​باب ششم ق - التحریم قیامت کا اثبات،اُس کے حوالے سے قریش کو انذار و بشارت اور مسلمانوں کا تزکیہ و تطہیر باب ششم ق - التحریم ۵۰ —- ۶۶ یہ قرآن مجید کا چھٹا باب ہے۔ اِس میں ’ق‘ (۵۰) سے ’التحریم‘ (۶۶) تک سترہ سورتیں ہیں۔ اِن سورتوں کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن میں سے پہلی سات سورتیں ام القریٰ مکہ میں اور آخری دس ہجرت کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ قرآن مجید کے دوسرے ابواب کی طرح یہ چیز اِس باب میں بھی ملحوظ ہے کہ یہ مکی سورتوں سے شروع ہوتا اور مدنیات پر ختم ہو جاتا ہے۔ اِس کے مخاطب مکی سورتوں میں قریش مکہ اور مدنیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والے ہیں۔ اہل کتاب اُنھی کے ضمن میں زیربحث آئے ہیں۔ مکی سورتوں میں اِس لیے کہ اُن کے زمانۂ نزول میں وہ بھی قریش کی حمایت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے لیے میدان میں آ چکے تھے، اور مدنیات میں اِس لیے کہ مسلمانوں کے اندر منافقین کے بعض گروہ اُنھی کے زیراثر تھے۔ اِس کا موضوع قیامت کا اثبات، اُس کے حوالے سے قریش کو انذار و بشارت اور مسلمانوں کا تزکیہ و تطہیر ہے۔ اللہ و رسول کے لیے تسلیم و اطاعت کے تقاضے اِسی تزکیہ و تطہیر کے ذیل میں اور اُس وقت کی صورت حال کے لحاظ سے بیان ہوئے ہیں۔