Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • مریم (Mary)

    98 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سورۂ کہف کی مثنیٰ یا بالفاظ دیگر اس کی توام سورہ ہے۔ ان دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ وہی مضمون جو سورۂ کہف میں بیان ہوا ہے اس میں بھی بیان ہوا ہے۔ لیکن طریق استدلال اور نہج بیان میں فرق ہے۔ اس میں حضرت آدم، نوح اور ابراہیم علیہم السلام کی نسل میں پیدا ہونے والے انبیائے اولوالعزم کے متعلق یہ بات بتائی گئی ہے کہ ان کی دعوت، توحید کی دعوت تھی۔ انھوں نے نماز و زکوٰۃ کا حکم دیا لیکن ان کے پیرو شرک میں مبتلا ہوئے اور نماز و زکوٰۃ ضائع کر کے بدعات و شہوات میں پڑ گئے۔ اور اب جب کہ ان کو ان کے اصل دین کی دعوت دی جا رہی ہے تو اس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین کی گئی ہے اور انجام کار کی کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔ آخر میں مخالفین کی گمراہی کی اصل علت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے مقابل میں اپنی دنیوی کامیابیوں کو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ان کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ خدا کی طرف سے ان کے لیے ڈھیل ہے کہ خدا کی حجت ان پر پوری ہو جائے اور جب وہ پکڑے جائیں تو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
    اس میں حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم علیہما السلام کا ذکر خاص طور پر نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم پچھلی سورہ میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس دور میں یہود کی طرح نصاریٰ نے بھی درپردہ قریش کی پشت پناہی شروع کر دی تھی۔ اہل کتاب کی اس پشت پناہی سے قریش کو بڑی طاقت حاصل ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب امی ہونے کے سبب سے مذہبی معاملات میں اہل کتاب سے ایک قسم کا حسن ظن رکھتے تھے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ اہل کتاب بھی انہی کے ہم خیال ہیں تو اس سے ان کا حوصلہ بہت بڑھ گیا۔ قرآن نے اہل کتاب کے اس اثر کو باطل کرنے کے لیے ان کی حقیقت واضح کی۔ چنانچہ پیچھے سورۂ بنی اسرائیل میں یہود کا بالکل بے بنیاد ہونا واضح کیا ہے۔ اور اس سورہ میں بالکل اسی انداز میں نصاریٰ کی بے ثباتی دکھائی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ قریش پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے وہ بھلا حق و باطل کے اس معرکے میں ان کے لیے کیا سہارا بن سکیں گے۔

  • مریم (Mary)

    98 آیات | مکی

    الکہف - مریم

    ۱۸ - ۱۹

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔

    پہلی سورہ ۔۔۔ الکہف ۔۔۔ میں اِس کے حقائق اُن واقعات سے مبرہن کیے گئے ہیں جن کے بارے میں قریش مکہ نے اہل کتاب، بالخصوص نصاریٰ کے القا کیے ہوئے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتحان کی غرض سے آپ کے سامنے پیش کیے ہیں۔

