Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الفرقان (The Criterion, The Standard)

    77 آیات | مکی

    سورتوں کے چوتھے گروپ پر ایک اجمالی نظر

    سورۂ فرقان سے سورتوں کا چوتھا گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس میں آٹھ سورتیں ۔۔۔ فرقان، شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ ۔۔۔ مکی ہیں، آخر میں صرف ایک سورہ ۔۔۔ احزاب ۔۔۔ مدنی ہے۔ سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کا اصول دوسرے گروپوں کی طرح اس میں بھی مَرعی ہے۔ البتہ سورۂ احزاب کی حیثیت خلاصۂ بحث یا سورۂ نور کی طرح تکملہ و تتمہ کی ہے۔ اسلامی دعوت کے تمام ادوار ۔۔۔ دعوت، ہجرت، جہاد ۔۔۔ اور تمام بنیادی مطالب ۔۔۔ توحید، رسالت، معاد ۔۔۔ اس میں بھی زیربحث آئے ہیں البتہ اسلوب، انداز اور مواد استدلال دوسرے گروپوں سے اس میں فی الجملہ مختلف نظر آئے گا۔
    اس گروپ کا جامع عمود اثبات رسالت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے خلاف قریش اور ان کے حلیفوں نے جتنے اعتراضات و شبہات اٹھائے اس گروپ کی مختلف سورتوں میں، مختلف اسلوبوں سے، ان کے جواب بھی دیے گئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کا اصل مرتبہ و مقام بھی واضح فرمایا گیا ہے۔ اسی کے ضمن میں قرآن پر ایمان لانے والوں کو، مرحلۂ امتحان سے گزرنے کے بعد، دنیا اور آخرت دونوں میں، فوز و فلاح کی بشارت دی گئی ہے اور جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے رہیں گے، اتمام حجت کے بعد، ان کو ان کے انجام سے آگاہ کیا گیا ہے۔

    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا عمود قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع ہے۔ مخالفین نے جو شبہات و اعتراضات، قرآن اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اٹھائے وہ اس میں نقل کر کے ان کے جواب دیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی مخالفین کے اعتراض و انکار کے اصل محرکات کا بھی پتہ دیا گیا ہے اور قرآن کی جن باتوں سے وہ خاص طور پر متوحش تھے مثلاً دعوت توحید یا انذار عذاب، وہ مزید دلائل سے مبرہن کی گئی ہیں۔

  • الفرقان (The Criterion, The Standard)

    77 آیات | مکی

    الفرقان ۔ الشعراء

    ۲۵ ۔۲۶

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات رسالت اور اُس کے حوالے سے انذار وبشارت ہے۔ دوسری سورہ میں، البتہ اُن سرگذشتوں کی تفصیل کر دی گئی ہے جن کی طرف پہلی سورہ میں بالاجمال اشارہ فرمایا ہے۔ نیز کاہن اور شاعر ہونے کا جو الزام قریش مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے، اُس کی اِس سورہ میں خاص طور پر تردید کی گئی ہے۔
    دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو آپ کی صداقت کے ثبوت کے لیے اُس زمانے میں آپ سے بار بار عذاب کی کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دوسری سورہ میں آیت ترجیع اِسی حوالے سے وارد ہوئی ہے۔

    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 025 Verse 001 Chapter 025 Verse 002 Chapter 025 Verse 003 Chapter 025 Verse 004 Chapter 025 Verse 005 Chapter 025 Verse 006 Chapter 025 Verse 007 Chapter 025 Verse 008 Chapter 025 Verse 009
    Click translation to show/hide Commentary
    بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کر دینے والی کتاب اتاری تا کہ وہ اہل عالم کے لیے ہوشیار کر دینے والا بنے!
