Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الاسراء (Isra, The Night Journey, The Children of Israel)

    111 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ نحل ۔۔۔ کی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، توام سورہ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے، صرف تفصیل و اجمال کا فرق ہے۔ پچھلی سورہ میں جو باتیں اشارات کی شکل میں ہیں وہ اس سورہ میں نہایت واضح صورت میں آگئی ہیں۔ مثلاً۔
    پچھلی سورہ میں مشرکین مکہ کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کے لیے دعوت اور انذار دونوں ہے لیکن جہاں تک بنی اسرائیل کا تعلق ہے بات صرف اشارات کی شکل میں ہے۔ اس سورہ میں تفصیل کے ساتھ ان کو مخاطب کر کے، ان کی اپنی تاریخ کی روشنی میں، یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اگر تم اس غرے میں مبتلا ہو کہ تم خدا کے محبوب اور چہیتے ہو تو یہ غرہ محض خود فریبی پر مبنی ہے، تمہاری اپنی تاریخ شاہد ہے کہ جب جب تم نے خدا سے بغاوت کی ہے تم پر مار بھی بڑی ہی سخت پڑی ہے۔ خدا کی رحمت کے مستحق تم اسی صورت میں ہوئے ہو جب تم نے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کی ہے تو اگر اپنی بہبود چاہتے ہو تو اس پیغمبرؐ کی پیروی کرو جو اسی سیدھی راہ کی دعوت دے رہا ہے جو تورات کے ذریعے سے تم پر کھولی گئی تھی۔ ساتھ ہی معراج کے واقعے کی طرف اشارہ کر کے مشرکین مکہ اور بنی اسرائیل دونوں پر یہ حقیقت بھی واضح فرمائی گئی ہے کہ اب مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں کی امانت خائنوں سے چھین کر اس نبیؐ امی کے حوالہ کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو جس کو اپنی روش بدلنی ہے وہ بدلے ورنہ اپنی ضد اور سرکشی کے تنائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے۔
    قرآن جس فطری اور سیدھے طریقۂ زندگی کی دعوت دے رہا ہے، پچھلی سورہ میں صرف اس کی اساسات کی طرف اجمالی اشارہ تھا۔ اوامر میں عدل، احسان اور قرابت مندوں کے حقوق کی ادائی کا حوالہ تھا اور منہیات میں فحشاء، منکر اور بغی کا۔ اس سورہ میں اس کی پوری تفصیل آ گئی ہے۔ اس تفصیل سے تورات کے احکام عشرہ کے ساتھ اس کی مطابقت واضح ہوتی ہے۔ گویا انسانی فطرت اور قدیم آسمانی تعلیم دونوں ہم آہنگ ہیں اس وجہ سے قریش اگر اس سے بغاوت کرتے ہیں تو ان کی بھی شامت ہے اور اگر بنی اسرائیل اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں تو ان پر بھی خدا کی پھٹکار ہے۔
    پچھلی سورہ میں ہجرت کا ذکر بھی ہے لیکن اشارے کی شکل میں ہے۔ اس سورہ میں اس کا ذکر نہایت واضح طور پر ہوا ہے اور اس کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان کی ہدایت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کو ایسے انداز میں دی گئی ہے جس سے یہ نمایاں ہو رہا ہے کہ اس کا وقت بہت قریب ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورہ ہجرت کے قریب زمانہ میں نازل ہوئی۔

  • الاسراء (Isra, The Night Journey, The Children of Israel)

