Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الانبیاء (The Prophets)

    112 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ طٰہٰ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ جس مضمون پر سورۂ طٰہٰ ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ سابق سورہ کی آخری آیت میں کفار قریش کو یہ تنبیہ ہے کہ اگر تم کوئی نشانئ عذاب ہی دیکھنے پر اڑے ہوئے ہو تو انتظار کرو، اب اس عذاب کے آنے میں زیادہ دیر نہیں ہے۔ اس سورہ کا آغاز، بغیر کسی نئی تمہید کے، بعینہٖ اسی مضمون سے فرمایا کہ ان لوگوں (کفار قریش) کے حساب کی گھڑی بالکل سر پر آ چکی ہے لیکن یہ اپنی سرمستیوں میں کھوئے ہیں۔ یہ پیغمبرؐ کی تنبیہات کا مذاق اڑاتے اور اللہ کی آیات کا استہزا کرتے ہیں۔ انھوں نے اس دنیا کو ایک بازیچۂ اطفال سمجھ رکھا ہے جس کو اس کے پیدا کرنے والے نے محض اپنا جی بہلانے کے لیے ایک کھیل تماشا بنایا ہے۔ ان کا سارا اعتماد ان کے خود تراشیدہ معبودوں پر ہے۔ حالانکہ یہ ساری چیزیں محض ان کے وہم کی ایجاد ہیں، انبیاء علیہم السلام کی تعلیم سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔ سابق سورہ میں صرف حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کا حوالہ تھا اس میں دوسرے انبیاء عظام علیہم السلام کا بھی حوالہ ہے اور نہایت واضح الفاظ میں غلبۂ حق اور فتح مکہ کے قرب کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو کفار قریش کے لیے ایک آخری تنبیہ اور مسلمانوں کے لیے کشمکش حق و باطل کے اس شدید ترین دور میں ایک عظیم بشارت ہے۔
    سورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ سابق سورہ کی طرح یہ سورہ بھی تین بڑے حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلے قریش کو ان کی ان بوالفضولیوں پر نہایت واضح الفاظ میں تنبیہ و وعید ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت لاابالیانہ انداز میں وہ کر رہے تھے، پھر حضرات انبیاء علیہم السلام کی سرگزشتوں سے ان تمام حقائق کو مبرہن کیا گیا ہے جن کی قرآن کے ذریعہ سے ان کو دعوت دی جا رہی تھی، آخر میں اسی مضمون کو، جو شروع میں بیان ہوا ہے بعینہٖ اسی تمہید کے ساتھ ازسرنو لے لیا ہے اور نہایت فیصلہ کن انداز میں مخالفین کو اس انجام سے آگاہ کیا ہے جس سے وہ دوچار ہونے والے ہیں۔

  • الانبیاء (The Prophets)

    112 آیات | مکی

    طٰہٰ —— الانبیاء

    ۲۰ ——- ۲۱

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے۔پہلی سورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس انذار و بشارت کے ردعمل پر صبر و انتظار کی تلقین ہے اور دوسری میں آپ کے مخاطبین کو شدید تنبیہ کہ اُن کے احتساب کی گھڑی قریب آگئی ہے۔ اب پیغمبر کو زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اُن کی قیادت و سیادت کا دائرہ سمٹ رہا
    ہے۔ وہ متنبہ ہو جائیں، اُن کے لیے خدا کا فیصلہ عنقریب صادر ہونے والا ہے۔

    پہلی سورہ میں خطاب تمام تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسری میں قریش مکہ سے ہے۔

    اِن سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 021 Verse 001 Chapter 021 Verse 002 Chapter 021 Verse 003 Chapter 021 Verse 004 Chapter 021 Verse 005 Chapter 021 Verse 006 Chapter 021 Verse 007 Chapter 021 Verse 008 Chapter 021 Verse 009 Chapter 021 Verse 010 Chapter 021 Verse 011 Chapter 021 Verse 012 Chapter 021 Verse 013 Chapter 021 Verse 014 Chapter 021 Verse 015
    Click translation to show/hide Commentary
    لوگوں کے لیے ان کے محاسبہ کا وقت قریب آ لگا ہے اور یہ غفلت میں پڑے ہوئے اعراض کیے جا رہے ہیں۔
