Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الشعراء (The Poets)

    227 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ فرقان ۔۔۔ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ اس میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا اثبات ہے لیکن نہج استدلال اور اسلوب بیان اس کا سابق سورہ سے مختلف ہے۔
    سابق سورہ میں جن انبیائے کرام کی سرگزشتوں کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا گیا تھا اس میں ان کی تفصیل بیان کر دی گئی ہے۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کاہن اور شاعر ہونے کا جو الزام لگاتے تھے اس میں اس الزام کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے۔
    اس میں ہر پیرے کے بعد آیات ’اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۵ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَالْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ‘ بطور ترجیع آٹھ بار وارد ہوئی ہیں۔ اس ترجیع سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ آپؐ کی صداقت کے ثبوت کے لیے آپؐ سے کسی نشانئ عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اس میں خاص طورپر مخاطب ہیں۔ ان کو تاریخ کے حقائق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ رسولوں اور ان کے مکذبین کی تاریخ سے سبق لیں۔ ان لوگوں کی روش کی تقلید نہ کریں جو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔

  • الشعراء (The Poets)

    227 آیات | مکی

    الفرقان ۔ الشعراء

    ۲۵ ۔۲۶

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات رسالت اور اُس کے حوالے سے انذار وبشارت ہے۔ دوسری سورہ میں، البتہ اُن سرگذشتوں کی تفصیل کر دی گئی ہے جن کی طرف پہلی سورہ میں بالاجمال اشارہ فرمایا ہے۔ نیز کاہن اور شاعر ہونے کا جو الزام قریش مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے، اُس کی اِس سورہ میں خاص طور پر تردید کی گئی ہے۔

    دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو آپ کی صداقت کے ثبوت کے لیے اُس زمانے میں آپ سے بار بار عذاب کی کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دوسری سورہ میں آیت ترجیع اِسی حوالے سے وارد ہوئی ہے۔

