Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • النحل (The Honey Bees)

    128 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس گروپ کی تمام سورتوں کے عمود پر ایک جامع بحث ہم سورۂ یونس کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں۔ رسول کی بعثت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش شروع ہوتی ہے وہ لازماً رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کی فتح اور اس کے جھٹلانے والوں کی ہزیمت پر ختم ہوتی ہے۔ یہی حقیقت ایک نئے اسلوب سے اس سورہ میں بھی واضح کی گئی ہے۔ اس پہلو سے دیکھیے تو اس کی آیت ۳۰ ’لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ وَلَدَارُ الْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ‘ کو عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی جو لوگ نیکی اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھی فیروز مندی ہے اور آخرت کا گھر تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے ہی اور کیا ہی خوب ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کا گھر۔ یہی بات اس سورہ کی آیات ۴۱-۴۲ میں بھی فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ حق کی راہ میں مخالفین حق کے مظالم سہہ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت اختیار کرتے ہیں ہم ان کو دنیا میں بھی اقتدار و تمکن عطا کرتے ہیں اور آخرت کا صلہ تو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے ہی۔

    سابق سورہ (سورۂ حجر) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس تسلی کے مضمون پر ختم ہوئی تھی کہ آج جو لوگ تمہارے انذار اور تمہاری تنبیہ و تذکیر کا مذاق اڑا رہے ہیں اور تمہاری باتوں کو محض ہوائی باتیں خیال کر رہے ہیں تم ان کے اس استہزاء سے دل شکستہ نہ ہو، تمہاری طرف سے ان متکبروں اور مغروروں سے نپٹنے کے لیے ہم کافی ہیں۔ اس مضمون کے بعد یہ سورہ بغیر کسی تمہید کے ان متکبرین ہی کو خطاب کر کے یوں شروع ہو گئی ہے کہ ’اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ سُبْحٰٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘۔ یعنی عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہو چکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ، اور یہ لوگ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ جن کو خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہیں وہ ان کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کا کوئی شریک و سہیم ہو۔

  • النحل (The Honey Bees)