    111 آیات | مکی
    النحل —— بنی اسرائیل

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا باہمی تعلق اجمال اور تفصیل کا ہے۔ چنانچہ پہلی سورہ میں جو چیزیں اشارات کی صورت میں ہیں، دوسری میں اُن کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ یہود سے مفصل خطاب، اخلاق کے فضائل و رذائل کی وضاحت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کے لیے تیاری کی ہدایت اِس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ دونوں سورتوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے اور دونوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے۔ دوسری سورہ—- بنی اسرائیل—- میں، البتہ یہود سے بھی مفصل خطاب کیا گیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قریش کی حمایت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے لیے اب وہ بھی پوری طرح میدان میں آ چکے ہیں۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 017 Verse 001
    Click translation to show/hide Commentary
    ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے اُس دور کی مسجد تک لے گئی جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے تاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک، وہی سمیع و بصیر ہے۔
    اصل میں لفظ ’سُبْحٰن‘ ہے۔ یہ تنزیہہ کا کلمہ ہے جو خدا کے باب میں کسی سوء ظن یا غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے آتا ہے۔ آیت میں لفظ ’عَبْدِہٖ‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس موقعے پر حضور کے لیے اِس لفظ کا استعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضور کے غایت درجہ اختصاص، آپ کے ساتھ اللہ کی غایت درجہ محبت اور آپ کے کمال درجہ عبدیت کی دلیل ہے۔ گویا آپ کی ذات کسی اور تعریف و تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ لفظ ’عَبْد‘ نے خود انگلی اٹھا کر ساری خدائی میں سے اُس کو ممیز کر دیا جو اِس لفظ کا حقیقی محمل و مصداق ہے۔‘‘(تدبرقرآن۴/ ۴۷۴) اِس سے یروشلم کی مسجد مراد ہے جسے بیت المقدس کہا جاتا ہے۔ یہ حرم مکہ سے کم و بیش ۴۰ دن کی مسافت پر تھی۔ اِس کا تعارف اِسی بنا پر ’الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا‘، یعنی دور کی مسجد کے الفاظ سے کرایا ہے تاکہ مخاطبین کا ذہن آسانی سے اِس کی طرف منتقل ہو سکے۔ اصل الفاظ ہیں: ’الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘۔ ابراہیم علیہ السلام کی بابل سے ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو مقامات کا انتخاب کیا، جہاں خود اُس کے حکم سے دو مسجدیں تعمیر کی گئیں اور اُنھیں پورے عالم کے لیے توحید کی دعوت کا مرکز بنا دیا گیا۔ ایک سرزمین عرب اور دوسرے فلسطین۔ اِن میں سے پہلا مقام وادی غیر ذی زرع اور دوسرا انتہائی زرخیز ہے۔ قدیم صحیفوں میں اِسی بنا پر اُسے دودھ اور شہد کی سرزمین کہا گیا ہے۔ ’الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘ کے الفاظ سے قرآن نے اِسی طرف اشارہ کیا ہے اور اِس طرح بالکل متعین کر دیا ہے کہ دور کی جس مسجد کا ذکر ہو رہا ہے، وہ یروشلم کی مسجد ہے۔ فرمایا کہ خدا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے اُس دور کی مسجد تک لے گیا۔ یہ لے جانا کس طرح ہوا؟ قرآن نے آگے اِسی سورہ کی آیت ۶۰ میں بتا دیا ہے کہ یہ ایک رؤیا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ جس مقصد سے اختیار کیا،استاذامام امین احسن اصلاحی نے اُس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’... رؤیا کا مشاہدہ چشم سر کے مشاہدے سے زیادہ قطعی، زیادہ وسیع اور اُس سے ہزارہا درجہ عمیق اور دور رس ہوتا ہے۔ آنکھ کو مغالطہ پیش آسکتا ہے، لیکن رویاے صادقہ مغالطے سے پاک ہوتی ہے؛ آنکھ ایک محدود دائرے ہی میں دیکھ سکتی ہے، لیکن رؤیا بہ یک وقت نہایت وسیع دائرے پر محیط ہوجاتی ہے؛ آنکھ حقائق و معانی کے مشاہدے سے قاصر ہے، اُس کی رسائی مرئیات ہی تک محدود ہے، لیکن رؤیا معانی و حقائق اور انوار و تجلیات کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۴۷۶) یعنی اِس بات کی نشانیاں کہ حرم مکہ کے ساتھ اب فلسطین کی سرزمین اور اُس کی امانت بھی بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی جائے گی۔ تاہم اِن نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں کی گئی، اِس لیے کہ نہ الفاظ اِس تفصیل کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ وہ ہمارے علم و عقل اور تصورات کی گرفت میں آسکتی ہیں۔ آیت میں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ اوپر کی بات غائب کے صیغے سے بیان ہوئی ہے اور یہاں متکلم کا صیغہ آگیا ہے۔ اِس میں اسلوب بیان کی یہ بلاغت ہے کہ متکلم کا صیغہ التفات خاص کو ظاہر کر رہا ہے، جبکہ اوپر تفخیم شان مقصود تھی جسے غائب کے صیغے سے ظاہر فرمایا ہے۔ آیت کے شروع میں لفظ’سُبْحٰن‘جس پہلو سے آیا ہے، یہ صفات اُس کی وضاحت کر رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ہی سمیع و بصیر ہے تو یہ اُسی کا کام تھا کہ اُن بد عہدوں کا محاسبہ کرے جنھوں نے ، سیدنا مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں، اُس کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے۔ بنی اسرائیل اِس گھر میں جو کچھ کہتے اور کرتے رہے ہیں، اُس کو سننے اور دیکھنے کے بعد یہی ہونا تھا۔ چنانچہ خدا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اِس گھر کی امانت اب نبی امی کے حوالے کر دی جائے گی۔ آپ کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے یہاں تک اِسی مقصد سے لایا گیا ہے۔ خدا ہر عیب سے پاک ہے، لہٰذا وہ کسی طرح گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ ایک قوم کو لوگوں پر اتمام حجت کے لیے منتخب کرے اور اُس کی طرف سے اِس درجے کی سرکشی کے باوجود اُسے یوں ہی چھوڑے رکھے۔ ناگزیر تھا کہ پیش نظر مقصد کے لیے وہ کوئی دوسرا اہتمام کرے۔ اُس نے یہی کیا ہے اور عالمی سطح پر دعوت و شہادت کی ذمہ داری بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی ہے۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List