    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 026 Verse 001 Chapter 026 Verse 002 Chapter 026 Verse 003 Chapter 026 Verse 004 Chapter 026 Verse 005 Chapter 026 Verse 006 Chapter 026 Verse 007 Chapter 026 Verse 008 Chapter 026 Verse 009
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ طٰسٓمّٓ ہے۔
    ’طٰسٓمّٓ‘ ہمار ے نزدیک مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ ہم نے ترجمہ میں یہ محذوف کھول دیا ہے۔ یعنی یہ سورۂ ’طٰسٓمّٓ‘ ہے۔
    یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔
    آفتاب آمد دلیل آفتاب! ’کتاب مبین‘ سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے جس نے نہایت فصیح و بلیغ زبان میں اپنی دعوت کے ہر پہلو کوگوناگوں اسلوبوں سے بالکل مدلل و مبرہن کر دیا ہے۔ قرآن کی اس صفت کے ذکر سے یہاں مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ آپ جو کتاب لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ اپنی صحت و صداقت کی خود سب سے بڑی دلیل ہے۔ کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں ہے اس وجہ سے جو لوگ اس کی تصدیق کے لیے کسی معجزہ یا نشانئ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا مطالبہ درخور اعتناء نہیں ہے، آپ اس کی پروا نہ کریں۔ آفتاب اپنی دلیل خود ہوتا ہے۔ اس پر خارج سے کوئی دلیل قائم نہیں کی جاتی۔
    شاید تم اپنے آپ کو اس فکر میں ہلاک کر کے رہو گے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے!
    دل نواز تسلی: وہی تسلی کا مضمون جو اوپر والی آیت میں مخفی تھا اس آیت میں نہایت دل نواز پیرائے میں واضح ہو گیا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے ارشاد ہوا ہے کہ ان لوگوں کا اس ’کتاب مبین‘ پر ایمان نہ لانا آپ کے دل پر اتنا شاق ہے کہ معلوم ہوتا ہے آپ اس غم میں اپنے کو ہلاک کر کے رہیں گے حالانکہ قصور نہ آپ کا ہے نہ اس کتاب کا، سارا قصور ان لوگوں کا خود اپنا ہے کہ ایک بالکل واضح حقیقت کو جھٹلانے کے لیے مختلف قسم کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ آپ کی ذمہ داری صرف تبلیغ ہے۔ اس کا حق آپ نے پورا پورا ادا کر دیا اور ادا کر رہے ہیں، پھر ایسے ناقدروں کے پیچھے آپ اپنے کو کیوں ہلکان کریں!
    اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں پس ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہی رہ جائیں۔
    عربیت کا ایک اسلوب: آیت میں بظاہر ’خٰضِعِیْنَ‘ کی جگہ ’خَاضِعَۃ‘ ہونا تھا لیکن ’اَعْنَاقُھُمْ‘ میں مضاف الیہ کی رعایت سے ’خٰضِعِیْنَ‘ آیا ہے۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔ اس کی بعض مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں۔ پیغمبرؐ کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے تہدید: اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کے ساتھ کفار کے لیے دھمکی بھی مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان لانے کے لیے کوئی نشانی دیکھنے ہی پر اڑے ہوئے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہمارے پاس نشانیوں کی کمی نہیں ہے۔ ہم جب چاہیں آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار سکتے ہیں جس کے آگے سب کی گردنیں جھک جائیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ سوچ سمجھ کر اپنے اختیار و ارادہ سے ایمان لائیں۔ ہمارے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جو اختیار و ارادہ کے ساتھ لایا جائے نہ کہ مجبور ہو کر۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تسلی ہے کہ جب ایمان کے باب میں سنت الٰہی یہ ہے تو آپ ان لوگوں کے مطالبات سے پریشان کیوں ہوں، ان کے معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں!
    اور ان کے پاس خدائے رحمان کی طرف سے جو تازہ یاددہانی بھی آتی ہے یہ اس سے اعراض کرنے والے ہی بنے رہتے ہیں۔
    دوا سے مریض کی بیزاری اور اس کا انجام: یہ ذرا مختلف الفاظ میں وہی مضمون ہے جو سورۂ فرقان کی آخری آیت میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکیر و تعلیم کے اس سارے اہتمام سے، جو رب رحمان نے ان کے لیے کیا، مقصود یہی تھا کہ یہ لوگ سوچیں سمجھیں اور زندگی کی صحیح روش اختیار کریں لیکن ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جتنی ہی ان کے علاج کی تدبیر کی گئی اتنی ہی دوا اور طبیب سے ان کی نفرت بڑھتی گئی۔ اللہ نے تازہ بتازہ، نو بنو اسلوبوں سے ان کو یاددہانی کی لیکن وہ اعراض کرنے والے ہی بنے رہے اور قرآن و رسول دونوں کا انھوں نے مذاق اڑایا۔ ان کی اس روش کے بعد اب ان کے لیے اس کے سوا کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ جس قرآن کا انھوں نے اب تک مذاق اڑایا ہے، اس نے جن نتائج سے ان کو خبردار کیا ہے وہ ایک ایک کر کے ان کے سامنے آئیں، چنانچہ وہ ان کے سامنے آئیں گے۔
