Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • یوسف (Joseph)

    111 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    سورتوں کا یہ گروپ سورۂ یونس سے شروع ہوا ہے۔ ہم اس پورے گروپ کے عمود پر، سورۂ یونس کی تفسیر کی تمہید میں ایک جامع تبصرہ کر چکے ہیں۔ یہاں ہم اس کا ضروری حصہ نقل کیے دیتے ہیں تاکہ ذہن میں بات تازہ ہو جائے ہم نے لکھا ہے:

    ’’اس پورے گروپ کی تلاوت، تدبر کے ساتھ باربار کیجیے تو آپ نہایت واضح طور پر محسوس کریں گے کہ گروپ کی تمام سورتوں میں مشترک حقیقت، جو مختلف پہلوؤں اور اسلوبوں سے واضح فرمائی گئی ہے، یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہو چکی ہے وہ بالآخر پیغمبرؐ اور اس پر ایمان لانے والوں کی کامیابی و فتح مندی اور قریش کی ذلت و ہزیمت پر منتہی ہو گی۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ اس میں قریش کے لیے انذار اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کے لیے بشارت ہے۔ قریش پر عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے دلائل اور تاریخ و نظام کائنات کے شواہد سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جو حق تمہارے پاس آ چکا ہے۔ اس کی مخالفت میں اگر تمہاری یہی روش قائم رہی تو بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب تم اس کا انجام بد اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔‘‘
    ’’اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو صبر، اسقامت اور تقویٰ کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ جس حق کو لے کر تم اٹھے ہو انجام کار کی کامیابی و فیروز مندی اسی کا حصہ ہے۔ البتہ سنت الٰہی یہ ہے کہ حق کو غلبہ اور کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے آزمائش کے مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مرحلوں سے لازماً تمہیں بھی گزرنا ہے۔ اگر یہ مرحلے تم نے عزیمت و استقامت کے ساتھ طے کر لیے تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تمہارا ہی حصہ ہے۔ ’یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ‘۔ (۲۷۔ ابراہیم)‘‘

    اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے سورۂ یونس اور سورۂ ہود دنوں میں، جیسا کہ آپ نے دیکھا، حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کی سرگزشتیں تفصیل سے سنائی گئی ہیں اور سورۂ ہود کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ان سرگزشتوں کے سنانے کا یہ مقصد بیان فرمایا گیا ہے:

    وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ وَجَآءَ کَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۵ وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنَّا عٰمِلُوْنَ ۵ وَانْتَظِرُوْا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ. (ہود ۱۲۰-۱۲۲)
    ’’اور ہم رسولوں کی سرگزشتوں میں سے تمہیں وہ سب سنا رہے ہیں جس سے تمہارے دل کو مضبوط کریں اور ان میں تمہارے لیے بھی حق واضح ہوا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے بھی ان میں موعظت اور یاددہانی ہے اور جو ایمان نہیں لا رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ پر کام کرو، ہم اپنی جگہ پر کام کر رہے ہیں اور تم بھی انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہی ہیں۔‘‘

  • یوسف (Joseph)

    111 آیات | مکی

    یوسف —— الرعد

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اُن نتائج کے حوالے سے انذار و بشارت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آپ کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے لیے اِسی دنیا میں نکلنے والے تھے۔ استدلال کا طریقہ، البتہ الگ الگ ہے۔ پہلی سورہ جن حقائق کو یوسف علیہ السلام کی سرگذشت کے حوالے سے مبرہن کرتی ہے، دوسری میں وہی حقائق عقل و فطرت کے دلائل سے مبرہن کیے گئے ہیں۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 012 Verse 001 Chapter 012 Verse 002
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورہ ’الٓرٰ‘ ہے۔ یہ اُس کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنا مدعا پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔
    سورۂ یونس اور سورۂ ہود کی طرح اِس سورہ کا نام بھی ’الٓرٰ‘ ہے۔ اِس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ اِس کا مضمون بھی اصلاً وہی ہے جو پچھلی سورتوں میں زیر بحث رہا ہے۔ اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں۔
    ہم نے اِس کو عربی زبان میں قرآن بنا کر اتارا ہے تاکہ، (اے قریش مکہ)، تم اِس کو اچھی طرح سمجھ سکو۔
    سورہ کے مخاطب قریش ہیں۔ یہ اُنھی پر امتنان و احسان کا اظہار ہے جس میں یہ تنبیہ بھی چھپی ہوئی ہے کہ نہیں سمجھو گے تو یاد رکھو، اِس کے بعد تمھارے پاس کوئی عذر نہیں ہو گا جسے خدا کے حضور میں پیش کر سکو۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List