    سابق سورہ کے مضمون کی تکمیل: یہ سورہ بغیر کسی تسمیہ و تمہید کے شروع ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا، یہ ہے کہ یہ درحقیقت اسی انداز کے مضمون کی تکمیل ہے جس پر سابق سورہ تمام ہوئی ہے۔ سابق سورہ کی آخری آیات اور اس سورہ کی ابتدائی آیات نے ایک حلقۂ اتصال کی صورت اختیار کر لی ہے۔ سورۂ برأت کی تفسیر میں ہم اس نوع کے اتصال کی بعض خوبیوں کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ ’للناس‘ سے مراد مشرکین مکہ ہیں: ’لِلنَّاسِ‘ سے مراد، جیسا کہ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے مشرکین مکہ ہیں۔ یہ لوگ چونکہ خدا کی یاددہانی سے اعراض پر پڑے ہوئے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے اعراض کرتے ہوئے عام لفظ سے ان کا ذکر فرمایا۔ اس اسلوب بیان سے ایک قسم کی نفرت و کراہت اور حسرت کا اظہار ہو رہا ہے اور اس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ ایک سنت الٰہی کی یاددہانی: لوگوں کے لیے ان کے محاسبہ کا وقت بالکل قریب آ گیا ہے، یہ محض ایک دھمکی نہیں بلکہ بیان واقعہ ہے ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس سنت الٰہی کی وضاحت کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی طرف اپنا رسول بھیجتا ہے تو اس کے لیے ایک ہی راہ باقی رہ جاتی ہے کہ وہ ایمان لائے۔ اگر وہ یہ راہ نہیں اختیار کرتی تو اتمام حجت کے بعد وہ لازماً تباہ کر دی جاتی ہے۔ اسی سنت الٰہی کی روشنی میں فرمایا کہ رسول کی بعثت و دعوت کے بعد ان مشرکین کا یوم الحساب بھی بالکل قریب آ لگا ہے لیکن یہ بدستور غفلت میں پڑے ہوئے، رسول کی تذکیر و تنبیہ سے اعراض کیے جا رہے ہیں، یہاں بیک وقت ان کی دو حالتوں کا ذکر ہے، ایک غفلت، دوسری اعراض۔ غفلت یعنی زندگی کے اصل حقائق سے بے پروائی، بجائے خود بھی انسان کی شامت کی دلیل ہے اور ایک بہت بڑا جرم ہے لیکن یہ جرم اس صورت میں بہت زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب کوئی اللہ کا بندہ جھنجھوڑنے اور جگانے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر رہا ہو لیکن لوگ ایسے غفلت کے ماتے ہو کہ اس کی کوئی نصیحت بھی سننے کے لیے تیار نہ ہوں۔
    ان کے رب کی طرف سے جو تازہ یاددہانی بھی ان کے پاس آتی ہے یہ اس کو بس مذاق کرتے ہوئے سنتے ہیں۔
    تازہ بتازہ یاددہانی: فرمایا کہ ان کے اندر غفلت اور لاابالی پن کے ساتھ سرمستی اور شرارت بھی ہے کہ ان کو بار بار گوناگوں پہلوؤں اور اسلوبوں سے یاددہانی کی جا رہی ہے لیکن جو تازہ تذکیر و تنبیہ بھی ان کے پاس آتی ہے اس کو سنجیدگی کے ساتھ سننے اور اس پر غور کرنے کے بجائے اس کو ہنسی میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورۂ طٰہٰ میں فرمایا ہے: ’وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّصَرَّفْنَا فِیْہِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَھُمْ ذِکْرًًا‘ (۱۱۳) (اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا اور اس میں اپنی وعید گوناگوں پہلوؤں سے واضح کردی کہ وہ خدا کے غضب سے بچیں یا یہ ان کے اندر ہماری یاددہانی کو تازہ کر دے) مطلب یہ ہے کہ اللہ نے صرف ایک بار ان کو سنا دینے ہی پر بس نہیں کیا بلکہ ان کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے تازہ بتازہ یاددہانیاں بھیجیں لیکن وہ متنبہ ہونے اور ان کی قدر کرنے کے بجائے ہر تذکیر کو اپنے مذاق کا موضوع بنا لیتے ہیں۔  
    ان کے دل غفلت میں مدہوش ہیں اور ان ظالموں نے آپس میں یہ سرگوشی کی کہ یہ تو بس تمہارے ہی مانند ایک بشر ہیں تو کیا تم آنکھوں دیکھتے جادو میں پھنسو گے!