    128 آیات | مکی
    النحل —— بنی اسرائیل

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا باہمی تعلق اجمال اور تفصیل کا ہے۔ چنانچہ پہلی سورہ میں جو چیزیں اشارات کی صورت میں ہیں، دوسری میں اُن کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ یہود سے مفصل خطاب، اخلاق کے فضائل و رذائل کی وضاحت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کے لیے تیاری کی ہدایت اِس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ دونوں سورتوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے اور دونوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے۔ دوسری سورہ—- بنی اسرائیل—- میں، البتہ یہود سے بھی مفصل خطاب کیا گیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قریش کی حمایت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے لیے اب وہ بھی پوری طرح میدان میں آ چکے ہیں۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 016 Verse 001 Chapter 016 Verse 002 Chapter 016 Verse 003 Chapter 016 Verse 004 Chapter 016 Verse 005 Chapter 016 Verse 006 Chapter 016 Verse 007 Chapter 016 Verse 008 Chapter 016 Verse 009
    Click translation to show/hide Commentary
    اللہ کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے، سو اُس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ وہ پاک اور برتر ہے اُن چیزوں سے جنھیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں۔
    یہ اُس فیصلے کا اعلان ہے جو رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد لازماً صادر ہو جاتا ہے۔ قرآن کے مخاطبین اُسی کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ یہ اُنھی کو خطاب فرمایا ہے۔ اِس آیت میں پہلے براہ راست خطاب ہے، پھر غائب کا صیغہ آگیا ہے۔ یہ التفات کیوں ہوا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس میں بلاغت یہ ہے کہ پہلے ٹکڑے میں تہدید و وعید ہے جس کے لیے خطاب ہی کا اسلوب زیادہ موزوں ہے اور اِس دوسرے ٹکڑے میں کراہت و نفرت کا اظہار ہے جس کے لیے غائب کا صیغہ زیادہ مناسب تھا۔ گویا بات اُن سے منہ پھیر کر فرمائی گئی ۔‘‘ (تدبرقرآن ۴/ ۳۸۹)  
    (اِنھیں بتاؤ، اے پیغمبر کہ ہر شخص اِس کا اہل نہیں ہوتا کہ اللہ اُس پر فرشتے اتار دے)۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، اپنے حکم کی وحی کے ساتھ فرشتے اتارتا ہے، (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ لوگوں کو خبردار کر دو کہ میرے سوا (تمھارا) کوئی معبود نہیں ہے، لہٰذا مجھی سے ڈرو۔
    اصل میں ’بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی اپنے حکم کی روح کے ساتھ۔ ’رُوْح‘سے مراد یہاں وحی الٰہی ہے۔ قرآن میں یہ لفظ اِس معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جو پھونک یا کلمہ خدا سے صادر ہو کر فرشتہ بن جاتا ہے یا انسان کا قالب اختیار کرتا ہے یا لفظ کا جامہ پہنتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی چیز ہے۔
    اُس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ (اُس کے فیصلوں پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا)، وہ برتر ہے اُن چیزوں سے جنھیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں۔
    یعنی غایت و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ یہ کائنات بامعنیٰ انجام کو پہنچے اور اِس میں جو کچھ ہوا ہے، خدا کی عدالت انصاف کے ساتھ اُس کا فیصلہ سنا دے۔ یہ کوئی بازیچۂ اطفال نہیں ہے کہ لوگ اِس میں جو چاہیں، کرتے پھریں اور اُن سے کوئی بازپرس نہ ہو۔
    اُس نے انسان کو ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا تو دیکھتے ہو کہ یکایک وہ ایک کھلا ہوا حریف بن کر اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔
    اشارہ ہے اُنھی سرکشوں کی طرف جو اُس وقت قرآن کے مخاطب تھے۔
    یہ چوپایے بھی اُس نے پیدا کیے ہیں جن میں تمھارے لیے جاڑے کی پوشاک ہے اور دوسرے فائدے بھی اور اِن سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔
    n/a
    اِن کے اندر تمھارے لیے جمال بھی ہے، جبکہ شام کے وقت اِن کو واپس لاتے ہو اور جب صبح کو چرنے کے لیے چھوڑتے ہو۔
    اصل الفاظ ہیں: ’حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَسْرَحُوْنَ‘۔ اِن میں ’سَرْح‘ کو بظاہر ’اِرَاحَۃ‘ پر مقدم ہونا چاہیے تھا، لیکن قرآن نے اُسے موخر کر دیا ہے۔ اِس کی وجہ کیا ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’... اِس کی وجہ یہ ہے کہ موقع کلام اظہار شان کا ہے اور شان کا اظہار گلے کی شام کو واپسی میں زیادہ ہے، جبکہ وہ چراگاہ سے چر چگ کے تازگی اور فربہی کی حالت میں گھر کو واپس آتا ہے۔ یہ بات اِس درجہ میں اُس وقت نہیں ہوتی، جب وہ صبح کو چرنے کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۴/ ۳۹۱)  
    یہ تمھارے بوجھ ایسی جگہوں تک لے جاتے ہیں، جہاں تم جان توڑ کر ہی پہنچ سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمھارا پروردگار بڑا ہی شفیق، بڑا مہربان ہے۔
    یعنی اِس بات کی نشانی کہ یہ کائنات مخلوق ہے اور اِس کا ایک ہی خالق ہے، زمین و آسمان میں ہر جگہ اُسی کی حکومت ہے، سب اُسی کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت سے متمتع ہو رہے ہیں، اُس نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہے، وہ یقیناً ایک دن ایسا لائے گا جس میں اُن لوگوں پر انعام فرمائے گا جنھوں نے اپنی ذمہ داری پہچانی اور اُن سے بازپرس کرے گا جو اندھے اور بہرے بن کر ایک شتر بے مہار کی زندگی گزارتے ہیں۔
    یہ گھوڑے اور خچر اور گدھے بھی اُس نے پیدا کیے ہیں تاکہ تم اِن پر سوار ہو اور یہ زینت بھی ہیں۔ وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جنھیں تم نہیں جانتے۔
    یعنی اِس بات کی نشانی کہ یہ کائنات مخلوق ہے اور اِس کا ایک ہی خالق ہے، زمین و آسمان میں ہر جگہ اُسی کی حکومت ہے، سب اُسی کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت سے متمتع ہو رہے ہیں، اُس نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہے، وہ یقیناً ایک دن ایسا لائے گا جس میں اُن لوگوں پر انعام فرمائے گا جنھوں نے اپنی ذمہ داری پہچانی اور اُن سے بازپرس کرے گا جو اندھے اور بہرے بن کر ایک شتر بے مہار کی زندگی گزارتے ہیں۔
    (اُس کو پانا چاہتے ہو تو جان لو کہ) اللہ تک سیدھی راہ پہنچاتی ہے، جبکہ راہیں ٹیڑھی بھی ہیں۔ (اُس نے تمھیں اختیار دیا ہے کہ جو راہ چاہے، اختیار کرو)، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو (اُسی ایک راہ کی) ہدایت دے دیتا۔
    یعنی اِس بات کی نشانی کہ یہ کائنات مخلوق ہے اور اِس کا ایک ہی خالق ہے، زمین و آسمان میں ہر جگہ اُسی کی حکومت ہے، سب اُسی کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت سے متمتع ہو رہے ہیں، اُس نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہے، وہ یقیناً ایک دن ایسا لائے گا جس میں اُن لوگوں پر انعام فرمائے گا جنھوں نے اپنی ذمہ داری پہچانی اور اُن سے بازپرس کرے گا جو اندھے اور بہرے بن کر ایک شتر بے مہار کی زندگی گزارتے ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List