    قرآن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے: جس طرح ’تعاظم‘ اور ’تعالیٰ‘ اور اس باب کے دوسرے صیغوں کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے اسی طرح ’تبارک‘ کے اندر بھی مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی بڑی ہی بابرکت اور بافیض ہستی ہے وہ جس نے لوگوں کے انذار کے لیے، اپنے بندے پر، ایک ایسی کتاب اتاری جو حق اور باطل کے درمیان امتیاز کے لیے ایک حجت قاطع کی حیثیت رکھتی ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس نعمت کی قدر اور اس کتاب کی روشنی میں اپنی گمراہیوں کی اصلاح کریں، طرح طرح کے اعتراضات اٹھا کر اس کی مخالفت اور اللہ کے رسول سے کسی معجزے یا کسی نشانئ عذاب کا مطالبہ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تواس کتاب کے بجائے وہ اپنے رسول کو کسی تازیانۂ عذاب سے مسلح کر کے بھی بھیج سکتا تھا، اس کے لیے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں تھا، لیکن اس نے اپنی عظیم مہربانی کی وجہ سے یہ پسند فرمایا کہ وہ لوگوں کو ایک ایسی روشنی دکھائے جو لوگوں کو پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کر کے فوز و فلاح کی راہ سعادت کی طرف رہنمائی کرے۔ قرآن کو ’فرقان‘ کے لفظ سے تعبیر کر کے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب اپنے دعاوی اور اپنے پیش کرنے والے کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے بجائے خود دلیل و حجت ہے، یہ کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو رسول کے ہاتھوں تقسیم ہونے والی اس نعمت عظمیٰ سے متمتع ہونے کے بجائے اس سے ایسی چیزوں کا مطالبہ کریں جو ان کے لیے خیر کے بجائے تباہی کا باعث ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خاص برمحل التفات: ’عَلٰی عَبْدِہٖ‘ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خاص التفات پایا جاتا ہے۔ اس التفات کا یہاں ایک خاص محل ہے۔ آگے کفار کے وہ اعتراضات نقل ہوئے ہیں جو وہ نہایت تحقیر آمیز انداز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے تھے۔ یہ اعتراضات زیادہ تر مکہ اور طائف کے دولت مندوں کے اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ اپنی مالی برتری کے گھمنڈ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی اسباب و وسائل سے بے تعلقی پر خاص طور پر چوٹیں کرتے اور اس چیز کو آپؐ کی رسالت کی تردید کی ایک بہت بڑی دلیل کی حیثیت سے پیش کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں مستکبرین کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندۂ خاص پر ’فرقان‘ کی شکل میں جو نعمت عظمیٰ اتاری ہے اس کے بعد وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ خلق کے انذار کے وہ جس مشن پر مامور ہے اس کی تکمیل کے لیے وہ جس زاد و راحلہ کا محتاج ہے وہ سب بدرجۂ کمال اس کے پاس موجود ہے۔ یہ آیت اس سورہ کی تمہید ہے۔ اس کے یہ مضمرات جو ہم نے واضح کیے ہیں وہ آگے کے مباحث سے ان شاء اللہ مزید واضح ہو جائیں گے۔
    وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس نے اپنے لیے کوئی اولاد نہیں بنائی اور اس کی بادشاہی میں کوئی اس کا ساجھی نہیں اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کا ایک خاص اندازہ ٹھہرایا۔
    قرآن کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خالق کائنات کا فرمان واجب الاذعان ہے: اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی فیض بخشی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اب یہ اپنی توحید اور کبریائی و یکتائی کا حوالہ دیا ہے جس سے مقصود حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جس نے خلق کے انذار و تذکیر کے لیے یہ کتاب اتاری ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے؛ اس وجہ سے کوئی اس کتاب کو کسی سائل کی درخواست نہ سمجھے بلکہ یہ اس کائنات کے بادشاہ حقیقی کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اگر اس کی تکذیب کی گئی تو جس نے اس کو اتارا ہے وہ اس کی تکذیب کا انتقام لینے کے لیے کوئی کمزور ہستی نہیں ہے۔ وہ اس کا انتقام لے گا اور جب انتقام لے تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہ بن سکے گا۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ: ’وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ‘۔ یعنی اگر کسی نے اس کے بیٹے بیٹیاں فرض کر کے ان کی عبادت شروع کر رکھی ہے اور اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ اس کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو وہ اس خیال خام کو دل سے نکال دے۔ نہ خدا کے کوئی بیٹی ہے نہ بیٹا، نہ اس کی بادشاہی میں کوئی اور ساجھی ہے۔ وہ اپنی بادشاہی کا یکہ و تنہا مالک ہے، وہ کسی مددگار و شریک کا محتاج نہیں ہے۔ خدا کی یکتائی کی دلیل: ’وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّّرَہٗ تَقْدِیْرًا‘۔ یہ اس کی توحید و یکتائی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا دیا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کے ٹھہرائے ہوئے اندازہ سے سرمو کم و بیش یا آگے پیچھے ہو سکے۔ انسان کو پیدا کیا تو اس کے لیے زندگی اور موت کی ایک حد معین کر دی، کوئی اس حد سے باہر نہیں نکل سکتا۔ ابر و ہوا سب اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے پابند ہیں۔ سورج اور چاند، جن کو نادانوں نے معبود بنا کر پوجا، ایک مخصوص محور و مدار کے ساتھ لگے بندھے ہوئے اور اپنے وجود سے شہاد ت دے رہے ہیں کہ وہ ایک خدائے عزیز و حکیم کے پیدا کیے ہوئے اور اسی کے مقرر کیے ہوئے حدود و قیود کے پابند ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف دوسرے مقام میں یوں توجہ دلائی ہے: وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّھَا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ (یٰسٓ: ۳۸) ’’اور سورج اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے۔ یہ خدائے عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے!‘‘ اس سے زیادہ وسیع الفاظ میں یہی بات یوں فرمائی گئی ہے: وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُہٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (الحجر:۲۱) ’’اور ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے موجود ہیں لیکن ہم ان کو ایک خاص اندازے ہی کے ساتھ اتارتے ہیں۔‘‘  
    اور لوگوں نے اس کے سوا دوسرے معبود بنائے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، وہ خود مخلوق ہیں اور جو خود اپنے لیے بھی نہ کسی ضرر پر اختیار رکھتے ہیں نہ کسی نفع پر اور نہ ان کو موت پر کوئی اختیار ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر۔
    یہ اسی مضمون کی توضیح مزید ہے اور اس میں اظہار تعجب کا مضمون بھی مضمر ہے کہ اصل حقیقت تو یہ ہے جو بیان ہوئی لیکن قرآن اور رسول کے ان مخالفین کا حال یہ ہے کہ انھوں نے خدا کے سوا ایسی چیزوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے جو نہ صرف یہ کہ کسی چیز کو پیدا کر سکنے پر قادر نہیں بلکہ وہ خود خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ اور جو دوسروں کو کوئی نقصان یا نفع پہنچانا تو درکنار، خود اپنے کو بھی کسی نقصان سے بچانے یا کوئی نفع پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتی ہیں اور جن کو نہ موت پر کوئی اختیار، نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر! ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے بے بس فرضی معبودوں کے بل پر قرآن کے پیش کردہ حقائق کو جھٹلانا محض ان کی خرد باختگی ہے۔
    اور کافر کہتے ہیں کہ یہ محض جھوٹ ہے جس کو اس شخص نے گھڑا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے ظلم اور جھوٹ دونوں باتوں کا ارتکاب کیا!
