باب ہفتم الملک - الناس قریش کے سرداروں کو انذار قیامت،اُن پر اتمام حجت، اِس کے نتیجے میں اُنھیں عذاب کی وعید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سرزمین عرب میں غلبۂ حق کی بشارت باب ہفتم الملک - الناس ۶۷ ——- ۱۱۴ یہ قرآن مجید کا ساتواں باب ہے۔ اِس میں’الملک‘(۶۷) سے ’الناس‘ (۱۱۴) تک اڑتالیس سورتیں ہیں۔ اِن سورتوں کے مضامین اور باب میں اِن کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن میں سے پہلی چھیالیس سورتیں ام القریٰ مکہ میں اور آخری دو—- ’الفلق‘اور ’الناس‘—- ہجرت کے فوراً بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ قرآن مجید کے دوسرے تمام ابواب کی طرح یہ چیز اِس باب میں بھی ملحوظ ہے کہ یہ مکی سورتوں سے شروع ہو تا اور مدنیات پر ختم ہوجاتا ہے۔ اِس میں خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے، لیکن تسلی اور بشارت کی چند سورتوں کے سوا اِس کی نوعیت محض التفات کی ہے۔ اِس باب کے اصل مخاطب ابولہب کی قیادت میں قریش مکہ ہیں۔ چنانچہ مضمون کے تدریجی ارتقا سے یہ بات اِس کی آخری سورتوں میں اِس قدر واضح ہو جاتی ہے کہ کسی دوسری راے کے لیے کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ اِس کا موضوع قریش کے سرداروں کو انذار قیامت، اُن پر اتمام حجت ، اِس کے نتیجے میں اُنھیں عذاب کی وعید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سرزمین عرب میں غلبۂ حق کی بشارت ہے۔ یہ موضوع ابتدا سے انتہا تک پورے باب میں اِس خوبی کے ساتھ زیر بحث آیا ہے کہ دعوت و انذار سے ہجرت و برا ء ت تک رسولوں کی دعوت کے سب مراحل اِس سے بالکل نمایاں ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔ اِس ترتیب کو سمجھنے کے لیے اِس کے مباحث کا خلاصہ ہم ذیل میں بیان کیے دیتے ہیں: ۱۔ مرحلہٴ انذار الملک ۶۷ ۔ الجن ۷۲ قیامت کا اثبات اور اُس کے بارے میں قریش کو انذار نذیر کی حیثیت سے رسول کو جھٹلانے کا نتیجہ ۶۷۔۶۸ جزا و سزا کا اثبات، اُس کی تصویر اور نذیر کی حیثیت سے قرآن کی حقانیت پر ’مَا تُبْصِرُوْنَ‘ اور ’مَا لَا تُبْصِرُوْنَ‘ کی شہادت اِس انذار کا مذاق اڑانے والوں کو عذاب کی وعید اور پیغمبر کو اُن کے مقابلے میں صبر کی تلقین ۶۹۔۷۰ ’مَا تُبْصِرُوْنَ‘ اور ’مَا لَا تُبْصِرُوْنَ‘ کے اجمال کی تفصیل اور اُس کے حوالے سے قریش کو اُن کے رویے پر تنبیہ ۷۱۔۷۲ ۲۔ مرحلہٴ انذار عام المزمل ۷۳ ۔ الم نشرح ۹۴ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انذار عام کے لیے تیاری کی ہدایت اِس انذار کا حکم، اِس کے حدود، تقاضے اور اِس کی ابتدا ۷۳۔۷۴قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار ۷۵۔۷۶ قیامت کا اثبات اوراُس کے حوالے سے قریش کو انذار ۷۷۔۷۸ قیامت کا اثبات، اُس کے حوالے سے قریش کو انذار اور اُس کے بارے میں اُن کے رویے پر اُنھیں تنبیہ ۷۹۔۸۰ قیامت کی ہلچل اور اُس میں جزا و سزا کے حوالے سیقریش کو تنبیہ ۸۱۔۸۲ قیامت کی جزا و سزا کے حوالے سے تنبیہ ۸۳۔۸۴ قیامت سے متعلق قریش کے شبہات کی تردید اور اہل ایمان پر اُن کے ظلم و ستم اور پیغمبر اور اُس کی دعوت کے مقابلے میں اُن کی چالوں پر اُنھیں عذاب کی وعید ۸۵۔