی قوم کے اندر ایک مصلح اور مرجع امید سمجھے جانے لگے تھے۔
    اور شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اے موسیٰؑ اعیان حکومت تمہارے قتل کے مشورے کر رہے ہیں۔ تو یہاں سے نکل جاؤ، میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔
    مرد مومن کا کردار: حضرت موسیٰؑ کی ذات تو، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، پہلے ہی سے فرعونیوں کی نظر میں کھٹک رہی تھی لیکن جب یہ واقعہ پیش آ گیا اور ایک اسرائیلی ہی کی زبان سے وہ افشا بھی ہو گیا تو قدرتی طور پر فرعونیوں کی آتش غضب پوری طرح ان کے خلاف بھڑک اٹھی اور وہ ان کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔ ’وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰی‘۔ اصل شہر، جو حکومت اور اعیان حکومت کا مرکز تھا، وہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، بنی اسرائیل کی بستی سے پرے تھا اس وجہ سے اس کو ’أَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ فرمایا کہ وہاں سے ایک شخص یہ معلوم کر کے کہ اعیان حکومت حضرت موسیٰؑ کے قتل کے مشورے کر رہے ہیں، بھاگا ہوا حضرت موسیٰؑ کو اطلاع دینے آیا کہ آپ کے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں۔ میں آپ کا خیر خواہ ہوں اس وجہ سے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ یہاں سے فوراً نکل جائیں۔ اس شخص سے متعلق یہاں کوئی تفصیل مذکور نہیں ہے لیکن سورۂ مومن میں ایک مومن آل فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے۔ ان کا تعلق شاہی خاندان سے تھا۔ یہ ابتداء ہی سے حضرت موسیٰؑ کے خیرخواہوں میں سے تھے اور بعد کے ادوار میں، جیسا کہ سورۂ مومن میں تفصیل آئے گی، انھوں نے اعیان حکومت کے سامنے حضرت موسیٰؑ کی بڑی پرزور حمایت کی، ان وجوہ سے ظن غالب یہ ہے کہ یہ اشارہ بھی انہی کی طرف ہے۔ ’إِنِّیْ لَکَ مِنَ النَّاصِحِیْنَ‘۔ یہ صفائی انھوں نے اس وجہ سے پیش کرنی ضروری سمجھی کہ بدگمانی کی اس فضا میں جو اس وقت اسرائیلیوں اور قبطیوں کے درمیان تھی یہ اندیشہ ہو سکتا تھا کہ ممکن ہے حضرت موسیٰؑ یہ خیال کریں کہ ایک فرعونی اس طرح ان کو مرعوب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لفظ ’یَسْعٰی‘ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جونہی ان کو معلوم ہوا کہ معاملہ نہایت سنجیدہ بلکہ خطرناک ہو چکا ہے، وہ اعیان حکومت میں سے ہونے کے باوصف، بھاگے ہوئے حضرت موسیٰؑ کے پاس ان کی بستی میں آئے۔ ان کی یہ سرگرمی ان کی ہمدردی و خیر خواہی کی ایک نہایت اعلیٰ مثال ہے۔
    تو وہ وہاں سے ڈرتا اور ٹوہ لیتا ہوا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دعا کی، اے رب! مجھے ظالموں کی قوم سے نجات دے۔
    اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام ڈرتے اور بچتے بچاتے ہوئے مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور چونکہ فرعونیوں کی طرف سے تعاقب کا اندیشہ تھا اس وجہ سے انھوں نے یہ دعا فرمائی کہ اے رب مجھے ان ظالموں کے شر سے نجات دے۔
    اور جب اس نے مدین کا رخ کیا تو اس نے دعا کی، امید ہے کہ میرا رب میری رہنمائی سیدھی راہ کی طرف فرمائے گا۔
    حضرت موسیٰؑ کا قصد مدین اور اللہ کی راہ میں کام کرنے والوں کے لیے ایک سبق: اسلوب کلام سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ جس وقت مصر سے نکلے ہیں اس وقت انھوں نے اپنے سفر کی منزل متعین نہیں کی تھی۔ یہ فیصلہ انھوں نے بعد میں کیا کہ انھیں مدین کی طرف جانا چاہیے اور مدین کے معاملے میں بھی یہ بات ان کے ذہن میں واضح نہیں تھی کہ انھیں کس کے پاس اور کس مقام پر جانا چاہیے بلکہ بغیر کسی تعین کے مدین کی سمت کو اس امید کے ساتھ چل کھڑے ہوئے کہ رب کریم کارساز سیدھی راہ کی طرف رہنمائی فرمائے گا اور کسی مستقر پر پہنچائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت موسیٰؑ کا یہ نکلنا اس نوعیت کی ہجرت نہیں تھا جس کا مرحلہ ان کی بعثت کے بعد پیش آیا۔ ہجرت کے معاملے میں تو سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ اس کا وقت بھی اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمایا ہے اور اس کے تمام مراحل و منازل بھی اپنے رسول پر خود واضح فرمائے ہیں لیکن اس سفر میں حضرت موسیٰؑ کے سامنے اس طرح کی کوئی واضح غیبی رہنمائی نہیں تھی۔ بس متوکلاً علی اللہ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے اسی توکل نے ان کی دست گیری و رہنمائی کی۔ اس پہلو سے یہ واقعہ اللہ کے ان تمام بندوں اور بندیوں کے لیے نہایت سبق آموز ہے جن کو حق کی راہ میں کوئی ابتلاء پیش آئے۔ اگر وہ اللہ کے اعتماد پر کوئی قدم اٹھائیں گے تو ان کو خدا کی رہنمائی حاصل ہو گی اگرچہ اس کے لیے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح بشارت نہ ملی ہو۔
    اور جب وہ مدین کے کنوئیں پر پہنچا تو اس نے اس پر لوگوں کی ایک بھیڑ دیکھی جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے اور ان سے ورے دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریوں کو روکے کھڑی ہیں۔ اس نے ان سے پوچھا تمہارا کیا ماجرا ہے؟ انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک چرواہے اپنی بکریاں ہٹا نہ لیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں۔
    ’مَآء‘ سے مراد: ’مَآء‘ سے مراد چشمہ بھی ہو سکتا ہے اور کنواں بھی۔ تورات میں کنوئیں ہی کا ذکر آیا ہے ویسے پہاڑی چشمے بھی کنوؤں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔ بالعموم ان تک پہنچنے کے راستے نہایت تنگ ہوتے ہیں اس وجہ سے ان پر پانی پینا اور پلانا کوئی سہل کام نہیں ہوتا بالخصوص جب کہ پانی پینے پلانے والوں کی بھیڑ بھی ہو۔ ایک واقعہ کا حضرت موسیٰؑ پر اثر: حضرت موسیٰؑ مدین پہنچے تو اس کے کنوئیں یا چشمے پر بیٹھ گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ چرواہوں کی ایک بھیڑ اپنے اپنے گلوں کو پانی پلا رہی ہے اور دو عورتیں اپنے گلے کو روکے ہوئے ان سے پرے کھڑی ہیں۔ لفظ ’تَذُوۡدَانِ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا گلہ تو گھاٹ پر پہنچ کر پانی پینے کے لیے آگے بڑھنے کے لیے زور لگا رہا ہے لیکن ان بیچاریوں کو زبردستی اس کو پیچھے ہٹانا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے ان سے پوچھا کہ تمہارے سامنے کیا مشکل ہے؟ یہاں آ کر تم اپنے گلے کو کیوں روکے کھڑی ہو؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے باپ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں۔ گلے کی دیکھ بھال ہمیں کرنی پڑ رہی ہے اور ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس بھیڑ کے اندر گھس کر اپنے گلے کو پانی پلا سکیں اس وجہ سے ہمیں چرواہوں کے واپس ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جب تک وہ اپنے گلے ہٹا نہ لیں ہم اپنے گلے کو پانی نہیں پلا سکتے۔
