Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المومنون (The Believers)

    118 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ حج ۔۔۔ کی توام اور مثنیٰ ہے۔ سورۂ حج جس مضمون پر تمام ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ سورۂ حج کے آخر میں مسلمانوں کا فریضۂ منصبی یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول نے دین حق کی گواہی جس طرح تم پر دی ہے اسی طرح اب تمہارا فرض ہے کہ یہ گواہی تم خلق پر دو۔ ساتھ ہی اس منصب کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جن باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے مثلاً اہتمام نماز، ادائیگی زکوٰۃ اور توکل علی اللہ، ان کی ہدایت فرمائی ہے۔ اب اس سورہ کو پڑھیے تو بعینہٖ اسی مضمون سے اس طرح شروع ہو گئی ہے گویا اسی کا تکملہ و تتمہ ہے۔ سورۂ حج کی آخری اور سورۂ مومنون کی ابتدائی آیات نے ایک حلقۂ اتصال کی صورت اختیار کرلی ہے۔ مضمون کے اعتبار سے بھی دونوں سورتوں میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال کا فرق ہے۔ سورۂ حج میں اہل ایمان کو فوز و فلاح کی اور کفار کو ذلت و نامرادی کی جو خبر دی گئی ہے وہ اس سورہ میں پوری طرح آشکارا ہو گئی ہے۔ خاص طور پر اہل ایمان کے لیے بشارت کا مضمون اس میں بالکل کھل کر سامنے آ گیا ہے اور وہ اوصاف بھی وضاحت سے بیان ہو گئے ہیں جن کے ساتھ یہ بشارت مشروط ہے۔ اسی طرح کفار پر بھی یہ حقیقت اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے کہ تمہیں جس ذلت کی خبر دی جا رہی ہے وہ لازماً پیش آ کے رہے گی، آفاق و انفس اور تاریخ کی شہادت یہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو امتحان کا گھر بنایا ہے اس وجہ سے اس میں اہل ایمان کی آزمائش بھی ہوتی ہے اور اہل کفر کو ڈھیل بھی دی جاتی ہے۔ لیکن یہ عارضی وقفے ہیں۔ بالآخر حق ہی کا بول بالا ہو گا اور اہل باطل نامراد ہوں گے۔

  • المومنون (The Believers)

    118 آیات | مکی

    الحج - المؤمنون

    ۲۲ - ۲۳

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔ پہلی سورہ میں قریش مکہ کو، بالخصوص حرم کی تولیت کے حوالے سے آخری انذار و تنبیہ اور دوسری میں اُن کے لیے اُسی انذار و تنبیہ کے نتائج کی وضاحت ہے جس میں ایمان والوں کی کامیابی کا مضمون بہت نمایاں ہو گیا ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

    سورۂ حج کی چند آیات، البتہ مدنی ہیں جو اُس اقدام کی وضاحت کے لیے سورہ کا حصہ بنا دی گئی ہیں جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد خدا کا فیصلہ قریش مکہ کے لیے ظاہر ہو جائے گا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 023 Verse 001 Chapter 023 Verse 002 Chapter 023 Verse 003 Chapter 023 Verse 004 Chapter 023 Verse 005 Chapter 023 Verse 006 Chapter 023 Verse 007 Chapter 023 Verse 008 Chapter 023 Verse 009 Chapter 023 Verse 010 Chapter 023 Verse 011
    Click translation to show/hide Commentary
    فائز المرام ہوئے وہ اہل ایمان۔
