البیان ۔ جاوید احمد غامدی


البیان تدبر قرآن
Chapter 001 Verse 005 Chapter 001 Verse 006 Chapter 001 Verse 007 Click on a verse to highight Commentary
(پروردگار)، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت بخش دے۔ اُن لوگوں کی راہ جن پر تو نے عنایت فرمائی ہے، جو نہ مغضوب ہوئے ہیں، نہ راہ سے بھٹکے ہیں۔
عبادت کا لفظ عربی زبان میں اصلاً خضوع اور تذلل کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں یہ اُس خضوع و خشوع کے لیے خاص ہو گیا ہے جو بندہ اپنے خداوند کے لیے ظاہر کرتا ہے۔ اِس کے ظہور کی اصل صورت پرستش ہی ہے ،لیکن انسان چونکہ اِس دنیا میں اپنا ایک عملی وجود بھی رکھتا ہے ، اِس وجہ سے اِس ظہور سے آگے بڑھ کر یہ عبادت انسان کے اِس عملی وجود سے بھی لازماً متعلق ہوتی ہے اور اِس طرح پرستش کے ساتھ اطاعت کو بھی شامل ہو جاتی ہے ۔اُس وقت یہ انسان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اُس کا باطن جس ہستی کے سامنے جھکا ہوا ہے ،اُس کا ظاہر بھی اُس کے سامنے جھک جائے ۔ اُس نے اپنے آپ کو اندرونی طور پر جس کے حوالے کر دیا ہے ، اُس کے خارج میں بھی اُس کا حکم جاری ہو جائے۔ یہاں تک کہ اُس کی زندگی کا کوئی پہلو اِس سے مستثنیٰ نہ رہے۔ یہی عبادت ہے جسے شرک کی ہر آلایش سے پاک کر کے اللہ ہی کے لیے خاص کرنے کا اقرار اِس آیت میں کیا گیا ہے ۔ چنانچہ اِس میں صرف اتنی بات نہیں کہی گئی کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں ، بلکہ پورے زور کے ساتھ اِس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے اورتجھی سے مدد چاہتے ہیں ۔اِس اعتراف و اقرار کے بعد ظاہر ہے کہ نہ بندے کے پاس کسی کو دینے کے لیے کچھ رہا ہے اور نہ کسی سے کچھ مانگنے کی کوئی گنجایش اُس کے لیے باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ خاص عبادت کے معاملے میں بھی اور زندگی کے دوسرے تمام معاملات میں بھی وہ اللہ ہی سے مدد کی درخواست کرتا ہے۔ سورہ کی ابتدا جس جذبۂ شکر کے اظہار سے ہوئی ہے ،غور کیجیے تو یہ اُس کا لازمی نتیجہ ہے جو اِس اعتراف و اقرار کی صورت میں بندے کی زبان پر جاری ہو گیا ہے۔

اصل الفاظ ہیں: ’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘۔ اِن میں الف لام عہد کا ہے، یعنی وہ سیدھی راہ جس کی وضاحت آگے کی آیت میں کی گئی ہے۔ آیت میں ’اِھْدِنَا‘، ’الی‘ کے بغیر آیا ہے ۔چنانچہ عربیت کی رو سے اب اِس کا مفہوم صرف اِسی قدر نہیں رہا کہ ہمیں سیدھی راہ دکھا ،بلکہ اِس سے بہت کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔ یعنی اِس پر ہمارے دلوں کو مطمئن کر دے۔اِس پر چلنے کا شوق عطا فرما، اِس پر ثبات و استقامت بخش دے۔ اِس کے نشیب و فراز میں ہماری رہنمائی کر اور مرتے دم تک اِس پر اِسی طرح چلتے رہنے کی توفیق عنایت فرما دے۔

یعنی اُن لوگوں کی راہ جنھیں تو نے اپنی ہدایت سے نوازا اور اُنھوں نے پورے دل اور پوری جان کے ساتھ اِس طرح اُسے قبول کیا کہ تیری نعمت ہر لحاظ سے اُن پر پوری ہو گئی ۔ سورۂ نساء (۴) آیت ۶۹ میں وضاحت ہے کہ اِس سے مراد انبیا و صدیقین اور شہداوصالحین کی مقدس جماعت ہے ۔ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اپنی سرکشی کے باعث اِس ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا یا قبول کیا تو دل کی آمادگی سے قبول نہیں کیا اور ہمیشہ اِس سے انحراف پر مصر رہے ۔خدا کے جن بندوں نے اُن کی اصلاح کرنا چاہی، اُنھیں جھٹلایا۔ یہاں تک کہ اُن میں سے بعض کو اذیتیں دیں اور بعض کو قتل کر دیا۔ چنانچہ اپنے اِن جرائم کی پاداش میں وہ خدا کے غضب کے مستحق ٹھیرے۔ اِس میں اشارہ یہود کی طرف ہے جن پر آگے سورۂ بقرہ میں اتمام حجت کیا گیا ہے۔ یعنی جنھوں نے دین کا چہرہ اپنی بدعتوں اور ضلالتوں سے اِس طرح مسخ کر دیا کہ اب خود بھی اُسے پہچاننے سے قاصر ہیں۔ اِس میں اشارہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے پیرووں کی طرف ہے جن پر آگے سورۂ آل عمران میں اتمام حجت کیا گیا ہے۔