    تو اس نے ان دونوں کی خاطر پانی پلایا پھر سائے کی طرف ہٹ گیا اور دعا کی، اے میرے رب! جو خیر بھی اس وقت تو میرے لیے اتارے میں اس کا حاجت مند ہوں۔
    حضرت موسیٰؑ کا جذبۂ حمایت ضعیف: ان شریف زادیوں کی یہ بات سن کر حضرت موسیٰؑ کا جذبۂ حمایت ضعیف بھڑک اٹھا۔ وہ اٹھے اور ان کی بکریوں کو انھوں نے پانی پلایا۔ اور پانی پلا کر پھر اسی سایہ میں آ کر بیٹھ گئے جس کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور دعا فرمائی کہ اے رب! اس وقت جو چیز بھی تو میرے لیے نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں۔ چند قابل توجہ باتیں: یہاں چند باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں: ایک یہ کہ حضرت موسیٰؑ کو یہ بات نہایت اہم محسوس ہوئی کہ دو شریف لڑکیوں کو بکریاں چرانے کا پرمشقت کام کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اس بے بسی کے ساتھ عین گھاٹ کے سامنے اپنی بکریوں کو روکے کھڑی ہیں۔ حضرت موسیٰؑ کے اس احساس کا اظہار ان کے ’مَا خَطْبُکُمَا‘ کے سوال سے ہو رہا ہے۔ عربی میں لفظ ’خَطْبٌ‘ کسی امر عظیم و اہم ہی کے لیے آتا ہے اس وجہ سے ان کے اس سوال کے اندر یہ بات مضمر ہے کہ تمہیں کیا افتاد اور مشکل پیش آئی ہے کہ بکریوں کی چرواہی کی یہ پرمشقت خدمت تمہیں انجام دینی پڑ رہی ہے اور تم اس طرح اپنی بکریوں کو یہاں روکے کھڑی ہو، صاحب زادیوں نے حضرت موسیٰؑ کے سوال کو بالکل ٹھیک ٹھیک سمجھ کر جواب دیا کہ یہ خدمت ہمیں اس لیے انجام دینی پڑ رہی ہے کہ ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں اور ہم اپنی بکریوں کو اس لیے روکے کھڑی ہیں کہ ہم مردوں کی اس بھیڑ میں نہیں گھس سکتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دور میں بھی عورتوں اور مردوں کے دائرۂ کار الگ الگ سمجھے جاتے تھے اور اگر عورتوں کو کسی مجبوری کے سبب سے کوئی اس طرح کی خدمت انجام دینی پڑتی تھی جو مردوں کے دائرۂ کار سے تعلق رکھنے والی ہو تو اس کو انجام تو دیتی تھیں لیکن محض بربنائے مجبوری اور وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ اور ان کے اندر گھل مل کر نہیں بلکہ پوری احتیاط اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ، حتی الامکان مردوں سے الگ تھلگ رہتے ہوئے۔ ایک طرف حضرت شعیبؑ کے زمانے کے اس معاشرتی تصور کو سامنے رکھیے جس کی شہادت حضرت شعیبؑ کی صاحب زادیوں اور حضرت موسیٰؑ کے اس واقعہ سے ملتی ہے۔ دوسری طرف اپنی قوم کے ان سماجی مصلحین کے دعوے پر غور کیجیے جو کہتے ہیں کہ عورتوں اور مردوں کا دائرۂ کار بالکل ایک ہی ہے اس لیے دونوں کو ہر میدان میں بالکل شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے۔ یہ حضرات دلیل تو اپنے دعوے پر دیہاتوں کی غریب عورتوں کی زندگی سے پیش کرتے ہیں لیکن نتیجہ اس سے شہروں کی بیگمات کے لیے اخذ کرتے ہیں۔ دوسری چیز اس واقعہ میں قابل توجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے حمایت ضعیف کا حق تو فوراً پوری مستعدی سے ادا کر دیا کہ یہ ان کی فتوت و مروت کا تقاضا تھا لیکن اس کے بعد ایک حرف بھی ان صاحب زادیوں کے سامنے ان کی زبان سے ایسا نہیں نکلا جس سے ان کی کسی پریشانی یا مسافرت یا ضرورت کا اظہار ہو بلکہ جس سایہ سے ان کی مدد کے لیے اٹھے تھے اسی سایہ میں آ کر پھر بیٹھ گئے۔ اور اپنے رب سے دعا کی کہ اے رب جس منزل کو سامنے رکھ کر میں نے ادھر کا رخ کیا تھا وہ تو آ گئی۔ اب بس تیرے فضل و رحمت کا انتظار ہے۔ تو جو خیر بھی اس مرحلے میں میرے لیے نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں۔ اس دعا کی بلاغت کی تعبیر سے زبان قلم قاصر ہے۔ صرف اہل ذوق ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ چونکہ یہ دعا بالکل صحیح وقت پر، صحیح جذبے کے ساتھ اور بالکل صحیح الفاظ میں زبان سے نکلی اس وجہ سے اس کا اثر بلا کسی تاخیر کے ظاہر ہوا۔ صاحب زادیوں نے حضرت موسیٰؑ کے اس احسان کا ذکر اپنے باپ سے کیا اور اس طرح حضرت موسیٰؑ کے لیے اس خیر کی راہ کھل گئی جس کے لیے انھوں نے دعا فرمائی تھی۔
    پس ان میں سے ایک شرماتی ہوئی آئی۔ کہا کہ میرے باپ آپ کو بلاتے ہیں کہ آپ نے ہماری خاطر جو پانی پلایا اس کا آپ کو صلہ دیں۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کو سارا ماجرا سنایا، اس نے کہا، اب اندیشہ نہ کرو، تم نے ظالموں سے نجات پائی۔
    حضرت موسیٰؑ کے لیے خیر کی راہ: حضرت موسیٰؑ ابھی سایہ ہی میں بیٹھے تھے کہ ان میں سے ایک صاحب زادی لجاتی شرماتی ہوئی آئیں اور بولیں کہ آپ کو ہمارے والد ماجد بلاتے ہیں کہ آپ نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے اس کا آپ کو صلہ دیں۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روز صاحب زادیاں چونکہ معمول کے خلاف وقت سے پہلے فارغ ہو کر گھر پہنچ گئیں اس وجہ سے حضرت شعیبؑ نے ان سے پوچھا کہ آج تم اتنی جلدی کیسے چلی آئیں؟ اس پر انھوں نے بتایا کہ آج ایک مصری نے ہم پر یہ احسان کیا کہ اس نے ہماری بکریوں کو خود بھر کر پانی پلا دیا۔ حضرت شعیبؑ نے ان سے فرمایا تم نے ان کو چھوڑ کیوں دیا؟ جا کر ان کو بلا لاؤ کہ ہمارے ہاں روٹی کھائیں۔ باپ کے حکم کی تعمیل میں ایک صاحب زادی حضرت موسیٰؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں کہ آپ کو ہمارے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے اس کا صلہ دیں۔ حضرت موسیٰؑ اس وقت اس طرح کی کسی مدد کے نہات محتاج تھے۔ اس کو انھوں نے ایک تائید غیبی سمجھا اور فوراً اس کے ساتھ ہو لیے۔ شریف بیبیوں کے اطوار: یہاں ’تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَآءٍ‘ کے الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ اوپر ’مِنْ دُونِہِمُ‘ کے الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ وہ چرواہوں کی بھیڑ سے بالکل الگ کھڑی ہوئی تھیں۔ یہ بات بھی اوپر گزر چکی ہے کہ انھوں نے اپنی اس کنارہ کشی کی علت یہ بیان فرمائی کہ مردوں کی بھیڑ سے بچنے کے لیے انھیں یہ زحمت اٹھانی پڑتی ہے کہ جب تک چرواہے یہاں سے ہٹ نہ جائیں وہ انتظار کرتی ہیں۔ پھر یہاں فرمایا کہ جب وہ حضرت موسیٰؑ کو بلانے کے لیے آئیں تو شرماتی ہوئی آئیں۔ یعنی یہ نہیں کیا کہ آ کر بے دھڑک حضرت موسیٰؑ کے سامنے کھڑی ہو جائیں بلکہ سمٹی سمٹائی، کپڑوں کو سنبھالے اور اپنی احتیاط کی جگہوں کو محفوظ کیے ہوئے آئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ واقعہ کی یہ جزئیات قرآن نے اس جزرسی کے ساتھ کیوں بیان فرمائی ہیں؟ اس کا جواب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ قرآن ہر قدم پر یہ نمایاں کرنا چاہتا ہے کہ شریفانہ زندگی کے عادات و اطوار کیا ہیں اور شریف بیبیوں کو مردوں کے معاملے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہی شریفانہ عادات و اطوار ہیں جن کو قرآن نے ایک ضابطہ کی صورت میں سورۂ نور اور سورۂ احزاب میں ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ سورۂ نور کی تفسیر میں اس ضابطہ کی وضاحت ہم کر چکے ہیں اور خدا نے چاہا تو احزاب کی تفسیر میں اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ یہ امر بھی یہاں ملحوظ رکھیے کہ یہ ان خواتین کے عادات و اطوار بیان ہوئے ہیں جنھیں اپنی بکریوں کی چرواہی کرنی پڑتی تھی۔ تو جب ان کے لیے عند اللہ پسندیدہ روش یہ ہے تو ان خواتین کے لیے پسندیدہ روش کیا ہو گی جن کو اس طرح کی کوئی مجبوری نہیں ہے! حضرت موسیٰؑ حضرت شعیبؑ کی خدمت میں: ’فَلَمَّا جَآءَ ہُ وَقَصَّ عَلَیْْہِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ‘۔ حضرت شعیبؑ کی اس دعوت پر حضرت موسیٰؑ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کو اپنی ساری داستان سنائی۔ حضرت شعیبؑ نے ان کا سارا ماجرا سن کر فرمایا کہ اب تم کوئی اندیشہ نہ کرو۔ خدا نے ظالموں سے تمہیں نجات دی۔ گویا اس طرح حضرت موسیٰؑ کو ان کی اس دعا کی قبولیت کی بشارت مل گئی جو انھوں نے مصر سے نکلتے ہوئے بدیں الفاظ فرمائی تھی۔ ’رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ‘۔
    ان میں سے ایک نے کہا، ابا جان! ان کو ملازم رکھ لیجیے۔ کیونکہ آپ کے لیے بہترین ملازم وہی ہو سکتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔
    یہاں ’إِحْدَاہُمَا‘ کے اعادے سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے حق میں یہ سفارش حضرت شعیبؑ کی دوسری صاحبزادی نے فرمائی۔ اگر انہی نے یہ سفارش کی ہوتی جو ان کو بلانے کے لیے گئی تھیں تو یہاں فاعل کے اعادے کی ضرورت نہیں تھی۔ صاحب کردار کے کردار کا اندازہ ایک نظر میں ہو جاتا ہے: حضرت شعیبؑ کو اپنے گلے کی دیکھ بھال کے لیے ایک مددگار کی ضرورت تو تھی ہی اور قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ کسی موزوں آدمی کی تلاش میں بھی تھے۔ اس وجہ سے صاحبزادی صاحبہ نے سفارش کی کہ انہی کو ملازم رکھ لیجیے۔ بہترین ملازم وہی ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔ یہ قوی بھی ہیں اور ساتھ ہی امانت دار بھی۔ جہاں تک جسمانی صحت و قوت کا تعلق ہے یہ ایک ایسی کھلی ہوئی چیز ہے کہ آدمی بیک نظر اس کا اندازہ کر سکتا ہے لیکن امانت و دیانت کا تعلق کردار سے ہوتا ہے جس کا صحیح صحیح اندازہ تجربہ سے ہوتا ہے۔ یہ تجربہ عام حالات میں تو بہت دیر میں ہوتا ہے لیکن بعض حالات میں بالکل باول وہلہ ہو جاتا ہے۔ آدمی کی پیشانی اور اس کی نگاہیں گواہی دیتی ہیں کہ یہ کس کردار کا آدمی ہے۔ صاحبزادی صاحبہ نے حضرت موسیٰؑ کی مروت، بے نیازی اور پاکیزہ نگاہی کا تجربہ تو خود ہی کر لیا تھا پھر ان کی فتوت کی وہ سرگزشت، جو حضرت موسیٰؑ نے حضرت شعیبؑ کو سنائی، سن کر ان پر یہ حقیقت بالکل واضح ہو گئی کہ اس عزم و ہمت کے آدمی کے اندر اگر امانت و دیانت نہ ہو گی تو بھلا کس میں ہو گی!
    اس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ اس شرط پر کر دوں کہ تم آٹھ سال میری ملازمت کرو۔ اگر تم نے دس سال پورے کر دیے تو یہ بات تمہاری مرضی سے ہو گی۔ میں تم پر کوئی مشقت ڈالنا نہیں چاہتا۔ ان شاء اللہ تم مجھے ایک بھلا آدمی پاؤ گے!
    حضرت شعیبؑ کی پیشکش: حضرت شعیبؑ نے حضرت موسیٰؑ کے سامنے یہ پیش کش فرمائی کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح اس شرط پر تمہارے ساتھ کر دوں کہ تم آٹھ سال میری خدمت کرو اور اگر تم نے دس سال پورے کر دیے تو یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔ میں اس معاملے میں تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا، ویسے ان شاء اللہ تم مجھے بھلے آدمیوں میں سے پاؤ گے۔ قرینہ دلیل ہے کہ حضرت شعیبؑ نے یہ پیش کش اشارۂ غیبی پر فرمائی ہو گی اور ان کا یہ ارشاد کہ ’وَمَا أُرِیْدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَیْْکَ‘ حضرت موسیٰؑ کو معاملہ پر غور کر کے فیصلہ کرنے کے لیے ایک مہلت تھی کہ وہ اس شرط پر اچھی طرح غور کر کے فیصلہ کریں، ان کے دباؤ میں آ کر مجبورانہ کوئی فیصلہ نہ کریں۔ یہاں مہر کے معاملے پر کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ مہر کا تعلق کلیۃً لڑکی کی مرضی سے ہے۔ اگر باپ اس کا نکاح کسی ایسی شرط پر کر دے جو جائز ہو اور لڑکی اس پر راضی ہو تو اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔
    اس نے جواب دیا کہ یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہے۔ دونوں میں سے جو مدت بھی پوری کر دوں تو اس معاملے میں مجھ پر کوئی جبر نہ ہو گا اور اللہ ہمارے اس قول و قرار پر، جو ہم کر رہے ہیں، گواہ ہے۔
    حضرت موسیٰؑ کی طرف سے پیش کش کی منظوری: حضرت موسیٰؑ نے یہ پیشکش اور یہ شرط دونوں منظور کر لیں۔ فرمایا کہ ان دونوں مدتوں میں سے جو مدت بھی میں پوری کر سکا مجھے اس کا اختیار حاصل رہے گا۔ ’نَقُوْلُ‘ یہاں قول و قرار اور عہد و پیمان کے مفہوم میں ہے یعنی اس وقت ہم جو قول و قرار کر رہے ہیں اس پر ہم اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں۔
    تو جب موسیٰ ؑ نے مدت پوری کر دی اور اپنے اہل کے ساتھ روانہ ہوا تو اس نے طور کی جانب سے ایک آگ دیکھی۔ اس نے اپنے اہل سے کہا، مجھے آگ نظر آئی ہے، تم لوگ ٹھہرو کہ میں وہاں سے کوئی خبر یا آگ کا کوئی انگارا لاؤں تاکہ تم لوگ تاپو۔
    مصر کو واپسی اور جلوۂ طور کا مشاہدہ: حضرت موسیٰ ؑ موعودہ مدت پوری کرنے کے بعد اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس بات کی تصریح قرآن یا تورات میں نہیں ہے کہ انھوں نے آٹھ سال کی مدت پوری کی یا وہاں دس سال گزارے۔ البتہ تورات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ بیوی کے سوا آپ کے دو بچے بھی تھے۔ جب جبلِ طور کے قریب پہنچے تو رات اندھیری تھی اور سردی بھی تھی۔ اندھیرے میں راستہ کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ اتنے میں طور کی جانب سے آگ کی ایک چمک سی دکھائی دی۔ آپ نے بیوی بچوں سے فرمایا، تم لوگ یہیں ٹھہرو۔ مجھے آگ کی چمک نظر آئی ہے ۔۔۔ میں وہاں جاتا ہوں ۔۔۔ اگر وہاں کچھ لوگ ہوئے تو راستہ کی خبر لاتا ہوں ورنہ آگ ہی کا ایک انگارہ لاؤں تاکہ تم لوگ تاپ سکو۔