    سو انھوں نے جھٹلا دیا تو جس چیز کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں اب اس کی تنبیہات ان کے آگے ظاہر ہوں گی۔
    دوا سے مریض کی بیزاری اور اس کا انجام: یہ ذرا مختلف الفاظ میں وہی مضمون ہے جو سورۂ فرقان کی آخری آیت میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکیر و تعلیم کے اس سارے اہتمام سے، جو رب رحمان نے ان کے لیے کیا، مقصود یہی تھا کہ یہ لوگ سوچیں سمجھیں اور زندگی کی صحیح روش اختیار کریں لیکن ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جتنی ہی ان کے علاج کی تدبیر کی گئی اتنی ہی دوا اور طبیب سے ان کی نفرت بڑھتی گئی۔ اللہ نے تازہ بتازہ، نو بنو اسلوبوں سے ان کو یاددہانی کی لیکن وہ اعراض کرنے والے ہی بنے رہے اور قرآن و رسول دونوں کا انھوں نے مذاق اڑایا۔ ان کی اس روش کے بعد اب ان کے لیے اس کے سوا کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ جس قرآن کا انھوں نے اب تک مذاق اڑایا ہے، اس نے جن نتائج سے ان کو خبردار کیا ہے وہ ایک ایک کر کے ان کے سامنے آئیں، چنانچہ وہ ان کے سامنے آئیں گے۔
    کیا انھوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی! ہم نے اس میں کتنی نوع بنوع کی فیض بخش چیزیں اگا رکھی ہیں!
    ’زَوْجٍ‘ کے معنی قسم اور نوع کے ہیں۔ ’مِنْ کُلِّ زَوْجٍ‘ یعنی نوع بنوع چیزیں۔ ’کَرِیْمٍ‘ یہاں فیض بخش اور منفعت رساں کے مفہوم میں ہے۔ اہل عرب انگور کو ’کرم‘ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ نام انھوں نے انگور کی غایت درجہ منفعت رسانی ہی کی وجہ سے رکھا۔ زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ: آیت کا مطلب یہ ہے کہ آخر یہ لوگ آسمان سے اترنے والی کسی نشانئ عذاب ہی کے منتظر کیوں ہیں، اس زمین پر پھیلی ہوئی ان گوناگوں نعمتوں کو کیوں نہیں دیکھتے جن کو رب رحیم و کریم نے اسی لیے پیدا کیا ہے کہ لوگ ان سے فائدہ بھی اٹھائیں اور بصیرت و یاددہانی بھی حاصل کریں!
    اس میں بے شک بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
    یعنی اگر یہ کسی نشانی ہی کے طالب ہیں تو اس سے بڑی نشانی اور کیا چاہیے! یہاں ان تمام دلائل توحید قیامت و جزا کو ذہن میں مستحضر کر لیجیے جو قرآن میں تفصیل سے مذکور ہوئے ہیں اور جن کی شہادت میں قرآن نے زمین کی انہی نعمتوں اور برکتوں کا حوالہ دیا ہے۔ آگے سورۂ لقمان کی آیت ۱۱۰ اور سورۂ سجدہ کی آیت ۲۷ کے تحت اس مضمون کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔ ’وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ یعنی یہ بات نہیں کہ نشانیوں کی کمی ہے۔ نشانیوں سے تو اس زمین کا چپہ چپہ معمور ہے لیکن جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے ان کا کیا علاج!
    اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے، مہربان بھی۔
    خدائے عزیز و رحیم کی سنت امہال: ’وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ‘۔ یہ وہی اوپر والی بات اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کی روشنی میں واضح فرمائی ہے کہ تمہارا خداوند عزیز بھی ہے اور ساتھ ہی رحیم بھی۔ ’عَزِیْزٌ‘ یعنی غالب، وہ جو چاہے کر سکتا ہے کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ اگر وہ ان پر فوراً کوئی عذاب نازل کر دے تو کوئی اس کی پکڑ سے ان کو بچا نہ سکے گا، لیکن وہ رحیم بھی ہے اس وجہ سے عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا کہ جو لوگ توبہ اور اصلاح کرنی چاہیں وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر کر لیں اور اس کی رحمت کے سزاوار بن جائیں۔ یہاں مبتدا کے اعادہ سے مقصود خاص طور پر ان صفات پر زور دینا اور لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرنا ہے اس لیے کہ خدا کی ان صفات کو مستحضر نہ رکھنے ہی کے باعث نادانوں کو یہ مغالطہ پیش آیا کہ وہ خدا کی ڈھیل کو اپنے رویہ کی صحت و صداقت کی دلیل سمجھ بیٹھے اور نہایت غرور کے ساتھ ان لوگوں کا مذاق اڑایا جنھوں نے ان کو اصلاح کی دعوت دی ۔۔۔ یہ آیات اس سورہ میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، بار بار آئیں گی اس وجہ سے ان کے مفہوم کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے تاکہ آگے اس کے اعادے کی ضرورت نہ پیش آئے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List