    قریش کے لیڈروں کی سخن سازیاں: ’لَاھِیَۃً قُلُوْبُھُمْ‘ دوسرا حال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصلی کام تفکر و تذکر ہے لیکن ان کا حال یہ ہے کہ ان کے دل اپنی دلچسپیوں میں ایسے کھوئے ہیں کہ سنجیدہ سے سنجیدہ بات اور بڑی سے بڑی حقیقت کو بھی یہ مذاق میں اڑا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ قریش کے لیڈروں اور ان کے دانشوروں کی وہ باتیں نقل ہو رہی ہیں جو وہ اپنی مجالس میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے لوگوں کے اندر پھیلاتے تھے۔ ان کو یہ اندازہ اچھی طرح ہو گیا تھا کہ قرآن کی دعوت دلوں میں گھر کر رہی ہے اور صاف ذہن رکھنے والے لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر کو مٹانے کے لیے انھوں نے لوگوں کے اندر یہ وسوسہ اندازی شروع کی کہ یہ نہ سمجھو کہ ان کے کلام میں یہ زور و اثر اس چیز کا نتیجہ ہے کہ یہ کوئی فرستادے ہیں۔ دیکھتے نہیں کہ یہ بھی تمہارے ہی جیسے انسان ہیں، اگر خدا کو کوئی رسول ہی بھیجنا ہوتا توو ہ کسی فرشتے یا کسی اور مخلوق کو اپنا رسول بناتا نہ کہ ہمارے ہی جیسے ایک انسان کو! اور یہ جو ان کے کلام میں زور و تاثیر اور فصاحت و بلاغت محسوس کرتے ہو یہ بھی محض اس شخص کی جادو بیانی کا کرشمہ ہے، جس طرح ہمارے دوسرے شاعر اور خطیب اپنی جادو بیانی سے لوگوں پر اثر ڈالتے ہیں اسی طرح یہ شخص بھی اپنی جادو بیانی سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو تمہاری یہ بڑی سادہ لوحی ہو گی اگر تم جانتے بوجھتے اس شخص کے جادو میں پھنس گئے! یہ اشغلے چونکہ لیڈر لوگ خاص اپنی مجالس میں ایجاد کرتے تھے اور وہیں سے القاء ہو کر یہ لوگوں کے اندر پھیلتے تھے، اس وجہ سے ان کو ’نجویٰ‘ سے تعبیر فرمایا ہے اور ’اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا‘ کے الفاظ سے یہ ظاہر فرما دیا کہ یہ وسوسہ اندازیاں کرنے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے خود اپنے اوپر بھی ظلم کیا کہ اپنے دل و دماغ معطل کر لیے اور دوسروں کے اوپر بھی ظلم کر رہے ہیں کہ ان کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ ’سحر‘ سے مراد اور قرآن کو سحر کہنے کی وجہ: ’اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ‘ میں سحر سے مراد وہ کلام ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو سناتے تھے۔ اہل عرب اس کلام کو جس میں غیر معمولی تاثیر و تسخیر ہو سحر سے تعبیر کرتے تھے۔ زور و اثر رکھنے والے کلام کے لیے یہ تعبیر ہمارے ہاں بھی موجود ہے۔ جہاں تک قرآن مجید اور آنحضرت صلعم کے ارشادات کی فصاحت و بلاغت اور سطوت و جلالت کا تعلق ہے وہ ایسی چیز تھی کہ اس کا انکار مخالفین بھی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے اس وجہ سے وہ مجبوراً اس کا اعتراف کرتے۔ البتہ وہ اپنے عوام کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ یہ زور و اثر اس چیز کا نتیجہ نہیں ہے کہ یہ کوئی آسمانی کلام ہے یا اس کا پیش کرنے والاخدا کا کوئی رسول ہے بلکہ یہ تمام تر الفاظ کی جادوگری اور زور خطابت کی ساحری ہے تو جانتے بوجھتے، دیکھتے سنتے اس شخص کے جادو میں نہ پھنسو۔ ’وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ‘ کا ٹکڑا لوگوں کے اندر احساس برتری ابھارنے کے لیے ہے کہ تم کوئی بھولے بھالے اور سادہ لوح لوگ نہیں بلکہ سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ ہو اس وجہ سے تمہیں اس فریب میں نہیں آنا چاہیے۔
    اس نے کہا میرا رب آسمان اور زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔
    تفویض الی اللہ: یہ اس ردعمل کا بیان ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مخالفین کی اس بکواس کا ہوا۔ آپؐ جانتے تھے کہ یہ اشغلے محض لوگوں کے ورغلانے کے لیے وہ لوگ ایجاد کر رہے ہیں جن پر قرآن کا حق ہونا اچھی طرح واضح ہے اس وجہ سے آپؐ نے ان لوگوں کو خطاب کیے بغیر معاملہ اللہ کے حوالہ کیا کہ میرا رب آسمان و زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے، وہ سمیع و علیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سرگوشیاں جن نہاں خوانوں میں بھی ہو رہی ہیں اور یہ فتنے جو لوگ بھی ایجاد کر رہے ہیں، میرا رب ہر بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ تو جب وہ جانتا ہے تو وہی اس کے تدارک کا سامان بھی فرمائے گا۔ میں اس معاملہ کو اپنے رب ہی کے حوالہ کرتا ہوں۔
    بلکہ انھوں نے کہا، یہ تو خواب پریشان ہیں، بلکہ اس کو انھوں نے گھڑ لیا ہے، بلکہ یہ ایک شاعر ہیں۔ پس یہ ہمارے پاس اس طرح کی کوئی نشانی لائیں جس طرح کی نشانیوں کے ساتھ سابق رسول بھیجے گئے تھے۔