    تو جب وہ اس کے پاس آیا، خطۂ مبارک میں، وادئ ایمن کے کنارے سے، درخت سے اس کو آواز آئی کہ اے موسیٰ! میں اللہ، عالم کا خداوند ہوں۔
    اس آیت کے تمام اجزاء کی وضاحت سورۂ طٰہٰ اور سورۂ نمل وغیرہ کی تفسیر میں پیچھے گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ اس جگہ پہنچے جہاں سے ان کو آگ نظر آئی تھی تو وادئ مبارک کے کنارے سے، جو مبارک خطہ میں تھی، ایک خاص درخت سے یہ آواز آئی اے موسیٰ ؑ! یہ تو میں ہوں، اللہ، عالم کا خداوند۔ یہاں آواز کی نشان دہی کے لیے تین ظرف مذکور ہوئے ہیں، ایک یہ کہ یہ آواز وادئ مبارک کی سمت سے آئی، دوسرا یہ کہ یہ وادی، مبارک خطہ میں تھی، تیسرا یہ کہ یہ آواز ایک خاص درخت سے آئی۔ ان تمام تعینات کے ذکر سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ آواز فضائے لا متناہی کے اندر ایک مبہم و بے جہت آواز کی صورت میں نہیں بلکہ تعین جہت و مقام کے ساتھ ایک مبارک وادی، ایک مبارک خطہ اور ایک مبارک درخت سے سنائی دی۔ کسی وادی یا خطہ یا درخت کا مبارک ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے نور و ظہور کے لیے انتخاب فرمایا اور اس کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ اس کے قدوسیوں کی جلوہ گاہ اور ہر قسم کی شیطانی دراندازی سے پاک و محفوظ ہو۔ سورۂ نمل کی آیت ۸ پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ پہلی آواز جو حضرت موسیٰ ؑ کو سنائی دی: ’اِنِّیْٓ اَنَا اللَّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ‘ اوپر کے ٹکڑے میں آواز کے محل و مقام کی پاک و برتری کا اظہار تھا۔ یہ وہ آواز ہے جو سب سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ کو سنائی دی۔ ارشاد ہوا کہ تم تو آگ سمجھ کر یہاں آگ لینے آئے ہو لیکن یہاں آگ نہیں بلکہ میں ہوں، اللہ، عالم کا خداوند! یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات والا صفات کا تعارف کرایا ہے۔ ’رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ‘ کے مضمرات بہت وسیع ہیں اس وجہ سے بعض مقامات میں یہی مضمون دوسرے الفاظ میں بھی وارد ہوا ہے۔ مثلاً سورۂ نمل میں ہے۔ ’اِنَّہٗٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘ یہ اسی ’رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ‘ ہی کے مضمون کی وضاحت دوسرے الفاظ میں ہے۔
    اور یہ کہ تم اپنا عصا ڈال دو تو جب اس نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا گویا سانپ ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پھر مڑ کے نہ دیکھا۔ اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرو نہیں، تم بالکل مامون ہو۔
    پہلا معجزہ: ساتھ ہی یہ ہدایت ہوئی کہ اپنا عصا زمین پر ڈال دو۔ حضرت موسیٰؑ نے اس ہدایت کی تعمیل کی تو دیکھا کہ عصا سانپ کی طرح حرکت کرنے لگا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ سخت دہشت زدہ ہوئے اور اس طرح پیچھے کو بھاگے کہ اس کی طرف مڑ کے دیکھنے کی جرأت نہیں کی۔ ’وَلَمْ یُعَقِّبْ‘ کی وضاحت سورۂ نمل کی آیت ۱۰ کے تحت ہو چکی ہے۔ حضرات انبیاؑء پر ابتدائی مشاہدات کا اثر: حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کو نبوت کے ابتدائی مشاہدات بالکل بے سان گمان پیش آتے ہیں، نہ ان کے ذہن میں پہلے سے ان کا کوئی تصور ہوتا، نہ ارمان، اس وجہ سے شروع شروع میں وہ ان سے گھبراتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو بالتدریج ان سے مانوس کر دیتا ہے۔ ساحروں، کاہنوں، متنبیوں اور مفتریوں کے ذہن میں تو پہلے سے ایک اسکیم ہوتی ہے اور وہ اس کے لیے بہت سے پاپڑ بیلتے ہیں اور جب ان کو عوام فریبی کے لیے کوئی اشغلہ ہاتھ آ جاتا ہے تو اس کو اپنی بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن حضرات انبیائے کرام اس قسم کے وساوس سے بالکل پاک ہوتے اس وجہ سے ان کو کوئی معجزہ دیا جاتا ہے تو وہ ان کے لیے ایک بالکل انوکھی چیز ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰؑ جس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے جانے والے تھے اس کے ساحروں کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ وہ اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کو سانپ بنا دیتے اور اس فن کو حاصل کرنے کے لیے نہیں معلوم وہ کیا کیا ریاضتیں کرتے اور جب اس میں کامیاب ہو جاتے تو سمجھتے کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی مراد حاصل ہو گئی لیکن حضرت موسیٰؑ کا حال یہ ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی لاٹھی کو سانپ بنا دیا تو وہ اس سے خوف زدہ ہو کر بھاگے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کے اس ابتدائی مشاہدہ کے اس پہلو کو خاص طور پر اس لیے نمایاں فرمایا ہے کہ آپ کے جس معجزے کو فرعونیوں نے سحر و ساحری کا کرشمہ قرار دیا اس کو دیے جانے کے وقت حضرت موسیٰؑ پر کیا گزری! ’یٰمُوسَی أَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ إِنَّکَ مِنَ الْآمِنِیْنَ‘۔ حضرت موسیٰؑ پر یہ اضطراری دہشت جب طاری ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے نہایت رافت کے ساتھ ان کو اطمینان دلایا کہ اے موسیٰؑ! آگے بڑھو، اس کو اٹھاؤ، اس سے تمہارے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ خطرہ ہے تو تمہارے دشمنوں کے لیے ہے۔ تم ہر قسم کے خطرے سے محفوظ ہو۔ سورۂ نمل میں یہی مضمون ’لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ یعنی تم تو ہمارے ایک رسول ہو۔ ہم اپنے رسولوں کو اپنے خاص اسلحہ سے مسلح کرتے ہیں۔ ان سے جو خطرہ پیش آتا ہے وہ ہمارے دشمنوں کو پیش آتا ہے نہ کہ ہمارے رسولوں کو۔
    تم اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو وہ بغیر کسی مرض کے سفید نکلے گا اور سکیڑ لو اپنا بازو جس طرح خوف سے سکیڑ لیتے ہیں۔ پس یہ تیرے رب کی جانب سے دو نشانیاں ہیں فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جانے کے لیے۔ بے شک وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں۔
