Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • النور (The Light)

    64 آیات | مدنی

    سورہ کا محل و مقام، عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ اس گروپ کی آخری سورہ ہے ۔۔۔ یہ مدنی ہے۔ اس کی حیثیت سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ مومنون ۔۔۔ کے تکملہ اور تتمہ کی ہے اس وجہ سے اس کے ساتھ اس کی کوئی مثنیٰ سورہ نہیں ہے۔ ہم مقدمہ میں ذکر کر چکے ہیں کہ جو سورتیں اپنی سابق سورہ کے تکملہ و تتمہ کی حیثیت رکھتی ہیں وہ گویا سابق سورہ ہی کا جزو ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کے ساتھ ان کے کسی جوڑے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی مثالیں آگے بھی آئیں گی۔
    یہاں سورۂ مومنون کی آیت ۱-۱۱ پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ وہاں بیان ہوا ہے کہ خدا کے ہاں فوز و فلاح ان اہل ایمان کے لیے ہے جن کی نمازوں میں خضوع و خشوع ہے، جو لغویات سے احتراز کرنے والے ہیں، جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے اور اپنے شہوانی جذبات پر پورا قابو رکھتے ہیں، ان سے مغلوب ہو کر خدا کے مقرر کردہ حدود و قیود کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور جو اپنی امانتوں اور اپنے قول و قرار کا پاس و لحاظ رکھنے والے ہیں۔
    جب تک مسلمان مکہ میں رہے ایمان کے یہ اثرات اور تقاضے ظاہر ہے کہ ان کی انفرادی زندگیوں ہی میں ابھر سکتے تھے اس لیے کہ مکہ میں ان کی کوئی اجتماعی تنظیم نہیں تھی لیکن ہجرت کے بعد جب مسلمان مدینہ میں مجتمع ہو گئے اور ان کی ایک اجتماعی و سیاسی تنظیم بھی وجود میں آ گئی تب وقت آیا کہ اس ایمان کے تقاضے معاشرتی و سیاسی زندگی میں بھی نمایاں ہوں۔ چنانچہ جس رفتار سے حالات سازگار ہوتے گئے معاشرہ کی اصلاح و تطہیر کے احکام نازل ہوئے اور ایمان کی اس نورانیت کی جگمگاہٹ، جو اب تک صرف افراد تک محدود تھی، ایک پوری ہیئت اجتماعی پر ضوفگن ہوئی۔
    سورۂ نور اسی سلسلہ کی ایک سورہ ہے جس میں وقت کے خاص حالات کے مطابق اہل ایمان کو ان احکام و ہدایات سے آگاہ کیا گیا ہے جو ان کے نو تشکیل معاشرے کو ایمان کے تقاضوں سے منور کرنے اور منافئ ایمان مفاسد سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری تھے۔

  • النور (The Light)

    64 آیات | مدنی

    النور

    ۲۴

    یہ ایک منفرد سورہ ہے جس پر قرآن کے اِس تیسرے باب کا خاتمہ ہورہا ہے۔ پیچھے اشارات تھے کہ حق و باطل کی جو کشمکش اِس وقت برپا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی فتح مندی اور قریش کی ہزیمت پر منتج ہونے والی ہے۔ اِس سورہ میں صاف اعلان کر دیا ہے کہ اہل ایمان سے خدا کا وعدہ ہے کہ سرزمین عرب کا اقتدار اب اُنھیں منتقل ہو جائے گا۔ چنانچہ اِسی مناسبت سے سورہ کا موضوع اُن کا تزکیہ بھی ہے جس کے لیے ضروری احکام دیے گئے ہیں اوراُن کی جماعت کی تطہیر بھی جس کے لیے منافقین کو تنبیہ و تہدید کی گئی ہے۔ اِس لحاظ سے یہ سورہ اِس باب کی پچھلی تمام سورتوں کا تکملہ و تتمہ ہے۔

    اِس کے مخاطب اہل ایمان ہیں اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ ہجرت کے بعد یہ مدینہ طیبہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہے، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور منکرین کے خلاف آخری اقدام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماننے والوں کا تزکیہ و تطہیر کر رہے تھے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 024 Verse 001 Chapter 024 Verse 002 Chapter 024 Verse 003 Chapter 024 Verse 004 Chapter 024 Verse 005 Chapter 024 Verse 006 Chapter 024 Verse 007 Chapter 024 Verse 008 Chapter 024 Verse 009 Chapter 024 Verse 010
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ ایک اہم سورہ ہے جو ہم نے نازل کی ہے اور اس کے احکام ہم نے فرض ٹھہرائے ہیں اور اس میں ہم نے نہایت واضح تنبیہات بھی اتاری ہیں تاکہ تم اچھی طرح یاد رکھو۔
    سورہ کی اہمیت کا اظہار: یہ سورہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سورۂ مومنون کے تکملہ و تتمہ کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے بغیر کسی خاص تمہید کے محض ایک تنبیہ سے شروع ہو گئی ہے۔ حذف مبتدا، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں، اس بات کا قرینہ ہے کہ مقصود و مخاطب کی ساری توجہ کو خبر پر مرکوز کرانا ہے جس سے اس سورہ کی اہمیت و عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ یعنی یہ ایک عظیم سورہ ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے۔ ’’ہم نے نازل کیا ہے‘‘ یعنی اس کو کوئی معمولی چیز اور ہوائی بات نہ سمجھو بلکہ یہ ہمارا اتارا ہوا کلام اور ہمارا نازل کردہ فرمان ہے اس وجہ سے اس کی ہر بات کی تعمیل ہمارے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے کی جائے۔ ’وَفَرَضْنٰھَا‘ یعنی اس میں جو احکام و ہدایات ہیں ان کی حیثیت فرائض کی ہے، سب بے چون و چرا ان کی اطاعت کریں، کسی معاملہ میں سہل انگاری و بے پروائی کو راہ نہ پانے دیں۔ سورہ کی تنبیہات کی طرف اشارہ: ’وَاَنْزَلْنَا فِیْھَآ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘۔ یہ ان تنبیہات کی طرف اشارہ ہے جو اس سورہ میں احکام و ہدایات کے بیان کے ساتھ ساتھ مقطع کی طرح بار بار وارد ہوئی ہیں۔ مثلاً ملاحظہ ہوں آیات ۱۰، ۱۴، ۱۷، ۲۰، ۳۴، ۴۶ اور ۵۸۔ ان تنبیہات کا مشترک مقصود یہ ہے کہ یہ احکام جو دیے جا رہے ہیں پورے اہتمام کے ساتھ ان کی پابندی کرو ورنہ یاد رکھو کہ خدا کی پکڑ بڑی ہی سخت چیز ہے۔ اس سورہ میں ان تنبیہات کی ضرورت خاص طور پر اس وجہ سے تھی کہ اس میں خاندان و معاشرہ اور تعزیرات و حدود سے متعلق جو احکام دیے گئے ہیں وہ پچھلی امتوں کے لیے مزلّۂ قدم ثابت ہوئے جس کے سبب سے وہ امتیں خدا کے عتاب میں آئیں۔ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل و احسان ہے کہ اس نے احکام کے ساتھ ان کی خلاف ورزی کے نتائج سے بھی بار بار آگاہ فرما دیا تاکہ لوگ اچھی طرح بیدار و ہوشیار رہیں۔ ’لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘ سے اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔
    زانی عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو اور خدا کے قانون کی تنفیذ کے معاملے میں ان کے ساتھ کوئی نرمی تمہیں دامن گیر نہ ہونے پائے اگر تم اللہ اور روز آخر پر سچا ایمان رکھتے ہو اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود رہے۔