    ’اَضْعَاثُ اَحْلَامٍ‘ کا مفہوم: ’اضغاث‘ ’ضغث‘ کی جمع ہے۔ ’ضغث‘ گھاس کی اس مٹھی کو کہتے ہیں جو رطب و یابس اور خشک و تر دونوں کا مجموعہ ہو۔ یہیں سے ’اَضْعَاثُ اَحْلَام‘ کا محاورہ پیدا ہوا جس کے معنی خواب پریشان کے ہیں یعنی وہ خواب جو معنی و مفہوم سے بالکل خالی اور اپنے الجھاؤ کے سبب سے اس قابل نہ ہوں کہ ان کی تاویل و تعبیر کی طرف کوئی توجہ کی جائے اور ان کو کوئی اہمیت دی جائے۔ فرمایا کہ بات یہیں تک نہیں رہی ہے کہ یہ لوگ پیغمبر کی وحی کو سحر کہتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس کو خواب پریشان سے تعبیر کرتے ہیں، اس کو افتراء قرار دیتے ہیں، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ایک شاعر بتاتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر یہ خدا کے پیغمبر ہیں تو اس کے ثبوت کے لیے اسی طرح کی کوئی نشانی یہ بھی دکھائیں جس طرح کی نشانیوں کے ساتھ سابق انبیاء آئے۔ قرآن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے کلام کی حیثیت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کی حیثیت سے پیش فرماتے تھے جو آپؐ پر خدا کے مقرب فرشتہ جبریلؑ امین کے واسطہ سے نازل ہوتی تھی۔ مخالفوں نے جب یہ محسوس کیا کہ قرآن کے متعلق اس دعوے نے بھی اس کی اہمیت بہت بڑھا دی ہے اور لوگ اس کو انسانی کلام کی حیثیت سے نہیں بلکہ خدائی الہام کی حیثیت سے قبول کر رہے ہیں تو اس کا توڑ کرنے کے لیے انھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس کلام کے وحی الٰہی ہونے کا دعویٰ محض واہمہ کی خلاقی ہے۔ یہ خواب ہائے پریشان کا مجموعہ ہے۔ جو خیالات اس شخص کے ذہن میں رچے بسے ہوئے ہیں وہی اس کو سوتے میں خواب میں نظر آتے ہیں اور یہ ان کو (العیاذ باللہ) عوام فریبی کے لیے اس دعوے کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ یہ خدا نے ایک فرشتہ کے ذریعہ سے وحی نازل کی ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ دور حاضر کے بعض ملاحدہ نے بھی وحی کو ایک مشکوک چیز ٹھہرانے کے لیے بعینہٖ یہی بات کہی ہے جو عرب کے ان اشرار نے کہی تھی۔ بس اتنا فرق ہے کہ عرب کے جہلا نے یہ بات ناتراشیدہ انداز میں کہی اور اس زمانے کے مدعیان عقل نے اس کو ایک فلسفہ کے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انشاء اللہ آخری گروپ کی سورتوں میں ہم اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کریں گے۔ آنحضرت صلعم پر ایک شاعر ہونے کی تہمت: ’بَلِ افْتَرٰہُ‘ یعنی اس قرآن کو افتراء بھی قرار دیتے ہیں۔ اس کو افتراء قرار دینے سے ان کا مدعا یہ تھا کہ ہے تو ان کے (آنحضرتؐ کے) اپنے ذہن کی ایجاد لیکن (العیاذ باللہ) یہ جھوٹ موٹ محض ہم پر اپنی دھونس جمانے کے لیے اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ’بَلْ ھُوَ شَاعِرٌ‘ یعنی یہ ایک شاعر ہیں اور ان کے اس کلام کی ساری سحر آفرینی اس نوعیت کی ہے جس نوعیت کی سحرآفرینی ہمارے بڑے شاعروں کے کلام میں پائی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے زیادہ ان کو اور ان کے کلام کو اہمیت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اہل عرب کا تصور یہ تھا کہ ہر بڑے شاعر کے ساتھ ایک جن ہوتا ہے جو اس کو شعر القا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شاعر کہہ کر وہ لوگوں کو اس مغالطہ میں مبتلا کرنا چاہتے تھے کہ نعوذ باللہ آپؐ کے ساتھ بھی کوئی جن ہے جو یہ کلام آپؐ پر القا کرتا ہے۔ مخالفین پر قرآن کا رعب: قرآن کے مخالفین کی ان باتوں سے ایک امر تو بالکل واضح ہے کہ وہ اس کی ہیبت و جلالت سے سخت مرعوب تھے اور یہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ لوگوں کے دلوں پر سے اس کے رعب کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ البتہ ان کی یہ کوشش تھی کہ لوگوں پر اس کے خدائی کلام ہونے کی جو ہیبت بیٹھتی جا رہی ہے اس کو کسی طرح کم کریں کہ لوگ اس کو وحی و الہام کا درجہ نہ دیں بلکہ بشری و انسانی کلام ہی کے درجے میں رکھیں۔ معجزات کی نشانی کا مطالبہ: ’کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ‘ کے بعد ’بِالْاٰیٰت‘ قرینہ کی دلالت کی بنا پر حذف ہے۔ یعنی جب وہ یہ محسوس کرتے کہ قرآن اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان کی یہ اوٹ پٹانگ باتیں لوگوں کے دلوں میں اترنے والی نہیں ہیں تو یہ مطالبہ کرتے کہ اگر یہ رسول ہیں تو یہ بھی اسی طرح کی کوئی نشانی دکھائیں جس طرح کی نشانیاں پہلے آنے والے رسولوں نے دکھائیں۔ نشانی سے ان کی مراد اس طرح کے حسی معجزات یا عذاب کی نشانیاں ہیں جن کا ذکر دوسرے انبیاؑء کی سرگزشتوں کے سلسلہ میں آیا ہے۔ ان کا یہ حربہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں، ان کے زعم کے مطابق، سب سے زیادہ کارگر حربہ تھا اس لیے کہ قرآن کی دعوت تمام تر آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے دلائل پر مبنی تھی۔ وہ معجزات و خوارق اور نشانئ عذاب کے بجائے لوگوں کو آنکھیں کھولنے اور عقل و بصیرت سے کام لینے پر ابھارتا تھا کہ ایمان کا فطری راستہ عقل و دل کا راستہ ہے۔ جو لوگ عقل و بصیرت سے کام نہیں لیتے وہ خوارق دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے اور عذاب کی نشانی دیکھ کر جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان لانا بے سود ہوتا ہے۔ قرآن کی یہ بات بالکل برحق تھی لیکن مخالفین اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گریز پر محمول کر کے لوگوں کو ورغلاتے کہ دیکھو، اگر یہ سچ مچ کوئی رسول ہوتے تو ان کے لیے ہمارا یہ مطالبہ پورا کر دینا کیا مشکل تھا! لیکن جب یہ اس سے گریز کر رہے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ اپنے دعوے میں (نعوذ باللہ) جھوٹے ہیں۔
    ان سے پہلے کسی بستی کے لوگ بھی، جس کو ہم نے ہلاک کیا، ایمان لانے والے نہ بنے، تو کیا یہ لوگ ایمان لانے والے بنیں گے!
    آنحضرت صلعم کو تسلی: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ ان کی ان خرافات کی پروا نہ کرو۔ یہ ضد اور ہٹ دھرمی کی اسی روش پر چل پڑے ہیں جس پر ان سے پہلے ہلاک ہونے والی قومیں چلیں۔ جس طرح انھوں نے اپنے نبیوں کو جھٹلایا اور اس کی پاداش میں ہم نے ان کو ہلاک کر دیا اسی طرح ان کے لیے بھی ہلاکت مقدر ہو چکی ہے۔ انھوں نے ہر قسم کی نشانیاں دیکھیں لیکن ایمان کی راہ اختیار نہ کی تو ان سے کس طرح توقع رکھتے ہو کہ اگر ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی نشانی دکھا دی گئی تو یہ ایمان لانے والے بن جائیں گے! یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی اسی طرح اندھے بنے رہیں گے جس طرح آج اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں!
    اور تم سے پہلے جس کو بھی ہم نے رسول بنا کر بھیجا آدمیوں ہی میں سے بھیجا جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ تو اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔
    رسولوں کا اصل وصف امتیازی: اوپر آیت ۳ میں مخالفین کا یہ اعتراض نقل ہوا ہے: ’ھَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ‘ (یہ تو تمہارے ہی مانند ایک بشر ہیں) یہ اسی اعتراف کا جواب ہے کہ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ خدا نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا بلکہ تم سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں سب بشر ہی تھے، کبھی خدا نے غیربشر کو رسول بنا کر نہیں بھیجا۔ رسولوں کو جو امتیاز حاصل تھا وہ یہ نہیں کہ وہ مافوق بشر تھے بلکہ صرف یہ کہ ہم ان کے پاس اپنی وحی بھیجتے تھے، اسی طرح کی وحی جس طرح کی وحی ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں، جس کی مخالفت میں یہ لوگ یہ بکواس کر رہے ہیں۔ دشمن کی گواہی: ’فَسْئَلُوْآ اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‘۔ اوپر والے ٹکڑے میں خطاب کا رخ آنحضرت صلعم کی طرف تھا۔ یہ براہ راست مخالفین و معترضین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر تم اس بات سے بے خبر ہو تو ان لوگوں سے پوچھ لو جن کو پہلے خدا کی کتاب ملی اور وہ نبیوں اور رسولوں کی تاریخ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہ اشارہ اہل کتاب بالخصوص یہود کی طرف ہے۔ ان کو گواہ بنانا دشمن کو گواہ بنانے کے ہم معنی ہے اس لیے کہ اس دور میں، جیسا کہ پچھلی سورتوں سے واضح ہو چکا ہے، اہل کتاب من حیث الجماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور قریش کی حمایت کے لیے میدان میں اتر چکے تھے۔ قرآن نے ان کو گواہ بنا کر قریش پر حجت تمام کر دی کہ اس حقیقت سے انکار تو تمہارے حامیوں اور نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دشمن اہل کتاب کو بھی نہیں ہو سکتا تو انہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے! یہاں اہل کتاب کو اہل کتاب کے بجائے ’اَھْلَ الذِّکْرِ‘ سے تعبیر کرنے میں یہ بلاغت ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی مخالفت میں اندھے ہو جانے کی بات تو اور ہے لیکن ان میں سے جن کو اپنے نبیوں اور رسولوں کی یاد ہو گی وہ اس بدیہی حقیقت سے انکار کی جرأت نہیں کر سکتے۔ قریش پر ایک تعریض: ’اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‘ کے الفاظ کے اندر قریش پر ایک تعریض بھی ہے کہ ہر چند یہ بات معلوم تو تمہیں بھی ہونی چاہیے کہ تم ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے خلف اور وارث ہونے کے مدعی ہو جو بہرحال بشر ہی تھے مافوق بشر نہیں تھے، لیکن تمہیں اگر یہ بات امی ہونے کے سبب سے بھول گئی ہے تو ان لوگوں سے پوچھ کر اپنی یادداشت تازہ کر لو جن کو کم از کم یہ بات تو نہیں بھولی ہو گی کہ جتنے رسول بھی آئے سب بشر ہی تھے، کوئی بھی فرشتہ نہیں تھا۔  
