باب اول الفاتحۃ - المائدۃ یہود و نصاریٰ پر اتمام حجتاُن کی جگہ ذریت ابراہیم ہی کی ایک دوسری شاخ، بنی اسمٰعیل میں سے امت مسلمہ کی تاسیس اُس کا تزکیہ و تطہیر اور اُس کے ساتھ خدا کے آخری عہد و پیمان کا بیان باب اول الفاتحۃ - المائدۃ ۱ - ۵ یہ قرآن مجید کا پہلا باب ہے۔ اِس میں ’الفاتحۃ ‘ سے ’المائدۃ‘ تک پانچ سورتیں ہیں ۔ اِن سورتوں کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن میں سے پہلی سورہ—- ’الفاتحۃ‘—- ام القریٰ مکہ میں اور باقی چار سورتیں—- ’البقرۃ‘، ’آل عمران‘، ’النساء‘ ، ’المائدۃ‘—- ہجرت کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ قرآن مجید کے دوسرے سب ابواب کی طرح یہ چیز اِس باب میں بھی ملحوظ ہے کہ یہ ایک مکی سورہ سے شروع ہوتا اور مدنیات پرختم ہو جاتا ہے ۔مضمون کے لحاظ سے اِن کا باہمی تعلق دعا اور جواب دعا کا بھی ہے اور اجمال اور تفصیل کا بھی ۔سورۂ فاتحہ میں ہم بالاجمال جن سلبی اور ایجابی حوالوں سے دعا کرتے ہیں، اِس کے بعد کی مدنیات میں اُنھی کی تفصیل کی گئی ہے۔ اِس میں خطاب اگرچہ ، ضمناً ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اور مدینہ کے مشرکین سے بھی ، لیکن اصل مخاطب اگر غور کیجیے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذریت ہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عالمی سطح پر اتمام حجت کے لیے اُسی طرح منتخب کیا ، جس طرح وہ بنی آدم میں سے بعض ہستیوں کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے۔ اِس کا موضوع ،یہودونصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ذریت ابراہیم ہی کی ایک دوسری شاخ، بنی اسمٰعیل میں سے امت مسلمہ کی تاسیس، اُس کا تزکیہ وتطہیر اور اُس کے ساتھ خدا کے آخری عہد و پیمان کا بیان ہے۔ یہ موضوع اِس باب میں اِس حسن ترتیب کے ساتھ ابتدا سے انتہا تک پہنچتا ہے کہ تورات و انجیل کے بعد ایک نئی ہدایت کی ضرورت اور اِس ہدایت کے مطابق امت مسلمہ کی تاسیس سے لے کر اِس امت کے لیے تکمیل دین اور اتمام نعمت تک کے سب مراحل بالکل نمایاں ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔ اِس ترتیب کو سمجھنے کے لیے اِس کے مباحث کا خلاصہ ہم ذیل میں بیان کیے دیتے ہیں: الفاتحۃ: نئی ہدایت کی دعا۔ البقرۃ: اِس ہدایت کے بارے میں یہود کا رویہ ، اُن پر اتمام حجت اور اُن کی جگہ ذریت ابراہیم کی ایک دوسری شاخ، بنی اسمٰعیل میں سے امت مسلمہ کی تاسیس اور اُس کے فرائض کا بیان۔ آل عمران: یہودو نصاریٰ پر اتمام حجت اور امت مسلمہ کا تزکیہ و تطہیر۔ النساء: امت کے لیے صالح معاشرت کی اساسات اور اُس کا تزکیہ و تطہیر ۔ المائدۃ: امت پر اتمام نعمت اور اُس کے ساتھ اللہ پروردگار عالم کا آخری عہد و پیمان۔