Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • طہ (Ta-Ha)

    135 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    اس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو، مخالفین کے مقابل میں، صبر اور انتظار کی تلقین ہے کہ آپ ان کے پیچھے زیادہ پریشان نہ ہوں، اگر وہ آپ کی بات نہیں سنتے تو بہت جلد یہ اپنا انجام خود دیکھ لیں گے۔ اسی مضمون سے سورہ کا آغاز بھی ہوا ہے اور اسی پر اختتام بھی۔ اس صبر کے حصول اور اس کی تربیت کے لیے نماز اور دعا کے اہتمام کی ہدایت فرمائی گئی ہے اور ساتھ ہی عجلت و بے صبری کے نقصانات واضح فرمائے گئے ہیں۔ سورہ میں خطاب تمام تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ مخالفین سے اگر کوئی بات کہی بھی گئی ہے تو ان کو خطاب کر کے نہیں بلکہ منہ پھیر کر غائبانہ انداز میں کہی گئی ہے۔
    پچھلی سورہ میں متعدد انبیائے عظام کا ذکر آیا ہے۔ اس میں صرف حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ ولادت سے لے کر دعوت و ہجرت تک جتنے اہم موڑ بھی ان کی زندگی میں پیش آئے ہیں سب اس سورہ میں نمایاں کیے گئے ہیں تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، دعوت کے اس مرحلہ میں بھی اور آگے کے مراحل میں بھی، جس رہنمائی کی ضرورت ہے وہ ایک عملی مثال کی صورت میں آپ کے سامنے رکھ دی جائے۔

  • طہ (Ta-Ha)

    135 آیات | مکی

    طٰہٰ —— الانبیاء

    ۲۰ ——- ۲۱

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے۔پہلی سورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس انذار و بشارت کے ردعمل پر صبر و انتظار کی تلقین ہے اور دوسری میں آپ کے مخاطبین کو شدید تنبیہ کہ اُن کے احتساب کی گھڑی قریب آگئی ہے۔ اب پیغمبر کو زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اُن کی قیادت و سیادت کا دائرہ سمٹ رہا ہے۔ وہ متنبہ ہو جائیں، اُن کے لیے خدا کا فیصلہ عنقریب صادر ہونے والا ہے۔

    پہلی سورہ میں خطاب تمام تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسری میں قریش مکہ سے ہے۔