    قرآن سے عوام کو بدگمان کرنے کے لیے قریش کے لیڈروں کا پروپیگنڈا: یہ مخالفین کے وہ اقوال نقل ہو رہے ہیں جو قرآن اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لیے وہ پھیلاتے تھے۔ ہم دوسرے مقام میں یہ ذکر کر چکے ہیں کہ جہاں تک قرآن کے زور بیان اور اس کی تاثیر و تسخیر کا تعلق ہے اس کے انکار کی تو قریش کے لیڈروں کے اندر ہمت نہیں تھی۔ اس کے اعتراف پر تو وہ مجبور تھے۔ البتہ یہ کوشش ان کی تھی کہ ان کے عوام پر قرآن کے کتاب آسمانی ہونے کا تصور جو بیٹھتا جا رہا ہے وہ بیٹھنے نہ پائے بلکہ وہ اس کو اسی درجہ میں رکھیں جس درجہ میں اعلیٰ شاعروں یا زور دار خطیبوں کا کلام رکھا جاتا ہے۔ ان کو اصلی کد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے رسالت اور قرآن کے وحی الٰہی ہونے سے تھی۔ اس کی تردید میں وہ یہ کہتے تھے کہ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کا دعویٰ جو کیا جاتا ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔ یہ وحی الٰہی نہیں بلکہ (نعوذ باللہ) یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اپنے ذہن کا گھڑا ہوا کلام ہے جس کو وہ جھوٹ موٹ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر تے ہیں تاکہ اس طرح ہم پر اپنی برتری کی دھونس جمائیں۔ ’وَاَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ‘۔ اپنی بات کو مدلل کرنے کے لیے ایک اور جھوٹ اس کے ساتھ وہ یہ لگا دیتے کہ اس کتاب کی تصنیف میں کچھ دوسرے لوگوں کے ذہن بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ شریک ہیں۔ اس اضافے کی ضرورت اس وجہ سے انھوں نے محسوس کی ہو گی کہ قرآن میں پچھلے انبیاؑء کی سرگزشتوں اور ان کی تعلیمات کے حوالے بھی تھے جن کے جاننے کا آحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔ ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اگر یہ وحی الٰہی نہیں ہے تو آخر یہ باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح معلوم ہو گئیں اور وہ بھی ایسی تفصیل اور صحت کے ساتھ کہ پچھلے صحیفوں پر ایمان کے مدعیوں کو بھی اس کی تفصیل و صحت کے ساتھ معلوم نہیں تھیں۔ اس سوال کے جواب میں انھوں نے اس کے ساتھ اس جھوٹ کا بھی اضافہ کر دیا کہ کچھ دوسرے ہاتھ بھی اس سازش میں شریک ہیں۔ مخالفین کے اس قول میں جو ابہام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب الزام جھوٹا ہو تو اس کے لیے ابہام ہی کا اسلوب موزوں ہوتا ہے۔ اگر اس کے لیے تصریح کا اسلوب اختیار کیا جائے تو اس کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔ مخالفین کا یہ اشارہ کن لوگوں کی طرف تھا؟ اس سوال کے جواب میں ہمارے مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس ابہام کا مبہم رہنا ہی ٹھیک ہے اس لیے کہ الزم لگانے والوں کا مقصد ایک الزام لگانا تھا نہ کہ فی الواقع کسی شخص یا اشخاص کا سراغ دینا۔ قریش نے اس مبہم الزام سے اپنے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہو گی کہ قرآن میں آسمانی کتابوں کے انداز کی جو باتیں اور حکمتیں ہیں ان کو وحی کا نتیجہ نہ سمجھو بلکہ بعض اہل کتاب یا دوسری قوموں کے تعلیم یافتہ اشخاص جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی بن گئے ہیں وہ ان کو اس طرح کی باتیں بتاتے ہیں اور وہ ان کو اپنے فصیح و بلیغ الفاظ میں ہمارے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ان کے اوپر فرشتہ وحی لایا ہے۔ اس مسئلہ پر سورۂ نحل کی آیت ۱۰۳ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔ ’ظُلْم‘ اور ’زُوْر‘ کا مفہوم: ’فَقَدْ جَآءُ وْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا‘۔ ’جَآءُ وْ‘ یہاں مرتکب ہونے کے مفہوم میں ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ ’ظُلْم‘ سے مراد ان کا وہ شرک ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے اور ’زُوْر‘ سے اشارہ ان کے اس قول کی طرف ہے جو قرآن کے باب میں نقل ہوا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ شرک کے ظلم عظیم کے بھی مرتکب ہوئے اور ساتھ ہی قرآن کی مخالفت میں ایک بہت بڑے جھوٹ کے بھی ۔۔۔ یہ کہہ کر بات ختم کر دی ہے۔ اس کے نتیجے کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ اس ڈھٹائی کے ساتھ اتنے بڑے بڑے جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں، اندازہ کر لو کہ وہ کس انجام کے مستحق ہیں!
