Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الرعد (The Thunder)

    43 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود

    یہ سورہ سورۂ یوسفؑ کے توام اور اس کے جوڑے کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قرآن کے نزول نے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا کر دی تھی، انجام کار کی کامیابی اس میں جس گروہ کو حاصل ہونے والی تھی اس کو اس میں نمایاں فرمایا ہے۔ یہی حقیقت سورۂ یوسف میں بھی واضح کی گئی ہے، البتہ دونوں سورتوں میں طریق استدلال الگ الگ ہے۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف کی زندگی کے حالات و واقعات سے اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس سورہ میں عقل و فطرت کے دلائل سے۔ آیات ۱۷-۲۲ سے اس سورہ کے عمود پر روشنی پڑتی ہے۔

  • الرعد (The Thunder)

    43 آیات | مدنی

    یوسف —— الرعد

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اُن نتائج کے حوالے سے انذار و بشارت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آپ کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے لیے اِسی دنیا میں نکلنے والے تھے۔ استدلال کا طریقہ، البتہ الگ الگ ہے۔ پہلی سورہ جن حقائق کو یوسف علیہ السلام کی سرگذشت کے حوالے سے مبرہن کرتی ہے، دوسری میں وہی حقائق عقل و فطرت کے دلائل سے مبرہن کیے گئے ہیں۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 013 Verse 001
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورہ ’الٓمّٓرٰ‘ ہے۔ یہ کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور تمھارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ہے، وہ (سراسر) حق ہے، مگر (تمھاری قوم کے) اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔
    اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق ہم اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔ اصل الفاظ ہیں: ’تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ‘۔ اِن میں ’تِلْکَ‘ کا اشارہ ’الٓمّٓرٰ‘ کی طرف ہے اور ’الْکِتٰب‘ کے معنی کتاب الٰہی کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ اِس معنی کے لیے استعمال ہوا ہے اور اُسی طریقے پر استعمال ہوا ہے، جس پر کوئی لفظ اپنے مختلف مفاہیم میں سے کسی اعلیٰ اور برتر مفہوم کے لیے خاص ہو جایا کرتا ہے۔ یہ فقرہ کس لیے ارشاد ہوا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس فقرے میں بہ یک وقت اظہار احسان بھی ہے اور دھمکی بھی۔ احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم نعمت، جس کا اُس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے وعدہ فرمایا تھا، اتار دی ہے۔ اب یہ لوگوں کا فرض ہے کہ اِس کی صدق دل سے قدر کریں اور اِس کی برکتوں سے متمتع ہوں۔ دھمکی کا پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں تو جو لوگ اِن کی قدر کرنے کے بجاے اِن کا مذاق اڑائیں گے اور اِن کی مخالفت میں اپنا زور صرف کریں گے ،وہ خود سوچ لیں کہ وہ اپنے لیے کس شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن۴/ ۲۷۰) یعنی قطعی حقیقت ہے، اُس میں کسی ریب و گمان کی گنجایش نہیں ہے۔ چنانچہ ہر چیز جس طرح بیان ہوئی ہے، اُسی طرح واقع ہو کر رہے گی۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List