۸۶ انذار قیامت اور نذیر کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ۸۷۔۸۸ انذار قیامت اور قریش کے سرداروں کو اُن کی سرکشی اور طغیان پر تنبیہ ۸۹۔۹۰ انذار قیامت، سرکشی پر تنبیہ اور خاتمۂ کلام کے طور پر اُن کے لیے فلاح اور خسران کے راستوں کی وضاحت ۹۱۔۹۲ نذیر کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور آیندہ ایک بڑی کامیابی کی بشارت ۹۳۔۹۴ ۳۔ مرحلہٴ اتمام حجت التین ۹۵۔ قریش ۱۰۶ اتمام حجت کے اسلوب میں قیامت کا اثبات، اُس کے بارے میں قریش کے رویے پر اُن کو تنبیہ ،اُن کے بڑے سردار کو تہدید جو قرآن جیسی کتاب کے ذریعے سے تعلیم کے بعد بھی اپنی سرکشی پر قائم رہا ۹۵۔۹۶ نذیر کی حیثیت سے قرآن کی عظمت کا بیان قریش کو اور اُن کی پشت پر کھڑے ہوئے اہل کتاب کواُن کے اِس مطالبے کی لغویت پر تنبیہ کہ قرآن کے بجاے اُن پر ایک ایسی کتاب اتاری جائے جسے خدا کا کوئی فرستادہ آسمان سے اُن کے لیے پڑھتا ہوا لے کر اترے ۹۷۔۹۸ اِسی اسلوب میں قیامت کے متعلق قریش کو نصیحت کہ اُس کے بارے میں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ وہاں چھوٹی بڑی ہر نیکی اور برائی پوری قطعیت کے ساتھ اُن کے سامنے آجائے گی اُنھیں تنبیہ کہ لوٹ مار اور بد امنی کے ماحول میں محض حرم سے اپنے تعلق کی بنا پر جس امن سے وہ رہ رہے ہیں اور خدا کی جو نعمتیں اِس گھر کے طفیل اُنھیں حاصل ہیں، اُن پر خدا کا شکر ادا کریں اور اُس کے دیے ہوئے رزق میں سے اُس کی راہ میں خرچ کریں۔اِس کے بجاے جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اُس کے ساتھ اُنھیں سوچنا چاہیے کہ اُن کا انجام کیا ہو گا ۹۹۔۱۰۰ قیامت کی تصویر اور اُس سے اُن کی غفلت پر انتہائی موثر اسلوب میں تنبیہ ۱۰۱۔۱۰۲ خدا کے قانون مجازات کا اثبات اور اُس کے حوالے سے اُن کے سرداروں کو تہدید کہ اُن کا ٹھکانا اب وہ آگ ہو گی جو دلوں تک پہنچے گی ۱۰۳۔۱۰۴ واقعۂ فیل کے حوالے سے تنبیہ و تہدید اور بیت اللہ کی تولیت کے طفیل جو نعمتیں اُنھیں حاصل تھیں، اُن کے حوالے سے تلقین کہ اُن کا حق اب اُنھیں ادا کرنا چاہیے ۱۰۵۔۱۰۶ ۴۔ مرحلہٴ ہجرت و برا ٴت الماعون ۱۰۷ ۔ الاخلاص ۱۱۲ قریش کے سرداروں کی فرد قرارداد جرم، اُنھیں عذاب کی وعید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بشارت کہ حرم کی تولیت اب اُن کی جگہ آپ کو حاصل ہو گی اور آپ کے دشمنوں کی جڑ سرزمین عرب سے ہمیشہ کے لیے کٹ جائے گی ۱۰۷۔ ۱۰۸ ام القریٰ کے ائمۂ کفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان براء ت اور سرزمین عرب میں غلبۂ حق کی بشارت ۱۰۹۔۱۱۰ قریش کی قیادت، بالخصوص ابولہب کا نام لے کر اُس کی ہلاکت کی پیشین گوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عقیدۂ توحید کا فیصلہ کن اعلان ۱۱۱۔۱۱۲ ۵۔ خاتمہ الفلق ۱۱۳ ۔ الناس ۱۱۴ خاتمۂ باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین کہ آپ اپنی اور اپنے مشن کی حفاظت کے لیے دنیا کی تمام آفتوں سے اپنے پروردگار کی پناہ مانگتے رہیں، یہود و قریش اور ذریت ابلیس کے شیاطین جن وانس اگلے مراحل میں پوری قوت کے ساتھ آپ پر حملہ کرنے والے ہیں ۱۱۳۔۱۱۴