    اہل ایمان کو فلاح دنیا و آخرت کی بشارت: لفظ ’مُؤْمِنُوْنَ‘ ہر چند عام ہے لیکن یہاں اس کے مصداق اول وہی اہل ایمان ہیں جو اس دور میں حق کی خاطر ہجرت اور جہاد کی بازیاں کھیل رہے تھے۔ فرمایا کہ وہ فائز المرام ہوئے۔ یہ بشارت ہے تو مستقبل سے متعلق، لیکن اس کو تعبیر ماضی کے صیغے سے فرمایا ہے جس سے مقصود اس کی قطعیت کا اظہار ہے اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بات کا فیصلہ ہو چکا تو گویا وہ بات واقع ہو چکی۔ یہاں جس فلاح کی بشارت ہے اس کا حقیقی ثمرہ تو فلاح آخرت ہے۔ وہی اصل چیز ہے اور اہل ایمان کا نصب العین ہمیشہ وہی ہوتی ہے، لیکن اس کے اندر تمکن فی الارض کی وہ بشارت بھی مضمر ہے جو پچھلی سورہ میں دی گئی ہے۔ لیکن اس کا ذکر چونکہ پچھلی سورہ میں وضاحت سے ہو چکا ہے اس وجہ سے اس سورہ میں اصل مقام ۔۔۔ فردوس ۔۔۔ کا ذکر ہوا۔ دوسری چیزیں اس کے تحت خود بخود آ گئیں۔
    جو اپنی نمازوں میں فروتنی اختیار کرنے والے (ہیں)۔
    روحِ نماز کی طرف اشارہ: ’خشوع‘ کے معنی عاجزی، تذلل، نیاز مندی اور فروتنی کے ہیں۔ یہ لفظ مختلف شکلوں میں قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ ’خشعت الاصوات‘ اور ’تخشع قُلُوْبُھُمْ‘ وغیرہ کے استعمالات سے لفظ کی اصل روح پر روشنی پڑتی ہے اس وجہ سے جن لوگوں نے اس کے معنی مجرد ’سکون‘ کے لیے ہیں ہمارے نزدیک ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ یہ اس نماز کی اصل روح کی طرف اشارہ ہے جس پر مذکورہ فلاح کا انحصار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رب کے آگے آدمی کی کمر اور اس کا سر ہی نہ جھکے، بلکہ اس کا دل بھی سرفگندہ ہو جائے۔ ان اہل ایمان کی کیفیت یہی ہے کہ نمازوں میں ان کے قیام، ان کی ہیئت، ان کی آواز اور ان کے رکوع و سجود ایک ایک چیز سے ان کے دل کے خشوع کی شہادت ملتی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ پچھلی سورہ کی آخری آیت میں ’اقامۃ صلٰوۃ‘ کی ہدایت ہوئی تھی جو نماز کے ظاہری اہتمام و التزام کی تعبیر ہے۔ اس سورہ میں نماز کی اصل روح کا ذکر ہوا اور وہ بھی اس حیثیت سے کہ یہ ان اہل ایمان کی صفت ہے جن کو فلاح کی یہ بشارت دی جا رہی ہے۔
    اور جو لغویات سے احتراز کرنے والے ہیں۔
    زندگی پر نماز کا اثر: یہ زندگی پر نماز کا اثر بیان ہوا ہے۔ ’لغو‘ سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو زندگی کے اصل مقصود ۔۔۔ رضائے الٰہی ۔۔۔ سے غافل کرنے والا ہو۔ قطع نظر اس سے کہ وہ مباح ہے یا غیر مباح۔ جس نماز کے اندر خشوع ہو اس کا اثر زندگی پر لازماً یہ پڑتا ہے کہ فضول، غیر ضروری، لا یعنی، بے مقصد چیزوں سے آدمی احتراز کرنے لگتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ اگر میں نے کوئی فضول قسم کی حرکت کی تو اپنے عالم الغیب مالک کو ایک روز منہ دکھانا ہے اور اس چیز کی شب و روز میں کم از کم پانچ بار اس کو یاددہانی ہوتی رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کا ضمیر اتنا بیدار اور حساس ہو کہ ہر غیر ضروری حرکت سے اس کی طبیعت انقباض محسوس کرے وہ کسی بڑی بے حیائی اور برائی کا مرتکب کبھی مشکل ہی سے ہو گا۔ نماز کا زندگی پر یہی اثر سورۂ عنکبوت میں یوں بیان ہوا ہے: ’اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ‘۔ (۴۵) (نماز بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے) روکنے کا مطلب یہی ہے کہ وہ ایک نہایت ہی موثر واعظ و زاجر ہے جو شب و روز میں پانچ مرتبہ انسان کو تذکیر کرتی رہتی ہے کہ دربار الٰہی کے شایان شان اعمال و کردار کیا ہیں اور انسان کو کہاں جانا ہے اور اس کے لیے اس کو کیا تیاریاں کرنی چاہییں اور اپنے آپ کو کس سانچے میں ڈھالنا چاہیے۔ آیت کا اصل مفہوم تو یہی ہے لیکن موقع کلام ایک اور ضمنی مفہوم کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ اس میں مخالفین کی ان خرافات پر ایک تعریض بھی ہے جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر وقت بکتے رہتے تھے۔ یہ مفہوم سورۂ قصص کی اس آیت سے نکل رہا ہے: وَاِذَا سَمِعُوا الَّلغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ. (قصص ۵۵) ’’اور جب وہ کوئی فضول بکواس سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے ساتھ تمہارے اعمال۔‘‘ یہی مضمون دوسرے مقام میں ’وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا‘ (فرقان ۷۲) کے الفاظ سے ادا ہوا ہے۔ ان آیات کی روشنی میں زیربحث آیت سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ اللہ کے یہ بندے مخالفین کی ژاژخائیوں میں اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے اپنے رب کے ذکر اور اس کی آیات کے فکر میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔  
    اور جو زکوٰۃ ادا کرتے رہنے والے (ہیں)۔
    نماز کے بعد دین کا دوسرا ستون زکوٰۃ ہے: نماز کے بعد دین کا دوسرا ستون، جیسا کہ ہم اس کتاب میں وضاحت سے بیان کر چکے ہیں، زکوٰۃ ہے۔ سورۂ مریم اور سورۂ انبیاء میں آپ تفصیل سے پڑھ آئے ہیں کہ ہر نبی کے باب میں یہ بات وارد ہوئی ہے کہ ’وَکَانَ یاْمُرُ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ‘ (وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تعلیم دیتا تھا) اس زکوٰۃ کی قانونی شکل ہر دین میں کچھ مختلف رہی ہے، لیکن انفاق فی سبیل اللہ کی تعبیر کے لیے یہ ایک جامع اور معروف لفظ ہے اور اس کی حیثیت دین میں نماز کے مثنیٰ اور اس کے مظہر اول کی ہے۔ نماز بندے کو خالق سے جوڑتی ہے اور زکوٰۃ بندے کو بندوں کے ساتھ مربوط کرتی ہے اور جو بندہ خلق اور خالق دونوں سے صحیح بنیاد پر مربوط ہو جائے درحقیقت وہی بندہ دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کا سزاوار ہے۔ اگرچہ یہ سورہ مکی ہے اور اسلام میں باقاعدہ اصطلاحی زکوٰۃ کا نظام بعد میں قائم ہوا، لیکن یہ لفظ مصطلحہ شرعی زکوٰۃ کے مفہوم میں نہیں، بلکہ انفاق کے مفہوم میں ہے۔ جن لوگوں نے اس کو مصدری معنی یعنی تزکیہ کے مفہوم میں لیا ہے، ان کی رائے ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ یہ لفظ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مکی سورتوں میں بھی نماز کے ساتھ بار بار آیا ہے اور کہیں بھی اس سے مراد تزکیہ نہیں، بلکہ انفاق فی سبیل اللہ ہی ہے جس کے برکات و ثمرات میں سے تزکیہ بھی ہے۔ نماز اور زکوٰۃ میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے: فلسفۂ دین کے پہلو سے نماز اور زکوٰۃ ایمان کے دو بازو ہیں اور ان دونوں کے درمیان قدر مشترک خدا کی شکرگزاری ہے۔ یہی شکر گزاری کا جذبہ بندے کو نماز پر ابھارتا ہے جو تمام تر شکر ہے اور یہی شکرگزاری کا جذبہ اللہ کی راہ میں انفاق اور قربانی پر ابھارتا ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ زکوٰۃ درحقیقت نماز ہی کا ایک مظہر اور پہلو ہے اور دونوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ پھر نماز کی روح، جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ’خشوع اور خشیت بھی ہے‘ اس پہلو سے یہ ہر برائی اور بے حیائی سے، جیسا کہ سورۂ عنکبوت کے حوالہ سے اوپر واضح ہوا، روکنے والی چیز ہے۔ چنانچہ اوپر بیان ہوا کہ جن کی نمازوں میں خشوع ہوتا ہے وہ منکرات اور لغویات سے احتراز کرتے ہیں۔ اب اسی نماز کے مزید اثرات آگے بیان ہو رہے ہیں۔  
    اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
    شہوانی خواہشات پر قابو: یعنی یہ لوگ اپنی شہوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ ان کو صرف وہیں آزادی دیتے ہیں جہاں اس کا حق ان کو حاصل ہے۔