    دوسری سورہ ۔۔۔ مریم ۔۔۔ میں اِن القا کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے خود اِن کے دین کی حقیقت پوری طرح واضح کر دی ہے تاکہ قریش کو متنبہ کیا جائے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے، اگر اُن کی شہ پر خدا کے پیغمبر کی ناقدری کرو گے تو اندازہ کر لو کہ کتنی بڑی نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلو گے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 019 Verse 001 Chapter 019 Verse 002 Chapter 019 Verse 003 Chapter 019 Verse 004 Chapter 019 Verse 005 Chapter 019 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورہ ’کٓھٰیٰعٓصٓ‘ ہے۔
    یہ سورہ کا نام ہے۔ اِس طرح کے جو نام قرآن میں آئے ہیں، اُن کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔
    یہ تیرے پروردگار کے (فضل و) رحمت کا ذکر ہے جو اُس نے اپنے بندے زکریا پر کیا تھا۔
    لفظ ’ذِکْر‘ یہاں اُسی مفہوم میں ہے جس میں آگے ’اُذْکُرْ‘ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ آیت میں لفظ ’عَبْد‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ حضرت زکریا کے اختصاص کو بیان کرتا ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں، جس کو اللہ تعالیٰ خود اپنا بندہ کہہ کر یاد فرمائے، اُس کے لیے اِس سے بڑا اعزاز کیا ہو سکتا ہے۔ یہ زکریا کون تھے؟ ہم سورۂ آل عمران (۳) کی آیت ۳۷ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں کہ یہ سیدنا ہارون علیہ السلام کے خاندان سے اور سیدہ مریم کے خالو تھے۔ بنی اسرائیل میں کہانت کا جو نظام قائم کیا گیا تھا، اُس کی رو سے لاوی بن یعقوب کا گھرانا مذہبی خدمات کے لیے خاص تھا۔ پھر بنی لاوی میں سے بھی مقدس میں خداوند کے آگے بخور جلانے اور پاک ترین چیزوں کی تقدیس کی خدمت سیدنا ہارون کے خاندان کے سپرد تھی۔ دوسرے بنی لاوی مقدس کے اندر نہیں جا سکتے تھے، بلکہ صحنوں اور کوٹھڑیوں میں کام کرتے تھے۔ سبت کے دن اور عیدوں کے موقع پر سوختنی قربانیاں چڑھاتے تھے اور مقدس کی نگرانی میں بنی ہارون کی مدد کرتے تھے۔ زکریا بنی ہارون کے خاندان میں سے ابیاہ کے سربراہ تھے۔ چنانچہ اپنے خاندان کی طرف سے یہی معبد کی خدمت انجام دیتے تھے۔
    جب اُس نے اپنے پروردگار کو چپکے چپکے پکارا۔
    یعنی راز و نیاز کے انداز میں۔ یہ دعا کے آداب میں سے ہے، اِس لیے کہ اِسی میں بندہ اپنے پروردگار کے لیے خاص ہو کر اپنی درخواست اُس کے حضور پیش کرتا ہے۔
    اُس نے عرض کیا: میرے پروردگار، میری ہڈیاں بوڑھی ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اور اے پروردگار، تجھ سے مانگ کر میں کبھی محروم نہیں رہا۔
    آگے کی آیتوں میں اشارہ ہے کہ اُنھوں نے یہ درخواست ہیکل میں غالباً اعتکاف کی حالت میں پیش کی ہے۔
    مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں سے اندیشہ ہے اور میری بیوی بانجھ ہے۔ سو اپنے پاس سے تو مجھے ایک وارث عطا فرما دے۔
    یعنی وہ دینی اور اخلاقی لحاظ سے اچھے لوگ نہیں ہیں۔ چنانچہ اندیشہ ہے کہ میرے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد میری اور میرے خاندان کی اُن روایات کو قائم نہ رکھ سکیں گے جو ہمارا اصل سرمایۂ امتیاز ہیں۔ یہاں تک اُس درخواست کی تمہید ہے جو اُنھوں نے آگے پیش فرمائی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...حضرت زکریا نے عرض مدعا سے پہلے اُس کے لیے تمہید استوار کی ہے اور اِس میں شبہ نہیں کہ ایسی مؤثر تمہید استوار کی ہے کہ اگر سوء ادب پر محمول نہ کیجیے تو عرض کروں کہ یہ خدا کی رحمت پر کمند ڈال دینے والی تمہید ہے۔ حضرت زکریا نے ایک تو اپنے ضعف و ناتوانی کو سفارش میں پیش کیا، دوسرے اپنے ساتھ زندگی بھر اپنے رب کے معاملے کو۔ فرماتے ہیں کہ اے رب، میں کبھی تجھے پکار کے محروم نہیں رہا۔ غور کیجیے کہ جو سائل جس در سے کبھی محروم نہیں لوٹا ہے، وہ اِس پیری و ناتوانی میں، جبکہ اُس کی ہڈیوں تک کی گود خشک ہو چکی ہے، اُس دروازے سے کس طرح محروم لوٹایا جائے گا۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۶۳۵)
    جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب کے خاندان کا بھی۔ اور میرے پروردگار، تو اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔
    یعنی پسندیدہ اخلاق کا حامل اور اُن کمزوریوں سے پاک جو اِس وقت خاندان میں در آئی ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List