باب دوم الانعام - التوبۃ قریش پر اتمام حجت
مسلمانوں کا تزکیہ و تطہیر اورقریش اور اہل کتاب ، دونوں کے لیے خدا کی آخری دینونت کے ظہور کا بیان باب دوم الانعام - التوبۃ ۶ —- ۹ یہ قرآن مجید کا دوسرا باب ہے۔ اِس میں ’الانعام ‘ سے ’التوبۃ‘ تک چار سورتیں ہیں ۔ اِن سورتوں کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن میں سے پہلی دو—- ’الانعام‘ اور ’الاعراف‘—- ام القریٰ مکہ میں اور آخری دو—- ’الانفال‘اور ’التوبۃ‘—- ہجرت کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ قرآن کے دوسرے تمام ابواب کی طرح یہ چیز اِس باب میں بھی ملحوظ ہے کہ یہ مکی سورتوں سے شروع ہوتا اور مدنیات پر ختم ہو جاتا ہے۔ اِس کے مخاطب مکی سورتوں میں قریش اور مدنیات میں مسلمان ہیں، اہل کتاب کا ذکر اگر کہیں ہوا ہے تو ضمناً ہوا ہے۔ چنانچہ اِس کی مکیات میں استدلال بھی بیش تر عقل و فطرت اور انفس و آفاق کے شواہد سے ہے یا پھر تاریخ کے حقائق اور قریش کے مسلمات سے۔ اِس لیے کہ وہ صحیح بھی تھے اور قریش اُنھیں تسلیم بھی کرتے تھے۔ اِس کا موضوع قریش پر اتمام حجت،مسلمانوں کا تزکیہ و تطہیر، اور قریش اور اہل کتاب، دونوں کے لیے خدا کی آخری دینونت کے ظہور کا بیان ہے۔ یہ باب ایک ذروۂ سنام ہے جس میں آگے اور پیچھے کے تمام ابواب اپنے منتہا کو پہنچتے اور رسولوں کے باب میں خدا کی اُس سنت کا ظہور ہوتا ہے جس کے تحت اُنھیں غلبہ حاصل ہوتا اور اُن کے مخالفین لازماً مغلوب ہو جاتے ہیں۔ یہ مضمون اِس باب میں جس ترتیب کے ساتھ بیان ہوا ہے، وہ یہ ہے: الانعام: دعوت و انذار۔ الاعراف: انذار اور اتمام حجت۔ الانفال: اتمام حجت کے بعد خدا کی آخری دینونت کے لیے مسلمانوں کا تزکیہ و تطہیر اور اُنھیں جہاد کی تیاری کی ہدایت۔ التوبۃ: آخری دینونت کا ظہور۔