البیان ۔ جاوید احمد غامدی


البیان تدبر قرآن
Chapter 001 Verse 001 Chapter 001 Verse 002 Chapter 001 Verse 003 Chapter 001 Verse 004 Click on a verse to highight Commentary
اللہ کے نام سے جو سراسر رحمت ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔ شکر اللہ ہی کے لیے ہے، عالم کا پروردگار۔ سراسر رحمت، جس کی شفقت ابدی ہے۔ جو روزِ جزا کا مالک ہے۔
یہ آیت سورۂ توبہ کے سوا قرآن مجید کی ہر سورہ کے شروع میں بالکل اُسی طرح آئی ہے، جس طرح یہاں ہے ۔ لہٰذا یہ قرآن کی ایک آیت تو یقیناً ہے اور اِس کی سورتوں کے شروع میں اِسی طرح نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے لکھی گئی ہے ،لیکن اپنے اِس محل میں سورۂ فاتحہ سمیت کسی سورہ کی بھی آیت نہیں ہے، بلکہ ہر جگہ سورہ سے الگ اپنی ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے ۔ ’إقرأہ علی الناس‘ کا مفہوم اِس میں عربیت کی رو سے مقدر ہے ، یعنی اللہ، رحمن و رحیم کے نام سے یہ قرآن لوگوں کو پڑھ کر سناؤ، اے پیغمبر——چنانچہ اِس لحاظ سے دیکھیے تو اِس میں ’ب‘ گویا سند کے مفہوم میں ہے اور یہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تورات کی اُس پیشین گوئی کا ظہور ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ خدا کا کلام خود اُسی کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔ استثنا میں ہے: ’’میں اُن کے لیے ، اُنھی کے بھائیوں میں سے ،تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے حکم دوں گا ، وہی وہ اُن سے کہے گا ۔ اور جو کوئی میری اُن باتوں کو، جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا ، نہ سنے تو میں اُن کا حساب اُس سے لے لوں گا۔‘‘ (۱۸: ۱۸۔۱۹)

اصل میں لفظ ’الْحَمْدُ‘ استعمال ہوا ہے ۔ عربی زبان میں یہ کسی کی خوبیوں اور کمالات کے اعتراف کے لیے بولا جاتا ہے ۔ پھر اِن خوبیوں اور کمالات کا فیض اگرحمد کرنے والے کو بھی پہنچ رہا ہو تو اِس میں شکر کا مفہوم آپ سے آپ شامل ہو جاتاہے ۔ چنانچہ سورۂ اعراف (۷) آیت ۴۳، سورۂ یونس (۱۰) آیت ۱۰ اور سورۂ ابراہیم (۱۴) آیت ۳۹ میں اِس کے نظائر سے واضح ہوتا ہے کہ ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ کی ترکیب میں یہ بالعموم اُسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے ہم لفظ شکر سے ادا کرتے ہیں۔ اِس سورہ میں ، اگر غور کیجیے تو یہ اُس جذبۂ شکر و سپاس کی تعبیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی عالم گیر ربوبیت اور بے پایاں رحمت کے مشاہدے اور قیامت میں اُس کی ہمہ گیر دینونت کے بارے میں انبیا علیہم السلام کی تذکیر سے پیدا ہوتا ہے یا پیدا ہونا چاہیے ۔ اللہ کا نام لفظ ’الٰہ‘ پر الف لام داخل کر کے بنا ہے، نزول قرآن سے پہلے عرب جاہلیت میں بھی یہ نام اُسی پروردگار کے لیے خاص تھا جو زمین و آسمان اور اُن کے مابین تمام مخلوقات کا خالق ہے ۔ اہل عرب مشرک ہونے کے باوجود اپنے دیوی دیوتاؤں میں سے کسی کو بھی اُس کے برابر قرار نہیں دیتے تھے۔ اصل میں ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ رب کے معنی اصلاً پالنے والے کے ہیں۔ پھر اِس مفہوم کے لازمی نتیجے کے طور پر مالک اور آقا کے معنی اِس لفظ میں پیدا ہوئے اور اردو کے لفظ پروردگار کی طرح اِس پر ایسا غلبہ حاصل کرلیا کہ پرورش کرنے والے کے معنی میں اِس کا استعمال عربی زبان میں باقی نہیں رہا ۔ سورہ کی ابتدا جس جذبۂ شکر کی تعبیر سے ہوئی ہے ، یہ ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ ا ور اِس کے بعد کی صفات اُس کی دلیل ہیں جو استدلال کے طریقے پر نہیں، بلکہ ایک بدیہی حقیقت کے اعتراف و اقرار کے اسلوب میں بیان ہوئی ہیں ۔ یعنی شکر اُس اللہ کے لیے ہے جو پوری کائنات کا مالک ہے ۔ ہم اُس کی مخلوق ہیں ۔ چنانچہ وہی ہمارا بھی مالک ہے ۔ہم دنیا میں قدم نہیں رکھتے کہ ہماری پرورش، نگہداشت اور تربیت کا پورا سامان اُس مالک کی طرف سے بالکل تیار موجود ہوتا ہے ۔پھر جب تک ہم زندہ رہتے ہیں ،صبح و شام اِس حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ سورج ،چاند، ابروہوا، غرض یہ کہ کائنات کے سب چھوٹے بڑے عناصر ہماری ہی خدمت کے لیے سرگرم عمل ہیں اور اِس لیے سرگرم عمل ہیں کہ اُن کی باگ ایک ایسی ہستی کے ہاتھ میں ہے جو اُن کے دائرۂ عمل اور اُن کی غایت اور مقصود سے اُنھیں سرمو انحراف کی اجازت نہیں دیتی۔ ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ یہاں اِسی حقیقت کی تعبیر ہے۔