    اور ہم نے ان کو ایسے جسم بھی نہیں دیے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ ابدی زندگی رکھنے والے بھی نہ تھے۔
    کوئی نبی مافوق بشر نہیں ہوا: یعنی وہ تمام انبیاؑء بھی اسی طرح کی بشری خصوصیات کے ساتھ آئے تھے جس طرح کی بشری خصوصیات تمہارے اندر ہیں۔ نہ تو ان کو ایسے جسم ملے تھے جو کھانے پینے کی ضرورت سے مستغنی ہوں اور نہ وہ زندۂ جاوید ہو کر آئے تھے۔ وہ بھی انسانوں ہی کی طرح کھاتے پیتے تھے اور انھیں بھی اسی طرح موت سے دوچار ہونا پڑا جس طرح ہر بشر کو اس سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ یہ اعتراض دوسری جگہ اس طرح نقل ہوا ہے: مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یَاْکُلُ مِمَّا تَاْکُلُوْنَ مِنْہُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ ۵ وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَکُمْ اِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ (المومنون ۳۳-۳۴) ’’یہ تو بس تمہارے ہی مانند ایک بشر ہیں۔ جو تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتے ہیں اور جو تم پیتے ہو وہی یہ پیتے ہیں تو اگر تم اپنے ہی جیسے ایک انسان کو رسول مان لو گے تو بڑے گھاٹے میں رہو گے۔‘‘ کسی نبی کو حیات جاوداں نہیں ملی: ’وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ‘۔ میں ان کے اس زعم کی تردید ہے کہ رسول کو زندہ جاوید ہونا چاہیے۔ اسی سورہ میں آگے اس خیال کی تردید یوں فرمائی گئی ہے: ’وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَاْئِنْ مِّتَّ فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ‘ (۳۵-۳۴) یعنی ہم نے تم سے پہلے کسی انسان کو بھی، خواہ وہ نبی ہو یا غیر نبی، حیات جاوداں نہیں بخشی، اگر تمہیں موت آنی ہے تو یہ بھی ہمیشہ رہنے والے نہیں ہیں، ہر نفس کو بہرصورت موت کا مزہ چھکنا پڑے گا۔ مطلب یہ ہے کہ موت تو اس کی زندگی کا ایک ناگزیر مرحلہ ہے جس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ نبی کو بھی اس مرحلہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ چیز نہ اس کی نبوت کے لیے قادح ہے، اور نہ اس کو نبی ماننے میں دوسروں کے لیے کوئی کسر شان کی بات ہے۔  
    پھر ہم نے ان سے اپنا وعدہ پورا کیا اور ان کو اور جن کو ہم چاہتے ہیں نجات دی اور حدود سے تجاوز کر جانے والوں کو ہلاک کر دیا۔
    ہر رسول کی تکذیب کرنے والے ہلاک ہوئے: ’وعد‘ سے مراد وہی وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے فرمایا کہ اگر لوگ تمہاری تکذیب کر دیں گے تو ہم تمہاری تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کر دیں گے اور تم اور تمہارے ساتھیوں کو نجات دیں گے۔ ہم یونس ۲۰ کے تحت واضح کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک اس عذاب سے جو اس دنیا میں رسول کی تکذیب کر دینے والی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جو آخرت میں ہو گا۔ یہاں پہلا عذاب مراد ہے۔ فرمایا کہ تھے تو وہ بہرحال بشر ہی لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا کر دکھایا یعنی ان کو اور جن کو ہم چاہیں نجات دی اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیا جو حدود سے تجاوز کرنے والے تھے۔ یہاں ’مَنْ نَّشَآءُ‘ کے اسلوب بیان نے کلام کو مطابق حال کر دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ اس وقت تک تمہارے سامنے بھی یہی فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اگر تم نے اپنی ضد سے ہمارے عذاب کو دعوت دی تو ہم اس سے نجات انہی لوگوں کو دیں گے جن کو چاہیں گے۔ ہماری اس مشیت میں کوئی دوسرا دخیل نہیں نہ بن سکے گا اور نہ کوئی ہماری پکڑ سے بچ سکے گا۔ ’مُسْرِفِیْنَ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا کی حدود کو ڈھٹائی کے ساتھ توڑتے ہیں اور رسول کے انذار کا مذاب اڑاتے ہیں۔ یہ لوگ خدا کے باغی قرار پاتے ہیں اور باغیوں کی سرکوبی لازماً ہو کے رہتی ہے۔
    اور ہم نے تمہاری طرف بھی ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمہارے حصہ کی یاددہانی ہے تو کیا تم سمجھتے نہیں!