    دوسرا معجزہ اور اس کے ظہور کا طریقہ: یہ دوسرے معجزے کے ظہور کا طریقہ بتایا گیا کہ تم اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو، پھر جب اس کو نکالو گے تو وہ بغیر کسی مرض کے چٹا سفید نکلے گا۔ ’وَّاضْمُمْ اِلَیْکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّھْبِ‘ یہ ہاتھ کو گریبان میں ڈالنے کا طریقہ بتایا گیا کہ جس طرح کوئی شخص ڈر سے اپنے بازو کھینچ لیتا ہے اس طرح تم اپنا ہاتھ بازو کے اندر ڈال کر اس کو بھینچ لو۔ یہی مضمون سورۂ طٰہٰ میں یوں بیان ہوا ہے: وَاضْمُمْ یدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیضَآءَ مِنْ غَیرِ سُوْٓءٍ. (۲۲) ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان کی طرف سکیڑ لو وہ وہاں سے بغیر کسی مرض کے سفید برآمد ہو گا۔‘‘ ’مِنَ الرَّھْبِ‘ یہاں اسی طرح آیا ہے جس طرح دوسرے مقامات میں ’مِنَ الذُّلِّ‘ یا ’مِنَ الرَّحْمَۃِ‘ وغیرہ الفاظ آئے ہیں۔ ’فَذٰنِکَ بُرْھَانٰنِ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاْ ءِہٖ اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ‘۔ ’اِلٰی‘ سے پہلے یہاں کوئی فعل محذوف ہے جس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں، آگے بھی آ رہی ہیں۔ یعنی اپنے رب کی طرف سے ان دو واضح نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس انذار کے لیے جاؤ۔ ’اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ‘ میں اس بات کی توجیہ ہے کہ تمہیں ان عظیم نشانیوں سے کیوں مسلح کیا گیا ہے اور فرعون اور اس کی قوم کے پاس تمہیں کیوں بھیجا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ اس لیے کہ وہ بڑے ہی نافرمان اور سرکش ہو گئے ہیں۔ ان کو اس سرکشی کے انجام سے آگاہ اور ان واضح نشانیوں کے ذریعہ سے ان پر حجت تمام کر دو۔  
    اس نے کہا، اے رب! میں نے ان میں سے ایک آدمی کو قتل کیا ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔
    حضرت موسیٰؑ کا ایک اندیشہ: حضرت موسیٰؑ اس عظیم مہم کے لیے حکم الٰہی کی تعمیل میں تیار تو ہو گئے لیکن ساتھ ہی اپنے ایک اندیشہ کا بھی انھوں نے اظہار فرمایا کہ میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے اس وجہ سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے دیکھتے ہی قتل کر دیں گے۔ حضرت موسیٰؑ کا مطلب یہ تھا کہ یوں تو میں آٹھ دس سال باہر گزارنے کے بعد مصر جا رہا ہوں اس وجہ سے گمان ہے کہ شاید وہ اس واقعہ کو بھول چکے ہوں لیکن ایک رسول کی حیثیت سے اگر میں ان کے پاس گیا تو بھلا وہ کب مجھے معاف کرنے والے ہیں۔
    اور میرے بھائی، ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں تو ان کو بھی میرے ساتھ مددگار کی حیثیت سے بھیج کہ وہ میری تائید کریں۔ میں ڈرتا ہوں کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے۔
    ’رِدْءٌ‘ کے معنی مددگار و معین کے ہیں۔ دوسرے مقامات میں اسی مفہوم کے لیے ’وزیر‘ استعمال ہوا ہے۔ ’یُصَدِّقُنِیْ‘ یعنی ’یُؤَیِّدُنِیْ‘ وہ میری مدد کریں۔ حضرت ہارونؑ کے تعاون کی درخواست: یہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی ایک اور مشکل کا اظہار فرمایا۔ سورۂ طٰہٰ کی تفسیر میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ اپنی اس عظیم ذمہ داری کے اعتبار سے اپنی قوت بیان میں کمی محسوس فرماتے تھے اس وجہ سے انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست بھی کی کہ میرے بھائی ہارونؑ مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں، انھیں اس کام میں میرا مددگار بنا دے کہ وہ میری تائید و مدد کریں۔ یہی بات دوسرے مقام میں یوں مذکور ہوئی ہے: ’کَیْْ نُسَبِّحَکَ کَثِیْراً وَنَذْکُرَکَ کَثِیْراً‘ (طٰہٰ ۳۳-۳۴) (تاکہ ہم دونوں مل کر تیری زیادہ سے زیادہ تسبیح کریں اور تیرا زیادہ سے زیادہ چرچا پھیلائیں) ’إِنِّیْ أَخَافُ أَنۡ یُکَذِّبُونِ‘ یعنی مجھے یہ ڈر ہے کہ وہ میری بات آسانی سے نہیں مانیں گے بلکہ مجھے جھٹلانے کی کوشش کریں گے اس وجہ سے میری مدد ایک فصیح اللسان آدمی کے ذریعہ سے فرما کہ ہم دونوں مل کر پوری قوت سے ان پر اتمام حجت کریں۔  
    ارشاد ہوا کہ ہم تمہارے بھائی کو بھی تمہارے لیے قوت بازو بنائیں گے اور تم دونوں کو خاص دبدبہ عطا کریں گے تو وہ تم پر دست درازی نہ کر سکیں گے تو ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ، تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے، غالب رہو گے۔
    ’سُلْطَانٌ‘ سے مراد یہاں غلبہ، دبدبہ اور ہیبت ہے۔ ’بِآیَاتِنَا‘ میں دو امکان ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو ’نَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطَاناً‘ سے متعلق مانیے۔ یعنی ہم اپنے معجزات کے ذریعہ سے فرعونیوں پر تمہارا دبدبہ قائم کر دیں گے۔ دوسرا یہ کہ اس سے پہلے کوئی محذوف مانیے جس کی مثال اوپر آیت ۳۲ میں گزر چکی ہے۔ فرعونیوں پر حضرت موسیٰؑ کا رعب: اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی درخواست حضرت ہارونؑ کے بارے میں منظور فرما لی اور ساتھ ہی ان کو یہ اطمینان بھی دلایا کہ تم خاطر جمع رکھو، ہم فرعونیوں پر تمھارا ایسا رعب و دبدبہ قائم کر دیں گے کہ وہ تم پر دست درازی کی جرأت نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان پہلے ہی مقابلے میں حضرت موسیٰؑ سے اتنے مرعوب ہو گئے کہ ان سے پیچھا چھڑانے کی دلی تمنا رکھنے اور اپنی تمام سطوت و طاقت کے باوجود ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کر سکے۔ اس کا بڑا سبب جو تورات کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے یہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان حضرت موسیٰؑ کو جھوٹا آدمی نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کو یقین تھا کہ یہ سچے آدمی ہیں۔ لیکن ان کی دعوت چونکہ ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آتی تھی اس وجہ سے اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ تاہم وہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو کوئی گزند پہنچایا تو ہماری خیر نہیں ہے۔ اس وجہ سے تمام عناد و مخاصمت کے باوجود انھوں نے ان کے قتل کی جرأت نہیں کی۔ تورات سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو وہ حضرت موسیٰؑ ہی سے درخواست کرتے کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ آفت ٹل جائے۔
    تو جب موسیٰ ان کے پاس ہماری نہایت واضح نشانیوں کے ساتھ آیا تو انھوں نے کہا، یہ تو محض گھڑا ہوا جادو ہے اور ہم نے اس طرح کی باتیں اپنے اگلوں میں تو سنی نہیں!
