Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • یونس (Jonah)

    109 آیات | مکی

    سورہ کا عمود
    اس سورہ کا عمود نہایت جامع الفاظ میں اس کی دوسری ہی آیت سے واضح ہو رہا ہے۔ فرمایا ہے:

    اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ. (۲۔ یونس)
    ’’ کہ لوگوں کو آگاہ کر دو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے رب کے پاس ان کے لیے بڑی پایگاہ ہے کافروں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادوگر ہے۔‘‘

    سورۂ ہود میں اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا ہے:

    فَاصْبِرْ اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ. (۴۹۔ ہود)
    ’’ پس ثابت قدم رہو۔ انجام کار کی کامیابی متقین ہی کے لیے ہے۔‘‘

    سورۂ یوسف میں ارشاد ہے:

    اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ. (۹۰۔ یوسف)
    ’’ بے شک جو تقویٰ اختیار کریں گے اور ثابت قدم رہیں گے تو اللہ ایسے خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔‘‘

    سورۂ رعد میں اس صبر و تقویٰ کی کسی قدر تفصیل بھی آ گئی ہے:

    وَالَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً وَّ یَدْرَءُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ. (۲۲۔ رعد)
    ’’اور جو لوگ اپنے رب کی رضا جوئی میں جمے رہے اور نماز کا اہتمام کیا اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا اس میں سے چھپے اور کھلے خرچ کیا اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے رہے وہی لوگ ہیں جن کے لیے دارآخرت کی کامیابی ہے۔‘‘

    سورۂ ابراہیم میں اس کلمہ کی طرف بھی اشارہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں اہل ایمان کے ثبات قدم کا ضامن ہے:

    یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ. (۲۷۔ ابراہیم)
    ’’اللہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں قول محکم کی بدولت ثبات قدم بخشے گا اور ظالموں کو نامراد کر دے گا۔‘‘

    سورۂ نحل میں ہے:

    لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ وَلَدَارُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ. (۳۰۔ نحل)
    ’’جن لوگوں نے خوب کاری اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی اچھا صلہ ہے اور آخرت کا گھر اس سے کہیں بہتر ہے اور کیا ہی اچھا ہے متقین کا گھر۔‘‘

    سورۂ بنی اسرائیل میں ہے کہ سیدھی راہ قرآن کی بتائی ہوئی راہ ہے اور جن لوگوں نے یہ راہ اختیار کر لی ہے دنیا اور آخرت کی فلاح کی بشارت انہی کے لیے ہے:

    اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا ۵ وَّاَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا. (۹۔۱۰ بنی اسرائیل)
    ’’بے شک یہ قرآن اس رستہ کی طرف رہنمائی کر رہا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان مومنین کو جو نیک عمل کر رہے ہیں ایک اجر عظیم کی بشارت دے رہا ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

    سورۂ انبیاء میں ہے:

    وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ م بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ. (۱۰۵۔ انبیاء)
    ’’اور ہم نے زبور میں یاددہانی کے بعد یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔‘‘

    گروپ کی آخری سورہ ۔۔۔ سورۂ نور۔۔۔ میں یہ بشارت واضح سے واضح تر ہو گئی ہے:

    وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا. (۵۵۔ نور)
    ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلافت عطا فرمائے گا جس طرح ان لوگوں کو خلافت عطا فرمائی جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو مستحکم کرے گا جس کو ان کے لیے پسند فرمایا اور ان کی اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔‘‘

    ان آیات کو نقل کرنے سے مقصود سورۂ یونس اور اس گروپ کی دوسری سورتوں کے عام مزاج سے فی الجملہ قارئین کو آشنا کر دینا ہے۔

  • یونس (Jonah)

    109 آیات | مکی
    یونس ——- ہود

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے۔ دوسری سورہ میں اِس انذار و بشارت کے تاریخی دلائل، البتہ زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میںیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 010 Verse 001 Chapter 010 Verse 002
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورہ ’الر‘ ہے۔ یہ اُس کتاب کی آیتیں ہیں جو سراسر حکمت ہے۔
    اِس نام کے کیا معنی ہیں؟ اِس کے متعلق ہم نے اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اِس کتاب کی صداقت کا معیار خود اِس کی حکمت ہے۔ یہ اِس کے لیے کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں ہے۔
    کیا اِن لوگوں کو اِس پر حیرانی ہو گئی کہ ہم نے اِنھی میں سے ایک شخص پر وحی کی ہے کہ لوگوں کو خبردار کرو اور جو مان لیں، اُنھیں خوش خبری پہنچا دوکہ اُن کے لیے اُن کے پروردگار کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ (اِس حقیقت کو سمجھنے کے بجاے) اِن منکروں نے کہہ دیا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔
    یعنی اِس میں انکار و استعجاب اور حیرانی کی کیا بات ہے؟ خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے اِنھی کے اندر سے ایک شخص کو منتخب کیا ہے تو یہی قرین عقل ہے۔ یہ اُس کے ماضی و حاضر اور اخلاق و کردار سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اُس کی راست بازی اور امانت و دیانت کو جانتے ہیں۔ پھر یہی نہیں، اِن کا معلم و مرشد اور اِن کے لیے نمونہ و مثال بھی کوئی جن یا فرشتہ نہیں، بلکہ انسان ہی ہو سکتا تھا۔ چنانچہ خدا نے اِنھی کے ایک بہترین فرد کا انتخاب کیا ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں یہ گویا اِنھی کی زبان اور اِنھی کے ضمیر کی گواہی ہے جو اِن کے آگے پیش کی جا رہی ہے۔ اصل میں ’قَدَمَ صِدْقٍ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی ایسا مرتبہ جس میں عزت، بلندی اور لازوال سرفرازی ہو۔ یہ معنی لفظ ’صِدْق‘سے پیدا ہوئے ہیں جو رسوخ و استحکام اور تمکن پر دلیل ہوتا ہے۔ یعنی جب دیکھا کہ اِس کی بات لوگوں کو متوجہ کر رہی ہے تو کہہ دیا کہ یہ شخص الفاظ کی جادوگری کا ماہر ہے۔ اِس کو کوئی مافوق ہستی اور اِس کے کلام کو کوئی مافوق چیز سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ محض فصاحت و بلاغت اور حسن بیان کا کمال ہے۔ اِس سے زیادہ اِس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List