    یاددہانی کے لازمی نتائج: یعنی جس طرح ہم نے پچھلی قوموں پر ان کے ہلاک کرنے سے پہلے ان کی تذکیر کے لیے رسول بھیجے کہ ان پر حجت تمام ہو جائے اسی طرح تمہارے اوپر بھی ایک کتاب اتار دی ہے جس میں تمہیں اچھی طرح یاددہانی کر دی ہے۔ اب تم ہمارے سامنے یہ عذر نہیں کر سکتے کہ تمہیں یاددہانی نہیں کی گئی۔ یہ یاددہانی اپنے لازمی نتائج اپنے ساتھ رکھتی ہے جو سنت الٰہی کے مطابق بہرحال ظاہر ہو کے رہیں گے۔ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے کہ اگر تم نے رد کر دی تو یہ رد ہو جائے گی بلکہ اس کو رد کر دینے کا وہی نتیجہ تمہارے سامنے آ کے رہے گا جو تم سے پہلے دوسری قوموں کے سامنے آ چکا۔ خدا کی جو سنت آج تک جاری ہے وہ تمہارے معاملے میں بدل نہیں جائے گی۔ ’اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘ یہاں سخت تہدید و وعید کے سیاق میں ہے کہ نادانو، تمہاری عقل کہاں کھوئی گئی ہے! کیوں اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہو! اس آیت کے صحیح زور کو سمجھنے کے لیے سورۂ طٰہٰ کی آیات ۱۳۳-۱۳۵ کے تحت جو وضاحت کی گئی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
    اور ہم نے کتنی ہی بستیاں ہلاک کر دیں جن کے لوگ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے اور ان کے بعد دوسرے لوگ اٹھا کھڑے کیے۔
    تاریخ کا حوالہ: یہ پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح تم اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہو کہ خدا کی یاددہانی کا مذاق اڑا رہے ہو اسی طرح تم سے پہلے بھی بہت سی قومیں یہی حرکت کر چکی ہیں جس کی پاداش میں ہم نے ان کے پرخچے اڑا دیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اسی جرم کے تم مرتکب ہو رہے ہو تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ خدا وہی معاملہ تمہارے ساتھ نہ کرے جو اس نے ان کے ساتھ کیا۔ ’کَانَتْ ظَالِمَۃً‘ یہاں ’ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ‘ کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے ان کے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ خدا نے اپنے رسول بھیج کر ان کو خطرے سے آگاہ کر دیا۔ لیکن انھوں نے اپنی رعونت کے سبب سے خود اس خطرے کے بند کو توڑا۔ قوموں کے ایک مغالطہ کی تردید: ’وَاَنْشَاْنَا بَعْدَھَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ‘۔ یعنی خدا کے لیے ایک قوم کو مٹا دینا اور اس کی جگہ دوسری قوم کو برپا کر دینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ کوئی بھی اپنے وجود کو اس دنیا کے لیے ناگزیر نہ سمجھے کہ اس کے اجڑنے سے خدا کی دنیا اجڑ جائے گی۔ جب کوئی قوم بغاوت کی روش اختیار کرے گی خدا اس کو مٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم کو لائے گا اور دیکھے گا کہ وہ کیا روش اختیار کرتی ہے۔ اگر وہ بھی وہی روش اختیار کرے گی تو بالآخر اس کا بھی وہی حشر ہو گا ۔۔۔ افراد ہوں یا اقوام جب ان پر خدا سے بے پروائی غالب ہوتی ہے، تو وہ اپنے وجود کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے لگ جاتے ہیں۔ یہاں اسی مغالطہ کو دور فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو بہت بڑی چیز نہ سمجھو، خدا جب چاہے گا، یہاں جھاڑو پھروا دے گا اور تمہاری جگہ دوسروں کو لا بسائے گا۔
    پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو لگے وہاں سے بھاگنے۔
    خدا کی پکڑ سے کوئی پناہ نہیں: یعنی جس طرح آج تم بڑے طنطنہ کے ساتھ خدا کے عذاب کو دعوت دے رہے ہو اسی طرح انھوں نے بھی بڑی رعونت کے ساتھ خدا کے عذاب کو دعوت دی بالآخر جب ہمارے عذاب نے ان کے دروازوں پر دستک دے دی تو اس کے مقابلہ کے لیے وہ کوئی تدبیر نہ کر سکے بلکہ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن خدا کے عذاب سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ وہ جب دبوچ لیتا ہے تو اس کے چنگل سے کوئی نہیں نکل سکتا!