    اِن سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 020 Verse 001 Chapter 020 Verse 002 Chapter 020 Verse 003 Chapter 020 Verse 004 Chapter 020 Verse 005 Chapter 020 Verse 006 Chapter 020 Verse 007 Chapter 020 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ طٰہٰ ہے۔
    یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ ان حروف پر مفصل بحث سورۂ بقرہ کے شروع میں دیکھیے۔
    ہم نے تم پر قرآن اس لیے نہیں اتارا ہے کہ تم مصیبت میں پھنس جاؤ۔
    تبلیغ میں حضورؐ کی محنت شاقہ اور آپؐ کو دل نواز تسلی: یہ نہایت دل نواز اور پر محبت انداز میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھایا ہے کہ قرآن کی تبلیغ و دعوت سے متعلق آپ نے اپنے سر پر جو ذمہ داری اٹھائی ہے اور جو محنت شاقہ اس کے لیے آپ جھیل رہے ہیں، اس کا مطالبہ ہرگز آپ سے نہیں ہے۔ آپ کی ذمہ داری صرف لوگوں تک اس کتاب کو پہنچا دینے کی ہے۔ جن کے اندر حق شناسی کی صلاحیت اور خشیت الٰہی کی کچھ رمق ہو گی وہ اس کو قبول کریں گے، جو ان صلاحیتوں سے عاری ہیں ان کے دلوں میں اس کو اتار دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ان کے پیچھے آپ اپنی زندگی کو اجیرن بنا لیں۔ یہ بات ہم اس کتاب میں متعدد جگہ واضح کر چکے ہیں کہ رات دن دعوت کے کام میں لگے رہنے کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ لوگ اتنی واضح بات کو جھٹلا رہے ہیں اور کسی طرح ان کے دل نرم ہوتے نظر نہیں آتے تو آپ کو یہ پریشانی ہوتی کہ مبادا اس میں آپ ہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ اس احساس سے دعوت کے کام میں آپ کی سرگرمیاں اور بڑھ جاتیں اور سارے جتن کر ڈالنے کے باوجود آپ کو کسی طرح تشفی نہ ہوتی۔ آپ کی اسی حالت پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن آپؐ پر اس لیے نہیں اتارا گیا کہ آپؐ کی زندگی اجیرن ہو کے رہ جائے۔ آپ کی جو ذمہ داری ہے وہ ادا کر دیجیے۔ دوسروں کے ایمان و اسلام کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
    یہ تو بس ان لوگوں کے لیے یاددہانی ہے جو خدا سے ڈریں۔
    قرآن ایک تذکرہ ہے: اس ٹکڑے سے قرآن کی حیثیت بھی واضح ہو گئی، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری کی حد بھی معین ہو گئی اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کون لوگ اس سے اثر پذیر ہوں گے اور کون اس سے محروم رہیں گے۔ فرمایا کہ یہ تو بس ایک ’تذکرہ‘ ہے۔ ’تذکرہ‘ کے معنی یاددہانی کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یاددہانی جس چیز کی کی جاتی ہے وہ خارج سے لائی ہوئی چیز کی نہیں کی جاتی بلکہ اس چیز کی کی جاتی ہے جو مخاطب کے خود اپنے پاس ہو لیکن وہ اس کو بھولا ہوا ہو۔ قرآن پر غور کیجیے تو اس کی اصلی نوعیت یہی ہے۔ وہ کوئی اوپری اور انوکھی چیز نہیں ہے۔ وہ کسی خارج سے لائی ہوئی چیز کو ہمارے اوپر نہیں لادتا بلکہ انہی حقائق کی یاددہانی کرتا ہے جو خود ہماری فطرت کے اندر موجود ہیں لیکن ہم ان سے غافل ہیں۔ قرآن ان حقائق کی یاددہانی کے لیے جو دلائل استعمال کرتا ہے وہ بھی آفاق و انفس کے وہی دلائل ہیں جو ہماری عقل کے خزانے میں موجود ہیں۔ لیکن ہم یا تو ان کو استعمال نہیں کرتے یا ان کے بدیہی نتائج کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ عبرت و موعظت کے لیے قرآن نے جو تاریخ پیش کی ہے وہ بھی ان قوموں کی پیش کی ہے جو مخاطب گروہ کی جانی پہچانی ہوئی تھیں۔ جن انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کا حوالہ دیا ہے یہ بھی وہ انبیاء ہیں جن کی ذریت اور جن کے پیرو ہونے کے لوگ مدعی تھے۔ قرآن سے اثر پذیر ہونے کے لیے شرط: اس یاددہانی سے اثر پذیر ہونے والوں کی صفت ’لِّمَنْ یَّخْشٰی‘ بیان فرمائی۔ قرینہ دلیل ہے کہ ’یَّخْشٰی‘ کا مفعول یہاں محذوف ہے۔ قرآن کے نظائر کی روشنی میں اس محذوف کو متعین کیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ ’لِّمَنْ یَّخْشٰی رَبَّہٗ بِالْغَیْبِ‘ یعنی یاددہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو غیب میں رہتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ یہ دوسرے لفظوں میں وہی بات ارشاد ہوئی ہے جو بقرہ کی دوسری ہی آیت میں ’ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ‘ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ وہاں ہم نے تفصیل سے واضح کیا ہے کہ یہ تقویٰ اور یہ خوف ان تمام لوگوں کے اندر موجود ہوتا ہے جن کی فطرت مسخ ہونے سے محفوظ رہتی ہے۔ اس طرح کے لوگوں پر اگر غفلت ہوتی ہے تو وہ قرآن کی یاددہانی سے دیر سویر جاگ پڑتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی بداعمالیوں سے اپنی فطرت مسخ کر لیتے ہیں ان کو کتنا ہی جھنجھوڑیے وہ کروٹ نہیں لیتے۔ ان کے اوپر گدھوں کی طرح ڈنڈے کی منطق کے سوا اور کوئی منطق کارگر نہیں ہوتی۔ وہ سب کچھ سر کی آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں لیکن خدا کے ہاں ماننا صرف وہ معتبر ہے جو عقل و دل کی آنکھوں سے دیکھ کر مانا جائے نہ کہ سر کی آنکھوں سے۔ نبی مذکِّر ہوتا ہے نہ کہ مصیطر: قرآن کے تذکرہ ہونے سے یہ بات بھی نکلی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت ایک ’مذکِّر‘ کی ہے، نہ کہ ایک ’مصیطر‘ کی۔ آپ کا فریضہ صرف یہ تھا کہ آپ لوگوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلا دیں۔ یہ لوگ اس سبق کو یاد کرتے ہیں یا نہیں، یہ لوگوں کی ذمہ داری تھی نہ کہ آپ کی۔ قرآن نے یہاں اسی حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اگر آپ کی قوم کے لوگ آپ کی تذکیر سے فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں تو آپ پریشان نہ ہوں، اس کے لیے جواب دہ عند اللہ وہ ہیں نہ کہ آپ۔
    یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اس ذات کی طرف سے اتارا گیا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔
    ’تنزیل‘ کا مفہوم: ’تنزیل‘ کے معنی دوسرے مقام میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ کسی چیز کو نہایت اہتمام اور ترتیب و تدریج کے ساتھ اتارنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن چونکہ لوگوں کی یاددہانی کے لیے اترا ہے اس وجہ سے اللہ نے صرف اتنے پر اکتفا نہیں فرمایا کہ کسی نہ کسی طرح بات ایک مرتبہ لوگوں تک پہنچ جائے بلکہ نہایت اہتمام اور تدریج اور وقفہ وقفہ کے ساتھ اس کو اتارا تاکہ لوگوں کے لیے یہ عذر باقی نہ رہے کہ بات کے سنانے یا سمجھانے میں کوئی کسر رہ گئی۔ قرآن کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خالق کا فرمان ہے: ’مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰی‘۔ یہ قرآن کی عظمت واضح فرمائی کہ یہ زمین اور بلند آسمانوں کے خالق و مالک کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ نہ یہ کوئی ہوائی بات ہے کہ یوں ہی ہوا میں اڑ جائے نہ یہ کسی سائل کی درخواست ہے کہ لوگوں نے قبول کر لی تو سائل پر ان کا کرم ہو گا، نہ قبول کی تو سائل محروم ہو کر رہ جائے گا۔ بلکہ یہ خالق ارض و سماء کا فرمان واجب الاذعان ہے، اگر لوگوں نے اس کو رد کیا تو اچھی طرح سوچ لیں کہ اس کے نتائج کیا کچھ ہو سکتے ہیں۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ اشارہ بھی ہے کہ اس کو اسی طرح لوگوں کے سامنے پیش کیجیے جس طرح آسمان و زمین کے خالق و مالک کا کلام پیش کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے نہ زیادہ استمالت کی ضرورت ہے، نہ کسی الحاح و اصرار کی۔ اس کے قبول کرنے میں لوگوں کا اپنا نفع ہے نہ کہ خدا کا۔ یہ کوئی ملتجیانہ درخواست نہیں ہے بلکہ خلق کے لیے صحیفۂ ہدایت ہے اس کو رد کرنے والے خود اپنی شامت بلائیں گے۔ آپ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے قرآن مجید میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ سورۂ عبس میں یہی حقیقت یوں واضح کی گئی ہے: کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ. (۱۱-۱۶) “ہرگز نہیں! یہ تو ایک یاددہانی ہے تو جو چاہے اس سے فائدہ اٹھائے۔ یہ معزز بلند اور پاکیزہ صحیفوں میں ہے۔ باعزت اور باوفا کاتبوں کے ہاتھ میں۔”  
    جو رحمان عرش حکومت پر متمکن ہے۔
    قرآن کی عظمت کا بیان اور یہ خدا کی جن صفات کا مظہر ہے ان کا حوالہ: یہ قرآن کی عظمت کا بیان بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا یہ مظہر ہے ان کی طرف اشارہ بھی۔ فرمایا کہ وہ خالق ارض و سماء رحمان ہے۔ اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ وہ خلق کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ نہ دے بلکہ جس طرح اس نے اس کی مادی زندگی کے اسباب و وسائل مہیا فرمائے اسی طرح اس کی ہدایت کا سامان بھی کرے، چنانچہ اس نے انسان کی رہنمائی کے لیے اس کو عقل و نطق سے نوازا اور اس پر مزید فضل یہ فرمایا کہ اس کی ہدایت کے لیے اپنی کتاب اتاری۔ اسی حقیقت کی طرف سورۂ رحمان میں ’اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ قرآن کو رد کر رہے ہیں وہ نہ تو خدا کا کچھ بگاڑ رہے ہیں نہ اس کے رسول کا بلکہ خود اپنے آپ کو خدا کی سب سے بڑی رحمت سے محروم کر رہے ہیں۔ ’عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی‘ یہ خدائے رحمان کی صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ دنیا کو پیدا کر کے الگ تھلگ کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے بلکہ بالفعل اپنی کائنات کے عرش حکومت پر متمکن ہے۔ اس کائنات کا حقیقی فرماں روا وہی ہے اس وجہ سے لوگوں کو قرآن کے ذریعہ سے اس نے اپنے احکام و قوانین سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس آگاہی کے بعد جو لوگ اپنی من مانی کریں گے وہ حساب کے دن اپنا انجام خود دیکھ لیں گے۔