اصل میں ’رَحْمٰن‘ اور ’رَحِیْم‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ دونوں اگرچہ رحمت ہی سے صفت کے صیغے ہیں ، لیکن معنی کے لحاظ سے دیکھیے تو اِن میں واضح فرق ہے۔استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن ‘‘میں اِس فرق کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اسم ’رحمٰن‘، ’غضبان‘ اور ’سکران‘ کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ، اوراسم ’رحیم‘، ’علیم‘ اور ’کریم‘ کے وزن پر صفت کا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ’رحیم‘ کے مقابل میں ’رحمٰن‘ میں زیادہ مبالغہ ہے، اِس وجہ سے ’رحمٰن‘ کے بعد ’رحیم‘ کا لفظ اُن کے خیال میں ایک زائد لفظ ہے جس کی چنداں ضرورت تو نہیں تھی، لیکن یہ تاکید مزید کے طور پر آ گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ عربی زبان کے استعمالات کے لحاظ سے ’فعلان‘ کا وزن جوش و خروش اور ہیجان پر دلیل ہوتا ہے اور ’فعیل‘ کا وزن دوام و استمرار اور پائداری و استواری پر۔ اِس وجہ سے اِن دونوں صفتوں میں سے کوئی صفت بھی براے بیت نہیں ہے، بلکہ اِن میں سے ایک خدا کی رحمت کے جوش و خروش کو ظاہر کر رہی ہے، دوسری اُس کے دوام و تسلسل کو ۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ خدا کی رحمت اِس خلق پر ہے بھی اِسی نوعیت سے ۔ اُس میں جوش ہی جوش نہیں ہے ، بلکہ پائداری اور استقلال بھی ہے ۔اُس نے یہ نہیں کیا ہے کہ اپنی رحمانیت کے جوش میں دنیا پیداتو کر ڈالی ہو ،لیکن پیدا کر کے پھر اُس کی خبر گیری اور نگہداشت سے غافل ہو گیا ہو،بلکہ اُس کو پیدا کرنے کے بعد وہ اپنی پوری شان رحیمیت کے ساتھ اُس کی پرورش اور نگہداشت بھی فرما رہا ہے ۔بندہ جب بھی اُسے پکارتا ہے ،وہ اُس کی پکار سنتا ہے اور اُس کی دعاؤں اور التجاؤں کو شرف قبولیت بخشتا ہے ،پھر اُس کی رحمتیں اِسی چند روزہ زندگی ہی تک محدود نہیں ہیں ،بلکہ جو لوگ اُس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں گے ، اُن پر اُس کی رحمت ایک ایسی ابدی اور لازوال زندگی میں بھی ہو گی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے ۔غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ ساری حقیقت اُس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتی ،جب تک یہ دونوں لفظ مل کر اُس کو ظاہر نہ کریں ۔‘‘ (۱/ ۴۸) ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ کے بعد یہ دونوں صفات جس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں ،وہ یہ ہے کہ جس پروردگار نے عالم میں ربوبیت کا یہ اہتمام فرمایا ہے ،اُس کے بارے میں یہ بات اگر نہیں کہی جا سکتی اور یقیناً نہیں کہی جا سکتی کہ اُس کی کوئی ذاتی غرض اِس اہتمام سے وابستہ ہے یا وہ اپنی سلطنت کے قیام و بقا کے لیے اِس کا محتاج ہے یا کسی کا کوئی حق اُس پر قائم ہوتا ہے جسے ادا کرنے کے لیے یہ اہتمام اُسے کرنا پڑا ہے تو اِس کی وجہ پھر یہی ہو سکتی ہے کہ وہ رحمن و رحیم ہے ۔اُس کی رحمت کا جوش ہے کہ اُس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور اِس رحمت کا دوام و استمرار ہے کہ اُس کا فیضان برابر ہمیں پہنچ رہا ہے۔  

یعنی یہ اُس کی پروردگاری اور اُس کی رحمت کے دوام و استمرار کا تقاضا ہے کہ وہ ایک دن اپنی عدالت برپا کرے ۔ چنانچہ وہ اُسے برپا کرے گا اور اِس طرح برپا کرے گا کہ اُس دن سارا زور و اختیار اُسی کو حاصل ہو گا ۔ سب کے سر اُس کے سامنے جھکے ہوں گے ، کسی کو یارا نہ ہو گا کہ اُس کے سامنے زبان کھول سکے ۔ہر معاملے کا فیصلہ وہ خود کرے گا اور کوئی اُس کے فیصلے پر کسی پہلو سے اثر انداز نہ ہو سکے گا۔