    ہم نے کہا، اب بھاگو مت، اپنے عیش کے سامانوں اور اپنی عیش گاہوں کی طرف پلٹو۔ تاکہ تم سے پرسش ہو۔
    ایک طنزیہ اسلوب: یہ صورت حال کی تعبیر ہے یعنی خدا کی گرفت نے اپنی زبان حال سے ان سے کہا کہ اب کہاں بھاگتے ہو اب بھاگو مت، بھاگنے کا وقت گزر گیا! خدا کی بخشی ہوئی جن رفاہیتوں میں اب تک عیش کرتے اور اپنے جن محلوں اور ایوانوں میں بیٹھ کر خدا کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے رہے ہو، ان میں جاؤ تاکہ تمہاری اچھی طرح مزاج پرسی ہو! ’لَعَلَّکُمْ تُسْئَلُوْنَ‘ یہاں طنز و تضحیک کے مفہوم میں ہے۔ طنز و تضحیک کا یہ اسلوب ہماری زبان میں بھی ہے۔ سخت اظہار غضب کے مواقع میں ہم بھی بانداز طنز یوں کہتے ہیں کہ ٹھہرو، ابھی میں تمہاری مزاج پرسی کرتا ہوں، ابھی تمہاری خبر لیتا ہوں، ابھی پوچھتا ہوں۔ قرآن کے دوسرے مواقع میں بھی یہ اسلوب استعمال ہوا ہے۔ مثلاً آیت ۸۔ تکاثر اور آیت ۹۳۔ نحل میں۔ ’اِلٰی مَآ اُتْرِفْتُمْ فِیْہِ‘ کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ رفاہیت و نعمت کی فراوانی تمہیں بخشی تو گئی خدا کی طرف سے تاکہ تمہاری شکرگزاری کا امتحان ہو لیکن تم اس کو اپنے اب و جد کی میراث اور اپنے استحقاق ذاتی اور اپنی قابلیت کا کرشمہ سمجھے اور اس کے بل پر اسی خدا سے تم نے بغاوت کی جس کے فضل سے تمہیں یہ نعمتیں حاصل ہوئیں تو اب اس کا مزہ چکھو۔ یہاں خطاب چونکہ امراء و اغنیاء سے ہے اور ’’مساکن‘‘ کا ذکر ان کے اسباب عیش و رفاہیت کے ذکر کے بعد ہے اس وجہ سے ’مساکن‘ سے مراد انہی امراء کے ایوان و محل ہیں۔
    انھوں نے واویلا کیا کہ ہائے ہماری بدبختی! بے شک ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے!
    بعد ازوقت اعتراف: یعنی جب عذاب نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تب ان کو ہوش آیا اور انھوں نے واویلا شروع کیا اور بول اٹھے کہ بے شک ہم خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اور ہم نے یہ شامت خود بلائی۔ لفظ ’ظلم‘ کے اس مفہوم کی طرف اوپر آیت ۱۱ کے تحت ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ یہ اعتراف انھیں اس وجہ سے کرنا پڑا کہ اس عذاب سے پہلے خدا کے رسول نے انھیں اچھی طرح خبردار کر دیا تھا لیکن وہ نہ صرف اندھے بہرے بنے رہے بلکہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا مطالبہ کرتے رہے۔ بالآخر جب وہ سر پر آ دھمکا تو انھیں ماننا پڑا کہ سارا قصور ان کا اپنا ہے۔
    وہ یہی واویلا کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو خس و خاشاک اور راکھ کے مانند کر دیا۔
    ’فَمَا زَالَتْ تِّلْکَ دَعْوٰھُمْ الایۃ‘۔ ’دَعْوٰی‘ کے معنی چیخ و پکار اور استغاثہ و فریاد کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد ان کی وہی چیخ و پکار ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ یعنی وہ اسی طرح چیخ و پکار کرتے ہی رہ گئے، ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی اس لیے کہ عذاب آ جانے کے بعد چیخ پکار بے سود ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم نے ان کو کاٹی ہوئی گھاس اور بجھی ہوئی آگ کی مانند کر دیا۔ ’کاٹی ہوئی گھاس اور بجھی ہوئی آگ‘ کے استعارے میں یہ مضمون مضمر ہے کہ جس طرح گھاس کاٹ کر اس کے خشک انبار میں آگ لگا دی جائے اور وہ راکھ کا ڈھیر ہو کے رہ جائے اسی طرح ہم نے ان کو خاک اور راکھ بنا دیا۔ لفظ ’خٰمِدِیْنَ‘ یہاں مستعارلہ کی رعایت سے آیا ہے اور یہ عربی کا معروف اسلوب ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List