    بجز اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے حد تک سو اس بارے میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔
    یعنی بیویوں اور لونڈیوں پر۔۱؂ یہ نہیں ہوتا کہ شہوات سے اندھے ہو کر بالکل سانڈ بن جائیں اور ہر حرمت پر دست اندازی اپنا حق سمجھ لیں۔ فرمایا کہ اپنے حدود کے اندر یہ چیز مباح ہے۔ اس پر کسی کو ملامت نہیں۔ یعنی کوئی اس کو تقویٰ، دین داری اور خدا ترسی کے منافی نہ سمجھے جیسا کہ راہبانہ تصورات کے تحت عام طور پر سمجھا گیا ہے۔ _____ ۱؂غلاموں اور لونڈیوں کے مسئلہ پر ہم اس کتاب میں پیچھے بھی بحث کر چکے ہیں اور آگے سورۂ نور کی تفسیر میں بھی اس پر مفصل بحث آ رہی ہے۔
    البتہ جو ان کے سوا کے خواہش مند ہوئے تو وہی ہیں جو حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔
    البتہ وہ لوگ جو اس حد سے آگے بڑھیں گے وہ خدا کے حدود کو توڑنے والے ہیں۔ یہاں صرف ان کے جرم کا ذکر فرمایا، اس کی سزا کا ذکر نہیں فرمایا۔ سزا کا ذکر نہ کرنے میں غصہ اور نفرت کی جو شدت ہے وہ خود واضح ہے۔ع خموشی معنئ دارد کہ درگفتن نمی آید یہاں اس امر کو یاد رکھیے کہ موجودہ مغربی اور مغرب زدہ سوسائٹی میں جنسی آزادی پر اگر کوئی قدغن ہے تو صرف اس صورت میں ہے جب جبر و اکراہ کی نوبت آئے۔ اگر یہ بات نہ ہو تو پھر ہر ایک کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے۔  
    اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔
    امانات اور عہود کی حفاظت: ’امانات‘ سے مراد وہ امانتیں بھی ہیں جو ہمارے رب نے قوتوں اور صلاحیتوں، فرائض اور ذمہ داریوں کی شکل میں یا انعامات و افضال اور اموال و اولاد کی صورت میں ہمارے حوالہ کی ہیں ۔۔۔ اور وہ امانتیں بھی اس میں داخل ہیں جو کسی نے ہمارے پاس محفوظ کی ہوں یا ازروئے حقوق ان کی ادائیگی کی ذمہ داری ہم پر عاید ہوتی ہو۔ اسی طرح عہد میں وہ تمام عہد و میثاق بھی داخل ہیں جو ہمارے رب نے ہماری فطرت سے عالم غیب میں لیے ہیں یا اپنے نبیوں کے واسطہ سے، اپنی شریعت کی شکل میں، اس دنیا میں، لیے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس وہ تمام عہد و میثاق بھی اس میں داخل ہیں جو ہم نے اپنی فطرت یا انبیاؑء کے واسطہ سے اپنے رب سے کیے ہیں یا کسی جماعت یا فرد سے اس دنیا میں کیے ہیں، خواہ وہ قولاً و تحریراً عمل میں آئے ہوں یا ہر شائستہ سوسائٹی میں بغیر کسی تحریر و اقرار کے، سمجھے اور مانے جاتے ہوں، فرمایا کہ ہمارے یہ بندے ان تمام امانات اور ان تمام عہود و مواثیق کا پاس و لحاظ رکھنے والے ہیں۔ نہ اپنے رب کے معاملہ میں خائن اور غدار ہیں نہ اس کے بندوں کے ساتھ بے وفائی اور عہد شکنی کرنے والے ہیں۔ ان دو لفظوں کے اندر وہ تمام شرعی و اخلاقی، قانونی اور عرفی ذمہ داریاں آ گئیں جن کا احترام ہر شریعت میں مطلوب رہا ہے۔ یہاں یہ اوپر کی باتوں کے بعد ایک جامع بات کی حیثیت سے مذکور ہوئی ہے اور درحقیقت اسی اجمال کی تفصیل ہے جو پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے۔ حکمت دین کا ایک نکتہ: یہاں حکمت دین کا یہ نکتہ نگاہ میں رہے کہ نماز ہی ان تمام امانات و عہود کی اصل محافظ ہے۔ نماز خود بھی، جیسا کہ تفسیر سورۂ بقرہ میں ہم واضح کر چکے ہیں، بندے کا اپنے رب کے ساتھ عہد و میثاق ہے جس کی تجدید ہر بندۂ مومن دن رات میں کم از کم پانچ مرتبہ کرتا رہتا ہے اور یہ ان تمام عہود و مواثیق اور امانات و فرائض کی یاددہانی بھی ہے جن کی ذمہ داری بندے پر عاید ہوتی ہے۔ ان مسائل پر ہم اس کتاب میں بھی موزوں مقامات میں بحث کر رہے ہیں اور خاص نماز کے اسرار و حقائق پر ’حقیقت نماز‘ کے عنوان سے ہم نے ایک رسالہ بھی لکھا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔
    اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
    یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ نماز ہی سے اہل ایمان کی صفات کا ذکر شروع ہوا تھا اور اسی پر آ کر ختم ہوا۔ شروع میں نماز کا ذکر اس کی روح یعنی ’خشوع‘ کے پہلو سے ہوا اور آخر میں اس کی محافظت اس کے رکھ رکھاؤ اور اس کی دیکھ بھال کے پہلو سے ہوا، اس لیے کہ وہ برکات جو نماز کی بیان ہوئی ہیں اسی صورت میں پوری ہوتی ہیں جب ان کے اندر خشوع کی روح ہو اور اس کی برابر رکھوالی بھی ہوتی رہے۔ یہ باغ جنت کا پودا ہے جو پوری نگہداشت کے بغیر پروان نہیں چڑھتا۔ ذرا غفلت اور ناقدری ہو جائے تو یہ بے ثمر ہو کے رہ جاتا ہے، بلکہ اس کے بالکل ہی سوکھ جانے کا ڈر پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر اس کی حقیقی برکات سے بہرہ مند ہونے کی آرزو ہے تو شیاطین کی تاخت سے اس کو بچائیے اور وقت کی پوری پابندی کے ساتھ آنسوؤں سے ان کو سینچتے رہیے۔ تب کچھ اندازہ ہو گا کہ رب نے اس کے اندر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے!! یہ بات کہ نماز ہی تمام دین کی محافظ ہے قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے۔ ہم نے دوسرے مقام میں ان تمام مثالوں کا حوالہ دیا ہے۔ یہ دین کی اس حکمت کی طرف اشارہ ہے کہ نماز ہی سے تمام نیکیاں نشوونما بھی پاتی ہیں اور وہی اپنے حصار میں ان کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ اگر وہ نماز وجود میں نہ آئے تو دوسری نیکیاں بھی وجود میں نہیں آ سکتیں۔ اور اگر نماز ہدم کر دی جائے تو دین و اخلاق کا سارا چمن تاراج ہو کر رہ جائے گا۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ جس نے نماز ضائع کر دی تو وہ باقی دین کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کر دے گا۔
    یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں۔
    فردوس کی وراثت کے اصلی حق دار: فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اپنے باپ کی کھوئی ہوئی جنت کے وارث ہوں گے اور پھر ان کو اس سے نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہو گا، جیسا کہ آدمؑ کو پیش آیا، بلکہ وہ اس میں اپنے باپ کے ساتھ ہمیشہ ہمیش رہیں اس لیے کہ وہ اس میں اپنے دشمن شیطان کو ہمیشہ کے لیے شکست دے کر داخل ہوں گے۔ فردوس جنت کے اعلیٰ ترین مقامات میں سے ہے اور یہ ان لوگوں کا حصہ ہے جو اس دنیا میں حق کی سربلندی کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگائیں گے۔
    جو فردوس کے وارث ہوں گے۔ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے!
    فردوس کی وراثت کے اصلی حق دار: فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اپنے باپ کی کھوئی ہوئی جنت کے وارث ہوں گے اور پھر ان کو اس سے نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہو گا، جیسا کہ آدمؑ کو پیش آیا، بلکہ وہ اس میں اپنے باپ کے ساتھ ہمیشہ ہمیش رہیں اس لیے کہ وہ اس میں اپنے دشمن شیطان کو ہمیشہ کے لیے شکست دے کر داخل ہوں گے۔ فردوس جنت کے اعلیٰ ترین مقامات میں سے ہے اور یہ ان لوگوں کا حصہ ہے جو اس دنیا میں حق کی سربلندی کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگائیں گے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List