    حضرت موسیٰ ؑ کے معجزات اور ان کی دعوت کی مخالفت: جب حضرت موسیٰ ؑ ان روشن اور ناقابل تردید نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس آئے تو ان کے معجزات کو تو جادو کا کرشمہ قرار دیا اور ان کی دعوت توحید کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ یہ ہمارے آباء و اجداد کی روایات کے بالکل خلاف ہے۔ ’سِحْرٌ مُّفْتَرًی‘ یعنی حضرت موسیٰ ؑ یہ کرشمے دکھاتے تو ہیں اپنے جادو کے زور سے لیکن ہم پر رعب جمانے کے لیے جھوٹ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ یہ معجزے ہیں جو ان کو خدا کی طرف سے عطا ہوئے ہیں۔ ’مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِیْٓ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ‘ کا اشارہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت توحید کی طرف ہے۔ یعنی ان کا یہ دعویٰ کہ یہ رب العٰلمین کے رسول ہیں بالکل انوکھا اور نرالا دعویٰ ہے۔ ہم نے اپنے اگلوں سے کسی رب العٰلمین کا ذکر کبھی نہیں سنا۔ آگے آیت ۳۸ میں اس کی وضاحت آ رہی ہے۔ یہ بعینہٖ وہی بات ہے جو دوسرے مقامات میں ’’مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ‘ کے الفاظ میں گزر چکی ہے۔
    اور موسیٰ ؑ نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے دار آخرت کا انجام خیر ہے۔ ظالم ہر گز فلاح پانے والے نہیں بنیں گے۔
    مستقبل سے متعلق حضرت موسیٰ ؑ کا چیلنج: یہ مستقبل سے متعلق حضرت موسیٰ ؑ کا ان کو چیلنج ہے کہ تم لوگ مجھے مفتری قرار دے رہے ہو تو میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور کون لوگ جانتے بوجھتے اس کو جھٹلا رہے ہیں؟ کن کو انجام کار کی کامیابی حاصل ہونے والی ہے اور کون مغلوب و نامراد ہونے والے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے نہایت بلیغ اور شائستہ اسلوب میں یہ اعلان فرما دیا کہ میں اور میرے ساتھی ان شاء اللہ غالب و فتح مند رہیں گے اور تم لوگ ذلیل و خوار ہو کر رہو گے۔ یعنی یہ حقیقت بہرحال اپنی جگہ پر اٹل ہے کہ جو لوگ خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کی تکذیب کریں گے وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں اور یہ ظالم ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔ اسلوب کلام دلیل ہے کہ یہاں مقابل کا جملہ حذف ہے۔ ہم نے اس کی وضاحت کر دی ہے۔
    اور فرعون نے کہا، اے درباریو! میں تو تمہارے لیے اپنے سوا کسی اور معبود سے واقف نہیں تو اے ہامان! تم مٹی کی اینٹوں کا پزاوہ لگواؤ اور میرے لیے ایک اونچا محل بنواؤ کہ میں موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں، میں تو اس کو ایک جھوٹا آدمی خیال کرتا ہوں۔
    ’ھامان‘ کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ یہاں سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کو فرعون کے وزیراعظم یا کم از کم وزیر تعمیرات کی حیثیت حاصل تھی۔ فرعون کا استہزاء: ’اَوْقِدْ عَلَی الطِّیْنِ‘ کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ اینٹوں کا پزاوہ لگوا اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ مٹی کی عمارت بنوا کر اس پر آگ دہکا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نینوا اور مصر وغیرہ کی تعمیر کا یہ طریقہ معروف رہا ہے کہ مٹی کا مکان بنا کر اس پر خوب آگ دہکاتے جس سے دیواروں پر مینا کاری کی صورت پیدا ہو جاتی اور وہ بارش و ہوا کے اثرات سے بالکل محفوظ ہو جاتیں۔ ’لَّعَلِّیْٓ اَطَّلِعُ اِلٰٓی اِلٰہِ مُوْسٰی‘ میں ’اِلٰی‘ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں تضمین ہے۔ گویا پوری بات یوں ہے۔ ’لَّعَلِّیْٓ اَطَّلِعُ عَلی الصرح فانظر الی الہ موسٰی‘ ظاہر ہے کہ اس نے یہ بات محض حضرت موسیٰ ؑ کا مذاق اڑانے کے لیے کہی۔ سورۂ زخرف کی آیت ۴۷ سے بھی اس کی نوعیت محض مذاق و استہزاء ہی کی معلوم ہوتی ہے۔ فرعون نے پہلے تو اپنے درباریوں کو مخاطب کر کے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جس رب العالمین کے رسول بن کر وارد ہوئے ہیں مجھے تو اس رب العٰلمین کا کوئی علم نہیں ہے۔ تمھارا معبود اپنے سوا میں کسی کو نہیں سمجھتا۔ مطلب یہ ہے کہ اس فتنہ سے تم لوگ ہوشیار رہو۔ اس کے بعد ہامان سے مخاطب ہو کر اس نے کہا کہ اے ہامان، تم یہ کرو کہ اینٹوں کا پزاوہ لگوا کر ایک اونچی عمارت بنواؤ تاکہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ ؑ کے رب کو جھانک کر دیکھوں کہ وہ کہاں بیٹھا ہوا ہے! میں تو اس شخص کو بالکل جھوٹا سمجھتا ہوں۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ فراعنہ و متمردین بسا اوقات نہایت واضح حقائق کا اسی طرح مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے اندھے پیروکاروں کے لیے یہی مذاق دلیل بن جاتا ہے بلکہ کتنے احمق تو اس کے مذاق کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ فرعون کے پرستاروں کے لیے کچھ بعید بھی نہیں کہ وہ اس کو حقیقت سمجھے ہوں۔ اس لیے کہ اس کی حیثیت مصریوں کے نزدیک ان کے سب سے بڑے دیوتا ۔۔۔ سورج ۔۔۔ کے اوتار کی تھی۔ ایک اوتار کے لیے آسمانوں کے اطراف و جوانب میں جھانک لینا کیا مشکل ہے! سورۂ مومن میں اس کا یہ قول یوں نقل ہوا ہے: ’یٰھَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ o اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ‘ (المومن ۳۶۔۳۷) اے ہامان، میرے لیے ایک اونچی عمارت بنوا تا کہ میں آسمانوں کے اطراف میں پہنچوں) اس پہلو سے اس کی یہ بات اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کی ایک چال بھی ہوسکتی ہے۔  
    اور اس نے اور اس کی فوجوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ کیا اور انھوں نے گمان کیا کہ ان کو ہماری طرف لوٹنا نہیں ہے۔
    استکبار بغیر الحق: ’بَغْیٌ م بِغَیْرِ الْحَقِّ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ وہی مفہوم ’اِسْتِکْبَارٌ بِغَیْرِ الْحَقِّ‘ کا بھی ہے۔ اس زمین و آسمان میں استکبار کا حق صرف اس کو حاصل ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کے نظام کو چلا رہا ہے۔ جن کو نہ ان کے خلق میں کوئی دخل اور نہ جن کا ان کے تدبیر و انتظام میں کوئی حصہ اگر وہ اس میں اکڑیں اور اپنی ملکیت کے مدعی بن کر اٹھیں تو یہ ان کی شامت کی دلیل ہے۔ اس قسم کے استکبار کو اس کائنات کا خالق زیادہ مہلت نہیں دیتا۔ یہ امر بھی یہاں ملحوظ رہے کہ اس زمین کے بادشاہ حقیقی کے حکم و قانون کے خلاف کوئی قانون اس میں جاری کرنا بھی ’استکبار بغیر الحق‘ میں داخل ہے اور یہ ٹھیک ٹھیک اسوۂ فرعون کی پیروی ہے۔ ’وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ‘۔ یہ اس استکبار کی علت بیان ہوئی ہے کہ وہ اس وجہ سے اس میں مبتلا ہوئے کہ انھوں نے یہ گمان کیا کہ خدا نے ان کو شتر بے مہار بنا کر چھوڑا ہے اور ان کو اس کے سامنے کبھی جواب دہی کے لیے حاضر ہونا نہیں ہے۔
    تو ہم نے اس کو اور اس کی فوجوں کو پکڑا۔ پس ان کو سمندر میں پھینک دیا تو دیکھو، ظالموں کا انجام کیسا ہوا!