    اور کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کے فسانے ہیں جو اس نے لکھوائے ہیں تو وہ اس کو صبح اور شام لکھ کر تعلیم کیے جاتے ہیں۔
    ’اکْتَتَبَ فُلَان‘ کا صحیح مفہوم لغت میں یہ ہے کہ ’سأل ان یکتب لہ‘ اس نے درخواست کی کہ اس کے لیے لکھ دیا جائے۔ ’تملٰی‘ کے بعد ’علٰی‘ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ ’تلقٰی علیہ‘ یا ’تقرء علیہ‘ کے مضمون پر متضمن ہے۔ اس وجہ سے اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ اس کو لکھوائے جاتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ اس کو لکھ کر تعلیم کیے جاتے ہیں۔ یہاں یہ دوسرے معنی میں ہے، اس لیے کہ قریش جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُمی ہیں۔ آپ لکھنا نہیں جانتے۔ قریش کی طرف سے آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش: یہ اوپر والے الزام ہی کی مزید وضاحت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن میں ہے کیا؟ محض اگلوں کے فسانے ہیں جو اس میں دہرائے گئے ہیں! اس شخص نے کچھ لوگوں سے یہ فرمائش کی کہ اس کے لیے یہ لکھ دیے جائیں چنانچہ وہ صبح و شام اس کے لیے لکھتے ہیں اور یہ شخص انہی کی لکھی ہوئی چیزوں کو ہمارے سامنے وحی الٰہی کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تو اس کتاب میں کوئی ایسی حکمت ہے جس سے مرعوب ہوا جائے اور نہ اس کے پیش کرنے والے کا یہ دعویٰ ہی صحیح ہے کہ یہ وحی آسمانی ہے جو اضطراراً اس کے اوپر نازل ہوتی ہے بلکہ پچھلی قوموں اور پچھلے نبیوں کے کچھ جھوٹے سچے قصے ہیں جو اس شخص نے فرمائش کر کے دوسرے لوگوں سے لکھوائے ہیں۔ اس طرح انھوں نے قرآن کی حکمت کے اثر کو بھی مٹانے کی کوشش کی اور اس کے وحی آسمانی ہونے کے دعوے کو بھی مشتبہ کرنا چاہا لیکن ظاہر ہے کہ ان کی یہ کوشش آفتاب پر خاک ڈالنے کے ہم معنی تھی۔ قرآن نے تاریخ جس حکمت کے ساتھ پیش کی تھی اس کی زد براہ راست متمردین قریش کے غرور پر پڑتی تھی اور اس کے آئینہ میں ان کو اپنا مستقبل نہایت بھیانک نظر آتا تھا اس وجہ سے وہ جھلا کر اس کو ماضی کا افسانہ کہتے تھے لیکن حقیقت کو افسانہ کہہ کر نہ اپنے ہی دل کو تسلی دی جا سکتی ہے نہ دوسروں ہی کو دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اگر ایک سلمان فارسیؓ اور ایک ابو فکیہہ رومیؓ یا دو چار اہل کتاب مل کر قریش کے زعم کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن جیسی معجز کتاب تصنیف کر سکتے تھے تو قریش کے پاس تو ہزاروں عربی و عجمی اور لاکھوں اہل کتاب تھے، آخر انھوں نے ان کی مدد سے ایک قرآن تیار کر کے کیوں نہ پیش کر دیا کہ اس کے معجزہ ہونے کا دعویٰ باطل ہو جاتا! لیکن جب وہ قرآن کی مسلسل تحدی کے باوجود اس کی کوئی نظیر نہ پیش کر سکے تو ان کی اس مہمل بات کو کون باور کر سکتا تھا کہ یہ عظیم کتاب بعض عجمیوں یا بعض اہل کتاب کی ایجاد ہے۔ چونکہ یہ بات بالبداہت مہمل تھی اس وجہ سے قرآن نے اس کی تردید کی ضرورت نہیں سمجھی۔ آگے والی آیت میں صرف اصل حقیقت کا اظہار فرما دیا جس میں ان بوالفضولیوں کی اس بوالفضولی پر ایک لطیف طنز بھی ہے۔
    ان سے کہہ دو کہ اس کو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید کو جانتا ہے۔ بے شک وہ بڑا ہی غفور رحیم ہے!
    معترضین پر ایک لطیف طنز اور ان کو تنبیہ: فرمایا کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ اس کتاب کو اتارنے والا وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کے سارے بھیدوں اور تمام اسرار و رموز سے خود اچھی طرح باخبر ہے۔ وہ اس کی تصنیف میں کسی عربی و عجمی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ کوئی کتنا ہی بڑا عالم و حکیم ہو وہ اس کتاب سے بصیرت و رہنمائی تو حاصل کر سکتا ہے لیکن اس طرح کی کتاب تصنیف کرنا تو درکنار، وہ اس کے علم و حکمت میں کوئی اضافہ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت اس کتاب کی سطر سطر سے واضح ہے کہ اس کا اتارنے والا وہی ہے جو اس کائنات کے تمام بھیدوں سے واقف اور اس کے ظاہر و باطن اور آغاز و انجام ہر چیز سے باخبر ہے چنانچہ اس نے ماضی کی عبرتیں بھی سامنے رکھ دی ہیں، حاضر کی ذمہ داریاں بھی واضح کر دی ہیں اور مستقبل کے نتائج سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔ ’اِنَّہٗ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا‘ یعنی وہ چونکہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اس وجہ سے اس نے یہ کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ جو لوگ توبہ و اصلاح کرنا چاہیں وہ توبہ و اصلاح کر کے اس کی رحمت کے مستحق بن جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اتارنے کو تو عذاب بھی اتار سکتا ہے۔ وہ حق کے دشمنوں کے رویہ سے اچھی طرح باخبر ہے لیکن وہ اپنی رحمت کے سبب سے عذاب میں جلدی نہیں کرتا بلکہ چاہتا ہے کہ لوگ ہدایت کی راہ اختیار کریں تاکہ اس کی مغفرت کے سزاوار ہوں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ بہرحال وہ سارے حالات و معاملات سے اچھی طرح واقف ہے۔ اگر لوگوں نے صحیح روش نہ اختیار کی تو اس کا جو انجام ہونا ہے وہ بھی سامنے آ کے رہے گا۔
    اور کہتے ہیں کہ کیا بات ہے اس رسول کی کہ یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے! اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ وہ اس کے ساتھ لوگوں کو ڈرانے والا بنتا!
    یہ مخالفین کے بعض اور اعتراضات کا حوالہ دیا ہے۔ معترضین کے بعض اور اعتراضات رسولؐ پر: ’مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ‘ کے اسلوب میں استعجاب اور طنز و استہزا دونوں ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ خوب رسول ہیں کہ اللہ کے رسول ہونے کے مدعی ہیں اور حال یہ ہے کہ ہمارے ہی طرح یہ بھی کھانے پینے کے محتاج ہیں اور اپنی ضروریات و مایحتاج کی فراہمی کے لیے ہما شما کی طرح یہ بھی بازاروں میں پھرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر خدا کو کوئی رسول ہی بھیجنا ہوتا تو کیا ہمارے ہی جیسے ایک بشر کو رسول بناتا، آخر اس کے پاس فرشتوں کی ایک فوج ہے ان میں سے کسی کو اس نے رسول بنا کر کیوں نہ بھیجا۔ ’لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا‘۔ یعنی اگر کسی بشر ہی کو رسول بنایا تھا تو کم از کم یہ تو ہونا تھا کہ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو ساتھ ساتھ منادی کرتا پھرتا کہ لوگو، یہ اللہ کے رسول ہیں، یہ جس چیز سے ڈرا رہے ہیں اس سے ڈرو۔
    یا اس کے لیے کوئی خزانہ اتارا جاتا یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ اپنی معاش حاصل کرتا! ۔۔۔ اور ان ظالموں نے کہا کہ تم لوگ تو بس ایک سحرزدہ شخص کے پیچھے لگ لیے ہو!
    یا آسمان سے ان کے لیے کوئی خزانہ اتار دیا جاتا یا ان کے پاس کوئی شان دار باغ ہوتا جس سے یہ اپنی معاش حاصل کرتے اور عام آدمیوں کی طرح ان کو بازاروں میں جوتیاں چٹخاتے نہ پھرنا پڑتا! مطلب یہ ہے کہ جب ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو آخر ہم ان کو اللہ کا رسول کس طرح مان لیں! ’وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا‘ یعنی مذکورہ بالا اعتراضات کے بعد یہ ظالم لوگ مسلمانوں کو خطاب کر کے یہ کہتے ہیں کہ اگر تم لوگوں نے ایک ایسے شخص کو رسول مان لیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم لوگ ایک ایسے شخص کے پیرو بن گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر کے اس کی عقل کو مختل کر دیا ہے جس کے سبب سے وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
    دیکھو، تمہارے اوپر کیسی کیسی پھبتیاں چست کر رہے ہیں! پس یہ بالکل کھوئے گئے ہیں اور کوئی راہ نہیں پا رہے ہیں۔
    معترضین کی حواس باختگی: یہ آیت بعینہٖ سورۂ بنی اسرائیل میں بھی گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت ۴۸۔ وہاں ہم واضح کر چکے ہیں کہ ’ضرب مثل‘ کا محاورہ جس طرح کوئی تمثیل بیان کرنے یا کوئی حکمت کی بات کہنے کے لیے آتا ہے اسی طرح کسی پر اعتراض کرنے یا اس پر پھبتی چست کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ اعتراض باطل کے مفہوم میں یہ لفظ آگے اسی سورہ کی آیت ۳۳ میں بھی استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ پھبتی یا اعتراض ہی کے مفہوم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخالفین کی مذکورہ بالا خرافات نقل کرنے کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا کہ دیکھو، یہ تمہارے اوپر کیسی کیسی پھبتیاں چست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی بات بنتی نظر نہیں آتی ہے تو جس کے منہ میں جو آتا ہے وہی بک دیتا ہے۔ ’فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا‘۔ یعنی مخالفت کے جنون میں بالکل کھوئے گئے ہیں۔ اعتراض کی کوئی راہ نہ پا رہے ہیں، نہ پا سکیں گے۔ محض اپنے دل کا بخار نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس طرح یہ حقیقت کو کب تک جھٹلا سکیں گے! یہ امر ملحوظ رہے کہ جب کوئی شخص کسی سچی بات کی دیدہ و دانستہ مخالفت کرتا ہے تو وہ اسی طرح کی حواس باختگی کا مظاہرہ کرتا ہے جس طرح کی حواس باختگی ان اعتراضات کے اندر پائی جاتی ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List