    اسی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے، جو کچھ زمین میں ہے، جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے۔
    ’لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَمَا بَیۡنَھُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی‘۔ یہ شرک کے ہر جرثومہ کی جڑ کاٹ دی۔ فرمایا کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان اور جو کچھ زیرزمین ہے سب کا خالق و مالک وہی ہے۔ سب کو خلق بھی اسی نے کیا ہے اور سب پر اختیار بھی اسی کا ہے۔ اس کائنات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو اس کی خدائی سے باہر ہو۔ جس کو کسی خاص دائرے میں کوئی آزادی ملی بھی ہے وہ بھی اس کے امر و حکم کے تحت ہے۔ اس وجہ سے کوئی یہ گمان نہ کرے کہ وہ خدا سے کہیں بھاگ سکتا ہے یا کوئی دوسرا اس کو پناہ دے سکتا ہے۔
    خواہ تم علانیہ بات کہو یا چپکے سے، وہ علانیہ اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے۔
    عربیت کا ایک اسلوب: فصیح عربی کے اسلوب کے مطابق اس میں مقابل کے الفاظ، بربنائے قرینہ، حذف ہیں۔ اس اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آئے ہیں۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات گویا یوں ہو گی، ’وَاِنْ تَجْھَرْ بِالْقَوْلِ اَوْ تُخَافِتْ بِہٖ فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَالسِّرَّ وَاَخْفٰی‘۔ یعنی خواہ تم بات کو علانیہ کہو یا چپکے سے کہو، خدا علانیہ، پوشیدہ اور پوشیدہ تر سب کو جانتا ہے۔ نبی صلعم کو ایک نئے پہلو سے تسلی: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دوسرے پہلو سے تسلی دی گئی ہے کہ آپ مطمئن رہیں کہ اپنی مشکلات میں جو کچھ آپ اپنے پروردگار سے کہتے اور جو دعا و مناجات بھی کرتے ہیں خواہ سرًّا یا علانیۃً، اور جو پریشانی بھی آپ کو لاحق ہوتی ہے خواہ وہ زبان پر آئے یا دل کے مخفی گوشوں ہی میں رہے، آپ کا رب علیم و خبیر ہر چیز سے باخبر رہتا ہے۔ مقصود اس حقیقت کے اظہار سے ظاہر ہے کہ اس کا لازم ہے۔ یعنی جب آپ کا پروردگار ہر مخفی سے مخفی بھید سے بھی واقف ہے تو وہ کسی حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور اسی میں آپ کے لیے خیر و برکت ہے۔ سورۂ مریم کی آیت ۶۴ ’وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیَّا‘ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں مزید تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
    اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمام اچھی صفتیں اسی کے لیے ہیں۔
    تفویض کی ہدایت: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل تفویض کی ہدایت ہے کہ آپ مخالفین کے رویہ سے پریشان اور ان کے پیچھے ہلکان ہونے کے بجائے اپنا معاملہ کلیۃً اپنے رب کے حوالے کیجیے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کے ہوتے آپ کسی کے محتاج نہیں۔ تسلی و طمانیت کا خزانہ: اسمائے حسنیٰ کی برکات: ’لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی‘۔ یہ ٹکڑا تسلی و طمانیت کا خزانہ ہے۔ اوپر کی آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تسلی دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے اس کی عظمت، اس کی رحمت، اس کی حاکمیت اس کی یکتائی اور اس کے علم کے مقتضیات کی روشنی میں دی گئی ہے لیکن خدا کی صفات اتنی ہی تو نہیں ہیں! وہ تو تمام اچھی اور اعلیٰ صفتوں سے متصف ہے تو ظاہر ہے کہ ان صفات کے مقتضیات بھی حضورؐ کے لیے حالات کے اعتبار سے ظاہر ہوں گے۔ گویا اس ٹکڑے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ تمام اچھی صفتیں خدا ہی کے لیے ہیں اور وہ سب آپ کے اوپر سایہ فگن ہیں، آپ ان میں سے جس کا سہارا بھی لیں گے اس کی برکتوں سے متمتع ہوں گے۔ ان کے سوا آپ کسی اور سہارے کے محتاج نہیں ہیں۔ اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ یہاں اسماء سے مراد صفات الٰہی ہیں اس لیے کہ خدا کے تمام نام اس کی صفات ہی کی تعبیر ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List