    زنا کی سزا: معاشرے کے انتشار و فساد میں سب سے زیادہ دخل زنا کو ہے اس لیے کہ معاشرہ کے استحکام کا انحصار رحمی رشتہ کی پاکیزگی اور اس کے ہر قسم کے اختلال و فساد سے محفوظ ہونے پر ہے اور زنا اس رشتہ کی پاکیزگی کو ختم کر کے معاشرے کو صنفی انتشار کی راہ پر ڈال دیتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ ایک پاکیزہ معاشرہ کے بجائے ڈھوروں ڈنگروں کا ایک گلہ بن کے رہ جاتا ہے۔ یہ اختلال و انتشار چونکہ صالح تمدن کی بنیاد کو اکھاڑ دینے والا ہے اس وجہ سے تمام آسمانی مذاہب میں زنا کو ایک مستوجب سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے بھی بالکل پہلے ہی مرحلہ سے اس انتشار کو روکنے کے لیے احکام دیے۔ چنانچہ نساء کی آیات ۱۵۔۱۶ میں اس سلسلہ کے ابتدائی احکام دیے گئے جب کہ حالات حدود و تعزیرات کے نفاذ کے لیے ابھی سازگار نہیں ہوئے تھے اور ساتھ ہی یہ اشارہ فرما دیا گیا کہ اس باب میں قطعی اور آخری احکام بعد میں نازل ہوں گے۔ چنانچہ اس آیت سے وہ وعدہ پور ا ہو گیا۔ زانیہ اور زانی دونوں کے لیے یہ حکم ہوا کہ ان کو سو سو کوڑے مارے جائیں۔ تنفیذ حدود کے معاملہ میں مداہنت ایمان کے منافی ہے: ’وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ‘ یہاں ’دین‘ سے مراد یہی حد ہے جو زنا کی بیان ہوئی ہے۔ یعنی اس کی تنفیذ کے معاملے میں کسی نرمی یا مداہنت یا چشم پوشی کو راہ نہ دی جائے۔ نہ عورت کے ساتھ کوئی نرمی برتی جائے نہ مرد کے ساتھ، نہ امیر کے ساتھ نہ غریب کے ساتھ۔ خدا کے مقرر کردہ حدود کی بے لاگ اور بے رورعایت تنفیذ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ کا لازمی تقاضا ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں مداہنت اور نرمی برتیں ان کا اللہ اور آخرت پر ایمان معتبر نہیں ہے۔ یہاں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ سزا کے بیان میں عورت کا ذکر مرد کے ذکر پر مقدم ہے۔ اس کی وجہ جہاں یہ ہے کہ زنا عورت کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتا وہاں یہ بھی ہے کہ صنف ضعیف ہونے کے سبب سے اس کے معاملہ میں جذبۂ ہمدردی کے ابھرنے کا زیادہ امکان ہے، اس وجہ سے قرآن نے یہاں اس کے ذکر کو مقدم کر دیا تاکہ اسلوب بیان ہی سے یہ بات واضح ہوجائے کہ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہے، عورت ہو یا مرد۔ حدود کے معاملہ میں یہود کی مداہنت: حدود کے معاملہ میں اس شدت کے ساتھ تاکید و تنبیہ کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ یہود نے اکثر حدودعملاً بالکل ساقط کر دیے تھے۔ زنا کی سزا ان کی شریعت میں رجم تھی لیکن عملاً صورت یہ تھی کہ اگر کوئی غریب اس جرم میں ماخوذ ہوتا تب تو اس پر یہ سزا نافذ کی جاتی لیکن کوئی امیر اس کا ارتکاب کرتا تو اس سے تعرض نہ کرتے۔ اور اب موجودہ زمانے میں تو یہ مستقل فلسفہ بن گیاہے کہ جو لوگ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں وہ کسی ذہنی بیماری کے سبب سے کرتے ہیں اس وجہ سے وہ مستحق تربیت و اصلاح اور ہمدردی کے ہیں نہ کہ کسی سخت سزا کے۔ اس فلسفہ کی یہ برکت ہے کہ خدا کی زمین گنڈوں اور بدمعاشوں سے بھر گئی ہے اور کسی شریف آدمی کی بھی جان اور عزت ان کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ آپ اپنے ہی ملک کو لیجیے۔ اگر آپ اپنے قانون و امن کے ذمہ داروں کے سامنے زنا کی اس سزا کا ذکر کیجیے جو اوپر مذکور ہوئی ہے تو ایمان کے بلند بانگ دعووں کے باوجود، اس کو وحشیانہ کہیں گے اور اگر مصلحت کی وجہ سے وحشیانہ نہ کہیں تو بہرحال اس کو وحشیانہ سمجھتے ہیں لیکن ملک کی صورت حال یہ ہے کہ بلامبالغہ سال میں ہزاروں جانیں اور آبروئیں نہایت بے دردی و بے رحمی کے ساتھ، بدمعاشوں کے ہاتھوں اس طرح برباد ہوتی ہیں کہ ان کی خبریں ہر صبح کو اخباروں میں پڑھ پڑھ کر کلیجہ شق ہوتا ہے۔ چوروں اور زانیوں کے لیے تو ان حضرات کے جذبۂ رافت و ہمدردی کا یہ حال ہے کہ یہ ان کے لیے گویا خدائے رحمان و رحیم سے بھی زیادہ مہربان بن گئے ہیں کہ ان کا ہاتھ کاٹنے اور ان کو کوڑے مارنے کے تصور سے ان کا دل کانپتا ہے لیکن ان چوروں اور بدمعاشوں کے ہاتھوں خاندانوں کے خاندان جو آئے دن قتل و نہب اور بے عزتی و ناموسی کا شکار ہو رہے ہیں ان کی مظلومیت پران کے دل ذرا نہیں پسیجتے! اسلامی حدود و تعزیرات کی برکت: اگر یہ حضرات اپنے دعوائے ایمان کی لاج رکھنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے تو کم از کم دنیا کے تجربات ہی سے کچھ سبق حاصل کریں۔ اسی روئے زمین پر نجد و حجاز اور یمن کی حکومتیں بھی ہیں۔ ان میں اسلامی حدود و تعزیرات نافذ ہیں۔ اس اعداد و شمار کے زمانے میں آسانی سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ان کے ہاں چوری، رہزنی، ڈکیتی اور زنا کے کتنے واقعات ہوئے اور کتنے چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے اور کتنے زانیوں کے کوڑے لگائے گئے۔ میرے پاس اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن عینی شاہدوں کے بیانات بھی میرے علم میں ہیں اور میرا ذاتی مشاہدہ بھی ہے کہ وہاں نہ جرائم کا وجود ہے نہ مجرموں کا۔ یہ صرف اسلامی حدود و تعزیرات کا دبدبہ ہے کہ وہاں نہ چوری اور زنا کے واقعات ہوتے ہیں نہ چوروں کے ہاتھ کاٹنے اور زانیوں کو کوڑے مارنے کی نوبت آتی ہے۔ اگر کبھی کبھار کوئی اکا دکا کوئی واقعہ پیش آ جاتا ہے تو مجرم کواس کی جو سزا ملتی ہے عوام کی سبق آموزی کے لیے وہی کافی ہوتی ہے۔ اس کے مقابل میں جب ہم اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو سیدنا مسیحؑ کے الفاظ میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ’’ تم نے میرے باپ کے گھر کو چوروں اور ڈاکوؤں کا بھٹ بنا کے رکھ دیا ہے۔‘‘ اسلامی حدود و تعزیرات کا ایک اہم مقصد: ’وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘۔ اسلامی حدود و تعزیرات کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ان سے دوسروں کو عبرت و موعظت حاصل ہو۔ چنانچہ قرآن میں ان کو ’نَکَالٌ‘ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے معنی عبرت انگیز سزا کے ہیں۔ اس مصلحت کا تقاضا یہ ہوا کہ یہ سزائیں پبلک میں، مسلمانوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں دی جائیں۔ اگریہ جیلوں کی کوٹھڑیوں میں چپ چپاتے دے دی جائیں تو ان کی یہ مصلحت فوت ہو جاتی ہے۔ ’طَآءِفَۃٌ‘ کے معنی گروہ اور جماعت کے ہیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس لفظ کا اطلاق ایک شخص پر بھی ہوتا ہے۔ معلوم نہیں ان حضرات کی اس نادر تحقیق کا ماخذ کیا ہے! آیت ۲ کے عموم پر فقہاء کی بعض قیدیں اور ان کے باب میں ہمارا نقطۂ نظر: اس آیت کے ظاہر الفاظ کا جہاں تک تعلق ہے وہ تو ہر قسم کے زانی اور ہر قسم کی زانیہ کے لیے عام ہیں لیکن ہمارے فقہاء نے اس عموم پر بعض قیدیں عاید کی ہیں جن میں سے بعض صحیح ہیں، بعض ہمارے نزدیک غلط ہیں اور بعض محتاج تفصیل ہیں۔ اگرچہ ہمارے لیے فقہی مباحث میں زیادہ گھسنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن بعض ضروری باتوں کی طرف اشارہ ناگزیر ہے: o ایک یہ کہ اس حد کے اجراء و نفاذ کے لیے دارالاسلام یا بالفاظ دیگر اسلامی حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ ہمارے نزدیک یہ شرط لازمی ہے۔ یہ احکام نازل ہی اس وقت ہوئے ہیں جب اسلامی حکومت مدینہ میں استوار ہو گئی ہے۔ o دوسری یہ کہ یہ حد صرف عاقل و بالغ پر نافذ ہو گی۔ نابالغ اور فاترالعقل اس سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ بات بھی بالکل بدیہی ہے نابالغ اور مجنون ہر قانون میں مرفوع القلم سمجھے گئے ہیں۔ o تیسری یہ کہ غلام اور لونڈی پر صرف نصف حد جاری ہو گی۔ یہ بات بھی صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس کی دلیل سورۂ نساء آیت ۲۵ میں موجود ہے۔ اصل یہ ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں غلاموں کا عقلی و اخلاقی معیار اتنا پست ہو چکا تھا کہ ان کو یک بیک آزادوں کی صف میں نہیں لایا جا سکتا تھا اس وجہ سے ان کے معاملات میں اسلام نے ایک تدریج ملحوظ رکھی۔ یہاں تک کہ جب ان کی ذہنی و اخلاقی حالت بلند ہو گئی تو ان کے لیے مکاتبت کا وہ قانون نازل ہو گیا جو اسی سورہ میں آگے زیربحث آئے گا۔ اس قانون کے بعد ہر ذی صلاحیت غلام کے لیے آزادی کی نہایت کشادہ راہ کھل گئی اور وہ حقوق اور ذمہ داریوں، دونوں میں، دوسروں کے ساتھ برابر کے شریک ہو گئے۔ آگے ہم اس مسئلہ کے بعض اہم پہلو واضح کریں گے۔ o چوتھی قید فقہا کے ایک گروہ نے یہ عاید کی ہے کہ یہ حد صرف مسلمان پر نافذ ہو گی، غیر مسلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ بات ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ اسلامی حکومت میں غیر مسلم رعایا اپنے پرسنل لاء کے حد تک تو بے شک حکومت کے عام قوانین سے مستثنیٰ ہو گی لیکن حدود و تعزیرات سے، جن کا تعلق ملک کے امن و عدل سے ہے، اس کو مستثنیٰ رکھنا کس طرح ممکن ہے؟ اگر ایک مسلمان کو بجرم زنا آپ کوڑے لگائیں یا رجم کریں اور اسی جرم میں ایک غیرمسلم پر کوئی گرفت نہ کریں یا کوئی دوسری معمولی سزا دیں تو زنا کا سدباب ناممکن ہو گا۔ یہی حال چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا کا ہے۔ اگر ایک اسلامی حکومت چوری کے جرم میں مسلمانوں کے تو ہاتھ کاٹے لیکن اپنی غیر مسلم رعایا کو اس حد سے مستثنیٰ رکھے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ مسلمانوں کو چوری سے روک کر اپنے ملک میں غیر مسلموں کو چوری کا لائسنس دے رہی ہے۔ یہ بات بالبداہت خلاف عقل ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عمل سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی۔ آنحضرتؐ نے بھی غیر مسلموں پر حدود جاری فرمائے اور خلفائے راشدین نے بھی۔ اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کے حقوق کی وضاحت ہم نے اپنی کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ میں کی ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔ o پانچویں قید تقریباً تمام فقہاء نے اس پر یہ عاید کی ہے کہ اس حد کا تعلق صرف اس زانی سے ہے جس کی شادی نہ ہوئی ہو یا شادی تو ہوئی ہو لیکن ابھی اس نے مباشرت نہ کی ہو۔ رہے وہ جن کی شادی بھی ہو چکی ہے اور جو مباشرت بھی کر چکے ہیں تو ان کے لیے سزا رجم کی ہے۔ اس رجم کا ثبوت وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عمل سے لاتے ہیں اور اس طرح وہ اس آیت میں بیان کردہ حد کو کنوارے اور کنواری کے لیے خاص کر دیتے ہیں یا یوں کہیے کہ شادی شدہ زانی اور زانیہ کے حد تک اس کو سنت کے ذریعہ سے منسوخ مانتے ہیں۔ اس آیت پر فقہاء کی یہ قید بڑی اہم ہے۔ اس کو تخصیص کہیے یا نسخ، مجرد اخبار احاد کی بنا پر قرآن کے کسی حکم عام کو اس طرح مقید یامنسوخ کر دینا بہرحال ایک ایسی بات ہے جس پر دل مطمئن نہیں ہوتا۔ چنانچہ خوارج اس نسخ یا تخصیص کو نہیں مانتے، وہ رجم کا انکار کرتے ہیں اور اس حد کو، جو آیت میں مذکور ہوئی ہے، ہر قسم کے زانیوں کے لیے عام مانتے ہیں۔ ان قدیم خوارج سے زیادہ اہم مسئلہ ہمارے جدید خوارج کا ہے۔ قدیم خوارج اس اعتبار سے غنیمت تھے کہ وہ صرف رجم کے منکر تھے۔ جَلد کے منکر نہیں تھے۔ لیکن ہمارے جدید خوارج تو جَلد کو بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں بھلا وہ رجم کی بات کب سننے والے ہیں! اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ رجم کا ماخذ قرآن میں کیا ہے اور اس آیت کے حکم اور رجم کے حکم میں تطبیق کی کیا شکل ہے؟ میں پہلے ان روایات پر ایک نظر ڈالوں گا جن سے فقہا نے رجم پر استدلال کیا ہے۔ اس کے بعد قرآن میں رجم کی سزا کا جو ماخذ ہے اس کی نشان دہی کروں گا اور پھر یہ واضح کروں گا کہ رجم کی سزا کس طرح کے مجرموں کے لیے ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کو یہ سزا دی وہ کس قماش کے لوگ تھے۔ اگرچہ بحث طویل ہو رہی ہے لیکن ان کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں ہے اس وجہ سے اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے چند باتیں عرض کرتا ہوں۔ رجم کی سزا کے حق میں فقہاء کے استدلال کا ماخذ: فقہاء نے جس روایت کی بنا پر شادی شدہ کے حد تک اس آیت کو منسوخ قرار دیا ہے وہ عبادہ بن صامت سے بدیں الفاظ مروی ہے:عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم خذ واعنی قد جعل اللّٰہ لہن سبیلا البکر بالبکر جلد ماءۃ وتغریب عام والثیب بالثیب الجلد والرجم. ’’عبادہ بن صامت راوی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس وقت جو کچھ بتا رہا ہوں اس کو میری طرف سے محفوظ کرو۔ زانیہ عورتوں کے باب میں اللہ نے جو حکم نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ نازل فرما دیا۔ پس اگر مرتکب زنا دونوں کنوارے ہوں تو ان کے لیے سو کوڑوں اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہے اور اگر دونوں شادی شدہ ہوں تو کوڑے اور رجم کی سزا ہے۔‘‘ روایت پر تنقید: اس روایت پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں کنوارے زانی کے لیے ایک ہی ساتھ کوڑے مارنے کی سزا کا حکم بھی ہے اور ایک سال کی جلاوطنی کا بھی۔ اسی طرح شادہ شدہ کے لیے ایک ہی ساتھ کوڑے کی سزا بھی مذکور ہوئی ہے اور رجم کی سزا بھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں سزائیں ساتھ ہی دی جائیں گی؟ اس کا جواب ہمارے فقہاء، حنفی اور شافعی دونوں، یہ دیتے ہیں کہ جَلد اور رجم دونوں سزائیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں اور حدیث میں کوڑے مارنے کی جو سزا مذکور ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے تعامل سے منسوخ ہو گئی، شادی شدہ کے لیے صرف رجم کی سزا ہے۔ غور کیجیے، عبادہ بن صامت کی یہی روایت ہے جس کے بل پر سورۂ نور کی آیت کو منسوخ ٹھہرایا گیا حالانکہ قرآن کو قرآن کے سوا کوئی دوسری چیز منسوخ نہیں کر سکتی۔ پھر جب حدیث سے بھی بات نہیں بنی تو اس کو دوسری روایات سے منسوخ کر دیا گیا۔ ہمارے فقہاء کی اسی طرح کی باتیں ہیں جن سے لوگوں کے دلوں میں دین کے متعلق بدگمانیاں پیدا ہوئیں۔ میں آگے چل کر دکھاؤں گاکہ اگر روایت پر قرآن کی روشنی میں غور کیا جائے تو قرآن کے ساتھ اس کی مطابقت ہو جاتی ہے۔ نہ کسی چیز کو ناسخ ماننے کی ضرورت پیش آتی ہے، نہ کسی چیز کو منسوخ۔ فقہاء کا ایک دوسرا ماخذ : دوسری روایت جو اس سلسلہ میں پیش کی جاتی ہے، دل پر جبر کر کے، میں اس کو نقل کیے دیتا ہوں:عن ابن عباس قال قال عمرؓ قد خشیت ان یطول بالناس زمان حتی یقول قائل لا نجد الرجم فی کتاب اللّٰہ فیضلوا بترک فریضۃ انزلھا اللّٰہ وقد قرأنا الشیخ والشیخۃ اذازنیا فارجموہما البتۃ. ’’ابن عباس راوی ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ جب لوگوں پر کچھ زمانہ گزر جائے گا تو وہ وقت آ جائے گا کہ کہنے والے کہنے لگیں گے کہ رجم کی سزا کا ذکر اللہ کی کتاب میں تو ہم کہیں نہیں پاتے اور اس طرح وہ خدا کے ایک فریضہ کو جو اس نے نازل فرمایا ہے، ترک کر کے گمراہ ہو جائیں گے حالانکہ ہم نے خود یہ آیت تلاوت کی ہے الشیخ والشیخۃ اذازنیا فارجموہما البتۃ(بوڑھی بوڑھا جب زنا کے مرتکب ہوں تو ان کو لازماً سنگ سار کر دو)‘‘ اس روایت پر تنقید: میں نے، جیسا کہ عرض کیا، اس روایت کو نہایت کراہت کے ساتھ، محض اس لیے نقل کیا ہے کہ اصل حقیقت تک پہنچنے کے لیے راہ کی ان الجھنوں کو صاف کرنا ضروری ہے جو زنادقہ کی پھیلائی ہوئی ہیں اور ہمارے مفسرین اور فقہاء کی سادگی کی وجہ سے تفسیر اور فقہ کی کتابوں میں بھی ان کو جگہ مل گئی ہے۔ اس روایت پر غور کیجیے تو ہر پہلو سے یہ کسی منافق کی گھڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور مقصود اس کے گھڑنے سے قرآن کی محفوظیت کو مشتبہ ٹھہرانا اور سادہ لوحوں کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا کرنا ہے کہ قرآن کی بعض آیات قرآن سے نکال دی گئی ہیں۔ سب سے پہلے اس کی زبان پر غور کیجیے۔ کیا کوئی سلیم المذاق آدمی اس کو قرآن کی ایک آیت قرار دے سکتا ہے؟ اس کو تو قول رسولؐ قرار دینا بھی کسی خوش ذوق آدمی کے لیے ناممکن ہے چہ جائیکہ قرآن حکیم کی ایک آیت۔ آخر قرآن کے مخمل میں اس ٹاٹ کا پیوند آپ کہاں لگائیں گے! قرآن کی لاہوتی زبان اور افصح العرب و العجم کے کلام کے ساتھ اس عبارت کا کیا جوڑ ہے! دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ قرآن کی ایک آیت تھی تو اس کو نکال کس نے دیا جب کہ اس کا حکم یعنی سزائے رجم باقی ہے؟ آیت کو نکال دینے اور حکم کو باقی رکھنے کا آخر کیا تک ہے؟ اگر یہ قرآن کی ایک آیت تھی اور نکال دی گئی تو یہ اس بات کا ثبوت ہوا کہ رجم کا حکم پہلے تھا پھر منسوخ ہوگیا۔ پھر اس سے رجم کے حق میں استدلال کے کیا معنی! تیسری بات یہ ہے کہ اس کو اگر صحیح باور بھی کر لیجیے جب بھی اس سے ہمارے فقہاء کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ ان کو ثبوت چاہیے شادی شدہ زانی کے رجم کا اور اس میں حکم بیان ہوا ہے بوڑھی زانیہ اور بوڑھے زانی کا۔ ہر شادی شدہ کا بوڑھا ہونا تو ضروری نہیں ہے! پھر دعویٰ اور دلیل میں مطابقت کہاں رہی! بہرحال یہ روایت بالکل بے ہودہ روایت ہے اور ستم یہ ہے کہ اس کو منسوب حضرت عمرؓ کی طرف کیا گیاہے حالانکہ ان کے عہد مبارک میں اگر کوئی یہ روایت کرنے کی جرأت کرتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ ان کے دُرے سے نہ بچ سکتا۔ ہمارے فقہاء میں یہ بڑی کمزوری ہے کہ جب وہ اپنے حریف سے مناظرہ پر آتے ہیں تو جو اینٹ پتھر انھیں ہاتھ آجائے وہ اس کے سر پر دے مارتے ہیں۔ پھر یہ نہیں دیکھتے کہ اس کی زد خود دین پر کہاں تک پڑتی ہے۔ رجم کی سزا کا ماخذ اور اس کا محل: رجم کے ثبوت میں جو روایتیں پیش کی جاتی ہیں وہ یہی ہیں اور ان کا جو حال ہے وہ اوپر بیان ہو چکا۔ اب سوال یہ ہے کہ رجم کی سزا کا ماخذ کیا ہے؟ کس قسم کے مجرموں کے لیے یہ سزا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح کے زانیوں کو یہ سز دی؟ ان سوالات پر غور کرنا اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ بات بالبداہت معلوم ہے کہ رجم کی سزا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض مجرموں کو دی اور خلفائے راشدین نے بھی دی۔ جو لوگ اس امر واقعی کا انکار کرتے ہیں وہ ہر چیز کا انکار کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مجھے ان کی زیادہ فکر نہیں ہے البتہ چونکہ میں خود رجم کی سزا کا قائل ہوں اس وجہ سے قرآن سے اس سزا کا ماخذ اور اس کا موقع و محل واضح کرنا اپنی ایک ذمہ داری سمجھتاہوں۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے پہلے ایک تمہید اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے۔ مجرموں کی دو قسمیں: مجرم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جن سے چوری یا قتل یا زنا یا قذف کا جرم صادر ہو جاتا ہے لیکن ان کی نوعیت یہ نہیں ہوتی کہ وہ معاشرہ کے لیے آفت اور وبال (NUISANCE) بن جائیںیا حکومت کے لیے لاء اور آرڈر کا مسئلہ پیدا کر دیں۔ دوسرے وہ ہوتے ہیں جو اپنی انفرادی حیثیت میں بھی اور جتھہ بنا کر بھی معاشرے اور حکومت دونوں کے لیے آفت اور خطرہ بن جاتے ہیں۔ پہلی قسم کے مجرموں کے لیے قرآن میں معین حدود اور قصاص کے احکام ہیں جو اسلامی حکومت انہی شرائط کے مطابق نافذ کرتی ہے جو شرائط قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ دوسری قسم کے مجرمین کی سرکوبی کے لیے احکام سورۂ مائدہ کی آیات ۳۳۔۳۴ میں دیے گئے ہیں اور ان کی تفصیل ہم ان کے محل میں کر چکے ہیں۔ وہاں ہم نے ’اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا‘ کے تحت جو کچھ لکھا ہے اس کا ضروری حصہ ہم یہاں بھی نقل کیے دیتے ہیں تاکہ آگے کی بحث کے لیے راہ صاف ہو جائے ہمارے الفاظ یہ ہیں: جرم کی نوعیت:’’اللہ و رسول سے محاربہ یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ یا جتھہ جرأت و جسارت، ڈھٹائی اور بے باکی کے ساتھ اس نظامِ حق و عدل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے جو اللہ اور رسول نے قائم فرمایا ہے۔ اس طرح کی کوشش اگر بیرونی دشمنوں کی طرف سے ہو تو اس کے مقابلے کے لیے جنگ و جہاد کے احکام تفصیل کے ساتھ الگ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں بیرونی دشمنوں کے بجائے اسلامی حکومت کے ان اندرونی دشمنوں کی سرکوبی کے لیے تعزیرات کا ضابطہ بیان ہورہا ہے جو اسلامی حکومت کی رعایا ہوتے ہوئے، عام اس سے کہ وہ مسلم ہیں یا غیر مسلم، اس کے قانون اور نظم کو چیلنج کریں۔ قانون کی خلاف ورزی کی ایک شکل تو یہ ہے کہ کسی شخص سے کوئی جرم صادر ہو جائے۔ اس صورت میں اس کے ساتھ شریعت کے عام ضابطۂ حدود و تعزیرات کے تحت کارروائی کی جائے گی، دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینے کی کوشش کرے۔ اپنے شروفساد سے علاقے کے امن و نظم کو درہم برہم کر دے، لوگ اس کے ہاتھوں ہر وقت اپنی جان، مال، عزت، آبرو کی طرف سے خطرے میں مبتلا رہیں۔ قتل، ڈکیتی، رہزنی، آتش زنی، اغوا، زنا، تخریب، تہریب اور اس نوع کے سنگین جرائم حکومت کے لیے لاء اور آرڈر کا مسئلہ پیدا کر دیں۔ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے عام ضابطۂ حدو د و تعزیرات کے بجائے اسلامی حکومت مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی مجاز ہے۔‘‘ اس کے بعد ہم نے رجم کا ماخذ ان الفاظ میں واضح کیا ہے:’’’اَنْ یُّقَتَّلُوْا‘ یہ کہ فساد فی الارض کے یہ مجرمین قتل کر دیے جائیں۔ یہاں لفظ ’قتلٌ‘ کے بجائے ’تَقْتِیْلٌ‘ باب تفعیل سے استعمال ہوا ہے۔ باب تفعیل معنی کی شدت اور کثرت پر دلیل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ’تقتیل‘ ’شر تقتیل‘ کے معنی پر دلیل ہو گا۔ اس سے اشارہ نکلتا ہے کہ ان کو عبرت انگیز اور سبق آموز طریقہ پر قتل کیا جائے جس سے دوسروں کو سبق حاصل ہو۔ صرف وہ طریقہ اس سے مستثنیٰ ہو گا جو شریعت میں ممنوع ہے۔ مثلاً آگ میں جلانا۔ اس کے ماسوا دوسرے طریقے جو گنڈوں اور بدمعاشوں کو عبرت دلانے، ان کو دہشت زدہ کرنے اور لوگوں کے اندر قانون و نظم کا احترام پیدا کرنے کے لیے ضروری سمجھے جائیں، حکومت ان سب کو اختیار کر سکتی ہے۔ رجم یعنی سنگسار کرنا بھی ہمارے نزدیک ’تقتیل‘ کے تحت داخل ہے۔ اس وجہ سے وہ گنڈے اور بدمعاش جو شریفوں کے عزت و ناموس کے لیے خطرہ بن جائیں، جو زنا اور اغوا کو پیشہ بنا لیں، جو دن دہاڑے لوگوں کی عزت و آبرو پر ڈاکہ ڈالیں اور کھلم کھلا زنا بالجبر کے مرتکب ہوں ان کے لیے رجم کی سزا اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہے۔ ‘‘ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں رجم کی سزا کا کوئی ذکر نہیں ہے، ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ اس سزا کا ذکر سورۂ مائدہ کی آیت ۳۳ سے ماخوذ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہد رسالت میں رجم کے جو واقعات پیش آئے ان کی اس مخصوص نوعیت کے پیش نظر امام بخاریؒ نے اپنی ’الجامع الصحیح‘ میں انہیں آیت محاربہ کے تحت بیان کیا ہے اور ’کتاب المحاربین‘ ہی میں ایک ایسی روایت بھی لائے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سلف میں بعض لوگ رجم کی سزا کا ماخذ سورۂ مائدہ کی اس آیت کوسمجھتے تھے۔ اب آئیے ایک اجمالی نظر ان بعض واقعات پر بھی ڈال لیجیے جو عہد رسالت میں اس سزا کے نفاذ کے پیش آئے ہیں۔ ماعز کے جرم کی نوعیت: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں رجم کا سب سے زیادہ مشہور واقعہ ماعز کے رجم کا ہے۔ اس شخص کے بارے میں کتابوں میں جو روایات ملتی ہیں ان میں نہایت عجیب قسم کا تناقض ہے۔ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ بڑا بھلا مانس تھا اور بعض سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت بدخصلت گنڈا تھا۔ میری رہنمائی کے لیے یہ بات کافی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رجم کی سزا دلوائی اور اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی، اس وجہ سے میں ان روایات کو ترجیح دیتا ہوں جن سے اس کا وہ کردار سامنے آتا ہے جس کی بنا پر یہ مستحق رجم ٹھہرا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کسی غزوہ کے لیے نکلتے تو یہ چپکے سے دبک کے بیٹھ رہتا اور مردوں کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھا کر شریف بہوؤں بیٹیوں کا تعاقب کرتا۔ بعض روایات سے اس تعاقب کی نوعیت بھی واضح ہوتی ہے کہ اس طرح تعاقب کرتا جس طرح بکرا بکریوں کا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواس کی شرارتوں کی رپورٹ ملتی رہی، لیکن چونکہ کسی صریح قانون کی گرفت میں یہ نہیں آتا تھا اس وجہ سے آپؐ نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ بالآخر یہ قانون کی گرفت میں آ گیا۔ آپؐ نے اس کو بلوا کر نہایت تیکھے انداز میں پوچھ گچھ کی۔ وہ تاڑ گیا کہ اب بات چھپانے سے نہیں چھپ سکتی اس وجہ سے اس نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا۔ جب یہ اقرار کر لیا تو آپؐ نے اس کے رجم کا حکم دے دیا اور اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی۔ اس کے رجم کے بعد لوگوں کا عام تاثر، جو روایات سے معلوم ہوتا ہے، وہ یہ تھاکہ بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ اس شخص کی شامت نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ یہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کے بعد اس کے بارے میں لوگوں کو کف لسان کی ہدایت فرمائی، لیکن عام تاثر لوگوں کا یہی تھا۔ یہاں ہم چند روایات ان کے اصل الفاظ میں نقل کر رہے ہیں، تاکہ حسب ذیل امور بالکل واضح ہو کر سامنے آجائیں: ایک یہ کہ ماعز نے بھلے مانسوں کی طرح خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے جرم کا اقرار نہیں کیا تھا، بلکہ وہ اپنے قبیلہ والوں کے اصرار پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، اس توقع پر آیا کہ خود حاضر ہو جانے سے غالباً وہ کسی بڑی سزا سے بچ جائے گا، حضورؐ کواس کے جرم کی اطلاع پہلے سے مل چکی تھی اور اس نے آپؐ کی پوچھ گچھ کے نتیجے میں اقرار جرم کیا۔ دوسرے یہ کہ اس کاکردار ایک نہایت بدخصلت گنڈے کا کردار تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کسی غزوہ کے لیے نکلتے تو مردوں کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھا کر یہ جنس زدہ بدمعاشوں کی طرح عورتوں کا تعاقب کرتا۔ تیسرے یہ کہ نبی صلی اللہ علی وسلم نے اس کی مغفرت کے لیے دعا کی نہ اس کا جنازہ پڑھا، جو اس بات کی شہادت ہے کہ اس کو کٹر منافق قرار دیا گیا۔ روایات یہ ہیں:(ا).... قال: یا ابن اخی، انا اعلم الناس بھٰذا الحدیث، کنت فیمن رجم الرجل، انا لما خرجنا بہ فرجمناہ فوجد مسّ الحجارۃ، صرخ بنا: یا قوم، ردّ ونی الٰی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فان قومی قتلونی، وغرّونی من نفسی، واخبرونی انّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غیر قاتلی، فلم ننزع عنہ حتّٰی قتلناہ، فلما رجعنا الٰی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم واخبرناہ، قال: ’فھلّا ترکتموہ و جئتمونی بہ، لیستثبت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم منہ، فاما لترک حد فلا، قال: فعرفت وجہ الحدیث. (ابو داوٗد، کتاب الحدود، باب رجم ماعز بن مالک) ’’....حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’بھتیجے! میں سب لوگوں سے زیادہ اس بات سے واقف ہوں۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اس شخص کو رجم کیا‘۔ واقعہ یوں ہے کہ ہم نے اسے باہر لا کر سنگ سار کرنا شروع کیا، پتھر پڑے تو وہ چیخا: ’لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لے چلو۔ میرے قبیلے کے لوگوں نے مجھے مروا دیا۔ انہوں نے مجھے دھوکے میں رکھا۔ وہ مجھے یہی کہتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قتل نہیں کرائیں گے‘۔ لیکن ہم نے اسے قتل کیے بغیر نہیں چھوڑا۔ پس جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹے اور آپؐ کو اس جزع فزع کے بارے میں بتایا تو آپؐ نے فرمایا: ’تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا؟ تم اسے میرے پاس کیوں نہیں لائے‘؟ یہ آپؐ نے اس لیے فرمایا کہ آپ حقیقت معلوم کر سکیں۔ آپؐ نے یہ بات حد ساقط کرنے کے لیے نہیں فرمائی تھی، راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد یہ حدیث میری سمجھ میں آگئی۔‘‘ (ب).... فرمیناہ بجلامید الحرّۃ (یعنی الحجارۃ) حتّٰی سکت، قال: ثم قام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خطیبًا من العشیّ، فقال: اوکلما انطلقنا غزاۃ فی سبیل اللّٰہ، تخلّف رجل فی عیالنا لہ، نبیب کنبیب التیس، علٰی ان لا اوتی برجل فعل ذٰلک الانکلت بہ، قال: فما استغفرلہ ولاسبّہ. (صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب من اعترف علیٰ نفسہ بالزناء) ’’’پس ہم نے اسے وادئ حَرّہ کے پتھروں سے مارا‘ یہاں تک کہ وہ ختم ہو گیا، راوی بیان کر تے ہیں کہ اسی دن عصر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ’کیاایسا نہیں ہوتا تھا کہ جب کبھی ہم جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے نکلتے تھے توایک ایسا شخص پیچھے ہمارے اہل و عیال میں رہ جاتا تھا جو شہوت کے جوش میں بکرے کی طرح ممیاتا تھا۔ سنو، مجھ پر لازم ہے کہ اس طرح کی حرکتیں کرنے والا کوئی شخص میرے پاس لایا جائے تو میں اسے عبرت ناک سزا دوں۔‘ راوی بیان کر تے ہیں کہ آپؐ نے نہ اس کے لیے مغفرت کی دعا کی اور نہ اسے برابھلا کہا۔‘‘ (ج) عن ابن عباسؓ ان ماعز بن مالک اتی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقال: ’انّہ زنیٰ، فاعرض عنہ‘. فاعاد علیہ مرارًا، فسأل قومہ: ’أمجنون ہو؟‘ قالوا: ’لیس بہٖ باس‘. قال: ’افعلت بھا‘؟ قال: ’نعم، فامر بہ ان یُرجم. فانطلق بہٖ فرُجِم، ولم یصلّ علیہ. (ابوداوٗد، کتاب الحدود، باب رجم ماعز بن مالک) ’’حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے اقرار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپؐ نے اعراض کیا تو اس نے اپنا یہ اقرار کئی مرتبہ دہرایا۔ اس پر بھی آپ متامل رہے، پھر آپؐ نے اس کی قوم کے لوگوں سے پوچھا: ’کیا یہ پاگل ہے؟‘ انھوں نے کہا: ’نہیں، یہ بھلا چنگا ہے‘۔آپؐ نے اس سے پوچھا: ’کیا تم نے واقعی اس لڑکی سے بدکاری کی ہے؟‘ اس نے کہا: ’ہاں‘! پس آپؐ نے حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ چنانچہ اسے لے جایا گیا اور رجم کر دیا گیا اور اس کا جنازہ نہیں پڑھا گیا۔‘‘ (د).... فامر بہ فرُجم فکان الناس فیہ فریقین، قائل یقول: لقد ہلک لقد احاطت بہ خطیءَتُہٗ. (صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب من اعترف علٰی نفسہٖ بالزناء) ’’.... نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کے بارے میں حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا تو لوگ اس کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے، ان میں سے ایک کی رائے تھی کہ اس کی شامت نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ یہ ہلاک ہو گیا۔‘‘ (ہ).... فامر بہ فرجم، فسمع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم رجلین من اصحابہ یقول احدہما لصاحبہٖ: انظر الٰی ہٰذا الّذی ستر اللّٰہ علیہ فلم تدعہ نفسہ حتّٰی رجم رجم الکلب. (ابوداوٗد، کتاب الحدود، باب رجم ماعز بن مالک) ’’....پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کے بارے میں حکم دیا تواسے رجم کردیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو ایک دوسرے سے یہ کہتے ہوئے سنا: اس بدبخت کو دیکھو، اللہ نے اس کا پردہ ڈھانکے رکھا تھا، لیکن اس کے نفس نے اس کو نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ کتے کی طرح سنگ سار کر دیا گیا۔‘‘ غامدیہ کا واقعۂ رجم: ماعز بن مالک اسلمی کے بعد دوسرا بڑا واقعہ غامدیہ کا ہے جو قبیلۂ غامد (قبیلۂ جہنیہ کی ایک شاخ) کی ایک عورت تھی۔ اس کے بارے میں روایات میں جو تفصیلات ملتی ہیں، ان سے نہ اس کے کردار کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوتی ہیں نہ یہ معلوم ہوتا کہ وہ شادی شدہ تھی۔ تھوڑی بہت تفصیلات جو بیان ہوئی ہیں، ان میں ماعز کے واقعہ ہی کی طرح بہت سے امور باہم متناقض ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں اسے ٹالنے کی کوشش کی، لیکن یہ اپنے اقرار پر مصر رہی تو آپؐ نے فرمایا: ’اچھا، نہیں مانتی تو جاؤ، وضع حمل کے بعد آئیو‘۔ حمل سے فارغ ہو کر وہ بچے کے ساتھ آئی تو آپؐ نے فرمایا: ’جا اور اس کو دودھ پلا، دودھ چھٹانے کے بعد آئیو‘۔ پھر وہ دودھ چھٹانے کے بعدآئی تو اس کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا جو اس نے بچے کو کھلا کر حضورؐ کو دکھایا۔ تب آپؐ نے اس کے رجم کا حکم صادر فرمایا۔ اس کے برعکس بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اقرار کیا تو آپؐ نے اسے وضع حمل تک ایک انصاری کی نگرانی میں دے دیا۔ وضع حمل کے بعد اس نے اطلاع دی تو آپؐ نے فرمایا: ’اسے اس حالت میں رجم نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے چھوٹے بچے کو کوئی دودھ پلانے والا بھی نہیں‘۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا: ’اس کی رضاعت کی ذمہ داری مجھ پر ہے‘ اس کے بعد آپؐ نے بغیر کسی توقف کے اس کے رجم کا حکم دے دیا۔ روایات کے مطالعہ سے بیان کا یہ تناقض ہی سامنے نہیں آتا، یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہ کوئی آزاد قسم کی عورت تھی، جس کا نہ کوئی شوہر تھا، نہ سرپرست جو اس کے کسی معاملے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوتا۔ وضع حمل تک کی مدت اس نے ایک انصاری کے ہاں گزاری، اس کے اقرار سے لے کر سزا کے نفاذ تک، کسی موقع پر بھی اس کے خاندان یا قبیلہ کا کوئی آدمی مقدمہ کی کارروائی کے سلسلہ میں سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ غامدیہ کے کردار کے بارے میں روایات محفوظ نہیں ہو سکیں، لیکن ہمارے نزدیک اس کامعاملہ بھی ماعز کی طرح کا تھا جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرایا۔ اس عہد کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں بہت سی ڈیرے والیاں ہوتی تھیں جو پیشہ کراتی تھیں اور ان کی سرپرستی زیادہ تر یہودی کرتے تھے جوان کی آمدنی سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ اسلامی حکومت قائم ہو جانے کے بعد ان لوگوں کا بازار سرد پڑ گیا، لیکن اس قسم کے جرائم پیشہ آسانی سے باز نہیں آتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی قماش کے کچھ مرد اور بعض عورتیں زیرزمین یہ پیشہ کرتے رہے اور تنبیہ کے باوجود باز نہیں آئے۔ بالآخر جب وہ قانون کی گرفت میں آئے تو سورۂ مائدہ کی اسی آیت محاربہ کے تحت، جس کا حوالہ اوپر گزرا، آپؐ نے ان کو رجم کرایا۔ زنا بالجبر کے مجرم کو رجم کی سزا: زنابالجبر کا جرم بھی چونکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے حرابہ اور فساد فی الارض ہی کے قبیل سے ہے، اس وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مرتکب کو، مجرد زنا کی سزا یعنی سو کوڑے کے بجائے سورۂ مائدہ کی آیت محاربہ کے تحت رجم ہی کی سزا دی ہے۔ اس مقدمہ میں مجرم، نماز کے لیے جاتی ہوئی ایک خاتون پر سرراہ حملہ آور ہونے کی وجہ سے چونکہ کسی رعایت کا مستحق نہیں تھا، اس لیے آپؐ نے اس کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کے بارے میں بھی کسی تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی۔ حدیث میں یہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے:عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ، ان امرأۃ خرجت علٰی عہد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ترید الصلٰوۃ، فتلقاھا رجل، فتجللّہا، فقضٰی حاجتہ منہا، فصاحت، وانطلق، فمرّ علیہا رجل، فقالت: ’ان ذاک فعل بی کذا او کذا. ومرّت عصابۃ من المھاجرین فقالت: ان ذٰلک الرجل فعل بی کذا او کذا، فانطلقوا، فاخذوا الرجل الذی ظنت اَنّہ وقع علیہا فاتوہا بہٖ، فقالت: ’نعم‘ ہو ہٰذا، فاتوا بہٖ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فلما امر بہ قام صاحبہا الذی وقع علیہا، فقال: یا رسول اللّٰہ، انا صاحبہا‘. فقال لہا: ’اِذہبی فقد غفر اللّٰہ لکِ‘ وقال للرجل قولًا حسنًا (قال ابوداوٗد: یعنی الرجل الماخوذ) وقال للرجل الذی وقع علیہا: ’ارجموہ‘.(ابوداوٗد، کتاب الحدود، باب فی صاحب الحدیجئی فیقر، والترمذی، ابواب الحدود) ’’علقمہ بن وائل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی تو راستے میں ایک شخص نے اسے دیکھا۔ پس اس نے اس پر غلبہ پالیا اور اپنے نفس کی پیاس بجھائی۔ اس پر وہ چیخی چلائی تو وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ اسی اثناء میں ایک آدمی کا گزر اس طرف سے ہوا تو اس عورت نے اسے بتایا کہ ایک شخص نے اس طرح اسے رسوا کیا ہے۔ یہ بات ہو رہی تھی کہ مہاجرین میں سے ایک گروہ بھی اس طرف آ نکلا۔ اس نے انہیں بھی اپنی روداد سنائی تو وہ بھاگے اور اس شخص کو پکڑ لیا جس کے بارے میں اس عورت کا خیال تھا کہ اس نے اس سے زیادتی کی ہے۔ پس وہ اسے اس کے پاس لے آئے تو اس نے کہا: ہاں، یہ وہی ہے۔ چنانچہ وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے توآپؐ نے بلا تامل اسے سزا دینے کا حکم دے دیا۔ یہ دیکھ کر اصل مجرم کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا: ’اے اللہ کے رسول، یہ میں تھا جس نے اس عورت سے زیادتی کی، اس پر آپؐ نے اس عورت سے کہا: ’جا‘ اللہ نے تجھے معاف کر دیا، اور اس شخص سے کلمات خیر فرمائے (جو شبہ میں پکڑا گیا تھا) پھر اس شخص کے بارے میں ، جس نے اس عورت سے بدکاری کی تھی، فرمایا: ’اسے رجم کر دو‘۔‘‘ خلاصۂ بحث: اس ساری بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رجم کی سزا کے جو واقعات احادیث کی کتابوں میں مذکور ہیں، وہ عام قسم کے زانیوں کے واقعات نہیں ہیں، بلکہ ان بدقماشوں کے واقعات ہیں جو اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و ناموس کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں، کھلم کھلا زنا بالجبر کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس فعل قبیح کو بطور پیشہ کے اختیار کر لیتے ہیں۔ پھر جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ قانون کے ہاتھ ان کی گردن تک پہنچنے ہی والے ہیں تو اس قبیل کے مجرموں کی عام نفسیات کے مطابق اعتراف و اقرار کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں تاکہ معاشرے اور قانون، دونوں کی ہمدردیاں حاصل کر سکیں۔ رہی یہ بات کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مجرموں کے شادی شدہ ہونے کی تحقیق بھی فرمائی، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے قوانین کی طرح اسلامی شریعت کا بھی یہ مسلمہ اصول ہے کہ حدود و تعزیرات کے نفاذ میں مجرم کے احوال کی رعایت کی جانی چاہیے۔ اس رعایت میں عمر، شادی، دماغی حالت، ماحول، غرض ہر وہ چیز جو جرم کی محرک یا اس کے ارتکاب میں رکاوٹ بن سکتی ہے، عدالت کے پیش نظر رہے گی۔ احادیث میں ’ثیب‘ و ’بکر‘ کے الفاظ آئے ہیں، ان کا اطلاق عربیت کی رو سے جس طرح شادی شدہ اور غیر شادی شدہ پر ہوتا ہے، اسی طرح پختہ عمر کے آدمی اور الہڑ نوجوان پر بھی ہوتا ہے۔ ہمارے فقہاء کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے مجرم کی حالتوں میں سے ایک حالت کو مناط حکم قرار دے دیا، درآں حالیکہ اس کا تعلق مناط حکم سے نہیں ہے، اس طرح کی چیزیں تو ہر جرم کی سزا نافذ کرتے وقت ملحوظ رکھی جاتی ہیں۔ لہٰذا آیت زیربحث کو جو لوگ منسوخ مانتے ہیں، ان کا خیال ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ قرآن کی کوئی آیت قرآن کے سوا کسی دوسری چیز سے منسوخ نہیں ہوئی ہے اور یہ ناسخ و منسوخ، دونوں قرآن میں موجود ہیں۔ منسوخ ہونا تو الگ رہا، اگر کسی آیت کی تحدید و تخصیص بھی ہوئی ہے تو اس کے قرائن و اشارات یا تو آیت کے سیاق و سباق اور اس کے موقع و محل میں مضمر ہیں یا خود قرآن کے دوسرے مقامات میں موجود ہیں۔ عبادہ بن صامتؓ کی روایت کا صحیح محل: اس روشنی میں اگر عبادہ بن صامتؓ کی روایت کی تاویل کیجیے تو اس کا بھی ایک موقع و محل نکل آتا ہے۔ وہ یوں کہ اس میں جو حرف ’و‘ ہے اس کو جمع کے بجائے تقسیم کے مفہوم میں لیجیے یعنی کوئی زانی کنوارا ہو یا شادی شدہ، دونوں کی اصل سزا تو جَلد (تازیانہ) ہی ہے لیکن اگر کوئی کنوارا تازیانہ کی سزا سے قابو میں نہیں آرہا ہے تو حکومت اس کو، اگر مصلحت دیکھے، مائدہ کی مذکورہ بالا آیت کے تحت جلاوطنی کی سز ا بھی دے سکتی ہے اس لیے کہ اس آیت میں ’نفی‘ (جلاوطنی) کا اختیار بھی حکومت کو دیا گیا ہے۔ اسی طرح شادی شدہ زانی کی اصل سزا، جیسا کہ روایت سے واضح ہے، ہے تو تازیانہ ہی لیکن اگر کوئی شخص تازیانہ کی سزا سے قابو میں نہیں آرہا ہے اور معاشرے کے لیے ایک خطرہ بن چکاہے تو اس کو حکومت ’تقتیل‘ یعنی رجم کی سزا ازروئے سورۂ مائدہ دینے کا اختیار رکھتی ہے۔
    زانی نہ نکاح کرنے پائے مگر کسی زانیہ یا مشرکہ سے اور کسی زانیہ سے نکاح نہ کرے مگر کوئی زانی یا مشرک۔ اور اہل ایمان پر یہ چیز حرام ٹھہرائی گئی ہے۔
    خبر نہی کے مفہوم میں: ’لَا یَنْکِحُ‘ یہاں خبر کے مفہوم میں نہیں بلکہ نہی کے مفہوم میں ہے۔ نہی کے اندر جب نہی کے ساتھ ارشاد و موعظت کا مفہوم بھی ہو تو وہ خبر کی صورت میں آتی ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت بقرہ ۲۷۲ کے تحت ہو چکی ہے۔ یہاں مقصود مسلم معاشرہ کی حس ایمانی کو بیدار کرنا ہے کہ تمہارے اندر زنا سے وہ نفرت و بیزاری ہونی چاہیے کہ کوئی زانی اگر تمہارے اندر نکاح کرنا چاہے تو کوئی صاحب ایمان اس کو اپنی بیٹی دینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اس کو اگر نکاح کے لیے ملے تو کوئی زانیہ یا مشرکہ ہی ملے، کوئی مومنہ اپنے آپ کو اس کے حبالۂ عقد میں دینے پر راضی نہ ہو۔ اسی طرح اگر کوئی زانیہ ہو تو کوئی باایمان اس سے نکاح نہ کرے۔ اس کو اگر کوئی نکاح کے لیے ملے تو کوئی زانی یا مشرک ہی ملے، کوئی مسلمان اس نجاست کو اپنے گھر میں لانے پر راضی نہ ہو۔ فرمایا کہ ’وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ‘ زانیوں اور زانیات کے ساتھ ازدواجی رشتہ اہل ایمان کے لیے حرام ہے۔ زنا اور شرک کی باہمی مشابہت: آیت میں زانی اور مشرک اور زانیہ اور مشرکہ کا ایک ساتھ ذکر بڑا معنی خیز ہے۔ زنا اور شرک کی باہمی مشابہت پر ہم اس کتاب میں جگہ جگہ لکھ چکے ہیں۔ قدیم آسمانی صحیفوں میں مشرک کو چھنال عورت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ہم اس کے محل میں اس تشبیہ کی بلاغت واضح کر چکے ہیں۔ زنا اسی طرح کی اخلاقی نجاست ہے جس طرح کی عقائدی نجاست شرک ہے۔ قرآن میں اسی وصفی اشتراک کی وجہ سے شرک اور مشرکین کو نجس کہا بھی گیا ہے۔ مسلم معاشرہ کی حس ایمانی کی بیداری کی ضرورت: معاشرہ کی ایمانی حس کو بیدار کرنے کی یہ ضرورت اس وجہ سے تھی کہ مجرد قانون، خواہ وہ کیسا ہی بے لاگ اور حکیمانہ ہو، معاشرہ کی حفاظت اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک خود معاشرہ کے اندر برائی سے نفرت موجود نہ ہو۔ ہر قانون کے نفاذ کے لیے، بالخصوص جب کہ وہ ایک سخت قانون بھی ہو، لازماً ایسی شرطیں ہوتی ہیں کہ بہت سے مجرمین اپنے آپ کو اس کی زد سے بچائے رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے مجرمین سے نمٹنا خود معاشرہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو اپنی آنکھوں میں جگہ نہ دے بلکہ وہ جہاں بھی رہیں نِکّو بن کے رہنے پر مجبور ہوں۔ اگر وہ کسی شریف مسلمان سے رشتہ داری کے خواہش مند ہوں تو وہ ان کی درخواست ٹھکرا دے یہاں تک کہ اس طرح کے لوگ کسی شریف خاندان میں قرابت کا حوصلہ ہی نہ کر سکیں۔ یہ بیداری جرائم کے سدباب کے لیے ناگزیر شے ہے۔ اس دور کی آفات میں سے صرف یہی ایک آفت نہیں ہے کہ حدود و تعزیرات اسلامی نہیں ہیں بلکہ اس سے بڑی آفت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر حس اسلامی نہیں ہے۔ اس زمانے میں اگر کوئی اپنی لڑکی کے لیے بر تلاش کرتا ہے تو اس کے اندر تمام وہ اوصاف تلاش کرتا ہے جو دنیاوی وجاہت کے پہلو سے ضروری خیال کیے جاتے ہیں لیکن بہت تھوڑے لوگ اب ایسے رہ گئے ہیں جو معاملہ کے اس پہلو کو نگاہ میں رکھتے ہوں جس کی طرف آیت میں رہنمائی فرمائی گئی ہے۔
    اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں، پھر اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ نہ پیش کریں تو ان کو اَسّی کوڑے مارو اور ان کی کوئی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ یہی لوگ اصلی فاسق ہیں۔
    قذف کے معاملہ میں شہادت اور سزا کا قانون: اب یہ قذف کے معاملہ میں شہادت اور سزا کا قانون بیان ہو رہا ہے کہ شریف اور آزاد مومنات پر جو لوگ زنا کی تہمت لگائیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جرم کے چار عینی شاہد پیش کریں۔ اگر وہ چار گواہ معتبر نہ پیش کر سکیں تو پھر حکم ہے کہ ان کو اسّی کوڑے مارو اور ہمیشہ کے لیے ان کو ساقط الشہادت قرار دے دو۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اسلامی معاشرہ میں کسی کا ہمیشہ کے لیے مردود الشہادۃ قرار دے دیا جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ معاشرے کے اندر یہ اس کی عرفی حیثیت کے بالکل ختم ہو جانے کے ہم معنی ہے۔ اس امت کا اصلی مرتبہ یہ ہے کہ یہ ’شُھَدَآءُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ‘ ہے۔ اگر کوئی شخص ساقط الشہادت قرار دے دیا جاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس امت کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے اس کو جو اصلی سرفرازی حاصل ہوئی تھی وہ اس نے کھو دی۔ ’اَلَّذِیْنَ‘ اگرچہ مذکر کے لیے آتا ہے لیکن اگر کوئی عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس حکم سے مستثنیٰ رہے اس وجہ سے یہ لفظ عورت اور مرد دونوں کے لیے علیٰ سبیل التغلیب عام ہو گا۔ لفظ ’مُحْصَنٰتِ‘ اس طرح کے سیاق میں ’حرایر‘ یعنی لونڈیوں کے مقابل میں شریف زادیوں کے لیے آتا ہے اس وجہ سے جو لوگ لونڈیوں اور غلاموں کے معاملے میں اس کی نصف سزا کے قائل ہیں ان کی بات مبنی بردلیل ہے۔ توبہ اور اصلاح کے بعد اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس طرح کے لوگوں کے گناہ تو معاف ہو جائیں گے لیکن جہاں تک ساقط الشہادت ہونے کا تعلق ہے یہ چیز بدستور باقی رہے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ توبہ کا تعلق انسان کے دل سے ہے اوردل کا حال صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ آیت کے الفاظ سے بھی یہی بات نکلتی ہے کہ مغفرت کا تعلق صرف توبہ سے ہے۔ ’شہادت‘ سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ وہ ساقط الشہادت ’اَبَدًا‘ یعنی عمر بھر کے لیے رہیں گے۔
    جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں گے تو اللہ مغفرت فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
    قذف کے معاملہ میں شہادت اور سزا کا قانون: اب یہ قذف کے معاملہ میں شہادت اور سزا کا قانون بیان ہو رہا ہے کہ شریف اور آزاد مومنات پر جو لوگ زنا کی تہمت لگائیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جرم کے چار عینی شاہد پیش کریں۔ اگر وہ چار گواہ معتبر نہ پیش کر سکیں تو پھر حکم ہے کہ ان کو اسّی کوڑے مارو اور ہمیشہ کے لیے ان کو ساقط الشہادت قرار دے دو۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اسلامی معاشرہ میں کسی کا ہمیشہ کے لیے مردود الشہادۃ قرار دے دیا جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ معاشرے کے اندر یہ اس کی عرفی حیثیت کے بالکل ختم ہو جانے کے ہم معنی ہے۔ اس امت کا اصلی مرتبہ یہ ہے کہ یہ ’شُھَدَآءُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ‘ ہے۔ اگر کوئی شخص ساقط الشہادت قرار دے دیا جاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس امت کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے اس کو جو اصلی سرفرازی حاصل ہوئی تھی وہ اس نے کھو دی۔ ’اَلَّذِیْنَ‘ اگرچہ مذکر کے لیے آتا ہے لیکن اگر کوئی عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس حکم سے مستثنیٰ رہے اس وجہ سے یہ لفظ عورت اور مرد دونوں کے لیے علیٰ سبیل التغلیب عام ہو گا۔ لفظ ’مُحْصَنٰتِ‘ اس طرح کے سیاق میں ’حرایر‘ یعنی لونڈیوں کے مقابل میں شریف زادیوں کے لیے آتا ہے اس وجہ سے جو لوگ لونڈیوں اور غلاموں کے معاملے میں اس کی نصف سزا کے قائل ہیں ان کی بات مبنی بردلیل ہے۔ توبہ اور اصلاح کے بعد اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس طرح کے لوگوں کے گناہ تو معاف ہو جائیں گے لیکن جہاں تک ساقط الشہادت ہونے کا تعلق ہے یہ چیز بدستور باقی رہے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ توبہ کا تعلق انسان کے دل سے ہے اوردل کا حال صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ آیت کے الفاظ سے بھی یہی بات نکلتی ہے کہ مغفرت کا تعلق صرف توبہ سے ہے۔ ’شہادت‘ سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ وہ ساقط الشہادت ’اَبَدًا‘ یعنی عمر بھر کے لیے رہیں گے۔
    اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے پاس ان کی ذات کے سوا کوئی گواہ نہ ہو تو ان کی گواہی کا طریقہ یہ ہے کہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچے ہیں۔
    لعان کا ضابطہ: اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کی ذات کے سوا اس کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو اس صورت میں معاملہ کا فیصلہ قَسم سے ہو گا۔ اس کو اصطلاح شریعت میں ’لعان‘ کہتے ہیں۔ اس کی شکل یہ ہو گی کہ مرد چار بار اللہ کی قسم کھا کر یہ کہے گا کہ میں جو الزام لگا رہا ہوں اس میں سچا ہوں۔ اگر کسی میاں بیوی کے درمیان ایک دوسرے کی تکذیب اور باہمدگر ملاعنت کا یہ واقعہ پیش آ جائے تو فقہاء کی یہ رائے ہے کہ قاضی ان کے درمیان تفریق کرا دے گا۔ یہ رائے مبنی بر حکمت معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ معاملہ اس حد تک خراب ہو جانے کے بعد ان کے درمیان اس سازگاری کی توقع نہیں کی جا سکتی جو میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے۔
    اور پانچویں بار یہ کہیں کہ ان پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹے ہوں۔
    پانچویں بار یہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹ الزام لگا رہا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اگر عورت مرد کی اس قسم کی کوئی مدافعت نہ کرے تو اس پر زنا کی وہی حد جاری ہو جائے گی جو اوپر مذکور ہوئی ہے۔ اگر کسی میاں بیوی کے درمیان ایک دوسرے کی تکذیب اور باہمدگر ملاعنت کا یہ واقعہ پیش آ جائے تو فقہاء کی یہ رائے ہے کہ قاضی ان کے درمیان تفریق کرا دے گا۔ یہ رائے مبنی بر حکمت معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ معاملہ اس حد تک خراب ہو جانے کے بعد ان کے درمیان اس سازگاری کی توقع نہیں کی جا سکتی جو میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے۔
    اور عورت سے سزا کو یہ چیز دفع کرے گی کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔
    اور اگر وہ اس الزام کو تسلیم نہیں کرتی تو اس کے لیے سزا سے بریت اس صورت میں ہو گی جب وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ ’وَیَدْرَؤُا عَنْھَا الْعَذَابَ‘ میں ’عذاب‘ سے مراد ظاہر ہے کہ وہی حد ہے جو اوپر آیت ۲ میں مذکور ہوئی ہے۔ اس کے سوا کسی اور سزا کو اس سے مراد لینا عربیت کے خلاف ہو گا۔ اگر کسی میاں بیوی کے درمیان ایک دوسرے کی تکذیب اور باہمدگر ملاعنت کا یہ واقعہ پیش آ جائے تو فقہاء کی یہ رائے ہے کہ قاضی ان کے درمیان تفریق کرا دے گا۔ یہ رائے مبنی بر حکمت معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ معاملہ اس حد تک خراب ہو جانے کے بعد ان کے درمیان اس سازگاری کی توقع نہیں کی جا سکتی جو میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے۔
    اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ شخص سچا ہو۔
    اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ شخص سچ کہہ رہا ہے۔ اگر کسی میاں بیوی کے درمیان ایک دوسرے کی تکذیب اور باہمدگر ملاعنت کا یہ واقعہ پیش آ جائے تو فقہاء کی یہ رائے ہے کہ قاضی ان کے درمیان تفریق کرا دے گا۔ یہ رائے مبنی بر حکمت معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ معاملہ اس حد تک خراب ہو جانے کے بعد ان کے درمیان اس سازگاری کی توقع نہیں کی جا سکتی جو میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے۔
    اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کا کرم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ توبہ قبول فرمانے والا اور صاحب حکمت ہے تو تم اس کی پکڑ میں آ جاتے۔
    ایک تنبیہ: یہ آیت، جیسا کہ پہلی آیت میں اشارہ ہو چکا ہے، بطور تنبیہ و تذکیر ہے اور اس میں جواب شرط عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق، محذوف ہے۔ آگے آیت ۱۴ میں اس محذوف کو کھول بھی دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کے فضل و رحمت اور اس کے توّاب و حکیم ہونے کی برکت ہے کہ وہ تم کو یہ روشن ہدایات اور واضح و پر حکمت احکام دے رہا ہے کہ تمہارے لیے توبہ و اصلاح کی راہ کھولے ورنہ تم جس روش پر چل پڑے تھے یہ تو خدا کے غضب کو دعوت دینے والی تھی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ احکام اس زمانہ میں نازل ہوئے ہیں جب مسلمانوں کے اندر، منافقین کی ریشہ دوانیوں سے، بعض نہایت سخت قسم کی، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے، کمزوریاں ظاہر ہوئی تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کمزوریوں پر سزا دینے کے بجائے اپنے فضل و رحمت سے ان کو ان احکام و ہدایات کے نزول کا سبب بنا لیا جو اسلامی معاشرہ کو شیاطین و منافقین کی ریشہ دوانیوں اور فتنہ انگیزیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری تھے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List