    استکبار کا انجام: یہ اس استکبار کا انجام بیان فرمایا کہ ہم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو پکڑا اور ان کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ ان کے پکڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو تدبیر اختیار فرمائی اس کی پوری تفصیل پچھلی سورتوں، بالخصوص سورۂ طٰہٰ کی تفسیر میں، گزر چکی ہے۔ ’فَانْظُرْ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ‘ یہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس کو واضح کرنے ہی کے لیے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی بھی ہے اور ان فرعونوں کے لیے تنبیہ و تذکیر بھی جو آنحضرتؐ اور آپؐ کی دعوت کے معاملے میں بالکل اسی روش پر چل رہے تھے جو روش حضرت موسیٰ ؑ کے مقابل میں فرعون اور اس کے اعوان و انصار نے اختیار کی تھی۔
    اور ہم نے ان کو دنیا میں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیشوا بنایا اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہ ہو گی۔
    ’جَعَلْنَا‘ یہاں ’اَمْھَلْنَا‘ کے مفہوم پر متضمن ہے جس کی مثالیں گزر چکی ہیں اور ’یَدْعُوۡنَ‘ سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔ یہ اسی اسکتبار کے انجام کی مزید تفصیل ہے کہ ہم نے دنیا میں ان کو ڈھیل دی اور وہ جہنم کی طرف دعوت دینے والے لیڈر بنے رہے اور قیامت کے روز ان کا حال یہ ہو گا کہ کسی طرف سے ان کی کوئی مدد نہیں ہو گی دنیا میں وہ جن کے امام و پیشوا بنے رہے وہ سب ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت ہو گی۔ نہ لیڈر پیرؤوں کے کچھ کام آ سکیں گے اور نہ پیرو لیڈروں کے۔
    اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے اور قیامت کے دن وہی خوار ہونے والوں میں سے ہوں گے۔
    جس دنیا میں وہ لیڈری اور پیشوائی کرتے رہے اور لوگوں سے اپنے نعرے لگواتے رہے، فرمایا کہ اس میں ہم نے ان کے پیچھے ہمیشہ کے لیے لعنت لگا دی اور آخرت میں بھی وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ یہی مضمون سورۂ ہود میں یوں بیان ہوا ہے: فَاتَّبَعُواْ أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ ۵ یَقْدُمُ قَوْمَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَوْرَدَہُمُ النَّارَ وَبِئۡسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوۡدُ ۵ وَأُتْبِعُوۡا فِیْ ہَذِہِ لَعْنَۃً وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِئۡسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوۡدُ (ھود: ۹۷-۹۹) ’’تو انھوں نے فرعون کی رائے کی پیروی کی اور فرعون کی رائے صائب نہ تھی۔ وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہو گا اور ان کو دوزخ کے گھاٹ پر اتارے گا اور کیا ہی برا ہو گا یہ گھاٹ! اور اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی، اور کیا ہی برا ہو گا یہ صلہ جو ان کو ملے گا!‘‘  
    اور ہم نے اگلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب عطا کی لوگوں کے لیے بصیرتیں بخشنے والی اور ہدایت و رحمت بنا کر تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔
    مظلوموں پر انعام: ظالموں کا انجام واضح کرنے کے بعد یہ اس فضل و انعام کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مظلوموں پر فرمایا۔ اور جس کی طرف اس سرگزشت کی تمہید میں ’وَنُرِیْدُ أَن نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوۡا ... الآیۃ‘ کے الفاظ سے اشارہ گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰؑ کو کتاب عطا کی۔ اس کتاب کی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت تھی۔ ’بصیرت‘ یعنی دل و دماغ کی صلاحیتیں اور تعقل و تفکر کی قوتیں پیدا کرنے والی اس کو بصورت جمع لانے سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ وہ ایسی آیات اور ایسے دلائل پر مشتمل تھی جو آنکھیں کھول دینے والی تھیں۔ ’ہُدًی وَرَحْمَۃً‘ کی وضاحت ہم کر چکے ہیں کہ یہ دونوں لفظ جب ساتھ ساتھ آتے ہیں تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ آغاز، یعنی اس دنیا کی زندگی میں، ہدایت اور انجام، یعنی آخرت کی زندگی میں رحمت۔ یہ واضح رہے کہ کسی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب و شریعت کا دیا جانا دنیا کی امامت و پیشوائی دیے جانے کے ہم معنی ہے بشرطیکہ وہ اس نعمت کی قدر کرے۔ بنی اسرائیل کو یہ نعمت سب سے پہلے دی گئی۔ یہاں ’مِنْ بَعْدِ مَا أَہْلَکْنَا الْقُرُوْنَ الْأُوۡلٰی‘ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ باقاعدہ کتابی شکل میں، اللہ کی یہ سب سے بڑی نعمت سب سے پہلے حضرت موسیٰؑ کے ذریعہ سے بنی اسرائیل ہی کو ملی انھوں نے اس کتاب کے ساتھ نہایت بے دردانہ سلوک کیا جس کی تفصیل سورۂ بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
    اور تم تو نہ پہاڑ کے جانب غربی میں موجود تھے جب کہ ہم نے موسیٰؑ کو اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا اور نہ تم انہی لوگوں میں تھے جو وہاں موجود تھے۔
    آنحضرتؐ کی رسالت کا اثبات: سرگزشت کے آخر میں یہ اور اس کے بعد کی دو آیتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں جن میں آپؐ کی نبوت کا اثبات ہے اور کلام کا رخ یہود کی طرف بھی ہے اور قریش کی طرف بھی۔ فرمایا کہ تم موسیٰؑ کو کتاب دیے جانے کے وقت نہ تو طور کے مغربی جانب ہی میں موجود تھے جب کہ ہم نے معاملہ کا فیصلہ کر کے اس سے موسیٰؑ کو آگاہ کیا اور نہ ان لوگوں کے ساتھ ہی موجود تھے جو اس وقت پہاڑ کے نیچے موسیٰ کی قوم میں سے تورات کے انتظار میں تھے۔ ’بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ‘ یعنی ’بجانب الطور الغربی‘۔ ’قَضَیْْنَا إِلٰی مُوۡسَی الْأَمْرَ‘۔ ’قَضَیْْنَا‘ یہاں ’عَھِدْنَا‘ کے مفہوم پر متضمن ہے جس طرح دوسرے مقام میں ’عَھِدْنَآ اِلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ‘ آیا ہے۔ ’وَمَا کُنۡتَ مِنَ الشَّاہِدِیْنَ‘ میں ’شَاہِدِیْنَ‘ سے مراد حضرت موسیٰؑ کی قوم کے لوگ ہیں۔ یہ اس وقت کی بات کا حوالہ ہے جب حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کو دامن کوہ میں چھوڑ کر، اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق تورات لینے، تنہا طور پر تشریف لے گئے ہیں۔ اس اثناء میں قوم، طور کے نیچے حضرت موسیٰؑ کا انتظار کرتی رہی اور اسی موقع پر سامری کا فتنہ پیش آیا ہے۔ تفصیل ان تمام واقعات کی پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ مقصود کلام یہ ہے کہ تورات دیے جانے کے وقت نہ تو تم حضرت موسیٰؑ کے ساتھ ہی موجود تھے اور نہ ان کی قوم ہی کے ساتھ تو آخر یہ ساری سرگزشت اس صحت و صداقت اور اس تفصیل کے ساتھ تمہیں کس طرح معلوم ہوئی؟ یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ اللہ نے ان باتوں سے تمہیں اپنی وحی کے ذریعہ سے آگاہ فرمایا اور تم اس کے رسول ہو۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ حضرت موسیٰؑ کی سرگزشت جس تفصیل اور جس صحت و صداقت کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئی ہے اس تفصیل و صحت کے ساتھ تورات میں نہیں بیان ہوئی ہے۔ اگر آپ سرگزشت کے اتنے ہی حصے کو لے کر، جتنی اس سورہ میں بیان ہوئی ہے، تورات کے بیان سے اس کا موازنہ کیجیے تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ قرآن کے بیان کے مقابل میں تورات کا بیان بے ربط اور محرف بھی ہے اور ان تمام ضروری اجزاء سے خالی بھی جو اس سرگزشت کی اصل روح ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس صحت و صداقت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح معلوم ہوئیں؟ اگر کوئی ہٹ دھرم یہ کہے کہ آپ نے یہ باتیں اہل کتاب سے سن کر نقل کیں تو یہ بالبداہت غلط ہے۔ جو شخص سنی سنائی بات نقل کرتا ہے وہ مشہور روایت کے مطابق نقل کرتا ہے نہ کہ اس سے بالکل مختلف۔ اور وہ بھی ایسی صحت و تنقید کے ساتھ کہ جو منصف بھی اس کو سنے پکار اٹھے کہ واقعہ کی اصل نوعیت یہ ہے جو قرآن نے بیان کی ہے نہ کہ وہ جو تورات کے راویوں نے پیش کی ہے۔ اگر طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں قرآن اور تورات دونوں کے بیانات کا مقابلہ کر کے دکھاتا کہ تورات میں سرگزشت کے اصل اجزاء یا تو غائب ہیں یا بالکل مسخ شدہ صورت میں ہیں۔ برعکس اس کے قرآن نے واقعہ کے تمام فطری اجزاء ایسے منطقی و ربط و تسلسل کے ساتھ پیش کیے ہیں کہ ان کی موعظت و حکمت آپ سے آپ دل میں اترتی جاتی ہے۔
    لیکن ہم نے بہت سی قومیں اٹھائیں تو ان پر ایک زمانہ گزر گیا (اور وہ ہماری یاددہانی کو بھلا بیٹھے تو ہم نے تم کو رسول بنایا کہ ان کو یاددہانی کرو) اور تم اہل مدین میں بھی ہماری آیتیں سناتے مقیم نہ تھے لیکن ہم تم کو ایک رسول بنانے والے تھے (سو ہم نے ان احوال سے تم کو باخبر کیا)۔
    اس آیت کے ابتدائی ٹکڑے کا تعلق اوپر والی آیت سے ہے یعنی تم ان احوال سے واقف نہیں تھے لیکن ہم نے تم کو واقف کیا۔ اور یہ اس لیے کیا کہ موسیٰؑ کے بعد ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں تو ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا اور لوگ ہماری اس کتاب کو بھلا بیٹھے جو ہم نے ان کو ہدایت و رحمت بنا کر عطا کی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہوا کہ ہم تمہارے ذریعہ سے اس ہدایت کو ازسرنو زندہ کریں۔ یہاں ’تَطَاوَلَ عَلَیْْہِمُ الْعُمُرُ‘ کے بعد ’فَنَسُوا الذِّکْرَ‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ بربنائے قرینہ محذوف ہیں۔ ’وَمَا کُنتَ ثَاوِیْاً فِیْٓ أَہْلِ مَدْیَنَ‘۔ یعنی جس طرح تم موسیٰؑ کو تورات دیے جانے کے وقت طور کے جانب غربی میں موجود نہیں تھے اسی طرح مدین میں بھی موجود نہ تھے کہ حضرت موسیٰؑ کے اس دور کے حالات سے واقف ہو سکتے جو انھوں نے مدین میں گزارا یا حضرت شعیبؑ کی دعوت اور ان کی قوم کے انجام سے واقف ہوتے۔ ان چیزوں میں سے تم کسی چیز سے بھی واقف نہ تھے لیکن ہم نے تم کو ان سے واقف کیا کہ جس طرح ہم نے پہلے رسول بھیجے اسی طرح تمہیں رسول بنائیں۔ ’کُنَّا مُرْسِلِیْنَ‘ اسی طرح کا اسلوب ہے جس طرح ’کُنَّا فَاعِلِیْنَ‘ ہے۔ یہ اسلوب کلام کسی فیصلۂ قطعی اور عزم جازم کے اظہار کے لیے آتا ہے۔ ’أَہْلِ مَدْیَنَ‘ کے بعد ’تَتْلُوْا عَلَیْْہِمْ آیَاتِنَا‘ کے اضافہ سے یہاں اشارہ حضرت شعیبؑ کی سرگزشت کی طرف بھی ہو گیا جو قرآن کی متعدد سورتوں میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں کے لوگوں پر انذار و تبشیر کا فرض انجام دینے پر تم تو مامور نہ تھے لیکن خدا نے تم کو وہاں کے حالات سے بھی باخبر کیا۔ یہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ تم سے بھی وہی کام لے جو تم سے پہلے مبعوث ہونے والے رسولوں سے اس نے لیا۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہ سمجھیں۔
    اور تم طور کے پہلو میں بھی موجود نہ تھے جب کہ ہم نے موسیٰؑ کو پکارا لیکن تم اپنے رب کی رحمت سے (مبعوث کیے گئے کہ) ایک ایسی قوم کو ہشیار کرو جن کے پاس تم سے پہلو کوئی ہشیار کرنے والا نہیں آیا تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔
    یعنی جس طرح تم مدین میں موجود نہ تھے اسی طرح تم طور کے پہلو میں بھی اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰؑ کو آواز دی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس آواز دینے کی طرف جس کا ذکر آیت ۳۰ میں گزرا ہے۔ ’فَلَمَّا أَتَاہَا نُودِیْ مِن شَاطِیءِ الْوَادِیْ الْأَیْْمَنِ۔ الایۃ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تم ان ساری باتوں سے بے خبر تھے لیکن رحمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ وہ تم کو رسول بنائے اس وجہ سے اس نے تم کو ان باتوں سے باخبر کیا اور یہ تمہاری رسالت کی نہایت واضح دلیلیں ہیں۔ ’رَحْمَۃً‘ سے پہلے ’اَرْسَلْنَاکَ‘ یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے۔ آنحضرتؐ کی بعثت کا مقصد: ’لِتُنذِرَ قَوْماً مَّا أَتَاہُم مِّن نَّذِیْرٍ مِّنۡ قَبْلِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوۡنَ‘۔ یہ آنحضرتؐ کے اصل مقصد بعثت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارا اہتمام اس لیے فرمایا کہ تم اس قوم کو انذار کرو۔ جس کے پاس اس سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔ یہ اشارہ بنی اسماعیل کی طرف ہے۔ یہ لوگ کتاب و شریعت سے بے خبر امّی تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ان کے اندر کسی رسول کی بعثت نہیں ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کے مطابق، جس کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں، ان کی ہدایت کے لیے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کو انہی کے اندر سے مبعوث فرمایا ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی رحمت ہے، جو ان پر نازل ہوئی ہے اگر یہ اس کی قدر کریں۔ اور اس کے اندر یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو یہ ان کے لیے بہت بڑی نقمت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اگر کوئی قوم خدا کے بھیجے ہوئے منذر کے انذار سے یاددہانی نہیں حاصل کرتی تو وہ تباہ کر دی جاتی ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List